۱۸

الکہف

مکی ۱۱۰ آیات پارہ ۱۵
الكهف
بسم اللہ
بِسْمِ ساتھ نام bis'mi
ساتھ نام
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
ٱلرَّحْمَـٰنِ جو بے حد مہربان ہے l-raḥmāni
جو بے حد مہربان ہے
ٱلرَّحِيمِ بار بار رحم فرمانے والا ہے l-raḥīmi
بار بار رحم فرمانے والا ہے
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱۸:۱
ٱلْحَمْدُ سب تعریف al-ḥamdu
سب تعریف
لِلَّهِ اللہ کے لئے ہے lillahi
اللہ کے لئے ہے
ٱلَّذِىٓ وہ ذات alladhī
وہ ذات
أَنزَلَ جس نے اتارا anzala
جس نے اتارا
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
عَبْدِهِ اپنے بندے ʿabdihi
اپنے بندے
ٱلْكِتَـٰبَ کتاب کو l-kitāba
کتاب کو
وَلَمْ اور نہیں walam
اور نہیں
يَجْعَل بنایا yajʿal
بنایا
لَّهُۥ اس کے لئے lahu
اس کے لئے
عِوَجَاۜ کوئی ٹیڑھا پن ʿiwajā
کوئی ٹیڑھا پن
١ (۱)
(۱)
تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔1
۱۸:۲
قَيِّمًۭا درست کرنے والی ہے qayyiman
درست کرنے والی ہے
لِّيُنذِرَ تاکہ ڈرائے liyundhira
تاکہ ڈرائے
بَأْسًۭا عذاب سے basan
عذاب سے
شَدِيدًۭا سخت shadīdan
سخت
مِّن سے min
سے
لَّدُنْهُ اس کے پاس (سے) ladun'hu
اس کے پاس (سے)
وَيُبَشِّرَ اور خوش خبری دے دے wayubashira
اور خوش خبری دے دے
ٱلْمُؤْمِنِينَ ان مومنوں کو l-mu'minīna
ان مومنوں کو
ٱلَّذِينَ جو alladhīna
جو
يَعْمَلُونَ عمل کرتے ہیں yaʿmalūna
عمل کرتے ہیں
ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ اچھے/ نیک l-ṣāliḥāti
اچھے/ نیک
أَنَّ ہے anna
ہے
لَهُمْ ان کے لئے lahum
ان کے لئے
أَجْرًا اجر ہے ajran
اجر ہے
حَسَنًۭا اچھا ḥasanan
اچھا
٢ (۲)
(۲)
ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے
۱۸:۳
مَّـٰكِثِينَ رہنے والے ہیں mākithīna
رہنے والے ہیں
فِيهِ اس میں fīhi
اس میں
أَبَدًۭا ہمیشہ ہمیشہ abadan
ہمیشہ ہمیشہ
٣ (۳)
(۳)
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
۱۸:۴
وَيُنذِرَ اورڈرائے wayundhira
اورڈرائے
ٱلَّذِينَ ان لوگوں کو alladhīna
ان لوگوں کو
قَالُوا۟ جنہوں نے کہا qālū
جنہوں نے کہا
ٱتَّخَذَ بنا لیا ittakhadha
بنا لیا
ٱللَّهُ اللہ نے l-lahu
اللہ نے
وَلَدًۭا ایک بیٹا/ بچہ waladan
ایک بیٹا/ بچہ
٤ (۴)
(۴)
اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔1
۱۸:۵
مَّا نہیں
نہیں
لَهُم ان کے لئے lahum
ان کے لئے
بِهِۦ اس کا bihi
اس کا
مِنْ کوئی min
کوئی
عِلْمٍۢ علم ʿil'min
علم
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
لِـَٔابَآئِهِمْ ۚ ان کے آباؤ اجداد کے لئے liābāihim
ان کے آباؤ اجداد کے لئے
كَبُرَتْ سبہت بڑی ہے kaburat
سبہت بڑی ہے
كَلِمَةًۭ بات kalimatan
بات
تَخْرُجُ نکلتی ہے takhruju
نکلتی ہے
مِنْ سے min
سے
أَفْوَٰهِهِمْ ۚ ان کے مونہوں (سے) afwāhihim
ان کے مونہوں (سے)
إِن نہیں in
نہیں
يَقُولُونَ وہ کہہ رہے yaqūlūna
وہ کہہ رہے
إِلَّا مگر illā
مگر
كَذِبًۭا ایک جھوٹ kadhiban
ایک جھوٹ
٥ (۵)
(۵)
اِس بات کا نہ اُنھیں کوئی علم ہے اورنہ ان کے باپ دادا کو تھا۔1 بڑی بات ہے جو ان کےمُنہ سے نکلتی ہے۔ وہ محض جھوٹ بکتے ہیں
۱۸:۶
فَلَعَلَّكَ پس شاید کہ آپ falaʿallaka
پس شاید کہ آپ
بَـٰخِعٌۭ ہلاک کرنے والے ہیں bākhiʿun
ہلاک کرنے والے ہیں
نَّفْسَكَ اپنی جان کو nafsaka
اپنی جان کو
عَلَىٰٓ پر ʿalā
پر
ءَاثَـٰرِهِمْ ان کے پیچھے/ ان کے آثار āthārihim
ان کے پیچھے/ ان کے آثار
إِن اگر in
اگر
لَّمْ نہ lam
نہ
يُؤْمِنُوا۟ وہ ایمان لائیں yu'minū
وہ ایمان لائیں
بِهَـٰذَا کے ساتھ bihādhā
کے ساتھ
ٱلْحَدِيثِ اس کلام l-ḥadīthi
اس کلام
أَسَفًا بہت افسوس کرکے asafan
بہت افسوس کرکے
٦ (۶)
(۶)
اچھا، تو اے محمدؐ ،شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔1
۱۸:۷
إِنَّا بیشک ہم نے innā
بیشک ہم نے
جَعَلْنَا بنایا ہم نے jaʿalnā
بنایا ہم نے
مَا جو
جو
عَلَى پر ʿalā
پر
ٱلْأَرْضِ زمین ہے l-arḍi
زمین ہے
زِينَةًۭ خوبصورتی zīnatan
خوبصورتی
لَّهَا اس کے لئے lahā
اس کے لئے
لِنَبْلُوَهُمْ تاکہ ہم آزمائیں ان کو linabluwahum
تاکہ ہم آزمائیں ان کو
أَيُّهُمْ کون سا ان میں سے ayyuhum
کون سا ان میں سے
أَحْسَنُ زیادہ اچھا ہے aḥsanu
زیادہ اچھا ہے
عَمَلًۭا عمل میں ʿamalan
عمل میں
٧ (۷)
(۷)
واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سر و سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے
۱۸:۸
وَإِنَّا اور بیشک ہم wa-innā
اور بیشک ہم
لَجَـٰعِلُونَ البتہ بنانے والے ہیں/ کرنے والے ہیں lajāʿilūna
البتہ بنانے والے ہیں/ کرنے والے ہیں
مَا جو
جو
عَلَيْهَا اس پر ہے ʿalayhā
اس پر ہے
صَعِيدًۭا مٹی/ صاف میدان ṣaʿīdan
مٹی/ صاف میدان
جُرُزًا بنجر/ بالکل ہموار juruzan
بنجر/ بالکل ہموار
٨ (۸)
(۸)
آخرِ کار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔1
۱۸:۹
أَمْ کیا am
کیا
حَسِبْتَ کتم نے سمجھا ḥasib'ta
کتم نے سمجھا
أَنَّ کے anna
کے
أَصْحَـٰبَ بیشک والے aṣḥāba
بیشک والے
ٱلْكَهْفِ کہف والے/ غار والے l-kahfi
کہف والے/ غار والے
وَٱلرَّقِيمِ اور کتبے والے wal-raqīmi
اور کتبے والے
كَانُوا۟ تھے kānū
تھے
مِنْ میں سے min
میں سے
ءَايَـٰتِنَا ہماری بہت نشانیوں āyātinā
ہماری بہت نشانیوں
عَجَبًا عجیب ʿajaban
عجیب
٩ (۹)
(۹)
کیا تم سمجھتے ہو کہ غار1 اور کتبے 2والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟3
۱۸:۱۰
إِذْ جب idh
جب
أَوَى پناہ لی awā
پناہ لی
ٱلْفِتْيَةُ چند نوجوانوں نے l-fit'yatu
چند نوجوانوں نے
إِلَى کی طرف ilā
کی طرف
ٱلْكَهْفِ غار l-kahfi
غار
فَقَالُوا۟ تو کہنے لگے faqālū
تو کہنے لگے
رَبَّنَآ اے ہمارے رب rabbanā
اے ہمارے رب
ءَاتِنَا دے ہم کو ātinā
دے ہم کو
مِن سے min
سے
لَّدُنكَ اپنے پاس ladunka
اپنے پاس
رَحْمَةًۭ رحمت raḥmatan
رحمت
وَهَيِّئْ اور مہیا کر wahayyi
اور مہیا کر
لَنَا ہمارے لئے lanā
ہمارے لئے
مِنْ میں سے min
میں سے
أَمْرِنَا ہمارے معاملے amrinā
ہمارے معاملے
رَشَدًۭا رہنمائی rashadan
رہنمائی
١٠ (۱۰)
(۱۰)
جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ "اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کر دے،"
۱۸:۱۱
فَضَرَبْنَا تو تھپکا ہم نے/ مارا ہم نے faḍarabnā
تو تھپکا ہم نے/ مارا ہم نے
عَلَىٰٓ پر ʿalā
پر
ءَاذَانِهِمْ ان کے کانوں ādhānihim
ان کے کانوں
فِى میں
میں
ٱلْكَهْفِ غار l-kahfi
غار
سِنِينَ کئی سال sinīna
کئی سال
عَدَدًۭا تعداد میں ʿadadan
تعداد میں
١١ (۱۱)
(۱۱)
تو ہم نے انہیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سلا دیا
۱۸:۱۲
ثُمَّ پھر thumma
پھر
بَعَثْنَـٰهُمْ اٹھایا ہم نے ان کو baʿathnāhum
اٹھایا ہم نے ان کو
لِنَعْلَمَ تاکہ ہم جان لیں linaʿlama
تاکہ ہم جان لیں
أَىُّ کون سا ayyu
کون سا
ٱلْحِزْبَيْنِ دو گروہوں میں سے l-ḥiz'bayni
دو گروہوں میں سے
أَحْصَىٰ زیادہ گننے والا ہے aḥṣā
زیادہ گننے والا ہے
لِمَا واسطے اس کے limā
واسطے اس کے
لَبِثُوٓا۟ وہ ٹھہرے رہے labithū
وہ ٹھہرے رہے
أَمَدًۭا مدت کو amadan
مدت کو
١٢ (۱۲)
(۱۲)
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے
۱۸:۱۳
نَّحْنُ ہم naḥnu
ہم
نَقُصُّ ہم سناتے ہیں/ بیان کرتے ہیں naquṣṣu
ہم سناتے ہیں/ بیان کرتے ہیں
عَلَيْكَ آپ پر ʿalayka
آپ پر
نَبَأَهُم ان کی خبر naba-ahum
ان کی خبر
بِٱلْحَقِّ ۚ حق کے ساتھ bil-ḥaqi
حق کے ساتھ
إِنَّهُمْ بیشک وہ innahum
بیشک وہ
فِتْيَةٌ چند نوجوان تھے fit'yatun
چند نوجوان تھے
ءَامَنُوا۟ جو ایمان لائے تھے āmanū
جو ایمان لائے تھے
بِرَبِّهِمْ اپنے رب کے ساتھ birabbihim
اپنے رب کے ساتھ
وَزِدْنَـٰهُمْ اور زیادہ دی تھی ہم نے ان کو wazid'nāhum
اور زیادہ دی تھی ہم نے ان کو
هُدًۭى ہدایت hudan
ہدایت
١٣ (۱۳)
(۱۳)
ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔1 وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اورہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔2
۱۸:۱۴
وَرَبَطْنَا اور باندھ دیا ہم نے warabaṭnā
اور باندھ دیا ہم نے
عَلَىٰ کو ʿalā
کو
قُلُوبِهِمْ ان کے دلوں qulūbihim
ان کے دلوں
إِذْ جب idh
جب
قَامُوا۟ وہ کھڑے ہوئے qāmū
وہ کھڑے ہوئے
فَقَالُوا۟ پھر کہنے لگے faqālū
پھر کہنے لگے
رَبُّنَا رب ہمارا rabbunā
رب ہمارا
رَبُّ رب ہے rabbu
رب ہے
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ آسمانوں کا l-samāwāti
آسمانوں کا
وَٱلْأَرْضِ اور زمین کا wal-arḍi
اور زمین کا
لَن ہرگز نہیں lan
ہرگز نہیں
نَّدْعُوَا۟ ہم پکاریں گے nadʿuwā
ہم پکاریں گے
مِن اس کے min
اس کے
دُونِهِۦٓ سوا dūnihi
سوا
إِلَـٰهًۭا ۖ کسی الٰہ کو ilāhan
کسی الٰہ کو
لَّقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
قُلْنَآ کہی ہم نے qul'nā
کہی ہم نے
إِذًۭا تب idhan
تب
شَطَطًا حق سے دور بات shaṭaṭan
حق سے دور بات
١٤ (۱۴)
(۱۴)
ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کر دیے جب وہ اٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ "ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے"
۱۸:۱۵
هَـٰٓؤُلَآءِ یہ لوگ hāulāi
یہ لوگ
قَوْمُنَا ہماری قوم qawmunā
ہماری قوم
ٱتَّخَذُوا۟ انہوں نے بنالیے ہیں ittakhadhū
انہوں نے بنالیے ہیں
مِن اس کے min
اس کے
دُونِهِۦٓ سوا dūnihi
سوا
ءَالِهَةًۭ ۖ کچھ الٰہ/ معبود ālihatan
کچھ الٰہ/ معبود
لَّوْلَا کیوں نہیں lawlā
کیوں نہیں
يَأْتُونَ وہ لائے yatūna
وہ لائے
عَلَيْهِم ان پر ʿalayhim
ان پر
بِسُلْطَـٰنٍۭ کوئی دلیل bisul'ṭānin
کوئی دلیل
بَيِّنٍۢ ۖ واضح bayyinin
واضح
فَمَنْ تو کون faman
تو کون
أَظْلَمُ زیادہ بڑا ظالم ہے aẓlamu
زیادہ بڑا ظالم ہے
مِمَّنِ اس سے mimmani
اس سے
ٱفْتَرَىٰ جو گھڑ لے if'tarā
جو گھڑ لے
عَلَى پر ʿalā
پر
ٱللَّهِ اللہ l-lahi
اللہ
كَذِبًۭا جھوٹ kadhiban
جھوٹ
١٥ (۱۵)
(۱۵)
(پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) "یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ آخر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟
۱۸:۱۶
وَإِذِ اور جب wa-idhi
اور جب
ٱعْتَزَلْتُمُوهُمْ چھوڑ دیا تم نے ان کو iʿ'tazaltumūhum
چھوڑ دیا تم نے ان کو
وَمَا اور جن کی wamā
اور جن کی
يَعْبُدُونَ عبادت کررہے ہیں yaʿbudūna
عبادت کررہے ہیں
إِلَّا سوائے illā
سوائے
ٱللَّهَ اللہ کے l-laha
اللہ کے
فَأْوُۥٓا۟ پس پناہ لو fawū
پس پناہ لو
إِلَى طرف ilā
طرف
ٱلْكَهْفِ غار کی l-kahfi
غار کی
يَنشُرْ نچھاور کرے گا/ پھیلائے گا yanshur
نچھاور کرے گا/ پھیلائے گا
لَكُمْ تمہارے لیے lakum
تمہارے لیے
رَبُّكُم رب تمہارا rabbukum
رب تمہارا
مِّن میں سے min
میں سے
رَّحْمَتِهِۦ اپنی رحمت raḥmatihi
اپنی رحمت
وَيُهَيِّئْ اور مہیا کرے گا wayuhayyi
اور مہیا کرے گا
لَكُم تمہارے لئے lakum
تمہارے لئے
مِّنْ سے min
سے
أَمْرِكُم تمہارے معاملے میں (سے) amrikum
تمہارے معاملے میں (سے)
مِّرْفَقًۭا سہولت کا سامان mir'faqan
سہولت کا سامان
١٦ (۱۶)
(۱۶)
اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبُودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔1 تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کےلیے سروسامان مہیّا کر دے گا۔“
۱۸:۱۷
۞ وَتَرَى اور تم دیکھتے watarā
اور تم دیکھتے
ٱلشَّمْسَ سورج کو l-shamsa
سورج کو
إِذَا جب idhā
جب
طَلَعَت وہ طلوع ہوتا کہ ṭalaʿat
وہ طلوع ہوتا کہ
تَّزَٰوَرُ وہ بچ جاتا ہے tazāwaru
وہ بچ جاتا ہے
عَن سے ʿan
سے
كَهْفِهِمْ ان کے غار kahfihim
ان کے غار
ذَاتَ to dhāta
to
ٱلْيَمِينِ دائیں جانب l-yamīni
دائیں جانب
وَإِذَا اور جب wa-idhā
اور جب
غَرَبَت غروب ہوتا ہے gharabat
غروب ہوتا ہے
تَّقْرِضُهُمْ کترا جاتا ہے ان کو taqriḍuhum
کترا جاتا ہے ان کو
ذَاتَ to dhāta
to
ٱلشِّمَالِ بائیں جانب l-shimāli
بائیں جانب
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
