۵۴ حدیث
۰۱
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۳۶
قتادہ بن النعمان رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قال حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، قال حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ صُهَيْبٍ وَأُمِّ الْمُنْذِرِ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيُّ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لأُمِّهِ وَمَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَرَآهُ وَهُوَ غُلاَمٌ صَغِيرٌ ‏.‏
قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث محمود بن لبید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں صہیب اور ام منذر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۰۲
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۳۷
ام المنذر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قال حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ ‏"‏ مَهْ مَهْ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ نَاقِهٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَلَسَ عَلِيٌّ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ ‏.‏ قَالَتْ فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَلِيُّ مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ فُلَيْحٍ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ فُلَيْحٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الأَنْصَارِيَّةِ، فِي حَدِيثِهِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَنْفَعُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَحَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ام منذر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی الله عنہ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے، ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھانے لگے اور آپ کے ساتھ علی رضی الله عنہ بھی کھانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: علی! ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہو، ابھی کمزوری باقی ہے، ام منذر کہتی ہیں: علی رضی الله عنہ بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: علی! اس میں سے لو ( کھاؤ ) ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف فلیح کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث فلیح سے بھی مروی ہے جسے وہ ایوب بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں۔
۰۳
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۳۸
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قال حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ قَالَتِ الأَعْرَابُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَتَدَاوَى قَالَ ‏"‏ نَعَمْ يَا عِبَادَ اللَّهِ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلاَّ وَضَعَ لَهُ شِفَاءً أَوْ قَالَ دَوَاءً إِلاَّ دَاءً وَاحِدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُوَ قَالَ ‏"‏ الْهَرَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
اسامہ بن شریک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں ( بدوؤں ) نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہم ( بیماریوں کا ) علاج کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بڑھاپا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، «ابو خزامہ عن أبیہ»،‏‏‏‏ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۰۴
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۳۹
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فَصُنِعَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ وَكَانَ يَقُولُ ‏
"‏ إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عن يونس، عن الزهري بمعناه.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو تپ دق آتا تو آپ «حساء» ۱؎ تیار کرنے کا حکم دیتے، «حساء» تیار کیا جاتا، پھر آپ ان کو تھوڑا تھوڑا پینے کا حکم دیتے، تو وہ اس میں سے پیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «حساء» غمگین کے دل کو تقویت دیتا ہے، اور مریض کے دل سے اسی طرح تکلیف دور کرتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی پانی کے ذریعہ اپنے چہرے سے میل دور کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۰۵
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۰
عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لاَ تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَإِنَّ اللَّهَ تبارك و تعالى يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
۰۶
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۱
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ ‏"‏ ‏.‏ وَالسَّامُ الْمَوْتُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ هِيَ الشُّونِيزُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس کالے دانہ ( کلونجی ) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے، «سام» موت کو کہتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- «الحبة السوداء»،‏‏‏‏ «شونيز» ( کلونجی ) کو کہتے ہیں۔
۰۷
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۲
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَقَالَ ‏
"‏ اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ ( چراگاہ کی طرف ) روانہ کیا اور فرمایا: ”تم لوگ اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب پیو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
۰۸
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ ‏
"‏ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہو گا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا“ ۱؎۔
۰۹
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قال حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قال حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنِ الأَعْمَشِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ عُذِّبَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهَذَا أَصَحُّ لأَنَّ الرِّوَايَاتِ إِنَّمَا تَجِيءُ بِأَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ يُعَذَّبُونَ فِي النَّارِ ثُمَّ يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُمْ يُخَلَّدُونَ فِيهَا ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوہے سے اپنی جان لی، اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں زہر ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا، اور جس نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا“۔
۱۰
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۵
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى يَعْنِي السُّمَّ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دوا استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: خبیث دوا سے وہ دوا مراد ہے جس میں زہر ہو ۱؎۔
۱۱
