۱۵۰ حدیث
۰۱
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۲۹
علقمہ و الاسود رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ أَصَلَّى هَؤُلاَءِ قُلْنَا نَعَمْ ‏.‏ فَأَمَّهُمَا وَقَامَ بَيْنَهُمَا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَةٍ ‏.‏ قَالَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَفْرِشْ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: ہاں! تو انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے دونوں کی امامت کی، اور ان دونوں کے درمیان میں کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: جب تم تین ہو تو ایسے ہی کرو، اور جب تم اس سے زیادہ ہو تو تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں ۱؎۔
۰۲
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۰
علقمہ و الاسود رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ - عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالاَ صَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي بَيْتِهِ فَقَامَ بَيْنَنَا فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَنَزَعَهَا فَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِنَا وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ ‏.‏
اسود اور علقمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی، وہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا، تو انہوں نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور ہمارے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیں، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
۰۳
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۱
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّلاَةَ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ وَرَكَعَ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا يَعْنِي الإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، تو جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو ملا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیا، اور رکوع کیا، یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: میرے بھائی نے سچ کہا، ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہمیں اس کا یعنی ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔
۰۴
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۲
مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَجَعَلْتُ يَدَىَّ بَيْنَ رُكْبَتَىَّ فَقَالَ لِي اضْرِبْ بِكَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى فَضَرَبَ يَدِي وَقَالَ إِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ هَذَا وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ ‏.‏
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے پہلو میں نماز پڑھی، میں نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھو، پھر میں نے دوسری بار بھی ایسا ہی کیا، تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور کہا: ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے، اور ہاتھوں کو گھٹنوں پہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
۰۵
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۳
مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ رَكَعْتُ فَطَبَّقْتُ فَقَالَ أَبِي إِنَّ هَذَا شَىْءٌ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ ارْتَفَعْنَا إِلَى الرُّكَبِ ‏.‏
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے رکوع کیا، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا، تو میرے والد نے کہا: پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم اسے اٹھا کر گھٹنوں پر رکھنے لگے۔
۰۶
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۴
عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ سُنَّتْ لَكُمُ الرُّكَبُ فَأَمْسِكُوا بِالرُّكَبِ ‏.‏
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہتھیلیوں سے گھٹنوں کو پکڑے رکھنا تمہارے لیے مسنون قرار دیا گیا ہے، لہٰذا تم رکوع میں گھٹنوں کو پکڑے رہو۔
۰۷
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۵
عبدالرحمن السلمی رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ قَالَ عُمَرُ إِنَّمَا السُّنَّةُ الأَخْذُ بِالرُّكَبِ ‏.‏
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سنت تو گھٹنوں کو پکڑنا ہی ہے۔
۰۸
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۶
سلیم رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ أَتَيْنَا أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بِمِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ‏.‏
سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا، اور انگلیوں کو اس سے نیچے، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی، پھر انہوں نے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا، اور کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی۔
۰۹
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۷
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّهَاوِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَلاَ أُصَلِّي لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فَقُلْنَا بَلَى ‏.‏ فَقَامَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا ‏.‏
ابوعبداللہ سالم بن البرد سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے ایسی نماز نہ پڑھوں جیسی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں! ضرور پڑھیئے، تو وہ کھڑے ہوئے، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ، اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں کے نیچے رکھا، اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور کھڑے ہو گئے، پھر سجدہ کیا اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک ان کی ہر چیز اپنی جگہ جم گئی، پھر وہ بیٹھے یہاں تک کہ جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، پھر انہوں نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جسم کا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، چاروں رکعتیں اسی طرح ادا کیں، پھر انہوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ ہمیں اسی طرح پڑھاتے بھی تھے۔
۱۰
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۸
سلیم البراد رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قَالَ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ أَلاَ أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي قُلْنَا بَلَى ‏.‏ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ جَافَى بَيْنَ إِبْطَيْهِ حَتَّى لَمَّا اسْتَقَرَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي ‏.‏
ابوعبداللہ سالم براد کہتے ہیں کہ ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں، ضرور دکھایئے، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں بغلوں سے جدا رکھا، یہاں تک کہ جب ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا، اسی طرح انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں، اور کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
۱۱
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۳۹
ابو حمید السعیدی رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَكَعَ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ‏.‏
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو پیٹھ اور سر کو برابر رکھتے، نہ تو سر کو بہت اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکا کر رکھتے، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھتے۔
۱۲
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۰
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْحَرِيرِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى وَأَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی ۱؎ اور حریر ۲؎ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے روکا ہے، اور اس بات سے بھی کہ میں رکوع کی حالت میں قرآن پڑھوں۔ دوسری بار راوی نے «أن أقرأ وأنا راكع» کے بجائے «أن أقرأ راكعا» کہا۔
۱۳
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۱
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ رَاكِعًا وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
۱۴
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۲
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْمُفَدَّمِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے، انتہائی سرخ کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا ہے۔
۱۵
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۳
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، زُغْبَةُ عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لَبُوسِ الْقِسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی کے بنے ریشمی کپڑے، کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے، اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔
۱۶
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۴
