۱۷
الاسراء
الإسراء
سورہ الاسراء (الإسراء) قرآن مجید کی ۱۷ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۱۱۱ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔
بک مارکس (0)
ابھی کوئی بک مارک نہیں۔ کسی بھی آیت کے ساتھ بک مارک آئیکن پر کلک کر کے محفوظ کریں۔
بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱۷:۱
سُبْحَـٰنَپاک ہےsub'ḥānaٱلَّذِىٓوہ ذاتalladhīأَسْرَىٰجو لے گیاasrāبِعَبْدِهِۦاپنے بندے کوbiʿabdihiلَيْلًۭارات کے وقتlaylanمِّنَسےminaٱلْمَسْجِدِمسجدl-masjidiٱلْحَرَامِحرامl-ḥarāmiإِلَىطرفilāٱلْمَسْجِدِمسجدl-masjidiٱلْأَقْصَااقصی کیl-aqṣāٱلَّذِىوہ جوalladhīبَـٰرَكْنَابرکت دی ہم نےbāraknāحَوْلَهُۥاس کے آس پاس کوḥawlahuلِنُرِيَهُۥتاکہ ہم دکھائیں اس کوlinuriyahuمِنْسےminءَايَـٰتِنَآ ۚاپنی آیات میں (سے)āyātināإِنَّهُۥبیشک وہinnahuهُوَوہhuwaٱلسَّمِيعُسننے والا ہے،l-samīʿuٱلْبَصِيرُدیکھنے والا ہےl-baṣīru١
پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دُور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔حقیقت1 میں وہی ہے سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا۔
۱۷:۲
وَءَاتَيْنَااور دی ہم نےwaātaynāمُوسَىموسیٰ کوmūsāٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaوَجَعَلْنَـٰهُاور بنایا ہم نے اس کوwajaʿalnāhuهُدًۭىہدایت کا ذریعہhudanلِّبَنِىٓبنیlibanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل کے لئےis'rāīlaأَلَّاکہ نہallāتَتَّخِذُوا۟تم بناؤtattakhidhūمِنسےminدُونِىمیرے سواdūnīوَكِيلًۭاکار سازwakīlan٢
م نے اِس سے پہلے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعہٴ ہدایت بنایا تھا،1 اِس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔2
۱۷:۳
ذُرِّيَّةَاولاد ہوdhurriyyataمَنْجن کوmanحَمَلْنَاسوار کیا ہم نےḥamalnāمَعَساتھmaʿaنُوحٍ ۚنو ح کےnūḥinإِنَّهُۥبیشکinnahuكَانَوہ تھاkānaعَبْدًۭابندہʿabdanشَكُورًۭاشکرگزارshakūran٣
تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نُوح ؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا،1 اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا
۱۷:۴
وَقَضَيْنَآاور اطلاع دی ہم نے/ آگاہ کردیا ہم نےwaqaḍaynāإِلَىٰکوilāبَنِىٓبنیbanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیلis'rāīlaفِىمیںfīٱلْكِتَـٰبِکتاب (میں)l-kitābiلَتُفْسِدُنَّالبتہ تم ضرور فساد کرو گےlatuf'sidunnaفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمینl-arḍiمَرَّتَيْنِدو بارmarratayniوَلَتَعْلُنَّاور البتہ تم ضرور بلدنی پکڑو گےwalataʿlunnaعُلُوًّۭابلندیʿuluwwanكَبِيرًۭابڑیkabīran٤
پھر ہم نے اپنی کتاب 1میں بنی اسرائیل کو اِس بات پر بھی متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاوٴ گے۔2
۱۷:۵
فَإِذَاپھر جبfa-idhāجَآءَآگیاjāaوَعْدُوعدہwaʿduأُولَىٰهُمَاان دونوں میں سے پہلاūlāhumāبَعَثْنَابھیجا ہم نےbaʿathnāعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumعِبَادًۭابندوںʿibādanلَّنَآاپنے کوlanāأُو۟لِىزور والےulīبَأْسٍۢthose of great military mightbasinشَدِيدٍۢسختshadīdinفَجَاسُوا۟تو وہ گھس گئےfajāsūخِلَـٰلَاندرkhilālaٱلدِّيَارِ ۚگھروں کےl-diyāriوَكَانَاور تھاwakānaوَعْدًۭاایک وعدہwaʿdanمَّفْعُولًۭاپورا ہونے والاmafʿūlan٥
آخرِ کار جب اُن میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اُٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھُس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پُورا ہو کر ہی رہنا تھا۔1
۱۷:۶
ثُمَّپھرthummaرَدَدْنَالوٹائی ہم نےradadnāلَكُمُتمہارے لئےlakumuٱلْكَرَّةَایک مرتبہ واپسیl-karataعَلَيْهِمْان پرʿalayhimوَأَمْدَدْنَـٰكُماور مدد دی ہم نے تم کوwa-amdadnākumبِأَمْوَٰلٍۢساتھ مالوں کےbi-amwālinوَبَنِينَاور بیٹوں کےwabanīnaوَجَعَلْنَـٰكُمْاور کردیا ہم نے تم کوwajaʿalnākumأَكْثَرَزیادہ کثیرaktharaنَفِيرًانفری میںnafīran٦
اِس کے بعد ہم نے تمہیں اُن پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔1
۱۷:۷
إِنْاگرinأَحْسَنتُمْبھلائی کرو گے تمaḥsantumأَحْسَنتُمْبھلائی کرو گے تمaḥsantumلِأَنفُسِكُمْ ۖاپنے نفسوں کے لئےli-anfusikumوَإِنْاور اگرwa-inأَسَأْتُمْبرا کیا تم نےasatumفَلَهَا ۚتو اسی کے لئے ہےfalahāفَإِذَاپھر جبfa-idhāجَآءَآگیاjāaوَعْدُوعدہwaʿduٱلْـَٔاخِرَةِدوسراl-ākhiratiلِيَسُـۥٓـُٔوا۟تاکہ بگاڑ دیںliyasūūوُجُوهَكُمْتمہارے چہروں کوwujūhakumوَلِيَدْخُلُوا۟اور تاکہ وہ داخل ہوںwaliyadkhulūٱلْمَسْجِدَمسجد میںl-masjidaكَمَاجیسا کہkamāدَخَلُوهُوہ داخل ہوئے اس میںdakhalūhuأَوَّلَپہلیawwalaمَرَّةٍۢبارmarratinوَلِيُتَبِّرُوا۟اور تاکہ وہ تباہ کردیںwaliyutabbirūمَاجس پرmāعَلَوْا۟غالب آئیںʿalawتَتْبِيرًاتباہ کرناtatbīran٧
دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور بُرائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے بُرائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دُوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دُوسرے دشمنوں کو تم پر مسلّط کیا تا کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المَقدِس)میں اُسی طرح گھُس جائیں جس طرح پہلے دُشمن گھُسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں1
۱۷:۸
عَسَىٰامید ہےʿasāرَبُّكُمْرب تمہاراrabbukumأَنکہanيَرْحَمَكُمْ ۚرحم کرے تم پرyarḥamakumوَإِنْاور اگرwa-inعُدتُّمْلوٹو گے تمʿudttumعُدْنَا ۘلوٹیں گے ہمʿud'nāوَجَعَلْنَااور بنایا ہم نےwajaʿalnāجَهَنَّمَجہنم کوjahannamaلِلْكَـٰفِرِينَکافروں کے لئےlil'kāfirīnaحَصِيرًاقید خانہḥaṣīran٨
ہو سکتا ہے کہ اب تمہارا ربّ تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اور کافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم ے جہنّم کو قید خانہ بنا رکھا ہے۔1
۱۷:۹
إِنَّبیشکinnaهَـٰذَایہhādhāٱلْقُرْءَانَقرآنl-qur'ānaيَهْدِىراہ نمائی کرتا ہےyahdīلِلَّتِىاس چیز کے لئےlillatīهِىَوہ جوhiyaأَقْوَمُسب سے زیادہ درست ہےaqwamuوَيُبَشِّرُاور خوش خبری دیتا ہےwayubashiruٱلْمُؤْمِنِينَان اہل ایمان کوl-mu'minīnaٱلَّذِينَوہ لوگ جوalladhīnaيَعْمَلُونَعمل کرتے ہیںyaʿmalūnaٱلصَّـٰلِحَـٰتِاچھےl-ṣāliḥātiأَنَّبیشکannaلَهُمْان کے لئےlahumأَجْرًۭااجر ہےajranكَبِيرًۭابڑاkabīran٩
حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے
۱۷:۱۰
وَأَنَّاور بیشکwa-annaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaلَانہیںlāيُؤْمِنُونَجو ایمان لاتےyu'minūnaبِٱلْـَٔاخِرَةِآخرت پرbil-ākhiratiأَعْتَدْنَاتیار کیا ہم نےaʿtadnāلَهُمْان کے لئےlahumعَذَابًاعذابʿadhābanأَلِيمًۭادرد ناکalīman١٠
اور جولوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیّا کر رکھا ہے۔1
۱۷:۱۱
وَيَدْعُاور مانگتا ہے/ دعا کرتا ہےwayadʿuٱلْإِنسَـٰنُانسانl-insānuبِٱلشَّرِّشر کیbil-shariدُعَآءَهُۥدعا اپنیduʿāahuبِٱلْخَيْرِ ۖبدلے بھلائی کےbil-khayriوَكَانَاور ہےwakānaٱلْإِنسَـٰنُانسانl-insānuعَجُولًۭاجلد بازʿajūlan١١
انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔1
۱۷:۱۲
وَجَعَلْنَااور بنایا ہم نےwajaʿalnāٱلَّيْلَرات کوal-laylaوَٱلنَّهَارَاور دن کوwal-nahāraءَايَتَيْنِ ۖدو نشانیاںāyatayniفَمَحَوْنَآتو مٹادی ہم نےfamaḥawnāءَايَةَنشانیāyataٱلَّيْلِرات کیal-layliوَجَعَلْنَآاور بنایا ہم نےwajaʿalnāءَايَةَنشانی کوāyataٱلنَّهَارِدن کیl-nahāriمُبْصِرَةًۭدیکھنے والا/ روشنmub'ṣiratanلِّتَبْتَغُوا۟تاکہ تم تلاش کروlitabtaghūفَضْلًۭافضلfaḍlanمِّنطرف سےminرَّبِّكُمْاپنے رب کیrabbikumوَلِتَعْلَمُوا۟اور تاکہ تم جان لوwalitaʿlamūعَدَدَگنتیʿadadaٱلسِّنِينَسالوں کیl-sinīnaوَٱلْحِسَابَ ۚاور حسابwal-ḥisābaوَكُلَّاور ہرwakullaشَىْءٍۢچیز کوshayinفَصَّلْنَـٰهُکھول کر بیان کیا ہم نے اس کوfaṣṣalnāhuتَفْصِيلًۭاکھول کر بیان کرناtafṣīlan١٢
دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بے نُور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے ربّ کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو۔ اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیَّز کر کے رکھا ہے۔1
۱۷:۱۳