فِى (lay) in
(lay) in
فَجْوَةٍۢ ایک کشادہ جگہ پر ہیں fajwatin
ایک کشادہ جگہ پر ہیں
مِّنْهُ ۚ اس سے min'hu
اس سے
ذَٰلِكَ یہ dhālika
یہ
مِنْ سے min
سے
ءَايَـٰتِ نشانیوں میں (سے) ہے āyāti
نشانیوں میں (سے) ہے
ٱللَّهِ ۗ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
مَن جسے man
جسے
يَهْدِ ہدایت دے yahdi
ہدایت دے
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
فَهُوَ تو وہی fahuwa
تو وہی
ٱلْمُهْتَدِ ۖ ہدایت پانے والا ہے l-muh'tadi
ہدایت پانے والا ہے
وَمَن اور جس کو waman
اور جس کو
يُضْلِلْ وہ بھٹکادے yuḍ'lil
وہ بھٹکادے
فَلَن تو ہرگز نہیں falan
تو ہرگز نہیں
تَجِدَ تو پائے گا tajida
تو پائے گا
لَهُۥ اس کے لئے lahu
اس کے لئے
وَلِيًّۭا کوئی دوست waliyyan
کوئی دوست
مُّرْشِدًۭا راہ نمائی کرنے والا mur'shidan
راہ نمائی کرنے والا
١٧ (۱۷)
(۱۷)
تم انہیں غار میں دیکھتے1 تو تمہیں یُوں نظر آتا کہ سُورج جب نِکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔2 یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولیِّ مُرشد نہیں پاسکتے
۱۸:۱۸
وَتَحْسَبُهُمْ اور تم سمجھتے ان کو wataḥsabuhum
اور تم سمجھتے ان کو
أَيْقَاظًۭا کہ جاگ رہے ہیں/ جاگتے ayqāẓan
کہ جاگ رہے ہیں/ جاگتے
وَهُمْ حالانکہ وہ wahum
حالانکہ وہ
رُقُودٌۭ ۚ سوئے ہوئے تھے ruqūdun
سوئے ہوئے تھے
وَنُقَلِّبُهُمْ اور ہم الٹا پلٹا رہے تھے ان کو wanuqallibuhum
اور ہم الٹا پلٹا رہے تھے ان کو
ذَاتَ to dhāta
to
ٱلْيَمِينِ دائیں جانب l-yamīni
دائیں جانب
وَذَاتَ and to wadhāta
and to
ٱلشِّمَالِ ۖ اور بائیں جانب l-shimāli
اور بائیں جانب
وَكَلْبُهُم اور ان کا کتا wakalbuhum
اور ان کا کتا
بَـٰسِطٌۭ پھیلائے ہوئے تھا bāsiṭun
پھیلائے ہوئے تھا
ذِرَاعَيْهِ دونوں ہاتھ اپنے dhirāʿayhi
دونوں ہاتھ اپنے
بِٱلْوَصِيدِ ۚ دہلیز پر bil-waṣīdi
دہلیز پر
لَوِ اگر lawi
اگر
ٱطَّلَعْتَ تم جھانکتے iṭṭalaʿta
تم جھانکتے
عَلَيْهِمْ ان پر ʿalayhim
ان پر
لَوَلَّيْتَ البتہ پیٹھ پھیر لیتے lawallayta
البتہ پیٹھ پھیر لیتے
مِنْهُمْ ان سے min'hum
ان سے
فِرَارًۭا بھاگتے ہوئے firāran
بھاگتے ہوئے
وَلَمُلِئْتَ اور البتہ تم بھر دیئے جاتے walamuli'ta
اور البتہ تم بھر دیئے جاتے
مِنْهُمْ ان سے min'hum
ان سے
رُعْبًۭا رعب/خوف کی وجہ سے ruʿ'ban
رعب/خوف کی وجہ سے
١٨ (۱۸)
(۱۸)
تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے۔1 اور ان کا کُتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو اُلٹے پاوٴں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔2
۱۸:۱۹
وَكَذَٰلِكَ اور wakadhālika
اور
بَعَثْنَـٰهُمْ اٹھایا ہم نے ان کو baʿathnāhum
اٹھایا ہم نے ان کو
لِيَتَسَآءَلُوا۟ تاکہ وہ ایک دوسرے سےسوال کریں liyatasāalū
تاکہ وہ ایک دوسرے سےسوال کریں
بَيْنَهُمْ ۚ آپس میں baynahum
آپس میں
قَالَ کہا qāla
کہا
قَآئِلٌۭ والے نے qāilun
والے نے
مِّنْهُمْ ان میں سے min'hum
ان میں سے
كَمْ کتنا kam
کتنا
لَبِثْتُمْ ۖ ٹھہرے تم labith'tum
ٹھہرے تم
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
لَبِثْنَا ٹھہرے ہم labith'nā
ٹھہرے ہم
يَوْمًا ایک دن yawman
ایک دن
أَوْ یا aw
یا
بَعْضَ کچھ حصہ baʿḍa
کچھ حصہ
يَوْمٍۢ ۚ دن کا yawmin
دن کا
قَالُوا۟ وہ کہنے لگے qālū
وہ کہنے لگے
رَبُّكُمْ رب تمہارا rabbukum
رب تمہارا
أَعْلَمُ زیادہ جانتا ہے aʿlamu
زیادہ جانتا ہے
بِمَا جو bimā
جو
لَبِثْتُمْ ٹھہرے تم ساتھ اس کے labith'tum
ٹھہرے تم ساتھ اس کے
فَٱبْعَثُوٓا۟ پس بھیجو fa-ib'ʿathū
پس بھیجو
أَحَدَكُم اپنے میں سے کسی ایک کو aḥadakum
اپنے میں سے کسی ایک کو
بِوَرِقِكُمْ ساتھ اپنے سکے کے/ چاندی کے biwariqikum
ساتھ اپنے سکے کے/ چاندی کے
هَـٰذِهِۦٓ اس hādhihi
اس
إِلَى طرف ilā
طرف
ٱلْمَدِينَةِ شہر کی l-madīnati
شہر کی
فَلْيَنظُرْ پھر چاہیئے کہ دیکھے falyanẓur
پھر چاہیئے کہ دیکھے
أَيُّهَآ کون سا ان میں سے ayyuhā
کون سا ان میں سے
أَزْكَىٰ زیادہ پاکیزہ ہے azkā
زیادہ پاکیزہ ہے
طَعَامًۭا کھانے کے اعتبار سے ṭaʿāman
کھانے کے اعتبار سے
فَلْيَأْتِكُم پس چاہیے کہ لائے تمہارے پاس falyatikum
پس چاہیے کہ لائے تمہارے پاس
بِرِزْقٍۢ کھانا biriz'qin
کھانا
مِّنْهُ اس سے min'hu
اس سے
وَلْيَتَلَطَّفْ اور چاہیے کہ حسن تدبیر سے کام لے/ نرمی کرے walyatalaṭṭaf
اور چاہیے کہ حسن تدبیر سے کام لے/ نرمی کرے
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
يُشْعِرَنَّ جتائے/ خبر دے yush'ʿiranna
جتائے/ خبر دے
بِكُمْ تمہارے بارے میں bikum
تمہارے بارے میں
أَحَدًا کسی ایک کو aḥadan
کسی ایک کو
١٩ (۱۹)
(۱۹)
اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھا بٹھایا1 تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا”کہو، کتنی دیر اس حال میں رہے؟“ دُوسروں نے کہا”شاید دن پھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔“پھروہ بولے”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حال میں گزرا۔ چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سِکّہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کےلیے لائے۔ اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے
۱۸:۲۰
إِنَّهُمْ بیشک وہ innahum
بیشک وہ
إِن اگر in
اگر
يَظْهَرُوا۟ وہ غالب آجائیں yaẓharū
وہ غالب آجائیں
عَلَيْكُمْ تم پر ʿalaykum
تم پر
يَرْجُمُوكُمْ سنگسار کردیں گے تم کو yarjumūkum
سنگسار کردیں گے تم کو
أَوْ یا aw
یا
يُعِيدُوكُمْ لوٹائے جائیں گے تم کو yuʿīdūkum
لوٹائے جائیں گے تم کو
فِى میں
میں
مِلَّتِهِمْ اپنی ملت millatihim
اپنی ملت
وَلَن اور ہرگز نہیں walan
اور ہرگز نہیں
تُفْلِحُوٓا۟ تم فلاح پاؤ گے tuf'liḥū
تم فلاح پاؤ گے
إِذًا تب idhan
تب
أَبَدًۭا کبھی بھی abadan
کبھی بھی
٢٠ (۲۰)
(۲۰)
اگر کہیں اُن لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے، اور ایسا ہوا توہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے"
۱۸:۲۱
وَكَذَٰلِكَ اور اسی طرح wakadhālika
اور اسی طرح
أَعْثَرْنَا ہم نے بتادیا/ ہم نے مطلع کردیا aʿtharnā
ہم نے بتادیا/ ہم نے مطلع کردیا
عَلَيْهِمْ اوپر ان کے ʿalayhim
اوپر ان کے
لِيَعْلَمُوٓا۟ تاکہ وہ جان لیں liyaʿlamū
تاکہ وہ جان لیں
أَنَّ کہ بیشک anna
کہ بیشک
وَعْدَ وعدہ waʿda
وعدہ
ٱللَّهِ اللہ کا l-lahi
اللہ کا
حَقٌّۭ سچا ہے ḥaqqun
سچا ہے
وَأَنَّ اور بیشک wa-anna
اور بیشک
ٱلسَّاعَةَ قیامت کی گھڑی l-sāʿata
قیامت کی گھڑی
لَا نہیں
نہیں
رَيْبَ کوئی شک rayba
کوئی شک
فِيهَآ اس میں fīhā
اس میں
إِذْ جب idh
جب
يَتَنَـٰزَعُونَ وہ جھگڑ رہے تھے yatanāzaʿūna
وہ جھگڑ رہے تھے
بَيْنَهُمْ آپس میں baynahum
آپس میں
أَمْرَهُمْ ۖ اپنے معاملے میں amrahum
اپنے معاملے میں
فَقَالُوا۟ تو انہوں نے کہا faqālū
تو انہوں نے کہا
ٱبْنُوا۟ بناؤ ib'nū
بناؤ
عَلَيْهِم ان پر ʿalayhim
ان پر
بُنْيَـٰنًۭا ۖ ایک عمارت bun'yānan
ایک عمارت
رَّبُّهُمْ ان کا رب rabbuhum
ان کا رب
أَعْلَمُ زیادہ جانتا ہے aʿlamu
زیادہ جانتا ہے
بِهِمْ ۚ ان کو bihim
ان کو
قَالَ کہا qāla
کہا
ٱلَّذِينَ ان لوگوں نے alladhīna
ان لوگوں نے
غَلَبُوا۟ جو غالب تھے ghalabū
جو غالب تھے
عَلَىٰٓ پر ʿalā
پر
أَمْرِهِمْ ان کے معاملے amrihim
ان کے معاملے
لَنَتَّخِذَنَّ البتہ ہم ضرور بنائیں گے lanattakhidhanna
البتہ ہم ضرور بنائیں گے
عَلَيْهِم ان پر ʿalayhim
ان پر
مَّسْجِدًۭا ایک مسجد/ سجدہ گاہ masjidan
ایک مسجد/ سجدہ گاہ
٢١ (۲۱)
(۲۱)
اِس طرح ہم نے اہلِ شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا 1تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آکر رہے گی۔ 2(مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی)اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اِن (اصحابِ کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا”اِن پر ایک دیوار چُن دو، اِن کا ربّ ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے۔3“مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے4 اُنہوں نے کہا”ہم تو اِن پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔“5
۱۸:۲۲
سَيَقُولُونَ عنقریب وہ کہیں گے sayaqūlūna
عنقریب وہ کہیں گے
ثَلَـٰثَةٌۭ تین تھے thalāthatun
تین تھے
رَّابِعُهُمْ چوتھا ان کا rābiʿuhum
چوتھا ان کا
كَلْبُهُمْ ان کا کتا تھا kalbuhum
ان کا کتا تھا
وَيَقُولُونَ اور وہ کہیں گے wayaqūlūna
اور وہ کہیں گے
خَمْسَةٌۭ پانچ تھے khamsatun
پانچ تھے
سَادِسُهُمْ چھٹا ان کا sādisuhum
چھٹا ان کا
كَلْبُهُمْ ان کا کتا تھا kalbuhum
ان کا کتا تھا
رَجْمًۢا پھینکتے ہیں rajman
پھینکتے ہیں
بِٱلْغَيْبِ ۖ بن دیکھے bil-ghaybi
بن دیکھے
وَيَقُولُونَ اور وہ کہیں گے wayaqūlūna
اور وہ کہیں گے
سَبْعَةٌۭ سات تھے sabʿatun
سات تھے
وَثَامِنُهُمْ اور آٹھواں ان کا wathāminuhum
اور آٹھواں ان کا
كَلْبُهُمْ ۚ ان کا کتا تھا kalbuhum
ان کا کتا تھا
قُل کہہ دیجئے qul
کہہ دیجئے
رَّبِّىٓ میرا رب rabbī
میرا رب
أَعْلَمُ زیادہ جانتا ہے aʿlamu
زیادہ جانتا ہے
بِعِدَّتِهِم ان کی گنتی کو biʿiddatihim
ان کی گنتی کو
مَّا نہیں
نہیں
يَعْلَمُهُمْ جانتے ان کو yaʿlamuhum
جانتے ان کو
إِلَّا مگر illā
مگر
قَلِيلٌۭ ۗ بہت کم qalīlun
بہت کم
فَلَا تو نہ falā
تو نہ
تُمَارِ تم جھگڑا کرو tumāri
تم جھگڑا کرو
فِيهِمْ ان کے بارے میں fīhim
ان کے بارے میں
إِلَّا مگر illā
مگر
مِرَآءًۭ جھگڑنا mirāan
جھگڑنا
ظَـٰهِرًۭا ظاہری ẓāhiran
ظاہری
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
تَسْتَفْتِ تم پوچھنا tastafti
تم پوچھنا
فِيهِم ان کے بارے میں fīhim
ان کے بارے میں
مِّنْهُمْ ان میں سے، min'hum
ان میں سے،
أَحَدًۭا کسی ایک سے aḥadan
کسی ایک سے
٢٢ (۲۲)
(۲۲)
کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا تھا۔ اور کچھ دُوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔1 کہو، میرا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پُوچھو۔2
۱۸:۲۳
وَلَا اور ہرگز نہ walā
اور ہرگز نہ
تَقُولَنَّ تم کہنا taqūlanna
تم کہنا
لِشَا۟ىْءٍ کسی چیز کے لئے lishāy'in
کسی چیز کے لئے
إِنِّى بیشک میں innī
بیشک میں
فَاعِلٌۭ میں کرنے والا ہوں fāʿilun
میں کرنے والا ہوں
ذَٰلِكَ اس کو dhālika
اس کو
غَدًا کل ghadan
کل
٢٣ (۲۳)
(۲۳)
اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا
۱۸:۲۴
إِلَّآ مگر illā
مگر
أَن یہ کہ an
یہ کہ
يَشَآءَ چاہے yashāa
چاہے
ٱللَّهُ ۚ اللہ l-lahu
اللہ
وَٱذْكُر اور یاد کرو wa-udh'kur
اور یاد کرو
رَّبَّكَ اپنے رب کو rabbaka
اپنے رب کو
إِذَا جب idhā
جب
نَسِيتَ تم بھول جاؤ nasīta
تم بھول جاؤ
وَقُلْ اور کہہ دیجئے waqul
اور کہہ دیجئے
عَسَىٰٓ امید ہے ʿasā
امید ہے
أَن کہ an
کہ
يَهْدِيَنِ رہنمائی کرے گا میری yahdiyani
رہنمائی کرے گا میری
رَبِّى میرا رب rabbī
میرا رب
لِأَقْرَبَ واسطے زیادہ قریب کے li-aqraba
واسطے زیادہ قریب کے
مِنْ سے min
سے
هَـٰذَا اس hādhā
اس
رَشَدًۭا بھلائی میں/ رہنمائی میں rashadan
بھلائی میں/ رہنمائی میں
٢٤ (۲۴)
(۲۴)
(تم کچھ نہیں کر سکتے)اِلّا یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھُولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے ربّ کو یاد کرو اور کہو”اُمید ہے کہ میرا ربّ اِس معاملےمیں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے 1گا۔“
۱۸:۲۵
وَلَبِثُوا۟ اور وہ ٹھہرے walabithū
اور وہ ٹھہرے
فِى میں
میں
كَهْفِهِمْ اپنے غار kahfihim
اپنے غار
ثَلَـٰثَ تین thalātha
تین
مِا۟ئَةٍۢ سو mi-atin
سو
سِنِينَ سال sinīna
سال
وَٱزْدَادُوا۟ اور وہ بڑھ گئے wa-iz'dādū
اور وہ بڑھ گئے
تِسْعًۭا نو سال tis'ʿan
نو سال
٢٥ (۲۵)
(۲۵)
اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں)۹ سال اور بڑھ گئے ہیں۔1
۱۸:۲۶
