بال سنوارنا
ابواب پر واپس
۰۱
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۵۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّرَجُّلِ إِلاَّ غِبًّا .
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پابندی سے ) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو ( تو جائز ہے ) ۔
۰۲
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۰
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْمَازِنِيُّ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمِصْرَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ . قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَمَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الأَرْضِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الإِرْفَاهِ . قَالَ فَمَا لِي لاَ أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا .
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس مصر گئے، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا: میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ ( مزید ) علم ہو، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ فرمایا: وہ اس اس طرح ہے، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا: کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ عیش عشرت سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے پوچھا: آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ تو وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے۔
۰۳
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۱
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ ذَكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا عِنْدَهُ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَلاَ تَسْمَعُونَ أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِيمَانِ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِيمَانِ " . يَعْنِي التَّقَحُّلَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ ثَعْلَبَةَ الأَنْصَارِيُّ .
" أَلاَ تَسْمَعُونَ أَلاَ تَسْمَعُونَ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِيمَانِ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِيمَانِ " . يَعْنِي التَّقَحُّلَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ ثَعْلَبَةَ الأَنْصَارِيُّ .
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے اس سے مراد ترک زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں۔
۰۴
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۲
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سُكَّةٌ يَتَطَيَّبُ مِنْهَا .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشبو کی ایک ڈبیہ تھی جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے۔
۰۵
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۳
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ " .
" مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے ۔
۰۶
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۴
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَسَأَلَتْهَا عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ لاَ بَأْسَ بِهِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ كَانَ حَبِيبِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْرَهُ رِيحَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ تَعْنِي خِضَابَ شَعْرِ الرَّأْسِ .
کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔
۰۷
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۵
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ، عَنْ جَدَّتِهَا، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ، قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْنِي . قَالَ
" لاَ أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ " .
" لاَ أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں ۔
۰۸
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبَضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ " مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ " . قَالَتْ بَلِ امْرَأَةٌ . قَالَ " لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ " . يَعْنِي بِالْحِنَّاءِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔
۰۹
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ
" إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ " .
" إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ " .
حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے جس سال حج کیا میں نے آپ کو منبر پر کہتے سنا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا جو ایک پہرے دار کے ہاتھ میں تھا لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جیسی چیزوں سے منع کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بنی اسرائیل ہلاک ہو گئے جس وقت ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا ۔
۱۰
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ۱؎۔
۱۱
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۶۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْوَاصِلاَتِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ثُمَّ اتَّفَقَا وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ . زَادَ عُثْمَانُ كَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ اتَّفَقَا فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَالْوَاصِلاَتِ وَقَالَ عُثْمَانُ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ثُمَّ اتَّفَقَا وَالْمُتَفَلِّجَاتِ قَالَ عُثْمَانُ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى . فَقَالَ وَمَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَتْ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَىِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ . فَقَالَ وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ ثُمَّ قَرَأَ { وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا } قَالَتْ إِنِّي أَرَى بَعْضَ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ . قَالَ فَادْخُلِي فَانْظُرِي . فَدَخَلَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ فَقَالَ مَا رَأَيْتِ وَقَالَ عُثْمَانُ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ . فَقَالَ لَوْ كَانَ ذَلِكَ مَا كَانَتْ مَعَنَا .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے جسم میں گودنے لگانے والیوں اور گودنے لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے، ( محمد کی روایت میں ہے ) اور بال جوڑنے والیوں پر، ( اور عثمان کی روایت میں ہے ) اور اپنے بال اکھیڑنے والیوں پر، جو زیب و زینت کے واسطہ منہ کے روئیں اکھیڑتی ہیں، اور خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں کشادگی کرانے والیوں، اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والیوں پر۔ تو یہ خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت ( ام یعقوب نامی ) کو پہنچی جو قرآن پڑھا کرتی تھی، تو وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بال جوڑنے والیوں اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والیوں پر خوبصورتی کے لیے جو اللہ کی بنائی ہوئی شکل تبدیل کر دیتی ہیں پر لعنت کی ہے؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہو اور وہ اللہ کی کتاب کی رو سے بھی ملعون ہوں؟ تو اس عورت نے کہا: میں تو پورا قرآن پڑھ چکی ہوں لیکن یہ مسئلہ مجھے اس میں کہیں نہیں ملا؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو یہ مسئلہ ضرور پاتی پھر آپ نے آیت کریمہ «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ ( الحشر: ۷ ) پڑھی تو وہ بولی: میں نے تو اس میں سے بعض چیزیں آپ کی بیوی کو بھی کرتے دیکھا ہے، آپ نے کہا: اچھا اندر جاؤ اور دیکھو تو وہ اندر گئیں پھر باہر آئیں تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو اس عورت نے کہا: مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی تو پھر میرے ساتھ نہ رہتی۔
۱۲
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۰
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تَرِقَّهُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلاَنَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور«متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال ( تل ) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔
۱۳
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لاَ بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ، عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
سعید بن جبیر کہتے ہیں بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد کہتے تھے: چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔
۱۴
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۲
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - الْمَعْنَى - أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلاَ يَرُدَّهُ فَإِنَّهُ طَيِّبُ الرِّيحِ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ " .
" مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلاَ يَرُدَّهُ فَإِنَّهُ طَيِّبُ الرِّيحِ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے خوشبو کا ( تحفہ ) پیش کیا جائے تو وہ اسے لوٹائے نہیں کیونکہ وہ خوشبودار ہے اور اٹھانے میں ہلکا ہے ۱؎ ۔
۱۵
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْأَةُ فَمَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ قَوْلاً شَدِيدًا .
" إِذَا اسْتَعْطَرَتِ الْمَرْأَةُ فَمَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ قَوْلاً شَدِيدًا .
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت عطر لگائے پھر وہ لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے آپ نے ( ایسی عورت کے متعلق ) بڑی سخت بات کہی۔
۱۶
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الطِّيبِ يُنْفَحُ وَلِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ فَقَالَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ جِئْتِ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ لاِمْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الإِعْصَارُ غُبَارٌ .
" لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ لاِمْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الإِعْصَارُ غُبَارٌ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا: جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی: ہاں، آپ نے کہا: میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعصار» غبار ہے ۱؎۔
۱۷
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۵
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلْقَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلاَ تَشْهَدَنَّ مَعَنَا الْعِشَاءَ " . قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ " عِشَاءَ الآخِرَةِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے خوشبو کی دھونی لے رکھی ہو تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے ( مسجد میں ) نہ آئے ( بلکہ وہ گھر ہی میں پڑھ لے ) ۔ ابن نفیل کی روایت میں «العشاء» کے بجائے «عشاء الآخرة» ہے ( یعنی عشاء کی صلاۃ ) ۔
۱۸
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلاً وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَاىَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي فَقَالَ " اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ " . فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَىَّ مِنْهُ رَدْعٌ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَىَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي وَقَالَ " اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ " . فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَىَّ وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ " إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ بِخَيْرٍ وَلاَ الْمُتَضَمِّخَ بِالزَّعْفَرَانِ وَلاَ الْجُنُبَ " . قَالَ وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ .
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس میں زعفران کا خلوق ( ایک مرکب خوشبو ہے ) لگا دیا، پھر میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں نے جا کر اسے دھو دیا، پھر آیا، اور میرے ہاتھ پر خلوق کا اثر ( دھبہ ) باقی رہ گیا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں گیا اور میں نے اسے دھویا، پھر آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہا، اور فرمایا: فرشتے کافر کے جنازہ میں کوئی خیر لے کر نہیں آتے، اور نہ اس شخص کے جو زعفران ملے ہو، نہ جنبی کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ وہ سونے، کھانے، یا پینے کے وقت وضو کر لے۔
۱۹
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۷
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ، يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، - زَعَمَ عُمَرُ أَنَّ يَحْيَى، سَمَّى ذَلِكَ الرَّجُلَ فَنَسِيَ عُمَرُ اسْمَهُ - أَنَّ عَمَّارًا قَالَ تَخَلَّقْتُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ . وَالأَوَّلُ أَتَمُّ بِكَثِيرٍ فِيهِ ذَكَرَ الْغُسْلَ قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ وَهُمْ حُرُمٌ قَالَ لاَ الْقَوْمُ مُقِيمُونَ .
