گفتگو
ابواب پر واپس
۰۱
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۱
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ لأَخِيهِ يَا كَافِرُ . فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ . فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو سنے کسی کو یہ کہتے ہوئے کہ لوگ تباہ ہو گئے تو وہ سب سے زیادہ تباہ ہے
۰۳
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ . فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی تم میں سے زمانے کو برا نہ کہے کیونکہ اللہ خود زمانہ ہے ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، لَقِيَ خِنْزِيرًا بِالطَّرِيقِ فَقَالَ لَهُ انْفُذْ بِسَلاَمٍ . فَقِيلَ لَهُ تَقُولُ هَذَا لِخِنْزِيرٍ فَقَالَ عِيسَى إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُعَوِّدَ لِسَانِي النُّطْقَ بِالسُّوءِ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سامنے ایک سور آیا راہ میں، آپ نے فرمایا چلا جا سلامتی سے، لوگوں نے کہا آپ سور سے اس طرح فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری زبان کو بری بات چیت کی عادت نہ ہو جائے ۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۵
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلَمِةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ " .
بلال بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی ایک بات کہہ دیتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے اللہ اپنی رضا مندی قیامت تک اس بندے سے لکھ دیتا ہے اور ایک ایسی بات کہتا ہے جس کو وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے قیامت تک اللہ اپنی نارا ضگی اس بندے کیلئے لکھ دیتا ہے ۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالاً يَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلَمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالاً يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا فِي الْجَنَّةِ .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آدمی بے سمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جہنم میں جاتا ہے، آدمی بے سمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جنت میں جاتا ہے
۰۷
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۷
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ رَجُلاَنِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا " . أَوْ قَالَ " إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ " .
۰۸
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، كَانَ يَقُولُ لاَ تُكْثِرُوا الْكَلاَمَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ وَلَكِنْ لاَ تَعْلَمُونَ وَلاَ تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ النَّاسِ كَأَنَّكُمْ أَرْبَابٌ وَانْظُرُوا فِي ذُنُوبِكُمْ كَأَنَّكُمْ عَبِيدٌ فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًى وَمُعَافًى فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلاَءِ وَاحْمَدُوا اللَّهَ عَلَى الْعَافِيَةِ .
ز ید بن اسلم سے روایت ہے کہ دو آدمی پورب (مشرق) سے آئے انہوں نے خطبہ پڑھا لوگ سن کر فریفتہ ہوگئے آپ نے فرمایا بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں کہ مت باتیں کرو بے کار سوائے یاد الٰہی کے کہ کہیں سخت ہو جائیں دل تمہارے اور سخت دل دور ہے اللہ سے لیکن تم نہیں سمجھتے اور مت دیکھو دوسروں کے گناہ کو گویا تم رب ہو۔ اپنے گناہوں کو دیکھو اپنے تئیں بندہ سمجھ کر، کیونکہ لوگوں میں سب طرح کے لوگ ہیں بعض اچھے ہیں۔ تو رحم کرو بیماروں پر اور اللہ کا شکر کرو اپنی تندرستی پر ۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بعد نماز عشاء کے اپنے لوگوں سے کہلا بھیجتیں کیا اب بھی تم آرام نہیں دیتے لکھنے والے فرشتوں کو ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۱۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تُرْسِلُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِهَا بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَتَقُولُ أَلاَ تُرِيحُونَ الْكُتَّابَ
۱۰
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۰
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبَ الْمَخْزُومِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا الْغِيبَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْ تَذْكُرَ مِنَ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ حَقًّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قُلْتَ بَاطِلاً فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ " .
مطلب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غیبت کس کو کہتے ہیں آپ نے فرمایا کسی کا حال ایسا بیان کرے جو اگر وہ سنے تو اس کو برا معلوم ہو، وہ بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگرچہ سچ ہو آپ نے فرمایا اگر جھوٹ ہو تو وہ بہتان ہے ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۱
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ " . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ تُخْبِرْنَا . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الأُولَى فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لاَ تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا فَقَالَ الرَّجُلُ لاَ تُخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا . ثُمَّ ذَهَبَ الرَّجُلُ يَقُولُ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الأُولَى فَأَسْكَتَهُ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّ اثْنَيْنِ وَلَجَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ " .
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ بچا دے دو چیزوں کی برائی سے وہ جنت میں جائے گا۔ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہم کو نہیں بتاتے وہ دو چیزیں کیا ہیں؟ آپ چپ ہو رہے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص یہی بولا اور آپ چپ ہو رہے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص و ہی بولا یعنی آپ ہم کو نہیں بتاتے؟ پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص بولا آپ ہم کو نہیں بتاتے پھر آپ نے یہی فرمایا وہ شخص و ہی بولا جاتا تھا اتنے میں ایک دوسرے شخص نے اس کو چپ کرا دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرمایا جس کو اللہ دو چیزوں کے شر سے بچا دے وہ جنت میں جائے گا ایک وہ جو اس کے دونوں جبڑوں کے بیچ میں ہے یعنی زبان دوسری وہ جو اس کے دونوں پاؤں کے بیچ میں ہے (شرم گاہ) تین بار آپ نے اس کو ارشاد فرمایا ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۲
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَهْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ .
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر گئے ابوبکر کے پاس اور وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے حضرت عمر نے کہا ٹھہرو بخشے اللہ تم کو ابوبکر صدیق نے کہا اسی نے مجھ کو تباہی میں ڈالا ہے ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَةَ الَّتِي بِالسُّوقِ فَجَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ وَلَيْسَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الرَّجُلِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَجُلاً آخَرَ حَتَّى كُنَّا أَرْبَعَةً فَقَالَ لِي وَلِلرَّجُلِ الَّذِي دَعَاهُ اسْتَأْخِرَا شَيْئًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عمر خالد بن عقبہ کے گھر کے پاس تھے جو بازار کے ساتھ تھا عبداللہ بن عمر سے کان میں کچھ کہنا چاہا اور عبداللہ کے ساتھ سوائے میرے اور اس شخص کے جو کان میں کہنے کو آیا تھا اور کوئی نہ تھا عبداللہ بن عمر نے ایک اور شخص کو بلایا اب ہم چار آدمی ہو گۓ پھر عبداللہ بن عمر نے مجھ کو اور چوتھے شخص کو کہا ذرا ہٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے اس سے تیسرے آدمی کو رنج ہوتا ہے۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۴
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو دو مل کر کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں تیسرے کو چھوڑ کر ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۵
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكْذِبُ امْرَأَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ خَيْرَ فِي الْكَذِبِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدُهَا وَأَقُولُ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ جُنَاحَ عَلَيْكَ " .
۱۶
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۶
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ أَلاَ تَرَى أَنَّهُ يُقَالُ صَدَقَ وَبَرَّ وَكَذَبَ وَفَجَرَ .
صفو ان بن سیلم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا میں اپنی عورت سے جھوٹ بولوں آپ نے فرمایا جھوٹ بولنا اچھا نہیں ہے اور اس میں کچھ بھلائی و خیر نہیں ہے اور وہ شخص بولا میں اپنی عورت سے وعدہ کروں اور اس سے کہوں میں تیرے لئے یوں کر دوں گا یہ بنا دوں گا آپ نے فرمایا اس میں کچھ گناہ نہیں ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے لازم جانوں تم سچ بولنے کو کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ بتاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور بچو تم جھوٹ سے کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ بتاتا اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے کیا تم نے نہیں سنا لوگ کہتے ہیں فلاں نے سچ کہا اور نیک ہوا، جھوٹ بولا اور بدکار ہوا۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت لقمان سے کسی نے پوچھا کہ تم کو کس وجہ سے اتنی بزرگی حاصل ہوئی؟ لقمان نے کہا سچ بولنے سے امانت داری سے اور لغو کام چھوڑ دینے سے ۔ عبداللہ بن مسعود فرماتے تھے کہ ہمشہ آدمی جھوٹ بولا کرتا ہے پہلے اس کے دل میں ایک نکتہ سیاہ ہوتا ہے پھر سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے
۱۷
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۷
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ مَا بَلَغَ بِكَ مَا نَرَى يُرِيدُونَ الْفَضْلَ . فَقَالَ لُقْمَانُ صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الأَمَانَةِ وَتَرْكُ مَا لاَ يَعْنِينِي .