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ریشمی کپڑے، اور کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے، اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے۔
۱۷
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۵
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَشَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - فَقَالَ ‏
"‏ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلاَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ - ثُمَّ قَالَ - أَلاَ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے ، پھر فرمایا: سنو! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے ۔
۱۸
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۶
حذیفہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَكَعَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي سُجُودِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا تو اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہا۔
۱۹
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۷
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَيَزِيدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ‏
"‏ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «‏سبحانك ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي‏» اے ہمارے رب تیری ذات پاک ہے، اور تیری حمد کے ساتھ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے کثرت سے پڑھتے تھے۔
۲۰
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۸
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏
"‏ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» فرشتوں اور جبرائیل امین کا رب ہر نقص و عیب سے پاک اور تمام آلائشوں سے منزہ ہے ، پڑھتے تھے۔
۲۱
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۴۹
عاصم بن حمید رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، - يَعْنِي النَّسَائِيَّ - قَالَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، - يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ - عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، - وَهُوَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ - قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏
"‏ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز کے لیے ) کھڑا ہوا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سورۃ البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے، آپ اپنے رکوع میں «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» میں صاحب قدرت و بادشاہت اور صاحب بزرگی و عظمت کی پاکی بیان کرتا ہوں پڑھ رہے تھے۔
۲۲
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۰
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ ‏
"‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَمُخِّي وَعَصَبِي ‏"‏ ‏.‏
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو «اللہم لك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، اور اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا، اور میں تجھ پر ایمان لایا، میرے کان، میری آنکھیں، میری ہڈیاں، میرے بھیجے اور میرے پٹھوں نے تیرے لیے عاجزی کا اظہار کیا پڑھتے تھے۔
۲۳
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۱
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ ‏
"‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اس میں «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی اپنا سر جھکا دیا، تیرے اوپر ہی ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کر دیا، تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرے کان، میری آنکھ، میرا خون، میرا گوشت، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے نے اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے تھے۔
۲۴
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۲
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَذَكَرَ، آخَرَ قَبْلَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا يَقُولُ إِذَا رَكَعَ ‏
"‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَمُخِّي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‏"‏ ‏.‏
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل پڑھنے کھڑے ہوتے تو جب رکوع میں جاتے تو «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ولحمي ودمي ومخي وعصبي لله رب العالمين» اے اللہ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی، تیرے اوپر ایمان لایا، میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ پر بھروسہ کیا، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری آنکھ، میرا گوشت، میرا خون، میرا دماغ اور میرے پٹھے نے اللہ رب العالمین کے لیے عاجزی کا اظہار کیا ہے پڑھتے۔
۲۵
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۳
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمُقُهُ وَلاَ يَشْعُرُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ أَدْرِي فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذَا أَرَدْتَ الصَّلاَةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ الْوُضُوءَ ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ثُمَّ كَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاَتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلاَتِكَ ‏"‏ ‏.‏
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا، وہ نماز سے فارغ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں اپنی کوشش کر چکا، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو، پھر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کر لو گے، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے ۱؎۔
۲۶
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۴
قتادہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو ۔
۲۷
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۵
علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَأَيْتُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا قَالَ ‏
"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ هَكَذَا وَأَشَارَ قَيْسٌ إِلَى نَحْوِ الأُذُنَيْنِ ‏.‏
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، تو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے، اور جب رکوع کرتے، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے۔ قیس بن سلیم ( راوی حدیث ) نے دونوں کانوں تک اشارہ کر کے دکھایا۔
۲۸
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۶
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکوع کرتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے برابر کر لیتے۔
۲۹
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۷
سلیم رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
۳۰
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۸
عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ أَلاَ أُصَلِّي بِكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلاَّ مَرَّةً وَاحِدَةً ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔
۳۱
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۵۹
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ ‏
"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد»کہتے، اور سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
۳۲
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۰
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ ‏
"‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد» کہتے۔
۳۳
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۱
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ يَعُودُونَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ ‏
"‏ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آپ کے پاس آئے کہ ( اسی دوران ) نماز کا وقت ہو گیا، ( تو آپ نے انہیں نماز پڑھائی ) جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۱؎۔
۳۴
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۲
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ‏.‏ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاَثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلاً ‏"‏ ‏.‏
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده‏» کہا، تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے «ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں جو پاکیزہ و بابرکت ہیں کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابھی ابھی ( نماز میں ) کون بول رہا تھا؟ تو اس شخص نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا ان میں سے ہر ایک سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے کون پہلے لکھے ۔
۳۵
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
۳۶
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۴
