۱۲

یوسف

مکی ۱۱۱ آیات پارہ ۱۲
يوسف
بسم اللہ
بِسْمِ ساتھ نام bis'mi
ساتھ نام
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
ٱلرَّحْمَـٰنِ جو بے حد مہربان ہے l-raḥmāni
جو بے حد مہربان ہے
ٱلرَّحِيمِ بار بار رحم فرمانے والا ہے l-raḥīmi
بار بار رحم فرمانے والا ہے
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۱۲:۱
الٓر ۚ ا ل ر alif-lam-ra
ا ل ر
تِلْكَ یہ til'ka
یہ
ءَايَـٰتُ آیات ہیں āyātu
آیات ہیں
ٱلْكِتَـٰبِ کتاب l-kitābi
کتاب
ٱلْمُبِينِ روشن کی۔ واضح کتاب کی l-mubīni
روشن کی۔ واضح کتاب کی
١ (۱)
(۱)
ا، ل، ر یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف بیان کرتی ہے
۱۲:۲
إِنَّآ بیشک ہم نے innā
بیشک ہم نے
أَنزَلْنَـٰهُ نازل کیا ہم نے اس کو anzalnāhu
نازل کیا ہم نے اس کو
قُرْءَٰنًا ایک قرآن qur'ānan
ایک قرآن
عَرَبِيًّۭا عربی ʿarabiyyan
عربی
لَّعَلَّكُمْ تاکہ تم laʿallakum
تاکہ تم
تَعْقِلُونَ تم سمجھ سکو۔ عقل سے کام لو taʿqilūna
تم سمجھ سکو۔ عقل سے کام لو
٢ (۲)
(۲)
ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن1 بنا کر عربی زبان میں تا کہ تم (اہلِ عرب)اس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔2
۱۲:۳
نَحْنُ ہم naḥnu
ہم
نَقُصُّ بیان کرتے ہیں naquṣṣu
بیان کرتے ہیں
عَلَيْكَ آپ پر ʿalayka
آپ پر
أَحْسَنَ بہترین aḥsana
بہترین
ٱلْقَصَصِ بیان۔ بہترین واقعہ۔ قصوں میں سے بہترین قصہ l-qaṣaṣi
بیان۔ بہترین واقعہ۔ قصوں میں سے بہترین قصہ
بِمَآ ساتھ اس کے جو bimā
ساتھ اس کے جو
أَوْحَيْنَآ وحی کررہے ہیں ہم awḥaynā
وحی کررہے ہیں ہم
إِلَيْكَ آپ کی طرف ilayka
آپ کی طرف
هَـٰذَا اس hādhā
اس
ٱلْقُرْءَانَ قرآن (نہیں) l-qur'āna
قرآن (نہیں)
وَإِن اور بیشک wa-in
اور بیشک
كُنتَ تھے آپ kunta
تھے آپ
مِن سے min
سے
قَبْلِهِۦ اس سے پہلے qablihi
اس سے پہلے
لَمِنَ البتہ میں سے lamina
البتہ میں سے
ٱلْغَـٰفِلِينَ غافلوں (میں سے) l-ghāfilīna
غافلوں (میں سے)
٣ (۳)
(۳)
اے محمد ؐ ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کر تے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزوں سے)تم بالکل ہی بے خبر تھے۔1
۱۲:۴
إِذْ جب idh
جب
قَالَ کہا تھا qāla
کہا تھا
يُوسُفُ یوسف نے yūsufu
یوسف نے
لِأَبِيهِ اپنے والد سے li-abīhi
اپنے والد سے
يَـٰٓأَبَتِ اے میرے ابا جان yāabati
اے میرے ابا جان
إِنِّى بیشک میں نے innī
بیشک میں نے
رَأَيْتُ نے دیکھا ہے (خواب) ra-aytu
نے دیکھا ہے (خواب)
أَحَدَ ایک aḥada
ایک
عَشَرَ دس (گیارہ) ʿashara
دس (گیارہ)
كَوْكَبًۭا ستاروں کو kawkaban
ستاروں کو
وَٱلشَّمْسَ اور سورج wal-shamsa
اور سورج
وَٱلْقَمَرَ اور چاند کو wal-qamara
اور چاند کو
رَأَيْتُهُمْ میں نے دیکھا ان کو ra-aytuhum
میں نے دیکھا ان کو
لِى میرے لیے
میرے لیے
سَـٰجِدِينَ سجدہ کررہے ہیں sājidīna
سجدہ کررہے ہیں
٤ (۴)
(۴)
یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسفؑ نے اپنے باپ سے کہا "ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں"
۱۲:۵
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
يَـٰبُنَىَّ اے میرے بیٹے yābunayya
اے میرے بیٹے
لَا نہ
نہ
تَقْصُصْ تم بتانا۔ نہ تم بیان کرنا taqṣuṣ
تم بتانا۔ نہ تم بیان کرنا
رُءْيَاكَ اپنا خواب ru'yāka
اپنا خواب
عَلَىٰٓ پر ʿalā
پر
إِخْوَتِكَ اپنے بھائیوں پر ikh'watika
اپنے بھائیوں پر
فَيَكِيدُوا۟ ورنہ وہ چال چلیں گے fayakīdū
ورنہ وہ چال چلیں گے
لَكَ تیرے لیے laka
تیرے لیے
كَيْدًا ۖ ایک چال kaydan
ایک چال
إِنَّ بیشک inna
بیشک
ٱلشَّيْطَـٰنَ شیطان l-shayṭāna
شیطان
لِلْإِنسَـٰنِ انسان کے لیے lil'insāni
انسان کے لیے
عَدُوٌّۭ دشمن ہے ʿaduwwun
دشمن ہے
مُّبِينٌۭ کھلا mubīnun
کھلا
٥ (۵)
(۵)
جواب میں اس کے باپ نے کہا، ”بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سُنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہو جائیں گے،1 حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کُھلا دشمن ہے
۱۲:۶
وَكَذَٰلِكَ اور اسی طرح wakadhālika
اور اسی طرح
يَجْتَبِيكَ چن لے گا تجھ کو yajtabīka
چن لے گا تجھ کو
رَبُّكَ تیرا رب rabbuka
تیرا رب
وَيُعَلِّمُكَ اور سکھائے گا تجھ کو wayuʿallimuka
اور سکھائے گا تجھ کو
مِن کی min
کی
تَأْوِيلِ اور پورا کردے گا tawīli
اور پورا کردے گا
ٱلْأَحَادِيثِ باتوں کا مطلب۔ باتوں کی تہہ تک پہنچنا l-aḥādīthi
باتوں کا مطلب۔ باتوں کی تہہ تک پہنچنا
وَيُتِمُّ اور پورا کر دے گا wayutimmu
اور پورا کر دے گا
نِعْمَتَهُۥ اپنی نعمت کو niʿ'matahu
اپنی نعمت کو
عَلَيْكَ تجھ پر ʿalayka
تجھ پر
وَعَلَىٰٓ اور پر waʿalā
اور پر
ءَالِ آل āli
آل
يَعْقُوبَ یعقوب پر yaʿqūba
یعقوب پر
كَمَآ جیسا کہ kamā
جیسا کہ
أَتَمَّهَا اس نے پورا کیا اس کو atammahā
اس نے پورا کیا اس کو
عَلَىٰٓ پر ʿalā
پر
أَبَوَيْكَ تیرے دو باپوں پر abawayka
تیرے دو باپوں پر
مِن سے min
سے
قَبْلُ اس (سے) پہلے qablu
اس (سے) پہلے
إِبْرَٰهِيمَ ابراہیم پر ib'rāhīma
ابراہیم پر
وَإِسْحَـٰقَ ۚ اور اسحاق wa-is'ḥāqa
اور اسحاق
إِنَّ بیشک inna
بیشک
رَبَّكَ تیرا رب rabbaka
تیرا رب
عَلِيمٌ علم والا ʿalīmun
علم والا
حَكِيمٌۭ حکمت والا ہے ḥakīmun
حکمت والا ہے
٦ (۶)
(۶)
اور ایسا ہی ہو گا(جیسا تُو نے خواب میں دیکھا ہے کہ)تیرا ربّ تجھے (اپنے کام کے لیے)منتخب کرے گا1 اور تجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا2 اور تیرے اوپر اور آلِ یعقوب ؑ پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں ، ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ پر کر چکا ہے، یقیناً تیرا ربّ علیم اور حکیم ہے۔“3
۱۲:۷
۞ لَّقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
كَانَ ہیں kāna
ہیں
فِى میں
میں
يُوسُفَ یوسف yūsufa
یوسف
وَإِخْوَتِهِۦٓ اور اس کے بھائیوں میں wa-ikh'watihi
اور اس کے بھائیوں میں
ءَايَـٰتٌۭ نشانیاں āyātun
نشانیاں
لِّلسَّآئِلِينَ سوال کرنے والوں کے لیے lilssāilīna
سوال کرنے والوں کے لیے
٧ (۷)
(۷)
حقیقت یہ ہے کہ یوسفؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں اِن پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں
۱۲:۸
إِذْ جب idh
جب
قَالُوا۟ انہوں نے کہا تھا qālū
انہوں نے کہا تھا
لَيُوسُفُ بلاشبہ یوسف layūsufu
بلاشبہ یوسف
وَأَخُوهُ اور اس کا بھائی wa-akhūhu
اور اس کا بھائی
أَحَبُّ زیادہ پیارے ہیں۔ محبوب ہیں aḥabbu
زیادہ پیارے ہیں۔ محبوب ہیں
إِلَىٰٓ طرف ilā
طرف
أَبِينَا ہمارے باپ کے abīnā
ہمارے باپ کے
مِنَّا بہ نسبت ہمارے minnā
بہ نسبت ہمارے
وَنَحْنُ حالانکہ ہم wanaḥnu
حالانکہ ہم
عُصْبَةٌ ایک گروہ ہیں۔ جتھہ ہیں ʿuṣ'batun
ایک گروہ ہیں۔ جتھہ ہیں
إِنَّ بیشک inna
بیشک
أَبَانَا ہمارے والد abānā
ہمارے والد
لَفِى البتہ میں lafī
البتہ میں
ضَلَـٰلٍۢ بھول میں ہیں ḍalālin
بھول میں ہیں
مُّبِينٍ واضح mubīnin
واضح
٨ (۸)
(۸)
یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہےکہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا”یہ یوسف ؑ اور اس کا بھائی،1 دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں، سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں۔2
۱۲:۹
ٱقْتُلُوا۟ قتل کردو uq'tulū
قتل کردو
يُوسُفَ یوسف کو yūsufa
یوسف کو
أَوِ یا awi
یا
ٱطْرَحُوهُ پھینک دو اس کو iṭ'raḥūhu
پھینک دو اس کو
أَرْضًۭا کسی زمین میں arḍan
کسی زمین میں
يَخْلُ خالی ہوجائے گا yakhlu
خالی ہوجائے گا
لَكُمْ تمہارے لیے lakum
تمہارے لیے
وَجْهُ چہرہ wajhu
چہرہ
أَبِيكُمْ تمہارے باپ کا abīkum
تمہارے باپ کا
وَتَكُونُوا۟ اور تم ہوجانا watakūnū
اور تم ہوجانا
مِنۢ کے min
کے
بَعْدِهِۦ اس کام کے بعد baʿdihi
اس کام کے بعد
قَوْمًۭا لوگ qawman
لوگ
صَـٰلِحِينَ نیک ṣāliḥīna
نیک
٩ (۹)
(۹)
چلو یُوسف ؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے۔ یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا۔“1
۱۲:۱۰
قَالَ کہا qāla
کہا
قَآئِلٌۭ ایک کہنے والے نے qāilun
ایک کہنے والے نے
مِّنْهُمْ انہی میں سے min'hum
انہی میں سے
لَا مت
مت
تَقْتُلُوا۟ قتل کرو taqtulū
قتل کرو
يُوسُفَ یوسف کو yūsufa
یوسف کو
وَأَلْقُوهُ بلکہ ڈال دو اس کو wa-alqūhu
بلکہ ڈال دو اس کو
فِى میں
میں
غَيَـٰبَتِ اندھیرے ghayābati
اندھیرے
ٱلْجُبِّ کنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں l-jubi
کنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں
يَلْتَقِطْهُ اٹھا لے گا اس کو yaltaqiṭ'hu
اٹھا لے گا اس کو
بَعْضُ کوئی baʿḍu
کوئی
ٱلسَّيَّارَةِ قافلہ l-sayārati
قافلہ
إِن اگر in
اگر
كُنتُمْ ہو تم kuntum
ہو تم
فَـٰعِلِينَ کرنے والے fāʿilīna
کرنے والے
١٠ (۱۰)
(۱۰)
اس پر ان میں سے ایک بولا "یوسفؑ کو قتل نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا"
۱۲:۱۱
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا اے ہمارے ابا جان yāabānā
اے ہمارے ابا جان
مَا کیا ہے
کیا ہے
لَكَ آپ کو laka
آپ کو
لَا نہیں
نہیں
تَأْمَ۫نَّا آپ بھروسہ کرتے ہم tamannā
آپ بھروسہ کرتے ہم
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
يُوسُفَ یوسف کے معاملے میں yūsufa
یوسف کے معاملے میں
وَإِنَّا اور بیشک ہم wa-innā
اور بیشک ہم
لَهُۥ اس کے لیے lahu
اس کے لیے
لَنَـٰصِحُونَ یقینا خیرخواہ ہیں lanāṣiḥūna
یقینا خیرخواہ ہیں
١١ (۱۱)
(۱۱)
اس قرارداد پر انہوں نے جا کر اپنے باپ سے کہا "ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسفؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں؟
۱۲:۱۲
أَرْسِلْهُ بھیجئے اس کو arsil'hu
بھیجئے اس کو
مَعَنَا ہمارے ساتھ maʿanā
ہمارے ساتھ
غَدًۭا کل ghadan
کل
يَرْتَعْ وہ چرلے۔ کھالے yartaʿ
وہ چرلے۔ کھالے
وَيَلْعَبْ اور کھیلے wayalʿab
اور کھیلے
وَإِنَّا اور بیشک ہم wa-innā
اور بیشک ہم
لَهُۥ اس کے لیے lahu
اس کے لیے
لَحَـٰفِظُونَ البتہ حفاظت کرنے والے ہیں laḥāfiẓūna
البتہ حفاظت کرنے والے ہیں
١٢ (۱۲)
(۱۲)
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، کچھ چَر چُگ لے گااور کھیل کُود سے بھی دِل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔“1