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۶
سمک رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قال حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَسَأَلَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ أَوْ طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّنَا نَتَدَاوَى بِهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهَا دَاءٌ ‏"‏ ‏.‏

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، قال حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَشَبَابَةُ، عَنْ شُعْبَةَ، بِمِثْلِهِ ‏.‏ قَالَ مَحْمُودٌ قَالَ النَّضْرُ طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ وَقَالَ شَبَابَةُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے جب سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں شراب سے منع فرمایا، سوید نے کہا: ہم لوگ تو اس سے علاج کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دوا نہیں بلکہ وہ تو خود بیماری ہے“۔
۱۲
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۷
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّويَهْ، قال حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، قال حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ السَّعُوطُ وَاللَّدُودُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشِيُّ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَدَّهُ أَصْحَابُهُ فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ ‏"‏ لُدُّوهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلُدُّوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْعَبَّاسِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» ( ناک میں ڈالنے والی دوا ) ، «لدود» ( منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا ) ، «حجامة» ( پچھنا لگانا حجامہ ) اور دست آور دوا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا: ”موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو“، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: عباس رضی الله عنہ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔
۱۳
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۸
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ اللَّدُودُ وَالسَّعُوطُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشِيُّ وَخَيْرُ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ الإِثْمِدُ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلاَثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا، ناک میں ڈالنے کی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اس لیے کہ وہ بینائی ( نظر ) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۱۴
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۴۹
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْكَىِّ ‏.‏ قَالَ فَابْتُلِينَا فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلاَ أَنْجَحْنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ, قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ نُهِينَا عَنِ الْكَىِّ، ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدن داغنے سے منع فرمایا ۱؎، پھر بھی ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے بدن داغ لیا، لیکن ہم کامیاب و کامران نہیں ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۱۵
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۰
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىٍّ وَجَابِرٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۱۶
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَجِمُ فِي الأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صحيح ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے، اور آپ مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۱۷
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۲
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ قُرَيْشٍ الْيَامِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لَيْلَةَ، أُسْرِيَ بِهِ أَنَّهُ لَمْ يَمُرَّ عَلَى مَلإٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ إِلاَّ أَمَرُوهُ أَنْ مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کا حال بیان کیا کہ آپ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے آپ کو یہ حکم ضرور دیا کہ اپنی امت کو پچھنا لگوانے کا حکم دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن مسعود کی روایت سے حسن غریب ہے۔
۱۸
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۳
عباد بن منصور رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ كَانَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ غِلْمَةٌ ثَلاَثَةٌ حَجَّامُونَ فَكَانَ اثْنَانِ مِنْهُمْ يُغِلاَّنِ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ وَوَاحِدٌ يَحْجُمُهُ وَيَحْجُمُ أَهْلَهُ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ يُذْهِبُ الدَّمَ وَيُخِفُّ الصُّلْبَ وَيَجْلُو عَنِ الْبَصَرِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ عُرِجَ بِهِ مَا مَرَّ عَلَى مَلإٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ إِلاَّ قَالُوا عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ خَيْرَ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ يَوْمَ سَبْعَ عَشَرَةَ وَيَوْمَ تِسْعَ عَشَرَةَ وَيَوْمَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ السَّعُوطُ وَاللَّدُودُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشِيُّ ‏"‏ ‏.‏ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَدَّهُ الْعَبَّاسُ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ لَدَّنِي فَكُلُّهُمْ أَمْسَكُوا فَقَالَ ‏"‏ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ مِمَّنْ فِي الْبَيْتِ إِلاَّ لُدَّ ‏"‏ ‏.‏ غَيْرَ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ قَالَ عَبْدٌ قَالَ النَّضْرُ اللَّدُودُ الْوَجُورُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ ( فاسد ) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: ”تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے؟“ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا: ”گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے، سوائے آپ کے چچا عباس کے“۔ راوی عبد کہتے ہیں: نضر نے کہا: «لدود» سے مراد «وجور» ہے ( حلق میں ڈالنے کی ایک دوا ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
۱۹
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۴
