۱۲
یوسف
يوسف
سورہ یوسف (يوسف) قرآن مجید کی ۱۲ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۱۱۱ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔
بک مارکس (0)
ابھی کوئی بک مارک نہیں۔ کسی بھی آیت کے ساتھ بک مارک آئیکن پر کلک کر کے محفوظ کریں۔
بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱۲:۱
الٓر ۚا ل رalif-lam-raتِلْكَیہtil'kaءَايَـٰتُآیات ہیںāyātuٱلْكِتَـٰبِکتابl-kitābiٱلْمُبِينِروشن کی۔ واضح کتاب کیl-mubīni١
ا، ل، ر یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف بیان کرتی ہے
۱۲:۲
إِنَّآبیشک ہم نےinnāأَنزَلْنَـٰهُنازل کیا ہم نے اس کوanzalnāhuقُرْءَٰنًاایک قرآنqur'ānanعَرَبِيًّۭاعربیʿarabiyyanلَّعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَعْقِلُونَتم سمجھ سکو۔ عقل سے کام لوtaʿqilūna٢
ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن1 بنا کر عربی زبان میں تا کہ تم (اہلِ عرب)اس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔2
۱۲:۳
نَحْنُہمnaḥnuنَقُصُّبیان کرتے ہیںnaquṣṣuعَلَيْكَآپ پرʿalaykaأَحْسَنَبہترینaḥsanaٱلْقَصَصِبیان۔ بہترین واقعہ۔ قصوں میں سے بہترین قصہl-qaṣaṣiبِمَآساتھ اس کے جوbimāأَوْحَيْنَآوحی کررہے ہیں ہمawḥaynāإِلَيْكَآپ کی طرفilaykaهَـٰذَااسhādhāٱلْقُرْءَانَقرآن (نہیں)l-qur'ānaوَإِناور بیشکwa-inكُنتَتھے آپkuntaمِنسےminقَبْلِهِۦاس سے پہلےqablihiلَمِنَالبتہ میں سےlaminaٱلْغَـٰفِلِينَغافلوں (میں سے)l-ghāfilīna٣
اے محمد ؐ ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کر تے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزوں سے)تم بالکل ہی بے خبر تھے۔1
۱۲:۴
إِذْجبidhقَالَکہا تھاqālaيُوسُفُیوسف نےyūsufuلِأَبِيهِاپنے والد سےli-abīhiيَـٰٓأَبَتِاے میرے ابا جانyāabatiإِنِّىبیشک میں نےinnīرَأَيْتُنے دیکھا ہے (خواب)ra-aytuأَحَدَایکaḥadaعَشَرَدس (گیارہ)ʿasharaكَوْكَبًۭاستاروں کوkawkabanوَٱلشَّمْسَاور سورجwal-shamsaوَٱلْقَمَرَاور چاند کوwal-qamaraرَأَيْتُهُمْمیں نے دیکھا ان کوra-aytuhumلِىمیرے لیےlīسَـٰجِدِينَسجدہ کررہے ہیںsājidīna٤
یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسفؑ نے اپنے باپ سے کہا "ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں"
۱۲:۵
قَالَاس نے کہاqālaيَـٰبُنَىَّاے میرے بیٹےyābunayyaلَانہlāتَقْصُصْتم بتانا۔ نہ تم بیان کرناtaqṣuṣرُءْيَاكَاپنا خوابru'yākaعَلَىٰٓپرʿalāإِخْوَتِكَاپنے بھائیوں پرikh'watikaفَيَكِيدُوا۟ورنہ وہ چال چلیں گےfayakīdūلَكَتیرے لیےlakaكَيْدًا ۖایک چالkaydanإِنَّبیشکinnaٱلشَّيْطَـٰنَشیطانl-shayṭānaلِلْإِنسَـٰنِانسان کے لیےlil'insāniعَدُوٌّۭدشمن ہےʿaduwwunمُّبِينٌۭکھلاmubīnun٥
جواب میں اس کے باپ نے کہا، ”بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سُنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہو جائیں گے،1 حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کُھلا دشمن ہے
۱۲:۶
وَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaيَجْتَبِيكَچن لے گا تجھ کوyajtabīkaرَبُّكَتیرا ربrabbukaوَيُعَلِّمُكَاور سکھائے گا تجھ کوwayuʿallimukaمِنکیminتَأْوِيلِاور پورا کردے گاtawīliٱلْأَحَادِيثِباتوں کا مطلب۔ باتوں کی تہہ تک پہنچناl-aḥādīthiوَيُتِمُّاور پورا کر دے گاwayutimmuنِعْمَتَهُۥاپنی نعمت کوniʿ'matahuعَلَيْكَتجھ پرʿalaykaوَعَلَىٰٓاور پرwaʿalāءَالِآلāliيَعْقُوبَیعقوب پرyaʿqūbaكَمَآجیسا کہkamāأَتَمَّهَااس نے پورا کیا اس کوatammahāعَلَىٰٓپرʿalāأَبَوَيْكَتیرے دو باپوں پرabawaykaمِنسےminقَبْلُاس (سے) پہلےqabluإِبْرَٰهِيمَابراہیم پرib'rāhīmaوَإِسْحَـٰقَ ۚاور اسحاقwa-is'ḥāqaإِنَّبیشکinnaرَبَّكَتیرا ربrabbakaعَلِيمٌعلم والاʿalīmunحَكِيمٌۭحکمت والا ہےḥakīmun٦
اور ایسا ہی ہو گا(جیسا تُو نے خواب میں دیکھا ہے کہ)تیرا ربّ تجھے (اپنے کام کے لیے)منتخب کرے گا1 اور تجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا2 اور تیرے اوپر اور آلِ یعقوب ؑ پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں ، ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ پر کر چکا ہے، یقیناً تیرا ربّ علیم اور حکیم ہے۔“3
۱۲:۷
۞ لَّقَدْالبتہ تحقیقlaqadكَانَہیںkānaفِىمیںfīيُوسُفَیوسفyūsufaوَإِخْوَتِهِۦٓاور اس کے بھائیوں میںwa-ikh'watihiءَايَـٰتٌۭنشانیاںāyātunلِّلسَّآئِلِينَسوال کرنے والوں کے لیےlilssāilīna٧
حقیقت یہ ہے کہ یوسفؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں اِن پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں
۱۲:۸
إِذْجبidhقَالُوا۟انہوں نے کہا تھاqālūلَيُوسُفُبلاشبہ یوسفlayūsufuوَأَخُوهُاور اس کا بھائیwa-akhūhuأَحَبُّزیادہ پیارے ہیں۔ محبوب ہیںaḥabbuإِلَىٰٓطرفilāأَبِينَاہمارے باپ کےabīnāمِنَّابہ نسبت ہمارےminnāوَنَحْنُحالانکہ ہمwanaḥnuعُصْبَةٌایک گروہ ہیں۔ جتھہ ہیںʿuṣ'batunإِنَّبیشکinnaأَبَانَاہمارے والدabānāلَفِىالبتہ میںlafīضَلَـٰلٍۢبھول میں ہیںḍalālinمُّبِينٍواضحmubīnin٨
یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہےکہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا”یہ یوسف ؑ اور اس کا بھائی،1 دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں، سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں۔2
۱۲:۹
ٱقْتُلُوا۟قتل کردوuq'tulūيُوسُفَیوسف کوyūsufaأَوِیاawiٱطْرَحُوهُپھینک دو اس کوiṭ'raḥūhuأَرْضًۭاکسی زمین میںarḍanيَخْلُخالی ہوجائے گاyakhluلَكُمْتمہارے لیےlakumوَجْهُچہرہwajhuأَبِيكُمْتمہارے باپ کاabīkumوَتَكُونُوا۟اور تم ہوجاناwatakūnūمِنۢکےminبَعْدِهِۦاس کام کے بعدbaʿdihiقَوْمًۭالوگqawmanصَـٰلِحِينَنیکṣāliḥīna٩
چلو یُوسف ؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے۔ یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا۔“1
۱۲:۱۰
قَالَکہاqālaقَآئِلٌۭایک کہنے والے نےqāilunمِّنْهُمْانہی میں سےmin'humلَامتlāتَقْتُلُوا۟قتل کروtaqtulūيُوسُفَیوسف کوyūsufaوَأَلْقُوهُبلکہ ڈال دو اس کوwa-alqūhuفِىمیںfīغَيَـٰبَتِاندھیرےghayābatiٱلْجُبِّکنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میںl-jubiيَلْتَقِطْهُاٹھا لے گا اس کوyaltaqiṭ'huبَعْضُکوئیbaʿḍuٱلسَّيَّارَةِقافلہl-sayāratiإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumفَـٰعِلِينَکرنے والےfāʿilīna١٠
اس پر ان میں سے ایک بولا "یوسفؑ کو قتل نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا"
۱۲:۱۱
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰٓأَبَانَااے ہمارے ابا جانyāabānāمَاکیا ہےmāلَكَآپ کوlakaلَانہیںlāتَأْمَ۫نَّاآپ بھروسہ کرتے ہمtamannāعَلَىٰپرʿalāيُوسُفَیوسف کے معاملے میںyūsufaوَإِنَّااور بیشک ہمwa-innāلَهُۥاس کے لیےlahuلَنَـٰصِحُونَیقینا خیرخواہ ہیںlanāṣiḥūna١١
اس قرارداد پر انہوں نے جا کر اپنے باپ سے کہا "ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسفؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں؟
۱۲:۱۲
أَرْسِلْهُبھیجئے اس کوarsil'huمَعَنَاہمارے ساتھmaʿanāغَدًۭاکلghadanيَرْتَعْوہ چرلے۔ کھالےyartaʿوَيَلْعَبْاور کھیلےwayalʿabوَإِنَّااور بیشک ہمwa-innāلَهُۥاس کے لیےlahuلَحَـٰفِظُونَالبتہ حفاظت کرنے والے ہیںlaḥāfiẓūna١٢
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، کچھ چَر چُگ لے گااور کھیل کُود سے بھی دِل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔“1
۱۲:۱۳
قَالَاس نے کہاqālaإِنِّىبیشک مجھےinnīلَيَحْزُنُنِىٓالبتہ غمگین کرتی ہے مجھ (یہ بات)layaḥzununīأَنکہanتَذْهَبُوا۟تم لے جاؤtadhhabūبِهِۦاس کوbihiوَأَخَافُاور میں ڈرتا ہوںwa-akhāfuأَنکہanيَأْكُلَهُکھاجائے گا اس کوyakulahuٱلذِّئْبُبھیڑیاl-dhi'buوَأَنتُمْاس حال میں کہ تمwa-antumعَنْهُاس سےʿanhuغَـٰفِلُونَغافل ہوghāfilūna١٣
باپ نے کہا "تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھا ئے جبکہ تم اس سے غافل ہو"
۱۲:۱۴
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūلَئِنْالبتہ اگرla-inأَكَلَهُتو کھا گیا اس کوakalahuٱلذِّئْبُبھیڑیاl-dhi'buوَنَحْنُجبکہ ہمwanaḥnuعُصْبَةٌایک گروہ ہیںʿuṣ'batunإِنَّآبیشک ہمinnāإِذًۭاتبidhanلَّخَـٰسِرُونَالبتہ خسارہ پانے والے ہیںlakhāsirūna١٤
انہوں نے جواب دیا "اگر ہمارے ہوتے اسے بھڑ یے نے کھا لیا، جبکہ ہم ایک جتھا ہیں، تب تو ہم بڑے ہی نکمے ہوں گے"
۱۲:۱۵
فَلَمَّاتو جبfalammāذَهَبُوا۟وہ لے گئےdhahabūبِهِۦاس کوbihiوَأَجْمَعُوٓا۟اور انہوں نے اتفاق طے کرلیاwa-ajmaʿūأَنکہanيَجْعَلُوهُڈالیں اس کوyajʿalūhuفِىمیںfīغَيَـٰبَتِاندھےghayābatiٱلْجُبِّ ۚکنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میںl-jubiوَأَوْحَيْنَآاور وحی کی ہم نےwa-awḥaynāإِلَيْهِاس کی طرفilayhiلَتُنَبِّئَنَّهُمالبتہ تو ضرور آگاہ کرے گا ان کوlatunabbi-annahumبِأَمْرِهِمْان کے کام کے بارے میںbi-amrihimهَـٰذَااسhādhāوَهُمْاور وہwahumلَانہlāيَشْعُرُونَشعور رکھتے ہوں گےyashʿurūna١٥
س طرح اسرار کر کے جب وہ اُسے لے گئےاور انہوں نے طے کر لیا کہ اسے ایک اندھے کنوئیں میں چھوڑ دیں، تو ہم نے یُوسف کو وحی کی کہ”ایک وقت آئے گا جب تُو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں۔“1
۱۲:۱۶
وَجَآءُوٓاور وہ آگئےwajāūأَبَاهُمْاپنے باپ کے پاسabāhumعِشَآءًۭعشاء کے وقتʿishāanيَبْكُونَروتے پیٹتےyabkūna١٦
شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے
۱۲:۱۷
قَالُوا۟کہنے لگےqālūيَـٰٓأَبَانَآاے ابا جانyāabānāإِنَّابیشک ہمinnāذَهَبْنَاہم چلے گئے تھےdhahabnāنَسْتَبِقُدوڑ لگانے کے لیےnastabiquوَتَرَكْنَااور ہم چھوڑ گئےwataraknāيُوسُفَیوسف کوyūsufaعِندَپاسʿindaمَتَـٰعِنَااپنے سامان کےmatāʿināفَأَكَلَهُپھر کھا گیا اس کوfa-akalahuٱلذِّئْبُ ۖبھیڑیاl-dhi'buوَمَآاور نہیںwamāأَنتَتوantaبِمُؤْمِنٍۢماننے والاbimu'mininلَّنَاہم کوlanāوَلَوْاور اگرچہwalawكُنَّاہوں ہمkunnāصَـٰدِقِينَسچ بولنے والےṣādiqīna١٧
اور کہا "ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اُسے کھا گیا آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں"
۱۲:۱۸
وَجَآءُواور وہ لائے تھےwajāūعَلَىٰپرʿalāقَمِيصِهِۦاس کی قمیصqamīṣihiبِدَمٍۢخونbidaminكَذِبٍۢ ۚجھوٹاkadhibinقَالَکہاqālaبَلْبلکہbalسَوَّلَتْآسان کردیاsawwalatلَكُمْتمہارے لیےlakumأَنفُسُكُمْتمہارے نفسوں نےanfusukumأَمْرًۭا ۖایک کام کوamranفَصَبْرٌۭتو صبر ہیfaṣabrunجَمِيلٌۭ ۖاچھا ہےjamīlunوَٱللَّهُاور اللہ ہی ہےwal-lahuٱلْمُسْتَعَانُجس سے مدد چاہی جاسکتی ہےl-mus'taʿānuعَلَىٰاس کے خلافʿalāمَاجوmāتَصِفُونَتم بیان کررہے ہوtaṣifūna١٨
اور و ہ یُوسف کی قمیص پر جھُوٹ مُوٹ کا خون لگا کر لے آئے تھے۔ یہ سُن کر اُن کے باپ نے کہا”بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا۔ اچھا، صبر کروں گااور بخوبی کروں گا،1 جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔“2
۱۲:۱۹
وَجَآءَتْاور آیاwajāatسَيَّارَةٌۭایک قافلہsayyāratunفَأَرْسَلُوا۟تو انہوں نے بھیجاfa-arsalūوَارِدَهُمْاپنا پانی پلانے والاwāridahumفَأَدْلَىٰتو اس نے ڈالاfa-adlāدَلْوَهُۥ ۖاپنا ڈولdalwahuقَالَبولاqālaيَـٰبُشْرَىٰواہ خوش خبریyābush'rāهَـٰذَایہhādhāغُلَـٰمٌۭ ۚتو ایک لڑکا ہےghulāmunوَأَسَرُّوهُاور انہوں نے چھپالیا اس کوwa-asarrūhuبِضَـٰعَةًۭ ۚسامان سمجھ کر۔ مال تجارت سمجھ کرbiḍāʿatanوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuعَلِيمٌۢعلم والا ہےʿalīmunبِمَاساتھ اس کے جوbimāيَعْمَلُونَوہ کررہے تھےyaʿmalūna١٩
ادھر ایک قافلہ آیا اور اُس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیجا سقے نے جو کنویں میں ڈول ڈالا تو (یوسفؑ کو دیکھ کر) پکار اٹھا "مبارک ہو، یہاں تو ایک لڑکا ہے" ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا، حالانکہ جو کچھ وہ کر رہے تھے خدا اس سے باخبر تھا
۱۲:۲۰
وَشَرَوْهُاور انہوں نے بیچ ڈالا اس کوwasharawhuبِثَمَنٍۭقیمت پرbithamaninبَخْسٍۢکمbakhsinدَرَٰهِمَدرہموں میںdarāhimaمَعْدُودَةٍۢگنے چنےmaʿdūdatinوَكَانُوا۟اور وہ تھےwakānūفِيهِاس کے بارے میںfīhiمِنَسےminaٱلزَّٰهِدِينَبےرغبت لوگوں میں سےl-zāhidīna٢٠
آخرِ کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا1 اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے اُمیدوار نہ تھے
۱۲:۲۱
وَقَالَاور کہاwaqālaٱلَّذِىاس شخص نےalladhīٱشْتَرَىٰهُجس نے خریدا تھا اس کوish'tarāhuمِنسےminمِّصْرَمصر سےmiṣ'raلِٱمْرَأَتِهِۦٓاپنی بیوی کوli-im'ra-atihiأَكْرِمِىباعزت رکھ۔ عزت کے ساتھ دےakrimīمَثْوَىٰهُٹھکانہ اس کوmathwāhuعَسَىٰٓامید ہےʿasāأَنکہanيَنفَعَنَآنفع دے گا ہم کوyanfaʿanāأَوْیاawنَتَّخِذَهُۥہم بنالیں گے اس کوnattakhidhahuوَلَدًۭا ۚبیٹاwaladanوَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaمَكَّنَّاٹھکانہ دیا ہم نےmakkannāلِيُوسُفَیوسف کوliyūsufaفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمین میںl-arḍiوَلِنُعَلِّمَهُۥاور تاکہ ہم سکھائیں اس کوwalinuʿallimahuمِنسےminتَأْوِيلِمطلب مٰیں سےtawīliٱلْأَحَادِيثِ ۚباتوں کے (مطلب مٰیں سے)l-aḥādīthiوَٱللَّهُاور اللہ تعالیٰwal-lahuغَالِبٌغالب ہےghālibunعَلَىٰٓمیں۔ پرʿalāأَمْرِهِۦاپنے فیصلے (میں) اپنے کام پرamrihiوَلَـٰكِنَّاور لیکنwalākinnaأَكْثَرَاکثرaktharaٱلنَّاسِلوگl-nāsiلَانہیںlāيَعْلَمُونَعلم رکھتےyaʿlamūna٢١
مصر میں جس شخص نے اسے خریدا1 اُس نے اپنی بیوی2 سے کہا ”اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔“3 اس طرح ہم نے یُوسف کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صُورت نکالی اور اُسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔ 4اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
۱۲:۲۲
وَلَمَّااور جبwalammāبَلَغَوہ پہنچاbalaghaأَشُدَّهُۥٓاپنی جوانی کوashuddahuءَاتَيْنَـٰهُدی ہم نے اس کوātaynāhuحُكْمًۭاقوت فیصلہḥuk'manوَعِلْمًۭا ۚاور علمwaʿil'manوَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaنَجْزِىہم جزا دیتے ہیںnajzīٱلْمُحْسِنِينَاحسان کرنے والوں کوl-muḥ'sinīna٢٢
اور جب وہ اپنی پُوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اُسے قوتِ فیصلہ اور علم عطا کیا،1 اِس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں
۱۲:۲۳
وَرَٰوَدَتْهُاور پھسلانا چاہا اس کوwarāwadathuٱلَّتِىاس عورت نےallatīهُوَوہhuwaفِىمیںfīبَيْتِهَاجس کے گھر میں تھےbaytihāعَنسےʿanنَّفْسِهِۦاس کے نفس سےnafsihiوَغَلَّقَتِاور بند کرلیےwaghallaqatiٱلْأَبْوَٰبَدروازےl-abwābaوَقَالَتْاور بولیwaqālatهَيْتَآجاؤhaytaلَكَ ۚتمlakaقَالَبولےqālaمَعَاذَپناہmaʿādhaٱللَّهِ ۖاللہ کیl-lahiإِنَّهُۥبیشک وہinnahuرَبِّىٓمیرا رب ہےrabbīأَحْسَنَجس نے اچھا دیاaḥsanaمَثْوَاىَ ۖمجھے ٹھکانہmathwāyaإِنَّهُۥبیشک وہinnahuلَانہیںlāيُفْلِحُفلاح پاتےyuf'liḥuٱلظَّـٰلِمُونَوہ جو ظالم ہیںl-ẓālimūna٢٣
جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اُس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کر کے بولی”آجا۔“ یُوسف نے کہا”خدا کی پناہ، میرے ربّ نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی(اور میں یہ کام کروں!)ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔“1
۱۲:۲۴
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadهَمَّتْاس عورت نے ارادہ کیاhammatبِهِۦ ۖاس کاbihiوَهَمَّاور وہ بھی ارادہ کرلیتاwahammaبِهَااس کاbihāلَوْلَآاگر نہlawlāأَنکہanرَّءَاوہ دیکھ لیتاraāبُرْهَـٰنَبرہانbur'hānaرَبِّهِۦ ۚاپنے رب کیrabbihiكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaلِنَصْرِفَتاکہ ہم پھیر دیںlinaṣrifaعَنْهُاس سےʿanhuٱلسُّوٓءَبرائی کوl-sūaوَٱلْفَحْشَآءَ ۚاور بےحیائی کوwal-faḥshāaإِنَّهُۥکیونکہ وہinnahuمِنْسےminعِبَادِنَاہمارے بندوں میں (سے) تھاʿibādināٱلْمُخْلَصِينَچنے ہوئےl-mukh'laṣīna٢٤
وہ اُس کی طرف بڑھی اور یُوسف بھی اُس کی طرف بڑھتا اگر اپنے ربّ کی بُرہان نہ دیکھ لیتا۔1 ایسا ہُوا، تاکہ ہم اُس سے بدی اور بے حیائی کو دُور کر دیں،2 در حقیقت وہ ہمارے چُنے ہوئے بندوں میں سے تھا
۱۲:۲۵
وَٱسْتَبَقَااور وہ دونوں بڑھےwa-is'tabaqāٱلْبَابَدروازے کی طرفl-bābaوَقَدَّتْاور اس عورت نے پھاڑ دیاwaqaddatقَمِيصَهُۥاس کا قمیصqamīṣahuمِنسےminدُبُرٍۢپچھلی طرف سےduburinوَأَلْفَيَااور دونوں نے پایاwa-alfayāسَيِّدَهَااس کے شوہر کوsayyidahāلَدَاپاسladāٱلْبَابِ ۚدروازے کے (پاس)l-bābiقَالَتْبول اٹھیqālatمَاکیاmāجَزَآءُبدلہ ہوسکتا ہےjazāuمَنْجوmanأَرَادَارادہ کرےarādaبِأَهْلِكَتیری گھروالی کے ساتھbi-ahlikaسُوٓءًابرائی کاsūanإِلَّآمگرillāأَنیہ کہanيُسْجَنَقید کیا جائےyus'janaأَوْیاawعَذَابٌسزا دیا جائےʿadhābunأَلِيمٌۭدردناکalīmun٢٥
آخر کار یوسفؑ اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسفؑ کا قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دیا دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی، "کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے؟ اِس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے"
۱۲:۲۶
قَالَاس نے کہاqālaهِىَیہhiyaرَٰوَدَتْنِىپھسلانا چاہتی تھی تجھ کوrāwadatnīعَنسےʿanنَّفْسِى ۚمیرے نفسnafsīوَشَهِدَاور گواہی دیwashahidaشَاهِدٌۭایک گواہ نےshāhidunمِّنْسےminأَهْلِهَآاس کے گھروالوں میں سےahlihāإِناگرinكَانَہےkānaقَمِيصُهُۥاس کی قمیصqamīṣuhuقُدَّپھاڑی گئیquddaمِنسےminقُبُلٍۢسامنے سےqubulinفَصَدَقَتْتو یہ سچی ہےfaṣadaqatوَهُوَاور وہwahuwaمِنَسےminaٱلْكَـٰذِبِينَجھوٹوں میں سے ہےl-kādhibīna٢٦
یُوسُف ؑ نے کہا”یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی۔“ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے(قرینے کی)شہادت پیش کی1 کہ ”اگر یُوسُف ؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھُوٹا
۱۲:۲۷
وَإِناور اگرwa-inكَانَہےkānaقَمِيصُهُۥاس کی قمیصqamīṣuhuقُدَّپھاڑی گئیquddaمِنسےminدُبُرٍۢپچھلی طرفduburinفَكَذَبَتْتو وہ جھوٹی ہےfakadhabatوَهُوَاور وہwahuwaمِنَسےminaٱلصَّـٰدِقِينَسچوں میں سے ہےl-ṣādiqīna٢٧
اور اگر اِس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھُوٹی ہے اور یہ سچا۔“1
۱۲:۲۸
فَلَمَّاتو جبfalammāرَءَااس نے دیکھاraāقَمِيصَهُۥاس کی قمیص کوqamīṣahuقُدَّپھاڑ دی گئی ہےquddaمِنسےminدُبُرٍۢپچھلی طرف سےduburinقَالَکہا۔ بولاqālaإِنَّهُۥبیشک وہinnahuمِنسےminكَيْدِكُنَّ ۖتم عورتوں کی چال میں سے ہےkaydikunnaإِنَّبیشکinnaكَيْدَكُنَّتم عورتوں کی چالیںkaydakunnaعَظِيمٌۭبہت بڑی ہوتی ہیںʿaẓīmun٢٨
جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا "یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑ ے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں
۱۲:۲۹