قُلِ کہہ دیجئے کہ quli
کہہ دیجئے کہ
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
أَعْلَمُ زیادہ جانتا ہے aʿlamu
زیادہ جانتا ہے
بِمَا ساتھ اس کے bimā
ساتھ اس کے
لَبِثُوا۟ ۖ جو وہ ٹھہرے labithū
جو وہ ٹھہرے
لَهُۥ اسی کے لئے lahu
اسی کے لئے
غَيْبُ غیب ہیں ghaybu
غیب ہیں
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ آسمانوں کے l-samāwāti
آسمانوں کے
وَٱلْأَرْضِ ۖ اور زمین کے wal-arḍi
اور زمین کے
أَبْصِرْ کیا خوب دیکھنے والا ہے abṣir
کیا خوب دیکھنے والا ہے
بِهِۦ [of it] bihi
[of it]
وَأَسْمِعْ ۚ اور کیا خوب سننے والا ہے wa-asmiʿ
اور کیا خوب سننے والا ہے
مَا نہیں ہے
نہیں ہے
لَهُم ان کے لئے lahum
ان کے لئے
مِّن اس کے min
اس کے
دُونِهِۦ سوا dūnihi
سوا
مِن کوئی min
کوئی
وَلِىٍّۢ دوست waliyyin
دوست
وَلَا اور نہیں walā
اور نہیں
يُشْرِكُ وہ شریک کرتا yush'riku
وہ شریک کرتا
فِى میں
میں
حُكْمِهِۦٓ اپنی حکومت ḥuk'mihi
اپنی حکومت
أَحَدًۭا کسی ایک کو aḥadan
کسی ایک کو
٢٦ (۲۶)
(۲۶)
تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا
۱۸:۲۷
وَٱتْلُ اور پڑھئے wa-ut'lu
اور پڑھئے
مَآ جو
جو
أُوحِىَ وحی کیا گیا ūḥiya
وحی کیا گیا
إِلَيْكَ تیری طرف ilayka
تیری طرف
مِن سے min
سے
كِتَابِ کتاب میں (سے) kitābi
کتاب میں (سے)
رَبِّكَ ۖ تیرے رب کی rabbika
تیرے رب کی
لَا نہیں
نہیں
مُبَدِّلَ کوئی بدلنے والا mubaddila
کوئی بدلنے والا
لِكَلِمَـٰتِهِۦ اس کے کلمات کو likalimātihi
اس کے کلمات کو
وَلَن اور ہرگز نہیں walan
اور ہرگز نہیں
تَجِدَ تو پائے گا tajida
تو پائے گا
مِن سے min
سے
دُونِهِۦ اس کے سوا dūnihi
اس کے سوا
مُلْتَحَدًۭا پناہ کی جگہ mul'taḥadan
پناہ کی جگہ
٢٧ (۲۷)
(۲۷)
اے نبیؐ 1، تمہارے ربّ کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جُوں کا تُوں)سُنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردّو بدل کرو گے تو)اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاوٴ گے۔2
۱۸:۲۸
وَٱصْبِرْ اور روک رکھئے wa-iṣ'bir
اور روک رکھئے
نَفْسَكَ اپنے نفس کو nafsaka
اپنے نفس کو
مَعَ ساتھ maʿa
ساتھ
ٱلَّذِينَ ان لوگوں کے alladhīna
ان لوگوں کے
يَدْعُونَ جو پکارتے ہیں yadʿūna
جو پکارتے ہیں
رَبَّهُم اپنے رب کو rabbahum
اپنے رب کو
بِٱلْغَدَوٰةِ صبح کے وقت bil-ghadati
صبح کے وقت
وَٱلْعَشِىِّ اور شام کے وقت wal-ʿashiyi
اور شام کے وقت
يُرِيدُونَ وہ چاہتے ہیں yurīdūna
وہ چاہتے ہیں
وَجْهَهُۥ ۖ اس کا چہرہ/ اس کی ذات wajhahu
اس کا چہرہ/ اس کی ذات
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
تَعْدُ پھیریئے taʿdu
پھیریئے
عَيْنَاكَ اپنی دونوں آنکھوں کو ʿaynāka
اپنی دونوں آنکھوں کو
عَنْهُمْ ان سے ʿanhum
ان سے
تُرِيدُ تم چاہتے ہو turīdu
تم چاہتے ہو
زِينَةَ زینت zīnata
زینت
ٱلْحَيَوٰةِ زندگی کی l-ḥayati
زندگی کی
ٱلدُّنْيَا ۖ دنیا کی l-dun'yā
دنیا کی
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
تُطِعْ تم اطاعت کرو tuṭiʿ
تم اطاعت کرو
مَنْ جس کو man
جس کو
أَغْفَلْنَا غافل کردیا ہم نے aghfalnā
غافل کردیا ہم نے
قَلْبَهُۥ اس کے دل کو qalbahu
اس کے دل کو
عَن of ʿan
of
ذِكْرِنَا اپنے ذکر سے dhik'rinā
اپنے ذکر سے
وَٱتَّبَعَ اور اس نے پیروی کی wa-ittabaʿa
اور اس نے پیروی کی
هَوَىٰهُ اپنی خواہشات کی hawāhu
اپنی خواہشات کی
وَكَانَ اور تھا wakāna
اور تھا
أَمْرُهُۥ اس کا معاملہ amruhu
اس کا معاملہ
فُرُطًۭا حد سے بڑھا ہوا furuṭan
حد سے بڑھا ہوا
٢٨ (۲۸)
(۲۸)
اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے ربّ کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟1 کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو 2جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش ِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔3
۱۸:۲۹
وَقُلِ اور کہہ دیجئے کہ waquli
اور کہہ دیجئے کہ
ٱلْحَقُّ حق l-ḥaqu
حق
مِن سے min
سے
رَّبِّكُمْ ۖ تمہارے رب کی طرف (سے) ہے rabbikum
تمہارے رب کی طرف (سے) ہے
فَمَن تو جو کوئی faman
تو جو کوئی
شَآءَ چاہے shāa
چاہے
فَلْيُؤْمِن پس چاہیے کہ ایمان لے آئے falyu'min
پس چاہیے کہ ایمان لے آئے
وَمَن اور جو waman
اور جو
شَآءَ چاہے shāa
چاہے
فَلْيَكْفُرْ ۚ پس چاہیے کہ کفر کرے falyakfur
پس چاہیے کہ کفر کرے
إِنَّآ بیشک ہم نے innā
بیشک ہم نے
أَعْتَدْنَا تیار کی ہم نے aʿtadnā
تیار کی ہم نے
لِلظَّـٰلِمِينَ ظالموں کے لئے lilẓẓālimīna
ظالموں کے لئے
نَارًا ایک آگ nāran
ایک آگ
أَحَاطَ گھیر لیں گی aḥāṭa
گھیر لیں گی
بِهِمْ ان کو bihim
ان کو
سُرَادِقُهَا ۚ اس کی طنابیں/لپٹیں surādiquhā
اس کی طنابیں/لپٹیں
وَإِن اور اگر wa-in
اور اگر
يَسْتَغِيثُوا۟ وہ فریاد کریں گے yastaghīthū
وہ فریاد کریں گے
يُغَاثُوا۟ فریاد رسی کئے جائیں گے yughāthū
فریاد رسی کئے جائیں گے
بِمَآءٍۢ ساتھ پانی کے bimāin
ساتھ پانی کے
كَٱلْمُهْلِ تیل کی تلچھٹ کی طرح kal-muh'li
تیل کی تلچھٹ کی طرح
يَشْوِى جو بھون ڈالے گا yashwī
جو بھون ڈالے گا
ٱلْوُجُوهَ ۚ چہروں کو l-wujūha
چہروں کو
بِئْسَ کتنی بری ہے bi'sa
کتنی بری ہے
ٱلشَّرَابُ پینے کی چیز l-sharābu
پینے کی چیز
وَسَآءَتْ اور کتنا برا ہے wasāat
اور کتنا برا ہے
مُرْتَفَقًا مقام/ دوستی mur'tafaqan
مقام/ دوستی
٢٩ (۲۹)
(۲۹)
صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے ربّ کی طرف سے ، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔1 ہم نے (انکار کرنے والے)ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔ 2وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا3 اور ان کا منہ بھُون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ!
۱۸:۳۰
إِنَّ بیشک inna
بیشک
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
ءَامَنُوا۟ جو ایمان لائے āmanū
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟ اور انہوں نےعمل کئے waʿamilū
اور انہوں نےعمل کئے
ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ اچھے l-ṣāliḥāti
اچھے
إِنَّا بیشک ہم innā
بیشک ہم
لَا نہیں
نہیں
نُضِيعُ ہم ضائع کرتے nuḍīʿu
ہم ضائع کرتے
أَجْرَ اجر ajra
اجر
مَنْ جو کوئی man
جو کوئی
أَحْسَنَ اچھا کرے aḥsana
اچھا کرے
عَمَلًا عمل کو ʿamalan
عمل کو
٣٠ (۳۰)
(۳۰)
رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے
۱۸:۳۱
أُو۟لَـٰٓئِكَ یہی لوگ ulāika
یہی لوگ
لَهُمْ ان کے لئے lahum
ان کے لئے
جَنَّـٰتُ باغات ہیں jannātu
باغات ہیں
عَدْنٍۢ ہمیشہ کے ʿadnin
ہمیشہ کے
تَجْرِى بہتی ہیں tajrī
بہتی ہیں
مِن سے min
سے
تَحْتِهِمُ ان کے نیچے taḥtihimu
ان کے نیچے
ٱلْأَنْهَـٰرُ نہریں l-anhāru
نہریں
يُحَلَّوْنَ وہ پہنائے جائیں گے yuḥallawna
وہ پہنائے جائیں گے
فِيهَا ان میں fīhā
ان میں
مِنْ میں سے min
میں سے
أَسَاوِرَ کنگنوں asāwira
کنگنوں
مِن کے min
کے
ذَهَبٍۢ سونے dhahabin
سونے
وَيَلْبَسُونَ اور پہنیں گے wayalbasūna
اور پہنیں گے
ثِيَابًا لباس thiyāban
لباس
خُضْرًۭا سبز khuḍ'ran
سبز
مِّن سے min
سے
سُندُسٍۢ باریک ریشم sundusin
باریک ریشم
وَإِسْتَبْرَقٍۢ اور دبیز ریشم سے wa-is'tabraqin
اور دبیز ریشم سے
مُّتَّكِـِٔينَ تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے muttakiīna
تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے
فِيهَا اس میں fīhā
اس میں
عَلَى پر ʿalā
پر
ٱلْأَرَآئِكِ ۚ اونچی مسندوں l-arāiki
اونچی مسندوں
نِعْمَ کتنا اچھا niʿ'ma
کتنا اچھا
ٱلثَّوَابُ بدلہ ہے l-thawābu
بدلہ ہے
وَحَسُنَتْ اور کتنا اچھا ہے waḥasunat
اور کتنا اچھا ہے
مُرْتَفَقًۭا مقام/دوستی mur'tafaqan
مقام/دوستی
٣١ (۳۱)
(۳۱)
ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے،1 باریک ریشم اور اطلس و دیَبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اُونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!
۱۸:۳۲
۞ وَٱضْرِبْ اور بیان کیجئے wa-iḍ'rib
اور بیان کیجئے
لَهُم ان کے لئے lahum
ان کے لئے
مَّثَلًۭا ایک مثال mathalan
ایک مثال
رَّجُلَيْنِ دو لوگوں کی rajulayni
دو لوگوں کی
جَعَلْنَا بنائے ہم نے jaʿalnā
بنائے ہم نے
لِأَحَدِهِمَا ان دونوں میں سے ایک کے لئے li-aḥadihimā
ان دونوں میں سے ایک کے لئے
جَنَّتَيْنِ دو باغ jannatayni
دو باغ
مِنْ کے min
کے
أَعْنَـٰبٍۢ انگوروں aʿnābin
انگوروں
وَحَفَفْنَـٰهُمَا اور گھیر لیا ہم نے ان دونوں کو waḥafafnāhumā
اور گھیر لیا ہم نے ان دونوں کو
بِنَخْلٍۢ کھجوروں کے ساتھ binakhlin
کھجوروں کے ساتھ
وَجَعَلْنَا اور بنائے ہم نے wajaʿalnā
اور بنائے ہم نے
بَيْنَهُمَا ان دونوں کے درمیان baynahumā
ان دونوں کے درمیان
زَرْعًۭا کھیت zarʿan
کھیت
٣٢ (۳۲)
(۳۲)
اے محمدؐ ، اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو۔ دو شخص تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجُور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی
۱۸:۳۳
كِلْتَا دونوں kil'tā
دونوں
ٱلْجَنَّتَيْنِ باغوں نے l-janatayni
باغوں نے
ءَاتَتْ دیئے ātat
دیئے
أُكُلَهَا اپنے پھل ukulahā
اپنے پھل
وَلَمْ اور نہ walam
اور نہ
تَظْلِم کمی کی taẓlim
کمی کی
مِّنْهُ اس میں سے min'hu
اس میں سے
شَيْـًۭٔا ۚ کچھ بھی shayan
کچھ بھی
وَفَجَّرْنَا اور پھاڑ دی ہم نے wafajjarnā
اور پھاڑ دی ہم نے
خِلَـٰلَهُمَا ان دونوں کے بیچ khilālahumā
ان دونوں کے بیچ
نَهَرًۭا ایک نہر naharan
ایک نہر
٣٣ (۳۳)
(۳۳)
دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی اُن باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی
۱۸:۳۴
وَكَانَ اور ہوا wakāna
اور ہوا
لَهُۥ اس کے لئے lahu
اس کے لئے
ثَمَرٌۭ پھل/ نفع thamarun
پھل/ نفع
فَقَالَ تو کہا faqāla
تو کہا
لِصَـٰحِبِهِۦ اپنے ساتھی کو liṣāḥibihi
اپنے ساتھی کو
وَهُوَ اور وہ اس سے wahuwa
اور وہ اس سے
يُحَاوِرُهُۥٓ بات چیت کررہا تھا yuḥāwiruhu
بات چیت کررہا تھا
أَنَا۠ میں anā
میں
أَكْثَرُ زیادہ ہوں aktharu
زیادہ ہوں
مِنكَ تجھ سے minka
تجھ سے
مَالًۭا مال میں mālan
مال میں
وَأَعَزُّ اور زیادہ عزت والا wa-aʿazzu
اور زیادہ عزت والا
نَفَرًۭا اولاد میں nafaran
اولاد میں
٣٤ (۳۴)
(۳۴)
اوراُسے خوب نفع حاصل ہوا یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا "میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں"
۱۸:۳۵
وَدَخَلَ اور وہ داخل ہوا wadakhala
اور وہ داخل ہوا
جَنَّتَهُۥ اپنے باغ میں jannatahu
اپنے باغ میں
وَهُوَ اس حال میں کہ وہ wahuwa
اس حال میں کہ وہ
ظَالِمٌۭ ظلم کرنے والا تھا اپنی جان پر ẓālimun
ظلم کرنے والا تھا اپنی جان پر
لِّنَفْسِهِۦ اپنی ذات پر linafsihi
اپنی ذات پر
قَالَ کہنے لگا qāla
کہنے لگا
مَآ نہیں
نہیں
أَظُنُّ میں سمجھتا aẓunnu
میں سمجھتا
أَن کہ an
کہ
تَبِيدَ ہلاک ہوگا/ برباد ہوگا tabīda
ہلاک ہوگا/ برباد ہوگا
هَـٰذِهِۦٓ یہ hādhihi
یہ
أَبَدًۭا کبھی بھی abadan
کبھی بھی
٣٥ (۳۵)
(۳۵)
پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا”میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی
۱۸:۳۶
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أَظُنُّ میں سمجھتا کہ aẓunnu
میں سمجھتا کہ
ٱلسَّاعَةَ قیامت l-sāʿata
قیامت
قَآئِمَةًۭ آنے والی ہے qāimatan
آنے والی ہے
وَلَئِن اور البتہ اگر wala-in
اور البتہ اگر
رُّدِدتُّ میں لوٹایا گیا rudidttu
میں لوٹایا گیا
إِلَىٰ کی طرف ilā
کی طرف
رَبِّى اپنے رب rabbī
اپنے رب
لَأَجِدَنَّ البتہ میں ضرور پاؤں گا la-ajidanna
البتہ میں ضرور پاؤں گا
خَيْرًۭا بہتر khayran
بہتر
مِّنْهَا اس سے min'hā
اس سے
مُنقَلَبًۭا لوٹنا/ انجام munqalaban
لوٹنا/ انجام
٣٦ (۳۶)
(۳۶)
اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے ربّ کے حضُور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاوٴں گا۔“
