قرآن کی قراءات
ابواب پر واپس
۰۱
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ { وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى }
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» اور مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لو۔۔۔ ( سورۃ البقرہ: ۱۲۴ ) ( امر کے صیغہ کے ساتھ بکسر خاء ) پڑھا۔
۰۲
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۰
حَدَّثَنَا مُوسَى، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَجُلاً، قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" يَرْحَمُ اللَّهُ فُلاَنًا كَائِنٌ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أَسْقَطْتُهَا " .
" يَرْحَمُ اللَّهُ فُلاَنًا كَائِنٌ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أَسْقَطْتُهَا " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رات میں قیام کیا اور ( نماز میں ) بلند آواز سے قرآت کی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں پر رحم کرے کتنی آیتیں جنہیں میں بھول چلا تھا ۱؎ اس نے آج رات مجھے یاد دلا دیں ۔
۰۳
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ } فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ فُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَغُلَّ مَفْتُوحَةُ الْيَاءِ .
مقسم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت: «وما كان لنبي أن يغل» نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خیانت کرے۔۔۔ ( سورۃ آل عمران: ۱۶۱ ) ایک سرخ چادر کے متعلق نازل ہوئی جو بدر کے دن گم ہو گئی تھی تو کچھ لوگوں نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ہو تب اللہ تعالیٰ نے: «وما كان لنبي أن يغل» نازل کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يغل» یا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
۰۴
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْهَرَمِ " .
" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْهَرَمِ " .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور بڑھاپے سے۱؎ ۔
۰۵
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ - أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم -
" لاَ تَحْسِبَنَّ " . وَلَمْ يَقُلْ لاَ تَحْسَبَنَّ .
" لاَ تَحْسِبَنَّ " . وَلَمْ يَقُلْ لاَ تَحْسَبَنَّ .
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تحسبن» ( سین کے زیر کے ساتھ ) پڑھا اور «لا تحسبن» ( سین کو زبر کے ساتھ ) نہیں پڑھا۔
۰۶
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَحِقَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلاً فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ { وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا } تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مسلمان ایک شخص سے ملے جو اپنی بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے السلام علیکم کہا پھر بھی مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا اور وہ ریوڑ لے لیا تو یہ آیت کریمہ: «ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا تبتغون عرض الحياة الدنيا» جو شخص تمہیں سلام کہے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان یعنی ان بکریوں کو چاہتے ہو ( سورۃ النساء: ۹۴ ) نازل ہوئی۔
۰۷
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۵
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، - وَهُوَ أَشْبَعُ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ { غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ } وَلَمْ يَقُلْ سَعِيدٌ كَانَ يَقْرَأُ .
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» کے بعد «غير أولي الضرر» پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور نے اپنی روایت میں «كان يقرأ» نہیں کہا ہے ۱؎۔
۰۸
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۶
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ } .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «والعين بالعين» ( رفع کے ساتھ ) پڑھا ۱؎۔
۰۹
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۷
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ { وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ } .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «وكتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين» اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے ( سورۃ المائدہ: ۴۵ ) ( عین کے رفع کے ساتھ ) پڑھا۔
۱۰
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۸
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ { اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ } فَقَالَ { مِنْ ضُعْفٍ } قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَىَّ فَأَخَذَ عَلَىَّ كَمَا أَخَذْتُ عَلَيْكَ .
عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے: «الله الذي خلقكم من ضعف» اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ( سورۃ الروم: ۵۴ ) ( ضاد کے زبر کے ساتھ ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» ( ضاد کے پیش کے ساتھ ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔
۱۱
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۷۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ - عَنْ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم { مِنْ ضُعْفٍ } .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «مِنْ ضُعْفٍ» روایت کی ہے۔
۱۲
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ قَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ { بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ بِالتَّاءِ .
عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا» لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے ( سورۃ یونس: ۵۸ ) پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( تاء کے ساتھ ) ہے۔
۱۳
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَىٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ { بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ } .
ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحواء هو خير مما تجمعون» پڑھا ۱؎۔
۱۴
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۲
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ { إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ } .
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «إنه عمل غير صالح» ( بصیغہ ماضی ) یعنی: اس نے ناسائشہ کام کیا ( سورۃ ہود: ۴۶ ) پڑھتے سنا ہے۔
۱۵
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۳
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ { إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ } فَقَالَتْ قَرَأَهَا { إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ } قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ عَنْ ثَابِتٍ كَمَا قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ .
شہر بن حوشب کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إنه عمل غير صالح» کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اسے «إنه عمل غير صالح» ( فعل ماضی کے ساتھ ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ہارون نحوی اور موسیٰ بن خلف نے ثابت سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے عبدالعزیز نے کہا ہے۔
۱۶
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۴
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَقَالَ " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْ صَبَرَ لَرَأَى مِنْ صَاحِبِهِ الْعَجَبَ وَلَكِنَّهُ قَالَ { إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَىْءٍ بَعْدَهَا فَلاَ تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِي } " . طَوَّلَهَا حَمْزَةُ .
