غلام آزاد کرنا
ابواب پر واپس
۴۳ حدیث
۰۱
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۲۶
عمرو ابن شعیب
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عُتْبَةَ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِرْهَمٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکاتب ۱؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت ( آزادی کی قیمت ) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے ۔
۰۲
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۲۷
عمرو ابن شعیب
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلاَّ عَشْرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلاَّ عَشْرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَيْسَ هُوَ عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ قَالُوا هُوَ وَهَمٌ وَلَكِنَّهُ هُوَ شَيْخٌ آخَرُ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے ( ایسا نہیں ہو گا کہ جتنا اس نے ادا کر دیا اتنا وہ آزاد ہو جائے ) اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا ( جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے ) ۔
۰۳
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۲۸
ام سلمہ، ام المومنین رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، مُكَاتَبِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِنْ كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے ( کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے ) ۔
۰۴
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۲۹
عروہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَهُ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ‏"‏ ‏.‏
عروہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء ۱؎ میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہو گی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہو گی جو آزاد کرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مسجد میں خطبہ کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شخص بھی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کی شرط صحیح نہ ہو گی اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے، اللہ ہی کی شرط سچی اور مضبوط شرط ہے ۔
۰۵
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۰
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ لِتَسْتَعِينَ فِي كِتَابَتِهَا فَقَالَتْ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي ‏.‏ فَقَالَتْ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ ‏.‏ فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ الزُّهْرِيِّ زَادَ فِي كَلاَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي آخِرِهِ ‏
"‏ مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ يَا فُلاَنُ وَالْوَلاَءُ لِي إِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا ( کیسی لغو بات ہے ) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
۰۶
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۱
عائشہ (رضی اللہ عنہا)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلاَّحَةً تَأْخُذُهَا الْعَيْنُ - قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها - فَجَاءَتْ تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كِتَابَتِهَا فَلَمَّا قَامَتْ عَلَى الْبَابِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُ مَكَانَهَا وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي رَأَيْتُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ وَإِنَّمَا كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا لاَ يَخْفَى عَلَيْكَ وَإِنِّي وَقَعْتُ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَإِنِّي كَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْأَلُكَ فِي كِتَابَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَهَلْ لَكِ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أُؤَدِّي عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قَدْ فَعَلْتُ قَالَتْ فَتَسَامَعَ - تَعْنِي النَّاسَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ فَأَرْسَلُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنَ السَّبْىِ فَأَعْتَقُوهُمْ وَقَالُوا أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا أُعْتِقَ فِي سَبَبِهَا مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا حُجَّةٌ فِي أَنَّ الْوَلِيَّ هُوَ يُزَوِّجُ نَفْسَهُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ۱؎ ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اور آپ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دیتا ہوں اور تم سے شادی کر لیتا ہوں وہ بولیں: میں کر چکی ( یعنی مجھے یہ بخوشی منظور ہے ) ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کر دیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کر سکتا ہے۔
۰۷
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۲
ام سلمہ، ام المومنین رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ كُنْتُ مَمْلُوكًا لأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا عِشْتَ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَىَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَىَّ ‏.‏
سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔
۰۸
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۳
ابو الملیح رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، - الْمَعْنَى - أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، - قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ - عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلاَمٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏
"‏ لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِتْقَهُ ‏.‏
اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا۔
۰۹
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۴
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ غُلاَمٍ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِتْقَهُ وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کا تاوان دلایا۔
۱۰
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۵
Qatadah narrated with his chain of narrators
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ فَعَلَيْهِ خَلاَصُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ ‏.‏
قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہو گی ۱؎ ، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔
۱۱
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۶
قتادہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ سُوَيْدٍ ‏.‏
قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہو گا اگر اس کے پاس مال ہے ۔ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔
۱۲
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، - يَعْنِي الْعَطَّارَ - حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكِهِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَهُ كُلَّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَإِلاَّ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے ۔
۱۳
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۸
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ - أَوْ شَقِيصًا لَهُ - فِي مَمْلُوكٍ فَخَلاَصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا ‏"‏ فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے ( یہ علی کے الفاظ ہیں ) ۔