۱۸:۳۷
قَالَ کہا qāla
کہا
لَهُۥ اس کو lahu
اس کو
صَاحِبُهُۥ اس کے ساتھ نے ṣāḥibuhu
اس کے ساتھ نے
وَهُوَ اور وہ wahuwa
اور وہ
يُحَاوِرُهُۥٓ اس سے بات کر رہا تھا yuḥāwiruhu
اس سے بات کر رہا تھا
أَكَفَرْتَ کیا تو انکار کرتا ہے akafarta
کیا تو انکار کرتا ہے
بِٱلَّذِى اس ذات کا bi-alladhī
اس ذات کا
خَلَقَكَ جس نے پیدا کیا تجھ کو khalaqaka
جس نے پیدا کیا تجھ کو
مِن سے min
سے
تُرَابٍۢ مٹی turābin
مٹی
ثُمَّ پھر thumma
پھر
مِن سے min
سے
نُّطْفَةٍۢ نطفے nuṭ'fatin
نطفے
ثُمَّ پھر thumma
پھر
سَوَّىٰكَ بنایا تجھ کو sawwāka
بنایا تجھ کو
رَجُلًۭا ایک مرد/ شخص rajulan
ایک مرد/ شخص
٣٧ (۳۷)
(۳۷)
اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اُس سے کہا”کیا تُو کُفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیااور تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا؟
۱۸:۳۸
لَّـٰكِنَّا۠ لیکن lākinnā
لیکن
هُوَ وہ huwa
وہ
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
رَبِّى میرا رب ہے rabbī
میرا رب ہے
وَلَآ اور نہیں walā
اور نہیں
أُشْرِكُ میں شریک ٹھہراتا ush'riku
میں شریک ٹھہراتا
بِرَبِّىٓ اپنے رب کے ساتھ birabbī
اپنے رب کے ساتھ
أَحَدًۭا کسی ایک کو aḥadan
کسی ایک کو
٣٨ (۳۸)
(۳۸)
رہا میں، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
۱۸:۳۹
وَلَوْلَآ اور کیوں نہ walawlā
اور کیوں نہ
إِذْ جب idh
جب
دَخَلْتَ تم داخل ہوئے dakhalta
تم داخل ہوئے
جَنَّتَكَ اپنے باغ میں jannataka
اپنے باغ میں
قُلْتَ کہا تو نے qul'ta
کہا تو نے
مَا جو
جو
شَآءَ چاہے shāa
چاہے
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
لَا نہیں
نہیں
قُوَّةَ قوت quwwata
قوت
إِلَّا مگر illā
مگر
بِٱللَّهِ ۚ ساتھ اللہ کے bil-lahi
ساتھ اللہ کے
إِن اگر in
اگر
تَرَنِ تم دیکھتے ہو مجھ کو tarani
تم دیکھتے ہو مجھ کو
أَنَا۠ میں anā
میں
أَقَلَّ کم تر ہوں aqalla
کم تر ہوں
مِنكَ تجھ سے minka
تجھ سے
مَالًۭا مال میں mālan
مال میں
وَوَلَدًۭا اور اولاد میں wawaladan
اور اولاد میں
٣٩ (۳۹)
(۳۹)
اور جب تُو اپنی جنّت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ، لاقوة اِلّا باللّٰہ؟ اگر تُو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے
۱۸:۴۰
فَعَسَىٰ تو امید ہے کہ faʿasā
تو امید ہے کہ
رَبِّىٓ میرا رب rabbī
میرا رب
أَن کہ an
کہ
يُؤْتِيَنِ دے دے مجھ کو yu'tiyani
دے دے مجھ کو
خَيْرًۭا بہتر khayran
بہتر
مِّن سے min
سے
جَنَّتِكَ تیرے باغ jannatika
تیرے باغ
وَيُرْسِلَ اور بھیجے wayur'sila
اور بھیجے
عَلَيْهَا اس پر ʿalayhā
اس پر
حُسْبَانًۭا ایک عذاب/ آفت ḥus'bānan
ایک عذاب/ آفت
مِّنَ سے mina
سے
ٱلسَّمَآءِ آسمان (سے) l-samāi
آسمان (سے)
فَتُصْبِحَ تو ہوجائے یہ fatuṣ'biḥa
تو ہوجائے یہ
صَعِيدًۭا میدان ṣaʿīdan
میدان
زَلَقًا صاف zalaqan
صاف
٤٠ (۴۰)
(۴۰)
تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے
۱۸:۴۱
أَوْ یا aw
یا
يُصْبِحَ ہوجائے yuṣ'biḥa
ہوجائے
مَآؤُهَا پانی اس کا māuhā
پانی اس کا
غَوْرًۭا گہرا ghawran
گہرا
فَلَن تو ہرگز نہیں falan
تو ہرگز نہیں
تَسْتَطِيعَ تم استطاعت رکھتے tastaṭīʿa
تم استطاعت رکھتے
لَهُۥ اس کے لئے lahu
اس کے لئے
طَلَبًۭا طلب کرنے کی ṭalaban
طلب کرنے کی
٤١ (۴۱)
(۴۱)
یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے"
۱۸:۴۲
وَأُحِيطَ اور وہ گھیر لیا گیا wa-uḥīṭa
اور وہ گھیر لیا گیا
بِثَمَرِهِۦ ساتھ اپنے پھل کے bithamarihi
ساتھ اپنے پھل کے
فَأَصْبَحَ تو ہوگیا/ شروع ہوا fa-aṣbaḥa
تو ہوگیا/ شروع ہوا
يُقَلِّبُ الٹ پلٹ کرنے yuqallibu
الٹ پلٹ کرنے
كَفَّيْهِ اپنی دونوں ہتھیلیاں kaffayhi
اپنی دونوں ہتھیلیاں
عَلَىٰ اوپر ʿalā
اوپر
مَآ جو
جو
أَنفَقَ خرچ کیا تھا اس نے anfaqa
خرچ کیا تھا اس نے
فِيهَا اس میں fīhā
اس میں
وَهِىَ اور وہ wahiya
اور وہ
خَاوِيَةٌ گرا پڑا تھا khāwiyatun
گرا پڑا تھا
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
عُرُوشِهَا اپنی چھتوں ʿurūshihā
اپنی چھتوں
وَيَقُولُ اور وہ کہہ رہا تھا wayaqūlu
اور وہ کہہ رہا تھا
يَـٰلَيْتَنِى اے کاش کہ میں yālaytanī
اے کاش کہ میں
لَمْ نہ lam
نہ
أُشْرِكْ میں شریک ٹھہراتا ush'rik
میں شریک ٹھہراتا
بِرَبِّىٓ اپنے رب کے ساتھ birabbī
اپنے رب کے ساتھ
أَحَدًۭا کسی ایک کو aḥadan
کسی ایک کو
٤٢ (۴۲)
(۴۲)
آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ "کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا"
۱۸:۴۳
وَلَمْ اور نہ walam
اور نہ
تَكُن تھی takun
تھی
لَّهُۥ اس کے لئے lahu
اس کے لئے
فِئَةٌۭ کوئی جماعت fi-atun
کوئی جماعت
يَنصُرُونَهُۥ جو مدد کرتی اس کی yanṣurūnahu
جو مدد کرتی اس کی
مِن other than min
other than
دُونِ سوا dūni
سوا
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
وَمَا اور نہ تھا wamā
اور نہ تھا
كَانَ وہ kāna
وہ
مُنتَصِرًا اپنی مدد کرنے والا/ بدلہ لینے والا muntaṣiran
اپنی مدد کرنے والا/ بدلہ لینے والا
٤٣ (۴۳)
(۴۳)
نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ
۱۸:۴۴
هُنَالِكَ اسی جگہ hunālika
اسی جگہ
ٱلْوَلَـٰيَةُ مدد l-walāyatu
مدد
لِلَّهِ اللہ ہی کے لئے lillahi
اللہ ہی کے لئے
ٱلْحَقِّ ۚ برحق l-ḥaqi
برحق
هُوَ وہ huwa
وہ
خَيْرٌۭ بہتر ہے khayrun
بہتر ہے
ثَوَابًۭا بدلے کے اعتبار سے thawāban
بدلے کے اعتبار سے
وَخَيْرٌ اور بہتر ہے wakhayrun
اور بہتر ہے
عُقْبًۭا انجام کے اعتبار سے ʿuq'ban
انجام کے اعتبار سے
٤٤ (۴۴)
(۴۴)
اُس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لیے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے
۱۸:۴۵
وَٱضْرِبْ اور بیان کرو wa-iḍ'rib
اور بیان کرو
لَهُم ان کے لئے lahum
ان کے لئے
مَّثَلَ مثال mathala
مثال
ٱلْحَيَوٰةِ زندگی کی l-ḥayati
زندگی کی
ٱلدُّنْيَا دنیا کی l-dun'yā
دنیا کی
كَمَآءٍ جیسے پانی kamāin
جیسے پانی
أَنزَلْنَـٰهُ اتارا ہم نے اس کو anzalnāhu
اتارا ہم نے اس کو
مِنَ سے mina
سے
ٱلسَّمَآءِ آسمان l-samāi
آسمان
فَٱخْتَلَطَ تو رَل مل گئی fa-ikh'talaṭa
تو رَل مل گئی
بِهِۦ ساتھ اس پانی کے bihi
ساتھ اس پانی کے
نَبَاتُ نباتات nabātu
نباتات
ٱلْأَرْضِ زمین کی l-arḍi
زمین کی
فَأَصْبَحَ تو وہ ہوگئی fa-aṣbaḥa
تو وہ ہوگئی
هَشِيمًۭا ریزہ ریزہ hashīman
ریزہ ریزہ
تَذْرُوهُ اڑاتی ہیں اس کو tadhrūhu
اڑاتی ہیں اس کو
ٱلرِّيَـٰحُ ۗ ہوائیں l-riyāḥu
ہوائیں
وَكَانَ اور ہے wakāna
اور ہے
ٱللَّهُ اللہ تعالیٰ l-lahu
اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
كُلِّ ہر kulli
ہر
شَىْءٍۢ چیز shayin
چیز
مُّقْتَدِرًا قدرت رکھنے والا muq'tadiran
قدرت رکھنے والا
٤٥ (۴۵)
(۴۵)
اور اے نبی ؐ ، اِنہیں حیاتِ دُنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاوٴ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خُوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اُڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
۱۸:۴۶
ٱلْمَالُ مال al-mālu
مال
وَٱلْبَنُونَ اور بیٹے wal-banūna
اور بیٹے
زِينَةُ رونق ہیں zīnatu
رونق ہیں
ٱلْحَيَوٰةِ زندگی کی l-ḥayati
زندگی کی
ٱلدُّنْيَا ۖ دنیا کی l-dun'yā
دنیا کی
وَٱلْبَـٰقِيَـٰتُ اور باقی رہنے والیاں wal-bāqiyātu
اور باقی رہنے والیاں
ٱلصَّـٰلِحَـٰتُ نیکیاں ہیں l-ṣāliḥātu
نیکیاں ہیں
خَيْرٌ جو بہتر ہیں khayrun
جو بہتر ہیں
عِندَ نزدیک ʿinda
نزدیک
رَبِّكَ تیرے رب کے rabbika
تیرے رب کے
ثَوَابًۭا ثواب کے اعتبار سے thawāban
ثواب کے اعتبار سے
وَخَيْرٌ اور بہتر ہیں wakhayrun
اور بہتر ہیں
أَمَلًۭا امید کے اعتبار سے amalan
امید کے اعتبار سے
٤٦ (۴۶)
(۴۶)
یہ مال اور یہ اولاد محض دُنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی اُمّیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں
۱۸:۴۷
وَيَوْمَ اور جس دن wayawma
اور جس دن
نُسَيِّرُ ہم چلائیں گے nusayyiru
ہم چلائیں گے
ٱلْجِبَالَ پہاڑوں کو l-jibāla
پہاڑوں کو
وَتَرَى اور تم دیکھو گے watarā
اور تم دیکھو گے
ٱلْأَرْضَ زمین کو l-arḍa
زمین کو
بَارِزَةًۭ کھلی ہوئی/ ظاہر bārizatan
کھلی ہوئی/ ظاہر
وَحَشَرْنَـٰهُمْ اور اکٹھا کرلیں گے ان کو waḥasharnāhum
اور اکٹھا کرلیں گے ان کو
فَلَمْ پھر نہیں falam
پھر نہیں
نُغَادِرْ ہم چھوڑیں گے nughādir
ہم چھوڑیں گے
مِنْهُمْ ان میں سے min'hum
ان میں سے
أَحَدًۭا کسی ایک کو aḥadan
کسی ایک کو
٤٧ (۴۷)
(۴۷)
فکر اُس دن کی ہونی چاہیے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، اور تم زمین کو بالکل برہنہ پاوٴ گے، اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے)ایک بھی نہ چھُوٹے گا،
۱۸:۴۸
وَعُرِضُوا۟ اور وہ پیش کئے جائیں گے waʿuriḍū
اور وہ پیش کئے جائیں گے
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
رَبِّكَ تیرے رب rabbika
تیرے رب
صَفًّۭا صف در صف ṣaffan
صف در صف
لَّقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
جِئْتُمُونَا آگئے تم ہمارے پاس ji'tumūnā
آگئے تم ہمارے پاس
كَمَا جیسا کہ kamā
جیسا کہ
خَلَقْنَـٰكُمْ پیدا کیا تھا ہم نے تم کو khalaqnākum
پیدا کیا تھا ہم نے تم کو
أَوَّلَ پہلی بار/ پہلی مرتبہ awwala
پہلی بار/ پہلی مرتبہ
مَرَّةٍۭ ۚ پہلی بار/ پہلی مرتبہ marratin
پہلی بار/ پہلی مرتبہ
بَلْ بلکہ bal
بلکہ
زَعَمْتُمْ سمجھا تم نے/ گمان کیا تم نے zaʿamtum
سمجھا تم نے/ گمان کیا تم نے
أَلَّن کہ ہرگز نہیں allan
کہ ہرگز نہیں
نَّجْعَلَ ہم نے بنایا najʿala
ہم نے بنایا
لَكُم تمہارے لئے lakum
تمہارے لئے
مَّوْعِدًۭا کوئی وعدے کا وقت mawʿidan
کوئی وعدے کا وقت
٤٨ (۴۸)
(۴۸)
اور سب کے سب تمہارے ربّ کے حضُور صف در صف پیش کیے جائیں گے۔۔۔۔ لو دیکھ لو، آگئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے
۱۸:۴۹
وَوُضِعَ اور رکھ دی جائے گی wawuḍiʿa
اور رکھ دی جائے گی
ٱلْكِتَـٰبُ کتاب l-kitābu
کتاب
فَتَرَى تو تم دیکھو گے fatarā
تو تم دیکھو گے
ٱلْمُجْرِمِينَ مجرموں کو l-muj'rimīna
مجرموں کو
مُشْفِقِينَ ڈر رہے ہوں گے mush'fiqīna
ڈر رہے ہوں گے
مِمَّا اس کے بارے میں جو mimmā
اس کے بارے میں جو
فِيهِ اس میں ہے fīhi
اس میں ہے
وَيَقُولُونَ اور وہ کہیں گے wayaqūlūna
اور وہ کہیں گے
يَـٰوَيْلَتَنَا ہائے افسوس ہم پر yāwaylatanā
ہائے افسوس ہم پر
مَالِ کیا ہوگیا māli
کیا ہوگیا
هَـٰذَا اس hādhā
اس
ٱلْكِتَـٰبِ کتاب کو l-kitābi
کتاب کو
لَا نہیں
نہیں
يُغَادِرُ چھوڑا اس نے yughādiru
چھوڑا اس نے
صَغِيرَةًۭ کسی چھوٹی چیز کو ṣaghīratan
کسی چھوٹی چیز کو
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
كَبِيرَةً کسی بڑی چیز کو kabīratan
کسی بڑی چیز کو
إِلَّآ مگر illā
مگر
أَحْصَىٰهَا ۚ اس نے گھیر رکھا ہے اس کو/ شمار کر رکھا ہے اس کو aḥṣāhā
اس نے گھیر رکھا ہے اس کو/ شمار کر رکھا ہے اس کو
وَوَجَدُوا۟ اور وہ پالیں گے wawajadū
اور وہ پالیں گے
مَا جو
جو
عَمِلُوا۟ انہوں نے عمل کئے ʿamilū
انہوں نے عمل کئے
حَاضِرًۭا ۗ حاضر ḥāḍiran
حاضر
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
يَظْلِمُ ظلم کرے گا yaẓlimu
ظلم کرے گا
رَبُّكَ تیرا رب rabbuka
تیرا رب
أَحَدًۭا کسی ایک پر aḥadan
کسی ایک پر
٤٩ (۴۹)
(۴۹)
اور نامہٴ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اُس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ کی گئی ہو۔ جو جو کچھ اُنہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا ربّ کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔
۱۸:۵۰
وَإِذْ اور جب wa-idh
اور جب
قُلْنَا کہا ہم نے qul'nā
کہا ہم نے
لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ فرشتوں سے lil'malāikati
فرشتوں سے
ٱسْجُدُوا۟ سجدہ کرو us'judū
سجدہ کرو