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا فرماتے تو پہلے اپنی ذات سے شروعات کرتے یوں کہتے: اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ پر اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی ( خضر ) کی طرف سے عجیب عجیب چیزیں دیکھتے، لیکن انہوں نے تو کہہ دیا «إن سألتك عن شىء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني» اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا یقیناً آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے ( سورۃ الکہف: ۷۶ ) ۔ حمزہ نے «لدنی» کے نون کو کھینچ کر بتایا کہ آپ یوں پڑھا کرتے۔
۱۷
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَهَا { قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي } وَثَقَّلَهَا .
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قد بلغت من لدني» ( نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ) اور انہوں نے اسے مشدّد پڑھ کے بتایا۔
۱۸
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَقْرَأَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ كَمَا أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ } مُخَفَّفَةً .
مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے «في عين حمئة» دلدل کے چشمہ میں ( سورۃ الکہف: ۸۶ ) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔
۱۹
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو النَّمَرِيَّ - أَخْبَرَنَا هَارُونُ، أَخْبَرَنِي أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَتُضِيءُ الْجَنَّةُ لِوَجْهِهِ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ " . قَالَ وَهَكَذَا جَاءَ الْحَدِيثُ " دُرِّيٌّ " . مَرْفُوعَةُ الدَّالِ لاَ تُهْمَزُ " وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا " .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیین والوں میں سے ایک شخص جنتیوں کو جھانکے گا تو جنت اس کے چہرے کی وجہ سے چمک اٹھے گی گویا وہ موتی سا جھلملاتا ہوا ستارہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اسی طرح «دري» دال کے پیش اور یا کی تشدید کے ساتھ حدیث وارد ہے دال کے زیر اور ہمزہ کے ساتھ نہیں اور آپ نے فرمایا ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی انہیں میں سے ہیں بلکہ وہ دونوں ان سے بھی بہتر ہیں۔
۲۰
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۸
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْغُطَيْفِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا عَنْ سَبَإٍ مَا هُوَ أَرْضٌ أَمِ امْرَأَةٌ فَقَالَ
" لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلاَ امْرَأَةٍ وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ " . قَالَ عُثْمَانُ الْغَطَفَانِيِّ مَكَانَ الْغُطَيْفِيِّ وَقَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ .
" لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلاَ امْرَأَةٍ وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ " . قَالَ عُثْمَانُ الْغَطَفَانِيِّ مَكَانَ الْغُطَيْفِيِّ وَقَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ .
فروہ بن مسیک غطیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے تو ہم میں ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! سبا کے متعلق مجھے بتائیے کہ وہ کیا ہے؟ کسی کا نام ہے یا کوئی عورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہ کوئی سر زمین ہے نہ عورت ہے بلکہ ایک شخص کا نام ہے جس کے دس عرب لڑکے ہوئے جس میں سے چھ نے یمن میں رہائش اختیار کر لی اور چار نے شام میں ۱؎ ۔ عثمان نے غطیفی کے بجائے غطفانی کہا ہے اور «حدثني الحسن بن الحكم النخعي» کے بجائے «حدثنا الحسن بن الحكم النخعي» کہا ہے۔
۲۱
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۸۹
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً - فَذَكَرَ حَدِيثَ الْوَحْىِ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى { حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ } .
اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حدیث ۱؎ روایت کی اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قول«حتى إذا فزع عن قلوبهم» یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے ( سورۃ سبا: ۲۳ ) ۲؎ سے یہی مراد ہے۔
۲۲
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، يَذْكُرُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم { بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ } قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے ( سورۃ الزمر: ۵۹ ) ۱؎ ( واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔
۲۳
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۱
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله تعالى عنها - قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَؤُهَا { فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ } .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» تو عیش و آرام ہے ( سورۃ الواقعہ: ۸۹ ) ۱؎ ( راء کے پیش کے ساتھ ) پڑھتے ہوئے سنا۔
۲۴
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۲
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، - قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ لَمْ أَفْهَمْهُ جَيِّدًا - عَنْ صَفْوَانَ، - قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ ابْنِ يَعْلَى - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ { وَنَادَوْا يَا مَالِكُ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي بِلاَ تَرْخِيمٍ .
یعلیٰ بن امیہ۔ منیہ۔ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر «ونادوا يا مالك» اور پکار پکار کہیں گے اے مالک! ( سورۃ الزخرف: ۷۷ ) پڑھتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی بغیر ترخیم کے۔
۲۵
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۳
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ } .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» ۱؎ پڑھایا ہے۔
۲۶
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۴
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَؤُهَا { فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ } يَعْنِي مُثَقَّلاً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَضْمُومَةَ الْمِيمِ مَفْتُوحَةَ الدَّالِ مَكْسُورَةَ الْكَافِ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ( سورۃ الذاریات: ۵۸ ) ( یعنی دال کو مشدد ) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مُدَّكِّرٍ» میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔
۲۷
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ { يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ }
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «يحسب أن ماله أخلده» ۱؎ پڑھتے دیکھا ہے۔
۲۸
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۶
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَمَّنْ أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { فَيَوْمَئِذٍ لاَ يُعَذَّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ * وَلاَ يُوثَقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَعْضُهُمْ أَدْخَلَ بَيْنَ خَالِدٍ وَأَبِي قِلاَبَةَ رَجُلاً .
ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے روایت کرتے ہیں ( کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے ) «فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد» ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔
۲۹
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَنْبَأَنِي مَنْ، أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مَنْ أَقْرَأَهُ مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم { فَيَوْمَئِذٍ لاَ يُعَذَّبُ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأَ عَاصِمٌ وَالأَعْمَشُ وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ وَأَبُو جَعْفَرٍ يَزِيدُ بْنُ الْقَعْقَاعِ وَشَيْبَةُ بْنُ نَصَّاحٍ وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ وَأَبُو عَمْرِو بْنِ الْعَلاَءِ وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ وَقَتَادَةُ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَمُجَاهِدٌ وَحُمَيْدٌ الأَعْرَجُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ { لاَ يُعَذِّبُ } { وَلاَ يُوثِقُ } إِلاَّ الْحَدِيثَ الْمَرْفُوعَ فَإِنَّهُ { يُعَذَّبُ } بِالْفَتْحِ .
ابوقلابہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» ( مجہول کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ولا يوثق» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» ( ذال کے فتحہ کے ساتھ ) ہے۔
۳۰
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۸
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا ذَكَرَ فِيهِ
" جِبْرِيلَ وَمِيكَالَ " . فَقَرَأَ { جِبْرَائِلَ وَمِيكَائِلَ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ خَلَفٌ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَمْ أَرْفَعِ الْقَلَمَ عَنْ كِتَابَةِ الْحُرُوفِ مَا أَعْيَانِي شَىْءٌ مَا أَعْيَانِي جِبْرَائِلُ وَمِيكَائِلُ .
" جِبْرِيلَ وَمِيكَالَ " . فَقَرَأَ { جِبْرَائِلَ وَمِيكَائِلَ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ خَلَفٌ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَمْ أَرْفَعِ الْقَلَمَ عَنْ كِتَابَةِ الْحُرُوفِ مَا أَعْيَانِي شَىْءٌ مَا أَعْيَانِي جِبْرَائِلُ وَمِيكَائِلُ .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔
۳۱
سنن ابو داؤد # ۳۲/۳۹۹۹
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ ذُكِرَ كَيْفَ قِرَاءَةُ جِبْرَائِلَ وَمِيكَائِلَ عِنْدَ الأَعْمَشِ فَحَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ
" عَنْ يَمِينِهِ جِبْرَائِلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِلُ " .
" عَنْ يَمِينِهِ جِبْرَائِلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِلُ " .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور لیے کھڑا ہے تو فرمایا: اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں ۔
۳۲
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ مَعْمَرٌ وَرُبَّمَا ذَكَرَ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَقْرَءُونَ { مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ } وَأَوَّلُ مَنْ قَرَأَهَا { مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ } مَرْوَانُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ وَالزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ .
عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور عثمان «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے تھے اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
۳۳
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۱
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ - أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا - قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ } يَقْطَعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ الْقِرَاءَةُ الْقَدِيمَةُ { مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ } .
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے ( ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے۔
۳۴
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۲
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ وَالشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَقَالَ " هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ هَذِهِ " . قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنِ حَامِيَةٍ " .
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإنها تغرب في عين حامية » یہ ایک گرم چشمہ میں ڈوبتا ہے ( سورۃ الکہف: ۸۶ ) ۱؎۔
۳۵
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَّ مَوْلًى، لاِبْنِ الأَسْقَعِ - رَجُلَ صِدْقٍ - أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ الأَسْقَعِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَهُمْ فِي صُفَّةِ الْمُهَاجِرِينَ فَسَأَلَهُ إِنْسَانٌ أَىُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " { اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ } " .
واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند ( سورۃ البقرہ: ۲۵۵ ) ہے۔
۳۶
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۴
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَرَأَ { هَيْتَ لَكَ } فَقَالَ شَقِيقٌ إِنَّا نَقْرَؤُهَا { هِئْتُ لَكَ } يَعْنِي فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَىَّ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «هَيْتَ لَكَ» ۱؎ پڑھا تو ابووائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا: ہم تو اسے«هِئْتُ لَكَ» پڑھتے ہیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔
۳۷
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۵
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنَّ أُنَاسًا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ { وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ } فَقَالَ إِنِّي أَقْرَأُ كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَىَّ { وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ } .
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو «وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے «وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ» ۔
۳۸
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ { ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ تُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ } " .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا: «ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم» اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوو اور زبان سے «حطة» کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے ( سورۃ البقرہ: ۵۸ ) ۱؎ ( بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول ) ۔
۳۹
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۷
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
اس سند سے بھی ہشام بن سعد سے اسی کے مثل مروی ہے
۴۰
سنن ابو داؤد # ۳۲/۴۰۰۸
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ نَزَلَ الْوَحْىُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ عَلَيْنَا { سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي مُخَفَّفَةً حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَاتِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ نے ہمیں «سورة أنزلناها وفرضناها» یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کر دی ہے ( سورۃ النور: ۱ ) پڑھ کر سنایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مخفف پڑھا ۱؎یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