شکار اور ذبیحہ
ابواب پر واپس
۰۱
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۶۴
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي جُنْدَبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ شَهِدْتُ الأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَعْدُ أَنْ صَلَّى وَفَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ سَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَرَى لَحْمَ أَضَاحِيَّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلاَتِهِ فَقَالَ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ - أَوْ نُصَلِّيَ - فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ " .
ابوخثیمہ زہیر ( بن معاویہ ) نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت جندب بن سفیان ( بجلی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحیٰ منائی ، آپ نے نماز پڑھی اور آپ اس ( نماز کے بعدخطبہ ، دعا وغیرہ ) سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ آپ نے قربانی کے جانوروں کاگوشت دیکھا جو نماز پڑھے جانے سے پہلے ذبح کردیے گئے تھے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : : جس شخص نے نماز پڑھنے سے ۔ یا ( فرمایا : ) ہمارے نماز پڑھنے سے ۔ پہلے اپناقربانی کا جانور ذبح کرلیا وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے ۔
۰۲
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۶۵
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ الأَسْوَدِ، بْنِ قَيْسٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ شَهِدْتُ الأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ بِالنَّاسِ نَظَرَ إِلَى غَنَمٍ قَدْ ذُبِحَتْ فَقَالَ " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ " .
ابو احوص سلام بن سلیم نے اسود بن قیس سے ، انھوں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی میں شریک ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کچھ بھی نہ کیا تھا سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عید کی ) نماز پڑھائی ۔ نماز سے فارغ ہوئے ، سلام پھیرا کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بکری دیکھی کہ وہ نماز سے پہلے ذبح کی جا چکی ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قربانی نمازعید سے پہلے کر لی تو اس قربانی کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے قربانی نہیں کی تو وہ اللہ کے نام کے ساتھ قربانی ذبح کر دے ۔
۰۳
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۶۶
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ، أَبِي عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ عَلَى اسْمِ اللَّهِ . كَحَدِيثِ أَبِي الأَحْوَصِ .
ابو عوانہ اور ابن عینیہ نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا؛ " اللہ کے نام پر ( ذبح کرے ) " جس طرح ابو احوص کی حدیث ہے ۔
۰۴
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۶۷
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ، سَمِعَ جُنْدَبًا الْبَجَلِيَّ، قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمَ أَضْحًى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ " .
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسود بن قیس سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے جندب بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عید الاضحیٰ کے دن دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، پھر خطبہ د یا اور فرمایا : " جس نے نماز پڑھنے سے پہلے ( اپنی قربانی کا جانور ) ذبح کردیا تھا ، وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے ۔
۰۵
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۶۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
۰۶
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۶۹
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ فَقَالَ " ضَحِّ بِهَا وَلاَ تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ " . ثُمَّ قَالَ " مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ " .
مطرف نے عامر ( شعبی ) سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میرے ماموں حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کردی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ گوشت کی ایک ( عام ) بکری ہے ( قربانی کی نہیں ۔ ) " انھوں ( حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس کی قربانی کردو اور یہ تمہارے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے ( کھانے کے ) لئے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قر بانی مکمل ہوگئی اوراس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا ہے ۔
۰۷
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ، ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعِدْ نُسُكًا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ . فَقَالَ " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلاَ تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
ہشیم نے داود سے ، انھوں نے ( عامر ) شعبی سے ، انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ان کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کردیا اور کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتاہے ۔ ( اور اس کی چاہت باقی نہیں ر ہتی ) اور میں نے اپنے بچوں ، ہمسایوں اور گھروالوں ( کو کھلانے ) کےلیے قربانی کا جانور جلدی ذبح کردیاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی اور ( جانور ) ذبح کرو ۔ " انھوں نےکہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی ( کھیری ) بکری ہے ۔ وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ تمہاری بہترین قربانی ہے ( تم اسی کی قربانی کرلو ) اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے بھی ایک سالہ بکری کی قربانی کافی نہیں ہوگی ۔
۰۸
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ " لاَ يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ فَقَالَ خَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ .
ابن ابی عدی داؤد سے ، انھوں نے ( عامر ) شعبی سے اور انھوں نے حضرت ابراء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص بھی نماسز سے پہلے ہر گز ( قربانی کا جا نور ) ذبح نہ کرے ۔ " تو میرے ماموں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جا تا ہے ۔ پھر ہشیم کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
۰۹
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۲
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَوَجَّهَ قِبْلَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَلاَ يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ " . فَقَالَ خَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي . فَقَالَ " ذَاكَ شَىْءٌ عَجَّلْتَهُ لأَهْلِكَ " . فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي شَاةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ قَالَ " ضَحِّ بِهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَةٍ " .
(فراس نے عامر سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہماری قربانی کرے ، وہ نماز پڑھنے سے پہلے ذبح نہ کرے ۔ " میرے ماموں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ایک بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں ۔ آپ نے فر ما یا : " یہ وہ ذبیحہ ) ہے جسے تم نے اپنے گھر والوں ( کو کھلا نے ) کے لیے جلد ذبح کر لیا ۔ " انھوں نے کہا : میرے پاس ایک بکری ہے جو بکریوں سے بہتر ہے آپ نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کر دو وہ بہترین قربانی ہے ۔
۱۰
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۳
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ " . وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ فَقَالَ عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ فَقَالَ " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے زبید یا می سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آج کے دن ہم جس کا م سے آغاز کریں گے ( وہ یہ ہے ) کہ ہم نماز پڑھیں گے ، پھر لوٹیں گے ، اور قربانی کریں گے ۔ جس نے ایسا کیا ، اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے ( پہلے ) ذبح کر لیا تو وہ گو شت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو پیش کیا ہے ۔ وہ کسی طرح بھی قربانی نہیں ہے ۔ " حضرت ابو بردہ بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( اس سے پہلے ) ذبح کر چکے تھے انھوں نے کہا : میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دودانتی بکری دودانتا بکرے سے بہتر ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم اس کو ذبح کردو ، اور تمھا رے بعد یہ کسی کی طرف سے کا فی نہ ہو گی ۔
۱۱
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۴
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے زبید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے حضرت براءعازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
۱۲
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۵
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
منصور نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن کے بعد ہمیں خطبہ دیا ، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
۱۳
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۶
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، بْنُ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ " لاَ يُضَحِّيَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ رَجُلٌ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ قَالَ " فَضَحِّ بِهَا وَلاَ تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
عاصم احول نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے ۔ " ایک شخص نے کہا : میرے پاس ایک سالہ دودھ پینے والی ( کھیری ) بکری ہے جو گوشت والی دوبکریوں سے بہترہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کردو ، تمھا رے بعد ایک سالہ بکری کسی کے لیے کا فی نہ ہو گی ۔
۱۴
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَبْدِلْهَا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدِي إِلاَّ جَذَعَةٌ - قَالَ شُعْبَةُ وَأَظُنُّهُ قَالَ - وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
محمد بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نما ز سے پہلے قربانی کا جا نورذبح کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو ۔ انھوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک سالہ بکری ہے ۔ شعبہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں نے کہا : ۔ ۔ ۔ اور وہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے اس کی جگہ ( ذبح ) کرلو لیکن یہ تمھارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی ۔
۱۵
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۸
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ فِي قَوْلِهِ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ .
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ فِي قَوْلِهِ : هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ وہب بن جریر اور ابو عامر عقدی نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرما ن "" یہ دودانتی بکری سے بہتر ہے "" کے بارے میں کسی شک کا ظہار نہیں کیا ۔
۱۶
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۷۹
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ . وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ أَفَأَذْبَحُهَا قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَقَالَ لاَ أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ قَالَ وَانْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا . أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا .
اسماعیل بن ابرا ہیم ( ابن علیہ ) نے ایوب سے ، انھوں نے محمد ( بن سیرین ) سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فر ما یا : " جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے وہ پھر اسے کرے ۔ " تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایسا دن ہے کہ اس میں گوشت کی خواہش ہو تی ہے ۔ اس نے اپنے ہمسایوں کی ضرورت مندی کا بھی ذکر کیا ۔ ( ایسا لگا ) جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصدیق کی ہو ۔ اس نے ( مزید ) کہا : اور میرے پاس ایک سالہ بکری ہے وہ مجھے گو شت والی دوبکریوں سے زیادہ پسند ہے کیا میں اسے ذبح کردوں ؟کہا : آپ نے اسے اس کی اجازت دے دی ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں کہ آپ کی دی ہو ئی رخصت اس ( شخص ) کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں ؟پھر ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کا رخ کیا اور ان کو ذبحفر ما یا ۔ لوگ کھڑے ہو کر بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ کی طرف متوجہ ہو ئے اور اس کو آپس میں تقسیم کرلیا ۔ ۔ ۔ یا کہا : اس کے حصے کر لیے ۔ ۔ ۔ ۔
۱۷
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ أَنْ يُعِيدَ ذِبْحًا ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ .
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ایوب اور ہشام نے محمد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا ئی پھر خطبہ دیا ، پھر آپ نے حکم دیا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کی ہے وہ دوبارہ کرے ، اس کے بعد ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
۱۸
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۱
وَحَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ وَرْدَانَ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أَضْحًى - قَالَ - فَوَجَدَ رِيحَ لَحْمٍ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَذْبَحُوا قَالَ " مَنْ كَانَ ضَحَّى فَلْيُعِدْ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .
حاتم بن وردان نے کہا : ہمیں ایو ب نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی بو محسوس ہو ئی تو آپ نے ان کو ذبح کرنے سے منع کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے ( نماز سے پہلے ) ذبح لیا ہے وہ دوبارہ ( قربانی ) کرے ۔ " پھر ( حاتم نے ) ان دونوں ( ابن علیہ اور حمادبن زید ) کی حدیثٖ کے مانند بیان کیا ۔
۱۹
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّةً إِلاَّ أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : صرف مسنہ ( دودانتا ) جا نور کی قربانی کرو ہاں ! اگر تم کو دشوار ہو تو ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کر دو ۔
۲۰
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۳
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَحَرَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ وَلاَ يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن مدینہ میں نما ز پڑھا ئی کچھ لوگوں نے جلدی کی اور قربانی کر لی ۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کر لی ہو ئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے آپ ( کے نماز اور خطبے سے فارغ ہو نے ) سے پہلے قربانی کر لی وہ ایک اور قربانی کریں ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کو ئی شخص قربانی نہ کرے ۔
۲۱
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۴
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " . قَالَ قُتَيْبَةُ عَلَى صَحَابَتِهِ .
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے انھوں نے ابو خیر سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کچھ بکریاں عطا کیں کہ وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیں ۔ آخر میں بکری کا ایک سالہ بچہ رہ گیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرما یا : " اس کی قربانی تم کر لو ۔ قتیبہ نے ( اصحابه کے بجا ئے ) علي صحابته آپ کے صحابہ میں ( تقسیم کردیں ۔ ) " کے الفاظ کہے ۔
۲۲
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِينَا ضَحَايَا فَأَصَابَنِي جَذَعٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَصَابَنِي جَذَعٌ . فَقَالَ " ضَحِّ بِهِ " .
ہشام دستوائی یحییٰ بن ابی کیثر سے انھوں نے بعجہ جہنی سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قربانی کے کچھ جا نور بانٹے تو مجھے ایک سالہ بھیڑ یا بکری ملی ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے حصے میں ایک سالہ بھیڑ یا بکری آئی ہے آپ نے فرما یا : " اسی کی قربانی کردو ۔
۲۳
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۶
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ - أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسَمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ . بِمِثْلِ مَعْنَاهُ .
معاویہ بن سلام نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، کہا مجھے بعجہ بن عبد اللہ نے بتا یا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جا نور تقسیم کیے ۔ اسی ( سابقہ ) حدیث کے ہم معنی ۔
۲۴
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا .
ابو عوانہ نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ آپ نے انھیں اپنے ہا تھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی ۔ آپ نے ( قربانی کے وقت انھیں لٹا کر ) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔
۲۵
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ قَالَ وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا قَالَ وَسَمَّى وَكَبَّرَ .
وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی ۔ کہا : میں نے دیکھا کہ آپ انھیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے تھے ۔ اور میں نے دیکھا آپ نے ان کے رخسار پر قدم رکھا ہوا تھا ( اور ) کہا : آپ نے اللہ کا نام لیا ( بسم اللہ پڑھی ) اور تکبیر کہی ۔
۲۶
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۸۹
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ . قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَمْ .
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی : کہا : مجھے قتادہ نے بتا یا کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی دی اس ( پچھلی حدیث ) کے مانند ۔ ( شعبہ نے ) کہا : میں نے قتادہ سے پو چھا : کیا آپ نے ( خود ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا ؟ کہا : ہاں ۔
۲۷
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَيَقُولُ " بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ " .
سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے مانند روایت کی مگر انھوں نے یہ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ واللہ اکبرکہہ رہے تھے ۔
۲۸
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۱
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ قَالَ حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ فَقَالَ لَهَا " يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ " . ثُمَّ قَالَ " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ " . فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ " بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " . ثُمَّ ضَحَّى بِهِ .
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو ، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو ( یعنی پاؤں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں ) ۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لئے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا ۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لے ۔ میں نے تیز کر دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی ، مینڈھے کو پکڑا ، اس کو لٹایا ، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ ، اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کی طرف سے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر ، پھر اس کی قربانی کی ۔
۲۹
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى قَالَ صلى الله عليه وسلم " أَعْجِلْ أَوْ أَرْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " . قَالَ وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِهَذِهِ الإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَىْءٌ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا " .
یحییٰ بن سعید نے سفیان ( بن سعید ) سے رویت کی ، کہا مجھے میرے والد ( سعید بن مسروق ) نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کل دشمن سے لڑنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلدی کر یا ہوشیاری کر جو خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا جائے اس کو کھا لے ، سوا دانت اور ناخن کے ۔ اور میں تجھ سے کہوں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں ۔ راوی نے کہا کہ ہمیں مال غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں ، پھر ان میں سے ایک اونٹ بگڑ گیا ، ایک شخص نے اس کو تیر سے مارا تو وہ ٹھہر گیا ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان اونٹوں میں بھی بعض بگڑ جاتے ہیں اور بھاگ نکلتے ہیں جیسے جنگلی جانور بھاگتے ہیں ۔ پھر جب کوئی جانور ایسا ہو جائے تو اس کے ساتھ یہی کرو ۔ ( یعنی دور سے تیر سے نشانہ کرو ) ۔
۳۰
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۳
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلاً فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ . وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ .
وکیع نے کہا : ہمیں سفیان بن سعید بن مسروق نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے ، انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : ہم تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ۔ تو ہمیں ( غنیمت میں ) بکریاں اور اونٹ حاصل ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کی اور ( ان میں سے کچھ جانوروں کو ذبح کیا ، ان کا گوشت کاٹا اور ) ہانڈیاں چڑھادیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حکم دیا اور ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا ۔ پھر آپ نے ( سب کے حصے تقسیم کرنے کے لیے ) دس بکریوں کو ایک اونٹ کے مساوی قرار دیا ۔ اس کے بعد یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
۳۱
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۴
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعٍ ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى فَنُذَكِّي بِاللِّيطِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَصْنَاهُ .
۔ اسماعیل بن مسلم اور عمربن سعید نے سعید بن مسروق سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے ، انھوں نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ، کیا ہم بانس کے چھلکے ( یا تیز دھار کھپچی ) سے ذبح کر سکتے ہیں ؟اور سارے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور کہا : ایک اونٹ ہم سے بدک کر بھا گ نکلا تو ہم نے اس پر تیر چلا ئے یہاں تک کہ اس کو گرا لیا ۔
۳۲
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۵
وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ الْحَدِيثَ إِلَى آخِرِهِ بِتَمَامِهِ وَقَالَ فِيهِ وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ
زائدہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پوری بیان کی اور اس میں کہا ( ہم نے عرض کی : ) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں ( کی کچھیوں ) سے جانور ذبح کرلیں ۔
۳۳
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۶
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لاَقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ وَذَكَرَ سَائِرَ الْقِصَّةِ .
زائد ہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پو ری بیان کی اور اس میں کہا : ( ہم نے عرض کی ، ) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں ( کی کھپچیوں ) سے جا نور ذبح کر لیں ۔ شعبہ نے سعید بن مسروق سے انھوں نے عبایہ رفاعہ بن را فع سے انھوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا ( ہم نے عرض کی : ) اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کل ہم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں پھر حدیث بیان کی ، البتہ اس میں یہ نہیں کہا : " لوگوں نے جلدبازی کی اور ان کے گو شت سے ہانڈیا ں ابالنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں الٹ دیا گیا ۔ اور انھوں نے باقی سارا قصہ بیان کیا ۔
۳۴
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۷
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْ لُحُومِ نُسُكِنَا بَعْدَ ثَلاَثٍ .
