۳۳ حدیث
۰۱
مؤطا امام مالک # ۷/۲۵۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عِنْدَهُ رِضًا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنِ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلاَةٌ بِلَيْلٍ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ صَلاَتِهِ وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً ‏"‏ ‏.‏
عائشہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو نماز پڑھے ہمیشہ رات کو پھر غالب آجائے اس پر نیند مگر یہ کہ اللہ جل جلالہ لکھے گا اس کے لئے ثواب نماز کا اور سونا اس کو صدقہ ہوگا ۔
۰۲
مؤطا امام مالک # ۷/۲۵۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرِجْلاَىَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَىَّ فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا ‏.‏ قَالَتْ وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ ‏.‏
عائشہ سے روایت ہے کہ میں سوتی تھی سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور پاؤں میرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تھے آپ دبا دتیے تھے مجھ کو سو سمیٹ لیتی تھی میں پاؤں اپنے کہا حضرت عائشہ نے اور گھروں میں ان دنوں چراغ نہ تھے ۔
۰۳
مؤطا امام مالک # ۷/۲۵۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لاَ يَدْرِي لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ ‏"‏ ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اونگھنے لگے کوئی تم میں سے نماز میں تو سو رہے یہاں تک کہ نیند بھر جائے کیونکہ اگر نماز پڑھے گا اونگھتے ہوئے تو شاید وہ استغفار کرنا چاہے اور اپنے تئیں برا بولنے لگے ۔
۰۴
مؤطا امام مالک # ۷/۲۵۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ امْرَأَةً مِنَ اللَّيْلِ تُصَلِّي فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ هَذِهِ الْحَوْلاَءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ لاَ تَنَامُ اللَّيْلَ ‏.‏ فَكَرِهَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى عُرِفَتِ الْكَرَاهِيَةُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
اسمعیل بن ابی حکیم کو پہنچا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے سنا ذکر ایک عورت کا جو نماز پڑھا کرتی تھی رات بھر تو پوچھا کہ کون ہے یہ عورت کہا لوگوں نے یہ حولاء ہے بیٹی تویت کی نہیں سوتی ہے رات کو تو برا معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ امر یہاں تک کہ معلوم ہوئی ناراضگی آپ کے چہرے سے پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خداوند کریم نہیں بیزار ہوتا تمہاری بیزرای تک اتنا عمل کر جسکی طاقت رکھو۔
۰۵
مؤطا امام مالک # ۷/۲۵۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أَيْقَظَ أَهْلَهُ لِلصَّلاَةِ يَقُولُ لَهُمُ الصَّلاَةَ الصَّلاَةَ ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاَةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لاَ نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى‏}‏
اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رات کو نماز پڑھتے جتنا اللہ کو منظور ہوتا پھر جب اخیر رات ہوتی تو اپنے گھر والوں کو جگاتے نماز کے لئے اور کہتے ان سے نماز نماز، پھر پڑھتے اس آیت کو اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا اور صبر کر اس کے لئے ہم نہیں مانگتے تجھ سے روٹی بلکہ ہم کھلاتے ہیں تجھ کو اور عاقبت کی بہتری پرہیزگاری سے ہے ۔ سعید بن مسیب کہتے تھے مکروہ ہے سونا عشاء کی نماز سے پہلے اور باتیں کرنا بعد عشاء کے ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت عمر بن خطاب سے فرماتے تھے نفل نماز رات اور دن کی دو دو رکعتیں ہیں سلام پھیرے ہر دو رکعتوں کے بعد۔
۰۶
مؤطا امام مالک # ۷/۲۵۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ يُكْرَهُ النَّوْمُ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِيثُ بَعْدَهَا ‏.‏
۰۷
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ صَلاَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
۰۸
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا فَرَغَ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے ایک رکعت ان میں سے وتر کی ہوتی جب فارغ ہوتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے داہنی کروٹ پر ۔
۰۹
