The Book of the Prohibited actions
ابواب پر واپس
۲۰ حدیث
۰۱
ریاض الصالحین # ۰/۲۷۸
ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنہ)
وعن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال‏:‏ سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يُثني على رجل ويُطريه في المدحة، فقال‏:‏ ‏"‏أهلكتم، أو قطعتم ظهر الرجل‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏ (23).‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے یا اس کی بہت زیادہ تعریف کرتے ہوئے سنا۔ تو اس نے کہا، "تم نے آدمی کو مار ڈالا،" یا اس نے کہا، "تو نے آدمی کو برباد کر دیا"۔
۰۲
ریاض الصالحین # ۰/۲۷۹
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ
وعن أبي بكر رضي الله عنه أن رجلا ذُكر عند النبي صلى الله عليه وسلم ، فأثنى عليه رجل خيرًا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ويحك‏!‏ قطعت عنق صاحبك‏"‏ يقوله مرارًا ‏"‏وإن كان أحدكم مادحًا لا محالة، فليقل‏:‏ أحسب كذا وكذا إن كان يرى أنه كذلك وحسيبه الله، ولا يزكي على الله أحدًا‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! تو نے اپنے دوست کی گردن توڑ دی! آپ نے یہ بات کئی بار دہرائی اور مزید فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو اپنے دوست کی تعریف ہی کرنی ہو تو اسے یہ کہنا چاہیے کہ میں اسے فلاں سمجھتا ہوں اور اللہ اسے خوب جانتا ہے، اگر تم اسے فلاں سمجھتے ہو تو اللہ کے سامنے جوابدہ ہو گے کیونکہ اللہ کے مقابلے میں کوئی دوسرے کی پاکیزگی کی گواہی نہیں دے سکتا۔
۰۳
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۰
ہمام بن الحارث رضی اللہ عنہ
وعن همام بن الحارث، عن المقداد، رضي الله عنه أم رجلا جعل يمدح عثمان رضي الله عنه ، فعمد المقداد، فجثا على ركبتيه، فجعل يحثو في وجهه الحصباء، فقال له عثمان‏:‏ ما شأنك‏؟‏ فقال‏:‏ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ “إذا رأيتم المادحين، فاحثوا في وجوههم التراب‏"‏ ‏(‏‏(‏رواه مسلم‏)‏‏)‏‏.‏
فهذه الأحاديث في النهي، وجاء في الإباحة أحاديث كثيرة صحيحة‏.‏
قال العلماء‏:‏ وطريق الجمع بين الأحاديث أن يقال‏:‏ إن كان الممدوح عنده كمال إيمان ويقين، ورياضة نفس، ومعرفة تامة بحيث لا يفتن، ولا يغتر بذلك، ولا تلعب به نفسه، فليس بحرام ولا مكروه، وإن خيف عليه شيء من هذه الأمور، كره مدحه في وجهه كراهة شديدة، وعلى هذا التفصيل تنزل الأحاديث المختلفة في ذلك‏.‏ ومما جاء في الإباحة قوله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر رضي الله عنه‏:‏ “أرجو أن تكون منهم‏"‏ أي من الذين يُدعون من جميع أبواب الجنة لدخولها، وفي الحديث الآخر‏:‏ ‏"‏لست منهم‏"‏ أي‏:‏ لست من الذين يُسبلون أُزرهم خيلاء‏.‏ وقال صلى الله عليه وسلم لعمر رضي الله عنه‏:‏ “ما رآك الشيطان سالكًا فجًا إلا سلك فجًا غير فجك” والأحاديث في الإباحة كثيرة، وقد ذكرت جملة من أطرافها في كتاب‏:‏ ‏"‏الأذكار‏"‏‏.‏
ایک شخص عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو مقداد رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور چاپلوسی کرنے والے کے منہ پر کنکریاں مارنے لگے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھتے ہو جو دوسروں کی بے جا تعریفیں کرتے ہیں تو ان کے منہ پر مٹی ڈالتے ہیں“۔
۰۴
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۱
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