سفیان نے کہا : ہمیں زہری نے ابو عبید سے روایت کی کہا : میں عید کے مو قع پر حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ انھوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھا ئی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمے اس بات سے منع فر مایا تھا کہ ہم تین دن ( گزرجانے ) کے بعد اپنی قربانیوں کا گوشت کھا ئیں ۔
۳۵
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۸
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ - فَصَلَّى لَنَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ فَلاَ تَأْكُلُوا .
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابن ازہر کے مو لیٰ ابو عبید نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ عید پڑھی کہا : اس کے بعد میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبے سے پہلے ہمیں نماز پڑھائی پھر لو گوں کو خطبہ دیا اور فر ما یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو تین راتوں سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھانے سے منع فر ما یا ہے اس لیے ( تین راتوں کے بعد یہ گو شت ) نہ کھا ؤ ۔ ان تین دنوں میں کھا کر اور تقسیم کر کے ختم کر دو ۔
۳۶
صحیح مسلم # ۳۵/۵۰۹۹
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
ابن شہاب کے بھتیجے صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
۳۷
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۰
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَأْكُلْ أَحَدٌ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ " .
لیث نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص اپنی قربانی کے گو شت میں سے تین دن کے بعد ( کچھ ) نہ کھائے ۔
۳۸
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۱
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ، بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
ابن جریج اور ضحاک بن عثمان دونوں نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
۳۹
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۲
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الأَضَاحِي بَعْدَ ثَلاَثٍ . قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَأْكُلُ لُحُومَ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ . وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ بَعْدَ ثَلاَثٍ .
ابن ابی عمر اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : عبد الرزاق نے کہا : معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انھوں نے سالم سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس بات سے ) منع کیا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھا یا جا ئے ۔ سالم نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین دن سے اوپر قربانی کا گوشت نہیں کھا تے تھے اور ابن ابی عمر نے ( تین دن سے اوپر کے بجائے ) " تین کے بعد " کے الفا ظ کہے ۔
۴۰
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثٍ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ فَقَالَتْ صَدَقَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حِضْرَةَ الأَضْحَى زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ادَّخِرُوا ثَلاَثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ " . فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَ الأَسْقِيَةَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَحْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَمَا ذَاكَ " . قَالُوا نَهَيْتَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثٍ . فَقَالَ " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا " .
عبد اللہ بن ابی بکر نے حضرت عبد اللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ( دن رات ) کے بعد قربانیوں کے گو شت کھا نے سے منع فر ما یا ۔ عبد اللہ بن ابی بکر نے کہا : میں نے یہ بات عمرہ ( بنت عبد الرحمان بن سعد انصار یہ ) کو بتا ئی عمرہ نے کہا : انھوں نے سچ کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے ( بھوک اور کمزوری کے سبب ) آہستہ آہستہ چلتے ہو ئے جہاں لو گ قربانیوں کے لیے مو جو د تھے ( قربان گا ہ میں ) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تین دن تک کے لیے گو شت رکھ لو ۔ جو باقی بچے ( سب کا سب ) صدقہ کر دو ۔ " دوبارہ جب اس ( قربانی ) کا مو قع آیا تو لو گوں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !لو گ تو اپنی قربانی ( کی کھا لوں ) سے مشکیں بنا تے ہی اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا مطلب ؟ " انھوں نے کہا : یہ ( صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ ) آپ نے منع فرما یا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت ( وغیرہ استعمال نہ کیا جا ئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں نے تو تمھیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آپا ئے تھے ۔ اب ( قربانی کا گو شت ) کھا ؤ رکھو اور صدقہ کرو ۔
۴۱
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلاَثٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا " .
۔ ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھا نے سے منع فر ما یا تھا پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فر ما یا : " کھا ؤ اور زاددراہ بنا ؤ اور رکھو ۔
۴۲
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ، عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا لاَ نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلاَثِ مِنًى فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا " . قُلْتُ لِعَطَاءٍ قَالَ جَابِرٌ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ .
۔ ابن جریج نے کہا : ہمیں عطاء نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ( پہلے ) ہم منیٰ کے تین دنوں سے زیادہ اپنے اونٹوں کی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا : "" کھاؤ اور ساتھ لے جاؤ ۔ ( اور صدقہ کرو جس طرح دوسری احادیث میں ہے ۔ ) "" میں نے عطاء سے کہا : حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ ( مدینہ تک پہنچنے کے آٹھ دنوں تک بطور زاد راہ استعمال کرتے رہے؟ ) انھوں نے کہا : ہاں ۔
۴۳
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۶
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا لاَ نُمْسِكُ لُحُومَ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَتَزَوَّدَ مِنْهَا وَنَأْكُلَ مِنْهَا . يَعْنِي فَوْقَ ثَلاَثٍ .