لِـَٔادَمَ آدم (علیہ السلام) کے لئے liādama
آدم (علیہ السلام) کے لئے
فَسَجَدُوٓا۟ تو ان سب نے سجدہ کیا fasajadū
تو ان سب نے سجدہ کیا
إِلَّآ سوائے illā
سوائے
إِبْلِيسَ ابلیس کے ib'līsa
ابلیس کے
كَانَ تھا وہ kāna
تھا وہ
مِنَ میں سے mina
میں سے
ٱلْجِنِّ جنوں l-jini
جنوں
فَفَسَقَ تو اس نے نافرمانی کی fafasaqa
تو اس نے نافرمانی کی
عَنْ against ʿan
against
أَمْرِ حکم سے amri
حکم سے
رَبِّهِۦٓ ۗ اپنے رب کے rabbihi
اپنے رب کے
أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ کیا بھلا تم بناتے ہو اس کو afatattakhidhūnahu
کیا بھلا تم بناتے ہو اس کو
وَذُرِّيَّتَهُۥٓ اور اس کی اولاد کو wadhurriyyatahu
اور اس کی اولاد کو
أَوْلِيَآءَ دوست/ مددگار awliyāa
دوست/ مددگار
مِن other than Me min
other than Me
دُونِى میرے سوا/ مجھے چھوڑ کر dūnī
میرے سوا/ مجھے چھوڑ کر
وَهُمْ حالانکہ وہ wahum
حالانکہ وہ
لَكُمْ تمہارے لئے lakum
تمہارے لئے
عَدُوٌّۢ ۚ دشمن ہے ʿaduwwun
دشمن ہے
بِئْسَ کتنا برا ہے bi'sa
کتنا برا ہے
لِلظَّـٰلِمِينَ ظالموں کے لئے lilẓẓālimīna
ظالموں کے لئے
بَدَلًۭا بدل badalan
بدل
٥٠ (۵۰)
(۵۰)
یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ جِنّوں میں سے تھا اس لیے اپنے ربّ کے حکم کی اطاعت سے نِکل گیا۔ اب کیا تم مجھے چھوڑ کو اُس کو اور اُس کی ذُرّیّت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دُشمن ہیں؟ بڑا ہی بُرا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں
۱۸:۵۱
۞ مَّآ Not
Not
أَشْهَدتُّهُمْ میں نے حاضر کیا تھا ان کو ashhadttuhum
میں نے حاضر کیا تھا ان کو
خَلْقَ پیدائش میں khalqa
پیدائش میں
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ آسمانوں کی l-samāwāti
آسمانوں کی
وَٱلْأَرْضِ اور زمین کی wal-arḍi
اور زمین کی
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
خَلْقَ پیدائش میں khalqa
پیدائش میں
أَنفُسِهِمْ ان کے نفسوں کی anfusihim
ان کے نفسوں کی
وَمَا اور نہیں wamā
اور نہیں
كُنتُ ہوں میں kuntu
ہوں میں
مُتَّخِذَ بنانے والا muttakhidha
بنانے والا
ٱلْمُضِلِّينَ گمراہ کرنے والوں کو l-muḍilīna
گمراہ کرنے والوں کو
عَضُدًۭا مددگار ʿaḍudan
مددگار
٥١ (۵۱)
(۵۱)
میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت اُن کو نہیں بُلایا تھا اور نہ خود اُن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مدد گار بنایا کروں
۱۸:۵۲
وَيَوْمَ اور جس دن wayawma
اور جس دن
يَقُولُ وہ کہے گا yaqūlu
وہ کہے گا
نَادُوا۟ پکارو nādū
پکارو
شُرَكَآءِىَ میرے شریکوں کو shurakāiya
میرے شریکوں کو
ٱلَّذِينَ وہ لوگ جنہیں alladhīna
وہ لوگ جنہیں
زَعَمْتُمْ گمان کرتے تھے تم zaʿamtum
گمان کرتے تھے تم
فَدَعَوْهُمْ وہ پکاریں گے ان کو fadaʿawhum
وہ پکاریں گے ان کو
فَلَمْ پس نہ falam
پس نہ
يَسْتَجِيبُوا۟ وہ جواب دیں گے yastajībū
وہ جواب دیں گے
لَهُمْ ان کو lahum
ان کو
وَجَعَلْنَا اور ہم بنادیں گے wajaʿalnā
اور ہم بنادیں گے
بَيْنَهُم ان کے درمیان baynahum
ان کے درمیان
مَّوْبِقًۭا ہلاکت کی جگہ mawbiqan
ہلاکت کی جگہ
٥٢ (۵۲)
(۵۲)
پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جبکہ اِن کا ربّ اِن سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنھیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔ یہ اُن کو پکاریں گے ، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے۔
۱۸:۵۳
وَرَءَا اور دیکھیں گے waraā
اور دیکھیں گے
ٱلْمُجْرِمُونَ مجرم l-muj'rimūna
مجرم
ٱلنَّارَ آگ کو l-nāra
آگ کو
فَظَنُّوٓا۟ تو وہ سمجھ لیں گے faẓannū
تو وہ سمجھ لیں گے
أَنَّهُم بیشک وہ annahum
بیشک وہ
مُّوَاقِعُوهَا گرنے والے ہیں اس میں muwāqiʿūhā
گرنے والے ہیں اس میں
وَلَمْ اور وہ نہ walam
اور وہ نہ
يَجِدُوا۟ پائیں گے yajidū
پائیں گے
عَنْهَا اس سے ʿanhā
اس سے
مَصْرِفًۭا لوٹنے کی جگہ/ بچنے کا راستہ maṣrifan
لوٹنے کی جگہ/ بچنے کا راستہ
٥٣ (۵۳)
(۵۳)
سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اورسمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے
۱۸:۵۴
وَلَقَدْ اور البتہ تحقیق walaqad
اور البتہ تحقیق
صَرَّفْنَا پھیر پھیر کے بیان کیں ہم نے ṣarrafnā
پھیر پھیر کے بیان کیں ہم نے
فِى میں
میں
هَـٰذَا اس hādhā
اس
ٱلْقُرْءَانِ قرآن l-qur'āni
قرآن
لِلنَّاسِ لوگوں کے لئے lilnnāsi
لوگوں کے لئے
مِن of min
of
كُلِّ ہر طرح کی kulli
ہر طرح کی
مَثَلٍۢ ۚ مثال میں سے mathalin
مثال میں سے
وَكَانَ اور ہے wakāna
اور ہے
ٱلْإِنسَـٰنُ انسان l-insānu
انسان
أَكْثَرَ زیادہ akthara
زیادہ
شَىْءٍۢ ہر چیز سے shayin
ہر چیز سے
جَدَلًۭا جھگڑنے والا jadalan
جھگڑنے والا
٥٤ (۵۴)
(۵۴)
ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے
۱۸:۵۵
وَمَا اور نہیں wamā
اور نہیں
مَنَعَ روکا manaʿa
روکا
ٱلنَّاسَ لوگوں کو l-nāsa
لوگوں کو
أَن کہ an
کہ
يُؤْمِنُوٓا۟ وہ ایمان لائیں yu'minū
وہ ایمان لائیں
إِذْ جب idh
جب
جَآءَهُمُ آئی ان کے پاس jāahumu
آئی ان کے پاس
ٱلْهُدَىٰ ہدایت l-hudā
ہدایت
وَيَسْتَغْفِرُوا۟ اور بخشش مانگیں wayastaghfirū
اور بخشش مانگیں
رَبَّهُمْ اپنے رب سے rabbahum
اپنے رب سے
إِلَّآ مگر illā
مگر
أَن یہ کہ an
یہ کہ
تَأْتِيَهُمْ آجائے ان کے پاس tatiyahum
آجائے ان کے پاس
سُنَّةُ طریقہ sunnatu
طریقہ
ٱلْأَوَّلِينَ پہلوں کا l-awalīna
پہلوں کا
أَوْ یا aw
یا
يَأْتِيَهُمُ آئے ان کے پاس yatiyahumu
آئے ان کے پاس
ٱلْعَذَابُ عذاب l-ʿadhābu
عذاب
قُبُلًۭا سامنے سے qubulan
سامنے سے
٥٥ (۵۵)
(۵۵)
اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے ربّ کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کو کس چیز نے روک دیا ؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کےساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں!
۱۸:۵۶
وَمَا اور نہیں wamā
اور نہیں
نُرْسِلُ ہم بھیجتے nur'silu
ہم بھیجتے
ٱلْمُرْسَلِينَ رسولوں کو l-mur'salīna
رسولوں کو
إِلَّا مگر illā
مگر
مُبَشِّرِينَ خوش خبری دینے والے mubashirīna
خوش خبری دینے والے
وَمُنذِرِينَ ۚ اور ڈرانے والے wamundhirīna
اور ڈرانے والے
وَيُجَـٰدِلُ اور جھگڑتے ہیں wayujādilu
اور جھگڑتے ہیں
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
كَفَرُوا۟ جنہوں نے کفر کیا kafarū
جنہوں نے کفر کیا
بِٱلْبَـٰطِلِ ساتھ باطل کے bil-bāṭili
ساتھ باطل کے
لِيُدْحِضُوا۟ تاکہ زائل کردیں/ پھسلا دیں liyud'ḥiḍū
تاکہ زائل کردیں/ پھسلا دیں
بِهِ ساتھ اس کے bihi
ساتھ اس کے
ٱلْحَقَّ ۖ حق کو l-ḥaqa
حق کو
وَٱتَّخَذُوٓا۟ اور انہوں نے بنالیا wa-ittakhadhū
اور انہوں نے بنالیا
ءَايَـٰتِى میری آیات کو āyātī
میری آیات کو
وَمَآ اور جس سے wamā
اور جس سے
أُنذِرُوا۟ وہ ڈرائے گئے undhirū
وہ ڈرائے گئے
هُزُوًۭا مذاق huzuwan
مذاق
٥٦ (۵۶)
(۵۶)
رسُولوں کو ہم اس کا م کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دیں گے۔ مگر کافروں کا حال یہ ہےکہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اُنہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے
۱۸:۵۷
وَمَنْ اور کون waman
اور کون
أَظْلَمُ بڑا ظالم ہے aẓlamu
بڑا ظالم ہے
مِمَّن اس سے جو mimman
اس سے جو
ذُكِّرَ نصیحت کیا گیا dhukkira
نصیحت کیا گیا
بِـَٔايَـٰتِ آیات کے biāyāti
آیات کے
رَبِّهِۦ اپنے رب کی rabbihi
اپنے رب کی
فَأَعْرَضَ ذریعے پھر اسنے اعراض برتا fa-aʿraḍa
ذریعے پھر اسنے اعراض برتا
عَنْهَا اس سے ʿanhā
اس سے
وَنَسِىَ اور بھول گیا wanasiya
اور بھول گیا
مَا جو
جو
قَدَّمَتْ آگے بھیجا qaddamat
آگے بھیجا
يَدَاهُ ۚ اس کے دونوں ہاتھوں نے yadāhu
اس کے دونوں ہاتھوں نے
إِنَّا بیشک ہم نے innā
بیشک ہم نے
جَعَلْنَا ، بنائے ہم نے jaʿalnā
، بنائے ہم نے
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
قُلُوبِهِمْ ان کے دلوں (پر) qulūbihim
ان کے دلوں (پر)
أَكِنَّةً غلاف akinnatan
غلاف
أَن کہ an
کہ
يَفْقَهُوهُ سمجھ سکیں وہ اس کو yafqahūhu
سمجھ سکیں وہ اس کو
وَفِىٓ اور ان کے wafī
اور ان کے
ءَاذَانِهِمْ کانوں میں ādhānihim
کانوں میں
وَقْرًۭا ۖ بوجھ کو waqran
بوجھ کو
وَإِن اور اگر wa-in
اور اگر
تَدْعُهُمْ تم پکارو/ بلاؤ ان کو tadʿuhum
تم پکارو/ بلاؤ ان کو
إِلَى طرف ilā
طرف
ٱلْهُدَىٰ ہدایت کی l-hudā
ہدایت کی
فَلَن تو ہرگزنہ falan
تو ہرگزنہ
يَهْتَدُوٓا۟ ہدایت پائیں گے yahtadū
ہدایت پائیں گے
إِذًا تب idhan
تب
أَبَدًۭا کبھی بھی abadan
کبھی بھی
٥٧ (۵۷)
(۵۷)
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اُس کے ربّ کی آیات سُناکر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منہ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے جس کا سروسامان اُس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟(جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے)ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور اُن کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کر دی ہے۔ تم انھیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بُلاوٴ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔
۱۸:۵۸
وَرَبُّكَ اور رب تیرا warabbuka
اور رب تیرا
ٱلْغَفُورُ بخشنے والا ہے l-ghafūru
بخشنے والا ہے
ذُو Owner dhū
Owner
ٱلرَّحْمَةِ ۖ صاحب رحمت ہے l-raḥmati
صاحب رحمت ہے
لَوْ اگر law
اگر
يُؤَاخِذُهُم وہ پکڑے ان کو yuākhidhuhum
وہ پکڑے ان کو
بِمَا بوجہ اس کے جو bimā
بوجہ اس کے جو
كَسَبُوا۟ انہوں نے کمائی کی kasabū
انہوں نے کمائی کی
لَعَجَّلَ البتہ جلدی دے گا laʿajjala
البتہ جلدی دے گا
لَهُمُ ان کو lahumu
ان کو
ٱلْعَذَابَ ۚ عذاب l-ʿadhāba
عذاب
بَل بلکہ bal
بلکہ
لَّهُم ان کے لئے lahum
ان کے لئے
مَّوْعِدٌۭ وعدے کا ایک وقت ہے mawʿidun
وعدے کا ایک وقت ہے
لَّن ہرگز نہ lan
ہرگز نہ
يَجِدُوا۟ پائیں گے yajidū
پائیں گے
مِن other than it min
other than it
دُونِهِۦ اس کے سوا dūnihi
اس کے سوا
مَوْئِلًۭا لوٹنے کی جگہ mawilan
لوٹنے کی جگہ
٥٨ (۵۸)
(۵۸)
تیرا ربّ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتُوتوں پر انھیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔
۱۸:۵۹
وَتِلْكَ اور یہ watil'ka
اور یہ
ٱلْقُرَىٰٓ بستیاں l-qurā
بستیاں
أَهْلَكْنَـٰهُمْ ہلاک کیا ہم نے ان کو ahlaknāhum
ہلاک کیا ہم نے ان کو
لَمَّا جب lammā
جب
ظَلَمُوا۟ انہوں نے ظلم کیا ẓalamū
انہوں نے ظلم کیا
وَجَعَلْنَا اور بنایا ہم نے wajaʿalnā
اور بنایا ہم نے
لِمَهْلِكِهِم ان کی ہلاکت کے لئے limahlikihim
ان کی ہلاکت کے لئے
مَّوْعِدًۭا ایک مقررہ وقت mawʿidan
ایک مقررہ وقت
٥٩ (۵۹)
(۵۹)
یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا
۱۸:۶۰
وَإِذْ اور جب wa-idh
اور جب
قَالَ کہا qāla
کہا
مُوسَىٰ موسیٰ (علیہ السلام) نے mūsā
موسیٰ (علیہ السلام) نے
لِفَتَىٰهُ اپنے نوجوان کو/ غلام کو/ خادم کو lifatāhu
اپنے نوجوان کو/ غلام کو/ خادم کو
لَآ نہ
نہ
أَبْرَحُ میں پلٹوں گا/ نہ میں پھروں گا abraḥu
میں پلٹوں گا/ نہ میں پھروں گا
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
أَبْلُغَ میں پہنچ جاؤں ablugha
میں پہنچ جاؤں
مَجْمَعَ جمع ہونے کی جگہ majmaʿa
جمع ہونے کی جگہ
ٱلْبَحْرَيْنِ دو دریاؤں کے l-baḥrayni
دو دریاؤں کے
أَوْ یا aw
یا
أَمْضِىَ میں چلتا رہوں گا amḍiya
میں چلتا رہوں گا
حُقُبًۭا برسوں/ مدتوں ḥuquban
برسوں/ مدتوں
٦٠ (۶۰)
(۶۰)
(ذرا ان کو وہ قصہ سُناوٴ جو موسیٰؑ کو پیش آیا تھا)جب کہ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا تھاکہ”میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاوٴں کے سنگم پر نہ پہنچ جاوٴں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔“
۱۸:۶۱