وعن ابن عباس رضي الله عنه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه خرج إلى الشام حتى إذا كان بسرغ لقيه أمراء الأجناد -أبو عبيدة بن الجراح وأصحابه- فأخبروه أن الوباء قد وقع بالشام، قال بن عباس‏:‏ فقال عمر‏:‏ ادع لي المهاجرين الأولين، فدعوتهم، فاستشارهم، وأخبرهم أن الوباء قد وقع بالشام، فاختلفوا، فقال بعضهم‏:‏ خرجت لأمر، ولا نرى أن ترجع عنه‏.‏ وقال بعضهم‏:‏ معك بقية الناس وأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ولا نرى أن تقدمهم على هذا الوباء‏.‏ فقال‏:‏ ارتفعوا عني، ثم قال‏:‏ ادع لي الأنصار، فدعوتهم، فاستشارهم، فسلكوا سبيل المهاجرين، واختلفوا كاختلافهم، فقال‏:‏ ارتفعوا عني، ثم قال‏:‏ ادع لي من كان ها هنا من مشيخة قريش من مهاجرة الفتح، فدعوتهم، فلم يختلف عليه منهم رجلان، فقالوا‏:‏ نرى أن ترجع بالناس، ولا تقدمهم على هذا الوباء، فنادى عمر رضي الله عنه في الناس‏:‏ إني مصبح على ظهر، فأصبحوا عليه فقال أبو عبيدة بن الجراح رضي الله عنه ‏:‏ أفرار من قدر الله‏؟‏ فقال عمر رضي الله عنه ‏:‏ لو غيرك قالها يا أبا عبيدة‏!‏ -وكان عمر يكره خلافه- نعم نفر من قدر الله إلى قدر الله، أرأيت لو كان لك إبل، فهبطت وادياً له عدوتان، إحداهما خصبة، والأخرى جدبة، أليس إن رعيت الخصبة رعيتها بقدر الله، وإن رعيت الجدبة رعيتها بقدر الله‏؟‏ قال‏:‏ فجاء عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه ، وكان متغيباً في بعض حاجته، فقال‏:‏ إن عندي من هذا علما، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول‏:‏ “إذا سمعتم به بأرض، فلا تقدموا عليه، وإذا وقع بأرض وأنتم بها، فلا تخرجوا فرارا منه‏"‏ فحمد الله تعالى عمر رضي الله عنه وانصرف‏.‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
والعدوة‏:‏ جانب الوادي‏‏‏.‏
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ شام، فلسطین، لبنان اور اردن پر مشتمل خطہ الشام کی طرف روانہ ہوئے۔ جب وہ سرغ (حجاز کے کنارے واقع ایک قصبہ) پر پہنچا تو اجناد کے گورنر ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اسے اطلاع دی کہ شام میں ایک پھوٹ پڑا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: میرے پاس سب سے پہلے مہاجرین کو بلاؤ۔ تو میں نے انہیں بلایا۔ اس نے ان سے مشورہ طلب کیا اور بتایا کہ شام میں وبا پھیل گئی ہے۔ اس بات پر اختلاف تھا کہ ایسی صورت حال میں انہیں آگے بڑھنا چاہیے یا اپنے گھروں کو پیچھے ہٹنا چاہیے۔ ان میں سے بعض نے کہا: تم دشمن سے لڑنے کے لیے نکلے ہو، اس لیے تمہیں واپس نہیں جانا چاہیے۔ جب کہ ان میں سے بعض نے کہا: جیسا کہ آپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے نامور صحابہ ہیں، اس لیے ہم آپ کو طاعون کے مقام کی طرف روانہ ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے (اور اس طرح انہیں جان بوجھ کر خطرے میں ڈال دیں)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب تم جا سکتے ہو۔ آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس انصار کو بلاؤ‘‘۔ چنانچہ میں نے ان کو اپنے پاس بلایا تو انہوں نے ان سے مشورہ کیا اور ان کی رائے میں بھی اختلاف ہوا۔ اس نے کہا: اب تم جا سکتے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: قریش کے پرانے (عقلمند) لوگوں کو بلاؤ جو فتح مکہ سے پہلے ہجرت کر چکے تھے۔ میں نے انہیں بلایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مسئلہ میں ان سے مشورہ کیا اور ان میں سے دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں تھا۔ انہوں نے کہا: ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ واپس چلے جائیں اور ان کو اس عذاب میں نہ لے جائیں، عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اعلان کیا اور فرمایا: صبح ہوتے ہی میں واپس جانے کا ارادہ کرتا ہوں، اور میں چاہتا ہوں کہ تم بھی ایسا ہی کرو۔ ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو عبیدہ! اگر کوئی اور ہوتا تو یہ کہتا۔‘‘ عمر (مئی