۱۲:۱۳
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
إِنِّى بیشک مجھے innī
بیشک مجھے
لَيَحْزُنُنِىٓ البتہ غمگین کرتی ہے مجھ (یہ بات) layaḥzununī
البتہ غمگین کرتی ہے مجھ (یہ بات)
أَن کہ an
کہ
تَذْهَبُوا۟ تم لے جاؤ tadhhabū
تم لے جاؤ
بِهِۦ اس کو bihi
اس کو
وَأَخَافُ اور میں ڈرتا ہوں wa-akhāfu
اور میں ڈرتا ہوں
أَن کہ an
کہ
يَأْكُلَهُ کھاجائے گا اس کو yakulahu
کھاجائے گا اس کو
ٱلذِّئْبُ بھیڑیا l-dhi'bu
بھیڑیا
وَأَنتُمْ اس حال میں کہ تم wa-antum
اس حال میں کہ تم
عَنْهُ اس سے ʿanhu
اس سے
غَـٰفِلُونَ غافل ہو ghāfilūna
غافل ہو
١٣ (۱۳)
(۱۳)
باپ نے کہا "تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھا ئے جبکہ تم اس سے غافل ہو"
۱۲:۱۴
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
لَئِنْ البتہ اگر la-in
البتہ اگر
أَكَلَهُ تو کھا گیا اس کو akalahu
تو کھا گیا اس کو
ٱلذِّئْبُ بھیڑیا l-dhi'bu
بھیڑیا
وَنَحْنُ جبکہ ہم wanaḥnu
جبکہ ہم
عُصْبَةٌ ایک گروہ ہیں ʿuṣ'batun
ایک گروہ ہیں
إِنَّآ بیشک ہم innā
بیشک ہم
إِذًۭا تب idhan
تب
لَّخَـٰسِرُونَ البتہ خسارہ پانے والے ہیں lakhāsirūna
البتہ خسارہ پانے والے ہیں
١٤ (۱۴)
(۱۴)
انہوں نے جواب دیا "اگر ہمارے ہوتے اسے بھڑ یے نے کھا لیا، جبکہ ہم ایک جتھا ہیں، تب تو ہم بڑے ہی نکمے ہوں گے"
۱۲:۱۵
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
ذَهَبُوا۟ وہ لے گئے dhahabū
وہ لے گئے
بِهِۦ اس کو bihi
اس کو
وَأَجْمَعُوٓا۟ اور انہوں نے اتفاق طے کرلیا wa-ajmaʿū
اور انہوں نے اتفاق طے کرلیا
أَن کہ an
کہ
يَجْعَلُوهُ ڈالیں اس کو yajʿalūhu
ڈالیں اس کو
فِى میں
میں
غَيَـٰبَتِ اندھے ghayābati
اندھے
ٱلْجُبِّ ۚ کنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں l-jubi
کنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں
وَأَوْحَيْنَآ اور وحی کی ہم نے wa-awḥaynā
اور وحی کی ہم نے
إِلَيْهِ اس کی طرف ilayhi
اس کی طرف
لَتُنَبِّئَنَّهُم البتہ تو ضرور آگاہ کرے گا ان کو latunabbi-annahum
البتہ تو ضرور آگاہ کرے گا ان کو
بِأَمْرِهِمْ ان کے کام کے بارے میں bi-amrihim
ان کے کام کے بارے میں
هَـٰذَا اس hādhā
اس
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
لَا نہ
نہ
يَشْعُرُونَ شعور رکھتے ہوں گے yashʿurūna
شعور رکھتے ہوں گے
١٥ (۱۵)
(۱۵)
س طرح اسرار کر کے جب وہ اُسے لے گئےاور انہوں نے طے کر لیا کہ اسے ایک اندھے کنوئیں میں چھوڑ دیں، تو ہم نے یُوسف کو وحی کی کہ”ایک وقت آئے گا جب تُو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں۔“1
۱۲:۱۶
وَجَآءُوٓ اور وہ آگئے wajāū
اور وہ آگئے
أَبَاهُمْ اپنے باپ کے پاس abāhum
اپنے باپ کے پاس
عِشَآءًۭ عشاء کے وقت ʿishāan
عشاء کے وقت
يَبْكُونَ روتے پیٹتے yabkūna
روتے پیٹتے
١٦ (۱۶)
(۱۶)
شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے
۱۲:۱۷
قَالُوا۟ کہنے لگے qālū
کہنے لگے
يَـٰٓأَبَانَآ اے ابا جان yāabānā
اے ابا جان
إِنَّا بیشک ہم innā
بیشک ہم
ذَهَبْنَا ہم چلے گئے تھے dhahabnā
ہم چلے گئے تھے
نَسْتَبِقُ دوڑ لگانے کے لیے nastabiqu
دوڑ لگانے کے لیے
وَتَرَكْنَا اور ہم چھوڑ گئے wataraknā
اور ہم چھوڑ گئے
يُوسُفَ یوسف کو yūsufa
یوسف کو
عِندَ پاس ʿinda
پاس
مَتَـٰعِنَا اپنے سامان کے matāʿinā
اپنے سامان کے
فَأَكَلَهُ پھر کھا گیا اس کو fa-akalahu
پھر کھا گیا اس کو
ٱلذِّئْبُ ۖ بھیڑیا l-dhi'bu
بھیڑیا
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أَنتَ تو anta
تو
بِمُؤْمِنٍۢ ماننے والا bimu'minin
ماننے والا
لَّنَا ہم کو lanā
ہم کو
وَلَوْ اور اگرچہ walaw
اور اگرچہ
كُنَّا ہوں ہم kunnā
ہوں ہم
صَـٰدِقِينَ سچ بولنے والے ṣādiqīna
سچ بولنے والے
١٧ (۱۷)
(۱۷)
اور کہا "ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اُسے کھا گیا آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں"
۱۲:۱۸
وَجَآءُو اور وہ لائے تھے wajāū
اور وہ لائے تھے
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
قَمِيصِهِۦ اس کی قمیص qamīṣihi
اس کی قمیص
بِدَمٍۢ خون bidamin
خون
كَذِبٍۢ ۚ جھوٹا kadhibin
جھوٹا
قَالَ کہا qāla
کہا
بَلْ بلکہ bal
بلکہ
سَوَّلَتْ آسان کردیا sawwalat
آسان کردیا
لَكُمْ تمہارے لیے lakum
تمہارے لیے
أَنفُسُكُمْ تمہارے نفسوں نے anfusukum
تمہارے نفسوں نے
أَمْرًۭا ۖ ایک کام کو amran
ایک کام کو
فَصَبْرٌۭ تو صبر ہی faṣabrun
تو صبر ہی
جَمِيلٌۭ ۖ اچھا ہے jamīlun
اچھا ہے
وَٱللَّهُ اور اللہ ہی ہے wal-lahu
اور اللہ ہی ہے
ٱلْمُسْتَعَانُ جس سے مدد چاہی جاسکتی ہے l-mus'taʿānu
جس سے مدد چاہی جاسکتی ہے
عَلَىٰ اس کے خلاف ʿalā
اس کے خلاف
مَا جو
جو
تَصِفُونَ تم بیان کررہے ہو taṣifūna
تم بیان کررہے ہو
١٨ (۱۸)
(۱۸)
اور و ہ یُوسف کی قمیص پر جھُوٹ مُوٹ کا خون لگا کر لے آئے تھے۔ یہ سُن کر اُن کے باپ نے کہا”بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا۔ اچھا، صبر کروں گااور بخوبی کروں گا،1 جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔“2
۱۲:۱۹
وَجَآءَتْ اور آیا wajāat
اور آیا
سَيَّارَةٌۭ ایک قافلہ sayyāratun
ایک قافلہ
فَأَرْسَلُوا۟ تو انہوں نے بھیجا fa-arsalū
تو انہوں نے بھیجا
وَارِدَهُمْ اپنا پانی پلانے والا wāridahum
اپنا پانی پلانے والا
فَأَدْلَىٰ تو اس نے ڈالا fa-adlā
تو اس نے ڈالا
دَلْوَهُۥ ۖ اپنا ڈول dalwahu
اپنا ڈول
قَالَ بولا qāla
بولا
يَـٰبُشْرَىٰ واہ خوش خبری yābush'rā
واہ خوش خبری
هَـٰذَا یہ hādhā
یہ
غُلَـٰمٌۭ ۚ تو ایک لڑکا ہے ghulāmun
تو ایک لڑکا ہے
وَأَسَرُّوهُ اور انہوں نے چھپالیا اس کو wa-asarrūhu
اور انہوں نے چھپالیا اس کو
بِضَـٰعَةًۭ ۚ سامان سمجھ کر۔ مال تجارت سمجھ کر biḍāʿatan
سامان سمجھ کر۔ مال تجارت سمجھ کر
وَٱللَّهُ اور اللہ wal-lahu
اور اللہ
عَلِيمٌۢ علم والا ہے ʿalīmun
علم والا ہے
بِمَا ساتھ اس کے جو bimā
ساتھ اس کے جو
يَعْمَلُونَ وہ کررہے تھے yaʿmalūna
وہ کررہے تھے
١٩ (۱۹)
(۱۹)
ادھر ایک قافلہ آیا اور اُس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیجا سقے نے جو کنویں میں ڈول ڈالا تو (یوسفؑ کو دیکھ کر) پکار اٹھا "مبارک ہو، یہاں تو ایک لڑکا ہے" ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا، حالانکہ جو کچھ وہ کر رہے تھے خدا اس سے باخبر تھا
۱۲:۲۰
وَشَرَوْهُ اور انہوں نے بیچ ڈالا اس کو washarawhu
اور انہوں نے بیچ ڈالا اس کو
بِثَمَنٍۭ قیمت پر bithamanin
قیمت پر
بَخْسٍۢ کم bakhsin
کم
دَرَٰهِمَ درہموں میں darāhima
درہموں میں
مَعْدُودَةٍۢ گنے چنے maʿdūdatin
گنے چنے
وَكَانُوا۟ اور وہ تھے wakānū
اور وہ تھے
فِيهِ اس کے بارے میں fīhi
اس کے بارے میں
مِنَ سے mina
سے
ٱلزَّٰهِدِينَ بےرغبت لوگوں میں سے l-zāhidīna
بےرغبت لوگوں میں سے
٢٠ (۲۰)
(۲۰)
آخرِ کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا1 اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے اُمیدوار نہ تھے
۱۲:۲۱
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
ٱلَّذِى اس شخص نے alladhī
اس شخص نے
ٱشْتَرَىٰهُ جس نے خریدا تھا اس کو ish'tarāhu
جس نے خریدا تھا اس کو
مِن سے min
سے
مِّصْرَ مصر سے miṣ'ra
مصر سے
لِٱمْرَأَتِهِۦٓ اپنی بیوی کو li-im'ra-atihi
اپنی بیوی کو
أَكْرِمِى باعزت رکھ۔ عزت کے ساتھ دے akrimī
باعزت رکھ۔ عزت کے ساتھ دے
مَثْوَىٰهُ ٹھکانہ اس کو mathwāhu
ٹھکانہ اس کو
عَسَىٰٓ امید ہے ʿasā
امید ہے
أَن کہ an
کہ
يَنفَعَنَآ نفع دے گا ہم کو yanfaʿanā
نفع دے گا ہم کو
أَوْ یا aw
یا
نَتَّخِذَهُۥ ہم بنالیں گے اس کو nattakhidhahu
ہم بنالیں گے اس کو
وَلَدًۭا ۚ بیٹا waladan
بیٹا
وَكَذَٰلِكَ اور اسی طرح wakadhālika
اور اسی طرح
مَكَّنَّا ٹھکانہ دیا ہم نے makkannā
ٹھکانہ دیا ہم نے
لِيُوسُفَ یوسف کو liyūsufa
یوسف کو
فِى میں
میں
ٱلْأَرْضِ زمین میں l-arḍi
زمین میں
وَلِنُعَلِّمَهُۥ اور تاکہ ہم سکھائیں اس کو walinuʿallimahu
اور تاکہ ہم سکھائیں اس کو
مِن سے min
سے
تَأْوِيلِ مطلب مٰیں سے tawīli
مطلب مٰیں سے
ٱلْأَحَادِيثِ ۚ باتوں کے (مطلب مٰیں سے) l-aḥādīthi
باتوں کے (مطلب مٰیں سے)
وَٱللَّهُ اور اللہ تعالیٰ wal-lahu
اور اللہ تعالیٰ
غَالِبٌ غالب ہے ghālibun
غالب ہے
عَلَىٰٓ میں۔ پر ʿalā
میں۔ پر
أَمْرِهِۦ اپنے فیصلے (میں) اپنے کام پر amrihi
اپنے فیصلے (میں) اپنے کام پر
وَلَـٰكِنَّ اور لیکن walākinna
اور لیکن
أَكْثَرَ اکثر akthara
اکثر
ٱلنَّاسِ لوگ l-nāsi
لوگ
لَا نہیں
نہیں
يَعْلَمُونَ علم رکھتے yaʿlamūna
علم رکھتے
٢١ (۲۱)
(۲۱)
مصر میں جس شخص نے اسے خریدا1 اُس نے اپنی بیوی2 سے کہا ”اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔“3 اس طرح ہم نے یُوسف کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صُورت نکالی اور اُسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔ 4اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
۱۲:۲۲
وَلَمَّا اور جب walammā
اور جب
بَلَغَ وہ پہنچا balagha
وہ پہنچا
أَشُدَّهُۥٓ اپنی جوانی کو ashuddahu
اپنی جوانی کو
ءَاتَيْنَـٰهُ دی ہم نے اس کو ātaynāhu
دی ہم نے اس کو
حُكْمًۭا قوت فیصلہ ḥuk'man
قوت فیصلہ
وَعِلْمًۭا ۚ اور علم waʿil'man
اور علم
وَكَذَٰلِكَ اور اسی طرح wakadhālika
اور اسی طرح
نَجْزِى ہم جزا دیتے ہیں najzī
ہم جزا دیتے ہیں
ٱلْمُحْسِنِينَ احسان کرنے والوں کو l-muḥ'sinīna
احسان کرنے والوں کو
٢٢ (۲۲)
(۲۲)
اور جب وہ اپنی پُوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اُسے قوتِ فیصلہ اور علم عطا کیا،1 اِس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں
۱۲:۲۳
وَرَٰوَدَتْهُ اور پھسلانا چاہا اس کو warāwadathu
اور پھسلانا چاہا اس کو
ٱلَّتِى اس عورت نے allatī
اس عورت نے
هُوَ وہ huwa
وہ
فِى میں
میں
بَيْتِهَا جس کے گھر میں تھے baytihā
جس کے گھر میں تھے
عَن سے ʿan
سے
نَّفْسِهِۦ اس کے نفس سے nafsihi
اس کے نفس سے
وَغَلَّقَتِ اور بند کرلیے waghallaqati
اور بند کرلیے
ٱلْأَبْوَٰبَ دروازے l-abwāba
دروازے
وَقَالَتْ اور بولی waqālat
اور بولی
هَيْتَ آجاؤ hayta
آجاؤ
لَكَ ۚ تم laka