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَىَّ تَنَامَانِ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي ‏"‏ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت کہ انہوں نے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیونکہ تھی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں تو کہا حضرت عائشہ نے نہیں زیادہ کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت پڑھتے تھے چار رکعتیں تو مت پوچھ ان کی خوبی اور طول کا حال پھر پڑھتے تھے چار رکعتیں تو مت پوچھ ان کی خوبی اور طول کا حال پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے پوچھا حضرت عائشہ نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے ہیں وتر پڑھنے سے پہلے فرمایا اے عائشہ میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا ۔
۱۰
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏
عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے رات کو تیرہ رکعتیں پھر جب اذان سنتے صبح کی تو پڑھ لیتے دو رکعتیں ہلکی پھلکی ۔
۱۱
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - وَهِيَ خَالَتُهُ - قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ - أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ - اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ایک رات رہے اپنی خالہ میمونہ کے پاس جو بی بی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہا ابن عباس نے لیٹا میں بستر کے عرض کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی لیٹیں بستر کے طرل میں پس سو گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی یا کچھ پہلے یا کچھ بعد اس کے جاگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ملنے لگے آنکھیں اپنے ہاتھ سے پھر پڑھیں دس آیتیں اخیر کی سورت آل عمران سے یعنی (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ) 3۔ ال عمران : 190) سے اخیر سورت تک پھر گئے آپ ایک مشک کی پاس جو لٹک رہی تھی اور وضو کیا اس سے اچھی طرح پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ابن عباس نے کہا میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ویسا ہی میں نے بھی کیا تو جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر ملنے لگے پھر پڑھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر دو رکعتیں پھر وتر پڑھے پھر لیٹے رہے جب مؤذن آیا تو دو رکعتیں ہلکی پڑھیں پھر باہر نکلے اور نماز پڑھی صبح کی ۔
۱۲
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لأَرْمُقَنَّ اللَّيْلَةَ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ - أَوْ فُسْطَاطَهُ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَتِلْكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ‏.‏
زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں ضرور دیکھوں گا نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کو کہا زید نے کہ تکیہ لگایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کی چوکھٹ پر یا گھر جو بالوں سے ڈھپا ہوا تھا پھر کھڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو پڑھیں دو رکعتیں بہت لمبی بہت لمبی بہت لمبی پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر پڑھیں دو رکعتیں ان سے کچھ کم پھر ایک رکعت وتر کی پڑھی سب تیرہ رکعتیں پڑھیں ۔
۱۳
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کا تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی نماز دو رکعتیں ہیں اور جب ڈر ہو صبح ہونے کا پڑھ لے ایک رکعت جو طاق کر دے اس کی نماز کو ۔
۱۴
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلاً، بِالشَّامِ يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ ‏.‏ فَقَالَ الْمُخْدَجِيُّ فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْعِبَادِ فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن محیریز سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی کنانہ سے جس کو مخدجی کہتے تھے سنا ایک شخص سے شام میں جن کی کنیت ابومحمد ہے کہتے تھے وتر واجب ہے مخدجی نے کہا کہ میں عبادہ بن صامت کے پاس گیا اور ابومحمد کے قول کو نقل کیا عبادہ نے کہا کہ جھوٹ کہا ابومحمد نے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے پانچ نمازیں ہیں جو فرض کیں اللہ نے اپنے بندوں پر جو شخص ان کو پڑھے گا اور ہلکا جان کر ان کو نہ چھوڑے گا تو اللہ جل جلالہ نے اس کے لئے عہد کر رکھا ہے کہ جنت میں اس کو لے جائے گا اور جو شخص ان کو چھوڑ دے گا اللہ کے پاس اس کا کچھ عہد نہیں ہے چاہے اس کو عذاب کر دیں چاہے جنت میں پہنچا دے ۔