حطان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا مُوسَى، قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا فَقَالَ ‏"‏ إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ ‏{‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ ‏}‏ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُو وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ سَلاَمٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ سَلاَمٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ سَبْعَ كَلِمَاتٍ وَهِيَ تَحِيَّةُ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اور ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرے، اور جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا، اور جب وہ اللہ اکبر کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے سر بھی اٹھائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی ، اور جب وہ«سمع اللہ لمن حمده» کہے، تو تم «اللہم ربنا ولك الحمد» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری پکار سن لے گا ؛ کیونکہ اللہ نے اپنے بنی کی زبان سے فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی، تو جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدہ سے سر بھی اٹھائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، جب وہ قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی پہلی دعا یہ ہو:«التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب بندگیاں، پاکیزہ خیراتیں، اور صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے رسول! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں یہ سات کلمے ۱؎ ہیں اور یہ نماز کا سلام ہے ۔
۳۷
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۵
البراء بن عازب رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ رُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ ‏.‏
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۱؎۔
۳۸
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۶
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَالَ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده‏» کہتے، تو «‏اللہم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» اے اللہ! تیری تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔
۳۹
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۷
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ يَقُولُ ‏
"‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو «‏اللہم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» اے ہمارے رب! تیری تعریف ہے، تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے کہتے۔
۴۰
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۸
ابو سعید رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ ‏
"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ خَيْرُ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، تو «ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ، ہمارے رب! تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر، اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے، اے لائق تعریف و لائق مجد و شرف! بہتر ہے جو بندے نے کہا، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں جسے تو دیدے، تیرے مقابلے میں مالداروں کی مالداری کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی کہتے۔
۴۱
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۶۹
حذیفہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي عَبْسٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَهُ حِينَ كَبَّرَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ ذَا الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ ‏"‏ لِرَبِّي الْحَمْدُ لِرَبِّي الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي سُجُودِهِ ‏"‏ سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ‏"‏ رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ قِيَامُهُ وَرُكُوعُهُ ‏.‏ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ ‏.‏
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا:«اللہ أكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة‏» اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے ، اور آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو: «لربي الحمد لربي الحمد»، شکر میرے رب کے لیے، شکر میرے رب کے لیے کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اے میرے رب! میری مغفرت فرما کہتے، اور آپ کا قیام کرنا، رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا، اور آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔
۴۲
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۰
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ۱؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔
۴۳
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۱
It was narrated that Anas bin Malik was asked
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، سُئِلَ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ بَعْدَ الرُّكُوعِ ‏.‏
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ( پڑھی ہے ) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد ۱؎۔
۴۴
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۲
محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ، مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَالَ ‏
"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ‏"‏ ‏.‏ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيْهَةً ‏.‏
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے۔
۴۵
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ ‏
"‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے دعا کی: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور لوگوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان کے اوپر یوسف علیہ السلام ( کی قوم ) جیسا سا قحط مسلط کر دے ۔
۴۶
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلاَةِ حِينَ يَقُولُ ‏"‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ‏"‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَيَسْجُدُ وَضَاحِيَةُ مُضَرَ يَوْمَئِذٍ مُخَالِفُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جس وقت «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے تو دعا کرتے، سجدہ میں جانے سے پہلے کھڑے ہو کر، کہتے: «اللہم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين من المؤمنين اللہم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے، اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے، اور ان پر یوسف سا قحط مسلط کر دے ، پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے، ان دنوں قبیلہ مضر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف تھا۔
۴۷
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۵
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ ‏.‏ وَصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَصَلاَةِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَفَرَةَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قریب تر کر کے دکھاؤں گا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ «سمع اللہ لمن حمده» کہنے کے بعد ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء میں، اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے، تو مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔
۴۸
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۶
البراء بن عازب رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ ‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں «أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ہے۔
۴۹
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۷
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا - قَالَ شُعْبَةُ لَعَنَ رِجَالاً وَقَالَ هِشَامٌ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ - ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ ‏.‏ هَذَا قَوْلُ هِشَامٍ وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلاً وَذَكْوَانَ وَلِحْيَانَ ‏.‏
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی۔ شعبہ کی روایت میں ہے آپ نے چند لوگوں پر لعنت بھیجی، اور ہشام کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے کچھ قبیلوں پر رکوع کے بعد بد دعا فرماتے تھے، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا، یہ قول ہشام کا ہے، اور شعبہ قتادہ سے اور قتادہ انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی، آپ رعل، ذکوان اور لحیان قبائل پر لعنت بھیج رہے تھے۔
۵۰
سنن نسائی # ۱۲/۱۰۷۸
سلیم رضی اللہ عنہ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا ‏"‏ ‏.‏ يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ‏}‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «اللہم العن فلانا وفلانا» اے اللہ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏ليس لك من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون‏» اے محمد! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں ( آل عمران: ۱۲۸ ) ۔