علی بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قال حَدَّثَنَا فَائِدٌ، مَوْلًى لآلِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدَّتِهِ، سَلْمَى وَكَانَتْ تَخْدُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ مَا كَانَ يَكُونُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُرْحَةٌ وَلاَ نَكْبَةٌ إِلاَّ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَضَعَ عَلَيْهَا الْحِنَّاءَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ فَائِدٍ ‏.‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ فَائِدٍ فَقَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ أَصَحُّ وَيُقَالُ سُلْمَى ‏.‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قال حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ فَائِدٍ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ مَوْلاَهُ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَدَّتِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏
سلمی رضی الله عنہا سے (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار اور چاقو یا پتھر اور کانٹے سے جو زخم بھی لگتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس پر مہندی رکھنے کا ضرور حکم دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے فائد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کی فائد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «عن علي بن عبيد الله، عن جدته سلمى» کی بجائے «عن عبيد الله ابن علي عن جدته سلمى» بیان کیا ہے، «عبيد الله بن علي» ہی زیادہ صحیح ہے، «سلمیٰ» کو «سُلمیٰ» بھی کہا گیا ہے۔
۲۰
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۵
عقر بن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عباس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۲۱
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۶
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قال حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ وَالْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ ‏.‏

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قال حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجَابِرٍ وَعَائِشَةَ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَأَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو کے ڈنک، نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کے سلسلے میں، جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
۲۲
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۷
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کی وجہ سے ہی جائز ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث «عن حصين عن الشعبي عن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
۲۳
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۸
ابو سعید رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الإِنْسَانِ حَتَّى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نَزَلَتَا أَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
۲۴
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۵۹
اسماء بنت عمیش رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَهُوَ أَبُو حَاتِمِ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ وَلَدَ جَعْفَرٍ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ فَقَالَ ‏
"‏ نَعَمْ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَبُرَيْدَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

وَقَدْ رُوِيَ هَذَا، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا ‏.‏
عبید بن رفاعہ زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جعفر طیار رضی الله عنہ کے لڑکوں کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک کراؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اس لیے کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت کرتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث «عن أيوب عن عمرو بن دينار عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة عن أسماء بنت عميس عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۲۵
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۰
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قال حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَيَعْلَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ يَقُولُ ‏"‏ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ وَيَقُولُ ‏"‏ هَكَذَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول حسن اور حسین رضی الله عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتے تھے: «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ”میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں“، اور آپ فرماتے تھے: ”اسماعیل اور اسحاق کے لیے اسی طرح ابراہیم علیہم السلام پناہ مانگتے تھے“۔
۲۶
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۱
حیا بن حابس التمیمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ, قال حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، قال حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي حَيَّةُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ لاَ شَىْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ ‏"‏ ‏.‏
حابس تمیمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: الو ( کے سلسلے میں لوگوں کے اعتقاد ) کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نظر بد کا اثر حقیقی چیز ہے ( یعنی سچ ہے ) ۔
۲۷
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۲
" ابن عباس رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، قال حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، قال حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَحَدِيثُ حَيَّةَ بْنِ حَابِسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ حَيَّةَ بْنِ حَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ لاَ يَذْكُرَانِ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت ( پہل ) کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت ( پہل ) کرتی، اور جب لوگ تم سے غسل کرائیں تو تم غسل کر لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- حیہ بن حابس کی روایت ( جو اوپر مذکور ہے ) غریب ہے، ۳- شیبان نے اسے «عن يحيى بن أبي كثير عن حية بن حابس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے جب کہ علی بن مبارک اور حرب بن شداد نے اس سند میں ابوہریرہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے۔
۲۸
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۳