وَكُلَّاور ہرwakullaإِنسَـٰنٍانسانinsāninأَلْزَمْنَـٰهُچمٹا دیا/ لگا دیا/ لازم کردیا ہم نے اس کوalzamnāhuطَـٰٓئِرَهُۥاس کا شگونṭāirahuفِىمیںfīعُنُقِهِۦ ۖاس کی گردنʿunuqihiوَنُخْرِجُاور ہم نکالیں گےwanukh'rijuلَهُۥاس کے لئےlahuيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiكِتَـٰبًۭاایک کتابkitābanيَلْقَىٰهُوہ پائے گا اس کوyalqāhuمَنشُورًانشر کیا ہواmanshūran١٣
ہر انسان کا شگون ہم نے اُس کے اپنے گلےمیں لٹکا رکھا ہے،1 اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اُس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھُلی کتاب کی طرح پائے گا
۱۷:۱۴
ٱقْرَأْپڑھوiq'raكِتَـٰبَكَاپنی کتاب کوkitābakaكَفَىٰکافی ہےkafāبِنَفْسِكَساتھ تیرے نفس کےbinafsikaٱلْيَوْمَآجl-yawmaعَلَيْكَتیرے خلافʿalaykaحَسِيبًۭاحساب لینے والاḥasīban١٤
پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے
۱۷:۱۵
مَّنِجس نےmaniٱهْتَدَىٰہدایت پائیih'tadāفَإِنَّمَاتو بیشکfa-innamāيَهْتَدِىہدایت پاتا ہےyahtadīلِنَفْسِهِۦ ۖاپنے نفس کے لئےlinafsihiوَمَناور جوwamanضَلَّگمراہ ہوا/ بھٹکاḍallaفَإِنَّمَاتو بیشکfa-innamāيَضِلُّبھٹکتا ہےyaḍilluعَلَيْهَا ۚاس کے خلاف/ اپنے اوپرʿalayhāوَلَااور نہwalāتَزِرُبوجھ اٹھائے گاtaziruوَازِرَةٌۭکوئی بوجھ اٹھانے والاwāziratunوِزْرَبوجھwiz'raأُخْرَىٰ ۗدوسرے کاukh'rāوَمَااور نہیںwamāكُنَّاہیں ہمkunnāمُعَذِّبِينَعذاب دینے والےmuʿadhibīnaحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāنَبْعَثَہم بھیجیںnabʿathaرَسُولًۭاایک رسول کوrasūlan١٥
جو کوئی راہِ راست اختیار کرے اس کی راست روی اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گُمراہ ہو اُس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے۔1 کوئی بوجھ اُٹھانے والا دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔2 اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے)ایک پیغام بر نہ بھیج دیں۔3
۱۷:۱۶
وَإِذَآاور جبwa-idhāأَرَدْنَآارادہ کرتے ہیں ہمaradnāأَنکہanنُّهْلِكَہم ہلاک کردیںnuh'likaقَرْيَةًکسی بستی کوqaryatanأَمَرْنَاحکم دیتے ہیں ہمamarnāمُتْرَفِيهَااس کے خوش حال طبقے کوmut'rafīhāفَفَسَقُوا۟تو وہ نافرمانی کرتے ہیںfafasaqūفِيهَااس میںfīhāفَحَقَّتو سچ ہوجاتی ہےfaḥaqqaعَلَيْهَااس پرʿalayhāٱلْقَوْلُباتl-qawluفَدَمَّرْنَـٰهَاتو تباہ کردیتے ہیں ہمfadammarnāhāتَدْمِيرًۭااس کو تباہ کرناtadmīran١٦
جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔1
۱۷:۱۷
وَكَمْاور کتنی ہیwakamأَهْلَكْنَاہلاک کیں ہم نےahlaknāمِنَمیں سےminaٱلْقُرُونِبستیوںl-qurūniمِنۢکےminبَعْدِبعدbaʿdiنُوحٍۢ ۗنوحnūḥinوَكَفَىٰاور کافی ہےwakafāبِرَبِّكَتیرا ربbirabbikaبِذُنُوبِگناہوں کیbidhunūbiعِبَادِهِۦاپنے بندوں کےʿibādihiخَبِيرًۢاخبر رکھنے والاkhabīranبَصِيرًۭادیکھنے والاbaṣīran١٧
دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے
۱۷:۱۸
مَّنجو کوئیmanكَانَہےkānaيُرِيدُارادہ رکھتا ہےyurīduٱلْعَاجِلَةَجلدی ملنے والی چیز کاl-ʿājilataعَجَّلْنَاجلدی دیتے ہیں ہمʿajjalnāلَهُۥاس کے لئےlahuفِيهَااس میںfīhāمَاجوmāنَشَآءُہم چاہتے ہیںnashāuلِمَنجس کے لئےlimanنُّرِيدُہم چاہتے ہیںnurīduثُمَّپھرthummaجَعَلْنَامقرر کردیتے ہیں ہمjaʿalnāلَهُۥاس کے لئےlahuجَهَنَّمَجہنم کوjahannamaيَصْلَىٰهَاتاپے گا اس کوyaṣlāhāمَذْمُومًۭاملامت زدہmadhmūmanمَّدْحُورًۭارحمت سے دور رکھا ہواmadḥūran١٨
جو کوئی عاجلہ 1کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسُوم میں جہنّم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محرُوم ہو کر۔2
۱۷:۱۹
وَمَنْاور جوwamanأَرَادَچاہتا ہےarādaٱلْـَٔاخِرَةَآخرت کوl-ākhirataوَسَعَىٰاور کوشش کرےwasaʿāلَهَااس کے لئےlahāسَعْيَهَاکوشش اس کیsaʿyahāوَهُوَاور وہwahuwaمُؤْمِنٌۭمومن ہوmu'minunفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگfa-ulāikaكَانَہےkānaسَعْيُهُمان کی کوششsaʿyuhumمَّشْكُورًۭاقابل قدرmashkūran١٩
اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔1
۱۷:۲۰
كُلًّۭاہر ایک کوkullanنُّمِدُّہم مدد دیتے ہیںnumidduهَـٰٓؤُلَآءِان لوگوں کوhāulāiوَهَـٰٓؤُلَآءِاور ان لوگوں کوwahāulāiمِنْمیں سےminعَطَآءِبخششʿaṭāiرَبِّكَ ۚتیرے رب کیrabbikaوَمَااور نہیں ہےwamāكَانَiskānaعَطَآءُبخششʿaṭāuرَبِّكَتیرے رب کیrabbikaمَحْظُورًارد کی گئیmaḥẓūran٢٠
اِن کو بھی اور اُن کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دُنیا میں)سامانِ زیست دیے جارہے ہیں، یہ تیرے ربّ کا عطیہ ہے، اور تیرے ربّ کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔1
۱۷:۲۱
ٱنظُرْدیکھوunẓurكَيْفَکس طرحkayfaفَضَّلْنَافضیلت دی ہم نےfaḍḍalnāبَعْضَهُمْان میں سے بعض کوbaʿḍahumعَلَىٰاوپرʿalāبَعْضٍۢ ۚبعض کوbaʿḍinوَلَلْـَٔاخِرَةُاور البتہ آخرتwalalākhiratuأَكْبَرُزیادہ بڑی ہےakbaruدَرَجَـٰتٍۢدرجات کے اعتبار سےdarajātinوَأَكْبَرُاور زیادہ بڑی ہےwa-akbaruتَفْضِيلًۭافضیلت میںtafḍīlan٢١
مگر دیکھ لو، دُنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دُوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میں اُس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی۔1
۱۷:۲۲
لَّانہlāتَجْعَلْتو بناtajʿalمَعَساتھmaʿaٱللَّهِاللہ کےl-lahiإِلَـٰهًاکوئی الٰہilāhanءَاخَرَدوسراākharaفَتَقْعُدَتو تو بیٹھا رہ جائے گاfataqʿudaمَذْمُومًۭاملامت زدہmadhmūmanمَّخْذُولًۭابےیارو مددگار ہوکرmakhdhūlan٢٢
تُو اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا معبود نہ بنا1 ورنہ ملامت زدہ اور بے یار و مددگار بیٹھا رہ جائے گا۔
۱۷:۲۳
۞ وَقَضَىٰاور فیصلہ کردیا ہےwaqaḍāرَبُّكَتیرے رب نےrabbukaأَلَّاکہ نہallāتَعْبُدُوٓا۟تم عبادت کروtaʿbudūإِلَّآمگرillāإِيَّاهُاسی کیiyyāhuوَبِٱلْوَٰلِدَيْنِاور والدین کے ساتھwabil-wālidayniإِحْسَـٰنًا ۚاحسان کروiḥ'sānanإِمَّااگر و ہimmāيَبْلُغَنَّپہنچیںyablughannaعِندَكَتیرے پاسʿindakaٱلْكِبَرَبڑی عمر کو/ بڑھاپے کوl-kibaraأَحَدُهُمَآان دونوں میں سے ایکaḥaduhumāأَوْیاawكِلَاهُمَاوہ دونوںkilāhumāفَلَاتو نہfalāتَقُلکہناtaqulلَّهُمَآان دونوں کے لئےlahumāأُفٍّۢا فuffinوَلَااور نہwalāتَنْهَرْهُمَاجھڑکنا ان کوtanharhumāوَقُلاور کہناwaqulلَّهُمَاان کوlahumāقَوْلًۭاباتqawlanكَرِيمًۭاعزت والی/ احترام والیkarīman٢٣
تیرے ربّ نے فیصلہ کر دیا ہے1 کہ:(۱)تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی۔2(۲) والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں بُوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جِھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو
۱۷:۲۴
وَٱخْفِضْاور جھکاؤ/ جھکائے رکھناwa-ikh'fiḍلَهُمَاان دونوں کے لئےlahumāجَنَاحَبازوjanāḥaٱلذُّلِّذلت کا/ عاجزی کاl-dhuliمِنَسےminaٱلرَّحْمَةِرحمتl-raḥmatiوَقُلاور کہوwaqulرَّبِّاے میرے ربrabbiٱرْحَمْهُمَارحم کیجئے ان دونوں پرir'ḥamhumāكَمَاجیسا کہkamāرَبَّيَانِىان دونوں نے پالا مجھ کوrabbayānīصَغِيرًۭابچپن میں/ چھوٹے ہوتےṣaghīran٢٤
اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ "پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا"
۱۷:۲۵
رَّبُّكُمْرب تمہاراrabbukumأَعْلَمُزیادہ جانتا ہےaʿlamuبِمَاساتھ اس کے جوbimāفِىمیں ہےfīنُفُوسِكُمْ ۚتمہارے نفسوںnufūsikumإِناگرinتَكُونُوا۟تم ہوگےtakūnūصَـٰلِحِينَنیکṣāliḥīnaفَإِنَّهُۥتو یقیناً وہfa-innahuكَانَہےkānaلِلْأَوَّٰبِينَرجوع کرنے والوں کے لئےlil'awwābīnaغَفُورًۭابخشش فرمانے والاghafūran٢٥
تمہارا ربّ خُوب جانتا ہے کہ تمہارےدِلوں میں کیا ہے۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصُور پر متنبِہّ ہو کر بندگی کے رویّے کی طرف پلٹ آئیں۔1
۱۷:۲۶
وَءَاتِاور دوwaātiذَاthe relativesdhāٱلْقُرْبَىٰرشتہ داروں کوl-qur'bāحَقَّهُۥحق ان کاḥaqqahuوَٱلْمِسْكِينَاور مسکین کوwal-mis'kīnaوَٱبْنَاور مسافر کوwa-ib'naٱلسَّبِيلِاور مسافر کوl-sabīliوَلَااور نہwalāتُبَذِّرْتو بےجا خرچ کرtubadhirتَبْذِيرًآ بےجا خرچ کرناtabdhīran٢٦
رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق فضول خرچی نہ کرو
۱۷:۲۷
إِنَّبیشکinnaٱلْمُبَذِّرِينَفضول خرچ لوگl-mubadhirīnaكَانُوٓا۟ہیںkānūإِخْوَٰنَبھائیikh'wānaٱلشَّيَـٰطِينِ ۖشیطانوں کےl-shayāṭīniوَكَانَاور ہےwakānaٱلشَّيْطَـٰنُشیطانl-shayṭānuلِرَبِّهِۦاپنے رب کے لئےlirabbihiكَفُورًۭاناشکراkafūran٢٧
فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے
۱۷:۲۸
وَإِمَّااور اگرwa-immāتُعْرِضَنَّتم اعراض ہو توtuʿ'riḍannaعَنْهُمُان سےʿanhumuٱبْتِغَآءَچاہنے کوib'tighāaرَحْمَةٍۢرحمتraḥmatinمِّنطرف سےminرَّبِّكَاپنے رب کیrabbikaتَرْجُوهَاتم امید رکھتے ہو اس کیtarjūhāفَقُلتو کہوfaqulلَّهُمْان سےlahumقَوْلًۭاباتqawlanمَّيْسُورًۭانرمی والی/ عمدگی کے ساتھmaysūran٢٨
اگر اُن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں سے)تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم اُمیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو۔
۱۷:۲۹
وَلَااور نہwalāتَجْعَلْتو رکھtajʿalيَدَكَاپنا ہاتھyadakaمَغْلُولَةًبندھا ہواmaghlūlatanإِلَىٰکی طرفilāعُنُقِكَاپنی گردنʿunuqikaوَلَااور نہwalāتَبْسُطْهَاتو پھیلادے اس کوtabsuṭ'hāكُلَّپوراkullaٱلْبَسْطِہر طرح پھیلا دیناl-basṭiفَتَقْعُدَتو بیٹھ جائے گاfataqʿudaمَلُومًۭاملامت زدہmalūmanمَّحْسُورًاحسرت زدہmaḥsūran٢٩
نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کُھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاوٴ۔1
۱۷:۳۰
إِنَّبیشکinnaرَبَّكَرب تیراrabbakaيَبْسُطُپھیلاتا ہےyabsuṭuٱلرِّزْقَرزق کوl-riz'qaلِمَنجس کے لئےlimanيَشَآءُوہ چاہتا ہےyashāuوَيَقْدِرُ ۚاور تنگ کردیتا ہےwayaqdiruإِنَّهُۥبیشک وہinnahuكَانَہےkānaبِعِبَادِهِۦاپنے بندوں کے ساتھbiʿibādihiخَبِيرًۢاخبر رکھنے والا،khabīranبَصِيرًۭادیکھنے والاbaṣīran٣٠
تیرا ربّ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔1
۱۷:۳۱
وَلَااور نہwalāتَقْتُلُوٓا۟تم قتل کروtaqtulūأَوْلَـٰدَكُمْاپنی اولاد کوawlādakumخَشْيَةَخوف سےkhashyataإِمْلَـٰقٍۢ ۖمفلسی کےim'lāqinنَّحْنُہمnaḥnuنَرْزُقُهُمْہم رزق دیتے ہیں ان کوnarzuquhumوَإِيَّاكُمْ ۚاور تم کو (بھی)wa-iyyākumإِنَّبیشکinnaقَتْلَهُمْان کا قتل کرناqatlahumكَانَہےkānaخِطْـًۭٔاخطاkhiṭ'anكَبِيرًۭابہت بڑیkabīran٣١
اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔1
۱۷:۳۲
وَلَااور نہwalāتَقْرَبُوا۟تم قریب جاؤtaqrabūٱلزِّنَىٰٓ ۖزنا کےl-zināإِنَّهُۥکیونکہ وہinnahuكَانَہےkānaفَـٰحِشَةًۭبےحیائیfāḥishatanوَسَآءَاور براwasāaسَبِيلًۭاراستہsabīlan٣٢
زنا کے قریب نہ پھٹکو، وہ بہت بُرا فعل اور بڑا ہی بُرا راستہ۔1
۱۷:۳۳
وَلَااور نہwalāتَقْتُلُوا۟تم قتل کروtaqtulūٱلنَّفْسَکسی جان کوl-nafsaٱلَّتِىوہ جوallatīحَرَّمَحرام کیḥarramaٱللَّهُاللہ نےl-lahuإِلَّامگرillāبِٱلْحَقِّ ۗحق کے ساتھbil-ḥaqiوَمَناور جوwamanقُتِلَقتل کیا گیاqutilaمَظْلُومًۭاظلم کے ساتھmaẓlūmanفَقَدْتو تحقیقfaqadجَعَلْنَابنایا ہم نےjaʿalnāلِوَلِيِّهِۦاس کے ولی کے لئےliwaliyyihiسُلْطَـٰنًۭاحق/ قوتsul'ṭānanفَلَاتو نہfalāيُسْرِفوہ زیادتی کرے/ حد سے بڑھےyus'rifفِّىمیںfīٱلْقَتْلِ ۖقتل کرنےl-qatliإِنَّهُۥبیشک وہinnahuكَانَہےkānaمَنصُورًۭامدد کیا ہواmanṣūran٣٣
قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے1 مگر حق کے ساتھ۔2 اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے،3 پس چاہیے کے وہ قتل میں حد سے نہ گزرے،4 اُس کی مدد کی جائے گی5
۱۷:۳۴
وَلَااور نہwalāتَقْرَبُوا۟تم قریب جاؤtaqrabūمَالَمال کےmālaٱلْيَتِيمِیتیم کےl-yatīmiإِلَّامگرillāبِٱلَّتِىساتھ اس طریقے کےbi-allatīهِىَوہhiyaأَحْسَنُزیادہ اچھا ہےaḥsanuحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَبْلُغَوہ پہنچ جائےyablughaأَشُدَّهُۥ ۚاپنی جوانی کوashuddahuوَأَوْفُوا۟اور پورا کروwa-awfūبِٱلْعَهْدِ ۖعہد کوbil-ʿahdiإِنَّکیونکہinnaٱلْعَهْدَعہدl-ʿahdaكَانَہےkānaمَسْـُٔولًۭاپوچھا جانے والاmasūlan٣٤
مالِ یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے۔1عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔2
۱۷:۳۵
وَأَوْفُوا۟اور پورا کروwa-awfūٱلْكَيْلَناپl-kaylaإِذَاجبidhāكِلْتُمْناپو تمkil'tumوَزِنُوا۟اور تولوwazinūبِٱلْقِسْطَاسِساتھ ترازو کےbil-qis'ṭāsiٱلْمُسْتَقِيمِ ۚسیدھی/ درستl-mus'taqīmiذَٰلِكَیہdhālikaخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunوَأَحْسَنُاور زیادہ اچھا ہےwa-aḥsanuتَأْوِيلًۭاانجام کے اعتبار سےtawīlan٣٥
پیمانے سے دو تو پُورا بھر کر دو، اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو۔ 1یہ اچھا طریقہ ہے اور ہلحاظِ انجام بھی یہی بہتر ہے۔2
۱۷:۳۶
وَلَااور نہwalāتَقْفُپیچھے پڑوtaqfuمَاجوmāلَيْسَنہیںlaysaلَكَتیرے لئےlakaبِهِۦاس کا کوئیbihiعِلْمٌ ۚعلمʿil'munإِنَّبیشکinnaٱلسَّمْعَکانl-samʿaوَٱلْبَصَرَاور آنکھwal-baṣaraوَٱلْفُؤَادَاور دلwal-fuādaكُلُّیہ سبkulluأُو۟لَـٰٓئِكَthoseulāikaكَانَہےkānaعَنْهُان کے بارے میںʿanhuمَسْـُٔولًۭاسوال کیا جانے والاmasūlan٣٦
کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو، یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے1
۱۷:۳۷
وَلَااور نہwalāتَمْشِتم چلوtamshiفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمین (میں)l-arḍiمَرَحًا ۖاکڑ کرmaraḥanإِنَّكَکیونکہ تمinnakaلَنہرگز نہیںlanتَخْرِقَپھاڑ سکتےtakhriqaٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaوَلَناور ہرگز نہیںwalanتَبْلُغَپہنچ سکتےtablughaٱلْجِبَالَپہاڑوں کوl-jibālaطُولًۭااونچائی میں/ بلندی میں/ لمبائی میںṭūlan٣٧
زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔
۱۷:۳۸
كُلُّیہ سبkulluذَٰلِكَthatdhālikaكَانَہےkānaسَيِّئُهُۥاس کی برائیsayyi-uhuعِندَنزدیکʿindaرَبِّكَتیرے رب کےrabbikaمَكْرُوهًۭامکروہ/ ناپسندیدہmakrūhan٣٨
اِن امور میں سے ہر ایک کا بُرا پہلو تیرے ربّ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔1
۱۷:۳۹
ذَٰلِكَیہdhālikaمِمَّآاس میں سے ہےmimmāأَوْحَىٰٓجو وحی کیawḥāإِلَيْكَتیری طرفilaykaرَبُّكَتیرے ربrabbukaمِنَمیں سےminaٱلْحِكْمَةِ ۗحکمتl-ḥik'matiوَلَااور نہwalāتَجْعَلْتو بناtajʿalمَعَساتھmaʿaٱللَّهِاللہ کےl-lahiإِلَـٰهًاالٰہilāhanءَاخَرَکوئی دوسراākharaفَتُلْقَىٰتو تو ڈال دیا جائے گاfatul'qāفِىمیںfīجَهَنَّمَجہنمjahannamaمَلُومًۭاملامت کیا ہواmalūmanمَّدْحُورًارحمت سے دورmadḥūran٣٩
یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے ربّ نے تجھ پر وحی کی ہیں۔اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کو ئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تُو جہنّم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر
۱۷:۴۰
أَفَأَصْفَىٰكُمْکیا بھلا چن لیا تم کوafa-aṣfākumرَبُّكُمتمہارے رب نےrabbukumبِٱلْبَنِينَبیٹوں کے ساتھbil-banīnaوَٱتَّخَذَاور بنالیںwa-ittakhadhaمِنَسےminaٱلْمَلَـٰٓئِكَةِفرشتوں میں (سے)l-malāikatiإِنَـٰثًا ۚلڑکیاںināthanإِنَّكُمْیقیناً تمinnakumلَتَقُولُونَالبتہ تم کہتے ہوlataqūlūnaقَوْلًاباتqawlanعَظِيمًۭابہت بڑیʿaẓīman٤٠
کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے ربّ نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنا لیا؟1 بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو
۱۷:۴۱
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadصَرَّفْنَاپھیر پھیر کر لائے ہیں ہمṣarrafnāفِىمیںfīهَـٰذَااسhādhāٱلْقُرْءَانِقرآنl-qur'āniلِيَذَّكَّرُوا۟تاکہ وہ نصیحت پکڑیںliyadhakkarūوَمَااور نہیںwamāيَزِيدُهُمْبڑھاتا ان کو (یہ پھیرنا/مثالیں لانا)yazīduhumإِلَّامگرillāنُفُورًۭابھاگنے میں/نفرت میںnufūran٤١
ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں
۱۷:۴۲
قُلکہہ دیجئےqulلَّوْاگرlawكَانَہوتےkānaمَعَهُۥٓاس کے ساتھmaʿahuءَالِهَةٌۭgodsālihatunكَمَاجیسا کہkamāيَقُولُونَوہ کہتے ہیںyaqūlūnaإِذًۭاتبidhanلَّٱبْتَغَوْا۟البتہ وہ تلاش کرتےla-ib'taghawإِلَىٰطرفilāذِىوالے کےdhīٱلْعَرْشِعرشl-ʿarshiسَبِيلًۭاراستہsabīlan٤٢
اے محمد ؐ ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالکِ عرش کے مقام پر پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے۔
۱۷:۴۳
سُبْحَـٰنَهُۥپاک ہے وہsub'ḥānahuوَتَعَـٰلَىٰاور بلند ہےwataʿālāعَمَّااس سےʿammāيَقُولُونَجو وہ کہتے ہیںyaqūlūnaعُلُوًّۭابلندیʿuluwwanكَبِيرًۭابہت زیادہkabīran٤٣
پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں
۱۷:۴۴
