طلاق
ابواب پر واپس
۰۱
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۸۹
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ السَّرَخْسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ
" مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يَدَعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى فَإِذَا طَهُرَتْ فَإِنْ شَاءَ فَلْيُفَارِقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا وَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
" مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يَدَعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى فَإِذَا طَهُرَتْ فَإِنْ شَاءَ فَلْيُفَارِقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا وَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ کر کہ عبداللہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے مسئلہ پوچھا ( کہ کیا اس کی طلاق صحیح ہوئی ہے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو ( طلاق ختم کر کے ) اسے لوٹا لے ( یعنی اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے اپنے اس حیض سے پاک ہو لینے دے، پھر جب وہ دوبارہ حائضہ ہو اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو وہ اگر اسے چھوڑ دینا چاہے تو اسے جماع کرنے سے پہلے چھوڑ دے اور اگر اسے رکھنا چاہے تو اسے رکھ لے ( اور اس سے اپنی ازدواجی زندگی بحال کرے ) یہ ہے وہ عدت جس کے مطابق اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
۰۲
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے ( یعنی طلاق ختم کر کے اسے اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے روکے رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہو جائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہو ( جب وہ دوبارہ حیض سے پاک ہو جائے ) تو چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو اسے چھونے ( اس کے پاس جانے اور اس سے صحبت کرنے ) سے پہلے اسے طلاق دیدے۔ یہی وہ عدت ہے جسے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورت کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
۰۳
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۱
أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ سُئِلَ الزُّهْرِيُّ كَيْفَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حَائِضٌ . فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ
" لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً وَتَطْهُرَ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَاكَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَاجَعْتُهَا وَحَسِبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا .
" لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً وَتَطْهُرَ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَاكَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَاجَعْتُهَا وَحَسِبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا .
زبیدی کہتے ہیں امام زہری سے پوچھا گیا: عدت والی طلاق کس طرح ہوتی ہے؟ ( اشارہ ہے قرآن کریم کی آیت: «فطلقوهن لعدتهن» ( الطلاق: 1 ) کی طرف ) تو انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے انہیں بتایا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی، اس بات کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصہ ہوئے اور فرمایا: ”اسے رجوع کر لینا چاہیئے، پھر اسے روکے رکھے رہنا چاہیئے یہاں تک کہ ( پھر ) اسے حیض آئے اور وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دے دینا ہی مناسب سمجھے تو طہارت کے ایام میں طلاق دیدے ہاتھ لگانے سے پہلے“۔ عدت والی طلاق کا یہی طریقہ ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اسے لوٹا لیا اور جو طلاق میں اسے دے چکا تھا اسے بھی شمار کر لیا ( کیونکہ ان کے خیال میں وہ طلاق اگرچہ سنت کے خلاف اور حرام تھی پروہ پڑ گئی تھی ) ۔
۰۴
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۲
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ، يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ لَهُ طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَ هِيَ حَائِضٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيُرَاجِعْهَا " . فَرَدَّهَا عَلَىَّ قَالَ " إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ } فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ .
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے سنا: آپ کی کیا رائے ہے ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟ انہوں نے جواب دیا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس وقت طلاق دی جب وہ حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھا کہ عبداللہ بن عمر کی بیوی حالت حیض میں تھی اس نے اسے اسی حالت میں طلاق دے دی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ کو چاہیئے کہ وہ اس سے رجوع کرے“، اور پھر آپ نے میری بیوی میرے پاس بھیج دی اور فرمایا: ”جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو جائے تب اسے یا تو طلاق دیدے یا اسے روک لے“ ( اسے دونوں کا اختیار ہے جیسی اس کی مرضی و پسند ہو ) ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ( اس کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ”اے نبی! ( اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت ( کے دنوں کے آغاز ) میں انہیں طلاق دو“ ( الطلاق: ۱ ) ۔
۰۵
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ } قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنه قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ .
مجاہد (اپنے استاذ) ابن عباس رضی الله عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» یعنی ”جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور اس سے اس طہر میں صحبت بھی نہ کی جائے تب طلاق دینی چاہیئے“ کے سلسلے میں روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لعدتهن» کی جگہ «قبل عدتهن» پڑھا ہے ۱؎۔
۰۶
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ تَطْلِيقَةٌ وَهِيَ طَاهِرٌ فِي غَيْرِ جِمَاعٍ فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرَى فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرَى ثُمَّ تَعْتَدُّ بَعْدَ ذَلِكَ بِحَيْضَةٍ . قَالَ الأَعْمَشُ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ .
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت اس طرح ہے کہ جب عورت پاک ہو اور اس پاکی کے دنوں میں عورت سے جماع نہ کیا ہو تو اسے ایک طلاق دے، پھر جب دوبارہ اسے حیض آئے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے دوسری طلاق دے پھر جب ( تیسری بار ) حیض سے ہو جائے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے ایک اور طلاق دے۔ پھر اس کے بعد عورت ایک حیض کی عدت گزارے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح بتایا ۲؎۔
۰۷
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا فِي غَيْرِ جِمَاعٍ .
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو طہر کی حالت میں بغیر جماع کیے ہوئے طلاق دے۔
۰۸
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا اغْتَسَلَتْ فَلْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَحِيضَ فَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا الأُخْرَى فَلاَ يَمَسَّهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
" مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا اغْتَسَلَتْ فَلْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَحِيضَ فَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا الأُخْرَى فَلاَ يَمَسَّهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ عبداللہ کو حکم دو کہ اسے لوٹا لے۔ پھر جب ( حیض سے فارغ ہو کر ) وہ غسل کر لے تو اسے چھوڑے رکھے پھر جب حیض آئے اور اس دوسرے حیض سے فارغ ہو کر غسل کر لے تو اسے نہ چھوئے یعنی ( صحبت نہ کرے ) یہاں تک کہ اسے طلاق دیدے پھر اسے روک لینا چاہے تو روک لے ( اور طلاق نہ دے ) یہی وہ عدت ہے جس کا لحاظ کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
۰۹
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۷
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى طَلْحَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ " .
" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ ( حیض سے ) پاک ہو جائے یا حاملہ ہو جائے تب اس کو طلاق دے“ ( اگر دینا چاہے ) ۔
۱۰
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۸
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى طَلَّقَهَا وَهِيَ طَاهِرٌ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس طلاق کو باطل قرار دے کر ) اس عورت کو انہیں لوٹا دیا۔ پھر جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو گئی تو انہوں نے اسے طلاق دی ( اور وہ طلاق نافذ ہوئی ) ۔
۱۱
سنن نسائی # ۲۷/۳۳۹۹
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ هَلْ تَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا . فَقُلْتُ لَهُ فَيَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ مَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ .
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مرد کے متعلق ( مسئلہ ) پوچھا جس کی بیوی حیض سے ہو اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو؟ انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ ( اس وقت ) حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر کو حکم دیا کہ اسے لوٹا لے اور اس کی عدت کا انتظار کرے۔ ( یونس بن جبیر کہتے ہیں ) میں نے ان سے کہا: یہ طلاق جو وہ دے چکا ہے کیا وہ اس کا شمار کرے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہو جاتا ( اور رجوع نہ کرتا یا رجوع کرنے سے پہلے مر جاتا ) اور وہ حماقت کر گزرتا ۱؎۔
۱۲
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۰
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا قُلْتُ لَهُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَيَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ مَهْ وَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ .
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو جب کہ وہ حیض سے تھی طلاق دے دی ( تو اس کا مسئلہ کیا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو، انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور وہ اس وقت حالت حیض میں تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو لوٹا لے، پھر اس کی عدت کا انتظار کرے۔ میں نے ان سے پوچھا: جب آدمی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدے تو کیا وہ اس طلاق کو شمار کرے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اگر وہ رجوع نہ کرتا اور حماقت کرتا۔ ( تو کیا وہ شمار نہ ہوتی؟ ہوتی، اس لیے ہو گی ) ۔
۱۳
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۱
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ، قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَجُلٍ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ
" أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " . حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَقْتُلُهُ .
" أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " . حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَقْتُلُهُ .
محمود بن لبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، ( یہ سن کر ) آپ غصے سے کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: ”میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو ۱؎“، ( آپ کا غصہ دیکھ کر اور آپ کی بات سن کر ) ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہ میں اسے قتل کر دوں؟۔
۱۴
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَيَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ . فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتَ عَنْهَا . فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَ عُوَيْمِرٌ قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا . فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
" قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا " . قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَ عُوَيْمِرٌ قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا . فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: عاصم! بتاؤ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ ( وہ قتل کر دے ) تو لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے! بتاؤ وہ کیا اور کیسے کرے؟ عاصم! اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر مجھے بتاؤ، عاصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ مسئلہ ) پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کے سوالات برے لگے اور آپ نے اسے ناپسند فرمایا ۱؎، عاصم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو بڑی گراں گزری ۲؎، جب عاصم رضی اللہ عنہ لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے مجھے کوئی اچھی بات نہیں سنائی، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! یہ مسئلہ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر رہوں گا، ( یہ کہہ کر ) عویمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہو گئے اور آپ جہاں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے وہاں پہنچ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے ایک شخص اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ ( اگر وہ اسے قتل کر دے ) تو آپ لوگ اسے ( اس کے بدلے میں ) قتل کر ڈالیں گے! ( ایسی صورت حال پیش آ جائے ) تو وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں قرآن نازل ہوا ہے، جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( وہ لے کر آئے ) پھر دونوں ( یعنی عویمر اور اس کی بیوی نے ) لعان کیا، میں بھی اس وقت لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ پھر جب عویمر رضی اللہ عنہ لعان سے فارغ ہوئے تو کہا: اللہ کے رسول! اگر میں نے ( اس لعان کے بعد ) اس کو اپنے گھر رکھا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں جھوٹا ہوں ( اور میں نے اس پر تہمت لگائی ہے ) یہ کہہ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے اسے ( دھڑا دھڑ ) تین طلاقیں دے دیں۔
۱۵
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۳
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الأَحْمَسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ أَنَا بِنْتُ آلِ خَالِدٍ وَإِنَّ زَوْجِي فُلاَنًا أَرْسَلَ إِلَىَّ بِطَلاَقِي وَإِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَهُ النَّفَقَةَ وَالسُّكْنَى فَأَبَوْا عَلَىَّ . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَيْهَا بِثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ . قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ " .
" إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ " .
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: میں آل خالد کی بیٹی ہوں اور میرے شوہر فلاں نے مجھے طلاق کہلا بھیجی ہے، میں نے ان کے گھر والوں سے نفقہ و سکنی ( اخراجات اور رہائش ) کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مجھے دینے سے انکار کیا، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے بھیجی ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفقہ و سکنی اس عورت کو ملتا ہے جس کے شوہر کو اس سے رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے“ ۱؎۔
۱۶
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
" الْمُطَلَّقَةُ ثَلاَثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ " .
" الْمُطَلَّقَةُ ثَلاَثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ " .
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طلاق پائی ہوئی عورت کو نہ سکنی ملے گا اور نہ نفقہ“۔
۱۷
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، - وَهُوَ الأَوْزَاعِيُّ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيَّ، طَلَّقَهَا ثَلاَثًا فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَ فَاطِمَةَ ثَلاَثًا فَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ فَقَالَ
" لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ وَلاَ سُكْنَى " .
" لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ وَلاَ سُكْنَى " .
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دیں، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ابوعمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو کیا اسے ( عدت کے دوران ) نفقہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ سکنی“۔
۱۸
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۶
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الثَّلاَثَ، كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تُرَدُّ إِلَى الْوَاحِدَةِ قَالَ نَعَمْ .
طاؤس سے روایت ہے کہ ابو الصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: اے ابن عباس! کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے شروع عہد خلافت میں تین طلاقیں ( ایک ساتھ ) ایک مانی جاتی تھیں، انہوں نے کہا: جی ہاں ( معلوم ہے، ایسا ہوتا تھا ) ۱؎۔
۱۹
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لاَ حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ " .
" لاَ حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنی عورت کو طلاق دی۔ اس عورت نے دوسری شادی کر لی، وہ دوسرا شخص ( تنہائی میں ) اس کے پاس گیا اور اسے جماع کیے بغیر طلاق دے دی۔ تو کیا اب یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ اس وقت تک پہلے کے لیے حلال نہ ہو گی جب تک کہ اس کا دوسرا شوہر اس کے شہد کا اور وہ عورت اس دوسرے شوہر کے شہد کا ذائقہ و مزہ نہ چکھ لے“۔
۲۰
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۸
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَكَحْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلَ هَذِهِ الْهُدْبَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
" لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی اور ان کے پاس تو اس کپڑے کی جھالر جیسے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لگتا ہے تم دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہ ( دوسرا شوہر ) تمہارا اور تم اس کا مزہ نہ چکھ لو“۔
۲۱
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۰۹
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَأَنَّهُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلَ هَذِهِ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ بِالْبَابِ فَلَمْ يُأْذَنْ لَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَسْمَعُ هَذِهِ تَجْهَرُ بِمَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ
" تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " .
" تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ہے تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور اللہ کے رسول! قسم اللہ کی ان کے پاس تو اس جھالر جیسی چیز کے سوا کچھ نہیں ہے ۱؎ انہوں نے اپنی چادر کا پلو پکڑ کر یہ بات کہی۔ اس وقت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، انہوں نے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ) کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس عورت سے ) کہا: تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کے شہد کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے۔
۲۲
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۰
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَيُّوبَ هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ أَنَّهَا ثَلاَثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ فَقَالَ لاَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ غَفْرًا إِلاَّ مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" ثَلاَثٌ " . فَلَقِيتُ كَثِيرًا فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ نَسِيَ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ .
" ثَلاَثٌ " . فَلَقِيتُ كَثِيرًا فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ نَسِيَ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ .
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں؟ جو «أمرک بیدک» کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو؟ انہوں نے کہا نہیں ( میں کسی کو بھی نہیں جانتا ) پھر انہوں نے کہا: اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں“ تو ( اس کا حال یہ ہے کہ ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے ( اس حدیث کے متعلق ) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں ( کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے ) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی ( کہ وہ ایسا کہتے ہیں ) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے ( انہوں نے ایسی بات کہی ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔
۲۳
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلاَقِي وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلَ هُدْبَةِ الثَّوْبِ . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ
" لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
" لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ( آپ سے ) کہا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور طلاق بھی بتہ دی ( کہ وہ رجوع نہیں کر سکتے ) تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، لیکن ان کے پاس تو اس کپڑے کے جھالر جیسے کے سوا کچھ نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”لگتا ہے رفاعہ سے تم دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو؟ ( سن لو ) تو رفاعہ کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک کہ وہ ( یعنی دوسرا شوہر ) تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے اور تم اس کے شہد کا“۔
۲۴
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ فَقَالَ
" لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ " .
" لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس عورت نے دوسرے شخص سے شادی کر لی۔ اس ( دوسرے شخص ) نے اس سے جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا ( ایسی صورت میں ) وہ عورت پہلے والے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ وہ ( دوسرا ) اس کے شہد کا مزہ نہ لے لو جس طرح اس کے پہلے شوہر نے مزہ چکھ لیا ہے“ ۱؎۔
۲۵
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۳
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْغُمَيْصَاءَ، أَوِ الرُّمَيْصَاءَ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَشْتَكِي زَوْجَهَا أَنَّهُ لاَ يَصِلُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هِيَ كَاذِبَةٌ وَهُوَ يَصِلُ إِلَيْهَا وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لَيْسَ ذَلِكَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
" لَيْسَ ذَلِكَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آ گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جھوٹی عورت ہے، وہ اس کے پاس جاتا ہے، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے ( اس لیے ایسا کہہ رہی ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کا شہد چکھ نہ لو“۔
۲۶
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ يُطَلِّقُهَا ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَتَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ قَالَ
" لاَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ " .
" لاَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ " .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت ایسا نہیں کر سکتی جب تک کہ اس ( دوسرے شوہر ) کے شہد کو نہ چکھ لے“ ۱؎۔
۲۷
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۵
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الأَحْمَرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَيَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُغْلِقُ الْبَابَ وَيُرْخِي السِّتْرَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ
" لاَ تَحِلُّ لِلأَوَّلِ حَتَّى يُجَامِعَهَا الآخَرُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ .
" لاَ تَحِلُّ لِلأَوَّلِ حَتَّى يُجَامِعَهَا الآخَرُ " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں ( مغلظہ ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کر لیتا ہے اور ( اسے لے کر ) دروازہ بند کر لیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، ( کہ کوئی اندر نہ آ سکے ) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی جب تک اس کا دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کر لے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث صواب سے قریب تر ہے۔
۲۸
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ .
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو ( بڑا کرنے کے لیے ) جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔
۲۹
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۷
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الَّتِي، اسْتَعَاذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْكِلاَبِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ " .
" لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ " .
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بچنے کے لیے، اللہ کی ) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا: عروہ نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ ( فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان ) جب ( منکوحہ کی حیثیت سے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی اور ( اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ) کہہ بیٹھی «أعوذباللہ منک» ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فوراً ) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ( یہ کہہ کر گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی ) ۔
۳۰
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۸
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَهْمِ - قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ أَرْسَلَ إِلَىَّ زَوْجِي بِطَلاَقِي فَشَدَدْتُ عَلَىَّ ثِيَابِي ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كَمْ طَلَّقَكِ " . فَقُلْتُ ثَلاَثًا . قَالَ " لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي " . مُخْتَصَرٌ .