"ابو سعید رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قال حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ فَسَأَلْنَاهُمُ الْقِرَى فَلَمْ يَقْرُونَا فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ قُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لاَ أَرْقِيهِ حَتَّى تُعْطُونَا غَنَمًا ‏.‏ قَالُوا فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلاَثِينَ شَاةً ‏.‏ فَقَبِلْنَا فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ ‏(‏الْحَمْدُ لِلَّهِ ‏)‏ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَبَرَأَ وَقَبَضْنَا الْغَنَمَ ‏.‏ قَالَ فَعَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ فَقُلْنَا لاَ تَعْجَلُوا حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي صَنَعْتُ قَالَ ‏"‏ وَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْبِضُوا الْغَنَمَ وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو نَضْرَةَ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ ‏.‏ وَرَخَّصَ الشَّافِعِيُّ لِلْمُعَلِّمِ أَنْ يَأْخُذَ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ أَجْرًا وَيَرَى لَهُ أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَرَوَى شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، ہم نے ایک قوم کے پاس پڑاؤ ڈالا اور ان سے ضیافت کی درخواست کی، لیکن ان لوگوں نے ہماری ضیافت نہیں کی، اسی دوران ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، چنانچہ انہوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: کیا آپ میں سے کوئی بچھو کے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں کرتا ہوں، لیکن اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک کہ تم مجھے کچھ بکریاں نہ دے دو، انہوں نے کہا: ہم تم کو تیس بکریاں دیں گے، چنانچہ ہم نے قبول کر لیا اور میں نے سات بار سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ صحت یاب ہو گیا اور ہم نے بکریاں لے لیں ۱؎، ہمارے دل میں بکریوں کے متعلق کچھ خیال آیا ۲؎، لہٰذا ہم نے کہا: جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو میں نے جو کچھ کیا تھا آپ سے بیان کر دیا، آپ نے فرمایا: ”تم نے کیسے جانا کہ سورۃ فاتحہ رقیہ ( جھاڑ پھونک کی دعا ) ہے؟ تم لوگ بکریاں لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- شعبہ، ابو عوانہ ہشام اور کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي المتوكل عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- تعلیم قرآن پر معلم کے لیے اجرت لینے کو امام شافعی نے جائز کہا ہے اور وہ معلم کے لیے اجرت کی شرط لگانے کو درست سمجھتے ہیں، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
۲۹
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۴
"ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَرُّوا بِحَىٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ وَلَمْ يُضَيِّفُوهُمْ فَاشْتَكَى سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا هَلْ عِنْدَكُمْ دَوَاءٌ قُلْنَا نَعَمْ وَلَكِنْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَمْ تُضَيِّفُونَا فَلاَ نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً ‏.‏ فَجَعَلُوا عَلَى ذَلِكَ قَطِيعًا مِنَ الْغَنَمِ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَّا يَقْرَأُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ قَالَ ‏"‏ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ نَهْيًا مِنْهُ وَقَالَ ‏"‏ كُلُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الأَعْمَشِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ وَجَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ هُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ ( جن میں شامل میں بھی تھا ) عرب کے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے، انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان کا سردار بیمار ہو گیا، چنانچہ ان لوگوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: آپ لوگوں کے پاس کوئی علاج ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، لیکن تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی ہے اس لیے ہم اس وقت تک علاج نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اجرت نہ متعین کر دو، انہوں نے اس کی اجرت میں بکری کا ایک گلہ مقرر کیا، ہم میں سے ایک آدمی ( یعنی میں خود ) اس کے اوپر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے لگا تو وہ صحت یاب ہو گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ جھاڑ پھونک ( کی دعا ) ہے؟ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آپ سے اس پر کوئی نکیر ذکر نہیں کی، آپ نے فرمایا: ”کھاؤ اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اعمش کی اس روایت سے جو جعفر بن ایاس کے واسطہ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن أبي المتوكل عن أبي سعيد» کی سند سے روایت کی ہے۔
۳۰
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۵
ابو خزامہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ ‏
"‏ هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كِلْتَا الرِّوَايَتَيْنِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي خُزَامَةَ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ وَهَذَا أَصَحُّ وَلاَ نَعْرِفُ لأَبِي خُزَامَةَ عَنْ أَبِيهِ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں ( ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں“ ۱؎۔
۳۱
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۶
"ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَبِي السَّفَرِ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عجوہ ( کھجور ) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ۱؎ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں، ۳- اس باب میں سعید بن زید، ابوسعید اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۳۲
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۷
"سعید بن زید رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قال حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحرائے عرب کا فقعہ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے اور اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۳۳
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۸
"ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا الْكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الأَرْضِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کھنبی زمین کی چیچک ہے، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحرائے عرب کا «فقعہ» ایک طرح کا «من» ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے، اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے، وہ زہر کے لیے شفاء ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
۳۴
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۶۹
"قتادہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، قال حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذْتُ ثَلاَثَةَ أَكْمُئٍ أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَعَصَرْتُهُنَّ فَجَعَلْتُ مَاءَهُنَّ فِي قَارُورَةٍ فَكَحَلْتُ بِهِ جَارِيَةً لِي فَبَرَأَتْ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تین، پانچ یا سات کھنبی لی، ان کو نچوڑا، پھر اس کا عرق ایک شیشی میں رکھا اور اسے ایک لڑکی کی آنکھ میں ڈالا تو وہ صحت یاب ہو گئی۔