يُوسُفُیوسفyūsufuأَعْرِضْدرگزر کروaʿriḍعَنْسےʿanهَـٰذَا ۚاس (سے)hādhāوَٱسْتَغْفِرِىاور بخشش مانگwa-is'taghfirīلِذَنۢبِكِ ۖاے عورت اپنے گناہ کیlidhanbikiإِنَّكِکیونکہ توinnakiكُنتِہی ہے توkuntiمِنَسےminaٱلْخَاطِـِٔينَخطا کاروں میں سےl-khāṭiīna٢٩
یُوسُف، اس معاملے سے درگزر کر، اور اے عورت، تُو اپنے قصُور کی معافی مانگ، تُو ہی اصل میں خطا کار تھی۔“1
۱۲:۳۰
۞ وَقَالَاور کہاwaqālaنِسْوَةٌۭعورتوں نےnis'watunفِىمیںfīٱلْمَدِينَةِشہرl-madīnatiٱمْرَأَتُبیوی۔ عورتim'ra-atuٱلْعَزِيزِعزیز کیl-ʿazīziتُرَٰوِدُاکساتی ہے۔ پھسلاتی ہےturāwiduفَتَىٰهَااس کوfatāhāعَنسےʿanنَّفْسِهِۦ ۖاس کے نفس سےnafsihiقَدْتحقیقqadشَغَفَهَابےقابو کررکھا ہے اس کوshaghafahāحُبًّا ۖمحبت نےḥubbanإِنَّابیشک ہمinnāلَنَرَىٰهَاالبتہ ہم دیکھتے ہیں اس کوlanarāhāفِىمیںfīضَلَـٰلٍۢگمراہیḍalālinمُّبِينٍۢکھلیmubīnin٣٠
شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ "عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کر رکھا ہے، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے"
۱۲:۳۱
فَلَمَّاتو جبfalammāسَمِعَتْاس نے سناsamiʿatبِمَكْرِهِنَّان عورتوں کے مکر کوbimakrihinnaأَرْسَلَتْاس نے بھیجاarsalatإِلَيْهِنَّان کی طرف (بلا بھیجنا ان کو)ilayhinnaوَأَعْتَدَتْاور تیار کیںwa-aʿtadatلَهُنَّان کے لیےlahunnaمُتَّكَـًۭٔاتکیہ لگانے کی جگہ (مجلس)muttaka-anوَءَاتَتْاور دیwaātatكُلَّہرkullaوَٰحِدَةٍۢایک عورت کوwāḥidatinمِّنْهُنَّان میں سےmin'hunnaسِكِّينًۭاایک چھریsikkīnanوَقَالَتِاور کہنے لگیwaqālatiٱخْرُجْنکل آukh'rujعَلَيْهِنَّ ۖان پرʿalayhinnaفَلَمَّاتو جبfalammāرَأَيْنَهُۥٓان عورتوں نے دیکھا اس کوra-aynahuأَكْبَرْنَهُۥبڑا سمجھا اس کو۔ مرعوب ہوگئیں اس سےakbarnahuوَقَطَّعْنَاور کاٹ بیٹھیںwaqaṭṭaʿnaأَيْدِيَهُنَّاپنے ہاتھaydiyahunnaوَقُلْنَاور کہنے لگیںwaqul'naحَـٰشَحاش۔پاکیḥāshaلِلَّهِللہ۔ پاکی ہے اللہ کے لیےlillahiمَانہیںmāهَـٰذَاہے یہhādhāبَشَرًاایک انسانbasharanإِنْنہیںinهَـٰذَآیہhādhāإِلَّامگرillāمَلَكٌۭایک فرشتہmalakunكَرِيمٌۭمعززkarīmun٣١
اس نے جو اُن کی یہ مکّارانہ باتیں سُنیں تو اُن کو بُلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی1 اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک ایک چھُری رکھ دی۔ (پھر عین اُس وقت جب کہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں)اس نے یُوسُف کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ۔ جب ان عورتوں کی نگاہ اُس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پُکار اُٹھیں”حاشالِلّٰہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔“
۱۲:۳۲
قَالَتْوہ کہنے لگیqālatفَذَٰلِكُنَّتو یہ ہےfadhālikunnaٱلَّذِىوہ شخصalladhīلُمْتُنَّنِىتم ملامت کرتی تھیں مجھ کوlum'tunnanīفِيهِ ۖاس کے بارے میںfīhiوَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadرَٰوَدتُّهُۥمیں نے پھسلانا چاہا اس کوrāwadttuhuعَنسےʿanنَّفْسِهِۦاس کے نفس سےnafsihiفَٱسْتَعْصَمَ ۖتو بچا گیا۔ بچ نکلاfa-is'taʿṣamaوَلَئِناور البتہ اگرwala-inلَّمْنہlamيَفْعَلْکرےyafʿalمَآجوmāءَامُرُهُۥمیں حکم دیتی ہوں اس کوāmuruhuلَيُسْجَنَنَّالبتہ ضرور قید کیا جائے گاlayus'janannaوَلَيَكُونًۭااور البتہ ہوجائے گاwalayakūnanمِّنَسےminaٱلصَّـٰغِرِينَذلیل ہونے والوں میں سےl-ṣāghirīna٣٢
عزیز کی بیوی نے کہا”دیکھ لیا! یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں۔ بےشک میں نے اِسے رجہانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نِکلا۔ اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔“1
۱۲:۳۳
قَالَاس نے کہاqālaرَبِّاے میرے ربrabbiٱلسِّجْنُقیدخانہl-sij'nuأَحَبُّزیادہ پیارا ہےaḥabbuإِلَىَّمیری طرفilayyaمِمَّااس سے جوmimmāيَدْعُونَنِىٓوہ بلاتی ہیں مجھ کوyadʿūnanīإِلَيْهِ ۖاس کی طرفilayhiوَإِلَّااور اگر نہیںwa-illāتَصْرِفْتو پھیرے گاtaṣrifعَنِّىمجھ سےʿannīكَيْدَهُنَّان عورتوں کی چال کوkaydahunnaأَصْبُمیں مائل ہوجاؤں گاaṣbuإِلَيْهِنَّان کی طرفilayhinnaوَأَكُناور میں ہوجاؤں گاwa-akunمِّنَسےminaٱلْجَـٰهِلِينَجاہلوں میں سےl-jāhilīna٣٣
یُوسُف ؑ نے کہا ”اے میرے ربّ! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں۔ اور اگر تُو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاوٴں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں 1گا“
۱۲:۳۴
فَٱسْتَجَابَتو دعا قبول کرلیfa-is'tajābaلَهُۥاس کے لیےlahuرَبُّهُۥاس کے رب نےrabbuhuفَصَرَفَتو دور کردیں۔ پھیر دیںfaṣarafaعَنْهُاس سےʿanhuكَيْدَهُنَّ ۚان عورتوں کی چالkaydahunnaإِنَّهُۥبیشک وہinnahuهُوَوہhuwaٱلسَّمِيعُسننے والا ہےl-samīʿuٱلْعَلِيمُجاننے والا ہےl-ʿalīmu٣٤
اس کے ربّ نے اس کی دُعا قبول کی اور اُن عورتوں کی چالیں اس سے دفع کر دیں،1 بے شک وہی ہے جو سب کی سُنتااور سب کچھ جانتا ہے
۱۲:۳۵
ثُمَّپھرthummaبَدَاظاہر ہوگیاbadāلَهُمان کے لیےlahumمِّنۢکےminبَعْدِاس کے بعدbaʿdiمَاجوmāرَأَوُا۟انہوں نے دیکھیںra-awūٱلْـَٔايَـٰتِنشانیاںl-āyātiلَيَسْجُنُنَّهُۥالبتہ ضرور قید کردیں گے اس کوlayasjununnahuحَتَّىٰتکḥattāحِينٍۢایک وقتḥīnin٣٥
پھر ان لوگوں کو یہ سُوجھی کہ ایک مُدّت کے لیے اسے قید کر دیں حالانکہ وہ (اس کی پاکدامنی اور خود اپنی عورتوں کے بُرے اطوار کی)صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے۔1
۱۲:۳۶
وَدَخَلَاور داخل ہوئےwadakhalaمَعَهُاس کے ساتھmaʿahuٱلسِّجْنَقید خانہ میںl-sij'naفَتَيَانِ ۖدو غلامfatayāniقَالَکہاqālaأَحَدُهُمَآان دونوں میں سے ایک نےaḥaduhumāإِنِّىٓبیشک میںinnīأَرَىٰنِىٓمیں دیکھتا ہوں خود کوarānīأَعْصِرُمیں نچوڑ رہا ہوںaʿṣiruخَمْرًۭا ۖشرابkhamranوَقَالَاور کہاwaqālaٱلْـَٔاخَرُدوسرے نےl-ākharuإِنِّىٓبیشک میںinnīأَرَىٰنِىٓدیکھتا ہوں خود کوarānīأَحْمِلُکہ میں اٹھائے ہوئے ہوںaḥmiluفَوْقَاوپرfawqaرَأْسِىاپنے سر کےrasīخُبْزًۭاروٹیkhub'zanتَأْكُلُکھاتے ہیںtakuluٱلطَّيْرُپرندےl-ṭayruمِنْهُ ۖاس میں سےmin'huنَبِّئْنَابتاؤ ہم کوnabbi'nāبِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖاس کی تعبیر۔ مطلبbitawīlihiإِنَّابیشک ہمinnāنَرَىٰكَہم دیکھتے ہیں تجھ کوnarākaمِنَسےminaٱلْمُحْسِنِينَمحسنین میں سےl-muḥ'sinīna٣٦
قید خانہ میں1 دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے۔2 ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشِید کر رہا ہوں۔“ دُوسرے نے کہا”میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں۔“ دونوں نے کہا ”ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔“3
۱۲:۳۷
قَالَاس نے کہاqālaلَانہیںlāيَأْتِيكُمَاآئے گا تم دونوں کے پاسyatīkumāطَعَامٌۭکھاناṭaʿāmunتُرْزَقَانِهِۦٓتم کھلائے جاتے ہو اس کوtur'zaqānihiإِلَّامگرillāنَبَّأْتُكُمَامیں بتادوں گا تم دونوں کوnabbatukumāبِتَأْوِيلِهِۦاس کی تعبیرbitawīlihiقَبْلَاس سے پہلےqablaأَنکہanيَأْتِيَكُمَا ۚوہ آئے تم دونوں کے پاسyatiyakumāذَٰلِكُمَایہdhālikumāمِمَّااس میں سے ہے جوmimmāعَلَّمَنِىسکھایا مجھ کوʿallamanīرَبِّىٓ ۚمیرے رب نےrabbīإِنِّىبیشک میںinnīتَرَكْتُمیں نے چھوڑ دیاtaraktuمِلَّةَملت کوmillataقَوْمٍۢایک قوم کیqawminلَّانہیںlāيُؤْمِنُونَجو ایمان رکھتیyu'minūnaبِٱللَّهِاللہ پرbil-lahiوَهُماور وہwahumبِٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کے ساتھbil-ākhiratiهُمْوہhumكَـٰفِرُونَانکاری ہیںkāfirūna٣٧
یوسفؑ نے کہا: "یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں اِن خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا یہ علم اُن علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیے ہیں واقعہ یہ ہے کہ میں نے اُن لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں
۱۲:۳۸
وَٱتَّبَعْتُاور میں نے پیروی کیwa-ittabaʿtuمِلَّةَملت کیmillataءَابَآءِىٓاپنے آباء کیābāīإِبْرَٰهِيمَابراہیمib'rāhīmaوَإِسْحَـٰقَاور اسحاقwa-is'ḥāqaوَيَعْقُوبَ ۚاور یعقوبwayaʿqūbaمَانہیںmāكَانَہےkānaلَنَآہمارے لیےlanāأَنکہanنُّشْرِكَہم شریک ٹھہرائیںnush'rikaبِٱللَّهِساتھ اللہ کےbil-lahiمِنکسیminشَىْءٍۢ ۚچیز کوshayinذَٰلِكَیہdhālikaمِنکےminفَضْلِفضل میں سے ہےfaḍliٱللَّهِاللہ کےl-lahiعَلَيْنَاہم پرʿalaynāوَعَلَىاور پرwaʿalāٱلنَّاسِلوگوںl-nāsiوَلَـٰكِنَّاور لیکنwalākinnaأَكْثَرَاکثرaktharaٱلنَّاسِلوگl-nāsiلَانہیںlāيَشْكُرُونَشکرادا کرتےyashkurūna٣٨
اپنے بزرگوں، ابراہیمؑ، اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا طریقہ اختیار کیا ہے ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائیں در حقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
۱۲:۳۹
يَـٰصَـٰحِبَىِاے میرے دو ساتھیوyāṣāḥibayiٱلسِّجْنِقیدخانے کےl-sij'niءَأَرْبَابٌۭکیا بہت سے ربa-arbābunمُّتَفَرِّقُونَمختلف قسم کےmutafarriqūnaخَيْرٌبہتر ہیںkhayrunأَمِیاamiٱللَّهُاللہl-lahuٱلْوَٰحِدُجو ایک ہےl-wāḥiduٱلْقَهَّارُزبردست ہےl-qahāru٣٩
اے زنداں کے ساتھیو، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب غالب ہے؟
۱۲:۴۰