۱۸
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ لاَ يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَتُنْكَتُ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَسْوَدَّ قَلْبُهُ كُلُّهُ فَيُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَاذِبِينَ .
۱۹
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۲۹
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا فَقَالَ " نَعَمْ " . فَقِيلَ لَهُ أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلاً فَقَالَ " نَعَمْ " . فَقِيلَ لَهُ أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا فَقَالَ " لاَ " .
صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کیا مؤمن بودا بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر پوچھا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پوچھا کیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۰
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلاَثًا وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلاَثًا يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلاَّهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " .
ابو صالح سے روایت ہے ( انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سنا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوش ہوتا ہے تین باتوں پر اور ناراض ہوتا ہے تین باتوں پر، خوش ہوتا ہے اس سے جو تم شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی کو، پکڑے رہو اللہ کی رسی کو یعنی قرآن کو) اور نصیب کرو اپنے حکم کو یعنی نیک باتیں اسے بتلاؤ اور بری باتوں سے بچاؤ اور ناراض ہوتا ہے بہت باتیں کرنے سے اور مال تلف کرنے سے یعنی بے جا خرچ کرنے سے اور بہت سوال کرنے سے۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۱
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بہت برا سب آدمیوں میں ذوالوجہین ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے و ہاں انہی کی سی بات کہہ دے جب دوسرے گروہ میں آئے و ہاں ان کی بات کہے ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۲
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " .
حضرت ام المومنین ام سلمہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم اس وقت بھی تباہ ہوں گے جب ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں جب گناہ بہت ہونے لگیں۔
۲۳
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ كَانَ يُقَالُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لاَ يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِذَنْبِ الْخَاصَّةِ وَلَكِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْكَرُ جِهَارًا اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ كُلُّهُمْ .
عمر بن عبدالعزیز کہتے تھے کہ اللہ جل جلالہ کسی خاص شخصوں کے گناہ کے سبب عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہ کرے گا مگر جب گناہ کی بات اعلانیہ کی جائے گی تو سب عذاب کے مستحق ہوں گے ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۴
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَخَرَجْتُ، مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ، يَقُولُ وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ جِدَارٌ - وَهُوَ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ - عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَخٍ بَخٍ وَاللَّهِ لَتَتَّقِيَنَّ اللَّهَ أَوْ لَيُعَذِّبَنَّكَ .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا اور میں ان کے ساتھ تھا آپ ایک باغ میں تھے اور میرے اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل تھی آپ فرماتے تھے واہ واہ اے خطاب کے بیٹے ڈر اللہ سے، نہیں تو اللہ عذاب کرے گا تجھ کو ۔
۲۵
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۵
قَالَ مَالِكٌ وَبَلَغَنِي أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ كَانَ يَقُولُ أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَمَا يَعْجَبُونَ بِالْقَوْلِ . قَالَ مَالِكٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْعَمَلَ إِنَّمَا يُنْظَرُ إِلَى عَمَلِهِ وَلاَ يُنْظَرُ إِلَى قَوْلِهِ .
قاسم بن محمد کہتے تھے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ باتوں پر فریفیہ نہیں ہوتے تھے ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۶
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ، تَرَكَ الْحَدِيثَ
عامر بن عبداللہ بن زبیر جب گرج کی آواز سنتے تو بات کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے کہ پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی بیان کرتا ہے ایک فرشتہ جو مقرر ہے ابر (بادل) پر اس کی آواز ہے جو گرج معلوم ہوئی اور بیان کرتے ہیں فرشتے پاکی اس کی اس کے ڈر سے پھر کہتے تھے کہ یہ آواز زمین کے رہنے والوں کے واسطے سخت وعید ہے۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۷
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
حضرت ام المومینن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیبیوں نے بعد آپ کی وفات کے چاہا کہ حضرت عثمان کو ابوبکر صدیق کے پاس بھجیں اور اپنا ترکہ طلب کریں تو حضرت عائشہ نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۵۶/۱۸۳۸
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دَنَانِيرَ مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد میرے وارث ترکہ کو تقسم نہ کریں گے جو میں چھوڑ جاؤں اپنی بیبیوں کی خوراک کے اور عامل کے خرچ کے بعد وہ سب صدقہ ہے