۱۴
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۳۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، لَمْ يَذْكُرِ السِّعَايَةَ وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَمَعْنَاهُ وَذَكَرَا فِيهِ السِّعَايَةَ ‏.‏
اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے۔
۱۵
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۰
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ‏"‏ ‏.‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا ۔
۱۶
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۱
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn 'Umar to the same effect through a different chain of narrators. Nafi' sometimes said
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ وَكَانَ نَافِعٌ رُبَّمَا قَالَ ‏
"‏ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ‏"‏ ‏.‏ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهُ ‏.‏
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نافع نے کبھی «فقد عتق منه ما عتق» کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔
۱۷
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۲
The tradition mentioned above has also been narrated by Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ). The narrator Ayyub said
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ أَيُّوبُ فَلاَ أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْ شَىْءٌ قَالَهُ نَافِعٌ وَإِلاَّ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ‏.‏
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے ایوب کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ «وإلا عتق منه ما عتق»نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے۔
۱۸
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۳
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ نَصِيبُهُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لازم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا ( اور باقی شرکاء کو اختیار ہو گا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں ) ۔
۱۹
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۴
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى ‏.‏
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابراہیم بن موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے۔
۲۰
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏"‏ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ‏"‏ ‏.‏ انْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى ‏"‏ وَأُعْتِقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ ‏"‏ ‏.‏ عَلَى مَعْنَاهُ ‏.‏
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے مگر اس میں: «وإلا فقد عتق منه ما عتق» کا ٹکڑا مذکور نہیں اور «وأعتق عليه العبد» کے ٹکڑے ہی پر روایت ختم ہے ۱؎۔
۲۱
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۶
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏
"‏ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مِنْهُ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو جتنا حصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے ۔
۲۲
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۷
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةً لاَ وَكْسَ وَلاَ شَطَطَ ثُمَّ يُعْتَقُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ۱؎ ۔
۲۳
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۸
الثعلب رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ ابْنِ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ - يَعْنِي التَّلِبَّ - وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغَ لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ ‏.‏
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: ( صحابی کا نام ) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔
۲۴
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۴۹
سمرہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ مُوسَى فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَعَاصِمٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَمْ يُحَدِّثْ ذَلِكَ الْحَدِيثَ إِلاَّ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَقَدْ شَكَّ فِيهِ ‏.‏
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ ( ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔
۲۵
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۰
عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ‏.‏
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ ( ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا۔
۲۶
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۱
قتادہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ ‏.‏
حسن کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو ( وہ ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا۔
۲۷
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۲
A similar tradition has also been transmitted by Jabir b. Zaid and al-Hasan through a different chain of narrators. Abu Dawud said
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَالْحَسَنِ، مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَعِيدٌ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادٍ ‏.‏
جابر بن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید حماد ( حماد بن سلمہ ) سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ۱؎۔
۲۸
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۳
سلمہ بنت معقل القسیہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ خَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، مَوْلَى الأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّهِ، عَنْ سَلاَمَةَ بِنْتِ مَعْقِلٍ، - امْرَأَةٍ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلاَنَ - قَالَتْ قَدِمَ بِي عَمِّي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيَسَرِ بْنِ عَمْرٍو فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ ثُمَّ هَلَكَ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ الآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ مِنْ خَارِجَةِ قَيْسِ عَيْلاَنَ قَدِمَ بِي عَمِّي الْمَدِينَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَبَاعَنِي مِنَ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي أَبِي الْيَسَرِ بْنِ عَمْرٍو فَوَلَدْتُ لَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحُبَابِ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ الآنَ وَاللَّهِ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ وَلِيُّ الْحُبَابِ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ أَخُوهُ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ أَعْتِقُوهَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدِمَ عَلَىَّ فَأْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَعْتَقُونِي وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقِيقٌ فَعَوَّضَهُمْ مِنِّي غُلاَمًا ‏.‏
بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون سلامہ بنت معقل کہتی ہیں کہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مر گئے تو ان کی بیوی کہنے لگی: قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: حباب کا وارث کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے ( سلامہ کو ) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔
۲۹
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۴
جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بِعْنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ام ولد ۱؎ کو بیچا کرتے تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں اس کے بیچنے سے روک دیا چنانچہ ہم رک گئے۔
۳۰
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۵
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَبِيعَ بِسَبْعِمِائَةٍ أَوْ بِتِسْعِمِائَةٍ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔
۳۱
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۶
The tradition mentioned above also has been transmitted by Jabir b. 'Abd Allah through a different chain of narrators. This version added
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِهَذَا زَادَ وَقَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - ‏
"‏ أَنْتَ أَحَقُّ بِثَمَنِهِ وَاللَّهُ أَغْنَى عَنْهُ ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے ( یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بے نیاز ہے، اور بندہ محتاج ہے ) ۔
۳۲
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۷
جابر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ يَشْتَرِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلاً فَهَا هُنَا وَهَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا: اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ۱؎ ۔
۳۳
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۸
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ قَوْلاً شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ‏.‏
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے: پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو ( جن کے نام قرعہ میں نکلے ) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
۳۴
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۵۹
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ فَقَالَ لَهُ قَوْلاً شَدِيدًا ‏.‏
اس سند سے بھی ابوقلابہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت سست کہا۔
۳۵
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۰
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qilabah from Abu Zaid through a different chain of narrators to the same effect
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - هُوَ الطَّحَّانُ - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - ‏
"‏ لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏
ابوزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے … آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا ۔
۳۶
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۱
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ‏.‏
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی پھر دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا۔
۳۷
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۲
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُ الْعَبْدِ لَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ السَّيِّدُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے اِلا یہ کہ مالک اس کو غلام کو دیدے ۱؎ ۔
۳۸
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلاَثَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔
۳۹
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۴
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْغَرِيفِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا، لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلاَ نُقْصَانٌ فَغَضِبَ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَقْرَأُ وَمُصْحَفُهُ مُعَلَّقٌ فِي بَيْتِهِ فَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ ‏.‏ قُلْنَا إِنَّمَا أَرَدْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَاحِبٍ لَنَا أَوْجَبَ - يَعْنِي - النَّارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ ‏
"‏ أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
غریف بن دیلمی کہتے ہیں ہم واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی زیادتی و کمی نہ ہو، تو وہ ناراض ہو گئے اور بولے: تم میں سے کوئی قرآن پڑھتا ہے اور اس کے گھر میں مصحف لٹک رہا ہے تو وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے ( براہ راست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیا تھا، آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہرہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا ۔
۴۰
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۵
ابوناجیح السلمی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَصْرِ الطَّائِفِ - قَالَ مُعَاذٌ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ بِقَصْرِ الطَّائِفِ بِحِصْنِ الطَّائِفِ كُلُّ ذَلِكَ - فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ أَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلاً مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا ۔
۴۱
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۶
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا، سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏
"‏ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی مسلمان گردن کو آزاد کیا تو وہ دوزخ سے اس کا فدیہ ہو گا ۔
۴۲
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۷
The tradition mentioned above has also been transmitted by Mu'adh through a different chain of narrators. After mentioning the words "If any Muslim emancipates a Muslim slave... and if a woman emancipates a Muslim woman, this version adds
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ حَدِّثْنَا حَدِيثًا، سَمِعْتَهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى مُعَاذٍ إِلَى قَوْلِهِ ‏"‏ وَأَيُّمَا امْرِئٍ أَعْتَقَ مُسْلِمًا وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ‏"‏ وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ إِلاَّ كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزَى مَكَانَ كُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمٌ مِنْ عِظَامِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَالِمٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ شُرَحْبِيلَ مَاتَ شُرَحْبِيلُ بِصِفِّينَ ‏.‏
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، پھر راوی نے آپ کے فرمان: «وأيما امرئ أعتق مسلما وأيما امرأة أعتقت امرأة مسلمة» تک معاذ جیسی روایت بیان کی، اور یہ اضافہ کیا: جو مرد کسی دو مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ دونوں اسے جہنم سے چھڑا دیں گی، ان دونوں کی دو ہڈیاں اس کی ایک ایک ہڈی کے قائم مقام ہوں گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سالم نے شرحبیل سے نہیں سنا ہے ( اس لیے یہ حدیث منقطع ہے ) شرحبیل کی وفات صفین میں ہوئی ہے۔
۴۳
سنن ابو داؤد # ۳۱/۳۹۶۸
ابودرداء رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏
"‏ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ ‏"‏ ‏.‏
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مرتے وقت غلام آزاد کرے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسودہ ہو جانے کے بعد ہدیہ دے ۔