۰۵
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۲
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ
وعن أسامة بن زيد رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ ‏
"‏إذا سمعتم الطاعون بأرض، فلا تدخلوها، وإذا وقع بأرض، وأنتم فيها، فلا تخرجوا منها‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم کو کسی ملک میں طاعون کی ہوا آئے تو اس میں مت جاؤ اور اگر وہ کسی ایسی سرزمین میں پھوٹ پڑے جس میں تم ہو تو اسے نہ چھوڑو۔
۰۶
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ “أجتنبوا السبع الموبقات” قالوا‏:‏ يا رسول الله وما هن‏؟‏ قال‏:‏ ‏"‏الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التى حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات” ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ کن چیزوں سے بچو۔ پوچھا گیا: (موجودوں کی طرف سے): یا رسول اللہ وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: عبادت میں اللہ کے ساتھ کسی کو یا کسی چیز کو شریک ٹھہرانا، جادو کرنا، کسی کا قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، یتیم کا مال ہڑپ کرنا، سود کھانا، میدان جنگ سے بھاگنا اور پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا جو کبھی عفت کو چھونے کا خیال بھی نہیں کرتیں اور نیک مومن ہیں۔
۰۷
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۴
عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال‏:‏ ‏
"‏نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يسافر بالقرآن إلى أرض العدو‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ملک میں قرآن لے جانے سے منع فرمایا۔
۰۸
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۵
ام سلمہ رضی اللہ عنہا
عن أم سلمة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ ‏"‏الذي يشرب في آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
وفي رواية لمسلم‏:‏ ‏"‏أن الذي يأكل أو يشرب في آنية الفضة والذهب‏"‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے، درحقیقت اس کے پیٹ میں جہنم کی آگ بھڑکتی ہے۔" مسلم کی روایت ہے: "بے شک وہ شخص جو سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھاتا یا پیتا ہے۔"
۰۹
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۶
حذیفہ رضی اللہ عنہ
وعن حذيفة رضي الله عنه، قال‏:‏ إن النبي صلى الله عليه وسلم نهانا عن الحرير، والديباج والشرب في آنية الذهب والفضة، وقال‏:‏ ‏"‏هن لهم في الدنيا وهم لكم في الاخرة‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
وفي رواية في الصحيحين عن حذيفة رضي الله عنه، قال‏:‏ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول‏:‏ ‏"‏لا تلبسوا الحرير ولا الديباج، ولا تشربوا في آنية الذهب والفضة ولا تأكلوا في صحافها‏"‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم یا دیباج پہننے سے اور سونے اور چاندی کے برتنوں میں سے پینے سے منع فرمایا اور فرمایا: یہ دنیا میں ان (غیر مسلموں) کے لیے ہیں اور آخرت میں تمہارے لیے ہیں، ایک دوسری روایت میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم سے نہ کھاؤ اور نہ پیو۔ سونا اور چاندی"۔