۱۵
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ - قَالَ سَعِيدٌ - فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ لَهُ خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ ‏.‏ فَقُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ ‏.‏
سعید بن یسار سے روایت ہے کہ رات کو سفر میں ساتھ عبداللہ بن عمر کے راہ میں مکہ کی کہا سعید نے جب مجھے ڈر ہوا صبح کا تو میں اونٹ پر سے اترا وتر پڑھے پھر ان کو آگے بڑھ کر پالیا تو عبداللہ بن عمر نے مجھ سے پوچھا کہ تو کہاں تھا میں نے کہا مجھے صبح ہونے کا اندیشہ ہوا اس لئے میں نے اتر کر وتر پڑھے تو عبداللہ نے کہا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا میں نے کہا واہ کیوں نہیں کہا عبداللہ نے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وتر پڑھتے تھے اونٹ پر۔
۱۶
مؤطا امام مالک # ۷/۲۶۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ، فِرَاشَهُ أَوْتَرَ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُوتِرُ آخِرَ اللَّيْلِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَمَّا أَنَا فَإِذَا جِئْتُ فِرَاشِي أَوْتَرْتُ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ابوبکر جب سونے کو آتے اپنے بستر پر وتر پڑھ لیتے اور عمر بن خطاب آخر رات میں وتر پڑھتے تھے بعد تہجد کے اور سعید بن مسیب نے کہا کہ میں جب اپنے بچھونے پر سونے کو آتا ہوں تو وتر پڑھ لیتا ہوں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کیا وتر واجب ہے تو کہا عبداللہ بن عمر نے وتر ادا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ بی بی عائشہ فرماتی تھیں جس شخص کو خوف ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھلے گی صبح تک تو وہ وتر پڑھ لے سونے سے پیشتر اور جو امید رکھے جاگنے کی آخر شب میں تو وہ دیر کرے وتر میں ۔
۱۷
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ ‏.‏ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ ‏.‏
۱۸
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۱
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ مَنْ خَشِيَ أَنْ يَنَامَ حَتَّى يُصْبِحَ فَلْيُوتِرْ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَمَنْ رَجَا أَنْ يَسْتَيْقِظَ آخِرَ اللَّيْلِ فَلْيُؤَخِّرْ وِتْرَهُ ‏.‏
۱۹
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۲
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُغِيمَةٌ فَخَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ انْكَشَفَ الْغَيْمُ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلاً فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ تھا میں عبداللہ بن عمر کے ساتھ مکہ کے راستہ میں اور آسمان پر ابر چھایا ہوا تھا تو ڈرے عبداللہ بن عمر صبح ہوجانے سے پس پڑھی ایک رکعت وتر کی پھر کھل گیا ابر تو دیکھا ابھی رات باقی ہے پس دوگانہ کیا اس رکعت کو ایک رکعت اور پڑھ کر پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر جب خوف ہوا صبح کا تو ایک رکعت وتر پڑھی ۔
۲۰
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۳
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَالرَّكْعَةِ فِي الْوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سلام پھیر تے تھے دو رکعت وتر کی پڑھ کر اور کچھ کام ہوتا تو اس کو کہہ دیتے پھر ایک رکعت پڑھتے تھے ۔
۲۱
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، كَانَ يُوتِرُ بَعْدَ الْعَتَمَةِ بِوَاحِدَةٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا وَلَكِنْ أَدْنَى الْوِتْرِ ثَلاَثٌ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص وتر پڑھتے تھے بعد عشاء کے ایک رکعت ۔
۲۲
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ صَلاَةُالمغرب وتر صلاة النهار ‏.‏ قال مالك من أوتر أول الليل ثم نام ثم قام فبدا له أن يصلي فليصل مثنى مثنى فهو أحب ما سمعت إلى ‏
۲۳
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۶
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، رَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ لِخَادِمِهِ انْظُرْ مَا صَنَعَ النَّاسُ ‏.‏ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ‏.‏ فَذَهَبَ الْخَادِمُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَدِ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الصُّبْحِ ‏.‏ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَأَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ ‏.‏
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سو رہے پھر جاگے تو کہا آپ نے خادم سے دیکھو لوگ کیا کر رہے ہیں اور ان دنوں میں عبداللہ بن عباس کی بصارت جاتی رہی تھی سو گیا خادم پھر آیا اور کہا کہ لوگ پڑھ چکے صبح کی نماز تو کھڑے ہوئے عبداللہ بن عباس اور وتر پڑھے پھر نماز پڑھی صبح کی ۔
۲۴
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۷
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَدْ أَوْتَرُوا بَعْدَ الْفَجْرِ ‏.‏
۲۵
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۸
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ مَا أُبَالِي لَوْ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ وَأَنَا أُوتِرُ، ‏.‏
عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ مجھے کچھ ڈر نہیں ہے اگر میں وتر پڑھتا ہوں اور تکبیر ہو جائے صبح کی نماز کی ۔
۲۶
مؤطا امام مالک # ۷/۲۷۹
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ يَؤُمُّ قَوْمًا فَخَرَجَ يَوْمًا إِلَى الصُّبْحِ فَأَقَامَ الْمُؤَذِّنُ صَلاَةَ الصُّبْحِ فَأَسْكَتَهُ عُبَادَةُ حَتَّى أَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ ‏.‏
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت امامت کرتے تھے ایک قوم کی تو نکلے ایک روز صبح کی نماز کے لئے اور مؤذن نے تکبیر کہی پس خاموش کیا عبادہ نے مؤذن کو یہاں تک کہ وتر پڑھا پھر نماز پڑھائی صبح کی ۔
۲۷
مؤطا امام مالک # ۷/۲۸۰
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يَقُولُ إِنِّي لأُوتِرُ وَأَنَا أَسْمَعُ الإِقَامَةَ، أَوْ بَعْدَ الْفَجْرِ ‏.‏ يَشُكُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَىَّ ذَلِكَ قَالَ ‏.‏
عبدالرحمن بن قاسم سے روایت ہے کہ سنا انہوں نے عبداللہ بن عامر سے وہ کہتے تھے میں وتر پڑھتا ہوں اور سنا کرتا ہوں تکبیر صبح کی یا وتر پڑھتا ہوں بعد فجر کے شک ہے عبدالرحمن کو کس طرح کہا انہوں نے۔
۲۸
مؤطا امام مالک # ۷/۲۸۱
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ إِنِّي لأُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ وَلاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَتَعَمَّدَ ذَلِكَ حَتَّى يَضَعَ وِتْرَهُ بَعْدَ الْفَجْرِ ‏.‏
عبدالرحمن بن قاسم نے سنا اپنے باپ سے وہ کہتے تھے میں وتر پڑھتا ہوں بعد فجر ہوجانے کے ۔
۲۹
مؤطا امام مالک # ۷/۲۸۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ عَنِ الأَذَانِ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ ‏.‏
حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ جب اذان ہو چکتی صبح کی تو پڑھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں ہلکی، جماعت کھڑی ہونے سے پیشتر ۔
۳۰
مؤطا امام مالک # ۷/۲۸۳
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُخَفِّفُ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ أَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ أَمْ لاَ
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد پڑھتے فجر کی سنتوں کو یہاں تک کہ میں کہتی تھی سورت فاتحہ بھی پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا نہیں ۔
۳۱
مؤطا امام مالک # ۷/۲۸۴
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعَ قَوْمٌ الإِقَامَةَ، فَقَامُوا يُصَلُّونَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَصَلاَتَانِ مَعًا أَصَلاَتَانِ مَعًا ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ ‏.‏
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ لوگوں نے تکبیر سنی تو کھڑے ہو کر پڑھنے لگے سنتوں کو تب نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فرمایا کیا دو دو نمازیں ایک ساتھ کیا دو دو نمازیں ایک ساتھ اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صبح کی نماز میں ان دو رکعتوں میں جو پڑھی جاتی قبل نماز صبح کے ۔
۳۲
مؤطا امام مالک # ۷/۲۸۵
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَاتَتْهُ رَكْعَتَا الْفَجْرِ فَقَضَاهُمَا بَعْدَ أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کی فوت ہو گئیں سنتیں فجر کی تو پڑھ لیں انہوں نے بعد آفتاب نکلنے کے ۔ قاسم بن محمد سے بھی ایسا ہی مروی ہے ۔
۳۳
مؤطا امام مالک # ۷/۲۸۶
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ابْنُ عُمَرَ ‏.‏