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں میں خلوق ملا، پہلی روایت زیادہ کامل ہے اس میں دھونے کا ذکر ہے ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عمر بن عطاء سے پوچھا: وہ لوگ محرم تھے؟ کہا: نہیں، بلکہ سب مقیم تھے۔
۲۰
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۸
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْبٍ الأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدَّيْهِ، قَالاَ سَمِعْنَا أَبَا مُوسَى، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ تَعَالَى صَلاَةَ رَجُلٍ فِي جَسَدِهِ شَىْءٌ مِنْ خَلُوقٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ جَدَّاهُ زَيْدٌ وَزِيَادٌ .
" لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ تَعَالَى صَلاَةَ رَجُلٍ فِي جَسَدِهِ شَىْءٌ مِنْ خَلُوقٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ جَدَّاهُ زَيْدٌ وَزِيَادٌ .
ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جس کے بدن میں کچھ بھی خلوق ( زعفران سے مرکب خوشبو ) لگی ہو ۔
۲۱
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۷۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَاهُمْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ وَقَالَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔ اور اسماعیل کی روایت میں«عن التزعفر للرجال» کے بجائے «أن يتزعفرالرجل» ہے۔
۲۲
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۰
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" ثَلاَثَةٌ لاَ تَقْرَبُهُمُ الْمَلاَئِكَةُ جِيفَةُ الْكَافِرِ وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخَلُوقِ وَالْجُنُبُ إِلاَّ أَنْ يَتَوَضَّأَ " .
" ثَلاَثَةٌ لاَ تَقْرَبُهُمُ الْمَلاَئِكَةُ جِيفَةُ الْكَافِرِ وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخَلُوقِ وَالْجُنُبُ إِلاَّ أَنْ يَتَوَضَّأَ " .
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ فرشتے ان کے قریب نہیں جاتے: ایک کافر کی لاش کے پاس، دوسرے جو زعفران میں لت پت ہو اور تیسرے جنبی ( ناپاک ) إلا یہ کہ وہ وضو کر لے ۔
۲۳
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۱
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ قَالَ فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ .
ولید بن عقبہ کہتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابن مکہ اپنے بچوں کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، مجھے بھی آپ کی خدمت میں لایا گیا، لیکن مجھے خلوق لگا ہوا تھا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔
۲۴
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۲
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ - وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَلَّمَا يُوَاجِهُ رَجُلاً فِي وَجْهِهِ بِشَىْءٍ يَكْرَهُهُ - فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ
" لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذَا عَنْهُ " .
" لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذَا عَنْهُ " .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس پر ( زعفران کی ) زردی کا نشان تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم کسی ایسے شخص کا سامنا فرماتے جس کے چہرہ پہ کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند فرماتے، چنانچہ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش تم لوگ اسے حکم دیتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے ۔
۲۵
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ وَقَالَ شُعْبَةُ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ .
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جو کان کی لو سے نیچے بال رکھے ہو اور سرخ جوڑے میں ملبوس ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا ( محمد بن سلیمان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ کے بال دونوں شانوں سے لگ رہے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے اسرائیل نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے کہ وہ بال آپ کے دونوں شانوں سے لگ رہے تھے اور شعبہ کہتے ہیں: وہ آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچ رہے تھے ۔
۲۶
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۴
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ .
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
۲۷
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۵
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
۲۸
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے آدھے کانوں تک رہتے تھے۔
۲۹
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۷
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال «وفرہ» ۱؎ سے بڑے اور «جمہ» ۲؎ سے چھوٹے تھے۔
۳۰
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۸
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ - يَعْنِي - يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا «سدل» کرتے یعنی انہیں لٹکا ہوا چھوڑ دیتے تھے، اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن باتوں میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اسی لیے آپ اپنی پیشانی کے بالوں کو لٹکا چھوڑ دیتے تھے پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔
۳۱
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۸۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كُنْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَفْرِقَ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدَعْتُ الْفَرْقَ مِنْ يَافُوخِهِ وَأُرْسِلُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں مانگ نکالنی چاہتی تو سر کے بیچ سے نکالتی، اور پیشانی کے بالوں کو دونوں آنکھوں کے بیچ کی سیدھ سے آدھا ایک طرف اور آدھا دوسری طرف لٹکا دیا کرتی تھی۔
۳۲
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ السُّوَائِيُّ، - هُوَ أَخُو قَبِيصَةَ - وَحُمَيْدُ بْنُ خُوَارٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلِي شَعْرٌ طَوِيلٌ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ذُبَابٌ ذُبَابٌ " . قَالَ فَرَجَعْتُ فَجَزَزْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ " إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ " .
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: نحوست ہے، نحوست تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی، یہ اچھا ہے ۔
۳۳
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۱
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ تَعْنِي عَقَائِصَ .
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور ( اس وقت ) آپ کی چار چوٹیاں تھیں۔
۳۴
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۲
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلاَثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ " لاَ تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ " . ثُمَّ قَالَ " ادْعُوا لِي بَنِي أَخِي " . فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ " ادْعُوا لِي الْحَلاَّقَ " . فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا .
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر تم نہ رونا ۱؎ پھر فرمایا: میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلاؤ تو ہمیں آپ کی خدمت میں لایا گیا، ایسا لگ رہا تھا گویا ہم چوزے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجام کو بلاؤ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔
۳۵
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۳
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ، - قَالَ أَحْمَدُ كَانَ رَجُلاً صَالِحًا - قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقَزَعِ وَالْقَزَعُ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ فَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعْرِهِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دئیے جائیں۔
۳۶
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۴
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْقَزَعِ وَهُوَ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ فَتُتْرَكَ لَهُ ذُؤَابَةٌ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کی چوٹی چھوڑ دی جائے۔
۳۷
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ
" احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ " .
" احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو ۔
۳۸
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ لِي ذُؤَابَةٌ فَقَالَتْ لِي أُمِّي لاَ أَجُزُّهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمُدُّهَا وَيَأْخُذُ بِهَا .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چوٹی تھی، میری ماں نے مجھ سے کہا: میں اس کو نہیں کاٹوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ازراہ شفقت ) اسے پکڑ کر کھینچتے تھے۔
۳۹
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۷
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ، قَالَتْ وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ وَقَالَ
" احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ " .
" احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ " .
حجاج بن حسان کا بیان ہے ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، مجھ سے میری بہن مغیرہ نے بیان کیا: تو اس وقت لڑکا تھا اور تیرے سر پر دو چوٹیاں یا دو لٹیں تھیں تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی اور کہا: ان دونوں کو مونڈوا ڈالو، یا انہیں کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔
۴۰
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ " .
" الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالاِسْتِحْدَادُ وَنَتْفُ الإِبْطِ وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ وَقَصُّ الشَّارِبِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا ۔
۴۱
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۱۹۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے خوب کترنے، اور داڑھیوں کے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔
۴۲
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۰
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلْقَ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمَ الأَظْفَارِ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَنَتْفَ الإِبْطِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَنَسٍ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وُقِّتَ لَنَا وَهَذَا أَصَحُّ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں «وقَّتَ لنا» کے بجائے «وُقِّتَ لنا» بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
۴۳
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۱
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَقَرَأَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نُعْفِي السِّبَالَ إِلاَّ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الاِسْتِحْدَادُ حَلْقُ الْعَانَةِ .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «استحداد» کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔
۴۴
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - الْمَعْنَى - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَنْتِفُوا الشَّيْبَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الإِسْلاَمِ " . قَالَ عَنْ سُفْيَانَ " إِلاَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى " إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو ( سفیان کی روایت میں ہے ) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا ( اور یحییٰ کی روایت میں ہے ) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔
۴۵
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
" إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو۔
۴۶
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۴
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" غَيِّرُوا هَذَا بِشَىْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ " .
" غَيِّرُوا هَذَا بِشَىْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ " .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ ( نامی سفید رنگ کے پودے ) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔
۴۷
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۵
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
" إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھی چیز جس سے اس بڑھاپے ( بال کی سفیدی ) کو بدلا جائے حناء ( مہندی ) اور کتم ( وسمہ ) ہے ۔
۴۸
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ - قَالَ حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعُ حِنَّاءَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ .
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں۔
۴۹
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ . قَالَ
" اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا " .
" اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا " .
اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے ( مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے ) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔
۵۰
سنن ابو داؤد # ۳۵/۴۲۰۸
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَأَبِي فَقَالَ لِرَجُلٍ أَوْ لأَبِيهِ " مَنْ هَذَا " . قَالَ ابْنِي . قَالَ " لاَ تَجْنِي عَلَيْهِ " . وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ .
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ وہ بولے: میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہو گی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