۱۰
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۷
انس بن سیرین رضی اللہ عنہ
وعن أنس بن سيرين قال‏:‏ كنت مع أنس بن مالك رضي الله عنه عند نفر من المجوس، فجيء بفالوذج على إناء من فضة، فلم يأكله، فقيل له‏:‏ حوله، فحوله على إناء من خلنج، وجيء به فأكله‏.‏ ‏(‏‏(‏رواه البيهقي بإسناد حسن‏)‏‏)‏‏.الخلنج الجفنة ‏
میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ کچھ مجوسیوں کی صحبت میں تھا جب چاندی کے برتن میں فلودج لایا گیا تو انس رضی اللہ عنہ نے نہیں لیا۔ اس آدمی سے کہا گیا کہ برتن بدل دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن بدل دیا اور جب انس ​​رضی اللہ عنہ کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا۔
۱۱
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۸
انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)
عن أنس رضي الله عنه قال‏:‏ نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يتزعفر الرجل‏.‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا۔
۱۲
ریاض الصالحین # ۰/۲۸۹
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال‏:‏ رأى النبي صلى الله عليه وسلم علي ثوبين معصفرين فقال‏:‏ ‏"‏أمك أمرتك بهذا‏؟‏‏"‏ قلت‏:‏ أغسلهما‏؟‏ قال‏:‏ ‏"‏بل احرقهما‏"‏‏.‏
وفي رواية فقال‏:‏ ‏"‏إن هذا من ثياب الكفار فلا تلبسها‏"‏ ‏(‏‏(‏رواه مسلم‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زعفرانی رنگ کے دو کپڑوں میں ملبوس دیکھا تو پوچھا: کیا تمہاری والدہ نے تمہیں یہ پہننے کا حکم دیا ہے؟ میں نے اس سے پوچھا، کیا میں ان کو دھو دوں؟ اس نے جواب دیا: "بہتر تو تم انہیں آگ لگا دیتے۔" ایک اور روایت میں ہے: "یہ کافروں کے لباس ہیں، لہٰذا انہیں نہ پہنو۔"
۱۳
ریاض الصالحین # ۰/۲۹۰
علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
عن عليّ رضي الله عنه قال‏:‏ حفظت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏
"‏لا يتم بعد احتلام، ولا صمات يوم إلى الليل‏"‏‏.‏
قال الخطابي في تفسير هذا الحديث‏:‏ كان من نسك الجاهلية الصمات، فنهوا في الإسلام عن ذلك، وأمروا بالذكر والحديث بالخير‏.‏
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول یاد کر رکھا ہے کہ: ’’کوئی شخص بالغ ہونے کے بعد یتیم نہیں سمجھا جاتا، اور صبح سے رات تک خاموش رہنا ناجائز ہے۔‘‘
۱۴
ریاض الصالحین # ۰/۲۹۱
قیس بن ابو حازم رضی اللہ عنہ
وعن قيس بن أبي حازم قال‏:‏ دخل أبو بكر الصديق رضي الله عنه على امرأة من أحمس يقال لها‏:‏ زينب، فرأها لا تتكلم‏.‏ فقال‏:‏ ما لها لا تتكلم‏؟‏ فقالوا‏:‏ حجت مصمته، فقال لها‏:‏ تكلمي فإن هذا لا يحل، هذا من عمل الجاهلية‏!‏ فتكلمت‏.‏ رواه البخاري
ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی زینب نامی عورت کے پاس آئے اور دیکھا کہ وہ بالکل خاموشی اختیار کر رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے کیا ہو گیا ہے، وہ بولتی کیوں نہیں؟" لوگوں نے اسے بتایا کہ اس نے خاموش رہنے کی قسم کھائی ہے، پھر آپ نے اس سے کہا: "تم بولو، (خاموشی کرنا) جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ جاہلیت کے زمانے کا عمل ہے۔" (یہ سن کر) وہ کہنے لگی۔ .
