The Book About the Etiquette of Eating
ابواب پر واپس
۴ حدیث
۰۱
ریاض الصالحین # ۰/۴۸
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ
وعن عبد الله بن زيد رضى الله عنه قال‏:‏ أتانا النبي صلى الله عليه وسلم، فأخرجنا له ماء في نور من صفر فتوضأ‏.‏‏‏((‏رواه البخارى‏)‏‏)‏‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری عیادت کے لیے تشریف لائے تو ہم نے آپ کے لیے پیتل کے برتن میں پانی لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔
۰۲
ریاض الصالحین # ۰/۴۹
جابر رضی اللہ عنہ
وعن جابر رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على رجل من الأنصار، ومعه صاحب له، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم‏:‏ ‏
"‏إن كان عندك ماء بات هذه الليلة في سنة وإلا كرعنا‏"‏‏‏.‏‏‏((‏رواه البخارى‏)‏‏)‏‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک صحابی کے ساتھ ایک انصاری آدمی کے گھر تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس کل رات سے پانی کی چھال میں کچھ پانی بچا ہے تو ہمیں پینے کے لیے دے دو، ورنہ ہم کسی نہر سے سیدھا پی لیں گے۔
۰۳
ریاض الصالحین # ۰/۵۰
حذیفہ رضی اللہ عنہ
وعن حذيفة رضى الله عنه قال‏:‏ إن النبي صلى الله عليه وسلم نهانا عن الحرير والديباج والشرب في آنية الذهب والفضة، وقال‏:‏ ‏
"‏هي لهم في الدنيا، وهى لكم في الآخرة‏"‏‏.((متفق عليه))
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برقی یا ریشم پہننے اور سونے یا چاندی کے برتنوں میں سے پینے سے منع فرمایا اور فرمایا: یہ دنیا میں ان (کافروں) کے لیے ہیں اور آخرت میں تمہارے لیے۔
۰۴
ریاض الصالحین # ۰/۵۱
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
وعن أم سلمة رضى الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ ‏"‏الذي يشرب في آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم‏"‏‏.((متفق عليه))
‏ وفى ‏:‏ ‏"‏إن الذي يأكل أو يشرب في آنية الفضة والذهب‏"‏
وفى رواية له‏:‏ ‏"‏ من شرب في إناءٍ من ذهب أو فضة فإنما يجرجر في بطنه ناراً من جهنم‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھڑکاتا ہے۔“ مسلم کی روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جو شخص سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھا یا پیتا ہے اس کا پیٹ جہنم کی آگ سے بھر جاتا ہے۔