رمضان میں نماز
ابواب پر واپس
۸ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۶/۲۴۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى اللَّيْلَةَ الْقَابِلَةَ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ ‏ "‏ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ‏.‏
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی مسجد میں ایک رات تو نماز پڑھی پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں نے پھر دوسری رات میں اسی طرح پڑھی تو لوگ بہت آئے پھر لوگ تیسری یا چوتھی رات جمع ہوئے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( تراویح ) کے لئے نہیں نکلے ۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے دیکھا جو تم نے کیا لیکن مجھے کسی چیز نے نکلنے سے نہیں روکا سوائے اس خوف سے کہ کہیں یہ ( تراویح ) تم پر فرض نہ ہوجائے اور یہ قصہ رمضان میں تھا۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۶/۲۴۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ ‏ "‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رغبت دلاتے تھے لوگوں کو تراویح پڑھنے کی راتوں کو اور نہ حکم کرتے تھے بطور واجب کے تو فرماتے تھے آپ جس نے ترایح پڑھی رمضان میں اس کو حق سمجھ کر خاص اللہ کے لئے بخشے جائیں گے اگلے گناہ اس کے کہا ابن شہاب نے پس وفات ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ایسا ہی حال رہا پھر ایسا ہی حال رہا حضرت ابوبکر کی خلافت میں اور شروع شروع حضرت عمر کی خلافت میں
۰۳
مؤطا امام مالک # ۶/۲۴۸
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَانِي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ‏.‏ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ - قَالَ - ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ فَقَالَ عُمَرُ نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ ‏.‏ يَعْنِي آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ ‏.‏
عبدالر حمن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ میں نکلا عمر بن خطاب کے ساتھ رمضان میں مسجد کو تو دیکھا کہ لوگ جدا جدا متفرق پڑھ رہے ہیں کسی شخص کے ساتھ آٹھ دس آدمی پڑھ رہے ہیں تو کہا عمر نے قسم اللہ کی مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ان سب کو ایک قاری کے پیچھے کردوں تو اچھا ہو پھر ان سب کو ابی بن کعب کے پیچھے کر دیا کہا عبدالرحمن نے پھر جب دوسری رات کو میں ان کے ساتھ آیا تو دیکھا کہ سب لوگ ابی بن کعب کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تب کہا حضرت عمر نے اچھی ہے یہ بدعت اور جس وقت تم سوتے ہو وہ بہتر ہے اس وقت سے جب نماز پڑھتے ہو یعنی اول رات اور لوگ کھڑے ہوتے تھے اول رات میں۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۶/۲۴۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا، لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ وَقَدْ كَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ وَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلاَّ فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ ‏.‏
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حکم کیا حضرت عمر نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعت پڑھانے کا کہا سائب بن یزید نے کہا امام پڑھتا تھا سو سو آیتیں ایک رکعت میں یہاں تک کہ ہم سہارا لگاتے تھے لکڑی پر اور نہیں فارغ ہوتے تھے ہم مگر قریب فجر کے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۶/۲۵۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ بِثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَةً ‏.‏
یزید بن رومان سے روایت ہے کہ لوگ پڑھتے تھے حضرت عمر کے زمانے میں تیئس رکعتیں۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۶/۲۵۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، أَنَّهُ سَمِعَ الأَعْرَجَ، يَقُولُ مَا أَدْرَكْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَهُمْ يَلْعَنُونَ الْكَفَرَةَ فِي رَمَضَانَ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَإِذَا قَامَ بِهَا فِي اثْنَتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً رَأَى النَّاسُ أَنَّهُ قَدْ خَفَّفَ ‏.‏
داؤد بن حصین نے سنا عبدالرحمن بن ہرمز اعرج سے کہتے تھے میں نے پایا لوگوں کو لعنت کرتے تھے کافروں پر رمضان میں اور امام پڑھتا تھا سورت بقرہ آٹھ رکعتوں میں جب بارہ رکعتوں میں پڑھتا تھا تو لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ تخفیف کی۔
۰۷
مؤطا امام مالک # ۶/۲۵۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، كُنَّا نَنْصَرِفُ فِي رَمَضَانَ فَنَسْتَعْجِلُ الْخَدَمَ بِالطَّعَامِ مَخَافَةَ الْفَجْرِ ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہتے تھے سنا میں نے اپنے باپ سے کہتے تھے جب فراغت پاتے تھے تراویح سے رمضان میں تو جلدی مانگتے تھے نوکروں سے کھانے کو فجر ہونے کے ڈر سے۔
۰۸
مؤطا امام مالک # ۶/۲۵۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا عَمْرٍو، - وَكَانَ عَبْدًا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْتَقَتْهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا - كَانَ يَقُومُ يَقْرَأُ لَهَا فِي رَمَضَانَ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ذکوان جو غلام تھے حضرت عائشہ کے اور ان کو حضرت عائشہ نے آزاد کر دیا تھا اپنے بعد کھڑے ہوتے تھے اور پڑھاتے تھے نماز ان کی رمضان میں ۔