۱۵
ریاض الصالحین # ۰/۲۹۲
سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ
عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ ‏
"‏من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی ولادت کا دعویٰ کرے اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت میں جانے سے منع کر دیا جائے گا۔
۱۶
ریاض الصالحین # ۰/۲۹۳
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ ‏
"‏لا ترغبوا عن آبائكم، فمن رغب عن أبيه، فهو كافر‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپوں سے منہ نہ پھیرو، کیونکہ جو اپنے باپ سے منہ موڑے گا وہ کفر کا مرتکب ہوگا۔
۱۷
ریاض الصالحین # ۰/۲۹۴
یزید بن شریک بن طارق رضی اللہ عنہ
وعن يزيد بن شريك بن طارق قال‏:‏ رأيت عليا رضي الله عنه على المنبر يخطب، فسمعته يقول‏:‏ لا والله ما عندنا من كتاب نقرؤه إلا كتاب الله، وما في هذه الصحيفة، فنشرها فإذا فيها أسنان الإبل، وأشياء من الجراحات، وفيها‏:‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏المدينة حرم ما بين عير إلى ثور، فمن أحدث فيها حدثاً، أو آوى محدثاً، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفاً ولا عدلاً، ذمة المسلمين واحدة، يسعى بها أدناهم، فمن أخفر مسلماً، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفاً ولا عدلاً، ومن ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفاً ولا عدلاً‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏ "ذِمَّةُ المُسْلِمِينَ"أيْ: عَهْدُهُمْ وأمانتُهُم."وَأخْفَرَهُ": نَقَضَ عَهْدَهُ."والصَّرفُ": التَّوْبَةُ، وَقِيلَ: الحِيلَةُ."وَالْعَدْلُ": الفِدَاءُ.
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو منبر سے خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم ہمارے پاس اللہ کی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب پڑھنے کو نہیں ہے اور اس طومار میں کیا لکھا ہے، انہوں نے اس طومار کو کھولا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ کس قسم کے اونٹوں کو خون بہا دیا جائے، اور قتل و غارت گری کے دیگر قانونی امور کے بارے میں۔ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ ہوائی سے لے کر ثور (پہاڑوں) تک ایک پناہ گاہ ہے، جس نے اس علاقے میں اسلام میں کوئی نئی بات ایجاد کی، یا بدعت کرنے والوں کو پناہ دی، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔ قیامت کے دن کسی بھی مسلمان کی طرف سے دی گئی پناہ (حفاظت کا) دوسرے تمام مسلمانوں کے لیے عزت و احترام ہے، اور جو شخص اس (عہد کی خلاف ورزی کر کے) کسی مسلمان کی خیانت کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں کرے گا۔ اپنے (حقیقی) باپ کے علاوہ کسی اور سے اپنی ولدیت منسوب کرے اور اس کی اجازت کے بغیر اپنے (حقیقی) آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا مولا بنا لے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی نہ توبہ قبول کرے گا اور نہ فدیہ۔"
۱۸
ریاض الصالحین # ۰/۲۹۵
ابو ذر غفاری (رضی اللہ عنہ)
وعن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول‏:‏ “ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر، ومن ادعى ما ليس له، فليس منا، وليتبوأ مقعده من النار، ومن دعا رجلاً بالكفر، أو قال‏:‏ عدو الله، وليس كذلك إلا حار عليه” ‏(‏‏(‏متفق عليه وهذا لفظ رواية مسلم‏)‏‏)‏‏.‏
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی ولادت کا دعویٰ کرے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے، اس نے کفر کیا، اور جس نے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کیا جو درحقیقت اس سے تعلق نہیں رکھتا، وہ ہم میں سے نہیں، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے، اور جس نے کسی کو کافر قرار دیا وہ اللہ کا دشمن ہے اور نہ ہی اس کا دشمن ہے۔ وہ"۔
۱۹
ریاض الصالحین # ۰/۲۹۶
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ ‏
"‏إن الله تعالى يغار، وغيرة الله أن يأتي المرء ما حرم الله عليه‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ غضبناک ہوتا ہے اور اس کا غضب اس وقت بھڑکاتا ہے جب کوئی شخص وہ کام کرتا ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
۲۰
ریاض الصالحین # ۰/۲۹۷
ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال‏:‏ “من حلف فقال في حلفه‏:‏ باللات والعزى، فليقل‏:‏ لا إله إلا الله، ومن قال لصاحبه‏:‏ تعالى أقامرك فليتصدق‏"‏ ‏(‏‏(‏متفق عليه‏)‏‏)‏‏.‏
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بیعت کرے اور بلاوجہ کہے: لات و العزیٰ کی قسم، اسے چاہیے کہ فوراً لا الہ الا اللہ کہے، اور جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ جوا کھیلتے ہیں، اسے صدقہ دے کر کفارہ دینا چاہیے۔