مَانہیںmāتَعْبُدُونَتم عبادت کرتےtaʿbudūnaمِنکےminدُونِهِۦٓاس کے سواdūnihiإِلَّآمگرillāأَسْمَآءًۭکچھ ناموں کیasmāanسَمَّيْتُمُوهَآنام رکھ لیے تم نے ان کےsammaytumūhāأَنتُمْتم نےantumوَءَابَآؤُكُماور تمہارے آباؤ اجداد نےwaābāukumمَّآنہیںmāأَنزَلَاتاریanzalaٱللَّهُاللہ نےl-lahuبِهَاان کے ساتھbihāمِنکوئیminسُلْطَـٰنٍ ۚدلیلsul'ṭāninإِنِنہیںiniٱلْحُكْمُفیصلہ۔ حکمl-ḥuk'muإِلَّامگرillāلِلَّهِ ۚاللہ ہی کے لیےlillahiأَمَرَاس نے حکم دیاamaraأَلَّاکہ نہallāتَعْبُدُوٓا۟تم عبادت کروtaʿbudūإِلَّآمگرillāإِيَّاهُ ۚصرف اسی کیiyyāhuذَٰلِكَیہdhālikaٱلدِّينُدین ہےl-dīnuٱلْقَيِّمُدرستl-qayimuوَلَـٰكِنَّلیکنwalākinnaأَكْثَرَاکثرaktharaٱلنَّاسِلوگl-nāsiلَانہیںlāيَعْلَمُونَجانتے ہیںyaʿlamūna٤٠
اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
۱۲:۴۱
يَـٰصَـٰحِبَىِاے زنداں کے دونوں ساتھیو !yāṣāḥibayiٱلسِّجْنِقیدخانہ کےl-sij'niأَمَّآرہاammāأَحَدُكُمَاتم دونوں میں سے ایکaḥadukumāفَيَسْقِىپس وہ پلائے گاfayasqīرَبَّهُۥاپنے رب کوrabbahuخَمْرًۭا ۖشرابkhamranوَأَمَّااور لیکنwa-ammāٱلْـَٔاخَرُدوسراl-ākharuفَيُصْلَبُپس وہ سولی چڑھایا جائے گاfayuṣ'labuفَتَأْكُلُتو کھائیں گےfatakuluٱلطَّيْرُپرندےl-ṭayruمِنسےminرَّأْسِهِۦ ۚاس کے سر میں سےrasihiقُضِىَفیصلہ کردیا گیاquḍiyaٱلْأَمْرُمعاملے کاl-amruٱلَّذِىوہ جوalladhīفِيهِجس میںfīhiتَسْتَفْتِيَانِتم دونوں جواب مانگتے ہوtastaftiyāni٤١
اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے ربّ (شاہِ مصر)کو شراب پلائے گا، رہا دُوسرا تو اسے سُولی پر چڑھایا جائے گا اورپرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ فیصلہ ہوگیا اُس بات کا جو تم پُوچھ رہے تھے۔“
۱۲:۴۲
وَقَالَاور کہاwaqālaلِلَّذِىاس کے لیے۔ اس کوlilladhīظَنَّکہ اس نے گمان کیا تھاẓannaأَنَّهُۥکہ بیشک وہannahuنَاجٍۢنجات پانے والا ہےnājinمِّنْهُمَاان دونوں میں سےmin'humāٱذْكُرْنِىذکر کرنا میراudh'kur'nīعِندَپاسʿindaرَبِّكَاپنے آقا کےrabbikaفَأَنسَىٰهُتو بھلا دیا اس کوfa-ansāhuٱلشَّيْطَـٰنُشیطان نےl-shayṭānuذِكْرَذکر کرناdhik'raرَبِّهِۦاپنے آقا کوrabbihiفَلَبِثَتو ٹھہرا رہاfalabithaفِىمیںfīٱلسِّجْنِقید خانےl-sij'niبِضْعَچندbiḍ'ʿaسِنِينَسالsinīna٤٢
پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھاکہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یُوسُف ؑ نے کہا کہ ”اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے میرا ذکر کرنا۔“ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے اس کا ذکر کرنا بھُول گیا اور یُوسُف ؑ کئی سال قیدخانے میں پڑا رہا۔1
۱۲:۴۳
وَقَالَاور کہاwaqālaٱلْمَلِكُبادشاہ نےl-malikuإِنِّىٓبیشک میںinnīأَرَىٰمیں دیکھتا ہوںarāسَبْعَساتsabʿaبَقَرَٰتٍۢگائیںbaqarātinسِمَانٍۢموٹیsimāninيَأْكُلُهُنَّکھا رہی ہیں ان کوyakuluhunnaسَبْعٌساتsabʿunعِجَافٌۭپتلیʿijāfunوَسَبْعَاور ساتwasabʿaسُنۢبُلَـٰتٍبالیاںsunbulātinخُضْرٍۢسرسبزkhuḍ'rinوَأُخَرَاور دوسریwa-ukharaيَابِسَـٰتٍۢ ۖخشکyābisātinيَـٰٓأَيُّهَااے اہلyāayyuhāٱلْمَلَأُدربارl-mala-uأَفْتُونِىجواب دو مجھ کو میرےaftūnīفِىمیںfīرُءْيَـٰىَخواب کے بارے میںru'yāyaإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumلِلرُّءْيَاخواب کے لیےlilrru'yāتَعْبُرُونَتعبیر کرتےtaʿburūna٤٣
ایک روز1 بادشاہ نے کہا ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں،اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دُوسری سات سُوکھی۔ اے اہلِ دربار، مجھے اس خواب کی تعبیر بتاوٴ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو۔“2
۱۲:۴۴
قَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūأَضْغَـٰثُگڑ بڑ۔ پراگندہaḍghāthuأَحْلَـٰمٍۢ ۖخواب ہیںaḥlāminوَمَااور نہیںwamāنَحْنُہمnaḥnuبِتَأْوِيلِتعبیر کوbitawīliٱلْأَحْلَـٰمِخوابوں کیl-aḥlāmiبِعَـٰلِمِينَجاننے والےbiʿālimīna٤٤
لوگوں نے کہا "یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے"
۱۲:۴۵
وَقَالَاور کہاwaqālaٱلَّذِىاس شخص نےalladhīنَجَاجو نجات پا گیا تھاnajāمِنْهُمَاان دونوں میں سےmin'humāوَٱدَّكَرَاور اس نے یاد کیاwa-iddakaraبَعْدَبعدbaʿdaأُمَّةٍایک مدت کےummatinأَنَا۠میںanāأُنَبِّئُكُمبتاتا ہوں تم کوunabbi-ukumبِتَأْوِيلِهِۦاس کی تعبیرbitawīlihiفَأَرْسِلُونِپس بھیجو مجھ کوfa-arsilūni٤٥
اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اُسے ایک مُدّتِ دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اُس نے کہا”میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یُوسُف ؑ کے پاس)بھیج دیجیے۔1“
۱۲:۴۶
يُوسُفُیوسفyūsufuأَيُّهَااےayyuhāٱلصِّدِّيقُسراپا سچائیl-ṣidīquأَفْتِنَاجواب دو ہم کوaftināفِىمیںfīسَبْعِساتsabʿiبَقَرَٰتٍۢگائیوں کے بارے (میں)baqarātinسِمَانٍۢموٹیsimāninيَأْكُلُهُنَّکھا رہی ہیں ان کوyakuluhunnaسَبْعٌساتsabʿunعِجَافٌۭدبلیʿijāfunوَسَبْعِاور ساتwasabʿiسُنۢبُلَـٰتٍبالیاںsunbulātinخُضْرٍۢسرسبزkhuḍ'rinوَأُخَرَاور دوسریwa-ukharaيَابِسَـٰتٍۢخشکyābisātinلَّعَلِّىٓتاکہ میںlaʿallīأَرْجِعُلوٹوںarjiʿuإِلَىطرفilāٱلنَّاسِلوگوں کیl-nāsiلَعَلَّهُمْشاید کہ وہlaʿallahumيَعْلَمُونَجان لیںyaʿlamūna٤٦
اُس نے جا کر کہا”یُوسُف ؑ، اے سراپا راستی،1 مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی۔ شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس واپس جاوٴں اور شاید کہ وہ جان لیں۔“2
۱۲:۴۷
قَالَاس نے کہاqālaتَزْرَعُونَتم اگاؤ گے۔ کھیتی باڑی کرو گےtazraʿūnaسَبْعَساتsabʿaسِنِينَسالsinīnaدَأَبًۭامتواترda-abanفَمَاتو جوfamāحَصَدتُّمْتم کاٹو گےḥaṣadttumفَذَرُوهُتو چھوڑ دینا اس کوfadharūhuفِىمیںfīسُنۢبُلِهِۦٓاس کی بالی (میں)sunbulihiإِلَّامگرillāقَلِيلًۭاتھوڑاqalīlanمِّمَّااس میں سے جوmimmāتَأْكُلُونَتم کھاتے ہوtakulūna٤٧
یوسفؑ نے کہا "سات بر س تک لگاتار تم لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا ساحصہ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو
۱۲:۴۸
ثُمَّپھرthummaيَأْتِىآئیں گےyatīمِنۢکےminبَعْدِبعدbaʿdiذَٰلِكَاس کےdhālikaسَبْعٌۭساتsabʿunشِدَادٌۭسخت سالshidādunيَأْكُلْنَکھا جائیں گےyakul'naمَاجوmāقَدَّمْتُمْپیش کرو گے تمqaddamtumلَهُنَّان کے لیےlahunnaإِلَّامگرillāقَلِيلًۭاتھوڑےqalīlanمِّمَّااس میں سے جوmimmāتُحْصِنُونَتم روک رکھو گےtuḥ'ṣinūna٤٨
پھر سات برس بہت سخت آئیں گے اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو
۱۲:۴۹
ثُمَّپھرthummaيَأْتِىآئے گاyatīمِنۢکےminبَعْدِبعدbaʿdiذَٰلِكَاس کےdhālikaعَامٌۭایک سالʿāmunفِيهِجس میںfīhiيُغَاثُفریاد رسی کی جائے گیyughāthuٱلنَّاسُلوگوں کیl-nāsuوَفِيهِاور اس میںwafīhiيَعْصِرُونَوہ رس نچوڑیں گےyaʿṣirūna٤٩
اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں بارانِ رحمت سے لوگوں کو فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے۔“
۱۲:۵۰
وَقَالَاور کہاwaqālaٱلْمَلِكُبادشاہ نےl-malikuٱئْتُونِىمیرے پاس لے آؤi'tūnīبِهِۦ ۖاس کوbihiفَلَمَّاتو جبfalammāجَآءَهُآیا اس کے پاسjāahuٱلرَّسُولُایلچی۔ پیغام لانے والاl-rasūluقَالَ(یوسف نے) کہاqālaٱرْجِعْواپس جاؤir'jiʿإِلَىٰپاسilāرَبِّكَاپنے آقا کےrabbikaفَسْـَٔلْهُپھر اس سے پوچھوfasalhuمَاکیاmāبَالُحال ہےbāluٱلنِّسْوَةِعورتوں کاl-nis'watiٱلَّـٰتِىجنہوں نےallātīقَطَّعْنَکاٹ دیے تھےqaṭṭaʿnaأَيْدِيَهُنَّ ۚاپنے ہاتھaydiyahunnaإِنَّبے شکinnaرَبِّىمیرا ربrabbīبِكَيْدِهِنَّان کی چال سےbikaydihinnaعَلِيمٌۭواقف ہےʿalīmun٥٠
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاوٴ۔ مگر جب شاہی فرستادہ یوُسف ؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا”1 اپنے ربّ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا یا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا ربّ تو ان کی مکّاری سے واقف ہی ہے۔“2
۱۲:۵۱
قَالَکہا (بادشاہ نے (qālaمَاکیاmāخَطْبُكُنَّمعاملہ ہے تمہاراkhaṭbukunnaإِذْجبidhرَٰوَدتُّنَّتم سب نے پھسلانا چاہا تھاrāwadttunnaيُوسُفَیوسف کوyūsufaعَنسےʿanنَّفْسِهِۦ ۚاس کے نفس سےnafsihiقُلْنَکہنے لگیںqul'naحَـٰشَحاش۔پاکیḥāshaلِلَّهِاللہ۔ پاکی اللہ کے لیے ہےlillahiمَانہیںmāعَلِمْنَاجانا ہم نےʿalim'nāعَلَيْهِاس پرʿalayhiمِنکسیminسُوٓءٍۢ ۚبرائی کوsūinقَالَتِکہنے لگیqālatiٱمْرَأَتُبیویim'ra-atuٱلْعَزِيزِعزیز کیl-ʿazīziٱلْـَٔـٰنَابl-ānaحَصْحَصَواضح ہوگیاḥaṣḥaṣaٱلْحَقُّحقl-ḥaquأَنَا۠میں نےanāرَٰوَدتُّهُۥپھسلانا چاہا تھا اس کوrāwadttuhuعَنسےʿanنَّفْسِهِۦاس کے نفس سےnafsihiوَإِنَّهُۥاور بیشک وہwa-innahuلَمِنَالبتہlaminaٱلصَّـٰدِقِينَسچوں میں سے ہےl-ṣādiqīna٥١
اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت 1کیا”تمہارا کیا تجربہ ہے اُس وقت کا جب تم نے یُوسُف ؑ کو رِجہانے کی کوشش کی تھی؟“ سب نے یک زبان ہو کر کہا”حاشا لِلّٰہ، ہم نے تو اُس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا۔“ عزیز کی بیوی بول اُٹھی”اب حق کُھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پُھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے۔“2
۱۲:۵۲
ذَٰلِكَیہdhālikaلِيَعْلَمَتاکہ وہ جان لےliyaʿlamaأَنِّىبیشک میںannīلَمْنہیںlamأَخُنْهُمیں نے خیانت کی اس کیakhun'huبِٱلْغَيْبِغائبانہ طور پرbil-ghaybiوَأَنَّاور بیشکwa-annaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaلَانہیںlāيَهْدِىرہنمائی کرتاyahdīكَيْدَچال کوkaydaٱلْخَآئِنِينَخیانت کاروں کیl-khāinīna٥٢
(یُوسُف ؑ نے 1کہا)”اِس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز)یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی۔ اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا
۱۲:۵۳
۞ وَمَآاور نہیںwamāأُبَرِّئُمیں بری الذمہ کرتاubarri-uنَفْسِىٓ ۚاپنے نفس کوnafsīإِنَّبیشکinnaٱلنَّفْسَنفسl-nafsaلَأَمَّارَةٌۢالبتہ بہت حکم دینے والا ہےla-ammāratunبِٱلسُّوٓءِبرائی کاbil-sūiإِلَّامگرillāمَااس کے جوmāرَحِمَرحم کرےraḥimaرَبِّىٓ ۚمیرا ربrabbīإِنَّIndeedinnaرَبِّىمیرا ربrabbīغَفُورٌۭغفور،ghafūrunرَّحِيمٌۭرحیم ہےraḥīmun٥٣
میں کچھ اپنے نفس کی براءَت نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"
۱۲:۵۴
وَقَالَاور کہاwaqālaٱلْمَلِكُبادشاہ نےl-malikuٱئْتُونِىمیرے پاس لاؤi'tūnīبِهِۦٓاس کوbihiأَسْتَخْلِصْهُمیں خالص کرلوں اس کوastakhliṣ'huلِنَفْسِى ۖاپنی ذات کے لئےlinafsīفَلَمَّاتو جبfalammāكَلَّمَهُۥاس نے کلام کیا اس سےkallamahuقَالَکہاqālaإِنَّكَبیشک توinnakaٱلْيَوْمَآج کے دن (سے)l-yawmaلَدَيْنَاہمارے پاسladaynāمَكِينٌرتبے والا ہےmakīnunأَمِينٌۭامانت دار ہےamīnun٥٤
بادشاہ نے کہا”اُنہیں میرے پاس لاوٴ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصُوص کر لوں۔“جب یُوسُف ؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا”اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے۔1“
۱۲:۵۵
قَالَاس نے کہاqālaٱجْعَلْنِىمقدر کر دیجئے مجھ کوij'ʿalnīعَلَىٰاوپرʿalāخَزَآئِنِخزانوں کےkhazāiniٱلْأَرْضِ ۖزمین کےl-arḍiإِنِّىبیشک میںinnīحَفِيظٌحفاظت کرنے والا ہوںḥafīẓunعَلِيمٌۭعلم رکھنے والا ہوںʿalīmun٥٥
یُوسُف ؑ نے کہا”ملک کے خزانے میرے سپُرد کیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔“1
۱۲:۵۶
وَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaمَكَّنَّااقتدار دیا ہم نےmakkannāلِيُوسُفَیوسف کوliyūsufaفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمینl-arḍiيَتَبَوَّأُجگہ بنائےyatabawwa-uمِنْهَااس میں سےmin'hāحَيْثُجہاںḥaythuيَشَآءُ ۚچاہےyashāuنُصِيبُہم پہنچاتے ہیںnuṣībuبِرَحْمَتِنَااپنی رحمت کوbiraḥmatināمَنجس کوmanنَّشَآءُ ۖہم چاہتے ہیںnashāuوَلَااور نہیںwalāنُضِيعُہم ضائع کرتےnuḍīʿuأَجْرَاجرajraٱلْمُحْسِنِينَمحسنین کاl-muḥ'sinīna٥٦
اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یُوسُف ؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مُختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔1 ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا
۱۲:۵۷
وَلَأَجْرُاور البتہ اجرwala-ajruٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کاl-ākhiratiخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunلِّلَّذِينَان لوگوں کے لئےlilladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَكَانُوا۟اور وہwakānūيَتَّقُونَتقویٰ اختیار کرتے ہیںyattaqūna٥٧
اور آخرت کا اجر اُن لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے۔1
۱۲:۵۸
وَجَآءَاور آئےwajāaإِخْوَةُبھائیikh'watuيُوسُفَیوسف کےyūsufaفَدَخَلُوا۟پھر وہ داخل ہوئےfadakhalūعَلَيْهِاس پرʿalayhiفَعَرَفَهُمْپس اس نے پہچان لیا انہیںfaʿarafahumوَهُمْاور وہwahumلَهُۥاس کے لئےlahuمُنكِرُونَانکار کرنے والے تھےmunkirūna٥٨
یُوسُف ؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے۔1 اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے۔2
۱۲:۵۹
وَلَمَّاپھر جبwalammāجَهَّزَهُماس نے تیار کیا ان کوjahhazahumبِجَهَازِهِمْساتھ ان کے سامان کےbijahāzihimقَالَبولےqālaٱئْتُونِىلانا میرے پاسi'tūnīبِأَخٍۢبھائی کوbi-akhinلَّكُماپنےlakumمِّنْسےminأَبِيكُمْ ۚجو تمہارے باپ سے ہےabīkumأَلَاکیا نہیںalāتَرَوْنَتم دیکھتے ہوtarawnaأَنِّىٓبیشک میںannīأُوفِىپورا پورا دیتا ہوںūfīٱلْكَيْلَپیمانہl-kaylaوَأَنَا۠اور میںwa-anāخَيْرُبہترینkhayruٱلْمُنزِلِينَمہمان نواز ہوںl-munzilīna٥٩
پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو چلتے وقت ان سے کہا، "اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں
۱۲:۶۰
فَإِنپھرfa-inلَّمْاگر نہlamتَأْتُونِىتم لائے اس کوtatūnīبِهِۦمیرے پاسbihiفَلَاتو نہیںfalāكَيْلَکوئی پیمانہ / غلہkaylaلَكُمْتمہارے لئےlakumعِندِىمیرے پاسʿindīوَلَااور نہwalāتَقْرَبُونِتم قریب آنا میرےtaqrabūni٦٠
اگر تم اسے نہ لاوٴ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلّہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔1“
۱۲:۶۱
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūسَنُرَٰوِدُعنقریب ہم قائل کریں گےsanurāwiduعَنْهُاس کے بارے میںʿanhuأَبَاهُاس کے باپ کوabāhuوَإِنَّااور بیشک ہمwa-innāلَفَـٰعِلُونَالبتہ کرنے والے ہیںlafāʿilūna٦١
انہوں نے کہا، "ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر ر اضی ہو جائیں، اور ہم ایسا ضرور کریں گے"
۱۲:۶۲
وَقَالَاور کہاwaqālaلِفِتْيَـٰنِهِاپنے غلاموں کوlifit'yānihiٱجْعَلُوا۟رکھ دوij'ʿalūبِضَـٰعَتَهُمْان کی پونجی کو/ سامان کوbiḍāʿatahumفِىمیںfīرِحَالِهِمْان کی خُرجیوںriḥālihimلَعَلَّهُمْشاید کہ وہlaʿallahumيَعْرِفُونَهَآاس کو پہچان جائیںyaʿrifūnahāإِذَاجب وہidhāٱنقَلَبُوٓا۟پلٹیںinqalabūإِلَىٰٓاپنےilāأَهْلِهِمْگھر والوں کی طرفahlihimلَعَلَّهُمْشاید کہ وہlaʿallahumيَرْجِعُونَلوٹ آئیںyarjiʿūna٦٢
یوسفؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ "اِن لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو" یہ یوسفؑ نے اِس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اِس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں
۱۲:۶۳
فَلَمَّاتو جبfalammāرَجَعُوٓا۟وہ لوٹےrajaʿūإِلَىٰٓطرفilāأَبِيهِمْاپنے باپ کیabīhimقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰٓأَبَانَااے ہمارے ابا جانyāabānāمُنِعَروکا گیاmuniʿaمِنَّاہم سےminnāٱلْكَيْلُغلہl-kayluفَأَرْسِلْتو بھیج دیجئےfa-arsilمَعَنَآہمارے ساتھmaʿanāأَخَانَاہمارے بھائی کوakhānāنَكْتَلْہم غلہ لائیںnaktalوَإِنَّااور بیشک ہمwa-innāلَهُۥاس کے لئےlahuلَحَـٰفِظُونَالبتہ حفاظت کرنے والے ہیںlaḥāfiẓūna٦٣
جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا "ابا جان، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں"
۱۲:۶۴
قَالَکہاqālaهَلْکیاhalءَامَنُكُمْمیں بھروسہ کرلوں تم پرāmanukumعَلَيْهِاس کے معاملے میںʿalayhiإِلَّامگرillāكَمَآجیسا کہkamāأَمِنتُكُمْمیں نے بھروسہ کیا تم پرamintukumعَلَىٰٓمعاملے میںʿalāأَخِيهِاس کے بھائی کےakhīhiمِناس سےminقَبْلُ ۖقبلqabluفَٱللَّهُپس اللہfal-lahuخَيْرٌبہترینkhayrunحَـٰفِظًۭا ۖحفاظت کرنے والا ہےḥāfiẓanوَهُوَاور وہwahuwaأَرْحَمُسب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہےarḥamuٱلرَّٰحِمِينَسب رحم کرنے والوں (سے)l-rāḥimīna٦٤
باپ نے جواب دیا "کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے"
۱۲:۶۵
وَلَمَّااور جبwalammāفَتَحُوا۟انہوں نے کھولاfataḥūمَتَـٰعَهُمْاپنے سامان کوmatāʿahumوَجَدُوا۟انہوں نے پایاwajadūبِضَـٰعَتَهُمْاپنا سرمایہbiḍāʿatahumرُدَّتْلوٹادیا گیا تھاruddatإِلَيْهِمْ ۖان کی طرفilayhimقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰٓأَبَانَااے ہمارے ابا جانyāabānāمَاکیاmāنَبْغِى ۖہم (اور) چاہتے ہیںnabghīهَـٰذِهِۦیہ ہماریhādhihiبِضَـٰعَتُنَاپونچی ہےbiḍāʿatunāرُدَّتْلوٹائی گئی ہےruddatإِلَيْنَا ۖہماری طرفilaynāوَنَمِيرُاور ہم غلہ لائیں گےwanamīruأَهْلَنَااپنے گھر والوں کے لئےahlanāوَنَحْفَظُاور ہم حفاظت کریں گےwanaḥfaẓuأَخَانَااپنے بھائی کیakhānāوَنَزْدَادُاور ہم زیادہ لائیں گےwanazdāduكَيْلَبھر غلہkaylaبَعِيرٍۢ ۖاونٹbaʿīrinذَٰلِكَیہdhālikaكَيْلٌۭغلہ ہےkaylunيَسِيرٌۭآسانyasīrun٦٥
پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کر دیا گیا ہے یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے "ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا"
۱۲:۶۶
قَالَکہاqālaلَنْہرگز نہlanأُرْسِلَهُۥمیں بھیجوں گا اس کوur'silahuمَعَكُمْتمہارے ساتھmaʿakumحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāتُؤْتُونِتم دو مجھ کوtu'tūniمَوْثِقًۭاپختہ وعدہ اپناmawthiqanمِّنَطرف سےminaٱللَّهِاللہ کیl-lahiلَتَأْتُنَّنِىالبتہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاسlatatunnanīبِهِۦٓاس کوbihiإِلَّآمگرillāأَنیہ کہanيُحَاطَگھیر لیا جائےyuḥāṭaبِكُمْ ۖتمہیںbikumفَلَمَّآپھر جبfalammāءَاتَوْهُانہوں نے دیا اس کوātawhuمَوْثِقَهُمْپختہ وعدہ اپناmawthiqahumقَالَاس نے کہاqālaٱللَّهُاللہl-lahuعَلَىٰاس پرʿalāمَاجوmāنَقُولُہم کہتے ہیںnaqūluوَكِيلٌۭکار ساز ہے/ نگہبان ہےwakīlun٦٦
ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے"
۱۲:۶۷
وَقَالَاور اس نے کہاwaqālaيَـٰبَنِىَّاے میرے بچوyābaniyyaلَانہlāتَدْخُلُوا۟تم داخل ہوناtadkhulūمِنۢسےminبَابٍۢدروازےbābinوَٰحِدٍۢایکwāḥidinوَٱدْخُلُوا۟بلکہ داخل ہوناwa-ud'khulūمِنْسےminأَبْوَٰبٍۢدروازوںabwābinمُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖمختلفmutafarriqatinوَمَآاور نہیںwamāأُغْنِىمیں بچا سکتاugh'nīعَنكُمتم کوʿankumمِّنَسےminaٱللَّهِاللہl-lahiمِنکسیminشَىْءٍ ۖچیز سےshayinإِنِنہیںiniٱلْحُكْمُفیصلہl-ḥuk'muإِلَّامگرillāلِلَّهِ ۖاللہ کے لئےlillahiعَلَيْهِاسی پرʿalayhiتَوَكَّلْتُ ۖمیں نے توکل کیاtawakkaltuوَعَلَيْهِاور اسی پرwaʿalayhiفَلْيَتَوَكَّلِپس چاہیے کہ توکل کیا کریںfalyatawakkaliٱلْمُتَوَكِّلُونَتوکل کرنے والےl-mutawakilūna٦٧
پھر اُس نے کہا”میرے بچو، مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔1 مگر میں اللہ کی مشیّت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اُسی پر کرے۔“
۱۲:۶۸
وَلَمَّااور جبwalammāدَخَلُوا۟وہ داخل ہوئےdakhalūمِنْسےminحَيْثُجہاںḥaythuأَمَرَهُمْحکم دیا تھا ان کوamarahumأَبُوهُمان کے باپ نےabūhumمَّانہmāكَانَتھا کہkānaيُغْنِىکام آتاyugh'nīعَنْهُمان کوʿanhumمِّنَسےminaٱللَّهِاللہl-lahiمِنanyminشَىْءٍکچھ بھیshayinإِلَّامگرillāحَاجَةًۭایک حاجت تھیḥājatanفِىمیںfīنَفْسِدل (میں)nafsiيَعْقُوبَیعقوب کےyaʿqūbaقَضَىٰهَا ۚاس نے پورا کیا اس کوqaḍāhāوَإِنَّهُۥاور بیشک وہwa-innahuلَذُووالا تھاladhūعِلْمٍۢالبتہ علمʿil'minلِّمَاواسطے اس کے جوlimāعَلَّمْنَـٰهُسکھایا تھا ہم نے اس کوʿallamnāhuوَلَـٰكِنَّلیکنwalākinnaأَكْثَرَاکثرaktharaٱلنَّاسِلوگl-nāsiلَانہیںlāيَعْلَمُونَعلم رکھتےyaʿlamūna٦٨
اور واقعہ بھی یہ ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے)داخل ہوئے تو اُس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیّت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں بس یعقوب ؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دُور کرنے کے لیے اُس نے اپنی سی کوشش کر لی۔ بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔1
۱۲:۶۹
وَلَمَّااور جبwalammāدَخَلُوا۟وہ داخل ہوئےdakhalūعَلَىٰپرʿalāيُوسُفَیوسفyūsufaءَاوَىٰٓٹھہرایاāwāإِلَيْهِاپنے پاس/ اپنی طرفilayhiأَخَاهُ ۖاپنے بھائی کوakhāhuقَالَاس نے کہاqālaإِنِّىٓبیشک میںinnīأَنَا۠میں ہیanāأَخُوكَتیرا بھائی ہوںakhūkaفَلَاپس نہfalāتَبْتَئِسْرنج کرtabta-isبِمَابوجہ اس کےbimāكَانُوا۟جو تھے وہkānūيَعْمَلُونَعمل کرتےyaʿmalūna٦٩
یہ لوگ یُوسُف ؑ کے حضُور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ”میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا)۔ اب تُو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔“1
۱۲:۷۰
فَلَمَّاپھر جبfalammāجَهَّزَهُماس نے تیار کرکے دیا ان کوjahhazahumبِجَهَازِهِمْان کا سامانbijahāzihimجَعَلَاس نے رکھ دیاjaʿalaٱلسِّقَايَةَپانی کا ایک پیالہ/ آب خوردہl-siqāyataفِىمیںfīرَحْلِسامان م (میں)raḥliأَخِيهِاپنے بھائی کےakhīhiثُمَّپھرthummaأَذَّنَپکاراadhanaمُؤَذِّنٌایک پکارنے والے نےmu-adhinunأَيَّتُهَااےayyatuhāٱلْعِيرُقافلے والوl-ʿīruإِنَّكُمْبیشک تمinnakumلَسَـٰرِقُونَالبتہ چور ہوlasāriqūna٧٠
جب یُوسُف ؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔1 پھر ایک پُکارنے والے نے پُکار کر کہا”اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو۔“2
۱۲:۷۱
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūوَأَقْبَلُوا۟اور وہ آئے / متوجہ ہوئےwa-aqbalūعَلَيْهِمان پرʿalayhimمَّاذَاکیا کچھmādhāتَفْقِدُونَتم گم پاتے ہوtafqidūna٧١
انہوں نے پلٹ کر پوچھا "تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟ "
۱۲:۷۲
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūنَفْقِدُہم گم پاتے ہیںnafqiduصُوَاعَپیمانہṣuwāʿaٱلْمَلِكِبادشاہ کاl-malikiوَلِمَناور واسطے اس کےwalimanجَآءَجولائےjāaبِهِۦاس کوbihiحِمْلُبوجھ ہےḥim'luبَعِيرٍۢایک اونٹ کاbaʿīrinوَأَنَا۠اور میںwa-anāبِهِۦساتھ اس کے ذمہ دار ہوںbihiزَعِيمٌۭکفیل ہوںzaʿīmun٧٢
سرکاری ملازموں نے کہا "بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا" (اور ان کے جمعدار نے کہا) "جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارشتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں"
۱۲:۷۳
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūتَٱللَّهِاللہ کی قسمtal-lahiلَقَدْالبتہ تحقیقlaqadعَلِمْتُمجان لیا تم نےʿalim'tumمَّانہیںmāجِئْنَاآئے تھے ہمji'nāلِنُفْسِدَکہ ہم فساد کریںlinuf'sidaفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمینl-arḍiوَمَااور نہیں ہیںwamāكُنَّاہمkunnāسَـٰرِقِينَچورsāriqīna٧٣
ان بھائیوں نے کہا "خدا کی قسم، تو لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں"
۱۲:۷۴
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūفَمَاتو کیاfamāجَزَٰٓؤُهُۥٓبدلہ ہے اس کا / سزا ہے اس کیjazāuhuإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumكَـٰذِبِينَجھوٹےkādhibīna٧٤
اُنہوں نے کہا "اچھا، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟"
۱۲:۷۵
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūجَزَٰٓؤُهُۥاس کی جزاء /اس کا بدلہjazāuhuمَنوہ ہےmanوُجِدَجو وہ پایا گیا ہےwujidaفِىمیںfīرَحْلِهِۦاس کے سامانraḥlihiفَهُوَتو وہیfahuwaجَزَٰٓؤُهُۥ ۚبدلہ ہے اس کاjazāuhuكَذَٰلِكَاس طرحkadhālikaنَجْزِىہم بدلہ دیتے ہیںnajzīٱلظَّـٰلِمِينَظالموں کوl-ẓālimīna٧٥
اُنہوں نے کہا”اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے۔“1
۱۲:۷۶
فَبَدَأَتو وہ شروع ہوگیاfabada-aبِأَوْعِيَتِهِمْان کے تھیلوں کے ساتھbi-awʿiyatihimقَبْلَپہلےqablaوِعَآءِتھیلے کےwiʿāiأَخِيهِاپنے بھائی کےakhīhiثُمَّپھرthummaٱسْتَخْرَجَهَانکال لیا اس کوis'takhrajahāمِنسےminوِعَآءِتھیلےwiʿāiأَخِيهِ ۚاپنے بھائی کےakhīhiكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaكِدْنَاتدبیر کی ہمkid'nāلِيُوسُفَ ۖیوسف کے لئےliyūsufaمَانہmāكَانَتھاkānaلِيَأْخُذَکے لے لےliyakhudhaأَخَاهُاپنے بھائی کوakhāhuفِىمیںfīدِينِدینdīniٱلْمَلِكِبادشاہ کےl-malikiإِلَّآمگرillāأَنیہ کہanيَشَآءَچاہتا ہےyashāaٱللَّهُ ۚاللہl-lahuنَرْفَعُہم بلند کرتے ہیںnarfaʿuدَرَجَـٰتٍۢدرجےdarajātinمَّنجس کےmanنَّشَآءُ ۗہم چاہتے ہیںnashāuوَفَوْقَاور اوپرwafawqaكُلِّہرkulliذِىوالے کےdhīعِلْمٍعلمʿil'minعَلِيمٌۭایک علم والا ہےʿalīmun٧٦
تب یُوسُف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خُرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کر لی۔۔۔۔اِس طرح ہم نے یُوسُف ؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔1 اُس کا یہ کا م نہ تھا کہ بادشاہ کے دین(یعنی مصر کے شاہی قانون)میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔2 ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایساہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے
۱۲:۷۷
۞ قَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūإِناگرinيَسْرِقْاس نے چوری کی ہےyasriqفَقَدْتو تحقیقfaqadسَرَقَچوری کی تھیsaraqaأَخٌۭبھائی نےakhunلَّهُۥاس کےlahuمِناس کےminقَبْلُ ۚقبلqabluفَأَسَرَّهَاتو چھپالیا اس بات کوfa-asarrahāيُوسُفُیوسف نےyūsufuفِىمیںfīنَفْسِهِۦاپنے دلnafsihiوَلَمْاور نہیںwalamيُبْدِهَاظاہر کیا اس کوyub'dihāلَهُمْ ۚان کے لئیےlahumقَالَکہاqālaأَنتُمْتمantumشَرٌّۭبرے ہوsharrunمَّكَانًۭا ۖمقام میںmakānanوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuأَعْلَمُخوب جانتا ہےaʿlamuبِمَاساتھ اس کےbimāتَصِفُونَجو کچھ تم بیان کر رہے ہوtaṣifūna٧٧
ان بھائیوں نے کہا”یہ چوری کرے تو کچھ تعجّب کی بات نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یُوسُف ؑ)بھی چوری کر چکا ہے۔“1 یُوسُف ؑ ان کی یہ بات سُن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی، بس (زیرِ لب)اتنا کہہ کر رہ گیاکہ”بڑے ہی بُرے ہو تم لوگ،(میرے منہ در منہ مجھ پر)جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے۔“
۱۲:۷۸
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلْعَزِيزُعزیزl-ʿazīzuإِنَّبیشکinnaلَهُۥٓاس کاlahuأَبًۭاباپabanشَيْخًۭابوڑھا ہےshaykhanكَبِيرًۭابڑاkabīranفَخُذْپس لے لےfakhudhأَحَدَنَاہم میں سے کسی ایک کوaḥadanāمَكَانَهُۥٓ ۖاس کی جگہmakānahuإِنَّابیشک ہمinnāنَرَىٰكَہم دیکھتے ہیں تجھ کوnarākaمِنَمیں سےminaٱلْمُحْسِنِينَمحسنینl-muḥ'sinīna٧٨
انہوں نے کہا”اے سردار ذی اقتدار(عزیز) 1، اس کا باپ بہت بُوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سےکسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں۔“
۱۲:۷۹
قَالَاس نے کہاqālaمَعَاذَپناہmaʿādhaٱللَّهِاللہ کیl-lahiأَنکہ ہمanنَّأْخُذَلیںnakhudhaإِلَّامگرillāمَناسےmanوَجَدْنَاجس کو پایا ہم نےwajadnāمَتَـٰعَنَااپنا سامانmatāʿanāعِندَهُۥٓاس کے پاسʿindahuإِنَّآبیشک ہمinnāإِذًۭاتب البتہidhanلَّظَـٰلِمُونَظالم ہوں گےlaẓālimūna٧٩
یُوسُف ؑ نے کہا”پناہِ خدا، دُوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں، جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے1 اُس کو چھوڑ کر دُوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے۔“
۱۲:۸۰
فَلَمَّاپھر جبfalammāٱسْتَيْـَٔسُوا۟وہ مایوس ہوگئےis'tayasūمِنْهُاس سےmin'huخَلَصُوا۟اکیلے بیٹھےkhalaṣūنَجِيًّۭا ۖسرگوشیاں کرنے کو/ مشورہ کرنے کوnajiyyanقَالَکہاqālaكَبِيرُهُمْان کے بڑے نےkabīruhumأَلَمْکیانہیںalamتَعْلَمُوٓا۟تم جانتے ہوtaʿlamūأَنَّکہannaأَبَاكُمْتمہارے والد نےabākumقَدْتحقیقqadأَخَذَلیاakhadhaعَلَيْكُمتم پرʿalaykumمَّوْثِقًۭاپکا وعدہmawthiqanمِّنَنام سےminaٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَمِناور اس سےwaminقَبْلُپہلےqabluمَاجوmāفَرَّطتُمْکوتاہی کی تم نےfarraṭtumفِىمیںfīيُوسُفَ ۖیوسف کے معاملےyūsufaفَلَنْتو ہرگز نہfalanأَبْرَحَمیں ٹلوں گاabraḥaٱلْأَرْضَاس زمین سےl-arḍaحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَأْذَنَاجازت دےyadhanaلِىٓمجھ کوlīأَبِىٓمیرا باپabīأَوْیاawيَحْكُمَفیصلہ کردےyaḥkumaٱللَّهُاللہl-lahuلِى ۖمیرے لئےlīوَهُوَاور وہwahuwaخَيْرُبہترینkhayruٱلْحَـٰكِمِينَفیصلہ کرنے والا ہےl-ḥākimīna٨٠
جب وہ یوسفؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا "تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر کیا عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
۱۲:۸۱
ٱرْجِعُوٓا۟لوٹ آؤir'jiʿūإِلَىٰٓطرفilāأَبِيكُمْاپنے باپ کیabīkumفَقُولُوا۟پھر کہوfaqūlūيَـٰٓأَبَانَآاے ہمارے ابا جانyāabānāإِنَّبیشکinnaٱبْنَكَتیرے بیٹے نےib'nakaسَرَقَچوری کی ہےsaraqaوَمَااور ہم نےwamāشَهِدْنَآدیکھا نہیںshahid'nāإِلَّامگرillāبِمَاجو ہم کوbimāعَلِمْنَامعلوم ہواʿalim'nāوَمَااور نہیںwamāكُنَّاہیں ہمkunnāلِلْغَيْبِغیب کے لئےlil'ghaybiحَـٰفِظِينَحفاظت کرنے والےḥāfiẓīna٨١
تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے
۱۲:۸۲
وَسْـَٔلِاور پوچھ لوwasaliٱلْقَرْيَةَبستی والوں سےl-qaryataٱلَّتِىوہ جوallatīكُنَّاتھے ہمkunnāفِيهَااس میںfīhāوَٱلْعِيرَاور اہل قافلہ سےwal-ʿīraٱلَّتِىٓوہ جوallatīأَقْبَلْنَاہم آئے ہیںaqbalnāفِيهَا ۖاس میںfīhāوَإِنَّااور بیشک ہمwa-innāلَصَـٰدِقُونَالبتہ سچے ہیںlaṣādiqūna٨٢
آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں"
۱۲:۸۳
قَالَکہاqālaبَلْبلکہbalسَوَّلَتْآسان کردیاsawwalatلَكُمْتمہارے لئےlakumأَنفُسُكُمْتمہارے نفسوں نےanfusukumأَمْرًۭا ۖایک کام کوamranفَصَبْرٌۭتو صبر ہیfaṣabrunجَمِيلٌ ۖاچھا ہےjamīlunعَسَىامید ہے کہʿasāٱللَّهُاللہl-lahuأَنwill bring them to meanيَأْتِيَنِىلے آئے گا میرے پاسyatiyanīبِهِمْان کوbihimجَمِيعًا ۚسب کے سب کوjamīʿanإِنَّهُۥکیونکہ وہinnahuهُوَوہhuwaٱلْعَلِيمُعلم والاl-ʿalīmuٱلْحَكِيمُحکمت والا ہےl-ḥakīmu٨٣
باپ نے یہ داستان سُن کر کہا”دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا۔1 اچھا، اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔ کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اُس کے سب کا م حکمت پر مبنی ہیں۔“
۱۲:۸۴
وَتَوَلَّىٰاور اس نے منہ پھیرلیاwatawallāعَنْهُمْان سےʿanhumوَقَالَاور بولاwaqālaيَـٰٓأَسَفَىٰہائے افسوسyāasafāعَلَىٰپرʿalāيُوسُفَیوسفyūsufaوَٱبْيَضَّتْاور سفید ہوگئیںwa-ib'yaḍḍatعَيْنَاهُاس کی دونوں آنکھیںʿaynāhuمِنَسےminaٱلْحُزْنِغم کی وجہl-ḥuz'niفَهُوَتو وہfahuwaكَظِيمٌۭسخت غمگین تھےkaẓīmun٨٤
پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ "ہا ئے یوسف!" وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جا رہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑ گئی تھیں
۱۲:۸۵
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūتَٱللَّهِقسم اللہ کیtal-lahiتَفْتَؤُا۟تو ہمیشہ رہتا ہےtafta-uتَذْكُرُذکر کرتا/ یاد کرتاtadhkuruيُوسُفَیوسف کوyūsufaحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāتَكُونَتو ہوجائےtakūnaحَرَضًابیمار/ بیکارḥaraḍanأَوْیاawتَكُونَتو ہوجائےtakūnaمِنَمیں سےminaٱلْهَـٰلِكِينَہلاک ہونے والوںl-hālikīna٨٥
بیٹوں نے کہا "خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے"
۱۲:۸۶
قَالَاس نے کہاqālaإِنَّمَآبیشکinnamāأَشْكُوا۟میں شکایت کرتاہوںashkūبَثِّىاپنی پریشانی کیbathīوَحُزْنِىٓاور اپنے غم کیwaḥuz'nīإِلَىطرفilāٱللَّهِاللہ کیl-lahiوَأَعْلَمُاور میں جانتا ہوںwa-aʿlamuمِنَسےminaٱللَّهِاللہ کی طرف (سے)l-lahiمَاجوmāلَانہیںlāتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna٨٦
اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو
۱۲:۸۷
يَـٰبَنِىَّاے میرے بچو !yābaniyyaٱذْهَبُوا۟جاؤidh'habūفَتَحَسَّسُوا۟پس ٹوہ لگاؤfataḥassasūمِنسےminيُوسُفَیوسف کیyūsufaوَأَخِيهِاور اس کے بھائی کیwa-akhīhiوَلَااور متwalāتَا۟يْـَٔسُوا۟مایوس ہوtāy'asūمِنسےminرَّوْحِرحمتrawḥiٱللَّهِ ۖاللہ کیl-lahiإِنَّهُۥکیونکہinnahuلَانہیںlāيَا۟يْـَٔسُمایوس ہوتےyāy'asuمِنسےminرَّوْحِرحمتrawḥiٱللَّهِاللہ کیl-lahiإِلَّاسوائےillāٱلْقَوْمُقوم کےl-qawmuٱلْكَـٰفِرُونَکافرl-kāfirūna٨٧
میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں"
۱۲:۸۸
فَلَمَّاپھر جبfalammāدَخَلُوا۟وہ داخل ہوئےdakhalūعَلَيْهِاس پرʿalayhiقَالُوا۟کہنے لگےqālūيَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلْعَزِيزُعزیزl-ʿazīzuمَسَّنَاپہنچی ہم کوmassanāوَأَهْلَنَااور ہمارے گھر والوں کوwa-ahlanāٱلضُّرُّتکلیفl-ḍuruوَجِئْنَااور لائے ہیں ہمwaji'nāبِبِضَـٰعَةٍۢپونچیbibiḍāʿatinمُّزْجَىٰةٍۢحقیر سیmuz'jātinفَأَوْفِپس پورا پورا دے دیجئےfa-awfiلَنَاہم کوlanāٱلْكَيْلَپیمانہl-kaylaوَتَصَدَّقْاور صدقہ کرwataṣaddaqعَلَيْنَآ ۖہم پرʿalaynāإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaيَجْزِىجزا دیتا ہےyajzīٱلْمُتَصَدِّقِينَصدقہ کرنے والوں کوl-mutaṣadiqīna٨٨
جب یہ لوگ مصر جا کر یُوسُف ؑ کی پیشی میں داخل ہوئےتو انہوں نے عرض کیا”اے سردار با اقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مُبتلا ہیں، اور ہم کچھ حقیر سی پُونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھرپور غلّہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں1، اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔“
۱۲:۸۹
قَالَاس نے کہاqālaهَلْکیاhalعَلِمْتُمتم جانتے ہوʿalim'tumمَّاکیاmāفَعَلْتُمکیا تھا تم نےfaʿaltumبِيُوسُفَیوسف کے ساتھbiyūsufaوَأَخِيهِاور اس کے بھائی کےwa-akhīhiإِذْجبidhأَنتُمْتھے تمantumجَـٰهِلُونَلاعلمjāhilūna٨٩
(یہ سن کریوسفؑ سے نہ رہا گیا) اُس نے کہا "تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے"
۱۲:۹۰
قَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūأَءِنَّكَکیا بیشک توa-innakaلَأَنتَالتبہ تو ہیla-antaيُوسُفُ ۖیوسف ہےyūsufuقَالَاس نے کہاqālaأَنَا۠میںanāيُوسُفُیوسف ہوںyūsufuوَهَـٰذَآاور یہwahādhāأَخِى ۖمیرا بھائی ہےakhīقَدْتحقیقqadمَنَّاحسان کیاmannaٱللَّهُاللہ نےl-lahuعَلَيْنَآ ۖہم پرʿalaynāإِنَّهُۥبیشک وہinnahuمَنجوmanيَتَّقِتقویٰ اختیار کرےyattaqiوَيَصْبِرْاور صبر کرےwayaṣbirفَإِنَّتو یقیناًfa-innaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaلَانہیںlāيُضِيعُضائع کرتاyuḍīʿuأَجْرَاجرajraٱلْمُحْسِنِينَمحسنین کاl-muḥ'sinīna٩٠
وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا"
۱۲:۹۱
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūتَٱللَّهِاللہ کی قسمtal-lahiلَقَدْالبتہ تحقیقlaqadءَاثَرَكَترجیح دی تجھ کوātharakaٱللَّهُاللہ نےl-lahuعَلَيْنَاہم پرʿalaynāوَإِناور بیشکwa-inكُنَّاتھے ہمkunnāلَخَـٰطِـِٔينَالبتہ خطا کارlakhāṭiīna٩١
انہوں نے کہا "بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے"
۱۲:۹۲
قَالَاس نے کہاqālaلَانہیںlāتَثْرِيبَکوئی الزامtathrībaعَلَيْكُمُتم پرʿalaykumuٱلْيَوْمَ ۖآجl-yawmaيَغْفِرُمعاف کردےyaghfiruٱللَّهُاللہl-lahuلَكُمْ ۖتم کوlakumوَهُوَاور وہwahuwaأَرْحَمُسب سے بڑھ کرarḥamuٱلرَّٰحِمِينَرحم فرمانے والا ہےl-rāḥimīna٩٢
اس نے جواب دیا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے
۱۲:۹۳
ٱذْهَبُوا۟لے جاؤidh'habūبِقَمِيصِىمیری قمیص کوbiqamīṣīهَـٰذَااس کوhādhāفَأَلْقُوهُپھر ڈال دو اس کوfa-alqūhuعَلَىٰپرʿalāوَجْهِچہرےwajhiأَبِىمیرے باپ کےabīيَأْتِآجائے گاyatiبَصِيرًۭادیکھنے والاbaṣīranوَأْتُونِىاور لے آؤ میرے پاسwatūnīبِأَهْلِكُمْاپنے گھر والوں کوbi-ahlikumأَجْمَعِينَسب کے سب کوajmaʿīna٩٣
جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ"
۱۲:۹۴
وَلَمَّااور جبwalammāفَصَلَتِجدا ہواfaṣalatiٱلْعِيرُقافلہl-ʿīruقَالَکہاqālaأَبُوهُمْان کے باپ نےabūhumإِنِّىبیشک میںinnīلَأَجِدُالبتہ میں پاتا ہوںla-ajiduرِيحَخوشبوrīḥaيُوسُفَ ۖیوسف کیyūsufaلَوْلَآاگر نہیںlawlāأَنیہ کہanتُفَنِّدُونِتم بہکا ہوا کہو مجھےtufannidūni٩٤
جب یہ قافلہ (مصر سے)روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں)کہا”میں یُوسُف ؑ کی خوشبو محسُوس کر رہا ہوں،1 تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں۔“
۱۲:۹۵
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūتَٱللَّهِقسم اللہ کیtal-lahiإِنَّكَبیشک توinnakaلَفِىالبتہ میں ہوlafīضَلَـٰلِكَاپنے خبطḍalālikaٱلْقَدِيمِپرانےl-qadīmi٩٥
گھر کے لوگ بولے”خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پُرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں۔“1
۱۲:۹۶
فَلَمَّآپھر جبfalammāأَنیہ کہanجَآءَآگیاjāaٱلْبَشِيرُخوش خبری دینے والاl-bashīruأَلْقَىٰهُاس نے ڈالا اس کوalqāhuعَلَىٰپرʿalāوَجْهِهِۦاس کے چہرےwajhihiفَٱرْتَدَّتو ہوگیا وہfa-ir'taddaبَصِيرًۭا ۖدیکھنے والاbaṣīranقَالَاس نے کہاqālaأَلَمْکیا نہیںalamأَقُلمیں نے کہا تھاaqulلَّكُمْتم سےlakumإِنِّىٓبیشک میںinnīأَعْلَمُجانتا ہوںaʿlamuمِنَطرف سےminaٱللَّهِاللہ کیl-lahiمَاجوmāلَانہیںlāتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna٩٦
پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"
۱۲:۹۷
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰٓأَبَانَااے ہمارے ابا جانyāabānāٱسْتَغْفِرْبخشش مانگئےis'taghfirلَنَاہمارے لئےlanāذُنُوبَنَآہمارے گناہوں کیdhunūbanāإِنَّابیشک ہمinnāكُنَّاتھے ہمkunnāخَـٰطِـِٔينَخطا کارkhāṭiīna٩٧
سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے"
۱۲:۹۸
قَالَکہاqālaسَوْفَعنقریبsawfaأَسْتَغْفِرُمیں بخشش مانگوں گاastaghfiruلَكُمْتمہارے لیئےlakumرَبِّىٓ ۖاپنے رب سےrabbīإِنَّهُۥبیشک وہinnahuهُوَوہhuwaٱلْغَفُورُغفور،l-ghafūruٱلرَّحِيمُرحیم ہےl-raḥīmu٩٨
اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"
۱۲:۹۹
فَلَمَّاتو جبfalammāدَخَلُوا۟وہ داخل ہوئےdakhalūعَلَىٰاوپرʿalāيُوسُفَیوسف کےyūsufaءَاوَىٰٓاس نے پناہ دی/ بٹھالیا اپنےāwāإِلَيْهِاپنے پاسilayhiأَبَوَيْهِاپنے والدین کوabawayhiوَقَالَاور کہاwaqālaٱدْخُلُوا۟داخل ہوجاؤud'khulūمِصْرَشہر میںmiṣ'raإِناگرinشَآءَچاہاshāaٱللَّهُاللہ نےl-lahuءَامِنِينَامن والے ہوگےāminīna٩٩
پھر جب یہ لوگ یُوسُف ؑ کے پاس پہنچے1 تو اُس نے اپنےوالدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا2 اور (اپنےسب کنبے والوں سے کہا)”چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے۔“
۱۲:۱۰۰
وَرَفَعَاور اوپر بٹھایاwarafaʿaأَبَوَيْهِاپنے والدین کوabawayhiعَلَىپرʿalāٱلْعَرْشِتختl-ʿarshiوَخَرُّوا۟اور وہ سب گرپڑےwakharrūلَهُۥاس کے لئےlahuسُجَّدًۭا ۖسجدہ کرتے ہوئےsujjadanوَقَالَاور کہاwaqālaيَـٰٓأَبَتِاے میرے ابا جانyāabatiهَـٰذَایہhādhāتَأْوِيلُتعبیر ہےtawīluرُءْيَـٰىَمیرے خواب کیru'yāyaمِنسےminقَبْلُجو پہلے (سے) تھاqabluقَدْتحقیقqadجَعَلَهَابنادیا اس کوjaʿalahāرَبِّىمیرے رب نےrabbīحَقًّۭا ۖسچاḥaqqanوَقَدْاور تحقیقwaqadأَحْسَنَاسنے احسان کیاaḥsanaبِىٓمیرے ساتھbīإِذْجبidhأَخْرَجَنِىاس نے نکالا مجھ کوakhrajanīمِنَسےminaٱلسِّجْنِقید خانےl-sij'niوَجَآءَاور لے آیاwajāaبِكُمتم کوbikumمِّنَسےminaٱلْبَدْوِجنگلl-badwiمِنۢسےminبَعْدِاس کے بعدbaʿdiأَنکہanنَّزَغَوسوسہnazaghaٱلشَّيْطَـٰنُشیطان نےl-shayṭānuبَيْنِىمیرے درمیانbaynīوَبَيْنَاور درمیانwabaynaإِخْوَتِىٓ ۚمیرے بھائیوں کےikh'watīإِنَّبیشکinnaرَبِّىمیرا ربrabbīلَطِيفٌۭباریک بین ہےlaṭīfunلِّمَاواسطے اس کےlimāيَشَآءُ ۚجو وہ چاہتا ہےyashāuإِنَّهُۥبیشک وہinnahuهُوَوہhuwaٱلْعَلِيمُعلم والا ہے،l-ʿalīmuٱلْحَكِيمُحکمت والا ہےl-ḥakīmu١٠٠
(شہر میں داخل ہونے کے بعد)اس نے اپنے والدین کو اُٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے۔1 یُوسُف ؑ نے کہا”ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے ربّ نے اسے حقیقت بنا دیا۔ اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا ربّ غیر محسُوس تدبیروں سے اپنی مشیّت پُوری کرتا ہے، بے شک وہ علیم اور حکیم ہے
۱۲:۱۰۱
۞ رَبِّاے میرے ربrabbiقَدْتحقیقqadءَاتَيْتَنِىدیا تو نے مجھ کوātaytanīمِنَمیں سےminaٱلْمُلْكِبادشاہتl-mul'kiوَعَلَّمْتَنِىاور سکھایا تو نے مجھ کوwaʿallamtanīمِنسےminتَأْوِيلِتعبیر میں (سے)tawīliٱلْأَحَادِيثِ ۚخوابوں کیl-aḥādīthiفَاطِرَپیدا کرنے والےfāṭiraٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوںl-samāwātiوَٱلْأَرْضِاور زمین کےwal-arḍiأَنتَتو میراantaوَلِىِّۦدوست ہےwaliyyīفِىمیںfīٱلدُّنْيَادنیاl-dun'yāوَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖاور آخرت میںwal-ākhiratiتَوَفَّنِىتو فوت کر مجھ کوtawaffanīمُسْلِمًۭااسلام کی حالت میںmus'limanوَأَلْحِقْنِىاور ملا دے مجھ کوwa-alḥiq'nīبِٱلصَّـٰلِحِينَصالح لوگوں کے ساتھbil-ṣāliḥīna١٠١
اے میرے ربّ، تُو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تُو ہی دُنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔“1
۱۲:۱۰۲
ذَٰلِكَیہdhālikaمِنْمیں سے ہےminأَنۢبَآءِخبروںanbāiٱلْغَيْبِغیب کیl-ghaybiنُوحِيهِہم وحی کرتے ہیں اس کوnūḥīhiإِلَيْكَ ۖآپ کی طرفilaykaوَمَااور نہ تھےwamāكُنتَآپkuntaلَدَيْهِمْان کے پاسladayhimإِذْجبidhأَجْمَعُوٓا۟اتفاق کیا انہوں نےajmaʿūأَمْرَهُمْاپنے معاملے پرamrahumوَهُمْاور وہwahumيَمْكُرُونَچالیں چل رہے تھےyamkurūna١٠٢
اے محمدؐ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھے جب یوسفؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی
۱۲:۱۰۳
وَمَآاور نہیںwamāأَكْثَرُاکثرaktharuٱلنَّاسِلوگl-nāsiوَلَوْخواہ تمwalawحَرَصْتَحریص ہوḥaraṣtaبِمُؤْمِنِينَایمان لانے والےbimu'minīna١٠٣
مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو ان میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں۔1
۱۲:۱۰۴
وَمَااور نہیںwamāتَسْـَٔلُهُمْتم سوال کرتے ان سےtasaluhumعَلَيْهِاس پرʿalayhiمِنْکسیminأَجْرٍ ۚاجر کاajrinإِنْنہیں ہےinهُوَوہhuwaإِلَّامگرillāذِكْرٌۭایک ذکرdhik'runلِّلْعَـٰلَمِينَسارے جہان والوں کے لئےlil'ʿālamīna١٠٤
حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اُجرت بھی نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے۔
۱۲:۱۰۵
وَكَأَيِّناور کتنی ہیwaka-ayyinمِّنْمیں سےminءَايَةٍۢنشانیوںāyatinفِىمیںfīٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوںl-samāwātiوَٱلْأَرْضِاور زمین (میں)wal-arḍiيَمُرُّونَوہ گزرتے رہتے ہیںyamurrūnaعَلَيْهَاان پرʿalayhāوَهُمْاور وہwahumعَنْهَاان سےʿanhāمُعْرِضُونَمنہ موڑنے والے ہیںmuʿ'riḍūna١٠٥
زمین1 اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سےیہ لوگ گزرتے ہیں اور ذرا توجّہ نہیں کرتے۔
۱۲:۱۰۶
وَمَااور نہیںwamāيُؤْمِنُایمان لاتےyu'minuأَكْثَرُهُمان میں سے اکثرaktharuhumبِٱللَّهِاللہ کے ساتھbil-lahiإِلَّامگرillāوَهُماور وہwahumمُّشْرِكُونَشرک کرنے والے ہوتے ہیںmush'rikūna١٠٦
ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔1
۱۲:۱۰۷
أَفَأَمِنُوٓا۟کیا بھلا وہ بےخوف ہوگئے/ امن میں آگئےafa-aminūأَنکہanتَأْتِيَهُمْآئے ان کے پاسtatiyahumغَـٰشِيَةٌۭایک ڈھانپ لینے والیghāshiyatunمِّنْسےminعَذَابِعذاب میں (سے)ʿadhābiٱللَّهِاللہ کےl-lahiأَوْیاawتَأْتِيَهُمُآئے ان کے پاسtatiyahumuٱلسَّاعَةُقیامت کی گھڑیl-sāʿatuبَغْتَةًۭاچانکbaghtatanوَهُمْاور وہwahumلَانہlāيَشْعُرُونَشعور رکھتے ہوںyashʿurūna١٠٧
کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟1
۱۲:۱۰۸
قُلْکہہ دیجئےqulهَـٰذِهِۦیہhādhihiسَبِيلِىٓمیرا راستہ ہےsabīlīأَدْعُوٓا۟میں بلاتا ہوںadʿūإِلَىطرفilāٱللَّهِ ۚاللہ کیl-lahiعَلَىٰکے ساتھʿalāبَصِيرَةٍبصیرتbaṣīratinأَنَا۠میںanāوَمَنِاور جو کوئیwamaniٱتَّبَعَنِى ۖپیروی کرے میریittabaʿanīوَسُبْحَـٰنَاور پاک ہےwasub'ḥānaٱللَّهِاللہl-lahiوَمَآاور نہیںwamāأَنَا۠میںanāمِنَمیں سےminaٱلْمُشْرِكِينَشرک کرنے والوںl-mush'rikīna١٠٨
تم ان سے صاف کہہ دو کہ ”میرا رستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بُلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے1 اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔“
۱۲:۱۰۹
وَمَآاور نہیںwamāأَرْسَلْنَابھیجا ہم نےarsalnāمِنآپ سےminقَبْلِكَپہلےqablikaإِلَّامگرillāرِجَالًۭامردوں کوrijālanنُّوحِىٓہم وحی کرتے تھےnūḥīإِلَيْهِمان کی طرفilayhimمِّنْمیں سےminأَهْلِوالوںahliٱلْقُرَىٰٓ ۗبستیl-qurāأَفَلَمْکیا پھر نہیںafalamيَسِيرُوا۟وہ چلے پھرےyasīrūفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمینl-arḍiفَيَنظُرُوا۟تو وہ دیکھتےfayanẓurūكَيْفَکس طرحkayfaكَانَہواkānaعَـٰقِبَةُانجامʿāqibatuٱلَّذِينَان لوگوں کاalladhīnaمِنان سےminقَبْلِهِمْ ۗپہلےqablihimوَلَدَارُاور البتہ گھرwaladāruٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کاl-ākhiratiخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunلِّلَّذِينَان لوگوں کے لئےlilladhīnaٱتَّقَوْا۟ ۗجو تقویٰ اختیار کریںittaqawأَفَلَاکیا تمafalāتَعْقِلُونَعقل سے کام نہیں لیتے ہوtaʿqilūna١٠٩
اے محمد ؐ ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اَور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر)تقوٰی کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟1
۱۲:۱۱۰
حَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāٱسْتَيْـَٔسَمایوس ہوگئےis'tayasaٱلرُّسُلُرسولl-rusuluوَظَنُّوٓا۟اور لوگوں نے سمجھاwaẓannūأَنَّهُمْکہ بیشک وہannahumقَدْتحقیقqadكُذِبُوا۟وہ جھوٹ بولے گئےkudhibūجَآءَهُمْآئی ان کے پاسjāahumنَصْرُنَامدد ہماریnaṣrunāفَنُجِّىَتو بچالیا گیاfanujjiyaمَنجس کوmanنَّشَآءُ ۖہم نے چاہاnashāuوَلَااور نہیںwalāيُرَدُّپھیرا جاتاyuradduبَأْسُنَاعذاب ہماراbasunāعَنِسےʿaniٱلْقَوْمِقومl-qawmiٱلْمُجْرِمِينَمجرمl-muj'rimīna١١٠
(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا
۱۲:۱۱۱
لَقَدْالبتہ تحقیقlaqadكَانَہےkānaفِىمیںfīقَصَصِهِمْان کے قصوںqaṣaṣihimعِبْرَةٌۭعبرتʿib'ratunلِّأُو۟لِىوالوں کے لئےli-ulīٱلْأَلْبَـٰبِ ۗعقلl-albābiمَانہیںmāكَانَہےkānaحَدِيثًۭاباتḥadīthanيُفْتَرَىٰجو گھڑ لیyuf'tarāوَلَـٰكِنلیکنwalākinتَصْدِيقَتصدیق ہےtaṣdīqaٱلَّذِىاس چیز کیalladhīبَيْنَپہلے ہےbaynaيَدَيْهِجو اس سےyadayhiوَتَفْصِيلَاور تفصیلwatafṣīlaكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز کیshayinوَهُدًۭىاور ہدایتwahudanوَرَحْمَةًۭاور رحمت ہےwaraḥmatanلِّقَوْمٍۢاس قوم کے لئےliqawminيُؤْمِنُونَجو ایمان لاتی ہوyu'minūna١١١
اگلے لوگوں کے ان قصّوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل1 اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔
—
—
—
—
لوڈ ہو رہا ہے…