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
بَلَغَا وہ دونوں پہنچے balaghā
وہ دونوں پہنچے
مَجْمَعَ سنگم پر/جمع ہونے کی جگہ پر majmaʿa
سنگم پر/جمع ہونے کی جگہ پر
بَيْنِهِمَا درمیان ان دو دریاؤں کے baynihimā
درمیان ان دو دریاؤں کے
نَسِيَا تو دونوں بھول گئے nasiyā
تو دونوں بھول گئے
حُوتَهُمَا اپنی مچھلی کو ḥūtahumā
اپنی مچھلی کو
فَٱتَّخَذَ پس اس نے بنا لیا fa-ittakhadha
پس اس نے بنا لیا
سَبِيلَهُۥ اپنا راستہ sabīlahu
اپنا راستہ
فِى میں
میں
ٱلْبَحْرِ سمندر l-baḥri
سمندر
سَرَبًۭا سرنگ کی طرح saraban
سرنگ کی طرح
٦١ (۶۱)
(۶۱)
پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہو گئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سرنگ لگی ہو
۱۸:۶۲
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
جَاوَزَا وہ آگے بڑھے jāwazā
وہ آگے بڑھے
قَالَ کہا qāla
کہا
لِفَتَىٰهُ اپنے خادم سے lifatāhu
اپنے خادم سے
ءَاتِنَا لائیے ہمارے پاس ātinā
لائیے ہمارے پاس
غَدَآءَنَا ہمارا ناشتہ/ دوپہر کا کھانا ghadāanā
ہمارا ناشتہ/ دوپہر کا کھانا
لَقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
لَقِينَا ملاقات کی ہم نے laqīnā
ملاقات کی ہم نے
مِن سے min
سے
سَفَرِنَا اس سفر safarinā
اس سفر
هَـٰذَا اپنے hādhā
اپنے
نَصَبًۭا تھکاوٹ سے naṣaban
تھکاوٹ سے
٦٢ (۶۲)
(۶۲)
آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا " لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں"
۱۸:۶۳
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
أَرَءَيْتَ ، کیا دیکھا تم نے ara-ayta
، کیا دیکھا تم نے
إِذْ جب idh
جب
أَوَيْنَآ ہم نے پناہ لی تھی awaynā
ہم نے پناہ لی تھی
إِلَى طرف ilā
طرف
ٱلصَّخْرَةِ چٹان کی l-ṣakhrati
چٹان کی
فَإِنِّى تو بیشک میں fa-innī
تو بیشک میں
نَسِيتُ میں بھول گیا nasītu
میں بھول گیا
ٱلْحُوتَ مچھلی کو l-ḥūta
مچھلی کو
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أَنسَىٰنِيهُ بھلایا مجھے اس کو ansānīhu
بھلایا مجھے اس کو
إِلَّا مگر illā
مگر
ٱلشَّيْطَـٰنُ شیطان نے l-shayṭānu
شیطان نے
أَنْ کہ an
کہ
أَذْكُرَهُۥ ۚ میں ذکر کروں اس کا adhkurahu
میں ذکر کروں اس کا
وَٱتَّخَذَ اور اس نے بنالیا تھا wa-ittakhadha
اور اس نے بنالیا تھا
سَبِيلَهُۥ اپنا راستہ sabīlahu
اپنا راستہ
فِى میں
میں
ٱلْبَحْرِ سمندر l-baḥri
سمندر
عَجَبًۭا عجیب طریقے سے ʿajaban
عجیب طریقے سے
٦٣ (۶۳)
(۶۳)
خادم نے کہا "آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی"
۱۸:۶۴
قَالَ (موسیٰ نے) کہا qāla
(موسیٰ نے) کہا
ذَٰلِكَ یہی ہے dhālika
یہی ہے
مَا جو
جو
كُنَّا تھے ہم kunnā
تھے ہم
نَبْغِ ۚ ہم چاہتے nabghi
ہم چاہتے
فَٱرْتَدَّا تو وہ دونوں پلٹے fa-ir'taddā
تو وہ دونوں پلٹے
عَلَىٰٓ پر ʿalā
پر
ءَاثَارِهِمَا اپنے نشانوں āthārihimā
اپنے نشانوں
قَصَصًۭا نشان قدم تلاش کرتے ہوئے qaṣaṣan
نشان قدم تلاش کرتے ہوئے
٦٤ (۶۴)
(۶۴)
موسیٰؑ نے کہا”اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔“ چنانچہ وہ دونوں اپنے نقشِ قدم پر پھر واپس ہوئے
۱۸:۶۵
فَوَجَدَا تو دونوں نے پایا fawajadā
تو دونوں نے پایا
عَبْدًۭا ایک بندے کو ʿabdan
ایک بندے کو
مِّنْ میں سے min
میں سے
عِبَادِنَآ ہمارے بندوں ʿibādinā
ہمارے بندوں
ءَاتَيْنَـٰهُ دی تھی ہم نے اس کو ātaynāhu
دی تھی ہم نے اس کو
رَحْمَةًۭ رحمت raḥmatan
رحمت
مِّنْ سے min
سے
عِندِنَا اپنے پاس (سے) ʿindinā
اپنے پاس (سے)
وَعَلَّمْنَـٰهُ اور سکھایا تھا ہم نے اس کو waʿallamnāhu
اور سکھایا تھا ہم نے اس کو
مِن from min
from
لَّدُنَّا اپنے پاس سے ladunnā
اپنے پاس سے
عِلْمًۭا علم ʿil'man
علم
٦٥ (۶۵)
(۶۵)
اور وہاں اُنہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔
۱۸:۶۶
قَالَ کہا qāla
کہا
لَهُۥ اس کو lahu
اس کو
مُوسَىٰ موسیٰ نے mūsā
موسیٰ نے
هَلْ کیا hal
کیا
أَتَّبِعُكَ میں پیروی کروں آپ کی attabiʿuka
میں پیروی کروں آپ کی
عَلَىٰٓ اوپر اس بات کے ʿalā
اوپر اس بات کے
أَن کہ an
کہ
تُعَلِّمَنِ تو سکھائے مجھ کو tuʿallimani
تو سکھائے مجھ کو
مِمَّا اس میں سے mimmā
اس میں سے
عُلِّمْتَ جو تو سکھایا گیا ʿullim'ta
جو تو سکھایا گیا
رُشْدًۭا سمجھ بوجھ rush'dan
سمجھ بوجھ
٦٦ (۶۶)
(۶۶)
موسیٰؑ نے اس سے کہا "کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کوسکھائی گئی ہے؟"
۱۸:۶۷
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
إِنَّكَ بیشک تو innaka
بیشک تو
لَن ہرگز نہ lan
ہرگز نہ
تَسْتَطِيعَ تو استطاعت رکھے گا tastaṭīʿa
تو استطاعت رکھے گا
مَعِىَ میرے ساتھ maʿiya
میرے ساتھ
صَبْرًۭا صبر کی ṣabran
صبر کی
٦٧ (۶۷)
(۶۷)
اس نے جواب دیا "آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے
۱۸:۶۸
وَكَيْفَ اور کس طرح wakayfa
اور کس طرح
تَصْبِرُ تم صبر کرسکتے ہو taṣbiru
تم صبر کرسکتے ہو
عَلَىٰ اوپر اس کے ʿalā
اوپر اس کے
مَا جو
جو
لَمْ نہیں lam
نہیں
تُحِطْ تم نے احاطہ کیا tuḥiṭ
تم نے احاطہ کیا
بِهِۦ سے bihi
سے
خُبْرًۭا اس کا پوری پوری معرفت کے ساتھ/ پوری سمجھ khub'ran
اس کا پوری پوری معرفت کے ساتھ/ پوری سمجھ
٦٨ (۶۸)
(۶۸)
اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں"
۱۸:۶۹
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
سَتَجِدُنِىٓ عنقریب تم پاؤ گے مجھ کو satajidunī
عنقریب تم پاؤ گے مجھ کو
إِن اگر in
اگر
شَآءَ چاہا shāa
چاہا
ٱللَّهُ اللہ نے l-lahu
اللہ نے
صَابِرًۭا صبر کرنے والا ṣābiran
صبر کرنے والا
وَلَآ اور نہیں walā
اور نہیں
أَعْصِى میں نافرمانی کروں گا aʿṣī
میں نافرمانی کروں گا
لَكَ تیرے لئے laka
تیرے لئے
أَمْرًۭا کسی حکم میں/ کسی بات میں amran
کسی حکم میں/ کسی بات میں
٦٩ (۶۹)
(۶۹)
موسیٰؑ نے کہا "انشاءاللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا"
۱۸:۷۰
قَالَ کہا qāla
کہا
فَإِنِ پھر اگر fa-ini
پھر اگر
ٱتَّبَعْتَنِى تم پیروی کرو میری ittabaʿtanī
تم پیروی کرو میری
فَلَا پس نہ falā
پس نہ
تَسْـَٔلْنِى تم سوال کرنا مجھ سے tasalnī
تم سوال کرنا مجھ سے
عَن کسی ʿan
کسی
شَىْءٍ چیز کے بارے میں shayin
چیز کے بارے میں
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
أُحْدِثَ میں بیان کروں uḥ'ditha
میں بیان کروں
لَكَ تمہارے لئے laka
تمہارے لئے
مِنْهُ اس میں سے min'hu
اس میں سے
ذِكْرًۭا ذکر کرنا/ بیان کرنا dhik'ran
ذکر کرنا/ بیان کرنا
٧٠ (۷۰)
(۷۰)
اس نے کہا "اچھا، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں"
۱۸:۷۱
فَٱنطَلَقَا تو دونوں چل دیئے fa-inṭalaqā
تو دونوں چل دیئے
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
رَكِبَا وہ دونوں سوار ہوئے rakibā
وہ دونوں سوار ہوئے
فِى میں
میں
ٱلسَّفِينَةِ کشتی l-safīnati
کشتی
خَرَقَهَا ۖ تو اس نے پھاڑ دیا اس کو kharaqahā
تو اس نے پھاڑ دیا اس کو
قَالَ کہا qāla
کہا
أَخَرَقْتَهَا تم نے پھاڑ دیا اس کو akharaqtahā
تم نے پھاڑ دیا اس کو
لِتُغْرِقَ تاکہ غرق کرے litugh'riqa
تاکہ غرق کرے
أَهْلَهَا اس کے رہنے والوں کو (سواروں کو) ahlahā
اس کے رہنے والوں کو (سواروں کو)
لَقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
جِئْتَ لایا تو ji'ta
لایا تو
شَيْـًٔا چیز shayan
چیز
إِمْرًۭا بہت بھاری im'ran
بہت بھاری
٧١ (۷۱)
(۷۱)
اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے تو اس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی"
۱۸:۷۲
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
أَلَمْ کیا میں نے alam
کیا میں نے
أَقُلْ کہا نہ تھا aqul
کہا نہ تھا
إِنَّكَ بیشک تو innaka
بیشک تو
لَن ہرگز نہ lan
ہرگز نہ
تَسْتَطِيعَ تو استطاعت رکھے گا tastaṭīʿa
تو استطاعت رکھے گا
مَعِىَ میرے ساتھ maʿiya
میرے ساتھ
صَبْرًۭا صبر کی ṣabran
صبر کی
٧٢ (۷۲)
(۷۲)
اس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"
۱۸:۷۳
قَالَ کہا qāla
کہا
لَا نہ
نہ
تُؤَاخِذْنِى آپ مؤاخذہ کیجئے میرا/ نہ پکڑئیے مجھ کو tuākhidh'nī
آپ مؤاخذہ کیجئے میرا/ نہ پکڑئیے مجھ کو
بِمَا ساتھ اس کے جو bimā
ساتھ اس کے جو
نَسِيتُ میں بھول جاؤں nasītu
میں بھول جاؤں
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
تُرْهِقْنِى آپ مجھ پر چھا جائیے tur'hiq'nī
آپ مجھ پر چھا جائیے
مِنْ میں سے min
میں سے
أَمْرِى میرے معاملے amrī
میرے معاملے
عُسْرًۭا تنگی کے ساتھ/ سختی کے ساتھ ʿus'ran
تنگی کے ساتھ/ سختی کے ساتھ
٧٣ (۷۳)
(۷۳)
موسیٰؑ نے کہا "بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں"
۱۸:۷۴
فَٱنطَلَقَا تو دونوں چل دیئے fa-inṭalaqā
تو دونوں چل دیئے
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
لَقِيَا وہ دونوں ملے laqiyā
وہ دونوں ملے
غُلَـٰمًۭا ایک بچے کو ghulāman
ایک بچے کو
فَقَتَلَهُۥ تو اس نے قتل کردیا اس کو faqatalahu
تو اس نے قتل کردیا اس کو
قَالَ کہا qāla
کہا
أَقَتَلْتَ کیا تو نے قتل کردیا aqatalta
کیا تو نے قتل کردیا
نَفْسًۭا ایک جان کو/ ایک شخص کو nafsan
ایک جان کو/ ایک شخص کو
زَكِيَّةًۢ معصوم/ پاک/ بےگناہ zakiyyatan
معصوم/ پاک/ بےگناہ
بِغَيْرِ بغیر bighayri
بغیر
نَفْسٍۢ کسی جان کے nafsin
کسی جان کے
لَّقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
جِئْتَ تو لایا ہے / مرتکب ہوا ہے ji'ta
تو لایا ہے / مرتکب ہوا ہے
شَيْـًۭٔا ایک چیز کا shayan
ایک چیز کا
نُّكْرًۭا جو قابل نفرت ہے/ ناپسندیدہ ہے nuk'ran
جو قابل نفرت ہے/ ناپسندیدہ ہے
٧٤ (۷۴)
(۷۴)
پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کر دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا"
۱۸:۷۵
۞ قَالَ کہا qāla
کہا
أَلَمْ کیا نہیں alam
کیا نہیں
أَقُل میں نے کہا تھا aqul
میں نے کہا تھا
لَّكَ تجھ کو laka
تجھ کو
إِنَّكَ بیشک تو innaka
بیشک تو
لَن ہرگز نہیں lan
ہرگز نہیں
تَسْتَطِيعَ تو استطاعت رکھتا tastaṭīʿa
تو استطاعت رکھتا
مَعِىَ میرے ساتھ maʿiya
میرے ساتھ
صَبْرًۭا صبر کی ṣabran
صبر کی
٧٥ (۷۵)
(۷۵)
اُس نے کہا " میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"
۱۸:۷۶
قَالَ کہا qāla
کہا
إِن اگر in
اگر
سَأَلْتُكَ میں سوال کروں تجھ سے sa-altuka
میں سوال کروں تجھ سے
عَن کا ʿan
کا
شَىْءٍۭ کسی چیز کا shayin
کسی چیز کا
بَعْدَهَا اس کے بعد baʿdahā
اس کے بعد
فَلَا تو نہ falā
تو نہ
تُصَـٰحِبْنِى ۖ تو ساتھ رکھنا مجھ کو tuṣāḥib'nī
تو ساتھ رکھنا مجھ کو
قَدْ تحقیق qad
تحقیق
بَلَغْتَ پہنچا تجھ کو balaghta
پہنچا تجھ کو
مِن سے min
سے
لَّدُنِّى میری طرف (سے) ladunnī
میری طرف (سے)
عُذْرًۭا عذر ʿudh'ran
عذر
٧٦ (۷۶)
(۷۶)
موسیٰؑ نے کہا " اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا"
۱۸:۷۷
فَٱنطَلَقَا تو دونوں چل دیے fa-inṭalaqā
تو دونوں چل دیے
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَآ جب idhā
جب
أَتَيَآ وہ دونوں آئے atayā
وہ دونوں آئے
أَهْلَ والوں کے ahla
والوں کے
قَرْيَةٍ ایک بستی (والوں کے پاس) qaryatin
ایک بستی (والوں کے پاس)
ٱسْتَطْعَمَآ تو ان دونوں نے کھانا مانگا is'taṭʿamā
تو ان دونوں نے کھانا مانگا
أَهْلَهَا اس کے رہنے والوں سے ahlahā
اس کے رہنے والوں سے
فَأَبَوْا۟ تو انہوں نے انکار کردیا fa-abaw
تو انہوں نے انکار کردیا
أَن کہ an
کہ
يُضَيِّفُوهُمَا وہ مہمان بنائیں ان کو yuḍayyifūhumā
وہ مہمان بنائیں ان کو
فَوَجَدَا تو ان دونوں نے پائی fawajadā
تو ان دونوں نے پائی
فِيهَا اس میں fīhā
اس میں
جِدَارًۭا ایک دیوار jidāran
ایک دیوار
يُرِيدُ وہ چاہتی تھی yurīdu
وہ چاہتی تھی
أَن کہ an
کہ
يَنقَضَّ ٹوٹ جائے۔ ٹوٹ گرے yanqaḍḍa
ٹوٹ جائے۔ ٹوٹ گرے
فَأَقَامَهُۥ ۖ تو اس نے قائم کردیا اس کو fa-aqāmahu
تو اس نے قائم کردیا اس کو
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
لَوْ اگر law
اگر