۳۵
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۰
"قتادہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ الشُّونِيزُ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ يَأْخُذُ كُلَّ يَوْمٍ إِحْدَى وَعِشْرِينَ حَبَّةً فَيَجْعَلُهُنَّ فِي خِرْقَةٍ فَلْيَنْقَعْهُ فَيَتَسَعَّطُ بِهِ كُلَّ يَوْمٍ فِي مَنْخَرِهِ الأَيْمَنِ قَطْرَتَيْنِ وَفِي الأَيْسَرِ قَطْرَةً وَالثَّانِي فِي الأَيْسَرِ قَطْرَتَيْنِ وَفِي الأَيْمَنِ قَطْرَةً وَالثَّالِثُ فِي الأَيْمَنِ قَطْرَتَيْنِ وَفِي الأَيْسَرِ قَطْرَةً ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کلونجی موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔ قتادہ ہر روز کلونجی کے اکیس دانے لیتے، ان کو ایک پوٹلی میں رکھ کر پانی میں بھگوتے پھر ہر روز داہنے نتھنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے، دوسرے دن بائیں میں دو بوندیں اور داہنی میں ایک بوند ڈالتے اور تیسرے روز داہنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے۔
۳۶
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۱
"ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قال حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے لینے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۳۷
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۲
عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّويَهْ، قال حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، أَخِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ أَبِي مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ أَعُودُهُ وَبِهِ حُمْرَةٌ فَقُلْنَا أَلاَ تُعَلِّقُ شَيْئًا قَالَ الْمَوْتُ أَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُكَيْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏.‏
عیسیٰ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عکیم ابومعبد جہنی کے ہاں ان کی عیادت کرنے گیا، ان کو «حمرة» کا مرض تھا ۱؎ ہم نے کہا: کوئی تعویذ وغیرہ کیوں نہیں لٹکا لیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: موت اس سے زیادہ قریب ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز لٹکائی وہ اسی کے سپرد کر دیا گیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عکیم کی حدیث کو ہم صرف محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، عبداللہ بن عکیم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نہیں سنی ہے لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کے پاس لکھ کر بھیجا ہے۔
۳۸
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۳
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قال حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ الْحُمَّى فَوْرٌ مِنَ النَّارِ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَامْرَأَةِ الزُّبَيْرِ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں اسماء بنت ابوبکر، ابن عمر، زبیر کی بیوی، ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ( عائشہ رضی الله عنہا کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
۳۹
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۴
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، قال حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“۔
۴۰
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۵
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قال حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمَّى وَمِنَ الأَوْجَاعِ كُلِّهَا أَنْ يَقُولَ ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ‏.‏ وَإِبْرَاهِيمُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَيُرْوَى ‏"‏ عِرْقٍ يَعَّارٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے، «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار» ”میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ کی روایت سے جانتے ہیں اور ابراہیم بن اسماعیل ضعیف الحدیث سمجھے جاتے ہیں، ۳- بعض احادیث میں «عرق نعار» کے بجائے «عرق يعار» بھی مروی ہے۔
۴۱
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۶
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، قال حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ ابْنَةِ وَهْبٍ، وَهِيَ جُدَامَةُ - قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يَفْعَلُونَ وَلاَ يَقْتُلُونَ أَوْلاَدَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْغِيَالُ أَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ ‏.‏
جدامہ بنت وہب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں نے ارادہ کیا کہ ایام رضاعت میں صحبت کرنے سے لوگوں کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کرتے ہیں، اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک نے یہ حدیث «عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں اسماء بنت یزید سے بھی روایت ہے، ۴- مالک کہتے ہیں: «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔
۴۲
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۷
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، قال حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذُكِّرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْغِيلَةُ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ ‏.‏ قَالَ عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ‏.‏
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ ایام رضاعت میں جماع کرنے سے لوگوں کو منع کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے“۔ مالک کہتے ہیں: «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔ عیسیٰ بن احمد کہتے ہیں: ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے مالک نے ابوالاسود کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
۴۳
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۸
قتادہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ وَيَلُدُّهُ مِنَ الْجَانِبِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ اسْمُهُ مَيْمُونٌ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ ‏.‏
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ کا نام میمون ہے، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں۔
۴۴
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۷۹
میمون ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ الْبَصْرِيُّ، قال حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ، قال حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَتَدَاوَى مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ وَالزَّيْتِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مَيْمُونٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى عَنْ مَيْمُونٍ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ وَذَاتُ الْجَنْبِ السُّلُّ ‏.‏
