۸ حدیث
۰۱
صحیح بخاری # ۷۱/۵۴۶۷
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وُلِدَ لِي غُلاَمٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ وَدَفَعَهُ إِلَىَّ، وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى‏.‏
مجھ سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو اپنے دندان مبارک سے نرم کر کے اسے چٹایا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر مجھے دے دیا۔ یہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔
۰۲
صحیح بخاری # ۷۱/۵۴۶۸
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ يُحَنِّكُهُ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نو مولود بچہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک کر دیں اس بچہ نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر پانی بہا دیا۔
۰۳
صحیح بخاری # ۷۱/۵۴۶۹
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ قُبَاءً فَوَلَدْتُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ، ثُمَّ دَعَا لَهُ فَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا، لأَنَّهُمْ قِيلَ لَهُمْ إِنَّ الْيَهُودَ قَدْ سَحَرَتْكُمْ فَلاَ يُولَدُ لَكُمْ‏.‏
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما مکہ میں ان کے پیٹ میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں ( جب ہجرت کے لیے ) نکلی تو وقت ولادت قریب تھا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے پہلی منزل قباء میں کی اور یہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہو گئے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچہ کو لے کر حاضر ہوئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور طلب فرمائی اور اسے چبایا اور بچہ کے منہ میں اپنا تھوک ڈال دیا۔ چنانچہ پہلی چیز جو اس بچہ کے پیٹ میں گئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک مبارک تھا پھر آپ نے کھجور سے تحنیک کی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہ سب سے پہلا بچہ اسلام میں ( ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ) پیدا ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے بہت خوش ہوئے کیونکہ یہ افواہ پھیلائی جا رہی تھی کہ یہودیوں نے تم ( مسلمانوں ) پر جادو کر دیا ہے۔ اس لیے تمہارے یہاں اب کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا۔
۰۴
صحیح بخاری # ۷۱/۵۴۷۰
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُبِضَ الصَّبِيُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ مَا فَعَلَ ابْنِي قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ‏.‏ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ وَارِ الصَّبِيَّ‏.‏ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا ‏"‏‏.‏ فَوَلَدَتْ غُلاَمًا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْفَظْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْسَلَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَمَعَهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا نَعَمْ تَمَرَاتٌ‏.‏ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ، وَحَنَّكَهُ بِهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ‏.‏
ابوطلحہ کا ایک بچہ تھا جو بیمار تھا۔ ایک بار جب ابو طلحہ باہر تھے۔ بچہ مر گیا. جب ابو طلحہ گھر واپس آئے تو پوچھا کہ بیٹا کیسا ہے؟ کرایہ؟" ام سلیم (ان کی بیوی) نے جواب دیا، "وہ پہلے سے زیادہ خاموش ہے۔ پھر وہ اس کے لیے رات کا کھانا لائی اور اس نے اس کا کھانا کھایا اور اس کے ساتھ سو گیا. جب وہ فارغ ہو گیا تو اس نے (اس سے) کہا: "اسے دفن کر دو بچہ (جیسا کہ وہ مر گیا ہے) اگلی صبح ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اور اسے اس کے بارے میں بتایا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سو گئے؟ کل رات اپنی بیوی کے ساتھ؟‘‘ ابوطلحہ نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ "اے اللہ! اس رات کے حوالے سے ان پر اپنی رحمت نازل فرما ام سلیم نے ایک لڑکے کو جنم دیا، ابو طلحہ نے مجھ سے کہا کہ اپنا خیال رکھو بچے کی یہاں تک کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا۔ پھر ابو طلحہ نے لے لیا۔ بچے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ کچھ کھجوریں بھیجیں۔ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو (اپنی گود میں) لیا اور پوچھا کہ کیا وہاں ہے؟ اس کے ساتھ کچھ. لوگوں نے جواب دیا کہ ہاں چند کھجوریں ہیں۔ دی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لی، چبای، اس میں سے کچھ منہ سے نکال کر ڈالا۔ اسے بچے کے منہ میں ڈالا اور اس کے ساتھ اس کے لیے تہنک کیا، اور نام رکھا اسے عبداللہ
۰۵
صحیح بخاری # ۷۱/۵۴۷۱
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَةٌ‏.‏ وَقَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وَقَتَادَةُ وَهِشَامٌ وَحَبِيبٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ (صحابی) نے بیان کیا کہ بچہ کا عقیقہ کرنا چاہیئے۔ اور حجاج بن منہال نے کہا۔ ان سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ایوب سختیانی، قتادہ، ہشام بن حسان اور حبیب بن شہید ان چاروں نے خبر دی، انہیں محمد بن سیرین نے اور انہیں سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور کئی لوگوں نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان اور ہشام بن حسان نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے، ان سے رباب بنت صلیع نے، ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے مرفوعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس کی روایت یزید بن ابراہیم تستری نے کی، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنا قول موقوفاً ( غیر مرفوع ) ذکر کیا۔
۰۶
صحیح بخاری # ۷۱/۵۴۷۲
سلمان بن عامر الدبی رضی اللہ عنہ
وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَاصِمٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ قَوْلَهُ‏.‏ وَقَالَ أَصْبَغُ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ حَدَّثَنَا سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ مَعَ الْغُلاَمِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى ‏"‏‏.‏
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ أَمَرَنِي ابْنُ سِيرِينَ أَنْ أَسْأَلَ الْحَسَنَ، مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ‏.‏
اور اصبغ بن فرج نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں جریر بن حازم نے، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے کہ ہم سے سلمان بن عامر الضبی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکے کے ساتھ اس کا عقیقہ لگا ہوا ہے اس لیے اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے بال دور کرو ( سر منڈا دو یا ختنہ کرو ) ۔
۰۷
صحیح بخاری # ۷۱/۵۴۷۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ‏"‏‏.‏ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لَطِوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ‏.‏
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں ابن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اسلام میں ) «فرع» اور «عتيرة» نہیں ہیں۔ «فرع» ( اونٹنی کے ) سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جسے ( جاہلیت میں ) لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» کو رجب میں ذبح کیا جاتا تھا۔
۰۸
صحیح بخاری # ۷۱/۵۴۷۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَالْفَرَعَ أَوَّلُ نِتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ، كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ، وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «فرع» اور «عتيرة» ( اسلام میں ) نہیں ہیں۔ بیان کیا کہ «فرع» سب سے پہلے بچہ کو کہتے تھے جو ان کے یہاں ( اونٹنی سے ) پیدا ہوتا تھا، اسے وہ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور «عتيرة» وہ قربانی جسے وہ رجب میں کرتے تھے ( اور اس کی کھال درخت پر ڈال دیتے ) ۔