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق کہلا بھیجی تو میں اپنے کپڑے اپنے آپ پر لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( نفقہ و سکنی کا مطالبہ لے کر ) پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟“ میں نے کہا: تین، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تمہیں نفقہ نہیں ملے گا تم اپنی عدت کے دن اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر میں پورے کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں، تم ان کے پاس رہ کر بھی اپنے کپڑے اتار سکتی ہو پھر جب تمہاری عدت کے دن پورے ہو جائیں تو مجھے خبر دو“، یہ حدیث طویل ہے، یہاں مختصر بیان ہوئی ہے۔
۳۱
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۱۹
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ تَمِيمٍ، مَوْلَى فَاطِمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ، نَحْوَهُ .
مجاہد فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) کے غلام تمیم سے اور وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے طرح جیسی کہ اوپر روایت گزری ہے روایت کرتے ہیں۔
۳۲
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۰
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَىَّ حَرَامًا . قَالَ كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَةِ عِتْقُ رَقَبَةٍ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، تو انہوں نے اس سے کہا: تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ( اور کہا ) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ۱؎۔
۳۳
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۱
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةَ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ - وَقَالَ - لَنْ أَعُودَ لَهُ " . فَنَزَلَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } { إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ } لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ { وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا } لِقَوْلِهِ " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاَ " . كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “۔ ( التحریم: ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی ہے، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے۔
۳۴
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيِّ بْنِ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَالَ فِيهِ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَسَاقَ قِصَّتَهُ وَقَالَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ . فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا قَالَ لاَ بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلاَ تَقْرَبْهَا . فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الأَمْرِ .
۳۵
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۳
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، - قَالَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - يُحَدِّثُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِلَى صَاحِبَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ . فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلْ تَعْتَزِلُهَا فَلاَ تَقْرَبْهَا . فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي فِيهِمْ فَلَحِقَتْ بِهِمْ .
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے ( اور وہ ان تینوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی ہے ۱؎، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں ۲؎ کے پاس ( ایک شخص کو ) بھیجا ( اس نے کہا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیویوں سے الگ رہو، میں نے قاصد سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو بلکہ اس سے الگ تھلگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہیں کے ساتھ رہو، تو وہ ان کے پاس جا کر رہنے لگی۔
۳۶
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۴
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ كَعْبًا، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَالَ فِيهِ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْتِينِي وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ . فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ بَلِ اعْتَزِلْهَا وَلاَ تَقْرَبْهَا . وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَىَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ وَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الأَمْرِ . خَالَفَهُمْ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ کو اپنا اس وقت کا قصہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک میں جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے اور شریک نہ ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے ذکر کرنے کے دوران انہوں نے بتایا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی کو چھوڑ دو، میں نے ( اس سے ) کہا: میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: ( طلاق نہ دو ) بلکہ اس سے الگ رہو اس کے قریب نہ جاؤ۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ایسا ہی پیغام دے کر بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ رہو اور اس وقت تک رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں اپنا فیصلہ نہ سنا دے۔ معقل بن عبیداللہ نے ان سب کے خلاف ذکر کیا ہے ( تفصیل آگے حدیث میں آ رہی ہے ) ۔
۳۷
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبًا، يُحَدِّثُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِلَى صَاحِبَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لاَ بَلْ تَعْتَزِلُهَا وَلاَ تَقْرَبْهَا . فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي فِيهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . فَلَحِقَتْ بِهِمْ . خَالَفَهُ مَعْمَرٌ .
عبیداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ( پیچھے رہ جانے والے ) ساتھیوں کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہو جاؤ، میں نے پیغام لانے والے سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو، بلکہ اس سے الگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ، ( یہ سن کر ) میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور جب تک اللہ عزوجل فیصلہ نہ کر دے انہیں لوگوں میں رہو، تو بیوی انہیں لوگوں کے پاس جا کر رہنے لگی۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) معمر نے معقل کے خلاف ذکر کیا ہے ۱؎۔
۳۸
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۶
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ - عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَتَانِي فَقَالَ اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ . فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا قَالَ لاَ وَلَكِنْ لاَ تَقْرَبْهَا . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْحَقِي بِأَهْلِكِ .
عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا: اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہو جاؤ، میں نے اس سے کہا: میں اسے طلاق دے دوں، اس نے کہا نہیں، طلاق نہ دو، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس حدیث میں انہوں نے «الحقی باھلک» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
۳۹
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۷
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ، مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَامْرَأَتِي، مَمْلُوكَيْنِ فَطَلَّقْتُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ أُعْتِقْنَا جَمِيعًا فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنْ رَاجَعْتَهَا كَانَتْ عِنْدَكَ عَلَى وَاحِدَةٍ قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . خَالَفَهُ مَعْمَرٌ .
ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کر دیے گئے۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر تم اس سے رجوع کر لو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا، یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔
۴۰
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۸
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، عَنِ الْحَسَنِ، مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ، امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا أَيَتَزَوَّجُهَا قَالَ نَعَمْ . قَالَ عَمَّنْ قَالَ أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ الْحَسَنُ هَذَا مَنْ هُوَ لَقَدْ حَمَلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً .
بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کر دیے گئے، پوچھا گیا: کیا وہ اس سے شادی کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ( کر سکتا ہے ) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا: یہ حسن کون ہیں؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ۱؎۔
۴۱
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۲۹
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبْنَاءُ، قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مُحْتَلِمًا أَوْ لَمْ تَنْبُتْ عَانَتُهُ تُرِكَ .
قریظہ رضی الله عنہ کے دونوں بیٹے روایت کرتے ہیں کہ وہ سب ( یعنی بنو قریظہ کے نوجوان ) قریظہ کے ( فیصلے کے ) دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے، تو جسے احتلام ہونے لگا تھا، یا جس کی ناف کے نیچے کے بال اگ آئے تھے اسے ( جوان قرار دے کر ) قتل کر دیا گیا۔ اور جسے ابھی احتلام ہونا شروع نہیں ہوا تھا یا جس کی ناف کے نیچے کے بال نہیں آئے تھے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا گیا ۱؎۔
۴۲
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ كُنْتُ يَوْمَ حُكْمِ سَعْدٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ غُلاَمًا فَشَكُّوا فِيَّ فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَاسْتُبْقِيتُ فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ .
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ جب سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا فیصلہ دیا تو اس وقت میں بچہ تھا، لوگوں کو میرے متعلق شبہ ہوا ( کہ میں فی الواقع بچہ ہوں یا جوان؟ جب انہوں نے تحقیق کی ) تو مجھے زیر ناف کے بالوں والا نہیں پایا اور میں بچ رہا۔ چنانچہ میں آج تمہارے درمیان موجود ہوں۔
۴۳
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۱
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ .
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو جنگ احد کے موقع پر ( جنگ میں شریک ہونے کے لیے ) ۱۴ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں ( جنگ میں شرکت کی ) اجازت نہ دی۔ اور غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ نے اجازت دے دی ( اور مجاہدین میں شامل کر لیا ) ۔
۴۴
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۲
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يَفِيقَ " .
" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاَثٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يَفِيقَ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے“۔
۴۵
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۳
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ
" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي كُلَّ شَىْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ " .
" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي كُلَّ شَىْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ( عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں اور اس پہ عمل نہ کریں“۔
۴۶
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۴
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ بِهِ وَحَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ " .
" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ بِهِ وَحَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہماری امت کے وسوسوں اور جی میں گزرنے والے خیالات سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں“۔
۴۷
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۵
أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ " .
" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کے دل میں جو بات کھٹکتی اور گزرتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں“۔
۴۸
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۶
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَارٌ فَارِسِيٌّ طَيِّبُ الْمَرَقَةِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ وَأَوْمَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عَائِشَةَ أَىْ وَهَذِهِ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ الآخَرُ هَكَذَا بِيَدِهِ أَنْ لاَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، اس نے آپ کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بلایا، آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: ”کیا انہیں بھی لے کر آؤں“، اس نے ہاتھ سے اشارہ سے منع کیا دو یا تین بار کہ نہیں ۱؎۔
۴۹
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۷
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه - وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ يَقُولُ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
" إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ آدمی جیسی نیت کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا، جو اللہ و رسول کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی ( اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کا ثواب ملے گا ) اور جو کوئی دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے دنیا ملے گی، یا عورت حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے عورت ملے گی۔ ہجرت جس قصد و ارادے سے ہو گی اس کا حاصل اس کے اعتبار سے ہو گا“۔
۵۰
سنن نسائی # ۲۷/۳۴۳۸
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ
" انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ إِنَّهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ " .
" انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ إِنَّهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ " .
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا دیکھو تو ( غور کرو ) اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنتوں سے مجھے کس طرح بچا لیتا ہے، وہ لوگ مجھے مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور مذمم کہہ کر مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں“ ۱؎۔