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ذات الجنب کا علاج قسط بحری ( عود ہندی ) اور زیتون کے تیل سے کریں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف میمون کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں، ۳- میمون سے کئی لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے۔
۴۵
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۸۰
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قال حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي، أَنَّهُ قَالَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَانَ يُهْلِكُنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ امْسَحْ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَقُلْ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُوَّتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفَعَلْتُ فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي وَغَيْرَهُمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، اس وقت مجھے ایسا درد تھا کہ لگتا تھا وہ مار ڈالے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے داہنے ہاتھ سے سات مرتبہ درد کی جگہ چھوؤ اور یہ دعا پڑھو «أعوذ بعزة الله وقدرته وسلطانه من شر ما أجد» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت اور طاقت کے وسیلے سے اس تکلیف کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے لاحق ہے“۔ میں نے ویسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کر دی، چنانچہ میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو یہ دعا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۴۶
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۸۱
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَهَا ‏"‏ بِمَ تَسْتَمْشِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ بِالشُّبْرُمِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ حَارٌّ جَارٌّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ يَعْنِي دَوَاءَ الْمَشْىِّ ‏.‏
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو؟“ میں نے کہا: «شبرم» ۱؎، آپ نے فرمایا: ”وہ گرم اور بہانے والا ہے“۔ اسماء کہتی ہیں: پھر میں نے «سنا» ۲؎ کا مسہل لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو «سنا» میں ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس سے ( یعنی «سنا» سے ) مراد دست آور دواء ہے۔
۴۷
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۸۲
ابو سعید رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اسْقِهِ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏ فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلاً فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْقِهِ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏ فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ سَقَيْتُهُ عَسَلاً فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ, اسْقِهِ عَسَلاً ‏"‏ ‏.‏ فَسَقَاهُ عَسَلاً فَبَرَأَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرے بھائی کو دست آ رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے اسے پلایا، پھر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، اس نے اسے شہد پلایا، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، ابو سعید خدری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ( اپنے قول میں ) سچا ہے، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے شہد پلایا تو ( اس بار ) اچھا ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۴۸
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۸۳
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏
"‏ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلاَّ عُوفِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك» ”میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے“ تو ضرور اس کی شفاء ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف منہال بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
۴۹
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۸۴
ثوبان رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَشْقَرُ الرِّبَاطِيُّ، قال حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قال حَدَّثَنَا مَرْزُوقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ، قال حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ أَخْبَرَنَا ثَوْبَانُ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمَّى فَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ فَلْيَسْتَنْقِعْ نَهْرًا جَارِيًا لِيَسْتَقْبِلَ جَرْيَةَ الْمَاءِ فَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَلْيَغْتَمِسْ فِيهِ ثَلاَثَ غَمَسَاتٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلاَثٍ فَخَمْسٌ وَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٌ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٌ فَإِنَّهَا لاَ تَكَادُ تُجَاوِزُ تِسْعًا بِإِذْنِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو بخار آئے اور بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے تو وہ اسے پانی سے بجھا دے، ایک بہتی نہر میں اترے اور پانی کے بہاؤ کی طرف اپنا رخ کرے پھر یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم اشف عبدك وصدق رسولك» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے اور اپنے رسول کی اس بات کو سچا بنا“ وہ اس عمل کو فجر کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے کرے، وہ اس نہر میں تین دن تک تین غوطے لگائے، اگر تین دن میں اچھا نہ ہو تو پانچ دن تک، اگر پانچ دن میں اچھا نہ ہو تو سات دن تک اور اگر سات دن میں اچھا نہ ہو تو نو دن تک، اللہ کے حکم سے اس کا مرض نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
۵۰
جامع ترمذی # ۲۸/۲۰۸۵
ابو حازم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قال حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سُئِلَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، بِأَىِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي كَانَ عَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْهُ الدَّمَ وَأُحْرِقَ لَهُ حَصِيرٌ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی الله عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا کس چیز سے علاج کیا گیا؟ انہوں نے کہا: اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا اب کوئی باقی نہیں ہے، علی رضی الله عنہ اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے، جب کہ فاطمہ رضی الله عنہا آپ کے زخم سے خون دھو رہی تھیں اور میں آپ کے لیے ٹاٹ جلا رہا تھا، پھر اسی کی راکھ سے آپ کا زخم بھرا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