زید بن ابی انیسہ نے عطاء بن ابی رباح سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہیں رکھتے تھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس میں سے زادراہ بنائیں اور اس سے کھائیں ، یعنی تین سے زیادہ ( دنوں تک)
۴۴
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۷
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُهَا إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
عمرو ( بن دینار ) نے عطاء سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قربانیوں کا گوشت زاد راہ کے طور پر مدینہ تک ساتھ لے جاتے تھے ۔
۴۵
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي، نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لاَ تَأْكُلُوا لُحُومَ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ " . وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ . فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ لَهُمْ عِيَالاً وَحَشَمًا وَخَدَمًا فَقَالَ " كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا أَوِ ادَّخِرُوا " . قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى شَكَّ عَبْدُ الأَعْلَى .
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ نے جریری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی ، ہمیں سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا : "" مدینہ والو!قربانیوں کا گوشت تین ( دنوں ۔ راتوں ) سے زیادہ نہ کھاتے رہو ۔ "" ابن مثنیٰ نے ( صراحت سے ) "" تین دن ( سے زیادہ ) "" کہا ۔ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی کہ ہمارے بال بچے اور نوکر چاکر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "" کھاؤ اور کھلاؤ اور روک کر رکھو یا ( فرمایا : ) ذخیرہ کرو ۔ "" ابن مثنیٰ نے کہا : عبدالاعلیٰ کو ( ان دو لفظوں میں ) شک ہے ( کہ آپ نے "" روک کررکھو "" فرمایا ، یا "" ذخیرہ کرو "" فرمایا)
۴۶
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۰۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْئًا " . فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ أَوَّلَ فَقَالَ " لاَ إِنَّ ذَاكَ عَامٌ كَانَ النَّاسُ فِيهِ بِجَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ " .
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے جو شخص قربانی کرے تو تین دن کے بعد اس کے گھر میں ( اس گوشت میں سے ) کوئی چیز نہ رہے ۔ " جب اگلے سال ( میں عید کادن ) آیاتو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم اسی طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیاتھا؟آپ نے فرمایا : " نہیں ، وہ ایسا سال تھا کہ اس میں لوگ سخت ضرورت مند تھے تو میں نے چاہا کہ ( قربانی کا گوشت ) ان میں پھیل ( کر ہر ایک تک پہنچ ) جائے ۔
۴۷
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۱۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَحِيَّتَهُ ثُمَّ قَالَ " يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ " . فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ .
معن بن عیسیٰ نے کہا : ہمیں معاویہ بن صالح نے ابوزاہریہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جبیر بن نفیر سے ، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے قربانی کے جانوروں میں سے ) قربانی کا ایک جانور ذبح کرکے فرمایا : "" ثوبان! اس کے گوشت کو درست کرلو ( ساتھ لے جانے کے لیے تیار کرلو ۔ ) "" پھرمیں وہ گوشت آپ کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ آپ مدینہ تشریف لے آئے ۔
۴۸
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۱۱
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
زید بن حباب اور عبدالرحمان بن مہدی دونوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ رویت کی ۔
۴۹
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۱۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ " . زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ .
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ہمیں سفیان بن عینیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےاور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہ جانور کا پہلوٹھا بچہ ذبح کرنا ( واجب/جائز ) ہے ، نہ رجب کے شروع میں جانور قربان کرنا درست ہے ۔ "" ابن رافع نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : فرع سے مراد پہلوٹھی کا بچہ تھا ، جب وہ جنم پاتا تو وہ اسے ذبح کرتے تھے ۔
۵۰
صحیح مسلم # ۳۵/۵۱۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلاَّ فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " .
ابن ابی عمر مکی نے کہا : ہمیں سفیان نے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے حدیث سنائی : انھوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث روایت کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب عشرہ ( ذوالحجہ ) شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے ۔ "" سفیان سے کہا گیا کہ بعض راوی اس حدیث کو مرفوعاً ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان نہیں کرتے ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول بتاتے ہیں ) ، انھوں نے کہا : لیکن میں اس کو مرفوعاً بیان کرتا ہوں ۔