تُسَبِّحُتسبیح کررہے ہیںtusabbiḥuلَهُاس کے لئےlahuٱلسَّمَـٰوَٰتُآسمانl-samāwātuٱلسَّبْعُساتl-sabʿuوَٱلْأَرْضُاور زمینwal-arḍuوَمَناور جوwamanفِيهِنَّ ۚان کے اندر ہےfīhinnaوَإِناور نہیںwa-inمِّنکوئیminشَىْءٍچیزshayinإِلَّامگرillāيُسَبِّحُتسبیح کررہی ہےyusabbiḥuبِحَمْدِهِۦساتھ اس کی حمد کےbiḥamdihiوَلَـٰكِنلیکنwalākinلَّانہیںlāتَفْقَهُونَتم سمجھتےtafqahūnaتَسْبِيحَهُمْ ۗان کی تسبیح کوtasbīḥahumإِنَّهُۥبیشک وہinnahuكَانَہےkānaحَلِيمًاحلم والا/ بردبارḥalīmanغَفُورًۭابخشنے والاghafūran٤٤
اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔1 کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو2، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بُردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔3
۱۷:۴۵
وَإِذَااور جبwa-idhāقَرَأْتَپڑھتے ہو تمqarataٱلْقُرْءَانَقرآن کوl-qur'ānaجَعَلْنَاہم ڈال دیتے ہیںjaʿalnāبَيْنَكَتیرے درمیانbaynakaوَبَيْنَاور درمیانwabaynaٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaلَاجو نہیںlāيُؤْمِنُونَایمان رکھتےyu'minūnaبِٱلْـَٔاخِرَةِآخرتbil-ākhiratiحِجَابًۭاایک پردہḥijābanمَّسْتُورًۭاچھپا ہواmastūran٤٥
جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں
۱۷:۴۶
وَجَعَلْنَااورہم ڈال دیتے ہیںwajaʿalnāعَلَىٰپرʿalāقُلُوبِهِمْان کے دلوںqulūbihimأَكِنَّةًغلافakinnatanأَنکہanيَفْقَهُوهُوہ (نہ) سمجھیں اس کوyafqahūhuوَفِىٓمیںwafīءَاذَانِهِمْاور ان کے کانوںādhānihimوَقْرًۭا ۚبوجھ ہوتا ہےwaqranوَإِذَااور جبwa-idhāذَكَرْتَتم ذکر کرتے ہوdhakartaرَبَّكَاپنے رب کاrabbakaفِىمیںfīٱلْقُرْءَانِقرآنl-qur'āniوَحْدَهُۥاکیلے اسی کاwaḥdahuوَلَّوْا۟وہ مڑجاتے ہیںwallawعَلَىٰٓپرʿalāأَدْبَـٰرِهِمْاپنی پیٹھوں پرadbārihimنُفُورًۭانفرت کرتے ہوئےnufūran٤٦
اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھادیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں۔1 اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی ربّ کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔2
۱۷:۴۷
نَّحْنُہم زیادہnaḥnuأَعْلَمُجانتے ہیںaʿlamuبِمَاساتھ اس کو جو کچھbimāيَسْتَمِعُونَوہ سنتے ہیںyastamiʿūnaبِهِۦٓساتھ اس کےbihiإِذْجبidhيَسْتَمِعُونَوہ سنتے ہیںyastamiʿūnaإِلَيْكَتیری طرفilaykaوَإِذْاور جبwa-idhهُمْوہhumنَجْوَىٰٓسرگوشیاں کرتے ہیںnajwāإِذْجبidhيَقُولُکہتے ہیںyaqūluٱلظَّـٰلِمُونَظالم لوگl-ẓālimūnaإِننہیںinتَتَّبِعُونَتم پیروی کرتےtattabiʿūnaإِلَّامگرillāرَجُلًۭاایک شخص کیrajulanمَّسْحُورًاسحر زدہmasḥūran٤٧
ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں تو دراصل کیا سُنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں۔ یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جارہے ہو1
۱۷:۴۸
ٱنظُرْدیکھوunẓurكَيْفَکس طرحkayfaضَرَبُوا۟انہوں نے بیان کیںḍarabūلَكَتیرے لئےlakaٱلْأَمْثَالَمثالیںl-amthālaفَضَلُّوا۟تو وہ بھٹک گئےfaḍallūفَلَاتو نہیںfalāيَسْتَطِيعُونَوہ استطاعت رکھتے راستے کیyastaṭīʿūnaسَبِيلًۭا(find) a waysabīlan٤٨
دیکھو، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں۔ یہ بھٹک گئے ہیں۔ اِنہیں راستہ نہیں ملتا۔1
۱۷:۴۹
وَقَالُوٓا۟اور وہ کہتے ہیںwaqālūأَءِذَاکیا جبa-idhāكُنَّاہم ہوں گےkunnāعِظَـٰمًۭاہڈیاںʿiẓāmanوَرُفَـٰتًااور چورا چوراwarufātanأَءِنَّاکیا بیشک ہمa-innāلَمَبْعُوثُونَالبتہ اٹھائے جائیں گےlamabʿūthūnaخَلْقًۭاپیدائش میںkhalqanجَدِيدًۭاایک نئیjadīdan٤٩
وہ کہتے ہیں "جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟"
۱۷:۵۰
۞ قُلْکہہ دیجئےqulكُونُوا۟ہوجاؤkūnūحِجَارَةًپتھرḥijāratanأَوْیاawحَدِيدًالوہاḥadīdan٥٠
ان سے کہو "تم پتھر یا لوہا بھی ہو جاؤ
۱۷:۵۱
أَوْیاawخَلْقًۭامخلوقkhalqanمِّمَّااس میں سے جوmimmāيَكْبُرُبڑی ہوتی ہےyakburuفِىمیںfīصُدُورِكُمْ ۚتمہارے سینوںṣudūrikumفَسَيَقُولُونَپس عنقریب وہ کہیں گےfasayaqūlūnaمَنکونmanيُعِيدُنَا ۖلوٹائے گا ہم کوyuʿīdunāقُلِکہہ دیجئے کہ وہ ہستیquliٱلَّذِىجس نےalladhīفَطَرَكُمْپیدا کیا تم کوfaṭarakumأَوَّلَپہلیawwalaمَرَّةٍۢ ۚبارmarratinفَسَيُنْغِضُونَپس عنقریب سر ہلائیں گےfasayun'ghiḍūnaإِلَيْكَتیری طرفilaykaرُءُوسَهُمْاپنے سروں کوruūsahumوَيَقُولُونَاور وہ کہیں گےwayaqūlūnaمَتَىٰکب ہےmatāهُوَ ۖوہhuwaقُلْکہہ دیجئےqulعَسَىٰٓامید ہےʿasāأَنکہanيَكُونَوہ ہوyakūnaقَرِيبًۭاقریب ہیqarīban٥١
یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبولِ حیات سے بعید تر ہو“(پھر بھی تم اُٹھ کر رہو گے)۔ وہ ضرور پوچھیں گے”کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا؟“ جواب میں کہو”وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا۔“ وہ سر ہِلا ہِلا کر پوچھیں 1گے”اچھا، تو یہ ہوگا کب؟“ تم کہو”کیا عجب ، وہ وقت قریب ہی آلگا ہو
۱۷:۵۲
يَوْمَجس دن وہyawmaيَدْعُوكُمْپکارے گا تم کوyadʿūkumفَتَسْتَجِيبُونَپس تم جواب دوگےfatastajībūnaبِحَمْدِهِۦساتھ اس کی حمد سےbiḥamdihiوَتَظُنُّونَاور تم سمجھ جاؤ گےwataẓunnūnaإِنکہ نہیںinلَّبِثْتُمْٹھہرے تمlabith'tumإِلَّامگرillāقَلِيلًۭابہت تھوڑاqalīlan٥٢
جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آوٴ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں۔1“
۱۷:۵۳
وَقُلاور کہہ دیجئےwaqulلِّعِبَادِىمیرے بندوں کوliʿibādīيَقُولُوا۟وہ کہیںyaqūlūٱلَّتِىوہ باتallatīهِىَجوhiyaأَحْسَنُ ۚزیادہ اچھی ہوaḥsanuإِنَّکیونکہinnaٱلشَّيْطَـٰنَشیطانl-shayṭānaيَنزَغُفساد ڈلواتا ہےyanzaghuبَيْنَهُمْ ۚان کے درمیانbaynahumإِنَّبیشکinnaٱلشَّيْطَـٰنَشیطانl-shayṭānaكَانَہےkānaلِلْإِنسَـٰنِانسان کے لئےlil'insāniعَدُوًّۭادشمنʿaduwwanمُّبِينًۭاکھلاmubīnan٥٣
اور اے محمد ؐ ، میرے بندوں1 سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو۔2 دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کُھلا دشمن ہے۔3
۱۷:۵۴
رَّبُّكُمْتمہارا ربrabbukumأَعْلَمُخوب جانتا ہےaʿlamuبِكُمْ ۖتم کوbikumإِناگرinيَشَأْوہ چاہےyashaيَرْحَمْكُمْرحم کرے تم پرyarḥamkumأَوْیاawإِناگرinيَشَأْچاہےyashaيُعَذِّبْكُمْ ۚعذاب دے تم کوyuʿadhib'kumوَمَآاور نہیںwamāأَرْسَلْنَـٰكَبھیجا ہم نے آپ کوarsalnākaعَلَيْهِمْان پرʿalayhimوَكِيلًۭاکار سازwakīlan٥٤
تمہارا ربّ تمہارےحال سے زیادہ واقف ہے ، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے۔1 اور اے نبی ؐ ، ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے۔2
۱۷:۵۵
وَرَبُّكَاور تیرا ربwarabbukaأَعْلَمُخوب جانتا ہےaʿlamuبِمَناس کو جوbimanفِىمیں ہےfīٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوںl-samāwātiوَٱلْأَرْضِ ۗاور زمین میںwal-arḍiوَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadفَضَّلْنَافضیلت دی ہم نےfaḍḍalnāبَعْضَبعضbaʿḍaٱلنَّبِيِّـۧنَنبیوں کوl-nabiyīnaعَلَىٰپرʿalāبَعْضٍۢ ۖبعضbaʿḍinوَءَاتَيْنَااور دی ہم نےwaātaynāدَاوُۥدَداؤد کوdāwūdaزَبُورًۭازبورzabūran٥٥
تیرا ربّ زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے۔ ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیے1، اور ہم نے ہی داوٴد ؑ کو زَبور دی تھی۔2
۱۷:۵۶
قُلِکہہ دیجئےquliٱدْعُوا۟کہ پکاروid'ʿūٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaزَعَمْتُمتم گمان رکھتے ہوzaʿamtumمِّنسےminدُونِهِۦاس کے سوا توdūnihiفَلَانہیںfalāيَمْلِكُونَوہ مالک ہوسکتےyamlikūnaكَشْفَہٹانے کےkashfaٱلضُّرِّتکلیفl-ḍuriعَنكُمْتم سےʿankumوَلَااور نہwalāتَحْوِيلًابدلنے کےtaḥwīlan٥٦
اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز)سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔1
۱۷:۵۷
أُو۟لَـٰٓئِكَیہulāikaٱلَّذِينَوہ لوگ ہیںalladhīnaيَدْعُونَجن کو وہ پکارتے ہیںyadʿūnaيَبْتَغُونَوہ (خود) تلاش کرتے ہیںyabtaghūnaإِلَىٰطرفilāرَبِّهِمُاپنے رب کیrabbihimuٱلْوَسِيلَةَکوئی ذریعہl-wasīlataأَيُّهُمْکون سا ان میں سےayyuhumأَقْرَبُقریب ترaqrabuوَيَرْجُونَاور وہ امید رکھتے ہیںwayarjūnaرَحْمَتَهُۥاس کی رحمت کیraḥmatahuوَيَخَافُونَاورر وہ ڈرتے ہیںwayakhāfūnaعَذَابَهُۥٓ ۚاس کے عذاب سےʿadhābahuإِنَّبیشکinnaعَذَابَعذابʿadhābaرَبِّكَتیرے رب کاrabbikaكَانَہےkānaمَحْذُورًۭاڈرنے کے لائقmaḥdhūran٥٧
جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے ربّ کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اُس کی رحمت کے اُمیدوار اور اُس کے عذاب سے خائف ہیں۔1 حقیقت یہ ہے کہ تیرے ربّ کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق
۱۷:۵۸
وَإِناور نہیںwa-inمِّنسےminقَرْيَةٍکوئی بستیqaryatinإِلَّامگرillāنَحْنُہمnaḥnuمُهْلِكُوهَاہلاک کرنے والے ہیں اس کوmuh'likūhāقَبْلَپہلےqablaيَوْمِدن سےyawmiٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiأَوْیاawمُعَذِّبُوهَاعذاب دینے والے ہیں اس کوmuʿadhibūhāعَذَابًۭاعذابʿadhābanشَدِيدًۭا ۚسختshadīdanكَانَہےkānaذَٰلِكَیہdhālikaفِىمیںfīٱلْكِتَـٰبِکتابl-kitābiمَسْطُورًۭالکھا ہواmasṭūran٥٨
اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں۔1 یہ نوشتہء الٰہی میں لکھا ہوا ہے
۱۷:۵۹
وَمَااور نہیںwamāمَنَعَنَآروکا ہم کوmanaʿanāأَنکہanنُّرْسِلَہم بھیجیںnur'silaبِٱلْـَٔايَـٰتِنشانیاںbil-āyātiإِلَّآمگرillāأَنیہ کہanكَذَّبَجھٹلایاkadhabaبِهَاان کوbihāٱلْأَوَّلُونَ ۚپہلوں میںl-awalūnaوَءَاتَيْنَااور دی ہم نےwaātaynāثَمُودَثمود کوthamūdaٱلنَّاقَةَاونٹنیl-nāqataمُبْصِرَةًۭواضح/ روشن کرنے والیmub'ṣiratanفَظَلَمُوا۟تو انہوں نے ظلم کیاfaẓalamūبِهَا ۚاس کے ساتھbihāوَمَااور نہیںwamāنُرْسِلُہم بھیجتےnur'siluبِٱلْـَٔايَـٰتِنشانیاںbil-āyātiإِلَّامگرillāتَخْوِيفًۭاڈرانے کے لئےtakhwīfan٥٩
اور ہم کو نشانیاں1 بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ اُن کو جُھٹلا چکے ہیں۔ (چنانچہ دیکھ لو)ثمود کو ہم علانیہ اُونٹنی لا کر دی اور اُنہوں نے اُس پر ظلم کیا۔ 2ہم نشانیاں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں۔3
۱۷:۶۰
وَإِذْاور جبwa-idhقُلْنَاکہا ہم نےqul'nāلَكَتیرے لئےlakaإِنَّبیشکinnaرَبَّكَتیرے رب نےrabbakaأَحَاطَگھیر لیا ہےaḥāṭaبِٱلنَّاسِ ۚلوگوں کوbil-nāsiوَمَااور نہیںwamāجَعَلْنَابنایا ہم نےjaʿalnāٱلرُّءْيَامنظر کوl-ru'yāٱلَّتِىٓوہ جوallatīأَرَيْنَـٰكَدکھایا ہم نے تجھ کوaraynākaإِلَّامگرillāفِتْنَةًۭفتنہfit'natanلِّلنَّاسِلوگوں کے لئےlilnnāsiوَٱلشَّجَرَةَاور وہ درختwal-shajarataٱلْمَلْعُونَةَجو لعنت کیا گیاl-malʿūnataفِىمیںfīٱلْقُرْءَانِ ۚقرآنl-qur'āniوَنُخَوِّفُهُمْاور ہم ڈراتے ہیں ان کوwanukhawwifuhumفَمَاتو نہیںfamāيَزِيدُهُمْبڑھاتا/ زیادہ کرتا ان کوyazīduhumإِلَّامگرillāطُغْيَـٰنًۭاسرکشیṭugh'yānanكَبِيرًۭابڑی (میں)kabīran٦٠
یاد کرو اے محمد ؐ ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے ربّ نے اِن لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔1 اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے2، اِس کو اور اُس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے3 ، ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا۔4 ہم اِنہیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جا رہے ہیں، مگر ہر تنبیہ اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے
۱۷:۶۱
وَإِذْاور جبwa-idhقُلْنَاکہا ہم نےqul'nāلِلْمَلَـٰٓئِكَةِفرشوں سےlil'malāikatiٱسْجُدُوا۟سجدہ کروus'judūلِـَٔادَمَآدم کوliādamaفَسَجَدُوٓا۟تو ان سب نے سجدہ کیاfasajadūإِلَّآمگرillāإِبْلِيسَابلیس نےib'līsaقَالَاس نے کہاqālaءَأَسْجُدُکیا میں سجدہ کروںa-asjuduلِمَنْواسطے اس کےlimanخَلَقْتَجس کو پیدا کیا تو نےkhalaqtaطِينًۭامٹی سےṭīnan٦١
اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا۔ 1اس نے کہا”کیا میں اُس کو سجدہ کروں جسے تُو نے مٹی سے بنایا ہے؟“
۱۷:۶۲
قَالَکہاqālaأَرَءَيْتَكَکیا دیکھا تو نے اپنے آپ کوara-aytakaهَـٰذَایہ ہےhādhāٱلَّذِىجسےalladhīكَرَّمْتَتو نے عزت بخشیkarramtaعَلَىَّمجھ پرʿalayyaلَئِنْالبتہ اگرla-inأَخَّرْتَنِتو نے مہلت دی مجھ کوakhartaniإِلَىٰتکilāيَوْمِدنyawmiٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiلَأَحْتَنِكَنَّالبتہ میں ضرور قابو میں کرلوں گاla-aḥtanikannaذُرِّيَّتَهُۥٓاس کی اولاد کوdhurriyyatahuإِلَّامگر/ سوائے تھوڑوں کےillāقَلِيلًۭامگر/ سوائے تھوڑوں کےqalīlan٦٢
پھر وہ بولا”دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تُو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تُو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پُوری نسل کی بیخ کَنی کر ڈالوں1، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے۔“
۱۷:۶۳
قَالَفرمایاqālaٱذْهَبْجاidh'habفَمَنتو جو کوئیfamanتَبِعَكَپیروی کرے تیریtabiʿakaمِنْهُمْان میں سےmin'humفَإِنَّتو بیشکfa-innaجَهَنَّمَجہنمjahannamaجَزَآؤُكُمْبدلہ ہے تمہاراjazāukumجَزَآءًۭبدلہjazāanمَّوْفُورًۭاپورا پوراmawfūran٦٣
اللہ تعالیٰ نے فرمایا "اچھا تو جا، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں، تجھ سمیت اُن سب کے لیے جہنم ہی بھرپور جزا ہے
۱۷:۶۴
وَٱسْتَفْزِزْاور بہکالے/ اکسالےwa-is'tafzizمَنِجس کوmaniٱسْتَطَعْتَتو استطاعت رکھتا ہےis'taṭaʿtaمِنْهُمان میں سےmin'humبِصَوْتِكَاپنی آواز کے ساتھbiṣawtikaوَأَجْلِبْاور چڑھا لاwa-ajlibعَلَيْهِمان پرʿalayhimبِخَيْلِكَسوار اپنےbikhaylikaوَرَجِلِكَاور پیادے اپنےwarajilikaوَشَارِكْهُمْاور شریک ہو ان کاwashārik'humفِىمیںfīٱلْأَمْوَٰلِمالوںl-amwāliوَٱلْأَوْلَـٰدِاور بچوں میںwal-awlādiوَعِدْهُمْ ۚاور وعدہ کر ان سےwaʿid'humوَمَااور نہیںwamāيَعِدُهُمُوعدہ کرتا ان سےyaʿiduhumuٱلشَّيْطَـٰنُشیطانl-shayṭānuإِلَّامگرillāغُرُورًادھوکے کاghurūran٦٤
تُو جس جس کو اپنی دعوت سے پھِسلا سکتا ہے پِھسلا لے1، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا،2 مال اور اولاد میں ان کے ساتھ سا جھا لگا،3 اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس4۔۔۔۔ اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں
۱۷:۶۵
إِنَّبیشکinnaعِبَادِىمیرے بندےʿibādīلَيْسَنہیں ہےlaysaلَكَتیرے لئےlakaعَلَيْهِمْان پرʿalayhimسُلْطَـٰنٌۭ ۚکوئی زورsul'ṭānunوَكَفَىٰاور کافی ہےwakafāبِرَبِّكَتیرا ربbirabbikaوَكِيلًۭاکارسازwakīlan٦٥
یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا،1 اور توکّل کے لیے تیرا ربّ کافی ہے۔“2
۱۷:۶۶
رَّبُّكُمُرب تمہاراrabbukumuٱلَّذِىوہ ذات ہےalladhīيُزْجِىجو چلاتا ہےyuz'jīلَكُمُتمہارے لئےlakumuٱلْفُلْكَکشتیوں کوl-ful'kaفِىمیںfīٱلْبَحْرِسمندرl-baḥriلِتَبْتَغُوا۟تاکہ تم تلاش کروlitabtaghūمِنسےminفَضْلِهِۦٓ ۚاسکے فضلfaḍlihiإِنَّهُۥیقیناً وہinnahuكَانَہےkānaبِكُمْساتھ تمہارےbikumرَحِيمًۭارحم فرمانے والاraḥīman٦٦
تمہارا (حقیقی)ربّ تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے1 تا کہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔2 حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے
۱۷:۶۷
وَإِذَااور جبwa-idhāمَسَّكُمُچھو جاتی ہے تم کوmassakumuٱلضُّرُّتکلیفl-ḍuruفِىمیںfīٱلْبَحْرِسمندرl-baḥriضَلَّگم ہوجاتے ہیںḍallaمَنجن کوmanتَدْعُونَتم پکارتے ہوtadʿūnaإِلَّآسوائےillāإِيَّاهُ ۖصرف اس کےiyyāhuفَلَمَّاتو جبfalammāنَجَّىٰكُمْوہ نجات دیتا ہے تم کوnajjākumإِلَىطرفilāٱلْبَرِّخشکی کیl-bariأَعْرَضْتُمْ ۚتو تم منہ موڑ جاتے ہوaʿraḍtumوَكَانَاور ہےwakānaٱلْإِنسَـٰنُانسانl-insānuكَفُورًابڑا ناشکراkafūran٦٧
جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دُوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گُم ہوجاتے ہیں1، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اُس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے
۱۷:۶۸
أَفَأَمِنتُمْکیا بےخوف ہوگئے تمafa-amintumأَنکہanيَخْسِفَوہ دھنسا دےyakhsifaبِكُمْتم کوbikumجَانِبَجانبjānibaٱلْبَرِّخشکی کےl-bariأَوْیاawيُرْسِلَبھیجےyur'silaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumحَاصِبًۭاپتھروں کی بارشḥāṣibanثُمَّپھرthummaلَانہlāتَجِدُوا۟تم پاؤ گےtajidūلَكُمْاپنے لئےlakumوَكِيلًاکوئی کارسازwakīlan٦٨
اچھا، تو کیا تم اِس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے، یا تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پاؤ؟
۱۷:۶۹
أَمْیاamأَمِنتُمْبےخوف ہوگئےamintumأَنکہanيُعِيدَكُمْوہ لوٹائے تم کوyuʿīdakumفِيهِاس میںfīhiتَارَةًمرتبہtāratanأُخْرَىٰدوسریukh'rāفَيُرْسِلَپھر بھیجےfayur'silaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumقَاصِفًۭاگرجنے والی/ توڑنے والیqāṣifanمِّنَمیں سےminaٱلرِّيحِہواl-rīḥiفَيُغْرِقَكُمپھر غرق کردے تم کوfayugh'riqakumبِمَابوجہ اس کےbimāكَفَرْتُمْ ۙجو ناشکری کی تم نےkafartumثُمَّپھرthummaلَانہlāتَجِدُوا۟تم پاؤtajidūلَكُمْاپنے لئےlakumعَلَيْنَاہمارے مقابلے میںʿalaynāبِهِۦساتھ اس کےbihiتَبِيعًۭاکوئی تابع/ کوئی یپیچھا کرنے والاtabīʿan٦٩