شِئْتَ تو چاہتا shi'ta
تو چاہتا
لَتَّخَذْتَ البتہ تو لے لیتا lattakhadhta
البتہ تو لے لیتا
عَلَيْهِ اس پر ʿalayhi
اس پر
أَجْرًۭا اجرت ajran
اجرت
٧٧ (۷۷)
(۷۷)
پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جوگرا چاہتی تھی اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کر دیا موسیٰؑ نے کہا " اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اُجرت لے سکتے تھے"
۱۸:۷۸
قَالَ کہا qāla
کہا
هَـٰذَا یہ ہے hādhā
یہ ہے
فِرَاقُ جدائی firāqu
جدائی
بَيْنِى میرے درمیان baynī
میرے درمیان
وَبَيْنِكَ ۚ اور تیرے درمیان wabaynika
اور تیرے درمیان
سَأُنَبِّئُكَ عنقریب میں بتاؤں گا تجھ کو sa-unabbi-uka
عنقریب میں بتاؤں گا تجھ کو
بِتَأْوِيلِ حقیقت bitawīli
حقیقت
مَا اس کی جو
اس کی جو
لَمْ نہیں lam
نہیں
تَسْتَطِع تو کرسکا tastaṭiʿ
تو کرسکا
عَّلَيْهِ اس پر ʿalayhi
اس پر
صَبْرًا صبر ṣabran
صبر
٧٨ (۷۸)
(۷۸)
اُس نے کہا "بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے
۱۸:۷۹
أَمَّا رہی ammā
رہی
ٱلسَّفِينَةُ کشتی l-safīnatu
کشتی
فَكَانَتْ تو وہ تھی fakānat
تو وہ تھی
لِمَسَـٰكِينَ مسکینوں کی limasākīna
مسکینوں کی
يَعْمَلُونَ جو کام کرتے تھے yaʿmalūna
جو کام کرتے تھے
فِى میں
میں
ٱلْبَحْرِ سمندر (میں) l-baḥri
سمندر (میں)
فَأَرَدتُّ تو میں نے چاہا fa-aradttu
تو میں نے چاہا
أَنْ کہ an
کہ
أَعِيبَهَا میں عیب دار کردوں اس کو aʿībahā
میں عیب دار کردوں اس کو
وَكَانَ اور تھا wakāna
اور تھا
وَرَآءَهُم ان کے پیچھے warāahum
ان کے پیچھے
مَّلِكٌۭ ایک بادشاہ malikun
ایک بادشاہ
يَأْخُذُ جو لے رہا تھا yakhudhu
جو لے رہا تھا
كُلَّ ہر kulla
ہر
سَفِينَةٍ کشتی کو safīnatin
کشتی کو
غَصْبًۭا ظلم سے۔ چھین کر۔ غصب کرکے ghaṣban
ظلم سے۔ چھین کر۔ غصب کرکے
٧٩ (۷۹)
(۷۹)
اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا
۱۸:۸۰
وَأَمَّا اور رہا wa-ammā
اور رہا
ٱلْغُلَـٰمُ لڑکا l-ghulāmu
لڑکا
فَكَانَ تو تھے fakāna
تو تھے
أَبَوَاهُ اس کے والدین abawāhu
اس کے والدین
مُؤْمِنَيْنِ دونوں مومن mu'minayni
دونوں مومن
فَخَشِينَآ تو ڈرہوا ہم کو fakhashīnā
تو ڈرہوا ہم کو
أَن کہ an
کہ
يُرْهِقَهُمَا وہ غالب آجائے ان دونوں پر yur'hiqahumā
وہ غالب آجائے ان دونوں پر
طُغْيَـٰنًۭا سرکشی سے ṭugh'yānan
سرکشی سے
وَكُفْرًۭا اور کفر کے ساتھ wakuf'ran
اور کفر کے ساتھ
٨٠ (۸۰)
(۸۰)
رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا
۱۸:۸۱
فَأَرَدْنَآ تو ارادہ کیا ہم نے fa-aradnā
تو ارادہ کیا ہم نے
أَن کہ an
کہ
يُبْدِلَهُمَا بدل کردے ان کو yub'dilahumā
بدل کردے ان کو
رَبُّهُمَا ان کا رب rabbuhumā
ان کا رب
خَيْرًۭا بہتر khayran
بہتر
مِّنْهُ اس سے min'hu
اس سے
زَكَوٰةًۭ پاکیزگی میں zakatan
پاکیزگی میں
وَأَقْرَبَ اور زیادہ قریب wa-aqraba
اور زیادہ قریب
رُحْمًۭا شفقت میں۔ رحمت میں ruḥ'man
شفقت میں۔ رحمت میں
٨١ (۸۱)
(۸۱)
اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو
۱۸:۸۲
وَأَمَّا اور جہاں تک wa-ammā
اور جہاں تک
ٱلْجِدَارُ دیوار کا تعلق ہے l-jidāru
دیوار کا تعلق ہے
فَكَانَ تو تھی fakāna
تو تھی
لِغُلَـٰمَيْنِ دو لڑکوں کی lighulāmayni
دو لڑکوں کی
يَتِيمَيْنِ دونوں یتیم yatīmayni
دونوں یتیم
فِى میں
میں
ٱلْمَدِينَةِ شہر میں l-madīnati
شہر میں
وَكَانَ اور تھا wakāna
اور تھا
تَحْتَهُۥ اس کے نیچے taḥtahu
اس کے نیچے
كَنزٌۭ ایک خزانہ kanzun
ایک خزانہ
لَّهُمَا ان دونوں کا lahumā
ان دونوں کا
وَكَانَ اور تھا wakāna
اور تھا
أَبُوهُمَا ان کا والد abūhumā
ان کا والد
صَـٰلِحًۭا نیک ṣāliḥan
نیک
فَأَرَادَ تو ارادہ کیا fa-arāda
تو ارادہ کیا
رَبُّكَ تیرے رب نے rabbuka
تیرے رب نے
أَن کہ an
کہ
يَبْلُغَآ وہ دونوں پہنچیں yablughā
وہ دونوں پہنچیں
أَشُدَّهُمَا اپنی جوانی کو ashuddahumā
اپنی جوانی کو
وَيَسْتَخْرِجَا اور نکالیں wayastakhrijā
اور نکالیں
كَنزَهُمَا اپنے خزانے کو kanzahumā
اپنے خزانے کو
رَحْمَةًۭ بطور رحمت raḥmatan
بطور رحمت
مِّن سے min
سے
رَّبِّكَ ۚ تیرے رب کی طرف سے rabbika
تیرے رب کی طرف سے
وَمَا اور نہیں wamā
اور نہیں
فَعَلْتُهُۥ میں نے کہا اس کو faʿaltuhu
میں نے کہا اس کو
عَنْ سے ʿan
سے
أَمْرِى ۚ اپنے حکم سے amrī
اپنے حکم سے
ذَٰلِكَ یہ ہے dhālika
یہ ہے
تَأْوِيلُ حقیقت tawīlu
حقیقت
مَا جو
جو
لَمْ نہیں lam
نہیں
تَسْطِع تم استطاعت رکھ سکے tasṭiʿ
تم استطاعت رکھ سکے
عَّلَيْهِ اس پر ʿalayhi
اس پر
صَبْرًۭا صبر کی ṣabran
صبر کی
٨٢ (۸۲)
(۸۲)
اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اِس دیوار کے نیچے اِن بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے ربّ نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے ربّ کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔“
۱۸:۸۳
وَيَسْـَٔلُونَكَ اور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے wayasalūnaka
اور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
عَن کے ʿan
کے
ذِى ذوالقرنین dhī
ذوالقرنین
ٱلْقَرْنَيْنِ ۖ ذوالقرنین کے بارے میں l-qarnayni
ذوالقرنین کے بارے میں
قُلْ کہہ دیجیے qul
کہہ دیجیے
سَأَتْلُوا۟ عنقریب میں پڑھوں گا sa-atlū
عنقریب میں پڑھوں گا
عَلَيْكُم تم پر ʿalaykum
تم پر
مِّنْهُ اس میں سے min'hu
اس میں سے
ذِكْرًا کچھ ذکر۔ کچھ حال dhik'ran
کچھ ذکر۔ کچھ حال
٨٣ (۸۳)
(۸۳)
اور اے محمدؐ ، یہ لوگ تم سے ذُوالقرنین کے بارے میں پُوچھتے ہیں۔ ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سُناتا ہوں۔
۱۸:۸۴
إِنَّا بیشک ہم نے innā
بیشک ہم نے
مَكَّنَّا اقتدار دیا تھا ہم نے makkannā
اقتدار دیا تھا ہم نے
لَهُۥ اس کو lahu
اس کو
فِى میں
میں
ٱلْأَرْضِ زمین (میں) l-arḍi
زمین (میں)
وَءَاتَيْنَـٰهُ اور دئیے تھے ہم نے اس کو waātaynāhu
اور دئیے تھے ہم نے اس کو
مِن سے min
سے
كُلِّ ہر kulli
ہر
شَىْءٍۢ چیز میں سے shayin
چیز میں سے
سَبَبًۭا اسباب sababan
اسباب
٨٤ (۸۴)
(۸۴)
ہم نے اس کو زمین میں اقتدار عطا کر رکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے
۱۸:۸۵
فَأَتْبَعَ تو اس نے پیروی کی fa-atbaʿa
تو اس نے پیروی کی
سَبَبًا اسباب کی sababan
اسباب کی
٨٥ (۸۵)
(۸۵)
اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا) سر و سامان کیا
۱۸:۸۶
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
بَلَغَ وہ پہنچ گیا balagha
وہ پہنچ گیا
مَغْرِبَ غروب ہونے کی جگہ maghriba
غروب ہونے کی جگہ
ٱلشَّمْسِ سورج l-shamsi
سورج
وَجَدَهَا پایا اس کو wajadahā
پایا اس کو
تَغْرُبُ غروب ہورہا ہے taghrubu
غروب ہورہا ہے
فِى میں
میں
عَيْنٍ ایک چشمے (میں) ʿaynin
ایک چشمے (میں)
حَمِئَةٍۢ گدلے۔ کیچڑ والے ḥami-atin
گدلے۔ کیچڑ والے
وَوَجَدَ اور پایا wawajada
اور پایا
عِندَهَا اس کے پاس ʿindahā
اس کے پاس
قَوْمًۭا ۗ ایک قوم کو qawman
ایک قوم کو
قُلْنَا کہا ہم نے qul'nā
کہا ہم نے
يَـٰذَا اے yādhā
اے
ٱلْقَرْنَيْنِ ذوالقرنین l-qarnayni
ذوالقرنین
إِمَّآ خواہ immā
خواہ
أَن یہ an
یہ
تُعَذِّبَ تو عذاب دے۔ سزا دے tuʿadhiba
تو عذاب دے۔ سزا دے
وَإِمَّآ اور خواہ یہ wa-immā
اور خواہ یہ
أَن کہ an
کہ
تَتَّخِذَ تو اختیار کرے tattakhidha
تو اختیار کرے
فِيهِمْ ان کے معاملے میں fīhim
ان کے معاملے میں
حُسْنًۭا بھلائی ḥus'nan
بھلائی
٨٦ (۸۶)
(۸۶)
حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتاب کی حَد تک پہنچ گیا تو اس نے سُورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں اُسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا”اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ اِن کے ساتھ نیک رویّہ اختیار کرے۔“
۱۸:۸۷
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
أَمَّا رہا وہ ammā
رہا وہ
مَن جو man
جو
ظَلَمَ ظلم کرتا ہے ẓalama
ظلم کرتا ہے
فَسَوْفَ تو عنقریب fasawfa
تو عنقریب
نُعَذِّبُهُۥ ہم عذاب دیں گے اس کو nuʿadhibuhu
ہم عذاب دیں گے اس کو
ثُمَّ پھر thumma
پھر
يُرَدُّ وہ لوٹایاجائے گا yuraddu
وہ لوٹایاجائے گا
إِلَىٰ طرف ilā
طرف
رَبِّهِۦ اپنے رب کی (طرف) rabbihi
اپنے رب کی (طرف)
فَيُعَذِّبُهُۥ تو وہ عذاب دے گا اس کو fayuʿadhibuhu
تو وہ عذاب دے گا اس کو
عَذَابًۭا عذاب ʿadhāban
عذاب
نُّكْرًۭا سخت nuk'ran
سخت
٨٧ (۸۷)
(۸۷)
اس نے کہا، "جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا
۱۸:۸۸
وَأَمَّا اور رہا wa-ammā
اور رہا
مَنْ جو man
جو
ءَامَنَ ایمان لایا āmana
ایمان لایا
وَعَمِلَ اور عمل کیے waʿamila
اور عمل کیے
صَـٰلِحًۭا اچھے ṣāliḥan
اچھے
فَلَهُۥ تو اس کے لیے falahu
تو اس کے لیے
جَزَآءً جزا ہے ۔ بدلہ ہے jazāan
جزا ہے ۔ بدلہ ہے
ٱلْحُسْنَىٰ ۖ اچھی (جزا ہے ۔ اچھا بدلہ ہے) l-ḥus'nā
اچھی (جزا ہے ۔ اچھا بدلہ ہے)
وَسَنَقُولُ اور عنقریب ہم کہیں گے wasanaqūlu
اور عنقریب ہم کہیں گے
لَهُۥ اس سے lahu
اس سے
مِنْ سے min
سے
أَمْرِنَا اپنے حکم میں (سے) amrinā
اپنے حکم میں (سے)
يُسْرًۭا آسان yus'ran
آسان
٨٨ (۸۸)
(۸۸)
اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اُس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے"
۱۸:۸۹
ثُمَّ پھر thumma
پھر
أَتْبَعَ اس نے پیروی کی atbaʿa
اس نے پیروی کی
سَبَبًا اسباب کی sababan
اسباب کی
٨٩ (۸۹)
(۸۹)
پھر اُس نے (ایک دُوسری مہم کی) تیاری کی
۱۸:۹۰
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
بَلَغَ وہ پہنچا balagha
وہ پہنچا
مَطْلِعَ طلوع ہونے کی جگہ maṭliʿa
طلوع ہونے کی جگہ
ٱلشَّمْسِ سورج کے l-shamsi
سورج کے
وَجَدَهَا پایا اس کو wajadahā
پایا اس کو
تَطْلُعُ کہ طلوع ہو رہا ہے taṭluʿu
کہ طلوع ہو رہا ہے
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
قَوْمٍۢ ایک قوم (پر) qawmin
ایک قوم (پر)
لَّمْ نہیں lam
نہیں
نَجْعَل بنایا ہم نے najʿal
بنایا ہم نے
لَّهُم ان کے لیے lahum
ان کے لیے
مِّن کے min
کے
دُونِهَا اس کے ادھر dūnihā
اس کے ادھر
سِتْرًۭا کوئی پردہ۔ اوٹ sit'ran
کوئی پردہ۔ اوٹ
٩٠ (۹۰)
(۹۰)
یہاں تک کہ طلوعِ آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سُورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کےلیے دُھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔
۱۸:۹۱
كَذَٰلِكَ اسی طرح kadhālika
اسی طرح
وَقَدْ اور تحقیق waqad
اور تحقیق
أَحَطْنَا گھیر رکھا تھا ہم نے aḥaṭnā
گھیر رکھا تھا ہم نے
بِمَا جو bimā
جو
لَدَيْهِ اس کے پاس تھا ladayhi
اس کے پاس تھا
خُبْرًۭا خبر میں سے khub'ran
خبر میں سے
٩١ (۹۱)
(۹۱)
یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے
۱۸:۹۲
ثُمَّ پھر thumma
پھر
أَتْبَعَ اس نے پیروی کی atbaʿa
اس نے پیروی کی
سَبَبًا اسباب کی sababan
اسباب کی
٩٢ (۹۲)
(۹۲)
پھر اس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا
۱۸:۹۳
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
بَلَغَ وہ پہنچا balagha
وہ پہنچا
بَيْنَ درمیان bayna
درمیان
ٱلسَّدَّيْنِ دو پہاڑوں کے l-sadayni
دو پہاڑوں کے
وَجَدَ اس نے پایا wajada
اس نے پایا
مِن سے min
سے
دُونِهِمَا ان کے علاوہ dūnihimā
ان کے علاوہ
قَوْمًۭا ایک قوم کو qawman
ایک قوم کو
لَّا نہ
نہ
يَكَادُونَ قریب تھے yakādūna
قریب تھے
يَفْقَهُونَ کہ سمجھتے yafqahūna
کہ سمجھتے
قَوْلًۭا بات کو qawlan
بات کو
٩٣ (۹۳)
(۹۳)
یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سجھتی تھی۔
۱۸:۹۴
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
يَـٰذَا اے yādhā
اے
ٱلْقَرْنَيْنِ اے ذوالقرنین l-qarnayni
اے ذوالقرنین
إِنَّ بیشک inna
بیشک
يَأْجُوجَ یاجوج yajūja
یاجوج
وَمَأْجُوجَ اور ماجوج wamajūja
اور ماجوج
مُفْسِدُونَ فساد کرنے والے ہیں muf'sidūna
فساد کرنے والے ہیں
فِى میں
میں
ٱلْأَرْضِ زمین (میں) l-arḍi
