قرآن مجید سے توکّل کے موضوع پر آیات کا انتخاب، کلاسیکی تفسیر سے مختصر تعارف کے ساتھ۔
1. النساء 4:171
اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو نہ کرو1 اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسُوب نہ کرو۔ مسیح عیسٰی ؑ ابنِ مریم ؑ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا2 جو اللہ نے مریم ؑ کی طرف بھیجا اور ایک رُوح تھی اللہ کی طرف سے3 (جس نے مریم کے رِحم میں بچّہ کی شکل اختیار کی) پس تم اللہ اور اُس کے رسُولوں پر ایمان لاوٴ4 اور نہ کہو کہ ”تین“ ہیں۔5 باز آجاوٴ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے۔ اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے۔ وہ بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔6 زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں،7 اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے۔8
تفسیری نکتہ (Tafsir Ibn Kathir): اپنی اوقات میں رہو حد سے تجاوز نہ کرو ! اہل کتاب کو زیادتی سے اور حد سے آگے بڑھ جانے سے اللہ تعالیٰ روک رہا ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کے بارے میں حد سے نکل گئے تھے اور نبوت سے بڑھا کر الوہیت تک پہنچا رہے تھے۔ بجائے ان کی اطاعت کے عبادت کرنے لگے تھے، بلکہ اور بزرگان دین کی نسبت بھی…
2. آل عمران 3:75
اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیربھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا اِلّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتےہیں ”اُمّیوں (غیر یہودی لوگوں) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے“۔1 اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے، آخر کیوں ان سے باز پرس نہ ہو گی؟
تفسیری نکتہ (Tafsir Ibn Kathir): بددیانت یہودی اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودیوں کی خیانت پر تنبیہہ کرتا ہے کہ ان کے دھوکے میں نہ آجائیں ان میں بعض تو امانتدار ہیں اور بعض بڑے خائن ہیں بعض تو ایسے ہیں کہ خزانے کا خزانہ ان کی امانت میں ہو تو جوں کا توں حوالے کردیں گے پھر چھوٹی موٹی چیز میں وہ بددیانتی کیسے کریں گے ؟…
3. المجادلہ 58:8
کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کر دیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا؟ یہ لوگ چُھپ چُھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسُول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اُس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری اِن باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ اُن کے لیے جہنم ہی کافی ہے۔ اُسی کا وہ ایندھن بنیں گے۔ بڑا ہی بُرا انجام ہے اُن کا
تفسیری نکتہ (Tafsir Ibn Kathir): معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس…
4. النساء 4:6
اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔1 پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاوٴ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کردو۔2 ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّ انصاف سے تجاوز کرکے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاوٴ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سر پرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے۔ 3پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے
تفسیری نکتہ (Tafsir Ibn Kathir): وراثت کے مسائل مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کردی کہ وارث تو سب ہوں گے خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد…
5. المائدہ 5:44
ہم نے توراة نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی، جو مُسلِم تھے، اُسی کے مطابق ان یہودی بن جانے والوں کے معاملات1 کا فیصلہ کرتے تھے، اور اِسی طرح ربّانی اور اَحبار بھی 2(اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے گروہِ یہود !) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں
تفسیری نکتہ (Tafsir Ibn Kathir): جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔…
6. الزمر 39:38
اِن لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ اِن سے کہو، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو یا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اُس کی رحمت کو روک سکیں گی؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اُسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
تفسیری نکتہ (Tafsir Ibn Kathir): بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ایک قرأت میں (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36ۚ) 39۔ الزمر :36) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا…
غور و فکر
اوپر دی گئی ہر آیت توکّل کے موضوع کو ایک مختلف زاویے سے دکھاتی ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ان الفاظ پر کچھ دیر غور کیجیے۔