اور کیا تمہیں اِس کا کوئی اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے؟
۱۷:۷۰
۞ وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadكَرَّمْنَاعزت بخشی ہم نےkarramnāبَنِىٓبنیbanīءَادَمَآدم کوādamaوَحَمَلْنَـٰهُمْاور سوار کیا ہمنے ان کوwaḥamalnāhumفِىمیںfīٱلْبَرِّخشکیl-bariوَٱلْبَحْرِاور سمندر میںwal-baḥriوَرَزَقْنَـٰهُماور رزق دیا ہم نے ان کوwarazaqnāhumمِّنَسےminaٱلطَّيِّبَـٰتِپاکیزہ چیزوں میں (سے)l-ṭayibātiوَفَضَّلْنَـٰهُمْاور فضیلت دی ہم نے ان کوwafaḍḍalnāhumعَلَىٰاوپرʿalāكَثِيرٍۢبہت ساروں کےkathīrinمِّمَّنْان میں سے جوmimmanخَلَقْنَاپیدا کئے ہم نےkhalaqnāتَفْضِيلًۭافضیلت دیناtafḍīlan٧٠
یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیااور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔
۱۷:۷۱
يَوْمَجس دنyawmaنَدْعُوا۟ہم پکاریں گےnadʿūكُلَّسبkullaأُنَاسٍۭلوگوں کوunāsinبِإِمَـٰمِهِمْ ۖساتھ ان کے لیڈر کے/ پیشوا کےbi-imāmihimفَمَنْتو جو کوئیfamanأُوتِىَدیا گیاūtiyaكِتَـٰبَهُۥکتاب اپنیkitābahuبِيَمِينِهِۦاپنے دائیں ہاتھ میںbiyamīnihiفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگfa-ulāikaيَقْرَءُونَپڑھیں گےyaqraūnaكِتَـٰبَهُمْکتاب اپنیkitābahumوَلَااور نہwalāيُظْلَمُونَوہ ظلم کئے جائیں گےyuẓ'lamūnaفَتِيلًۭادھاگے برابرfatīlan٧١
پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہٴ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے1 اور ان پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا
۱۷:۷۲
وَمَناور جو کوئیwamanكَانَہواkānaفِىمیںfīهَـٰذِهِۦٓاس دنیاhādhihiأَعْمَىٰاندھاaʿmāفَهُوَتو وہfahuwaفِىمیںfīٱلْـَٔاخِرَةِآخرت میںl-ākhiratiأَعْمَىٰاندھا ہوگاaʿmāوَأَضَلُّاور سب سے زیادہ بھٹکا ہواwa-aḍalluسَبِيلًۭاراستے کے اعتبار سےsabīlan٧٢
اور جو اِس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام
۱۷:۷۳
وَإِناور اگر چہwa-inكَادُوا۟قریب تھاkādūلَيَفْتِنُونَكَکہ وہ دھوکہ دیں تجھ کو/ فتنے میں ڈالیں تجھ کوlayaftinūnakaعَنِاسʿaniٱلَّذِىٓچیز کے بارے میںalladhīأَوْحَيْنَآہم نے وحیawḥaynāإِلَيْكَآپ کی طرفilaykaلِتَفْتَرِىَتاکہ تم گھڑ سکوlitaftariyaعَلَيْنَاہم پرʿalaynāغَيْرَهُۥ ۖاس کے علاوہghayrahuوَإِذًۭااور تب البتہwa-idhanلَّٱتَّخَذُوكَوہ بنالیتے تجھ کوla-ittakhadhūkaخَلِيلًۭادوستkhalīlan٧٣
اے محمد ؐ ، ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔ 1اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنالیتے
۱۷:۷۴
وَلَوْلَآاور اگر نہ ہوتی یہ باتwalawlāأَنکہanثَبَّتْنَـٰكَہم ثابت قدم رکھتے تجھ کوthabbatnākaلَقَدْالبتہ تحقیقlaqadكِدتَّقریب تھاkidttaتَرْكَنُکہ تو جھک جاتاtarkanuإِلَيْهِمْان کی طرفilayhimشَيْـًۭٔاچیزshayanقَلِيلًاتھوڑا سا/ تھوڑی سیqalīlan٧٤
اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے
۱۷:۷۵
إِذًۭاتبidhanلَّأَذَقْنَـٰكَالبتہ ہم چکھاتے تجھ کوla-adhaqnākaضِعْفَدوگناḍiʿ'faٱلْحَيَوٰةِزندگی میںl-ḥayatiوَضِعْفَاور دوگناwaḍiʿ'faٱلْمَمَاتِموت میںl-mamātiثُمَّپھرthummaلَانہlāتَجِدُتم پاتےtajiduلَكَاپنے لئےlakaعَلَيْنَاہم پر/ ہمارے مقابلے پرʿalaynāنَصِيرًۭاکوئی مدد گارnaṣīran٧٥
لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دُنیا میں بھی دوہرے عذاب کا مزّہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا، پھر ہمارےمقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے۔1
۱۷:۷۶
وَإِناور بیشکwa-inكَادُوا۟قریب تھاkādūلَيَسْتَفِزُّونَكَالبتہ عاجز کردیں تجھ کوlayastafizzūnakaمِنَسےminaٱلْأَرْضِزمینl-arḍiلِيُخْرِجُوكَتاکہ وہ نکال دیں تجھ کوliyukh'rijūkaمِنْهَا ۖاس سےmin'hāوَإِذًۭااور تبwa-idhanلَّانہlāيَلْبَثُونَوہ ٹھہرتےyalbathūnaخِلَـٰفَكَتیرے پیچھےkhilāfakaإِلَّامگرillāقَلِيلًۭاتھوڑا ساqalīlan٧٦
اور یہ لوگ اس بات پر بھی تُلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سرزمین سے اُکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں۔ لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے۔1
۱۷:۷۷
سُنَّةَطریقہ ہےsunnataمَنجن کوmanقَدْتحقیقqadأَرْسَلْنَابھیجا ہم نےarsalnāقَبْلَكَتجھ سے پہلےqablakaمِنمیں سےminرُّسُلِنَا ۖاپنے رسولوںrusulināوَلَااور نہwalāتَجِدُتو پائے گاtajiduلِسُنَّتِنَاہمارے طریقے کوlisunnatināتَحْوِيلًابدلنے والاtaḥwīlan٧٧
ہ ہمارا مستقل طریقِ کار ہے جو اُن سب رسُولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا1 تھا،اور ہمارے طریقِ کار میں تم کوئی تغیّر نہ پاوٴگے
۱۷:۷۸
أَقِمِقائم کروaqimiٱلصَّلَوٰةَنماز کوl-ṣalataلِدُلُوكِڈھلنے کے وقتlidulūkiٱلشَّمْسِسورج کےl-shamsiإِلَىٰتکilāغَسَقِسخت تاریکیghasaqiٱلَّيْلِرات کیal-layliوَقُرْءَانَاور قرآن پڑھناwaqur'ānaٱلْفَجْرِ ۖفجر کاl-fajriإِنَّبیشکinnaقُرْءَانَقرآن پڑھناqur'ānaٱلْفَجْرِفجر کاl-fajriكَانَہےkānaمَشْهُودًۭاحاضر کیا گیا/ دیکھا جانے والاmashhūdan٧٨
نماز قائم کرو1 زوالِ آفتاب2 سے لے کر رات کے اندھیرے3 تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو4 کیونکہ قرآنِ فجر مشہُود ہوتا ہے۔5
۱۷:۷۹
وَمِنَمیں سےwaminaٱلَّيْلِاور راتal-layliفَتَهَجَّدْپس تہجد پڑھوfatahajjadبِهِۦاس میںbihiنَافِلَةًۭنفل ہیں/ زائد ہیںnāfilatanلَّكَآپ کے لئےlakaعَسَىٰٓامید ہےʿasāأَنیہ کہanيَبْعَثَكَپہنچادے تجھ کوyabʿathakaرَبُّكَرب تیراrabbukaمَقَامًۭامقامmaqāmanمَّحْمُودًۭامحمود پرmaḥmūdan٧٩
اور رات کو تہجّد پڑھو،1 یہ تمہارے لیے نفل ہے2، بعید نہیں کہ تمہارا ربّ تمہیں مقامِ محمُود3 پر فائز کر دے
۱۷:۸۰
وَقُلاور آپ کہہ دیجئےwaqulرَّبِّاے میرے ربrabbiأَدْخِلْنِىداخل کر مجھ کوadkhil'nīمُدْخَلَداخل کرناmud'khalaصِدْقٍۢسچائی کے ساتھṣid'qinوَأَخْرِجْنِىاور نکال مجھ کوwa-akhrij'nīمُخْرَجَنکالناmukh'rajaصِدْقٍۢسچائی کے ساتھṣid'qinوَٱجْعَلاور بنادےwa-ij'ʿalلِّىمیرے لئےlīمِنسےminلَّدُنكَاپنے پاس سےladunkaسُلْطَـٰنًۭاایک قوت،sul'ṭānanنَّصِيرًۭاطاقت/ مددگارnaṣīran٨٠
اور دُعا کرو کہ پروردگار ، مجھ کو جہاں بھی تُو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال،1 اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے۔2
۱۷:۸۱
وَقُلْاور کہہ دیجئےwaqulجَآءَآگیاjāaٱلْحَقُّحقl-ḥaquوَزَهَقَاور زائل ہوگیا/ ہٹ گیاwazahaqaٱلْبَـٰطِلُ ۚباطلl-bāṭiluإِنَّبیشکinnaٱلْبَـٰطِلَباطلl-bāṭilaكَانَہےkānaزَهُوقًۭازائل ہونے والاzahūqan٨١
اور اعلان کر دو کہ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔“1
۱۷:۸۲
وَنُنَزِّلُاور ہم نازل کرتے ہیںwanunazziluمِنَسےminaٱلْقُرْءَانِقرآن میں (سے)l-qur'āniمَاوہmāهُوَجوhuwaشِفَآءٌۭشفاء ہےshifāonوَرَحْمَةٌۭاور رحمتwaraḥmatunلِّلْمُؤْمِنِينَ ۙایمان لانے والوں کے لئےlil'mu'minīnaوَلَااور نہیںwalāيَزِيدُزیادہ ہوتاyazīduٱلظَّـٰلِمِينَظالموں کوl-ẓālimīnaإِلَّامگرillāخَسَارًۭاخسارہkhasāran٨٢
ہم اِس قرآن کے سلسلہٴ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کےلیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔
۱۷:۸۳
وَإِذَآاور جبwa-idhāأَنْعَمْنَاانعام کرتے ہیں ہمanʿamnāعَلَىپرʿalāٱلْإِنسَـٰنِانسانl-insāniأَعْرَضَوہ منہ موڑ لیتا ہےaʿraḍaوَنَـَٔااور دور ہوتا ہےwanaāبِجَانِبِهِۦ ۖاپنے پہلو کے ساتھbijānibihiوَإِذَااور جبwa-idhāمَسَّهُپہنچتا ہے اس کوmassahuٱلشَّرُّشر/تکلیفl-sharuكَانَہوجاتا ہےkānaيَـُٔوسًۭابہت مایوسyaūsan٨٣
انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے
۱۷:۸۴
قُلْکہہ دیجئےqulكُلٌّۭسب کے سبkullunيَعْمَلُعمل کر رہے ہیںyaʿmaluعَلَىٰپرʿalāشَاكِلَتِهِۦاپنے طریقےshākilatihiفَرَبُّكُمْتو رب تمہاراfarabbukumأَعْلَمُزیادہ جانتا ہےaʿlamuبِمَنْاس کو جوbimanهُوَوہhuwaأَهْدَىٰزیادہ ہدایت یافتہ ہےahdāسَبِيلًۭاراستے کے اعتبار سےsabīlan٨٤
اے نبیؐ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ "ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے"
۱۷:۸۵
وَيَسْـَٔلُونَكَاور وہ سوال کرتے ہیں آپ سےwayasalūnakaعَنِبارے میںʿaniٱلرُّوحِ ۖروح کےl-rūḥiقُلِکہہ دیجئےquliٱلرُّوحُروحl-rūḥuمِنْسے ہےminأَمْرِحکمamriرَبِّىمیرے رب کےrabbīوَمَآاور نہیںwamāأُوتِيتُمدیئے گئے تمūtītumمِّنَمیں سےminaٱلْعِلْمِعلمl-ʿil'miإِلَّامگرillāقَلِيلًۭابہت تھوڑاqalīlan٨٥
یہ لوگ تم سے رُوح کے متعلق پُوچھتے ہیں۔ کہو”یہ رُوح میرے ربّ کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔“1
۱۷:۸۶
وَلَئِناور البتہ اگرwala-inشِئْنَاہم چاہتےshi'nāلَنَذْهَبَنَّالبتہ ہم ضرور لے جاتےlanadhhabannaبِٱلَّذِىٓاس چیز کوbi-alladhīأَوْحَيْنَآجو وحی کی ہم نےawḥaynāإِلَيْكَآپ کی طرفilaykaثُمَّپھرthummaلَانہlāتَجِدُتم پاتےtajiduلَكَاپنے لئےlakaبِهِۦساتھ اس کےbihiعَلَيْنَاہم پرʿalaynāوَكِيلًاکوئی کارسازwakīlan٨٦
اور اے محمدؐ، ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تم کو عطا کیا ہے، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پاؤ گے جو اسے واپس دلا سکے
۱۷:۸۷
إِلَّامگرillāرَحْمَةًۭرحمتraḥmatanمِّنسےminرَّبِّكَ ۚتیرے رب کی طرف (سے)rabbikaإِنَّبیشکinnaفَضْلَهُۥفضل اس کاfaḍlahuكَانَہےkānaعَلَيْكَتجھ پرʿalaykaكَبِيرًۭابہت بڑاkabīran٨٧
یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے ربّ کی رحمت سے مِلا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے۔1
۱۷:۸۸
قُلکہہ دیجئےqulلَّئِنِالبتہ اگرla-iniٱجْتَمَعَتِجمع ہوجائیںij'tamaʿatiٱلْإِنسُانسانl-insuوَٱلْجِنُّاور جنwal-jinuعَلَىٰٓپرʿalāأَنکہanيَأْتُوا۟اس بات لے آئیںyatūبِمِثْلِمانندbimith'liهَـٰذَااسhādhāٱلْقُرْءَانِقرآن کےl-qur'āniلَانہlāيَأْتُونَلاسکیں گےyatūnaبِمِثْلِهِۦاس کی طرح کاbimith'lihiوَلَوْاور اگرچہwalawكَانَہوںkānaبَعْضُهُمْان میں سے بعضbaʿḍuhumلِبَعْضٍۢبعض کے لئےlibaʿḍinظَهِيرًۭامدد گارẓahīran٨٨
کہہ دو کہ اگر انسان اور جِن سب کے سب مل کر اِس قرآن جیسی کوئی چیزلانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔1
۱۷:۸۹
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadصَرَّفْنَاپھیر پھیر کر لائے ہم/ پھیر پھیر کر بیان کیں ہم نےṣarrafnāلِلنَّاسِلوگوں کے لئےlilnnāsiفِىمیںfīهَـٰذَااسhādhāٱلْقُرْءَانِقرآنl-qur'āniمِنمیں سےminكُلِّہر طرح کیkulliمَثَلٍۢمثالmathalinفَأَبَىٰٓتو نہ ماناfa-abāأَكْثَرُاکثرaktharuٱلنَّاسِلوگوں نےl-nāsiإِلَّامگرillāكُفُورًۭاانکار کرناkufūran٨٩
ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر انکار ہی پر جمے رہے
۱۷:۹۰
وَقَالُوا۟اور انہوں نے کہاwaqālūلَنہم ہرگز نہlanنُّؤْمِنَایمان لائیں گےnu'minaلَكَتیرے لئےlakaحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāتَفْجُرَتو جاری کرےtafjuraلَنَاہمارے لئےlanāمِنَسےminaٱلْأَرْضِزمینl-arḍiيَنۢبُوعًاایک چشمہyanbūʿan٩٠
اور انہوں نے کہا "ہم تیر ی بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے
۱۷:۹۱
أَوْیاawتَكُونَہو وےtakūnaلَكَتیرے لئےlakaجَنَّةٌۭایک باغjannatunمِّنمیں سےminنَّخِيلٍۢکھجوروںnakhīlinوَعِنَبٍۢاور انگوروںمیں سےwaʿinabinفَتُفَجِّرَپھر تو پھاڑےfatufajjiraٱلْأَنْهَـٰرَدریاl-anhāraخِلَـٰلَهَااس کے درمیانkhilālahāتَفْجِيرًاپھاڑنا/ جاری کرناtafjīran٩١
یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے
۱۷:۹۲
أَوْیاawتُسْقِطَتو گرائےtus'qiṭaٱلسَّمَآءَآسمان کوl-samāaكَمَاجیسا کہkamāزَعَمْتَتم دعویٰ کرتے ہوzaʿamtaعَلَيْنَاہم پرʿalaynāكِسَفًاٹکڑے ٹکڑے کرکےkisafanأَوْیاawتَأْتِىَتو لے آئےtatiyaبِٱللَّهِاللہ تعالیٰ کوbil-lahiوَٱلْمَلَـٰٓئِكَةِاور فرشتوں کوwal-malāikatiقَبِيلًاسامنےqabīlan٩٢
یا تو آسمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا خدا اور فرشتوں کو رُو در رُو ہمارے سامنے لے آئے
۱۷:۹۳
أَوْیاawيَكُونَہوyakūnaلَكَتیرے لئےlakaبَيْتٌۭبیتbaytunمِّنofminزُخْرُفٍسونے کاzukh'rufinأَوْیاawتَرْقَىٰتو چڑھ جائےtarqāفِىمیںfīٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiوَلَناور ہم ہرگز نہwalanنُّؤْمِنَمانیں گےnu'minaلِرُقِيِّكَتیرے چڑھنے کوliruqiyyikaحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāتُنَزِّلَتو اتار لائےtunazzilaعَلَيْنَاہم پرʿalaynāكِتَـٰبًۭاایک کتابkitābanنَّقْرَؤُهُۥ ۗہم پڑھیں اس کوnaqra-uhuقُلْکہہ دیجئےqulسُبْحَانَپاک ہےsub'ḥānaرَبِّىمیرا ربrabbīهَلْکیا نہیںhalكُنتُہوں میںkuntuإِلَّامگر/ سوائےillāبَشَرًۭاایک انسان کےbasharanرَّسُولًۭاجو رسول ہےrasūlan٩٣
یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے۔ یا تُو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تُو ہمارے اُوپر ایک ایسی تحریر نہ اُتار لائے جسے ہم پڑھیں“۔۔۔۔اے محمد ؐ ، اِن سے کہو”پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟“1
۱۷:۹۴
وَمَااور نہیںwamāمَنَعَروکاmanaʿaٱلنَّاسَلوگوں کوl-nāsaأَنکہanيُؤْمِنُوٓا۟وہ ایمان لائیںyu'minūإِذْجبidhجَآءَهُمُآگئی ان کے پاسjāahumuٱلْهُدَىٰٓہدایتl-hudāإِلَّآمگرillāأَنیہ کہanقَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūأَبَعَثَکیا بھیجاabaʿathaٱللَّهُاللہ نےl-lahuبَشَرًۭاایک بشر کوbasharanرَّسُولًۭارسول بناکرrasūlan٩٤
لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اِسی قول نے کہ”کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟“1
۱۷:۹۵
قُلکہہ دیجئےqulلَّوْاگرlawكَانَہوتےkānaفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمینl-arḍiمَلَـٰٓئِكَةٌۭفرشتےmalāikatunيَمْشُونَچلتے پھرتےyamshūnaمُطْمَئِنِّينَاطمینان کے ساتھmuṭ'ma-innīnaلَنَزَّلْنَاالبتہ نازل کرتے ہمlanazzalnāعَلَيْهِمان پرʿalayhimمِّنَسےminaٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiمَلَكًۭاایک فرشتے کوmalakanرَّسُولًۭارسول بنا کرrasūlan٩٥
ن سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے۔1
۱۷:۹۶
قُلْکہہ دیجئےqulكَفَىٰکافی ہےkafāبِٱللَّهِاللہ تعالیٰbil-lahiشَهِيدًۢاگواہshahīdanبَيْنِىمیرے درمیانbaynīوَبَيْنَكُمْ ۚاور تمہارے درمیانwabaynakumإِنَّهُۥبیشک وہinnahuكَانَہےkānaبِعِبَادِهِۦاپنے بندوں کیbiʿibādihiخَبِيرًۢاخبر رکھنے والا،khabīranبَصِيرًۭادیکھنے والاbaṣīran٩٦
اے محمد ؐ ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔1
۱۷:۹۷
وَمَناور جس کوwamanيَهْدِہدایت دےyahdiٱللَّهُاللہl-lahuفَهُوَتو وہیfahuwaٱلْمُهْتَدِ ۖہدایت پانے والا ہےl-muh'tadiوَمَناو ر جس کوwamanيُضْلِلْبھٹکادےyuḍ'lilفَلَنتو ہرگز نہیںfalanتَجِدَتم پاؤ گےtajidaلَهُمْان کے لئےlahumأَوْلِيَآءَکوئی مدد گارawliyāaمِناس کےminدُونِهِۦ ۖسواdūnihiوَنَحْشُرُهُمْاور ہم اکٹھا کریں گے ان کوwanaḥshuruhumيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiعَلَىٰپرʿalāوُجُوهِهِمْان مونہوںwujūhihimعُمْيًۭااندھاʿum'yanوَبُكْمًۭااور گونگاwabuk'manوَصُمًّۭا ۖاور بہرا (بناکر)waṣummanمَّأْوَىٰهُمْٹھکانہ ان کا ہوگاmawāhumجَهَنَّمُ ۖجہنم ہوگاjahannamuكُلَّمَاجب کبھیkullamāخَبَتْآہستہ ہونے لگے گیkhabatزِدْنَـٰهُمْزیادہ کردیں گے ہم ان کوzid'nāhumسَعِيرًۭابھڑکنے میںsaʿīran٩٧
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے بعد ایسے لوگوں کے لیے تُو کوئی حامی و ناصر نہیں پاسکتا۔1 ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے، اندھے، گُونگے اور بہرے۔2 اُن کا ٹھکانا جہنّم ہے۔ جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے
۱۷:۹۸
ذَٰلِكَیہdhālikaجَزَآؤُهُمان کی جزا ہےjazāuhumبِأَنَّهُمْبوجہ اس کے کہ بیشک انہوں نےbi-annahumكَفَرُوا۟انہوں نے کفر کیاkafarūبِـَٔايَـٰتِنَاہماری آیات کاbiāyātināوَقَالُوٓا۟اور انہوں نے کہاwaqālūأَءِذَاکیا جب ہوں گےa-idhāكُنَّاہمkunnāعِظَـٰمًۭاہڈیاںʿiẓāmanوَرُفَـٰتًااور ریزہ ریزہwarufātanأَءِنَّاکیا بیشک ہمa-innāلَمَبْعُوثُونَالبتہ اٹھائیں جائیں گےlamabʿūthūnaخَلْقًۭاپیدائش میںkhalqanجَدِيدًانئیjadīdan٩٨
یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا "کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟"
۱۷:۹۹
۞ أَوَلَمْکیا بھلا انہوں نےawalamيَرَوْا۟دیکھا نہیںyarawأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaٱلَّذِىوہ ذات ہےalladhīخَلَقَجس نے پیدا کیاkhalaqaٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کوl-samāwātiوَٱلْأَرْضَاور زمین کوwal-arḍaقَادِرٌقادر ہےqādirunعَلَىٰٓاس بات پرʿalāأَنکہanيَخْلُقَوہ پیدا کرےyakhluqaمِثْلَهُمْان کی مانندmith'lahumوَجَعَلَاور اس نے مقرر کر رکھا ہےwajaʿalaلَهُمْان کے لئےlahumأَجَلًۭاایک وقتajalanلَّانہیںlāرَيْبَکوئی شکraybaفِيهِجس میںfīhiفَأَبَىتو انکار کیاfa-abāٱلظَّـٰلِمُونَظالموں نےl-ẓālimūnaإِلَّامگرillāكُفُورًۭاکفر کا/انکار کاkufūran٩٩
کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین اور آسمانو ں کو پیدا کیا ہے وہ اِن جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟ اس نے اِن کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے
۱۷:۱۰۰
قُلکہہ دیجئےqulلَّوْاگرlawأَنتُمْتمantumتَمْلِكُونَمالک ہوtamlikūnaخَزَآئِنَخزانوں کےkhazāinaرَحْمَةِرحمت کےraḥmatiرَبِّىٓمیرے رب کیrabbīإِذًۭاتبidhanلَّأَمْسَكْتُمْالبتہ روک لیتے تمla-amsaktumخَشْيَةَڈر سےkhashyataٱلْإِنفَاقِ ۚخرچ ہوجانے کےl-infāqiوَكَانَاور ہےwakānaٱلْإِنسَـٰنُانسانl-insānuقَتُورًۭاکنجوس/ بخیلqatūran١٠٠
اے محمد ؐ ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے ربّ کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔ واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے۔1
۱۷:۱۰۱
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadءَاتَيْنَادی ہم نےātaynāمُوسَىٰموسیٰ کوmūsāتِسْعَنوtis'ʿaءَايَـٰتٍۭنشانیاںāyātinبَيِّنَـٰتٍۢ ۖروشنbayyinātinفَسْـَٔلْتو پوچھ لوfasalبَنِىٓبنیbanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل سےis'rāīlaإِذْجبidhجَآءَهُمْآئیں ان کے پاسjāahumفَقَالَتو کہاfaqālaلَهُۥاس کوlahuفِرْعَوْنُفرعون نےfir'ʿawnuإِنِّىبیشک میںinnīلَأَظُنُّكَالبتہ میں گمان/ کرتا ہوں تجھ کوla-aẓunnukaيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsāمَسْحُورًۭاسحر زدہmasḥūran١٠١
ہم نے موسیٰؑ کو نو نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح طور پر دکھائی دے رہی تھیں۔1 اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پُوچھ لو کہ جب وہ سامنے آئیں تو فرعون نے یہی کہا تھا نہ کہ”اے موسیٰ ، میں سمجھتا ہوں کہ تُو ضرور ایک سحر زدہ آدمی ہے۔“2
۱۷:۱۰۲
قَالَاس نے کہاqālaلَقَدْالبتہ تحقیقlaqadعَلِمْتَتو جانتا ہےʿalim'taمَآنہیںmāأَنزَلَاتاراanzalaهَـٰٓؤُلَآءِان کوhāulāiإِلَّامگرillāرَبُّرب نےrabbuٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کےl-samāwātiوَٱلْأَرْضِاور زمین کےwal-arḍiبَصَآئِرَواضح نشانیا/ دلائلbaṣāiraوَإِنِّىاور بیشک میںwa-innīلَأَظُنُّكَالبتہ گمان کرتا ہوں تمجھ کوla-aẓunnukaيَـٰفِرْعَوْنُاے فرعونyāfir'ʿawnuمَثْبُورًۭاہلاک ہونے والاmathbūran١٠٢
موسیٰؑ نے اس کے جواب میں کہا”تُو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں ربّ السّماوات و الارض کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں1، اور میرا خیال یہ ہےکہ اے فرعون ، تُو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے۔2“
۱۷:۱۰۳
فَأَرَادَتو اس نے ارادہ کیاfa-arādaأَنکہanيَسْتَفِزَّهُماکھاڑ پھینکے ان کوyastafizzahumمِّنَسےminaٱلْأَرْضِزمینl-arḍiفَأَغْرَقْنَـٰهُتو غرق کردیا ہم نے اس کوfa-aghraqnāhuوَمَناور جوwamanمَّعَهُۥاس کے ساتھ تھےmaʿahuجَمِيعًۭاسب کے سب کوjamīʿan١٠٣
آخرکار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، مگر ہم نے اس کو اوراس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کر دیا
۱۷:۱۰۴
وَقُلْنَااور کہا ہم نےwaqul'nāمِنۢاس کےminبَعْدِهِۦبعدbaʿdihiلِبَنِىٓبنی اسرائیل کے لئےlibanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیلis'rāīlaٱسْكُنُوا۟بس جاؤus'kunūٱلْأَرْضَزمین میںl-arḍaفَإِذَاپھر جبfa-idhāجَآءَآجائے گاjāaوَعْدُوقتwaʿduٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کاl-ākhiratiجِئْنَالے آئیں گے ہمji'nāبِكُمْتم کوbikumلَفِيفًۭاجم کر کے/ لپیٹ کرlafīfan١٠٤
اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو1، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پُورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لا حاضر کریں گے
۱۷:۱۰۵
وَبِٱلْحَقِّاور حق کے ساتھwabil-ḥaqiأَنزَلْنَـٰهُنازل کیا ہم نے اس کوanzalnāhuوَبِٱلْحَقِّاور حق ہی کے ساتھwabil-ḥaqiنَزَلَ ۗوہ اتراnazalaوَمَآاور نہیںwamāأَرْسَلْنَـٰكَبھیجا ہم نے آپ کوarsalnākaإِلَّامگرillāمُبَشِّرًۭاخوش خبری دینے والاmubashiranوَنَذِيرًۭااور ڈرانے والاwanadhīran١٠٥
س قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے محمد ؐ ، تمہیں ہم نے اِس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے)بشارت دے دو اور(جو نہ مانے اُسے)متنبّہ کر دو۔1
۱۷:۱۰۶
وَقُرْءَانًۭااور قرآنwaqur'ānanفَرَقْنَـٰهُالگ الگ کردیا ہم نے اس کوfaraqnāhuلِتَقْرَأَهُۥتاکہ تم پڑھو اس کوlitaqra-ahuعَلَىپرʿalāٱلنَّاسِلوگوںl-nāsiعَلَىٰپرʿalāمُكْثٍۢآہستگی سے/ ٹھہر ٹھہر کرmuk'thinوَنَزَّلْنَـٰهُاور نازل کیا ہم نے اس کوwanazzalnāhuتَنزِيلًۭاآہستہ آہستہ نازل کرناtanzīlan١٠٦
اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر کر اسے لوگوں کو سُناوٴ، اور اسے ہم نے(موقع موقع سے)بتدریج اُتارا ہے۔1
۱۷:۱۰۷
قُلْکہہ دیجئےqulءَامِنُوا۟ایمان لاؤāminūبِهِۦٓساتھ اس کےbihiأَوْیاawلَانہlāتُؤْمِنُوٓا۟ ۚتم ایمان لاؤtu'minūإِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaأُوتُوا۟جو دیئے گئےūtūٱلْعِلْمَعلمl-ʿil'maمِناس سےminقَبْلِهِۦٓپہلےqablihiإِذَاجبidhāيُتْلَىٰپڑھی جاتی ہیںyut'lāعَلَيْهِمْان پر (ہماری آیات)ʿalayhimيَخِرُّونَگرپڑتے ہیںyakhirrūnaلِلْأَذْقَانِٹھوڑیوں کے بلlil'adhqāniسُجَّدًۭاسجدہ کرتے ہوئےsujjadan١٠٧
اے محمدؐ ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانویا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے1 انہیں جب یہ سُنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں
۱۷:۱۰۸
وَيَقُولُونَاور وہ کہتے ہیںwayaqūlūnaسُبْحَـٰنَپاک ہےsub'ḥānaرَبِّنَآرب ہماراrabbināإِنبیشکinكَانَہےkānaوَعْدُوعدہwaʿduرَبِّنَاہمارے رب کاrabbināلَمَفْعُولًۭاالبتہ ہوکر رہنے والاlamafʿūlan١٠٨
ور پکار اُٹھتے ہیں”پاک ہے ہمارا ربّ، اُس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔“1
۱۷:۱۰۹
وَيَخِرُّونَاور وہ گرپڑتے ہیںwayakhirrūnaلِلْأَذْقَانِٹھوڑیوں کے بلlil'adhqāniيَبْكُونَروتے ہیںyabkūnaوَيَزِيدُهُمْاور وہ بڑھا دیتا ہے ان کوwayazīduhumخُشُوعًۭا ۩عاجزی میں/ خشوع میںkhushūʿan١٠٩
اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گِر جاتے ہیں اور اسے سُن کو اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے۔1
۱۷:۱۱۰
قُلِکہہ دیجئے کہquliٱدْعُوا۟پکاروid'ʿūٱللَّهَاللہ کوl-lahaأَوِیاawiٱدْعُوا۟پکاروid'ʿūٱلرَّحْمَـٰنَ ۖالرحمن (کہہ کر)l-raḥmānaأَيًّۭاجس کو بھی/ جس کسے ساتھ بھیayyanمَّاجس کو بھی/ جس کسے ساتھ بھیmāتَدْعُوا۟تم پکارو گےtadʿūفَلَهُتو اسی کے لئے ہیںfalahuٱلْأَسْمَآءُنامl-asmāuٱلْحُسْنَىٰ ۚاچھےl-ḥus'nāوَلَااور نہwalāتَجْهَرْتو بلند کرtajharبِصَلَاتِكَاپنی نماز کوbiṣalātikaوَلَااور نہwalāتُخَافِتْپست کرtukhāfitبِهَااس کوbihāوَٱبْتَغِاور اختیار کرwa-ib'taghiبَيْنَدرمیانbaynaذَٰلِكَاس کےdhālikaسَبِيلًۭاراستہsabīlan١١٠
اے نبیؐ ، اِن سے کہو، اللہ کہہ کر پُکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پُکارو اُس کے لیے سب اچھے نام ہیں۔1 اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو۔2
۱۷:۱۱۱
وَقُلِاور کہہ دیجئےwaquliٱلْحَمْدُسب تعریفl-ḥamduلِلَّهِاللہ کے لئے ہےlillahiٱلَّذِىوہ ذاتalladhīلَمْنہیںlamيَتَّخِذْاس نے بنایاyattakhidhوَلَدًۭاکوئی بچہ/ کوئی بیٹاwaladanوَلَمْاور نہیںwalamيَكُنہےyakunلَّهُۥاس کے لئےlahuشَرِيكٌۭکوئی شریکsharīkunفِىمیںfīٱلْمُلْكِبادشاہتl-mul'kiوَلَمْاور نہیںwalamيَكُنہےyakunلَّهُۥاس کے لئےlahuوَلِىٌّۭکوئی مددگارwaliyyunمِّنَسےminaٱلذُّلِّ ۖکمزوریl-dhuliوَكَبِّرْهُاور بڑائی بیان کر اس کیwakabbir'huتَكْبِيرًۢابڑائی بیان کرنا/ پوری پوری بڑائیtakbīran١١١
اور کہو”تعریف ہے اُس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اُس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو۔“1 اور اُس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی
—
—
—
—
لوڈ ہو رہا ہے…