زمین (میں)
فَهَلْ تو کیا fahal
تو کیا
نَجْعَلُ ہم بنائیں najʿalu
ہم بنائیں
لَكَ تیرے لیے laka
تیرے لیے
خَرْجًا خراج۔ ٹیکس kharjan
خراج۔ ٹیکس
عَلَىٰٓ اس بات پر ʿalā
اس بات پر
أَن کہ an
کہ
تَجْعَلَ تو بنائے tajʿala
تو بنائے
بَيْنَنَا ہمارے درمیان baynanā
ہمارے درمیان
وَبَيْنَهُمْ اور ان کے درمیان wabaynahum
اور ان کے درمیان
سَدًّۭا ایک بند۔ روک saddan
ایک بند۔ روک
٩٤ (۹۴)
(۹۴)
اُن لوگوں نے کہا کہ ”اے ذوالقرنین، یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کام لیے دیں کہ تُو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دے؟“
۱۸:۹۵
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
مَا جو
جو
مَكَّنِّى قدرت دی ہے مجھ کو makkannī
قدرت دی ہے مجھ کو
فِيهِ اس میں fīhi
اس میں
رَبِّى میرے رب نے rabbī
میرے رب نے
خَيْرٌۭ بہتر ہے khayrun
بہتر ہے
فَأَعِينُونِى پس تم سب مدد کرو میری fa-aʿīnūnī
پس تم سب مدد کرو میری
بِقُوَّةٍ ساتھ قوت کے biquwwatin
ساتھ قوت کے
أَجْعَلْ میں بناؤں ajʿal
میں بناؤں
بَيْنَكُمْ تمہارے درمیان baynakum
تمہارے درمیان
وَبَيْنَهُمْ اور ان کے درمیان wabaynahum
اور ان کے درمیان
رَدْمًا ایک مضبوط دیوار radman
ایک مضبوط دیوار
٩٥ (۹۵)
(۹۵)
اُس نے کہا”جو کچھ میرے ربّ نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔
۱۸:۹۶
ءَاتُونِى دو مجھ کو ātūnī
دو مجھ کو
زُبَرَ چادریں zubara
چادریں
ٱلْحَدِيدِ ۖ لوہے کی (چادریں)۔ (لوہے کے) ٹکڑے l-ḥadīdi
لوہے کی (چادریں)۔ (لوہے کے) ٹکڑے
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
سَاوَىٰ برابر کردیا sāwā
برابر کردیا
بَيْنَ درمیان bayna
درمیان
ٱلصَّدَفَيْنِ دو کناروں کے l-ṣadafayni
دو کناروں کے
قَالَ کہا qāla
کہا
ٱنفُخُوا۟ ۖ پھونکو unfukhū
پھونکو
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
جَعَلَهُۥ کردیا اس کو jaʿalahu
کردیا اس کو
نَارًۭا آگ nāran
آگ
قَالَ کہا qāla
کہا
ءَاتُونِىٓ دو مجھ کو ātūnī
دو مجھ کو
أُفْرِغْ میں انڈیلوں uf'righ
میں انڈیلوں
عَلَيْهِ اس پر ʿalayhi
اس پر
قِطْرًۭا پگھلا ہوا تانبا qiṭ'ran
پگھلا ہوا تانبا
٩٦ (۹۶)
(۹۶)
مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو" آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سُرخ ہو گئی تو اس نے کہا "لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا"
۱۸:۹۷
فَمَا تو نہ famā
تو نہ
ٱسْطَـٰعُوٓا۟ ہمت ہوئی is'ṭāʿū
ہمت ہوئی
أَن کہ an
کہ
يَظْهَرُوهُ وہ چڑھ سکیں اس پر yaẓharūhu
وہ چڑھ سکیں اس پر
وَمَا اور نہ wamā
اور نہ
ٱسْتَطَـٰعُوا۟ وہ طاقت رکھتے تھے is'taṭāʿū
وہ طاقت رکھتے تھے
لَهُۥ اس کے لیے lahu
اس کے لیے
نَقْبًۭا نقب لگانے کی naqban
نقب لگانے کی
٩٧ (۹۷)
(۹۷)
(یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا
۱۸:۹۸
قَالَ کہا qāla
کہا
هَـٰذَا یہ hādhā
یہ
رَحْمَةٌۭ رحمت ہے raḥmatun
رحمت ہے
مِّن کی min
کی
رَّبِّى ۖ میرے رب (کی) rabbī
میرے رب (کی)
فَإِذَا پھر جب fa-idhā
پھر جب
جَآءَ آجائے گا jāa
آجائے گا
وَعْدُ وعدہ waʿdu
وعدہ
رَبِّى میرے رب rabbī
میرے رب
جَعَلَهُۥ مقررہ وقت کردے گا اس کو jaʿalahu
مقررہ وقت کردے گا اس کو
دَكَّآءَ ۖ برابر۔ ریزہ ریزہ dakkāa
برابر۔ ریزہ ریزہ
وَكَانَ اور ہے wakāna
اور ہے
وَعْدُ وعدہ waʿdu
وعدہ
رَبِّى میرے رب کا rabbī
میرے رب کا
حَقًّۭا سچ۔ برحق ḥaqqan
سچ۔ برحق
٩٨ (۹۸)
(۹۸)
ذوالقرنین نے کہا”یہ میرے ربّ کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے ربّ کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوندِ خاک کر دے گا، اور میرے ربّ کا وعدہ برحق ہے۔“
۱۸:۹۹
۞ وَتَرَكْنَا اور ہم چھوڑ دیں گے wataraknā
اور ہم چھوڑ دیں گے
بَعْضَهُمْ ان میں سے بعض کو baʿḍahum
ان میں سے بعض کو
يَوْمَئِذٍۢ اس دن yawma-idhin
اس دن
يَمُوجُ مل جل جائیں گے۔ لہریں ماریں گے yamūju
مل جل جائیں گے۔ لہریں ماریں گے
فِى میں
میں
بَعْضٍۢ ۖ بعض baʿḍin
بعض
وَنُفِخَ اور پھونک ماری جائے گی wanufikha
اور پھونک ماری جائے گی
فِى میں
میں
ٱلصُّورِ صور (میں) l-ṣūri
صور (میں)
فَجَمَعْنَـٰهُمْ تو ہم جمع کرلیں گے ان کو fajamaʿnāhum
تو ہم جمع کرلیں گے ان کو
جَمْعًۭا جمع کرنا jamʿan
جمع کرنا
٩٩ (۹۹)
(۹۹)
اور اُس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح)ایک دُوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پھُونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے
۱۸:۱۰۰
وَعَرَضْنَا اور ہم پیش کریں گے waʿaraḍnā
اور ہم پیش کریں گے
جَهَنَّمَ جہنم کو jahannama
جہنم کو
يَوْمَئِذٍۢ اس دن yawma-idhin
اس دن
لِّلْكَـٰفِرِينَ کافروں کے لیے lil'kāfirīna
کافروں کے لیے
عَرْضًا پیش کرنا ʿarḍan
پیش کرنا
١٠٠ (۱۰۰)
(۱۰۰)
اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے
۱۸:۱۰۱
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
كَانَتْ تھیں kānat
تھیں
أَعْيُنُهُمْ ان کی آنکھیں aʿyunuhum
ان کی آنکھیں
فِى میں
میں
غِطَآءٍ پردے (میں) ghiṭāin
پردے (میں)
عَن سے ʿan
سے
ذِكْرِى میرے ذکر (سے) dhik'rī
میرے ذکر (سے)
وَكَانُوا۟ اور تھے وہ wakānū
اور تھے وہ
لَا نہ
نہ
يَسْتَطِيعُونَ استطاعت رکھتے yastaṭīʿūna
استطاعت رکھتے
سَمْعًا سننے کی samʿan
سننے کی
١٠١ (۱۰۱)
(۱۰۱)
اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے
۱۸:۱۰۲
أَفَحَسِبَ کیا بھلا گمان رکھتے ہیں afaḥasiba
کیا بھلا گمان رکھتے ہیں
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
كَفَرُوٓا۟ جنہوں نے کفر کیا kafarū
جنہوں نے کفر کیا
أَن کہ an
کہ
يَتَّخِذُوا۟ وہ بنالیں گے yattakhidhū
وہ بنالیں گے
عِبَادِى میرے بندوں کو ʿibādī
میرے بندوں کو
مِن besides Me min
besides Me
دُونِىٓ میرے سوا dūnī
میرے سوا
أَوْلِيَآءَ ۚ دوست مددگار awliyāa
دوست مددگار
إِنَّآ بیشک ہم نے innā
بیشک ہم نے
أَعْتَدْنَا تیار کی ہم نے aʿtadnā
تیار کی ہم نے
جَهَنَّمَ جہنم jahannama
جہنم
لِلْكَـٰفِرِينَ کافروں کے لیے lil'kāfirīna
کافروں کے لیے
نُزُلًۭا بطور مہمان کے nuzulan
بطور مہمان کے
١٠٢ (۱۰۲)
(۱۰۲)
تو کیا یہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے یے جہنّم تیار کر رکھی ہے
۱۸:۱۰۳
قُلْ کہہ دیجئے qul
کہہ دیجئے
هَلْ کیا hal
کیا
نُنَبِّئُكُم ہم بتائیں تم کو nunabbi-ukum
ہم بتائیں تم کو
بِٱلْأَخْسَرِينَ سب سے زیادہ خسارے والے۔ سب سے زیادہ ظالم لوگ bil-akhsarīna
سب سے زیادہ خسارے والے۔ سب سے زیادہ ظالم لوگ
أَعْمَـٰلًا اعمال میں۔ اعمال کے اعتبار سے aʿmālan
اعمال میں۔ اعمال کے اعتبار سے
١٠٣ (۱۰۳)
(۱۰۳)
اے محمدؐ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟
۱۸:۱۰۴
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
ضَلَّ گم ہوگئی ḍalla
گم ہوگئی
سَعْيُهُمْ ان کی کوشش saʿyuhum
ان کی کوشش
فِى میں
میں
ٱلْحَيَوٰةِ زندگی l-ḥayati
زندگی
ٱلدُّنْيَا دنیا کی l-dun'yā
دنیا کی
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
يَحْسَبُونَ سمجھتے ہیں yaḥsabūna
سمجھتے ہیں
أَنَّهُمْ بیشک وہ annahum
بیشک وہ
يُحْسِنُونَ اچھے کررہے ہیں yuḥ'sinūna
اچھے کررہے ہیں
صُنْعًا کام ṣun'ʿan
کام
١٠٤ (۱۰۴)
(۱۰۴)
وہ کہ دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں
۱۸:۱۰۵
أُو۟لَـٰٓئِكَ یہی ulāika
یہی
ٱلَّذِينَ وہ لوگ ہیں alladhīna
وہ لوگ ہیں
كَفَرُوا۟ جنہوں نے کفر کیا kafarū
جنہوں نے کفر کیا
بِـَٔايَـٰتِ آیات سے biāyāti
آیات سے
رَبِّهِمْ اپنے رب کی rabbihim
اپنے رب کی
وَلِقَآئِهِۦ اور اس کی ملاقات سے waliqāihi
اور اس کی ملاقات سے
فَحَبِطَتْ تو ضائع ہوگئے faḥabiṭat
تو ضائع ہوگئے
أَعْمَـٰلُهُمْ ان کے اعمال aʿmāluhum
ان کے اعمال
فَلَا تو نہیں falā
تو نہیں
نُقِيمُ ہم قائم کریں گے۔ ہم دیکھیں گے nuqīmu
ہم قائم کریں گے۔ ہم دیکھیں گے
لَهُمْ ان کے لیے lahum
ان کے لیے
يَوْمَ دن yawma
دن
ٱلْقِيَـٰمَةِ قیامت کے l-qiyāmati
قیامت کے
وَزْنًۭا کوئی وزن waznan
کوئی وزن
١٠٥ (۱۰۵)
(۱۰۵)
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔
۱۸:۱۰۶
ذَٰلِكَ یہ dhālika
یہ
جَزَآؤُهُمْ ان کی جزا jazāuhum
ان کی جزا
جَهَنَّمُ جہنم ہے jahannamu
جہنم ہے
بِمَا بوجہ اس کے bimā
بوجہ اس کے
كَفَرُوا۟ جو انہوں نے کفر کیا kafarū
جو انہوں نے کفر کیا
وَٱتَّخَذُوٓا۟ اور بنالیا wa-ittakhadhū
اور بنالیا
ءَايَـٰتِى میری آیات کو āyātī
میری آیات کو
وَرُسُلِى اور میرے رسولوں کو warusulī
اور میرے رسولوں کو
هُزُوًا مذاق huzuwan
مذاق
١٠٦ (۱۰۶)
(۱۰۶)
ان کی جزا جہنم ہے اُس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے
۱۸:۱۰۷
إِنَّ بیشک inna
بیشک
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
ءَامَنُوا۟ جو ایمان لائے āmanū
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟ اور انہوں نے کام کیے waʿamilū
اور انہوں نے کام کیے
ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ اچھے l-ṣāliḥāti
اچھے
كَانَتْ ہیں kānat
ہیں
لَهُمْ ان کے لیے lahum
ان کے لیے
جَنَّـٰتُ باغ jannātu
باغ
ٱلْفِرْدَوْسِ فردوس کے l-fir'dawsi
فردوس کے
نُزُلًا مہمانی کے طور پر nuzulan
مہمانی کے طور پر
١٠٧ (۱۰۷)
(۱۰۷)
البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے
۱۸:۱۰۸
خَـٰلِدِينَ ہمیشہ رہنے والے ہیں khālidīna
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَا ان میں fīhā
ان میں
لَا نہ
نہ
يَبْغُونَ چاہیں گے yabghūna
چاہیں گے
عَنْهَا ان سے ʿanhā
ان سے
حِوَلًۭا بدلنا۔ ٹلنا ḥiwalan
بدلنا۔ ٹلنا
١٠٨ (۱۰۸)
(۱۰۸)
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اُس جگہ سے نِکل کر کہیں جانے کو اُن کا جی نہ چاہے گا۔
۱۸:۱۰۹
قُل کہہ دیجئے qul
کہہ دیجئے
لَّوْ اگر law
اگر
كَانَ ہوجائیں kāna
ہوجائیں
ٱلْبَحْرُ سمندر l-baḥru
سمندر
مِدَادًۭا روشنائی midādan
روشنائی
لِّكَلِمَـٰتِ باتوں کے لیے likalimāti
باتوں کے لیے
رَبِّى میرے رب کی rabbī
میرے رب کی
لَنَفِدَ البتہ ختم ہوجائیں lanafida
البتہ ختم ہوجائیں
ٱلْبَحْرُ سمندر l-baḥru
سمندر
قَبْلَ اس سے پہلے qabla
اس سے پہلے
أَن کہ an
کہ
تَنفَدَ ختم ہوں tanfada
ختم ہوں
كَلِمَـٰتُ باتیں kalimātu
باتیں
رَبِّى میرے رب کی rabbī
میرے رب کی
وَلَوْ اور اگرچہ walaw
اور اگرچہ
جِئْنَا لائیں ہم ji'nā
لائیں ہم
بِمِثْلِهِۦ اس کی مانند bimith'lihi
اس کی مانند
مَدَدًۭا مدد۔ اضافہ۔ زیادتی madadan
مدد۔ اضافہ۔ زیادتی
١٠٩ (۱۰۹)
(۱۰۹)
اے محمدؐ ، کہو کہ اگر سمندر میرے ربّ کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے ربّ کی باتیں ختم نہ ہوں، بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے
۱۸:۱۱۰
قُلْ کہہ دیجیے qul
کہہ دیجیے
إِنَّمَآ بیشک innamā
بیشک
أَنَا۠ میں anā
میں
بَشَرٌۭ ایک انسان ہوں basharun
ایک انسان ہوں
مِّثْلُكُمْ تم جیسا mith'lukum
تم جیسا
يُوحَىٰٓ وحی کی جاتی ہے yūḥā
وحی کی جاتی ہے
إِلَىَّ میری طرف ilayya
میری طرف
أَنَّمَآ بیشک annamā
بیشک
إِلَـٰهُكُمْ الہ تمہارا ilāhukum
الہ تمہارا
إِلَـٰهٌۭ اللہ ہے ilāhun
اللہ ہے
وَٰحِدٌۭ ۖ ایک ہی wāḥidun
ایک ہی
فَمَن تو جو کوئی faman
تو جو کوئی
كَانَ ہو kāna
ہو
يَرْجُوا۟ امید رکھتا yarjū
امید رکھتا
لِقَآءَ ملاقات کی liqāa
ملاقات کی
رَبِّهِۦ اپنے رب کی rabbihi
اپنے رب کی
فَلْيَعْمَلْ پس چاہیے کہ عمل کرے falyaʿmal
پس چاہیے کہ عمل کرے
عَمَلًۭا عمل ʿamalan
عمل
صَـٰلِحًۭا نیک ṣāliḥan
نیک
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
يُشْرِكْ شریک ٹھہرائے yush'rik
شریک ٹھہرائے
بِعِبَادَةِ عبادت میں biʿibādati
عبادت میں
رَبِّهِۦٓ اپنے رب کی rabbihi
اپنے رب کی
أَحَدًۢا کسی ایک کو aḥadan
کسی ایک کو
١١٠ (۱۱۰)
(۱۱۰)
اے محمدؐ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے