۱۸
الکہف
الكهف
سورہ الکہف (الكهف) قرآن مجید کی ۱۸ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۱۱۰ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔
بک مارکس (0)
ابھی کوئی بک مارک نہیں۔ کسی بھی آیت کے ساتھ بک مارک آئیکن پر کلک کر کے محفوظ کریں۔
بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱۸:۱
ٱلْحَمْدُسب تعریفal-ḥamduلِلَّهِاللہ کے لئے ہےlillahiٱلَّذِىٓوہ ذاتalladhīأَنزَلَجس نے اتاراanzalaعَلَىٰپرʿalāعَبْدِهِاپنے بندےʿabdihiٱلْكِتَـٰبَکتاب کوl-kitābaوَلَمْاور نہیںwalamيَجْعَلبنایاyajʿalلَّهُۥاس کے لئےlahuعِوَجَاۜکوئی ٹیڑھا پنʿiwajā١
تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔1
۱۸:۲
قَيِّمًۭادرست کرنے والی ہےqayyimanلِّيُنذِرَتاکہ ڈرائےliyundhiraبَأْسًۭاعذاب سےbasanشَدِيدًۭاسختshadīdanمِّنسےminلَّدُنْهُاس کے پاس (سے)ladun'huوَيُبَشِّرَاور خوش خبری دے دےwayubashiraٱلْمُؤْمِنِينَان مومنوں کوl-mu'minīnaٱلَّذِينَجوalladhīnaيَعْمَلُونَعمل کرتے ہیںyaʿmalūnaٱلصَّـٰلِحَـٰتِاچھے/ نیکl-ṣāliḥātiأَنَّہےannaلَهُمْان کے لئےlahumأَجْرًااجر ہےajranحَسَنًۭااچھاḥasanan٢
ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے
۱۸:۳
مَّـٰكِثِينَرہنے والے ہیںmākithīnaفِيهِاس میںfīhiأَبَدًۭاہمیشہ ہمیشہabadan٣
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
۱۸:۴
وَيُنذِرَاورڈرائےwayundhiraٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaقَالُوا۟جنہوں نے کہاqālūٱتَّخَذَبنا لیاittakhadhaٱللَّهُاللہ نےl-lahuوَلَدًۭاایک بیٹا/ بچہwaladan٤
اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔1
۱۸:۵
مَّانہیںmāلَهُمان کے لئےlahumبِهِۦاس کاbihiمِنْکوئیminعِلْمٍۢعلمʿil'minوَلَااور نہwalāلِـَٔابَآئِهِمْ ۚان کے آباؤ اجداد کے لئےliābāihimكَبُرَتْسبہت بڑی ہےkaburatكَلِمَةًۭباتkalimatanتَخْرُجُنکلتی ہےtakhrujuمِنْسےminأَفْوَٰهِهِمْ ۚان کے مونہوں (سے)afwāhihimإِننہیںinيَقُولُونَوہ کہہ رہےyaqūlūnaإِلَّامگرillāكَذِبًۭاایک جھوٹkadhiban٥
اِس بات کا نہ اُنھیں کوئی علم ہے اورنہ ان کے باپ دادا کو تھا۔1 بڑی بات ہے جو ان کےمُنہ سے نکلتی ہے۔ وہ محض جھوٹ بکتے ہیں
۱۸:۶
فَلَعَلَّكَپس شاید کہ آپfalaʿallakaبَـٰخِعٌۭہلاک کرنے والے ہیںbākhiʿunنَّفْسَكَاپنی جان کوnafsakaعَلَىٰٓپرʿalāءَاثَـٰرِهِمْان کے پیچھے/ ان کے آثارāthārihimإِناگرinلَّمْنہlamيُؤْمِنُوا۟وہ ایمان لائیںyu'minūبِهَـٰذَاکے ساتھbihādhāٱلْحَدِيثِاس کلامl-ḥadīthiأَسَفًابہت افسوس کرکےasafan٦
اچھا، تو اے محمدؐ ،شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔1
۱۸:۷
إِنَّابیشک ہم نےinnāجَعَلْنَابنایا ہم نےjaʿalnāمَاجوmāعَلَىپرʿalāٱلْأَرْضِزمین ہےl-arḍiزِينَةًۭخوبصورتیzīnatanلَّهَااس کے لئےlahāلِنَبْلُوَهُمْتاکہ ہم آزمائیں ان کوlinabluwahumأَيُّهُمْکون سا ان میں سےayyuhumأَحْسَنُزیادہ اچھا ہےaḥsanuعَمَلًۭاعمل میںʿamalan٧
واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سر و سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے
۱۸:۸
وَإِنَّااور بیشک ہمwa-innāلَجَـٰعِلُونَالبتہ بنانے والے ہیں/ کرنے والے ہیںlajāʿilūnaمَاجوmāعَلَيْهَااس پر ہےʿalayhāصَعِيدًۭامٹی/ صاف میدانṣaʿīdanجُرُزًابنجر/ بالکل ہموارjuruzan٨
آخرِ کار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔1
۱۸:۹
أَمْکیاamحَسِبْتَکتم نے سمجھاḥasib'taأَنَّکےannaأَصْحَـٰبَبیشک والےaṣḥābaٱلْكَهْفِکہف والے/ غار والےl-kahfiوَٱلرَّقِيمِاور کتبے والےwal-raqīmiكَانُوا۟تھےkānūمِنْمیں سےminءَايَـٰتِنَاہماری بہت نشانیوںāyātināعَجَبًاعجیبʿajaban٩
کیا تم سمجھتے ہو کہ غار1 اور کتبے 2والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟3
۱۸:۱۰
إِذْجبidhأَوَىپناہ لیawāٱلْفِتْيَةُچند نوجوانوں نےl-fit'yatuإِلَىکی طرفilāٱلْكَهْفِغارl-kahfiفَقَالُوا۟تو کہنے لگےfaqālūرَبَّنَآاے ہمارے ربrabbanāءَاتِنَادے ہم کوātināمِنسےminلَّدُنكَاپنے پاسladunkaرَحْمَةًۭرحمتraḥmatanوَهَيِّئْاور مہیا کرwahayyiلَنَاہمارے لئےlanāمِنْمیں سےminأَمْرِنَاہمارے معاملےamrināرَشَدًۭارہنمائیrashadan١٠
جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ "اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کر دے،"
۱۸:۱۱
فَضَرَبْنَاتو تھپکا ہم نے/ مارا ہم نےfaḍarabnāعَلَىٰٓپرʿalāءَاذَانِهِمْان کے کانوںādhānihimفِىمیںfīٱلْكَهْفِغارl-kahfiسِنِينَکئی سالsinīnaعَدَدًۭاتعداد میںʿadadan١١
تو ہم نے انہیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سلا دیا
۱۸:۱۲
ثُمَّپھرthummaبَعَثْنَـٰهُمْاٹھایا ہم نے ان کوbaʿathnāhumلِنَعْلَمَتاکہ ہم جان لیںlinaʿlamaأَىُّکون ساayyuٱلْحِزْبَيْنِدو گروہوں میں سےl-ḥiz'bayniأَحْصَىٰزیادہ گننے والا ہےaḥṣāلِمَاواسطے اس کےlimāلَبِثُوٓا۟وہ ٹھہرے رہےlabithūأَمَدًۭامدت کوamadan١٢
پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے
۱۸:۱۳
نَّحْنُہمnaḥnuنَقُصُّہم سناتے ہیں/ بیان کرتے ہیںnaquṣṣuعَلَيْكَآپ پرʿalaykaنَبَأَهُمان کی خبرnaba-ahumبِٱلْحَقِّ ۚحق کے ساتھbil-ḥaqiإِنَّهُمْبیشک وہinnahumفِتْيَةٌچند نوجوان تھےfit'yatunءَامَنُوا۟جو ایمان لائے تھےāmanūبِرَبِّهِمْاپنے رب کے ساتھbirabbihimوَزِدْنَـٰهُمْاور زیادہ دی تھی ہم نے ان کوwazid'nāhumهُدًۭىہدایتhudan١٣
ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔1 وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اورہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔2
۱۸:۱۴
وَرَبَطْنَااور باندھ دیا ہم نےwarabaṭnāعَلَىٰکوʿalāقُلُوبِهِمْان کے دلوںqulūbihimإِذْجبidhقَامُوا۟وہ کھڑے ہوئےqāmūفَقَالُوا۟پھر کہنے لگےfaqālūرَبُّنَارب ہماراrabbunāرَبُّرب ہےrabbuٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کاl-samāwātiوَٱلْأَرْضِاور زمین کاwal-arḍiلَنہرگز نہیںlanنَّدْعُوَا۟ہم پکاریں گےnadʿuwāمِناس کےminدُونِهِۦٓسواdūnihiإِلَـٰهًۭا ۖکسی الٰہ کوilāhanلَّقَدْالبتہ تحقیقlaqadقُلْنَآکہی ہم نےqul'nāإِذًۭاتبidhanشَطَطًاحق سے دور باتshaṭaṭan١٤
ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کر دیے جب وہ اٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ "ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے"
۱۸:۱۵
هَـٰٓؤُلَآءِیہ لوگhāulāiقَوْمُنَاہماری قومqawmunāٱتَّخَذُوا۟انہوں نے بنالیے ہیںittakhadhūمِناس کےminدُونِهِۦٓسواdūnihiءَالِهَةًۭ ۖکچھ الٰہ/ معبودālihatanلَّوْلَاکیوں نہیںlawlāيَأْتُونَوہ لائےyatūnaعَلَيْهِمان پرʿalayhimبِسُلْطَـٰنٍۭکوئی دلیلbisul'ṭāninبَيِّنٍۢ ۖواضحbayyininفَمَنْتو کونfamanأَظْلَمُزیادہ بڑا ظالم ہےaẓlamuمِمَّنِاس سےmimmaniٱفْتَرَىٰجو گھڑ لےif'tarāعَلَىپرʿalāٱللَّهِاللہl-lahiكَذِبًۭاجھوٹkadhiban١٥
(پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) "یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ آخر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟
۱۸:۱۶
وَإِذِاور جبwa-idhiٱعْتَزَلْتُمُوهُمْچھوڑ دیا تم نے ان کوiʿ'tazaltumūhumوَمَااور جن کیwamāيَعْبُدُونَعبادت کررہے ہیںyaʿbudūnaإِلَّاسوائےillāٱللَّهَاللہ کےl-lahaفَأْوُۥٓا۟پس پناہ لوfawūإِلَىطرفilāٱلْكَهْفِغار کیl-kahfiيَنشُرْنچھاور کرے گا/ پھیلائے گاyanshurلَكُمْتمہارے لیےlakumرَبُّكُمرب تمہاراrabbukumمِّنمیں سےminرَّحْمَتِهِۦاپنی رحمتraḥmatihiوَيُهَيِّئْاور مہیا کرے گاwayuhayyiلَكُمتمہارے لئےlakumمِّنْسےminأَمْرِكُمتمہارے معاملے میں (سے)amrikumمِّرْفَقًۭاسہولت کا سامانmir'faqan١٦
اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبُودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔1 تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کےلیے سروسامان مہیّا کر دے گا۔“
۱۸:۱۷
۞ وَتَرَىاور تم دیکھتےwatarāٱلشَّمْسَسورج کوl-shamsaإِذَاجبidhāطَلَعَتوہ طلوع ہوتا کہṭalaʿatتَّزَٰوَرُوہ بچ جاتا ہےtazāwaruعَنسےʿanكَهْفِهِمْان کے غارkahfihimذَاتَtodhātaٱلْيَمِينِدائیں جانبl-yamīniوَإِذَااور جبwa-idhāغَرَبَتغروب ہوتا ہےgharabatتَّقْرِضُهُمْکترا جاتا ہے ان کوtaqriḍuhumذَاتَtodhātaٱلشِّمَالِبائیں جانبl-shimāliوَهُمْاور وہwahumفِى(lay) infīفَجْوَةٍۢایک کشادہ جگہ پر ہیںfajwatinمِّنْهُ ۚاس سےmin'huذَٰلِكَیہdhālikaمِنْسےminءَايَـٰتِنشانیوں میں (سے) ہےāyātiٱللَّهِ ۗاللہ کیl-lahiمَنجسےmanيَهْدِہدایت دےyahdiٱللَّهُاللہl-lahuفَهُوَتو وہیfahuwaٱلْمُهْتَدِ ۖہدایت پانے والا ہےl-muh'tadiوَمَناور جس کوwamanيُضْلِلْوہ بھٹکادےyuḍ'lilفَلَنتو ہرگز نہیںfalanتَجِدَتو پائے گاtajidaلَهُۥاس کے لئےlahuوَلِيًّۭاکوئی دوستwaliyyanمُّرْشِدًۭاراہ نمائی کرنے والاmur'shidan١٧
تم انہیں غار میں دیکھتے1 تو تمہیں یُوں نظر آتا کہ سُورج جب نِکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔2 یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولیِّ مُرشد نہیں پاسکتے
۱۸:۱۸
وَتَحْسَبُهُمْاور تم سمجھتے ان کوwataḥsabuhumأَيْقَاظًۭاکہ جاگ رہے ہیں/ جاگتےayqāẓanوَهُمْحالانکہ وہwahumرُقُودٌۭ ۚسوئے ہوئے تھےruqūdunوَنُقَلِّبُهُمْاور ہم الٹا پلٹا رہے تھے ان کوwanuqallibuhumذَاتَtodhātaٱلْيَمِينِدائیں جانبl-yamīniوَذَاتَand towadhātaٱلشِّمَالِ ۖاور بائیں جانبl-shimāliوَكَلْبُهُماور ان کا کتاwakalbuhumبَـٰسِطٌۭپھیلائے ہوئے تھاbāsiṭunذِرَاعَيْهِدونوں ہاتھ اپنےdhirāʿayhiبِٱلْوَصِيدِ ۚدہلیز پرbil-waṣīdiلَوِاگرlawiٱطَّلَعْتَتم جھانکتےiṭṭalaʿtaعَلَيْهِمْان پرʿalayhimلَوَلَّيْتَالبتہ پیٹھ پھیر لیتےlawallaytaمِنْهُمْان سےmin'humفِرَارًۭابھاگتے ہوئےfirāranوَلَمُلِئْتَاور البتہ تم بھر دیئے جاتےwalamuli'taمِنْهُمْان سےmin'humرُعْبًۭارعب/خوف کی وجہ سےruʿ'ban١٨
تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے۔1 اور ان کا کُتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو اُلٹے پاوٴں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔2
۱۸:۱۹
وَكَذَٰلِكَاورwakadhālikaبَعَثْنَـٰهُمْاٹھایا ہم نے ان کوbaʿathnāhumلِيَتَسَآءَلُوا۟تاکہ وہ ایک دوسرے سےسوال کریںliyatasāalūبَيْنَهُمْ ۚآپس میںbaynahumقَالَکہاqālaقَآئِلٌۭوالے نےqāilunمِّنْهُمْان میں سےmin'humكَمْکتناkamلَبِثْتُمْ ۖٹھہرے تمlabith'tumقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūلَبِثْنَاٹھہرے ہمlabith'nāيَوْمًاایک دنyawmanأَوْیاawبَعْضَکچھ حصہbaʿḍaيَوْمٍۢ ۚدن کاyawminقَالُوا۟وہ کہنے لگےqālūرَبُّكُمْرب تمہاراrabbukumأَعْلَمُزیادہ جانتا ہےaʿlamuبِمَاجوbimāلَبِثْتُمْٹھہرے تم ساتھ اس کےlabith'tumفَٱبْعَثُوٓا۟پس بھیجوfa-ib'ʿathūأَحَدَكُماپنے میں سے کسی ایک کوaḥadakumبِوَرِقِكُمْساتھ اپنے سکے کے/ چاندی کےbiwariqikumهَـٰذِهِۦٓاسhādhihiإِلَىطرفilāٱلْمَدِينَةِشہر کیl-madīnatiفَلْيَنظُرْپھر چاہیئے کہ دیکھےfalyanẓurأَيُّهَآکون سا ان میں سےayyuhāأَزْكَىٰزیادہ پاکیزہ ہےazkāطَعَامًۭاکھانے کے اعتبار سےṭaʿāmanفَلْيَأْتِكُمپس چاہیے کہ لائے تمہارے پاسfalyatikumبِرِزْقٍۢکھاناbiriz'qinمِّنْهُاس سےmin'huوَلْيَتَلَطَّفْاور چاہیے کہ حسن تدبیر سے کام لے/ نرمی کرےwalyatalaṭṭafوَلَااور نہwalāيُشْعِرَنَّجتائے/ خبر دےyush'ʿirannaبِكُمْتمہارے بارے میںbikumأَحَدًاکسی ایک کوaḥadan١٩
اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھا بٹھایا1 تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا”کہو، کتنی دیر اس حال میں رہے؟“ دُوسروں نے کہا”شاید دن پھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔“پھروہ بولے”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حال میں گزرا۔ چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سِکّہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کےلیے لائے۔ اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے
۱۸:۲۰
إِنَّهُمْبیشک وہinnahumإِناگرinيَظْهَرُوا۟وہ غالب آجائیںyaẓharūعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumيَرْجُمُوكُمْسنگسار کردیں گے تم کوyarjumūkumأَوْیاawيُعِيدُوكُمْلوٹائے جائیں گے تم کوyuʿīdūkumفِىمیںfīمِلَّتِهِمْاپنی ملتmillatihimوَلَناور ہرگز نہیںwalanتُفْلِحُوٓا۟تم فلاح پاؤ گےtuf'liḥūإِذًاتبidhanأَبَدًۭاکبھی بھیabadan٢٠
اگر کہیں اُن لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے، اور ایسا ہوا توہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے"
۱۸:۲۱
وَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaأَعْثَرْنَاہم نے بتادیا/ ہم نے مطلع کردیاaʿtharnāعَلَيْهِمْاوپر ان کےʿalayhimلِيَعْلَمُوٓا۟تاکہ وہ جان لیںliyaʿlamūأَنَّکہ بیشکannaوَعْدَوعدہwaʿdaٱللَّهِاللہ کاl-lahiحَقٌّۭسچا ہےḥaqqunوَأَنَّاور بیشکwa-annaٱلسَّاعَةَقیامت کی گھڑیl-sāʿataلَانہیںlāرَيْبَکوئی شکraybaفِيهَآاس میںfīhāإِذْجبidhيَتَنَـٰزَعُونَوہ جھگڑ رہے تھےyatanāzaʿūnaبَيْنَهُمْآپس میںbaynahumأَمْرَهُمْ ۖاپنے معاملے میںamrahumفَقَالُوا۟تو انہوں نے کہاfaqālūٱبْنُوا۟بناؤib'nūعَلَيْهِمان پرʿalayhimبُنْيَـٰنًۭا ۖایک عمارتbun'yānanرَّبُّهُمْان کا ربrabbuhumأَعْلَمُزیادہ جانتا ہےaʿlamuبِهِمْ ۚان کوbihimقَالَکہاqālaٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaغَلَبُوا۟جو غالب تھےghalabūعَلَىٰٓپرʿalāأَمْرِهِمْان کے معاملےamrihimلَنَتَّخِذَنَّالبتہ ہم ضرور بنائیں گےlanattakhidhannaعَلَيْهِمان پرʿalayhimمَّسْجِدًۭاایک مسجد/ سجدہ گاہmasjidan٢١
اِس طرح ہم نے اہلِ شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا 1تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آکر رہے گی۔ 2(مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی)اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اِن (اصحابِ کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا”اِن پر ایک دیوار چُن دو، اِن کا ربّ ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے۔3“مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے4 اُنہوں نے کہا”ہم تو اِن پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔“5
۱۸:۲۲
سَيَقُولُونَعنقریب وہ کہیں گےsayaqūlūnaثَلَـٰثَةٌۭتین تھےthalāthatunرَّابِعُهُمْچوتھا ان کاrābiʿuhumكَلْبُهُمْان کا کتا تھاkalbuhumوَيَقُولُونَاور وہ کہیں گےwayaqūlūnaخَمْسَةٌۭپانچ تھےkhamsatunسَادِسُهُمْچھٹا ان کاsādisuhumكَلْبُهُمْان کا کتا تھاkalbuhumرَجْمًۢاپھینکتے ہیںrajmanبِٱلْغَيْبِ ۖبن دیکھےbil-ghaybiوَيَقُولُونَاور وہ کہیں گےwayaqūlūnaسَبْعَةٌۭسات تھےsabʿatunوَثَامِنُهُمْاور آٹھواں ان کاwathāminuhumكَلْبُهُمْ ۚان کا کتا تھاkalbuhumقُلکہہ دیجئےqulرَّبِّىٓمیرا ربrabbīأَعْلَمُزیادہ جانتا ہےaʿlamuبِعِدَّتِهِمان کی گنتی کوbiʿiddatihimمَّانہیںmāيَعْلَمُهُمْجانتے ان کوyaʿlamuhumإِلَّامگرillāقَلِيلٌۭ ۗبہت کمqalīlunفَلَاتو نہfalāتُمَارِتم جھگڑا کروtumāriفِيهِمْان کے بارے میںfīhimإِلَّامگرillāمِرَآءًۭجھگڑناmirāanظَـٰهِرًۭاظاہریẓāhiranوَلَااور نہwalāتَسْتَفْتِتم پوچھناtastaftiفِيهِمان کے بارے میںfīhimمِّنْهُمْان میں سے،min'humأَحَدًۭاکسی ایک سےaḥadan٢٢
کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا تھا۔ اور کچھ دُوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔1 کہو، میرا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پُوچھو۔2
۱۸:۲۳
وَلَااور ہرگز نہwalāتَقُولَنَّتم کہناtaqūlannaلِشَا۟ىْءٍکسی چیز کے لئےlishāy'inإِنِّىبیشک میںinnīفَاعِلٌۭمیں کرنے والا ہوںfāʿilunذَٰلِكَاس کوdhālikaغَدًاکلghadan٢٣
اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا
۱۸:۲۴
إِلَّآمگرillāأَنیہ کہanيَشَآءَچاہےyashāaٱللَّهُ ۚاللہl-lahuوَٱذْكُراور یاد کروwa-udh'kurرَّبَّكَاپنے رب کوrabbakaإِذَاجبidhāنَسِيتَتم بھول جاؤnasītaوَقُلْاور کہہ دیجئےwaqulعَسَىٰٓامید ہےʿasāأَنکہanيَهْدِيَنِرہنمائی کرے گا میریyahdiyaniرَبِّىمیرا ربrabbīلِأَقْرَبَواسطے زیادہ قریب کےli-aqrabaمِنْسےminهَـٰذَااسhādhāرَشَدًۭابھلائی میں/ رہنمائی میںrashadan٢٤
(تم کچھ نہیں کر سکتے)اِلّا یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھُولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے ربّ کو یاد کرو اور کہو”اُمید ہے کہ میرا ربّ اِس معاملےمیں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے 1گا۔“
۱۸:۲۵
وَلَبِثُوا۟اور وہ ٹھہرےwalabithūفِىمیںfīكَهْفِهِمْاپنے غارkahfihimثَلَـٰثَتینthalāthaمِا۟ئَةٍۢسوmi-atinسِنِينَسالsinīnaوَٱزْدَادُوا۟اور وہ بڑھ گئےwa-iz'dādūتِسْعًۭانو سالtis'ʿan٢٥
اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں)۹ سال اور بڑھ گئے ہیں۔1
۱۸:۲۶
قُلِکہہ دیجئے کہquliٱللَّهُاللہl-lahuأَعْلَمُزیادہ جانتا ہےaʿlamuبِمَاساتھ اس کےbimāلَبِثُوا۟ ۖجو وہ ٹھہرےlabithūلَهُۥاسی کے لئےlahuغَيْبُغیب ہیںghaybuٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کےl-samāwātiوَٱلْأَرْضِ ۖاور زمین کےwal-arḍiأَبْصِرْکیا خوب دیکھنے والا ہےabṣirبِهِۦ[of it]bihiوَأَسْمِعْ ۚاور کیا خوب سننے والا ہےwa-asmiʿمَانہیں ہےmāلَهُمان کے لئےlahumمِّناس کےminدُونِهِۦسواdūnihiمِنکوئیminوَلِىٍّۢدوستwaliyyinوَلَااور نہیںwalāيُشْرِكُوہ شریک کرتاyush'rikuفِىمیںfīحُكْمِهِۦٓاپنی حکومتḥuk'mihiأَحَدًۭاکسی ایک کوaḥadan٢٦
تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا
۱۸:۲۷
وَٱتْلُاور پڑھئےwa-ut'luمَآجوmāأُوحِىَوحی کیا گیاūḥiyaإِلَيْكَتیری طرفilaykaمِنسےminكِتَابِکتاب میں (سے)kitābiرَبِّكَ ۖتیرے رب کیrabbikaلَانہیںlāمُبَدِّلَکوئی بدلنے والاmubaddilaلِكَلِمَـٰتِهِۦاس کے کلمات کوlikalimātihiوَلَناور ہرگز نہیںwalanتَجِدَتو پائے گاtajidaمِنسےminدُونِهِۦاس کے سواdūnihiمُلْتَحَدًۭاپناہ کی جگہmul'taḥadan٢٧
اے نبیؐ 1، تمہارے ربّ کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جُوں کا تُوں)سُنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردّو بدل کرو گے تو)اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاوٴ گے۔2
۱۸:۲۸
وَٱصْبِرْاور روک رکھئےwa-iṣ'birنَفْسَكَاپنے نفس کوnafsakaمَعَساتھmaʿaٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaيَدْعُونَجو پکارتے ہیںyadʿūnaرَبَّهُماپنے رب کوrabbahumبِٱلْغَدَوٰةِصبح کے وقتbil-ghadatiوَٱلْعَشِىِّاور شام کے وقتwal-ʿashiyiيُرِيدُونَوہ چاہتے ہیںyurīdūnaوَجْهَهُۥ ۖاس کا چہرہ/ اس کی ذاتwajhahuوَلَااور نہwalāتَعْدُپھیریئےtaʿduعَيْنَاكَاپنی دونوں آنکھوں کوʿaynākaعَنْهُمْان سےʿanhumتُرِيدُتم چاہتے ہوturīduزِينَةَزینتzīnataٱلْحَيَوٰةِزندگی کیl-ḥayatiٱلدُّنْيَا ۖدنیا کیl-dun'yāوَلَااور نہwalāتُطِعْتم اطاعت کروtuṭiʿمَنْجس کوmanأَغْفَلْنَاغافل کردیا ہم نےaghfalnāقَلْبَهُۥاس کے دل کوqalbahuعَنofʿanذِكْرِنَااپنے ذکر سےdhik'rināوَٱتَّبَعَاور اس نے پیروی کیwa-ittabaʿaهَوَىٰهُاپنی خواہشات کیhawāhuوَكَانَاور تھاwakānaأَمْرُهُۥاس کا معاملہamruhuفُرُطًۭاحد سے بڑھا ہواfuruṭan٢٨
اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے ربّ کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟1 کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو 2جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش ِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔3
۱۸:۲۹
وَقُلِاور کہہ دیجئے کہwaquliٱلْحَقُّحقl-ḥaquمِنسےminرَّبِّكُمْ ۖتمہارے رب کی طرف (سے) ہےrabbikumفَمَنتو جو کوئیfamanشَآءَچاہےshāaفَلْيُؤْمِنپس چاہیے کہ ایمان لے آئےfalyu'minوَمَناور جوwamanشَآءَچاہےshāaفَلْيَكْفُرْ ۚپس چاہیے کہ کفر کرےfalyakfurإِنَّآبیشک ہم نےinnāأَعْتَدْنَاتیار کی ہم نےaʿtadnāلِلظَّـٰلِمِينَظالموں کے لئےlilẓẓālimīnaنَارًاایک آگnāranأَحَاطَگھیر لیں گیaḥāṭaبِهِمْان کوbihimسُرَادِقُهَا ۚاس کی طنابیں/لپٹیںsurādiquhāوَإِناور اگرwa-inيَسْتَغِيثُوا۟وہ فریاد کریں گےyastaghīthūيُغَاثُوا۟فریاد رسی کئے جائیں گےyughāthūبِمَآءٍۢساتھ پانی کےbimāinكَٱلْمُهْلِتیل کی تلچھٹ کی طرحkal-muh'liيَشْوِىجو بھون ڈالے گاyashwīٱلْوُجُوهَ ۚچہروں کوl-wujūhaبِئْسَکتنی بری ہےbi'saٱلشَّرَابُپینے کی چیزl-sharābuوَسَآءَتْاور کتنا برا ہےwasāatمُرْتَفَقًامقام/ دوستیmur'tafaqan٢٩
صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے ربّ کی طرف سے ، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔1 ہم نے (انکار کرنے والے)ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔ 2وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا3 اور ان کا منہ بھُون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ!
۱۸:۳۰
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَعَمِلُوا۟اور انہوں نےعمل کئےwaʿamilūٱلصَّـٰلِحَـٰتِاچھےl-ṣāliḥātiإِنَّابیشک ہمinnāلَانہیںlāنُضِيعُہم ضائع کرتےnuḍīʿuأَجْرَاجرajraمَنْجو کوئیmanأَحْسَنَاچھا کرےaḥsanaعَمَلًاعمل کوʿamalan٣٠
رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے
۱۸:۳۱
أُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaلَهُمْان کے لئےlahumجَنَّـٰتُباغات ہیںjannātuعَدْنٍۢہمیشہ کےʿadninتَجْرِىبہتی ہیںtajrīمِنسےminتَحْتِهِمُان کے نیچےtaḥtihimuٱلْأَنْهَـٰرُنہریںl-anhāruيُحَلَّوْنَوہ پہنائے جائیں گےyuḥallawnaفِيهَاان میںfīhāمِنْمیں سےminأَسَاوِرَکنگنوںasāwiraمِنکےminذَهَبٍۢسونےdhahabinوَيَلْبَسُونَاور پہنیں گےwayalbasūnaثِيَابًالباسthiyābanخُضْرًۭاسبزkhuḍ'ranمِّنسےminسُندُسٍۢباریک ریشمsundusinوَإِسْتَبْرَقٍۢاور دبیز ریشم سےwa-is'tabraqinمُّتَّكِـِٔينَتکیہ لگائے ہوئے ہوں گےmuttakiīnaفِيهَااس میںfīhāعَلَىپرʿalāٱلْأَرَآئِكِ ۚاونچی مسندوںl-arāikiنِعْمَکتنا اچھاniʿ'maٱلثَّوَابُبدلہ ہےl-thawābuوَحَسُنَتْاور کتنا اچھا ہےwaḥasunatمُرْتَفَقًۭامقام/دوستیmur'tafaqan٣١
ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے،1 باریک ریشم اور اطلس و دیَبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اُونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!
۱۸:۳۲
۞ وَٱضْرِبْاور بیان کیجئےwa-iḍ'ribلَهُمان کے لئےlahumمَّثَلًۭاایک مثالmathalanرَّجُلَيْنِدو لوگوں کیrajulayniجَعَلْنَابنائے ہم نےjaʿalnāلِأَحَدِهِمَاان دونوں میں سے ایک کے لئےli-aḥadihimāجَنَّتَيْنِدو باغjannatayniمِنْکےminأَعْنَـٰبٍۢانگوروںaʿnābinوَحَفَفْنَـٰهُمَااور گھیر لیا ہم نے ان دونوں کوwaḥafafnāhumāبِنَخْلٍۢکھجوروں کے ساتھbinakhlinوَجَعَلْنَااور بنائے ہم نےwajaʿalnāبَيْنَهُمَاان دونوں کے درمیانbaynahumāزَرْعًۭاکھیتzarʿan٣٢
اے محمدؐ ، اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو۔ دو شخص تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجُور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی
۱۸:۳۳
كِلْتَادونوںkil'tāٱلْجَنَّتَيْنِباغوں نےl-janatayniءَاتَتْدیئےātatأُكُلَهَااپنے پھلukulahāوَلَمْاور نہwalamتَظْلِمکمی کیtaẓlimمِّنْهُاس میں سےmin'huشَيْـًۭٔا ۚکچھ بھیshayanوَفَجَّرْنَااور پھاڑ دی ہم نےwafajjarnāخِلَـٰلَهُمَاان دونوں کے بیچkhilālahumāنَهَرًۭاایک نہرnaharan٣٣
دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی اُن باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی
۱۸:۳۴
وَكَانَاور ہواwakānaلَهُۥاس کے لئےlahuثَمَرٌۭپھل/ نفعthamarunفَقَالَتو کہاfaqālaلِصَـٰحِبِهِۦاپنے ساتھی کوliṣāḥibihiوَهُوَاور وہ اس سےwahuwaيُحَاوِرُهُۥٓبات چیت کررہا تھاyuḥāwiruhuأَنَا۠میںanāأَكْثَرُزیادہ ہوںaktharuمِنكَتجھ سےminkaمَالًۭامال میںmālanوَأَعَزُّاور زیادہ عزت والاwa-aʿazzuنَفَرًۭااولاد میںnafaran٣٤
اوراُسے خوب نفع حاصل ہوا یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا "میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں"
۱۸:۳۵
وَدَخَلَاور وہ داخل ہواwadakhalaجَنَّتَهُۥاپنے باغ میںjannatahuوَهُوَاس حال میں کہ وہwahuwaظَالِمٌۭظلم کرنے والا تھا اپنی جان پرẓālimunلِّنَفْسِهِۦاپنی ذات پرlinafsihiقَالَکہنے لگاqālaمَآنہیںmāأَظُنُّمیں سمجھتاaẓunnuأَنکہanتَبِيدَہلاک ہوگا/ برباد ہوگاtabīdaهَـٰذِهِۦٓیہhādhihiأَبَدًۭاکبھی بھیabadan٣٥
پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا”میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی
۱۸:۳۶
وَمَآاور نہیںwamāأَظُنُّمیں سمجھتا کہaẓunnuٱلسَّاعَةَقیامتl-sāʿataقَآئِمَةًۭآنے والی ہےqāimatanوَلَئِناور البتہ اگرwala-inرُّدِدتُّمیں لوٹایا گیاrudidttuإِلَىٰکی طرفilāرَبِّىاپنے ربrabbīلَأَجِدَنَّالبتہ میں ضرور پاؤں گاla-ajidannaخَيْرًۭابہترkhayranمِّنْهَااس سےmin'hāمُنقَلَبًۭالوٹنا/ انجامmunqalaban٣٦
اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے ربّ کے حضُور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاوٴں گا۔“
۱۸:۳۷
قَالَکہاqālaلَهُۥاس کوlahuصَاحِبُهُۥاس کے ساتھ نےṣāḥibuhuوَهُوَاور وہwahuwaيُحَاوِرُهُۥٓاس سے بات کر رہا تھاyuḥāwiruhuأَكَفَرْتَکیا تو انکار کرتا ہےakafartaبِٱلَّذِىاس ذات کاbi-alladhīخَلَقَكَجس نے پیدا کیا تجھ کوkhalaqakaمِنسےminتُرَابٍۢمٹیturābinثُمَّپھرthummaمِنسےminنُّطْفَةٍۢنطفےnuṭ'fatinثُمَّپھرthummaسَوَّىٰكَبنایا تجھ کوsawwākaرَجُلًۭاایک مرد/ شخصrajulan٣٧
اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اُس سے کہا”کیا تُو کُفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیااور تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا؟
۱۸:۳۸
لَّـٰكِنَّا۠لیکنlākinnāهُوَوہhuwaٱللَّهُاللہl-lahuرَبِّىمیرا رب ہےrabbīوَلَآاور نہیںwalāأُشْرِكُمیں شریک ٹھہراتاush'rikuبِرَبِّىٓاپنے رب کے ساتھbirabbīأَحَدًۭاکسی ایک کوaḥadan٣٨
رہا میں، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
۱۸:۳۹
وَلَوْلَآاور کیوں نہwalawlāإِذْجبidhدَخَلْتَتم داخل ہوئےdakhaltaجَنَّتَكَاپنے باغ میںjannatakaقُلْتَکہا تو نےqul'taمَاجوmāشَآءَچاہےshāaٱللَّهُاللہl-lahuلَانہیںlāقُوَّةَقوتquwwataإِلَّامگرillāبِٱللَّهِ ۚساتھ اللہ کےbil-lahiإِناگرinتَرَنِتم دیکھتے ہو مجھ کوtaraniأَنَا۠میںanāأَقَلَّکم تر ہوںaqallaمِنكَتجھ سےminkaمَالًۭامال میںmālanوَوَلَدًۭااور اولاد میںwawaladan٣٩
اور جب تُو اپنی جنّت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ، لاقوة اِلّا باللّٰہ؟ اگر تُو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے
۱۸:۴۰
فَعَسَىٰتو امید ہے کہfaʿasāرَبِّىٓمیرا ربrabbīأَنکہanيُؤْتِيَنِدے دے مجھ کوyu'tiyaniخَيْرًۭابہترkhayranمِّنسےminجَنَّتِكَتیرے باغjannatikaوَيُرْسِلَاور بھیجےwayur'silaعَلَيْهَااس پرʿalayhāحُسْبَانًۭاایک عذاب/ آفتḥus'bānanمِّنَسےminaٱلسَّمَآءِآسمان (سے)l-samāiفَتُصْبِحَتو ہوجائے یہfatuṣ'biḥaصَعِيدًۭامیدانṣaʿīdanزَلَقًاصافzalaqan٤٠
تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے
۱۸:۴۱
أَوْیاawيُصْبِحَہوجائےyuṣ'biḥaمَآؤُهَاپانی اس کاmāuhāغَوْرًۭاگہراghawranفَلَنتو ہرگز نہیںfalanتَسْتَطِيعَتم استطاعت رکھتےtastaṭīʿaلَهُۥاس کے لئےlahuطَلَبًۭاطلب کرنے کیṭalaban٤١
یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے"
۱۸:۴۲
وَأُحِيطَاور وہ گھیر لیا گیاwa-uḥīṭaبِثَمَرِهِۦساتھ اپنے پھل کےbithamarihiفَأَصْبَحَتو ہوگیا/ شروع ہواfa-aṣbaḥaيُقَلِّبُالٹ پلٹ کرنےyuqallibuكَفَّيْهِاپنی دونوں ہتھیلیاںkaffayhiعَلَىٰاوپرʿalāمَآجوmāأَنفَقَخرچ کیا تھا اس نےanfaqaفِيهَااس میںfīhāوَهِىَاور وہwahiyaخَاوِيَةٌگرا پڑا تھاkhāwiyatunعَلَىٰپرʿalāعُرُوشِهَااپنی چھتوںʿurūshihāوَيَقُولُاور وہ کہہ رہا تھاwayaqūluيَـٰلَيْتَنِىاے کاش کہ میںyālaytanīلَمْنہlamأُشْرِكْمیں شریک ٹھہراتاush'rikبِرَبِّىٓاپنے رب کے ساتھbirabbīأَحَدًۭاکسی ایک کوaḥadan٤٢
آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ "کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا"
۱۸:۴۳
وَلَمْاور نہwalamتَكُنتھیtakunلَّهُۥاس کے لئےlahuفِئَةٌۭکوئی جماعتfi-atunيَنصُرُونَهُۥجو مدد کرتی اس کیyanṣurūnahuمِنother thanminدُونِسواdūniٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَمَااور نہ تھاwamāكَانَوہkānaمُنتَصِرًااپنی مدد کرنے والا/ بدلہ لینے والاmuntaṣiran٤٣
نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ
۱۸:۴۴
هُنَالِكَاسی جگہhunālikaٱلْوَلَـٰيَةُمددl-walāyatuلِلَّهِاللہ ہی کے لئےlillahiٱلْحَقِّ ۚبرحقl-ḥaqiهُوَوہhuwaخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunثَوَابًۭابدلے کے اعتبار سےthawābanوَخَيْرٌاور بہتر ہےwakhayrunعُقْبًۭاانجام کے اعتبار سےʿuq'ban٤٤
اُس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لیے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے
۱۸:۴۵
وَٱضْرِبْاور بیان کروwa-iḍ'ribلَهُمان کے لئےlahumمَّثَلَمثالmathalaٱلْحَيَوٰةِزندگی کیl-ḥayatiٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yāكَمَآءٍجیسے پانیkamāinأَنزَلْنَـٰهُاتارا ہم نے اس کوanzalnāhuمِنَسےminaٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiفَٱخْتَلَطَتو رَل مل گئیfa-ikh'talaṭaبِهِۦساتھ اس پانی کےbihiنَبَاتُنباتاتnabātuٱلْأَرْضِزمین کیl-arḍiفَأَصْبَحَتو وہ ہوگئیfa-aṣbaḥaهَشِيمًۭاریزہ ریزہhashīmanتَذْرُوهُاڑاتی ہیں اس کوtadhrūhuٱلرِّيَـٰحُ ۗہوائیںl-riyāḥuوَكَانَاور ہےwakānaٱللَّهُاللہ تعالیٰl-lahuعَلَىٰپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیزshayinمُّقْتَدِرًاقدرت رکھنے والاmuq'tadiran٤٥
اور اے نبی ؐ ، اِنہیں حیاتِ دُنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاوٴ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خُوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اُڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
۱۸:۴۶
ٱلْمَالُمالal-māluوَٱلْبَنُونَاور بیٹےwal-banūnaزِينَةُرونق ہیںzīnatuٱلْحَيَوٰةِزندگی کیl-ḥayatiٱلدُّنْيَا ۖدنیا کیl-dun'yāوَٱلْبَـٰقِيَـٰتُاور باقی رہنے والیاںwal-bāqiyātuٱلصَّـٰلِحَـٰتُنیکیاں ہیںl-ṣāliḥātuخَيْرٌجو بہتر ہیںkhayrunعِندَنزدیکʿindaرَبِّكَتیرے رب کےrabbikaثَوَابًۭاثواب کے اعتبار سےthawābanوَخَيْرٌاور بہتر ہیںwakhayrunأَمَلًۭاامید کے اعتبار سےamalan٤٦
یہ مال اور یہ اولاد محض دُنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی اُمّیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں
۱۸:۴۷
وَيَوْمَاور جس دنwayawmaنُسَيِّرُہم چلائیں گےnusayyiruٱلْجِبَالَپہاڑوں کوl-jibālaوَتَرَىاور تم دیکھو گےwatarāٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaبَارِزَةًۭکھلی ہوئی/ ظاہرbārizatanوَحَشَرْنَـٰهُمْاور اکٹھا کرلیں گے ان کوwaḥasharnāhumفَلَمْپھر نہیںfalamنُغَادِرْہم چھوڑیں گےnughādirمِنْهُمْان میں سےmin'humأَحَدًۭاکسی ایک کوaḥadan٤٧
فکر اُس دن کی ہونی چاہیے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، اور تم زمین کو بالکل برہنہ پاوٴ گے، اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے)ایک بھی نہ چھُوٹے گا،
۱۸:۴۸
وَعُرِضُوا۟اور وہ پیش کئے جائیں گےwaʿuriḍūعَلَىٰپرʿalāرَبِّكَتیرے ربrabbikaصَفًّۭاصف در صفṣaffanلَّقَدْالبتہ تحقیقlaqadجِئْتُمُونَاآگئے تم ہمارے پاسji'tumūnāكَمَاجیسا کہkamāخَلَقْنَـٰكُمْپیدا کیا تھا ہم نے تم کوkhalaqnākumأَوَّلَپہلی بار/ پہلی مرتبہawwalaمَرَّةٍۭ ۚپہلی بار/ پہلی مرتبہmarratinبَلْبلکہbalزَعَمْتُمْسمجھا تم نے/ گمان کیا تم نےzaʿamtumأَلَّنکہ ہرگز نہیںallanنَّجْعَلَہم نے بنایاnajʿalaلَكُمتمہارے لئےlakumمَّوْعِدًۭاکوئی وعدے کا وقتmawʿidan٤٨
اور سب کے سب تمہارے ربّ کے حضُور صف در صف پیش کیے جائیں گے۔۔۔۔ لو دیکھ لو، آگئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے
۱۸:۴۹
وَوُضِعَاور رکھ دی جائے گیwawuḍiʿaٱلْكِتَـٰبُکتابl-kitābuفَتَرَىتو تم دیکھو گےfatarāٱلْمُجْرِمِينَمجرموں کوl-muj'rimīnaمُشْفِقِينَڈر رہے ہوں گےmush'fiqīnaمِمَّااس کے بارے میں جوmimmāفِيهِاس میں ہےfīhiوَيَقُولُونَاور وہ کہیں گےwayaqūlūnaيَـٰوَيْلَتَنَاہائے افسوس ہم پرyāwaylatanāمَالِکیا ہوگیاmāliهَـٰذَااسhādhāٱلْكِتَـٰبِکتاب کوl-kitābiلَانہیںlāيُغَادِرُچھوڑا اس نےyughādiruصَغِيرَةًۭکسی چھوٹی چیز کوṣaghīratanوَلَااور نہwalāكَبِيرَةًکسی بڑی چیز کوkabīratanإِلَّآمگرillāأَحْصَىٰهَا ۚاس نے گھیر رکھا ہے اس کو/ شمار کر رکھا ہے اس کوaḥṣāhāوَوَجَدُوا۟اور وہ پالیں گےwawajadūمَاجوmāعَمِلُوا۟انہوں نے عمل کئےʿamilūحَاضِرًۭا ۗحاضرḥāḍiranوَلَااور نہwalāيَظْلِمُظلم کرے گاyaẓlimuرَبُّكَتیرا ربrabbukaأَحَدًۭاکسی ایک پرaḥadan٤٩
اور نامہٴ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اُس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ کی گئی ہو۔ جو جو کچھ اُنہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا ربّ کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔
۱۸:۵۰
وَإِذْاور جبwa-idhقُلْنَاکہا ہم نےqul'nāلِلْمَلَـٰٓئِكَةِفرشتوں سےlil'malāikatiٱسْجُدُوا۟سجدہ کروus'judūلِـَٔادَمَآدم (علیہ السلام) کے لئےliādamaفَسَجَدُوٓا۟تو ان سب نے سجدہ کیاfasajadūإِلَّآسوائےillāإِبْلِيسَابلیس کےib'līsaكَانَتھا وہkānaمِنَمیں سےminaٱلْجِنِّجنوںl-jiniفَفَسَقَتو اس نے نافرمانی کیfafasaqaعَنْagainstʿanأَمْرِحکم سےamriرَبِّهِۦٓ ۗاپنے رب کےrabbihiأَفَتَتَّخِذُونَهُۥکیا بھلا تم بناتے ہو اس کوafatattakhidhūnahuوَذُرِّيَّتَهُۥٓاور اس کی اولاد کوwadhurriyyatahuأَوْلِيَآءَدوست/ مددگارawliyāaمِنother than Meminدُونِىمیرے سوا/ مجھے چھوڑ کرdūnīوَهُمْحالانکہ وہwahumلَكُمْتمہارے لئےlakumعَدُوٌّۢ ۚدشمن ہےʿaduwwunبِئْسَکتنا برا ہےbi'saلِلظَّـٰلِمِينَظالموں کے لئےlilẓẓālimīnaبَدَلًۭابدلbadalan٥٠
یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ جِنّوں میں سے تھا اس لیے اپنے ربّ کے حکم کی اطاعت سے نِکل گیا۔ اب کیا تم مجھے چھوڑ کو اُس کو اور اُس کی ذُرّیّت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دُشمن ہیں؟ بڑا ہی بُرا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں
۱۸:۵۱
۞ مَّآNotmāأَشْهَدتُّهُمْمیں نے حاضر کیا تھا ان کوashhadttuhumخَلْقَپیدائش میںkhalqaٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کیl-samāwātiوَٱلْأَرْضِاور زمین کیwal-arḍiوَلَااور نہwalāخَلْقَپیدائش میںkhalqaأَنفُسِهِمْان کے نفسوں کیanfusihimوَمَااور نہیںwamāكُنتُہوں میںkuntuمُتَّخِذَبنانے والاmuttakhidhaٱلْمُضِلِّينَگمراہ کرنے والوں کوl-muḍilīnaعَضُدًۭامددگارʿaḍudan٥١
میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت اُن کو نہیں بُلایا تھا اور نہ خود اُن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مدد گار بنایا کروں
۱۸:۵۲
وَيَوْمَاور جس دنwayawmaيَقُولُوہ کہے گاyaqūluنَادُوا۟پکاروnādūشُرَكَآءِىَمیرے شریکوں کوshurakāiyaٱلَّذِينَوہ لوگ جنہیںalladhīnaزَعَمْتُمْگمان کرتے تھے تمzaʿamtumفَدَعَوْهُمْوہ پکاریں گے ان کوfadaʿawhumفَلَمْپس نہfalamيَسْتَجِيبُوا۟وہ جواب دیں گےyastajībūلَهُمْان کوlahumوَجَعَلْنَااور ہم بنادیں گےwajaʿalnāبَيْنَهُمان کے درمیانbaynahumمَّوْبِقًۭاہلاکت کی جگہmawbiqan٥٢
پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جبکہ اِن کا ربّ اِن سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنھیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔ یہ اُن کو پکاریں گے ، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے۔
۱۸:۵۳
وَرَءَااور دیکھیں گےwaraāٱلْمُجْرِمُونَمجرمl-muj'rimūnaٱلنَّارَآگ کوl-nāraفَظَنُّوٓا۟تو وہ سمجھ لیں گےfaẓannūأَنَّهُمبیشک وہannahumمُّوَاقِعُوهَاگرنے والے ہیں اس میںmuwāqiʿūhāوَلَمْاور وہ نہwalamيَجِدُوا۟پائیں گےyajidūعَنْهَااس سےʿanhāمَصْرِفًۭالوٹنے کی جگہ/ بچنے کا راستہmaṣrifan٥٣
سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اورسمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے
۱۸:۵۴
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadصَرَّفْنَاپھیر پھیر کے بیان کیں ہم نےṣarrafnāفِىمیںfīهَـٰذَااسhādhāٱلْقُرْءَانِقرآنl-qur'āniلِلنَّاسِلوگوں کے لئےlilnnāsiمِنofminكُلِّہر طرح کیkulliمَثَلٍۢ ۚمثال میں سےmathalinوَكَانَاور ہےwakānaٱلْإِنسَـٰنُانسانl-insānuأَكْثَرَزیادہaktharaشَىْءٍۢہر چیز سےshayinجَدَلًۭاجھگڑنے والاjadalan٥٤
ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے
۱۸:۵۵
وَمَااور نہیںwamāمَنَعَروکاmanaʿaٱلنَّاسَلوگوں کوl-nāsaأَنکہanيُؤْمِنُوٓا۟وہ ایمان لائیںyu'minūإِذْجبidhجَآءَهُمُآئی ان کے پاسjāahumuٱلْهُدَىٰہدایتl-hudāوَيَسْتَغْفِرُوا۟اور بخشش مانگیںwayastaghfirūرَبَّهُمْاپنے رب سےrabbahumإِلَّآمگرillāأَنیہ کہanتَأْتِيَهُمْآجائے ان کے پاسtatiyahumسُنَّةُطریقہsunnatuٱلْأَوَّلِينَپہلوں کاl-awalīnaأَوْیاawيَأْتِيَهُمُآئے ان کے پاسyatiyahumuٱلْعَذَابُعذابl-ʿadhābuقُبُلًۭاسامنے سےqubulan٥٥
اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے ربّ کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کو کس چیز نے روک دیا ؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کےساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں!
۱۸:۵۶
وَمَااور نہیںwamāنُرْسِلُہم بھیجتےnur'siluٱلْمُرْسَلِينَرسولوں کوl-mur'salīnaإِلَّامگرillāمُبَشِّرِينَخوش خبری دینے والےmubashirīnaوَمُنذِرِينَ ۚاور ڈرانے والےwamundhirīnaوَيُجَـٰدِلُاور جھگڑتے ہیںwayujādiluٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūبِٱلْبَـٰطِلِساتھ باطل کےbil-bāṭiliلِيُدْحِضُوا۟تاکہ زائل کردیں/ پھسلا دیںliyud'ḥiḍūبِهِساتھ اس کےbihiٱلْحَقَّ ۖحق کوl-ḥaqaوَٱتَّخَذُوٓا۟اور انہوں نے بنالیاwa-ittakhadhūءَايَـٰتِىمیری آیات کوāyātīوَمَآاور جس سےwamāأُنذِرُوا۟وہ ڈرائے گئےundhirūهُزُوًۭامذاقhuzuwan٥٦
رسُولوں کو ہم اس کا م کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دیں گے۔ مگر کافروں کا حال یہ ہےکہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اُنہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے
۱۸:۵۷
وَمَنْاور کونwamanأَظْلَمُبڑا ظالم ہےaẓlamuمِمَّناس سے جوmimmanذُكِّرَنصیحت کیا گیاdhukkiraبِـَٔايَـٰتِآیات کےbiāyātiرَبِّهِۦاپنے رب کیrabbihiفَأَعْرَضَذریعے پھر اسنے اعراض برتاfa-aʿraḍaعَنْهَااس سےʿanhāوَنَسِىَاور بھول گیاwanasiyaمَاجوmāقَدَّمَتْآگے بھیجاqaddamatيَدَاهُ ۚاس کے دونوں ہاتھوں نےyadāhuإِنَّابیشک ہم نےinnāجَعَلْنَا، بنائے ہم نےjaʿalnāعَلَىٰپرʿalāقُلُوبِهِمْان کے دلوں (پر)qulūbihimأَكِنَّةًغلافakinnatanأَنکہanيَفْقَهُوهُسمجھ سکیں وہ اس کوyafqahūhuوَفِىٓاور ان کےwafīءَاذَانِهِمْکانوں میںādhānihimوَقْرًۭا ۖبوجھ کوwaqranوَإِناور اگرwa-inتَدْعُهُمْتم پکارو/ بلاؤ ان کوtadʿuhumإِلَىطرفilāٱلْهُدَىٰہدایت کیl-hudāفَلَنتو ہرگزنہfalanيَهْتَدُوٓا۟ہدایت پائیں گےyahtadūإِذًاتبidhanأَبَدًۭاکبھی بھیabadan٥٧
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اُس کے ربّ کی آیات سُناکر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منہ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے جس کا سروسامان اُس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟(جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے)ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور اُن کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کر دی ہے۔ تم انھیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بُلاوٴ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔
۱۸:۵۸
وَرَبُّكَاور رب تیراwarabbukaٱلْغَفُورُبخشنے والا ہےl-ghafūruذُوOwnerdhūٱلرَّحْمَةِ ۖصاحب رحمت ہےl-raḥmatiلَوْاگرlawيُؤَاخِذُهُموہ پکڑے ان کوyuākhidhuhumبِمَابوجہ اس کے جوbimāكَسَبُوا۟انہوں نے کمائی کیkasabūلَعَجَّلَالبتہ جلدی دے گاlaʿajjalaلَهُمُان کوlahumuٱلْعَذَابَ ۚعذابl-ʿadhābaبَلبلکہbalلَّهُمان کے لئےlahumمَّوْعِدٌۭوعدے کا ایک وقت ہےmawʿidunلَّنہرگز نہlanيَجِدُوا۟پائیں گےyajidūمِنother than itminدُونِهِۦاس کے سواdūnihiمَوْئِلًۭالوٹنے کی جگہmawilan٥٨
تیرا ربّ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتُوتوں پر انھیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔
۱۸:۵۹
وَتِلْكَاور یہwatil'kaٱلْقُرَىٰٓبستیاںl-qurāأَهْلَكْنَـٰهُمْہلاک کیا ہم نے ان کوahlaknāhumلَمَّاجبlammāظَلَمُوا۟انہوں نے ظلم کیاẓalamūوَجَعَلْنَااور بنایا ہم نےwajaʿalnāلِمَهْلِكِهِمان کی ہلاکت کے لئےlimahlikihimمَّوْعِدًۭاایک مقررہ وقتmawʿidan٥٩
یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا
۱۸:۶۰
وَإِذْاور جبwa-idhقَالَکہاqālaمُوسَىٰموسیٰ (علیہ السلام) نےmūsāلِفَتَىٰهُاپنے نوجوان کو/ غلام کو/ خادم کوlifatāhuلَآنہlāأَبْرَحُمیں پلٹوں گا/ نہ میں پھروں گاabraḥuحَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāأَبْلُغَمیں پہنچ جاؤںablughaمَجْمَعَجمع ہونے کی جگہmajmaʿaٱلْبَحْرَيْنِدو دریاؤں کےl-baḥrayniأَوْیاawأَمْضِىَمیں چلتا رہوں گاamḍiyaحُقُبًۭابرسوں/ مدتوںḥuquban٦٠
(ذرا ان کو وہ قصہ سُناوٴ جو موسیٰؑ کو پیش آیا تھا)جب کہ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا تھاکہ”میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاوٴں کے سنگم پر نہ پہنچ جاوٴں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔“
۱۸:۶۱
فَلَمَّاتو جبfalammāبَلَغَاوہ دونوں پہنچےbalaghāمَجْمَعَسنگم پر/جمع ہونے کی جگہ پرmajmaʿaبَيْنِهِمَادرمیان ان دو دریاؤں کےbaynihimāنَسِيَاتو دونوں بھول گئےnasiyāحُوتَهُمَااپنی مچھلی کوḥūtahumāفَٱتَّخَذَپس اس نے بنا لیاfa-ittakhadhaسَبِيلَهُۥاپنا راستہsabīlahuفِىمیںfīٱلْبَحْرِسمندرl-baḥriسَرَبًۭاسرنگ کی طرحsaraban٦١
پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہو گئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سرنگ لگی ہو
۱۸:۶۲
فَلَمَّاتو جبfalammāجَاوَزَاوہ آگے بڑھےjāwazāقَالَکہاqālaلِفَتَىٰهُاپنے خادم سےlifatāhuءَاتِنَالائیے ہمارے پاسātināغَدَآءَنَاہمارا ناشتہ/ دوپہر کا کھاناghadāanāلَقَدْالبتہ تحقیقlaqadلَقِينَاملاقات کی ہم نےlaqīnāمِنسےminسَفَرِنَااس سفرsafarināهَـٰذَااپنےhādhāنَصَبًۭاتھکاوٹ سےnaṣaban٦٢
آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا " لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں"
۱۸:۶۳
قَالَاس نے کہاqālaأَرَءَيْتَ، کیا دیکھا تم نےara-aytaإِذْجبidhأَوَيْنَآہم نے پناہ لی تھیawaynāإِلَىطرفilāٱلصَّخْرَةِچٹان کیl-ṣakhratiفَإِنِّىتو بیشک میںfa-innīنَسِيتُمیں بھول گیاnasītuٱلْحُوتَمچھلی کوl-ḥūtaوَمَآاور نہیںwamāأَنسَىٰنِيهُبھلایا مجھے اس کوansānīhuإِلَّامگرillāٱلشَّيْطَـٰنُشیطان نےl-shayṭānuأَنْکہanأَذْكُرَهُۥ ۚمیں ذکر کروں اس کاadhkurahuوَٱتَّخَذَاور اس نے بنالیا تھاwa-ittakhadhaسَبِيلَهُۥاپنا راستہsabīlahuفِىمیںfīٱلْبَحْرِسمندرl-baḥriعَجَبًۭاعجیب طریقے سےʿajaban٦٣
خادم نے کہا "آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی"
۱۸:۶۴
قَالَ(موسیٰ نے) کہاqālaذَٰلِكَیہی ہےdhālikaمَاجوmāكُنَّاتھے ہمkunnāنَبْغِ ۚہم چاہتےnabghiفَٱرْتَدَّاتو وہ دونوں پلٹےfa-ir'taddāعَلَىٰٓپرʿalāءَاثَارِهِمَااپنے نشانوںāthārihimāقَصَصًۭانشان قدم تلاش کرتے ہوئےqaṣaṣan٦٤
موسیٰؑ نے کہا”اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔“ چنانچہ وہ دونوں اپنے نقشِ قدم پر پھر واپس ہوئے
۱۸:۶۵
فَوَجَدَاتو دونوں نے پایاfawajadāعَبْدًۭاایک بندے کوʿabdanمِّنْمیں سےminعِبَادِنَآہمارے بندوںʿibādināءَاتَيْنَـٰهُدی تھی ہم نے اس کوātaynāhuرَحْمَةًۭرحمتraḥmatanمِّنْسےminعِندِنَااپنے پاس (سے)ʿindināوَعَلَّمْنَـٰهُاور سکھایا تھا ہم نے اس کوwaʿallamnāhuمِنfromminلَّدُنَّااپنے پاس سےladunnāعِلْمًۭاعلمʿil'man٦٥
اور وہاں اُنہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔
۱۸:۶۶
قَالَکہاqālaلَهُۥاس کوlahuمُوسَىٰموسیٰ نےmūsāهَلْکیاhalأَتَّبِعُكَمیں پیروی کروں آپ کیattabiʿukaعَلَىٰٓاوپر اس بات کےʿalāأَنکہanتُعَلِّمَنِتو سکھائے مجھ کوtuʿallimaniمِمَّااس میں سےmimmāعُلِّمْتَجو تو سکھایا گیاʿullim'taرُشْدًۭاسمجھ بوجھrush'dan٦٦
موسیٰؑ نے اس سے کہا "کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کوسکھائی گئی ہے؟"
۱۸:۶۷
قَالَاس نے کہاqālaإِنَّكَبیشک توinnakaلَنہرگز نہlanتَسْتَطِيعَتو استطاعت رکھے گاtastaṭīʿaمَعِىَمیرے ساتھmaʿiyaصَبْرًۭاصبر کیṣabran٦٧
اس نے جواب دیا "آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے
۱۸:۶۸
وَكَيْفَاور کس طرحwakayfaتَصْبِرُتم صبر کرسکتے ہوtaṣbiruعَلَىٰاوپر اس کےʿalāمَاجوmāلَمْنہیںlamتُحِطْتم نے احاطہ کیاtuḥiṭبِهِۦسےbihiخُبْرًۭااس کا پوری پوری معرفت کے ساتھ/ پوری سمجھkhub'ran٦٨
اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں"
۱۸:۶۹
قَالَاس نے کہاqālaسَتَجِدُنِىٓعنقریب تم پاؤ گے مجھ کوsatajidunīإِناگرinشَآءَچاہاshāaٱللَّهُاللہ نےl-lahuصَابِرًۭاصبر کرنے والاṣābiranوَلَآاور نہیںwalāأَعْصِىمیں نافرمانی کروں گاaʿṣīلَكَتیرے لئےlakaأَمْرًۭاکسی حکم میں/ کسی بات میںamran٦٩
موسیٰؑ نے کہا "انشاءاللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا"
۱۸:۷۰
قَالَکہاqālaفَإِنِپھر اگرfa-iniٱتَّبَعْتَنِىتم پیروی کرو میریittabaʿtanīفَلَاپس نہfalāتَسْـَٔلْنِىتم سوال کرنا مجھ سےtasalnīعَنکسیʿanشَىْءٍچیز کے بارے میںshayinحَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāأُحْدِثَمیں بیان کروںuḥ'dithaلَكَتمہارے لئےlakaمِنْهُاس میں سےmin'huذِكْرًۭاذکر کرنا/ بیان کرناdhik'ran٧٠
اس نے کہا "اچھا، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں"
۱۸:۷۱
فَٱنطَلَقَاتو دونوں چل دیئےfa-inṭalaqāحَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāرَكِبَاوہ دونوں سوار ہوئےrakibāفِىمیںfīٱلسَّفِينَةِکشتیl-safīnatiخَرَقَهَا ۖتو اس نے پھاڑ دیا اس کوkharaqahāقَالَکہاqālaأَخَرَقْتَهَاتم نے پھاڑ دیا اس کوakharaqtahāلِتُغْرِقَتاکہ غرق کرےlitugh'riqaأَهْلَهَااس کے رہنے والوں کو (سواروں کو)ahlahāلَقَدْالبتہ تحقیقlaqadجِئْتَلایا توji'taشَيْـًٔاچیزshayanإِمْرًۭابہت بھاریim'ran٧١
اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے تو اس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی"
۱۸:۷۲
قَالَاس نے کہاqālaأَلَمْکیا میں نےalamأَقُلْکہا نہ تھاaqulإِنَّكَبیشک توinnakaلَنہرگز نہlanتَسْتَطِيعَتو استطاعت رکھے گاtastaṭīʿaمَعِىَمیرے ساتھmaʿiyaصَبْرًۭاصبر کیṣabran٧٢
اس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"
۱۸:۷۳
قَالَکہاqālaلَانہlāتُؤَاخِذْنِىآپ مؤاخذہ کیجئے میرا/ نہ پکڑئیے مجھ کوtuākhidh'nīبِمَاساتھ اس کے جوbimāنَسِيتُمیں بھول جاؤںnasītuوَلَااور نہwalāتُرْهِقْنِىآپ مجھ پر چھا جائیےtur'hiq'nīمِنْمیں سےminأَمْرِىمیرے معاملےamrīعُسْرًۭاتنگی کے ساتھ/ سختی کے ساتھʿus'ran٧٣
موسیٰؑ نے کہا "بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں"
۱۸:۷۴
فَٱنطَلَقَاتو دونوں چل دیئےfa-inṭalaqāحَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāلَقِيَاوہ دونوں ملےlaqiyāغُلَـٰمًۭاایک بچے کوghulāmanفَقَتَلَهُۥتو اس نے قتل کردیا اس کوfaqatalahuقَالَکہاqālaأَقَتَلْتَکیا تو نے قتل کردیاaqataltaنَفْسًۭاایک جان کو/ ایک شخص کوnafsanزَكِيَّةًۢمعصوم/ پاک/ بےگناہzakiyyatanبِغَيْرِبغیرbighayriنَفْسٍۢکسی جان کےnafsinلَّقَدْالبتہ تحقیقlaqadجِئْتَتو لایا ہے / مرتکب ہوا ہےji'taشَيْـًۭٔاایک چیز کاshayanنُّكْرًۭاجو قابل نفرت ہے/ ناپسندیدہ ہےnuk'ran٧٤
پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کر دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا"
۱۸:۷۵
۞ قَالَکہاqālaأَلَمْکیا نہیںalamأَقُلمیں نے کہا تھاaqulلَّكَتجھ کوlakaإِنَّكَبیشک توinnakaلَنہرگز نہیںlanتَسْتَطِيعَتو استطاعت رکھتاtastaṭīʿaمَعِىَمیرے ساتھmaʿiyaصَبْرًۭاصبر کیṣabran٧٥
اُس نے کہا " میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"
۱۸:۷۶
قَالَکہاqālaإِناگرinسَأَلْتُكَمیں سوال کروں تجھ سےsa-altukaعَنکاʿanشَىْءٍۭکسی چیز کاshayinبَعْدَهَااس کے بعدbaʿdahāفَلَاتو نہfalāتُصَـٰحِبْنِى ۖتو ساتھ رکھنا مجھ کوtuṣāḥib'nīقَدْتحقیقqadبَلَغْتَپہنچا تجھ کوbalaghtaمِنسےminلَّدُنِّىمیری طرف (سے)ladunnīعُذْرًۭاعذرʿudh'ran٧٦
موسیٰؑ نے کہا " اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا"
۱۸:۷۷
فَٱنطَلَقَاتو دونوں چل دیےfa-inṭalaqāحَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَآجبidhāأَتَيَآوہ دونوں آئےatayāأَهْلَوالوں کےahlaقَرْيَةٍایک بستی (والوں کے پاس)qaryatinٱسْتَطْعَمَآتو ان دونوں نے کھانا مانگاis'taṭʿamāأَهْلَهَااس کے رہنے والوں سےahlahāفَأَبَوْا۟تو انہوں نے انکار کردیاfa-abawأَنکہanيُضَيِّفُوهُمَاوہ مہمان بنائیں ان کوyuḍayyifūhumāفَوَجَدَاتو ان دونوں نے پائیfawajadāفِيهَااس میںfīhāجِدَارًۭاایک دیوارjidāranيُرِيدُوہ چاہتی تھیyurīduأَنکہanيَنقَضَّٹوٹ جائے۔ ٹوٹ گرےyanqaḍḍaفَأَقَامَهُۥ ۖتو اس نے قائم کردیا اس کوfa-aqāmahuقَالَاس نے کہاqālaلَوْاگرlawشِئْتَتو چاہتاshi'taلَتَّخَذْتَالبتہ تو لے لیتاlattakhadhtaعَلَيْهِاس پرʿalayhiأَجْرًۭااجرتajran٧٧
پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جوگرا چاہتی تھی اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کر دیا موسیٰؑ نے کہا " اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اُجرت لے سکتے تھے"
۱۸:۷۸
قَالَکہاqālaهَـٰذَایہ ہےhādhāفِرَاقُجدائیfirāquبَيْنِىمیرے درمیانbaynīوَبَيْنِكَ ۚاور تیرے درمیانwabaynikaسَأُنَبِّئُكَعنقریب میں بتاؤں گا تجھ کوsa-unabbi-ukaبِتَأْوِيلِحقیقتbitawīliمَااس کی جوmāلَمْنہیںlamتَسْتَطِعتو کرسکاtastaṭiʿعَّلَيْهِاس پرʿalayhiصَبْرًاصبرṣabran٧٨
اُس نے کہا "بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے
۱۸:۷۹
أَمَّارہیammāٱلسَّفِينَةُکشتیl-safīnatuفَكَانَتْتو وہ تھیfakānatلِمَسَـٰكِينَمسکینوں کیlimasākīnaيَعْمَلُونَجو کام کرتے تھےyaʿmalūnaفِىمیںfīٱلْبَحْرِسمندر (میں)l-baḥriفَأَرَدتُّتو میں نے چاہاfa-aradttuأَنْکہanأَعِيبَهَامیں عیب دار کردوں اس کوaʿībahāوَكَانَاور تھاwakānaوَرَآءَهُمان کے پیچھےwarāahumمَّلِكٌۭایک بادشاہmalikunيَأْخُذُجو لے رہا تھاyakhudhuكُلَّہرkullaسَفِينَةٍکشتی کوsafīnatinغَصْبًۭاظلم سے۔ چھین کر۔ غصب کرکےghaṣban٧٩
اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا
۱۸:۸۰
وَأَمَّااور رہاwa-ammāٱلْغُلَـٰمُلڑکاl-ghulāmuفَكَانَتو تھےfakānaأَبَوَاهُاس کے والدینabawāhuمُؤْمِنَيْنِدونوں مومنmu'minayniفَخَشِينَآتو ڈرہوا ہم کوfakhashīnāأَنکہanيُرْهِقَهُمَاوہ غالب آجائے ان دونوں پرyur'hiqahumāطُغْيَـٰنًۭاسرکشی سےṭugh'yānanوَكُفْرًۭااور کفر کے ساتھwakuf'ran٨٠
رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا
۱۸:۸۱
فَأَرَدْنَآتو ارادہ کیا ہم نےfa-aradnāأَنکہanيُبْدِلَهُمَابدل کردے ان کوyub'dilahumāرَبُّهُمَاان کا ربrabbuhumāخَيْرًۭابہترkhayranمِّنْهُاس سےmin'huزَكَوٰةًۭپاکیزگی میںzakatanوَأَقْرَبَاور زیادہ قریبwa-aqrabaرُحْمًۭاشفقت میں۔ رحمت میںruḥ'man٨١
اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو
۱۸:۸۲
وَأَمَّااور جہاں تکwa-ammāٱلْجِدَارُدیوار کا تعلق ہےl-jidāruفَكَانَتو تھیfakānaلِغُلَـٰمَيْنِدو لڑکوں کیlighulāmayniيَتِيمَيْنِدونوں یتیمyatīmayniفِىمیںfīٱلْمَدِينَةِشہر میںl-madīnatiوَكَانَاور تھاwakānaتَحْتَهُۥاس کے نیچےtaḥtahuكَنزٌۭایک خزانہkanzunلَّهُمَاان دونوں کاlahumāوَكَانَاور تھاwakānaأَبُوهُمَاان کا والدabūhumāصَـٰلِحًۭانیکṣāliḥanفَأَرَادَتو ارادہ کیاfa-arādaرَبُّكَتیرے رب نےrabbukaأَنکہanيَبْلُغَآوہ دونوں پہنچیںyablughāأَشُدَّهُمَااپنی جوانی کوashuddahumāوَيَسْتَخْرِجَااور نکالیںwayastakhrijāكَنزَهُمَااپنے خزانے کوkanzahumāرَحْمَةًۭبطور رحمتraḥmatanمِّنسےminرَّبِّكَ ۚتیرے رب کی طرف سےrabbikaوَمَااور نہیںwamāفَعَلْتُهُۥمیں نے کہا اس کوfaʿaltuhuعَنْسےʿanأَمْرِى ۚاپنے حکم سےamrīذَٰلِكَیہ ہےdhālikaتَأْوِيلُحقیقتtawīluمَاجوmāلَمْنہیںlamتَسْطِعتم استطاعت رکھ سکےtasṭiʿعَّلَيْهِاس پرʿalayhiصَبْرًۭاصبر کیṣabran٨٢
اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اِس دیوار کے نیچے اِن بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے ربّ نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے ربّ کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔“
۱۸:۸۳
وَيَسْـَٔلُونَكَاور وہ سوال کرتے ہیں آپ سےwayasalūnakaعَنکےʿanذِىذوالقرنینdhīٱلْقَرْنَيْنِ ۖذوالقرنین کے بارے میںl-qarnayniقُلْکہہ دیجیےqulسَأَتْلُوا۟عنقریب میں پڑھوں گاsa-atlūعَلَيْكُمتم پرʿalaykumمِّنْهُاس میں سےmin'huذِكْرًاکچھ ذکر۔ کچھ حالdhik'ran٨٣
اور اے محمدؐ ، یہ لوگ تم سے ذُوالقرنین کے بارے میں پُوچھتے ہیں۔ ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سُناتا ہوں۔
۱۸:۸۴
إِنَّابیشک ہم نےinnāمَكَّنَّااقتدار دیا تھا ہم نےmakkannāلَهُۥاس کوlahuفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمین (میں)l-arḍiوَءَاتَيْنَـٰهُاور دئیے تھے ہم نے اس کوwaātaynāhuمِنسےminكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز میں سےshayinسَبَبًۭااسبابsababan٨٤
ہم نے اس کو زمین میں اقتدار عطا کر رکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے
۱۸:۸۵
فَأَتْبَعَتو اس نے پیروی کیfa-atbaʿaسَبَبًااسباب کیsababan٨٥
اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا) سر و سامان کیا
۱۸:۸۶
حَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāبَلَغَوہ پہنچ گیاbalaghaمَغْرِبَغروب ہونے کی جگہmaghribaٱلشَّمْسِسورجl-shamsiوَجَدَهَاپایا اس کوwajadahāتَغْرُبُغروب ہورہا ہےtaghrubuفِىمیںfīعَيْنٍایک چشمے (میں)ʿayninحَمِئَةٍۢگدلے۔ کیچڑ والےḥami-atinوَوَجَدَاور پایاwawajadaعِندَهَااس کے پاسʿindahāقَوْمًۭا ۗایک قوم کوqawmanقُلْنَاکہا ہم نےqul'nāيَـٰذَااےyādhāٱلْقَرْنَيْنِذوالقرنینl-qarnayniإِمَّآخواہimmāأَنیہanتُعَذِّبَتو عذاب دے۔ سزا دےtuʿadhibaوَإِمَّآاور خواہ یہwa-immāأَنکہanتَتَّخِذَتو اختیار کرےtattakhidhaفِيهِمْان کے معاملے میںfīhimحُسْنًۭابھلائیḥus'nan٨٦
حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتاب کی حَد تک پہنچ گیا تو اس نے سُورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں اُسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا”اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ اِن کے ساتھ نیک رویّہ اختیار کرے۔“
۱۸:۸۷
قَالَاس نے کہاqālaأَمَّارہا وہammāمَنجوmanظَلَمَظلم کرتا ہےẓalamaفَسَوْفَتو عنقریبfasawfaنُعَذِّبُهُۥہم عذاب دیں گے اس کوnuʿadhibuhuثُمَّپھرthummaيُرَدُّوہ لوٹایاجائے گاyuradduإِلَىٰطرفilāرَبِّهِۦاپنے رب کی (طرف)rabbihiفَيُعَذِّبُهُۥتو وہ عذاب دے گا اس کوfayuʿadhibuhuعَذَابًۭاعذابʿadhābanنُّكْرًۭاسختnuk'ran٨٧
اس نے کہا، "جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا
۱۸:۸۸
وَأَمَّااور رہاwa-ammāمَنْجوmanءَامَنَایمان لایاāmanaوَعَمِلَاور عمل کیےwaʿamilaصَـٰلِحًۭااچھےṣāliḥanفَلَهُۥتو اس کے لیےfalahuجَزَآءًجزا ہے ۔ بدلہ ہےjazāanٱلْحُسْنَىٰ ۖاچھی (جزا ہے ۔ اچھا بدلہ ہے)l-ḥus'nāوَسَنَقُولُاور عنقریب ہم کہیں گےwasanaqūluلَهُۥاس سےlahuمِنْسےminأَمْرِنَااپنے حکم میں (سے)amrināيُسْرًۭاآسانyus'ran٨٨
اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اُس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے"
۱۸:۸۹
ثُمَّپھرthummaأَتْبَعَاس نے پیروی کیatbaʿaسَبَبًااسباب کیsababan٨٩
پھر اُس نے (ایک دُوسری مہم کی) تیاری کی
۱۸:۹۰
حَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāبَلَغَوہ پہنچاbalaghaمَطْلِعَطلوع ہونے کی جگہmaṭliʿaٱلشَّمْسِسورج کےl-shamsiوَجَدَهَاپایا اس کوwajadahāتَطْلُعُکہ طلوع ہو رہا ہےtaṭluʿuعَلَىٰپرʿalāقَوْمٍۢایک قوم (پر)qawminلَّمْنہیںlamنَجْعَلبنایا ہم نےnajʿalلَّهُمان کے لیےlahumمِّنکےminدُونِهَااس کے ادھرdūnihāسِتْرًۭاکوئی پردہ۔ اوٹsit'ran٩٠
یہاں تک کہ طلوعِ آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سُورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کےلیے دُھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔
۱۸:۹۱
كَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaوَقَدْاور تحقیقwaqadأَحَطْنَاگھیر رکھا تھا ہم نےaḥaṭnāبِمَاجوbimāلَدَيْهِاس کے پاس تھاladayhiخُبْرًۭاخبر میں سےkhub'ran٩١
یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے
۱۸:۹۲
ثُمَّپھرthummaأَتْبَعَاس نے پیروی کیatbaʿaسَبَبًااسباب کیsababan٩٢
پھر اس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا
۱۸:۹۳
حَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāبَلَغَوہ پہنچاbalaghaبَيْنَدرمیانbaynaٱلسَّدَّيْنِدو پہاڑوں کےl-sadayniوَجَدَاس نے پایاwajadaمِنسےminدُونِهِمَاان کے علاوہdūnihimāقَوْمًۭاایک قوم کوqawmanلَّانہlāيَكَادُونَقریب تھےyakādūnaيَفْقَهُونَکہ سمجھتےyafqahūnaقَوْلًۭابات کوqawlan٩٣
یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سجھتی تھی۔
۱۸:۹۴
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰذَااےyādhāٱلْقَرْنَيْنِاے ذوالقرنینl-qarnayniإِنَّبیشکinnaيَأْجُوجَیاجوجyajūjaوَمَأْجُوجَاور ماجوجwamajūjaمُفْسِدُونَفساد کرنے والے ہیںmuf'sidūnaفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمین (میں)l-arḍiفَهَلْتو کیاfahalنَجْعَلُہم بنائیںnajʿaluلَكَتیرے لیےlakaخَرْجًاخراج۔ ٹیکسkharjanعَلَىٰٓاس بات پرʿalāأَنکہanتَجْعَلَتو بنائےtajʿalaبَيْنَنَاہمارے درمیانbaynanāوَبَيْنَهُمْاور ان کے درمیانwabaynahumسَدًّۭاایک بند۔ روکsaddan٩٤
اُن لوگوں نے کہا کہ ”اے ذوالقرنین، یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کام لیے دیں کہ تُو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دے؟“
۱۸:۹۵
قَالَاس نے کہاqālaمَاجوmāمَكَّنِّىقدرت دی ہے مجھ کوmakkannīفِيهِاس میںfīhiرَبِّىمیرے رب نےrabbīخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunفَأَعِينُونِىپس تم سب مدد کرو میریfa-aʿīnūnīبِقُوَّةٍساتھ قوت کےbiquwwatinأَجْعَلْمیں بناؤںajʿalبَيْنَكُمْتمہارے درمیانbaynakumوَبَيْنَهُمْاور ان کے درمیانwabaynahumرَدْمًاایک مضبوط دیوارradman٩٥
اُس نے کہا”جو کچھ میرے ربّ نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔
۱۸:۹۶
ءَاتُونِىدو مجھ کوātūnīزُبَرَچادریںzubaraٱلْحَدِيدِ ۖلوہے کی (چادریں)۔ (لوہے کے) ٹکڑےl-ḥadīdiحَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāسَاوَىٰبرابر کردیاsāwāبَيْنَدرمیانbaynaٱلصَّدَفَيْنِدو کناروں کےl-ṣadafayniقَالَکہاqālaٱنفُخُوا۟ ۖپھونکوunfukhūحَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāجَعَلَهُۥکردیا اس کوjaʿalahuنَارًۭاآگnāranقَالَکہاqālaءَاتُونِىٓدو مجھ کوātūnīأُفْرِغْمیں انڈیلوںuf'righعَلَيْهِاس پرʿalayhiقِطْرًۭاپگھلا ہوا تانباqiṭ'ran٩٦
مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو" آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سُرخ ہو گئی تو اس نے کہا "لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا"
۱۸:۹۷
فَمَاتو نہfamāٱسْطَـٰعُوٓا۟ہمت ہوئیis'ṭāʿūأَنکہanيَظْهَرُوهُوہ چڑھ سکیں اس پرyaẓharūhuوَمَااور نہwamāٱسْتَطَـٰعُوا۟وہ طاقت رکھتے تھےis'taṭāʿūلَهُۥاس کے لیےlahuنَقْبًۭانقب لگانے کیnaqban٩٧
(یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا
۱۸:۹۸
قَالَکہاqālaهَـٰذَایہhādhāرَحْمَةٌۭرحمت ہےraḥmatunمِّنکیminرَّبِّى ۖمیرے رب (کی)rabbīفَإِذَاپھر جبfa-idhāجَآءَآجائے گاjāaوَعْدُوعدہwaʿduرَبِّىمیرے ربrabbīجَعَلَهُۥمقررہ وقت کردے گا اس کوjaʿalahuدَكَّآءَ ۖبرابر۔ ریزہ ریزہdakkāaوَكَانَاور ہےwakānaوَعْدُوعدہwaʿduرَبِّىمیرے رب کاrabbīحَقًّۭاسچ۔ برحقḥaqqan٩٨
ذوالقرنین نے کہا”یہ میرے ربّ کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے ربّ کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوندِ خاک کر دے گا، اور میرے ربّ کا وعدہ برحق ہے۔“
۱۸:۹۹
۞ وَتَرَكْنَااور ہم چھوڑ دیں گےwataraknāبَعْضَهُمْان میں سے بعض کوbaʿḍahumيَوْمَئِذٍۢاس دنyawma-idhinيَمُوجُمل جل جائیں گے۔ لہریں ماریں گےyamūjuفِىمیںfīبَعْضٍۢ ۖبعضbaʿḍinوَنُفِخَاور پھونک ماری جائے گیwanufikhaفِىمیںfīٱلصُّورِصور (میں)l-ṣūriفَجَمَعْنَـٰهُمْتو ہم جمع کرلیں گے ان کوfajamaʿnāhumجَمْعًۭاجمع کرناjamʿan٩٩
اور اُس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح)ایک دُوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پھُونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے
۱۸:۱۰۰
وَعَرَضْنَااور ہم پیش کریں گےwaʿaraḍnāجَهَنَّمَجہنم کوjahannamaيَوْمَئِذٍۢاس دنyawma-idhinلِّلْكَـٰفِرِينَکافروں کے لیےlil'kāfirīnaعَرْضًاپیش کرناʿarḍan١٠٠
اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے
۱۸:۱۰۱
ٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَانَتْتھیںkānatأَعْيُنُهُمْان کی آنکھیںaʿyunuhumفِىمیںfīغِطَآءٍپردے (میں)ghiṭāinعَنسےʿanذِكْرِىمیرے ذکر (سے)dhik'rīوَكَانُوا۟اور تھے وہwakānūلَانہlāيَسْتَطِيعُونَاستطاعت رکھتےyastaṭīʿūnaسَمْعًاسننے کیsamʿan١٠١
اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے
۱۸:۱۰۲
أَفَحَسِبَکیا بھلا گمان رکھتے ہیںafaḥasibaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوٓا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūأَنکہanيَتَّخِذُوا۟وہ بنالیں گےyattakhidhūعِبَادِىمیرے بندوں کوʿibādīمِنbesides Meminدُونِىٓمیرے سواdūnīأَوْلِيَآءَ ۚدوست مددگارawliyāaإِنَّآبیشک ہم نےinnāأَعْتَدْنَاتیار کی ہم نےaʿtadnāجَهَنَّمَجہنمjahannamaلِلْكَـٰفِرِينَکافروں کے لیےlil'kāfirīnaنُزُلًۭابطور مہمان کےnuzulan١٠٢
تو کیا یہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے یے جہنّم تیار کر رکھی ہے
۱۸:۱۰۳
قُلْکہہ دیجئےqulهَلْکیاhalنُنَبِّئُكُمہم بتائیں تم کوnunabbi-ukumبِٱلْأَخْسَرِينَسب سے زیادہ خسارے والے۔ سب سے زیادہ ظالم لوگbil-akhsarīnaأَعْمَـٰلًااعمال میں۔ اعمال کے اعتبار سےaʿmālan١٠٣
اے محمدؐ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟
۱۸:۱۰۴
ٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaضَلَّگم ہوگئیḍallaسَعْيُهُمْان کی کوششsaʿyuhumفِىمیںfīٱلْحَيَوٰةِزندگیl-ḥayatiٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yāوَهُمْاور وہwahumيَحْسَبُونَسمجھتے ہیںyaḥsabūnaأَنَّهُمْبیشک وہannahumيُحْسِنُونَاچھے کررہے ہیںyuḥ'sinūnaصُنْعًاکامṣun'ʿan١٠٤
وہ کہ دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں
۱۸:۱۰۵
أُو۟لَـٰٓئِكَیہیulāikaٱلَّذِينَوہ لوگ ہیںalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūبِـَٔايَـٰتِآیات سےbiāyātiرَبِّهِمْاپنے رب کیrabbihimوَلِقَآئِهِۦاور اس کی ملاقات سےwaliqāihiفَحَبِطَتْتو ضائع ہوگئےfaḥabiṭatأَعْمَـٰلُهُمْان کے اعمالaʿmāluhumفَلَاتو نہیںfalāنُقِيمُہم قائم کریں گے۔ ہم دیکھیں گےnuqīmuلَهُمْان کے لیےlahumيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiوَزْنًۭاکوئی وزنwaznan١٠٥
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔
۱۸:۱۰۶
ذَٰلِكَیہdhālikaجَزَآؤُهُمْان کی جزاjazāuhumجَهَنَّمُجہنم ہےjahannamuبِمَابوجہ اس کےbimāكَفَرُوا۟جو انہوں نے کفر کیاkafarūوَٱتَّخَذُوٓا۟اور بنالیاwa-ittakhadhūءَايَـٰتِىمیری آیات کوāyātīوَرُسُلِىاور میرے رسولوں کوwarusulīهُزُوًامذاقhuzuwan١٠٦
ان کی جزا جہنم ہے اُس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے
۱۸:۱۰۷
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَعَمِلُوا۟اور انہوں نے کام کیےwaʿamilūٱلصَّـٰلِحَـٰتِاچھےl-ṣāliḥātiكَانَتْہیںkānatلَهُمْان کے لیےlahumجَنَّـٰتُباغjannātuٱلْفِرْدَوْسِفردوس کےl-fir'dawsiنُزُلًامہمانی کے طور پرnuzulan١٠٧
البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے
۱۸:۱۰۸
خَـٰلِدِينَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidīnaفِيهَاان میںfīhāلَانہlāيَبْغُونَچاہیں گےyabghūnaعَنْهَاان سےʿanhāحِوَلًۭابدلنا۔ ٹلناḥiwalan١٠٨
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اُس جگہ سے نِکل کر کہیں جانے کو اُن کا جی نہ چاہے گا۔
۱۸:۱۰۹
قُلکہہ دیجئےqulلَّوْاگرlawكَانَہوجائیںkānaٱلْبَحْرُسمندرl-baḥruمِدَادًۭاروشنائیmidādanلِّكَلِمَـٰتِباتوں کے لیےlikalimātiرَبِّىمیرے رب کیrabbīلَنَفِدَالبتہ ختم ہوجائیںlanafidaٱلْبَحْرُسمندرl-baḥruقَبْلَاس سے پہلےqablaأَنکہanتَنفَدَختم ہوںtanfadaكَلِمَـٰتُباتیںkalimātuرَبِّىمیرے رب کیrabbīوَلَوْاور اگرچہwalawجِئْنَالائیں ہمji'nāبِمِثْلِهِۦاس کی مانندbimith'lihiمَدَدًۭامدد۔ اضافہ۔ زیادتیmadadan١٠٩
اے محمدؐ ، کہو کہ اگر سمندر میرے ربّ کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے ربّ کی باتیں ختم نہ ہوں، بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے
۱۸:۱۱۰
قُلْکہہ دیجیےqulإِنَّمَآبیشکinnamāأَنَا۠میںanāبَشَرٌۭایک انسان ہوںbasharunمِّثْلُكُمْتم جیساmith'lukumيُوحَىٰٓوحی کی جاتی ہےyūḥāإِلَىَّمیری طرفilayyaأَنَّمَآبیشکannamāإِلَـٰهُكُمْالہ تمہاراilāhukumإِلَـٰهٌۭاللہ ہےilāhunوَٰحِدٌۭ ۖایک ہیwāḥidunفَمَنتو جو کوئیfamanكَانَہوkānaيَرْجُوا۟امید رکھتاyarjūلِقَآءَملاقات کیliqāaرَبِّهِۦاپنے رب کیrabbihiفَلْيَعْمَلْپس چاہیے کہ عمل کرےfalyaʿmalعَمَلًۭاعملʿamalanصَـٰلِحًۭانیکṣāliḥanوَلَااور نہwalāيُشْرِكْشریک ٹھہرائےyush'rikبِعِبَادَةِعبادت میںbiʿibādatiرَبِّهِۦٓاپنے رب کیrabbihiأَحَدًۢاکسی ایک کوaḥadan١١٠
اے محمدؐ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے
—
—
—
—
لوڈ ہو رہا ہے…