تم
قَالَ بولے qāla
بولے
مَعَاذَ پناہ maʿādha
پناہ
ٱللَّهِ ۖ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
إِنَّهُۥ بیشک وہ innahu
بیشک وہ
رَبِّىٓ میرا رب ہے rabbī
میرا رب ہے
أَحْسَنَ جس نے اچھا دیا aḥsana
جس نے اچھا دیا
مَثْوَاىَ ۖ مجھے ٹھکانہ mathwāya
مجھے ٹھکانہ
إِنَّهُۥ بیشک وہ innahu
بیشک وہ
لَا نہیں
نہیں
يُفْلِحُ فلاح پاتے yuf'liḥu
فلاح پاتے
ٱلظَّـٰلِمُونَ وہ جو ظالم ہیں l-ẓālimūna
وہ جو ظالم ہیں
٢٣ (۲۳)
(۲۳)
جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اُس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کر کے بولی”آجا۔“ یُوسف نے کہا”خدا کی پناہ، میرے ربّ نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی(اور میں یہ کام کروں!)ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔“1
۱۲:۲۴
وَلَقَدْ اور البتہ تحقیق walaqad
اور البتہ تحقیق
هَمَّتْ اس عورت نے ارادہ کیا hammat
اس عورت نے ارادہ کیا
بِهِۦ ۖ اس کا bihi
اس کا
وَهَمَّ اور وہ بھی ارادہ کرلیتا wahamma
اور وہ بھی ارادہ کرلیتا
بِهَا اس کا bihā
اس کا
لَوْلَآ اگر نہ lawlā
اگر نہ
أَن کہ an
کہ
رَّءَا وہ دیکھ لیتا raā
وہ دیکھ لیتا
بُرْهَـٰنَ برہان bur'hāna
برہان
رَبِّهِۦ ۚ اپنے رب کی rabbihi
اپنے رب کی
كَذَٰلِكَ اسی طرح kadhālika
اسی طرح
لِنَصْرِفَ تاکہ ہم پھیر دیں linaṣrifa
تاکہ ہم پھیر دیں
عَنْهُ اس سے ʿanhu
اس سے
ٱلسُّوٓءَ برائی کو l-sūa
برائی کو
وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ اور بےحیائی کو wal-faḥshāa
اور بےحیائی کو
إِنَّهُۥ کیونکہ وہ innahu
کیونکہ وہ
مِنْ سے min
سے
عِبَادِنَا ہمارے بندوں میں (سے) تھا ʿibādinā
ہمارے بندوں میں (سے) تھا
ٱلْمُخْلَصِينَ چنے ہوئے l-mukh'laṣīna
چنے ہوئے
٢٤ (۲۴)
(۲۴)
وہ اُس کی طرف بڑھی اور یُوسف بھی اُس کی طرف بڑھتا اگر اپنے ربّ کی بُرہان نہ دیکھ لیتا۔1 ایسا ہُوا، تاکہ ہم اُس سے بدی اور بے حیائی کو دُور کر دیں،2 در حقیقت وہ ہمارے چُنے ہوئے بندوں میں سے تھا
۱۲:۲۵
وَٱسْتَبَقَا اور وہ دونوں بڑھے wa-is'tabaqā
اور وہ دونوں بڑھے
ٱلْبَابَ دروازے کی طرف l-bāba
دروازے کی طرف
وَقَدَّتْ اور اس عورت نے پھاڑ دیا waqaddat
اور اس عورت نے پھاڑ دیا
قَمِيصَهُۥ اس کا قمیص qamīṣahu
اس کا قمیص
مِن سے min
سے
دُبُرٍۢ پچھلی طرف سے duburin
پچھلی طرف سے
وَأَلْفَيَا اور دونوں نے پایا wa-alfayā
اور دونوں نے پایا
سَيِّدَهَا اس کے شوہر کو sayyidahā
اس کے شوہر کو
لَدَا پاس ladā
پاس
ٱلْبَابِ ۚ دروازے کے (پاس) l-bābi
دروازے کے (پاس)
قَالَتْ بول اٹھی qālat
بول اٹھی
مَا کیا
کیا
جَزَآءُ بدلہ ہوسکتا ہے jazāu
بدلہ ہوسکتا ہے
مَنْ جو man
جو
أَرَادَ ارادہ کرے arāda
ارادہ کرے
بِأَهْلِكَ تیری گھروالی کے ساتھ bi-ahlika
تیری گھروالی کے ساتھ
سُوٓءًا برائی کا sūan
برائی کا
إِلَّآ مگر illā
مگر
أَن یہ کہ an
یہ کہ
يُسْجَنَ قید کیا جائے yus'jana
قید کیا جائے
أَوْ یا aw
یا
عَذَابٌ سزا دیا جائے ʿadhābun
سزا دیا جائے
أَلِيمٌۭ دردناک alīmun
دردناک
٢٥ (۲۵)
(۲۵)
آخر کار یوسفؑ اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسفؑ کا قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دیا دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی، "کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے؟ اِس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے"
۱۲:۲۶
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
هِىَ یہ hiya
یہ
رَٰوَدَتْنِى پھسلانا چاہتی تھی تجھ کو rāwadatnī
پھسلانا چاہتی تھی تجھ کو
عَن سے ʿan
سے
نَّفْسِى ۚ میرے نفس nafsī
میرے نفس
وَشَهِدَ اور گواہی دی washahida
اور گواہی دی
شَاهِدٌۭ ایک گواہ نے shāhidun
ایک گواہ نے
مِّنْ سے min
سے
أَهْلِهَآ اس کے گھروالوں میں سے ahlihā
اس کے گھروالوں میں سے
إِن اگر in
اگر
كَانَ ہے kāna
ہے
قَمِيصُهُۥ اس کی قمیص qamīṣuhu
اس کی قمیص
قُدَّ پھاڑی گئی qudda
پھاڑی گئی
مِن سے min
سے
قُبُلٍۢ سامنے سے qubulin
سامنے سے
فَصَدَقَتْ تو یہ سچی ہے faṣadaqat
تو یہ سچی ہے
وَهُوَ اور وہ wahuwa
اور وہ
مِنَ سے mina
سے
ٱلْكَـٰذِبِينَ جھوٹوں میں سے ہے l-kādhibīna
جھوٹوں میں سے ہے
٢٦ (۲۶)
(۲۶)
یُوسُف ؑ نے کہا”یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی۔“ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے(قرینے کی)شہادت پیش کی1 کہ ”اگر یُوسُف ؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھُوٹا
۱۲:۲۷
وَإِن اور اگر wa-in
اور اگر
كَانَ ہے kāna
ہے
قَمِيصُهُۥ اس کی قمیص qamīṣuhu
اس کی قمیص
قُدَّ پھاڑی گئی qudda
پھاڑی گئی
مِن سے min
سے
دُبُرٍۢ پچھلی طرف duburin
پچھلی طرف
فَكَذَبَتْ تو وہ جھوٹی ہے fakadhabat
تو وہ جھوٹی ہے
وَهُوَ اور وہ wahuwa
اور وہ
مِنَ سے mina
سے
ٱلصَّـٰدِقِينَ سچوں میں سے ہے l-ṣādiqīna
سچوں میں سے ہے
٢٧ (۲۷)
(۲۷)
اور اگر اِس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھُوٹی ہے اور یہ سچا۔“1
۱۲:۲۸
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
رَءَا اس نے دیکھا raā
اس نے دیکھا
قَمِيصَهُۥ اس کی قمیص کو qamīṣahu
اس کی قمیص کو
قُدَّ پھاڑ دی گئی ہے qudda
پھاڑ دی گئی ہے
مِن سے min
سے
دُبُرٍۢ پچھلی طرف سے duburin
پچھلی طرف سے
قَالَ کہا۔ بولا qāla
کہا۔ بولا
إِنَّهُۥ بیشک وہ innahu
بیشک وہ
مِن سے min
سے
كَيْدِكُنَّ ۖ تم عورتوں کی چال میں سے ہے kaydikunna
تم عورتوں کی چال میں سے ہے
إِنَّ بیشک inna
بیشک
كَيْدَكُنَّ تم عورتوں کی چالیں kaydakunna
تم عورتوں کی چالیں
عَظِيمٌۭ بہت بڑی ہوتی ہیں ʿaẓīmun
بہت بڑی ہوتی ہیں
٢٨ (۲۸)
(۲۸)
جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا "یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑ ے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں
۱۲:۲۹
يُوسُفُ یوسف yūsufu
یوسف
أَعْرِضْ درگزر کرو aʿriḍ
درگزر کرو
عَنْ سے ʿan
سے
هَـٰذَا ۚ اس (سے) hādhā
اس (سے)
وَٱسْتَغْفِرِى اور بخشش مانگ wa-is'taghfirī
اور بخشش مانگ
لِذَنۢبِكِ ۖ اے عورت اپنے گناہ کی lidhanbiki
اے عورت اپنے گناہ کی
إِنَّكِ کیونکہ تو innaki
کیونکہ تو
كُنتِ ہی ہے تو kunti
ہی ہے تو
مِنَ سے mina
سے
ٱلْخَاطِـِٔينَ خطا کاروں میں سے l-khāṭiīna
خطا کاروں میں سے
٢٩ (۲۹)
(۲۹)
یُوسُف، اس معاملے سے درگزر کر، اور اے عورت، تُو اپنے قصُور کی معافی مانگ، تُو ہی اصل میں خطا کار تھی۔“1
۱۲:۳۰
۞ وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
نِسْوَةٌۭ عورتوں نے nis'watun
عورتوں نے
فِى میں
میں
ٱلْمَدِينَةِ شہر l-madīnati
شہر
ٱمْرَأَتُ بیوی۔ عورت im'ra-atu
بیوی۔ عورت
ٱلْعَزِيزِ عزیز کی l-ʿazīzi
عزیز کی
تُرَٰوِدُ اکساتی ہے۔ پھسلاتی ہے turāwidu
اکساتی ہے۔ پھسلاتی ہے
فَتَىٰهَا اس کو fatāhā
اس کو
عَن سے ʿan
سے
نَّفْسِهِۦ ۖ اس کے نفس سے nafsihi
اس کے نفس سے
قَدْ تحقیق qad
تحقیق
شَغَفَهَا بےقابو کررکھا ہے اس کو shaghafahā
بےقابو کررکھا ہے اس کو
حُبًّا ۖ محبت نے ḥubban
محبت نے
إِنَّا بیشک ہم innā
بیشک ہم
لَنَرَىٰهَا البتہ ہم دیکھتے ہیں اس کو lanarāhā
البتہ ہم دیکھتے ہیں اس کو
فِى میں
میں
ضَلَـٰلٍۢ گمراہی ḍalālin
گمراہی
مُّبِينٍۢ کھلی mubīnin
کھلی
٣٠ (۳۰)
(۳۰)
شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ "عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کر رکھا ہے، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے"
۱۲:۳۱
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
سَمِعَتْ اس نے سنا samiʿat
اس نے سنا
بِمَكْرِهِنَّ ان عورتوں کے مکر کو bimakrihinna
ان عورتوں کے مکر کو
أَرْسَلَتْ اس نے بھیجا arsalat
اس نے بھیجا
إِلَيْهِنَّ ان کی طرف (بلا بھیجنا ان کو) ilayhinna
ان کی طرف (بلا بھیجنا ان کو)
وَأَعْتَدَتْ اور تیار کیں wa-aʿtadat
اور تیار کیں
لَهُنَّ ان کے لیے lahunna
ان کے لیے
مُتَّكَـًۭٔا تکیہ لگانے کی جگہ (مجلس) muttaka-an
تکیہ لگانے کی جگہ (مجلس)
وَءَاتَتْ اور دی waātat
اور دی
كُلَّ ہر kulla
ہر
وَٰحِدَةٍۢ ایک عورت کو wāḥidatin
ایک عورت کو
مِّنْهُنَّ ان میں سے min'hunna
ان میں سے
سِكِّينًۭا ایک چھری sikkīnan
ایک چھری
وَقَالَتِ اور کہنے لگی waqālati
اور کہنے لگی
ٱخْرُجْ نکل آ ukh'ruj
نکل آ
عَلَيْهِنَّ ۖ ان پر ʿalayhinna
ان پر
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
رَأَيْنَهُۥٓ ان عورتوں نے دیکھا اس کو ra-aynahu
ان عورتوں نے دیکھا اس کو
أَكْبَرْنَهُۥ بڑا سمجھا اس کو۔ مرعوب ہوگئیں اس سے akbarnahu
بڑا سمجھا اس کو۔ مرعوب ہوگئیں اس سے
وَقَطَّعْنَ اور کاٹ بیٹھیں waqaṭṭaʿna
اور کاٹ بیٹھیں
أَيْدِيَهُنَّ اپنے ہاتھ aydiyahunna
اپنے ہاتھ
وَقُلْنَ اور کہنے لگیں waqul'na
اور کہنے لگیں
حَـٰشَ حاش۔پاکی ḥāsha
حاش۔پاکی
لِلَّهِ للہ۔ پاکی ہے اللہ کے لیے lillahi
للہ۔ پاکی ہے اللہ کے لیے
مَا نہیں
نہیں
هَـٰذَا ہے یہ hādhā
ہے یہ
بَشَرًا ایک انسان basharan
ایک انسان
إِنْ نہیں in
نہیں
هَـٰذَآ یہ hādhā
یہ
إِلَّا مگر illā
مگر
مَلَكٌۭ ایک فرشتہ malakun
ایک فرشتہ
كَرِيمٌۭ معزز karīmun
معزز
٣١ (۳۱)
(۳۱)
اس نے جو اُن کی یہ مکّارانہ باتیں سُنیں تو اُن کو بُلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی1 اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک ایک چھُری رکھ دی۔ (پھر عین اُس وقت جب کہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں)اس نے یُوسُف کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ۔ جب ان عورتوں کی نگاہ اُس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پُکار اُٹھیں”حاشالِلّٰہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔“
۱۲:۳۲
قَالَتْ وہ کہنے لگی qālat
وہ کہنے لگی
فَذَٰلِكُنَّ تو یہ ہے fadhālikunna
تو یہ ہے
ٱلَّذِى وہ شخص alladhī
وہ شخص
لُمْتُنَّنِى تم ملامت کرتی تھیں مجھ کو lum'tunnanī
تم ملامت کرتی تھیں مجھ کو
فِيهِ ۖ اس کے بارے میں fīhi
اس کے بارے میں
وَلَقَدْ اور البتہ تحقیق walaqad
اور البتہ تحقیق
رَٰوَدتُّهُۥ میں نے پھسلانا چاہا اس کو rāwadttuhu
میں نے پھسلانا چاہا اس کو
عَن سے ʿan
سے
نَّفْسِهِۦ اس کے نفس سے nafsihi
اس کے نفس سے
فَٱسْتَعْصَمَ ۖ تو بچا گیا۔ بچ نکلا fa-is'taʿṣama
تو بچا گیا۔ بچ نکلا
وَلَئِن اور البتہ اگر wala-in
اور البتہ اگر
لَّمْ نہ lam
نہ
يَفْعَلْ کرے yafʿal
کرے
مَآ جو
جو
ءَامُرُهُۥ میں حکم دیتی ہوں اس کو āmuruhu
میں حکم دیتی ہوں اس کو
لَيُسْجَنَنَّ البتہ ضرور قید کیا جائے گا layus'jananna
البتہ ضرور قید کیا جائے گا
وَلَيَكُونًۭا اور البتہ ہوجائے گا walayakūnan
اور البتہ ہوجائے گا
مِّنَ سے mina
سے
ٱلصَّـٰغِرِينَ ذلیل ہونے والوں میں سے l-ṣāghirīna
ذلیل ہونے والوں میں سے
٣٢ (۳۲)
(۳۲)
عزیز کی بیوی نے کہا”دیکھ لیا! یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں۔ بےشک میں نے اِسے رجہانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نِکلا۔ اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔“1
۱۲:۳۳
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
رَبِّ اے میرے رب rabbi
اے میرے رب
ٱلسِّجْنُ قیدخانہ l-sij'nu
قیدخانہ
أَحَبُّ زیادہ پیارا ہے aḥabbu
زیادہ پیارا ہے
إِلَىَّ میری طرف ilayya
میری طرف
مِمَّا اس سے جو mimmā
اس سے جو
يَدْعُونَنِىٓ وہ بلاتی ہیں مجھ کو yadʿūnanī
وہ بلاتی ہیں مجھ کو
إِلَيْهِ ۖ اس کی طرف ilayhi
اس کی طرف
وَإِلَّا اور اگر نہیں wa-illā
اور اگر نہیں
تَصْرِفْ تو پھیرے گا taṣrif
تو پھیرے گا
عَنِّى مجھ سے ʿannī
مجھ سے
كَيْدَهُنَّ ان عورتوں کی چال کو kaydahunna
ان عورتوں کی چال کو
أَصْبُ میں مائل ہوجاؤں گا aṣbu
میں مائل ہوجاؤں گا
إِلَيْهِنَّ ان کی طرف ilayhinna
ان کی طرف
وَأَكُن اور میں ہوجاؤں گا wa-akun
اور میں ہوجاؤں گا
مِّنَ سے mina
سے
ٱلْجَـٰهِلِينَ جاہلوں میں سے l-jāhilīna
جاہلوں میں سے
٣٣ (۳۳)
(۳۳)
یُوسُف ؑ نے کہا ”اے میرے ربّ! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں۔ اور اگر تُو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاوٴں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں 1گا“
۱۲:۳۴
فَٱسْتَجَابَ تو دعا قبول کرلی fa-is'tajāba
تو دعا قبول کرلی
لَهُۥ اس کے لیے lahu
اس کے لیے
رَبُّهُۥ اس کے رب نے rabbuhu
اس کے رب نے
فَصَرَفَ تو دور کردیں۔ پھیر دیں faṣarafa
تو دور کردیں۔ پھیر دیں
عَنْهُ اس سے ʿanhu
اس سے
كَيْدَهُنَّ ۚ ان عورتوں کی چال kaydahunna
ان عورتوں کی چال
إِنَّهُۥ بیشک وہ innahu
بیشک وہ
هُوَ وہ huwa
وہ
ٱلسَّمِيعُ سننے والا ہے l-samīʿu
سننے والا ہے
ٱلْعَلِيمُ جاننے والا ہے l-ʿalīmu
جاننے والا ہے
٣٤ (۳۴)
(۳۴)
اس کے ربّ نے اس کی دُعا قبول کی اور اُن عورتوں کی چالیں اس سے دفع کر دیں،1 بے شک وہی ہے جو سب کی سُنتااور سب کچھ جانتا ہے
۱۲:۳۵
ثُمَّ پھر thumma
پھر
بَدَا ظاہر ہوگیا badā
ظاہر ہوگیا
لَهُم ان کے لیے lahum
ان کے لیے
مِّنۢ کے min
کے
بَعْدِ اس کے بعد baʿdi
اس کے بعد
مَا جو
جو
رَأَوُا۟ انہوں نے دیکھیں ra-awū
انہوں نے دیکھیں
ٱلْـَٔايَـٰتِ نشانیاں l-āyāti
نشانیاں
لَيَسْجُنُنَّهُۥ البتہ ضرور قید کردیں گے اس کو layasjununnahu
البتہ ضرور قید کردیں گے اس کو
حَتَّىٰ تک ḥattā
تک
حِينٍۢ ایک وقت ḥīnin
ایک وقت
٣٥ (۳۵)
(۳۵)
پھر ان لوگوں کو یہ سُوجھی کہ ایک مُدّت کے لیے اسے قید کر دیں حالانکہ وہ (اس کی پاکدامنی اور خود اپنی عورتوں کے بُرے اطوار کی)صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے۔1
۱۲:۳۶
وَدَخَلَ اور داخل ہوئے wadakhala
اور داخل ہوئے
مَعَهُ اس کے ساتھ maʿahu
اس کے ساتھ
ٱلسِّجْنَ قید خانہ میں l-sij'na
قید خانہ میں
فَتَيَانِ ۖ دو غلام fatayāni
دو غلام
قَالَ کہا qāla
کہا
أَحَدُهُمَآ ان دونوں میں سے ایک نے aḥaduhumā
ان دونوں میں سے ایک نے
إِنِّىٓ بیشک میں innī
بیشک میں
أَرَىٰنِىٓ میں دیکھتا ہوں خود کو arānī
میں دیکھتا ہوں خود کو
أَعْصِرُ میں نچوڑ رہا ہوں aʿṣiru
میں نچوڑ رہا ہوں
خَمْرًۭا ۖ شراب khamran
شراب
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
ٱلْـَٔاخَرُ دوسرے نے l-ākharu
دوسرے نے
إِنِّىٓ بیشک میں innī
بیشک میں
أَرَىٰنِىٓ دیکھتا ہوں خود کو arānī
دیکھتا ہوں خود کو
أَحْمِلُ کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں aḥmilu
کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں
فَوْقَ اوپر fawqa
اوپر
رَأْسِى اپنے سر کے rasī
اپنے سر کے
خُبْزًۭا روٹی khub'zan
روٹی
تَأْكُلُ کھاتے ہیں takulu
کھاتے ہیں
ٱلطَّيْرُ پرندے l-ṭayru
پرندے
مِنْهُ ۖ اس میں سے min'hu
اس میں سے
نَبِّئْنَا بتاؤ ہم کو nabbi'nā
بتاؤ ہم کو
بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ اس کی تعبیر۔ مطلب bitawīlihi
اس کی تعبیر۔ مطلب
إِنَّا بیشک ہم innā
بیشک ہم
نَرَىٰكَ ہم دیکھتے ہیں تجھ کو narāka
ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
مِنَ سے mina
سے
ٱلْمُحْسِنِينَ محسنین میں سے l-muḥ'sinīna
محسنین میں سے
٣٦ (۳۶)
(۳۶)
قید خانہ میں1 دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے۔2 ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشِید کر رہا ہوں۔“ دُوسرے نے کہا”میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں۔“ دونوں نے کہا ”ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔“3
۱۲:۳۷
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
لَا نہیں
نہیں
يَأْتِيكُمَا آئے گا تم دونوں کے پاس yatīkumā
آئے گا تم دونوں کے پاس
طَعَامٌۭ کھانا ṭaʿāmun
کھانا
تُرْزَقَانِهِۦٓ تم کھلائے جاتے ہو اس کو tur'zaqānihi
تم کھلائے جاتے ہو اس کو
إِلَّا مگر illā
مگر
نَبَّأْتُكُمَا میں بتادوں گا تم دونوں کو nabbatukumā
میں بتادوں گا تم دونوں کو
بِتَأْوِيلِهِۦ اس کی تعبیر bitawīlihi
اس کی تعبیر
قَبْلَ اس سے پہلے qabla
اس سے پہلے
أَن کہ an
کہ
يَأْتِيَكُمَا ۚ وہ آئے تم دونوں کے پاس yatiyakumā
وہ آئے تم دونوں کے پاس
ذَٰلِكُمَا یہ dhālikumā
یہ
مِمَّا اس میں سے ہے جو mimmā
اس میں سے ہے جو
عَلَّمَنِى سکھایا مجھ کو ʿallamanī
سکھایا مجھ کو
رَبِّىٓ ۚ میرے رب نے rabbī
میرے رب نے
إِنِّى بیشک میں innī
بیشک میں
تَرَكْتُ میں نے چھوڑ دیا taraktu
میں نے چھوڑ دیا
مِلَّةَ ملت کو millata
ملت کو
قَوْمٍۢ ایک قوم کی qawmin
ایک قوم کی
لَّا نہیں
نہیں
يُؤْمِنُونَ جو ایمان رکھتی yu'minūna
جو ایمان رکھتی
بِٱللَّهِ اللہ پر bil-lahi
اللہ پر
وَهُم اور وہ wahum
اور وہ
بِٱلْـَٔاخِرَةِ آخرت کے ساتھ bil-ākhirati
آخرت کے ساتھ
هُمْ وہ hum
وہ
كَـٰفِرُونَ انکاری ہیں kāfirūna
انکاری ہیں
٣٧ (۳۷)
(۳۷)
یوسفؑ نے کہا: "یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں اِن خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا یہ علم اُن علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیے ہیں واقعہ یہ ہے کہ میں نے اُن لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں
۱۲:۳۸
وَٱتَّبَعْتُ اور میں نے پیروی کی wa-ittabaʿtu
اور میں نے پیروی کی
مِلَّةَ ملت کی millata
ملت کی
ءَابَآءِىٓ اپنے آباء کی ābāī
اپنے آباء کی
إِبْرَٰهِيمَ ابراہیم ib'rāhīma
ابراہیم
وَإِسْحَـٰقَ اور اسحاق wa-is'ḥāqa
اور اسحاق
وَيَعْقُوبَ ۚ اور یعقوب wayaʿqūba
اور یعقوب
مَا نہیں
نہیں
كَانَ ہے kāna
ہے
لَنَآ ہمارے لیے lanā
ہمارے لیے
أَن کہ an
کہ
نُّشْرِكَ ہم شریک ٹھہرائیں nush'rika
ہم شریک ٹھہرائیں
بِٱللَّهِ ساتھ اللہ کے bil-lahi
ساتھ اللہ کے
مِن کسی min
کسی
شَىْءٍۢ ۚ چیز کو shayin
چیز کو
ذَٰلِكَ یہ dhālika
یہ
مِن کے min
کے
فَضْلِ فضل میں سے ہے faḍli
فضل میں سے ہے
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
عَلَيْنَا ہم پر ʿalaynā
ہم پر
وَعَلَى اور پر waʿalā
اور پر
ٱلنَّاسِ لوگوں l-nāsi
لوگوں
وَلَـٰكِنَّ اور لیکن walākinna
اور لیکن
أَكْثَرَ اکثر akthara
اکثر
ٱلنَّاسِ لوگ l-nāsi
لوگ
لَا نہیں
نہیں
يَشْكُرُونَ شکرادا کرتے yashkurūna
شکرادا کرتے
٣٨ (۳۸)
(۳۸)
اپنے بزرگوں، ابراہیمؑ، اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا طریقہ اختیار کیا ہے ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائیں در حقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
۱۲:۳۹
يَـٰصَـٰحِبَىِ اے میرے دو ساتھیو yāṣāḥibayi
اے میرے دو ساتھیو
ٱلسِّجْنِ قیدخانے کے l-sij'ni
قیدخانے کے
ءَأَرْبَابٌۭ کیا بہت سے رب a-arbābun
کیا بہت سے رب
مُّتَفَرِّقُونَ مختلف قسم کے mutafarriqūna
مختلف قسم کے
خَيْرٌ بہتر ہیں khayrun
بہتر ہیں
أَمِ یا ami
یا
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
ٱلْوَٰحِدُ جو ایک ہے l-wāḥidu
جو ایک ہے
ٱلْقَهَّارُ زبردست ہے l-qahāru
زبردست ہے
٣٩ (۳۹)
(۳۹)
اے زنداں کے ساتھیو، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب غالب ہے؟
۱۲:۴۰
مَا نہیں
نہیں
تَعْبُدُونَ تم عبادت کرتے taʿbudūna
تم عبادت کرتے
مِن کے min
کے
دُونِهِۦٓ اس کے سوا dūnihi
اس کے سوا
إِلَّآ مگر illā
مگر
أَسْمَآءًۭ کچھ ناموں کی asmāan
کچھ ناموں کی
سَمَّيْتُمُوهَآ نام رکھ لیے تم نے ان کے sammaytumūhā
نام رکھ لیے تم نے ان کے
أَنتُمْ تم نے antum
تم نے
وَءَابَآؤُكُم اور تمہارے آباؤ اجداد نے waābāukum
اور تمہارے آباؤ اجداد نے
مَّآ نہیں
نہیں
أَنزَلَ اتاری anzala
اتاری
ٱللَّهُ اللہ نے l-lahu
اللہ نے
بِهَا ان کے ساتھ bihā
ان کے ساتھ
مِن کوئی min
کوئی
سُلْطَـٰنٍ ۚ دلیل sul'ṭānin
دلیل
إِنِ نہیں ini
نہیں
ٱلْحُكْمُ فیصلہ۔ حکم l-ḥuk'mu
فیصلہ۔ حکم
إِلَّا مگر illā
مگر
لِلَّهِ ۚ اللہ ہی کے لیے lillahi
اللہ ہی کے لیے
أَمَرَ اس نے حکم دیا amara
اس نے حکم دیا
أَلَّا کہ نہ allā
کہ نہ
تَعْبُدُوٓا۟ تم عبادت کرو taʿbudū
تم عبادت کرو
إِلَّآ مگر illā
مگر
إِيَّاهُ ۚ صرف اسی کی iyyāhu
صرف اسی کی
ذَٰلِكَ یہ dhālika
یہ
ٱلدِّينُ دین ہے l-dīnu
دین ہے
ٱلْقَيِّمُ درست l-qayimu
درست
وَلَـٰكِنَّ لیکن walākinna
لیکن
أَكْثَرَ اکثر akthara
اکثر
ٱلنَّاسِ لوگ l-nāsi
لوگ
لَا نہیں
نہیں
يَعْلَمُونَ جانتے ہیں yaʿlamūna
جانتے ہیں
٤٠ (۴۰)
(۴۰)
اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
۱۲:۴۱
يَـٰصَـٰحِبَىِ اے زنداں کے دونوں ساتھیو ! yāṣāḥibayi
اے زنداں کے دونوں ساتھیو !
ٱلسِّجْنِ قیدخانہ کے l-sij'ni
قیدخانہ کے
أَمَّآ رہا ammā
رہا
أَحَدُكُمَا تم دونوں میں سے ایک aḥadukumā
تم دونوں میں سے ایک
فَيَسْقِى پس وہ پلائے گا fayasqī
پس وہ پلائے گا
رَبَّهُۥ اپنے رب کو rabbahu
اپنے رب کو
خَمْرًۭا ۖ شراب khamran
شراب
وَأَمَّا اور لیکن wa-ammā
اور لیکن
ٱلْـَٔاخَرُ دوسرا l-ākharu
دوسرا
فَيُصْلَبُ پس وہ سولی چڑھایا جائے گا fayuṣ'labu
پس وہ سولی چڑھایا جائے گا
فَتَأْكُلُ تو کھائیں گے fatakulu
تو کھائیں گے
ٱلطَّيْرُ پرندے l-ṭayru
پرندے
مِن سے min
سے
رَّأْسِهِۦ ۚ اس کے سر میں سے rasihi
اس کے سر میں سے
قُضِىَ فیصلہ کردیا گیا quḍiya
فیصلہ کردیا گیا
ٱلْأَمْرُ معاملے کا l-amru
معاملے کا
ٱلَّذِى وہ جو alladhī
وہ جو
فِيهِ جس میں fīhi
جس میں
تَسْتَفْتِيَانِ تم دونوں جواب مانگتے ہو tastaftiyāni
تم دونوں جواب مانگتے ہو
٤١ (۴۱)
(۴۱)
اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے ربّ (شاہِ مصر)کو شراب پلائے گا، رہا دُوسرا تو اسے سُولی پر چڑھایا جائے گا اورپرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ فیصلہ ہوگیا اُس بات کا جو تم پُوچھ رہے تھے۔“
۱۲:۴۲
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
لِلَّذِى اس کے لیے۔ اس کو lilladhī
اس کے لیے۔ اس کو
ظَنَّ کہ اس نے گمان کیا تھا ẓanna
کہ اس نے گمان کیا تھا
أَنَّهُۥ کہ بیشک وہ annahu
کہ بیشک وہ
نَاجٍۢ نجات پانے والا ہے nājin
نجات پانے والا ہے
مِّنْهُمَا ان دونوں میں سے min'humā
ان دونوں میں سے
ٱذْكُرْنِى ذکر کرنا میرا udh'kur'nī
ذکر کرنا میرا
عِندَ پاس ʿinda
پاس
رَبِّكَ اپنے آقا کے rabbika
اپنے آقا کے
فَأَنسَىٰهُ تو بھلا دیا اس کو fa-ansāhu
تو بھلا دیا اس کو
ٱلشَّيْطَـٰنُ شیطان نے l-shayṭānu
شیطان نے
ذِكْرَ ذکر کرنا dhik'ra
ذکر کرنا
رَبِّهِۦ اپنے آقا کو rabbihi
اپنے آقا کو
فَلَبِثَ تو ٹھہرا رہا falabitha
تو ٹھہرا رہا
فِى میں
میں
ٱلسِّجْنِ قید خانے l-sij'ni
قید خانے
بِضْعَ چند biḍ'ʿa
چند
سِنِينَ سال sinīna
سال
٤٢ (۴۲)
(۴۲)
پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھاکہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یُوسُف ؑ نے کہا کہ ”اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے میرا ذکر کرنا۔“ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے اس کا ذکر کرنا بھُول گیا اور یُوسُف ؑ کئی سال قیدخانے میں پڑا رہا۔1
۱۲:۴۳
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
ٱلْمَلِكُ بادشاہ نے l-maliku
بادشاہ نے
إِنِّىٓ بیشک میں innī
بیشک میں
أَرَىٰ میں دیکھتا ہوں arā
میں دیکھتا ہوں
سَبْعَ سات sabʿa
سات
بَقَرَٰتٍۢ گائیں baqarātin
گائیں
سِمَانٍۢ موٹی simānin
موٹی
يَأْكُلُهُنَّ کھا رہی ہیں ان کو yakuluhunna
کھا رہی ہیں ان کو
سَبْعٌ سات sabʿun
سات
عِجَافٌۭ پتلی ʿijāfun
پتلی
وَسَبْعَ اور سات wasabʿa
اور سات
سُنۢبُلَـٰتٍ بالیاں sunbulātin
بالیاں
خُضْرٍۢ سرسبز khuḍ'rin
سرسبز
وَأُخَرَ اور دوسری wa-ukhara
اور دوسری
يَابِسَـٰتٍۢ ۖ خشک yābisātin
خشک
يَـٰٓأَيُّهَا اے اہل yāayyuhā
اے اہل
ٱلْمَلَأُ دربار l-mala-u
دربار
أَفْتُونِى جواب دو مجھ کو میرے aftūnī
جواب دو مجھ کو میرے
فِى میں
میں
رُءْيَـٰىَ خواب کے بارے میں ru'yāya
خواب کے بارے میں
إِن اگر in
اگر
كُنتُمْ ہو تم kuntum
ہو تم
لِلرُّءْيَا خواب کے لیے lilrru'yā
خواب کے لیے
تَعْبُرُونَ تعبیر کرتے taʿburūna
تعبیر کرتے
٤٣ (۴۳)
(۴۳)
ایک روز1 بادشاہ نے کہا ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں،اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دُوسری سات سُوکھی۔ اے اہلِ دربار، مجھے اس خواب کی تعبیر بتاوٴ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو۔“2
۱۲:۴۴
قَالُوٓا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
أَضْغَـٰثُ گڑ بڑ۔ پراگندہ aḍghāthu
گڑ بڑ۔ پراگندہ
أَحْلَـٰمٍۢ ۖ خواب ہیں aḥlāmin
خواب ہیں
وَمَا اور نہیں wamā
اور نہیں
نَحْنُ ہم naḥnu
ہم
بِتَأْوِيلِ تعبیر کو bitawīli
تعبیر کو
ٱلْأَحْلَـٰمِ خوابوں کی l-aḥlāmi
خوابوں کی
بِعَـٰلِمِينَ جاننے والے biʿālimīna
جاننے والے
٤٤ (۴۴)
(۴۴)
لوگوں نے کہا "یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے"
۱۲:۴۵
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
ٱلَّذِى اس شخص نے alladhī
اس شخص نے
نَجَا جو نجات پا گیا تھا najā
جو نجات پا گیا تھا
مِنْهُمَا ان دونوں میں سے min'humā
ان دونوں میں سے
وَٱدَّكَرَ اور اس نے یاد کیا wa-iddakara
اور اس نے یاد کیا
بَعْدَ بعد baʿda
بعد
أُمَّةٍ ایک مدت کے ummatin
ایک مدت کے
أَنَا۠ میں anā
میں
أُنَبِّئُكُم بتاتا ہوں تم کو unabbi-ukum
بتاتا ہوں تم کو
بِتَأْوِيلِهِۦ اس کی تعبیر bitawīlihi
اس کی تعبیر
فَأَرْسِلُونِ پس بھیجو مجھ کو fa-arsilūni
پس بھیجو مجھ کو
٤٥ (۴۵)
(۴۵)
اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اُسے ایک مُدّتِ دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اُس نے کہا”میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یُوسُف ؑ کے پاس)بھیج دیجیے۔1“
۱۲:۴۶
يُوسُفُ یوسف yūsufu
یوسف
أَيُّهَا اے ayyuhā
اے
ٱلصِّدِّيقُ سراپا سچائی l-ṣidīqu
سراپا سچائی
أَفْتِنَا جواب دو ہم کو aftinā
جواب دو ہم کو
فِى میں
میں
سَبْعِ سات sabʿi
سات
بَقَرَٰتٍۢ گائیوں کے بارے (میں) baqarātin
گائیوں کے بارے (میں)
سِمَانٍۢ موٹی simānin
موٹی
يَأْكُلُهُنَّ کھا رہی ہیں ان کو yakuluhunna
کھا رہی ہیں ان کو
سَبْعٌ سات sabʿun
سات
عِجَافٌۭ دبلی ʿijāfun
دبلی
وَسَبْعِ اور سات wasabʿi
اور سات
سُنۢبُلَـٰتٍ بالیاں sunbulātin
بالیاں
خُضْرٍۢ سرسبز khuḍ'rin
سرسبز
وَأُخَرَ اور دوسری wa-ukhara
اور دوسری
يَابِسَـٰتٍۢ خشک yābisātin
خشک
لَّعَلِّىٓ تاکہ میں laʿallī
تاکہ میں
أَرْجِعُ لوٹوں arjiʿu
لوٹوں
إِلَى طرف ilā
طرف
ٱلنَّاسِ لوگوں کی l-nāsi
لوگوں کی
لَعَلَّهُمْ شاید کہ وہ laʿallahum
شاید کہ وہ
يَعْلَمُونَ جان لیں yaʿlamūna
جان لیں
٤٦ (۴۶)
(۴۶)
اُس نے جا کر کہا”یُوسُف ؑ، اے سراپا راستی،1 مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی۔ شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس واپس جاوٴں اور شاید کہ وہ جان لیں۔“2
۱۲:۴۷
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
تَزْرَعُونَ تم اگاؤ گے۔ کھیتی باڑی کرو گے tazraʿūna
تم اگاؤ گے۔ کھیتی باڑی کرو گے
سَبْعَ سات sabʿa
سات
سِنِينَ سال sinīna
سال
دَأَبًۭا متواتر da-aban
متواتر
فَمَا تو جو famā
تو جو
حَصَدتُّمْ تم کاٹو گے ḥaṣadttum
تم کاٹو گے
فَذَرُوهُ تو چھوڑ دینا اس کو fadharūhu
تو چھوڑ دینا اس کو
فِى میں
میں
سُنۢبُلِهِۦٓ اس کی بالی (میں) sunbulihi
اس کی بالی (میں)
إِلَّا مگر illā
مگر
قَلِيلًۭا تھوڑا qalīlan
تھوڑا
مِّمَّا اس میں سے جو mimmā
اس میں سے جو
تَأْكُلُونَ تم کھاتے ہو takulūna
تم کھاتے ہو
٤٧ (۴۷)
(۴۷)
یوسفؑ نے کہا "سات بر س تک لگاتار تم لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا ساحصہ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو
۱۲:۴۸
ثُمَّ پھر thumma
پھر
يَأْتِى آئیں گے yatī
آئیں گے
مِنۢ کے min
کے
بَعْدِ بعد baʿdi
بعد
ذَٰلِكَ اس کے dhālika
اس کے
سَبْعٌۭ سات sabʿun
سات
شِدَادٌۭ سخت سال shidādun
سخت سال
يَأْكُلْنَ کھا جائیں گے yakul'na
کھا جائیں گے
مَا جو
جو
قَدَّمْتُمْ پیش کرو گے تم qaddamtum
پیش کرو گے تم
لَهُنَّ ان کے لیے lahunna
ان کے لیے
إِلَّا مگر illā
مگر
قَلِيلًۭا تھوڑے qalīlan
تھوڑے
مِّمَّا اس میں سے جو mimmā
اس میں سے جو
تُحْصِنُونَ تم روک رکھو گے tuḥ'ṣinūna
تم روک رکھو گے
٤٨ (۴۸)
(۴۸)
پھر سات برس بہت سخت آئیں گے اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو
۱۲:۴۹
ثُمَّ پھر thumma
پھر
يَأْتِى آئے گا yatī
آئے گا
مِنۢ کے min
کے
بَعْدِ بعد baʿdi
بعد
ذَٰلِكَ اس کے dhālika
اس کے
عَامٌۭ ایک سال ʿāmun
ایک سال
فِيهِ جس میں fīhi
جس میں
يُغَاثُ فریاد رسی کی جائے گی yughāthu
فریاد رسی کی جائے گی
ٱلنَّاسُ لوگوں کی l-nāsu
لوگوں کی
وَفِيهِ اور اس میں wafīhi
اور اس میں
يَعْصِرُونَ وہ رس نچوڑیں گے yaʿṣirūna
وہ رس نچوڑیں گے
٤٩ (۴۹)
(۴۹)
اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں بارانِ رحمت سے لوگوں کو فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے۔“
۱۲:۵۰
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
ٱلْمَلِكُ بادشاہ نے l-maliku
بادشاہ نے
ٱئْتُونِى میرے پاس لے آؤ i'tūnī
میرے پاس لے آؤ
بِهِۦ ۖ اس کو bihi
اس کو
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
جَآءَهُ آیا اس کے پاس jāahu
آیا اس کے پاس
ٱلرَّسُولُ ایلچی۔ پیغام لانے والا l-rasūlu
ایلچی۔ پیغام لانے والا
قَالَ (یوسف نے) کہا qāla
(یوسف نے) کہا
ٱرْجِعْ واپس جاؤ ir'jiʿ
واپس جاؤ
إِلَىٰ پاس ilā
پاس
رَبِّكَ اپنے آقا کے rabbika
اپنے آقا کے
فَسْـَٔلْهُ پھر اس سے پوچھو fasalhu
پھر اس سے پوچھو
مَا کیا
کیا
بَالُ حال ہے bālu
حال ہے
ٱلنِّسْوَةِ عورتوں کا l-nis'wati
عورتوں کا
ٱلَّـٰتِى جنہوں نے allātī
جنہوں نے
قَطَّعْنَ کاٹ دیے تھے qaṭṭaʿna
کاٹ دیے تھے
أَيْدِيَهُنَّ ۚ اپنے ہاتھ aydiyahunna
اپنے ہاتھ
إِنَّ بے شک inna
بے شک
رَبِّى میرا رب rabbī
میرا رب
بِكَيْدِهِنَّ ان کی چال سے bikaydihinna
ان کی چال سے
عَلِيمٌۭ واقف ہے ʿalīmun
واقف ہے
٥٠ (۵۰)
(۵۰)
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاوٴ۔ مگر جب شاہی فرستادہ یوُسف ؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا”1 اپنے ربّ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا یا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا ربّ تو ان کی مکّاری سے واقف ہی ہے۔“2
۱۲:۵۱
قَالَ کہا (بادشاہ نے ( qāla
کہا (بادشاہ نے (
مَا کیا
کیا
خَطْبُكُنَّ معاملہ ہے تمہارا khaṭbukunna
معاملہ ہے تمہارا
إِذْ جب idh
جب
رَٰوَدتُّنَّ تم سب نے پھسلانا چاہا تھا rāwadttunna
تم سب نے پھسلانا چاہا تھا
يُوسُفَ یوسف کو yūsufa
یوسف کو
عَن سے ʿan
سے
نَّفْسِهِۦ ۚ اس کے نفس سے nafsihi
اس کے نفس سے
قُلْنَ کہنے لگیں qul'na
کہنے لگیں
حَـٰشَ حاش۔پاکی ḥāsha
حاش۔پاکی
لِلَّهِ اللہ۔ پاکی اللہ کے لیے ہے lillahi
اللہ۔ پاکی اللہ کے لیے ہے
مَا نہیں
نہیں
عَلِمْنَا جانا ہم نے ʿalim'nā
جانا ہم نے
عَلَيْهِ اس پر ʿalayhi
اس پر
مِن کسی min
کسی
سُوٓءٍۢ ۚ برائی کو sūin
برائی کو
قَالَتِ کہنے لگی qālati
کہنے لگی
ٱمْرَأَتُ بیوی im'ra-atu
بیوی
ٱلْعَزِيزِ عزیز کی l-ʿazīzi
عزیز کی
ٱلْـَٔـٰنَ اب l-āna
اب
حَصْحَصَ واضح ہوگیا ḥaṣḥaṣa
واضح ہوگیا
ٱلْحَقُّ حق l-ḥaqu
حق
أَنَا۠ میں نے anā
میں نے
رَٰوَدتُّهُۥ پھسلانا چاہا تھا اس کو rāwadttuhu
پھسلانا چاہا تھا اس کو
عَن سے ʿan
سے
نَّفْسِهِۦ اس کے نفس سے nafsihi
اس کے نفس سے
وَإِنَّهُۥ اور بیشک وہ wa-innahu
اور بیشک وہ
لَمِنَ البتہ lamina
البتہ
ٱلصَّـٰدِقِينَ سچوں میں سے ہے l-ṣādiqīna
سچوں میں سے ہے
٥١ (۵۱)
(۵۱)
اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت 1کیا”تمہارا کیا تجربہ ہے اُس وقت کا جب تم نے یُوسُف ؑ کو رِجہانے کی کوشش کی تھی؟“ سب نے یک زبان ہو کر کہا”حاشا لِلّٰہ، ہم نے تو اُس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا۔“ عزیز کی بیوی بول اُٹھی”اب حق کُھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پُھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے۔“2
۱۲:۵۲
ذَٰلِكَ یہ dhālika
یہ
لِيَعْلَمَ تاکہ وہ جان لے liyaʿlama
تاکہ وہ جان لے
أَنِّى بیشک میں annī
بیشک میں
لَمْ نہیں lam
نہیں
أَخُنْهُ میں نے خیانت کی اس کی akhun'hu
میں نے خیانت کی اس کی
بِٱلْغَيْبِ غائبانہ طور پر bil-ghaybi
غائبانہ طور پر
وَأَنَّ اور بیشک wa-anna
اور بیشک
ٱللَّهَ اللہ تعالیٰ l-laha
اللہ تعالیٰ
لَا نہیں
نہیں
يَهْدِى رہنمائی کرتا yahdī
رہنمائی کرتا
كَيْدَ چال کو kayda
چال کو
ٱلْخَآئِنِينَ خیانت کاروں کی l-khāinīna
خیانت کاروں کی
٥٢ (۵۲)
(۵۲)
(یُوسُف ؑ نے 1کہا)”اِس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز)یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی۔ اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا
۱۲:۵۳
۞ وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أُبَرِّئُ میں بری الذمہ کرتا ubarri-u
میں بری الذمہ کرتا
نَفْسِىٓ ۚ اپنے نفس کو nafsī
اپنے نفس کو
إِنَّ بیشک inna
بیشک
ٱلنَّفْسَ نفس l-nafsa
نفس
لَأَمَّارَةٌۢ البتہ بہت حکم دینے والا ہے la-ammāratun
البتہ بہت حکم دینے والا ہے
بِٱلسُّوٓءِ برائی کا bil-sūi
برائی کا
إِلَّا مگر illā
مگر
مَا اس کے جو
اس کے جو
رَحِمَ رحم کرے raḥima
رحم کرے
رَبِّىٓ ۚ میرا رب rabbī
میرا رب
إِنَّ Indeed inna
Indeed
رَبِّى میرا رب rabbī
میرا رب
غَفُورٌۭ غفور، ghafūrun
غفور،
رَّحِيمٌۭ رحیم ہے raḥīmun
رحیم ہے
٥٣ (۵۳)
(۵۳)
میں کچھ اپنے نفس کی براءَت نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"
۱۲:۵۴
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
ٱلْمَلِكُ بادشاہ نے l-maliku
بادشاہ نے
ٱئْتُونِى میرے پاس لاؤ i'tūnī
میرے پاس لاؤ
بِهِۦٓ اس کو bihi
اس کو
أَسْتَخْلِصْهُ میں خالص کرلوں اس کو astakhliṣ'hu
میں خالص کرلوں اس کو
لِنَفْسِى ۖ اپنی ذات کے لئے linafsī
اپنی ذات کے لئے
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
كَلَّمَهُۥ اس نے کلام کیا اس سے kallamahu
اس نے کلام کیا اس سے
قَالَ کہا qāla
کہا
إِنَّكَ بیشک تو innaka
بیشک تو
ٱلْيَوْمَ آج کے دن (سے) l-yawma
آج کے دن (سے)
لَدَيْنَا ہمارے پاس ladaynā
ہمارے پاس
مَكِينٌ رتبے والا ہے makīnun
رتبے والا ہے
أَمِينٌۭ امانت دار ہے amīnun
امانت دار ہے
٥٤ (۵۴)
(۵۴)
بادشاہ نے کہا”اُنہیں میرے پاس لاوٴ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصُوص کر لوں۔“جب یُوسُف ؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا”اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے۔1“
۱۲:۵۵
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
ٱجْعَلْنِى مقدر کر دیجئے مجھ کو ij'ʿalnī
مقدر کر دیجئے مجھ کو
عَلَىٰ اوپر ʿalā
اوپر
خَزَآئِنِ خزانوں کے khazāini
خزانوں کے
ٱلْأَرْضِ ۖ زمین کے l-arḍi
زمین کے
إِنِّى بیشک میں innī
بیشک میں
حَفِيظٌ حفاظت کرنے والا ہوں ḥafīẓun
حفاظت کرنے والا ہوں
عَلِيمٌۭ علم رکھنے والا ہوں ʿalīmun
علم رکھنے والا ہوں
٥٥ (۵۵)
(۵۵)
یُوسُف ؑ نے کہا”ملک کے خزانے میرے سپُرد کیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔“1
۱۲:۵۶
وَكَذَٰلِكَ اور اسی طرح wakadhālika
اور اسی طرح
مَكَّنَّا اقتدار دیا ہم نے makkannā
اقتدار دیا ہم نے
لِيُوسُفَ یوسف کو liyūsufa
یوسف کو
فِى میں
میں
ٱلْأَرْضِ زمین l-arḍi
زمین
يَتَبَوَّأُ جگہ بنائے yatabawwa-u
جگہ بنائے
مِنْهَا اس میں سے min'hā
اس میں سے
حَيْثُ جہاں ḥaythu
جہاں
يَشَآءُ ۚ چاہے yashāu
چاہے
نُصِيبُ ہم پہنچاتے ہیں nuṣību
ہم پہنچاتے ہیں
بِرَحْمَتِنَا اپنی رحمت کو biraḥmatinā
اپنی رحمت کو
مَن جس کو man
جس کو
نَّشَآءُ ۖ ہم چاہتے ہیں nashāu
ہم چاہتے ہیں
وَلَا اور نہیں walā
اور نہیں
نُضِيعُ ہم ضائع کرتے nuḍīʿu
ہم ضائع کرتے
أَجْرَ اجر ajra
اجر
ٱلْمُحْسِنِينَ محسنین کا l-muḥ'sinīna
محسنین کا
٥٦ (۵۶)
(۵۶)
اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یُوسُف ؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مُختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔1 ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا
۱۲:۵۷
وَلَأَجْرُ اور البتہ اجر wala-ajru
اور البتہ اجر
ٱلْـَٔاخِرَةِ آخرت کا l-ākhirati
آخرت کا
خَيْرٌۭ بہتر ہے khayrun
بہتر ہے
لِّلَّذِينَ ان لوگوں کے لئے lilladhīna
ان لوگوں کے لئے
ءَامَنُوا۟ جو ایمان لائے āmanū
جو ایمان لائے
وَكَانُوا۟ اور وہ wakānū
اور وہ
يَتَّقُونَ تقویٰ اختیار کرتے ہیں yattaqūna
تقویٰ اختیار کرتے ہیں
٥٧ (۵۷)
(۵۷)
اور آخرت کا اجر اُن لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے۔1
۱۲:۵۸
وَجَآءَ اور آئے wajāa
اور آئے
إِخْوَةُ بھائی ikh'watu
بھائی
يُوسُفَ یوسف کے yūsufa
یوسف کے
فَدَخَلُوا۟ پھر وہ داخل ہوئے fadakhalū
پھر وہ داخل ہوئے
عَلَيْهِ اس پر ʿalayhi
اس پر
فَعَرَفَهُمْ پس اس نے پہچان لیا انہیں faʿarafahum
پس اس نے پہچان لیا انہیں
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
لَهُۥ اس کے لئے lahu
اس کے لئے
مُنكِرُونَ انکار کرنے والے تھے munkirūna
انکار کرنے والے تھے
٥٨ (۵۸)
(۵۸)
یُوسُف ؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے۔1 اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے۔2
۱۲:۵۹
وَلَمَّا پھر جب walammā
پھر جب
جَهَّزَهُم اس نے تیار کیا ان کو jahhazahum
اس نے تیار کیا ان کو
بِجَهَازِهِمْ ساتھ ان کے سامان کے bijahāzihim
ساتھ ان کے سامان کے
قَالَ بولے qāla
بولے
ٱئْتُونِى لانا میرے پاس i'tūnī
لانا میرے پاس
بِأَخٍۢ بھائی کو bi-akhin
بھائی کو
لَّكُم اپنے lakum
اپنے
مِّنْ سے min
سے
أَبِيكُمْ ۚ جو تمہارے باپ سے ہے abīkum
جو تمہارے باپ سے ہے
أَلَا کیا نہیں alā
کیا نہیں
تَرَوْنَ تم دیکھتے ہو tarawna
تم دیکھتے ہو
أَنِّىٓ بیشک میں annī
بیشک میں
أُوفِى پورا پورا دیتا ہوں ūfī
پورا پورا دیتا ہوں
ٱلْكَيْلَ پیمانہ l-kayla
پیمانہ
وَأَنَا۠ اور میں wa-anā
اور میں
خَيْرُ بہترین khayru
بہترین
ٱلْمُنزِلِينَ مہمان نواز ہوں l-munzilīna
مہمان نواز ہوں
٥٩ (۵۹)
(۵۹)
پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو چلتے وقت ان سے کہا، "اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں
۱۲:۶۰
فَإِن پھر fa-in
پھر
لَّمْ اگر نہ lam
اگر نہ
تَأْتُونِى تم لائے اس کو tatūnī
تم لائے اس کو
بِهِۦ میرے پاس bihi
میرے پاس
فَلَا تو نہیں falā
تو نہیں
كَيْلَ کوئی پیمانہ / غلہ kayla
کوئی پیمانہ / غلہ
لَكُمْ تمہارے لئے lakum
تمہارے لئے
عِندِى میرے پاس ʿindī
میرے پاس
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
تَقْرَبُونِ تم قریب آنا میرے taqrabūni
تم قریب آنا میرے
٦٠ (۶۰)
(۶۰)
اگر تم اسے نہ لاوٴ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلّہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔1“
۱۲:۶۱
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
سَنُرَٰوِدُ عنقریب ہم قائل کریں گے sanurāwidu
عنقریب ہم قائل کریں گے
عَنْهُ اس کے بارے میں ʿanhu
اس کے بارے میں
أَبَاهُ اس کے باپ کو abāhu
اس کے باپ کو
وَإِنَّا اور بیشک ہم wa-innā
اور بیشک ہم
لَفَـٰعِلُونَ البتہ کرنے والے ہیں lafāʿilūna
البتہ کرنے والے ہیں
٦١ (۶۱)
(۶۱)
انہوں نے کہا، "ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر ر اضی ہو جائیں، اور ہم ایسا ضرور کریں گے"
۱۲:۶۲
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
لِفِتْيَـٰنِهِ اپنے غلاموں کو lifit'yānihi
اپنے غلاموں کو
ٱجْعَلُوا۟ رکھ دو ij'ʿalū
رکھ دو
بِضَـٰعَتَهُمْ ان کی پونجی کو/ سامان کو biḍāʿatahum
ان کی پونجی کو/ سامان کو
فِى میں
میں
رِحَالِهِمْ ان کی خُرجیوں riḥālihim
ان کی خُرجیوں
لَعَلَّهُمْ شاید کہ وہ laʿallahum
شاید کہ وہ
يَعْرِفُونَهَآ اس کو پہچان جائیں yaʿrifūnahā
اس کو پہچان جائیں
إِذَا جب وہ idhā
جب وہ
ٱنقَلَبُوٓا۟ پلٹیں inqalabū
پلٹیں
إِلَىٰٓ اپنے ilā
اپنے
أَهْلِهِمْ گھر والوں کی طرف ahlihim
گھر والوں کی طرف
لَعَلَّهُمْ شاید کہ وہ laʿallahum
شاید کہ وہ
يَرْجِعُونَ لوٹ آئیں yarjiʿūna
لوٹ آئیں
٦٢ (۶۲)
(۶۲)
یوسفؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ "اِن لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو" یہ یوسفؑ نے اِس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اِس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں
۱۲:۶۳
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
رَجَعُوٓا۟ وہ لوٹے rajaʿū
وہ لوٹے
إِلَىٰٓ طرف ilā
طرف
أَبِيهِمْ اپنے باپ کی abīhim
اپنے باپ کی
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا اے ہمارے ابا جان yāabānā
اے ہمارے ابا جان
مُنِعَ روکا گیا muniʿa
روکا گیا
مِنَّا ہم سے minnā
ہم سے
ٱلْكَيْلُ غلہ l-kaylu
غلہ
فَأَرْسِلْ تو بھیج دیجئے fa-arsil
تو بھیج دیجئے
مَعَنَآ ہمارے ساتھ maʿanā
ہمارے ساتھ
أَخَانَا ہمارے بھائی کو akhānā
ہمارے بھائی کو
نَكْتَلْ ہم غلہ لائیں naktal
ہم غلہ لائیں
وَإِنَّا اور بیشک ہم wa-innā
اور بیشک ہم
لَهُۥ اس کے لئے lahu
اس کے لئے
لَحَـٰفِظُونَ البتہ حفاظت کرنے والے ہیں laḥāfiẓūna
البتہ حفاظت کرنے والے ہیں
٦٣ (۶۳)
(۶۳)
جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا "ابا جان، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں"
۱۲:۶۴
قَالَ کہا qāla
کہا
هَلْ کیا hal
کیا
ءَامَنُكُمْ میں بھروسہ کرلوں تم پر āmanukum
میں بھروسہ کرلوں تم پر
عَلَيْهِ اس کے معاملے میں ʿalayhi
اس کے معاملے میں
إِلَّا مگر illā
مگر
كَمَآ جیسا کہ kamā
جیسا کہ
أَمِنتُكُمْ میں نے بھروسہ کیا تم پر amintukum
میں نے بھروسہ کیا تم پر
عَلَىٰٓ معاملے میں ʿalā
معاملے میں
أَخِيهِ اس کے بھائی کے akhīhi
اس کے بھائی کے
مِن اس سے min
اس سے
قَبْلُ ۖ قبل qablu
قبل
فَٱللَّهُ پس اللہ fal-lahu
پس اللہ
خَيْرٌ بہترین khayrun
بہترین
حَـٰفِظًۭا ۖ حفاظت کرنے والا ہے ḥāfiẓan
حفاظت کرنے والا ہے
وَهُوَ اور وہ wahuwa
اور وہ
أَرْحَمُ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے arḥamu
سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
ٱلرَّٰحِمِينَ سب رحم کرنے والوں (سے) l-rāḥimīna
سب رحم کرنے والوں (سے)
٦٤ (۶۴)
(۶۴)
باپ نے جواب دیا "کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے"
۱۲:۶۵
وَلَمَّا اور جب walammā
اور جب
فَتَحُوا۟ انہوں نے کھولا fataḥū
انہوں نے کھولا
مَتَـٰعَهُمْ اپنے سامان کو matāʿahum
اپنے سامان کو
وَجَدُوا۟ انہوں نے پایا wajadū
انہوں نے پایا
بِضَـٰعَتَهُمْ اپنا سرمایہ biḍāʿatahum
اپنا سرمایہ
رُدَّتْ لوٹادیا گیا تھا ruddat
لوٹادیا گیا تھا
إِلَيْهِمْ ۖ ان کی طرف ilayhim
ان کی طرف
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا اے ہمارے ابا جان yāabānā
اے ہمارے ابا جان
مَا کیا
کیا
نَبْغِى ۖ ہم (اور) چاہتے ہیں nabghī
ہم (اور) چاہتے ہیں
هَـٰذِهِۦ یہ ہماری hādhihi
یہ ہماری
بِضَـٰعَتُنَا پونچی ہے biḍāʿatunā
پونچی ہے
رُدَّتْ لوٹائی گئی ہے ruddat
لوٹائی گئی ہے
إِلَيْنَا ۖ ہماری طرف ilaynā
ہماری طرف
وَنَمِيرُ اور ہم غلہ لائیں گے wanamīru
اور ہم غلہ لائیں گے
أَهْلَنَا اپنے گھر والوں کے لئے ahlanā
اپنے گھر والوں کے لئے
وَنَحْفَظُ اور ہم حفاظت کریں گے wanaḥfaẓu
اور ہم حفاظت کریں گے
أَخَانَا اپنے بھائی کی akhānā
اپنے بھائی کی
وَنَزْدَادُ اور ہم زیادہ لائیں گے wanazdādu
اور ہم زیادہ لائیں گے
كَيْلَ بھر غلہ kayla
بھر غلہ
بَعِيرٍۢ ۖ اونٹ baʿīrin
اونٹ
ذَٰلِكَ یہ dhālika
یہ
كَيْلٌۭ غلہ ہے kaylun
غلہ ہے
يَسِيرٌۭ آسان yasīrun
آسان
٦٥ (۶۵)
(۶۵)
پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کر دیا گیا ہے یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے "ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا"
۱۲:۶۶
قَالَ کہا qāla
کہا
لَنْ ہرگز نہ lan
ہرگز نہ
أُرْسِلَهُۥ میں بھیجوں گا اس کو ur'silahu
میں بھیجوں گا اس کو
مَعَكُمْ تمہارے ساتھ maʿakum
تمہارے ساتھ
حَتَّىٰ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
تُؤْتُونِ تم دو مجھ کو tu'tūni
تم دو مجھ کو
مَوْثِقًۭا پختہ وعدہ اپنا mawthiqan
پختہ وعدہ اپنا
مِّنَ طرف سے mina
طرف سے
ٱللَّهِ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
لَتَأْتُنَّنِى البتہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس latatunnanī
البتہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس
بِهِۦٓ اس کو bihi
اس کو
إِلَّآ مگر illā
مگر
أَن یہ کہ an
یہ کہ
يُحَاطَ گھیر لیا جائے yuḥāṭa
گھیر لیا جائے
بِكُمْ ۖ تمہیں bikum
تمہیں
فَلَمَّآ پھر جب falammā
پھر جب
ءَاتَوْهُ انہوں نے دیا اس کو ātawhu
انہوں نے دیا اس کو
مَوْثِقَهُمْ پختہ وعدہ اپنا mawthiqahum
پختہ وعدہ اپنا
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
عَلَىٰ اس پر ʿalā
اس پر
مَا جو
جو
نَقُولُ ہم کہتے ہیں naqūlu
ہم کہتے ہیں
وَكِيلٌۭ کار ساز ہے/ نگہبان ہے wakīlun
کار ساز ہے/ نگہبان ہے
٦٦ (۶۶)
(۶۶)
ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے"
۱۲:۶۷
وَقَالَ اور اس نے کہا waqāla
اور اس نے کہا
يَـٰبَنِىَّ اے میرے بچو yābaniyya
اے میرے بچو
لَا نہ
نہ
تَدْخُلُوا۟ تم داخل ہونا tadkhulū
تم داخل ہونا
مِنۢ سے min
سے
بَابٍۢ دروازے bābin
دروازے
وَٰحِدٍۢ ایک wāḥidin
ایک
وَٱدْخُلُوا۟ بلکہ داخل ہونا wa-ud'khulū
بلکہ داخل ہونا
مِنْ سے min
سے
أَبْوَٰبٍۢ دروازوں abwābin
دروازوں
مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ مختلف mutafarriqatin
مختلف
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أُغْنِى میں بچا سکتا ugh'nī
میں بچا سکتا
عَنكُم تم کو ʿankum
تم کو
مِّنَ سے mina
سے
ٱللَّهِ اللہ l-lahi
اللہ
مِن کسی min
کسی
شَىْءٍ ۖ چیز سے shayin
چیز سے
إِنِ نہیں ini
نہیں
ٱلْحُكْمُ فیصلہ l-ḥuk'mu
فیصلہ
إِلَّا مگر illā
مگر
لِلَّهِ ۖ اللہ کے لئے lillahi
اللہ کے لئے
عَلَيْهِ اسی پر ʿalayhi
اسی پر
تَوَكَّلْتُ ۖ میں نے توکل کیا tawakkaltu
میں نے توکل کیا
وَعَلَيْهِ اور اسی پر waʿalayhi
اور اسی پر
فَلْيَتَوَكَّلِ پس چاہیے کہ توکل کیا کریں falyatawakkali
پس چاہیے کہ توکل کیا کریں
ٱلْمُتَوَكِّلُونَ توکل کرنے والے l-mutawakilūna
توکل کرنے والے
٦٧ (۶۷)
(۶۷)
پھر اُس نے کہا”میرے بچو، مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔1 مگر میں اللہ کی مشیّت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اُسی پر کرے۔“
۱۲:۶۸
وَلَمَّا اور جب walammā
اور جب
دَخَلُوا۟ وہ داخل ہوئے dakhalū
وہ داخل ہوئے
مِنْ سے min
سے
حَيْثُ جہاں ḥaythu
جہاں
أَمَرَهُمْ حکم دیا تھا ان کو amarahum
حکم دیا تھا ان کو
أَبُوهُم ان کے باپ نے abūhum
ان کے باپ نے
مَّا نہ
نہ
كَانَ تھا کہ kāna
تھا کہ
يُغْنِى کام آتا yugh'nī
کام آتا
عَنْهُم ان کو ʿanhum
ان کو
مِّنَ سے mina
سے
ٱللَّهِ اللہ l-lahi
اللہ
مِن any min
any
شَىْءٍ کچھ بھی shayin
کچھ بھی
إِلَّا مگر illā
مگر
حَاجَةًۭ ایک حاجت تھی ḥājatan
ایک حاجت تھی
فِى میں
میں
نَفْسِ دل (میں) nafsi
دل (میں)
يَعْقُوبَ یعقوب کے yaʿqūba
یعقوب کے
قَضَىٰهَا ۚ اس نے پورا کیا اس کو qaḍāhā
اس نے پورا کیا اس کو
وَإِنَّهُۥ اور بیشک وہ wa-innahu
اور بیشک وہ
لَذُو والا تھا ladhū
والا تھا
عِلْمٍۢ البتہ علم ʿil'min
البتہ علم
لِّمَا واسطے اس کے جو limā
واسطے اس کے جو
عَلَّمْنَـٰهُ سکھایا تھا ہم نے اس کو ʿallamnāhu
سکھایا تھا ہم نے اس کو
وَلَـٰكِنَّ لیکن walākinna
لیکن
أَكْثَرَ اکثر akthara
اکثر
ٱلنَّاسِ لوگ l-nāsi
لوگ
لَا نہیں
نہیں
يَعْلَمُونَ علم رکھتے yaʿlamūna
علم رکھتے
٦٨ (۶۸)
(۶۸)
اور واقعہ بھی یہ ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے)داخل ہوئے تو اُس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیّت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں بس یعقوب ؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دُور کرنے کے لیے اُس نے اپنی سی کوشش کر لی۔ بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔1
۱۲:۶۹
وَلَمَّا اور جب walammā
اور جب
دَخَلُوا۟ وہ داخل ہوئے dakhalū
وہ داخل ہوئے
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
يُوسُفَ یوسف yūsufa
یوسف
ءَاوَىٰٓ ٹھہرایا āwā
ٹھہرایا
إِلَيْهِ اپنے پاس/ اپنی طرف ilayhi
اپنے پاس/ اپنی طرف
أَخَاهُ ۖ اپنے بھائی کو akhāhu
اپنے بھائی کو
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
إِنِّىٓ بیشک میں innī
بیشک میں
أَنَا۠ میں ہی anā
میں ہی
أَخُوكَ تیرا بھائی ہوں akhūka
تیرا بھائی ہوں
فَلَا پس نہ falā
پس نہ
تَبْتَئِسْ رنج کر tabta-is
رنج کر
بِمَا بوجہ اس کے bimā
بوجہ اس کے
كَانُوا۟ جو تھے وہ kānū
جو تھے وہ
يَعْمَلُونَ عمل کرتے yaʿmalūna
عمل کرتے
٦٩ (۶۹)
(۶۹)
یہ لوگ یُوسُف ؑ کے حضُور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ”میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا)۔ اب تُو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔“1
۱۲:۷۰
فَلَمَّا پھر جب falammā
پھر جب
جَهَّزَهُم اس نے تیار کرکے دیا ان کو jahhazahum
اس نے تیار کرکے دیا ان کو
بِجَهَازِهِمْ ان کا سامان bijahāzihim
ان کا سامان
جَعَلَ اس نے رکھ دیا jaʿala
اس نے رکھ دیا
ٱلسِّقَايَةَ پانی کا ایک پیالہ/ آب خوردہ l-siqāyata
پانی کا ایک پیالہ/ آب خوردہ
فِى میں
میں
رَحْلِ سامان م (میں) raḥli
سامان م (میں)
أَخِيهِ اپنے بھائی کے akhīhi
اپنے بھائی کے
ثُمَّ پھر thumma
پھر
أَذَّنَ پکارا adhana
پکارا
مُؤَذِّنٌ ایک پکارنے والے نے mu-adhinun
ایک پکارنے والے نے
أَيَّتُهَا اے ayyatuhā
اے
ٱلْعِيرُ قافلے والو l-ʿīru
قافلے والو
إِنَّكُمْ بیشک تم innakum
بیشک تم
لَسَـٰرِقُونَ البتہ چور ہو lasāriqūna
البتہ چور ہو
٧٠ (۷۰)
(۷۰)
جب یُوسُف ؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔1 پھر ایک پُکارنے والے نے پُکار کر کہا”اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو۔“2
۱۲:۷۱
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
وَأَقْبَلُوا۟ اور وہ آئے / متوجہ ہوئے wa-aqbalū
اور وہ آئے / متوجہ ہوئے
عَلَيْهِم ان پر ʿalayhim
ان پر
مَّاذَا کیا کچھ mādhā
کیا کچھ
تَفْقِدُونَ تم گم پاتے ہو tafqidūna
تم گم پاتے ہو
٧١ (۷۱)
(۷۱)
انہوں نے پلٹ کر پوچھا "تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟ "
۱۲:۷۲
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
نَفْقِدُ ہم گم پاتے ہیں nafqidu
ہم گم پاتے ہیں
صُوَاعَ پیمانہ ṣuwāʿa
پیمانہ
ٱلْمَلِكِ بادشاہ کا l-maliki
بادشاہ کا
وَلِمَن اور واسطے اس کے waliman
اور واسطے اس کے
جَآءَ جولائے jāa
جولائے
بِهِۦ اس کو bihi
اس کو
حِمْلُ بوجھ ہے ḥim'lu
بوجھ ہے
بَعِيرٍۢ ایک اونٹ کا baʿīrin
ایک اونٹ کا
وَأَنَا۠ اور میں wa-anā
اور میں
بِهِۦ ساتھ اس کے ذمہ دار ہوں bihi
ساتھ اس کے ذمہ دار ہوں
زَعِيمٌۭ کفیل ہوں zaʿīmun
کفیل ہوں
٧٢ (۷۲)
(۷۲)
سرکاری ملازموں نے کہا "بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا" (اور ان کے جمعدار نے کہا) "جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارشتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں"
۱۲:۷۳
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ اللہ کی قسم tal-lahi
اللہ کی قسم
لَقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
عَلِمْتُم جان لیا تم نے ʿalim'tum
جان لیا تم نے
مَّا نہیں
نہیں
جِئْنَا آئے تھے ہم ji'nā
آئے تھے ہم
لِنُفْسِدَ کہ ہم فساد کریں linuf'sida
کہ ہم فساد کریں
فِى میں
میں
ٱلْأَرْضِ زمین l-arḍi
زمین
وَمَا اور نہیں ہیں wamā
اور نہیں ہیں
كُنَّا ہم kunnā
ہم
سَـٰرِقِينَ چور sāriqīna
چور
٧٣ (۷۳)
(۷۳)
ان بھائیوں نے کہا "خدا کی قسم، تو لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں"
۱۲:۷۴
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
فَمَا تو کیا famā
تو کیا
جَزَٰٓؤُهُۥٓ بدلہ ہے اس کا / سزا ہے اس کی jazāuhu
بدلہ ہے اس کا / سزا ہے اس کی
إِن اگر in
اگر
كُنتُمْ ہو تم kuntum
ہو تم
كَـٰذِبِينَ جھوٹے kādhibīna
جھوٹے
٧٤ (۷۴)
(۷۴)
اُنہوں نے کہا "اچھا، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟"
۱۲:۷۵
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
جَزَٰٓؤُهُۥ اس کی جزاء /اس کا بدلہ jazāuhu
اس کی جزاء /اس کا بدلہ
مَن وہ ہے man
وہ ہے
وُجِدَ جو وہ پایا گیا ہے wujida
جو وہ پایا گیا ہے
فِى میں
میں
رَحْلِهِۦ اس کے سامان raḥlihi
اس کے سامان
فَهُوَ تو وہی fahuwa
تو وہی
جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ بدلہ ہے اس کا jazāuhu
بدلہ ہے اس کا
كَذَٰلِكَ اس طرح kadhālika
اس طرح
نَجْزِى ہم بدلہ دیتے ہیں najzī
ہم بدلہ دیتے ہیں
ٱلظَّـٰلِمِينَ ظالموں کو l-ẓālimīna
ظالموں کو
٧٥ (۷۵)
(۷۵)
اُنہوں نے کہا”اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے۔“1
۱۲:۷۶
فَبَدَأَ تو وہ شروع ہوگیا fabada-a
تو وہ شروع ہوگیا
بِأَوْعِيَتِهِمْ ان کے تھیلوں کے ساتھ bi-awʿiyatihim
ان کے تھیلوں کے ساتھ
قَبْلَ پہلے qabla
پہلے
وِعَآءِ تھیلے کے wiʿāi
تھیلے کے
أَخِيهِ اپنے بھائی کے akhīhi
اپنے بھائی کے
ثُمَّ پھر thumma
پھر
ٱسْتَخْرَجَهَا نکال لیا اس کو is'takhrajahā
نکال لیا اس کو
مِن سے min
سے
وِعَآءِ تھیلے wiʿāi
تھیلے
أَخِيهِ ۚ اپنے بھائی کے akhīhi
اپنے بھائی کے
كَذَٰلِكَ اسی طرح kadhālika
اسی طرح
كِدْنَا تدبیر کی ہم kid'nā
تدبیر کی ہم
لِيُوسُفَ ۖ یوسف کے لئے liyūsufa
یوسف کے لئے
مَا نہ
نہ
كَانَ تھا kāna
تھا
لِيَأْخُذَ کے لے لے liyakhudha
کے لے لے
أَخَاهُ اپنے بھائی کو akhāhu
اپنے بھائی کو
فِى میں
میں
دِينِ دین dīni
دین
ٱلْمَلِكِ بادشاہ کے l-maliki
بادشاہ کے
إِلَّآ مگر illā
مگر
أَن یہ کہ an
یہ کہ
يَشَآءَ چاہتا ہے yashāa
چاہتا ہے
ٱللَّهُ ۚ اللہ l-lahu
اللہ
نَرْفَعُ ہم بلند کرتے ہیں narfaʿu
ہم بلند کرتے ہیں
دَرَجَـٰتٍۢ درجے darajātin
درجے
مَّن جس کے man
جس کے
نَّشَآءُ ۗ ہم چاہتے ہیں nashāu
ہم چاہتے ہیں
وَفَوْقَ اور اوپر wafawqa
اور اوپر
كُلِّ ہر kulli
ہر
ذِى والے کے dhī
والے کے
عِلْمٍ علم ʿil'min
علم
عَلِيمٌۭ ایک علم والا ہے ʿalīmun
ایک علم والا ہے
٧٦ (۷۶)
(۷۶)
تب یُوسُف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خُرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کر لی۔۔۔۔اِس طرح ہم نے یُوسُف ؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔1 اُس کا یہ کا م نہ تھا کہ بادشاہ کے دین(یعنی مصر کے شاہی قانون)میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔2 ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایساہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے
۱۲:۷۷
۞ قَالُوٓا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
إِن اگر in
اگر
يَسْرِقْ اس نے چوری کی ہے yasriq
اس نے چوری کی ہے
فَقَدْ تو تحقیق faqad
تو تحقیق
سَرَقَ چوری کی تھی saraqa
چوری کی تھی
أَخٌۭ بھائی نے akhun
بھائی نے
لَّهُۥ اس کے lahu
اس کے
مِن اس کے min
اس کے
قَبْلُ ۚ قبل qablu
قبل
فَأَسَرَّهَا تو چھپالیا اس بات کو fa-asarrahā
تو چھپالیا اس بات کو
يُوسُفُ یوسف نے yūsufu
یوسف نے
فِى میں
میں
نَفْسِهِۦ اپنے دل nafsihi
اپنے دل
وَلَمْ اور نہیں walam
اور نہیں
يُبْدِهَا ظاہر کیا اس کو yub'dihā
ظاہر کیا اس کو
لَهُمْ ۚ ان کے لئیے lahum
ان کے لئیے
قَالَ کہا qāla
کہا
أَنتُمْ تم antum
تم
شَرٌّۭ برے ہو sharrun
برے ہو
مَّكَانًۭا ۖ مقام میں makānan
مقام میں
وَٱللَّهُ اور اللہ wal-lahu
اور اللہ
أَعْلَمُ خوب جانتا ہے aʿlamu
خوب جانتا ہے
بِمَا ساتھ اس کے bimā
ساتھ اس کے
تَصِفُونَ جو کچھ تم بیان کر رہے ہو taṣifūna
جو کچھ تم بیان کر رہے ہو
٧٧ (۷۷)
(۷۷)
ان بھائیوں نے کہا”یہ چوری کرے تو کچھ تعجّب کی بات نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یُوسُف ؑ)بھی چوری کر چکا ہے۔“1 یُوسُف ؑ ان کی یہ بات سُن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی، بس (زیرِ لب)اتنا کہہ کر رہ گیاکہ”بڑے ہی بُرے ہو تم لوگ،(میرے منہ در منہ مجھ پر)جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے۔“
۱۲:۷۸
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَيُّهَا اے yāayyuhā
اے
ٱلْعَزِيزُ عزیز l-ʿazīzu
عزیز
إِنَّ بیشک inna
بیشک
لَهُۥٓ اس کا lahu
اس کا
أَبًۭا باپ aban
باپ
شَيْخًۭا بوڑھا ہے shaykhan
بوڑھا ہے
كَبِيرًۭا بڑا kabīran
بڑا
فَخُذْ پس لے لے fakhudh
پس لے لے
أَحَدَنَا ہم میں سے کسی ایک کو aḥadanā
ہم میں سے کسی ایک کو
مَكَانَهُۥٓ ۖ اس کی جگہ makānahu
اس کی جگہ
إِنَّا بیشک ہم innā
بیشک ہم
نَرَىٰكَ ہم دیکھتے ہیں تجھ کو narāka
ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
مِنَ میں سے mina
میں سے
ٱلْمُحْسِنِينَ محسنین l-muḥ'sinīna
محسنین
٧٨ (۷۸)
(۷۸)
انہوں نے کہا”اے سردار ذی اقتدار(عزیز) 1، اس کا باپ بہت بُوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سےکسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں۔“
۱۲:۷۹
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
مَعَاذَ پناہ maʿādha
پناہ
ٱللَّهِ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
أَن کہ ہم an
کہ ہم
نَّأْخُذَ لیں nakhudha
لیں
إِلَّا مگر illā
مگر
مَن اسے man
اسے
وَجَدْنَا جس کو پایا ہم نے wajadnā
جس کو پایا ہم نے
مَتَـٰعَنَا اپنا سامان matāʿanā
اپنا سامان
عِندَهُۥٓ اس کے پاس ʿindahu
اس کے پاس
إِنَّآ بیشک ہم innā
بیشک ہم
إِذًۭا تب البتہ idhan
تب البتہ
لَّظَـٰلِمُونَ ظالم ہوں گے laẓālimūna
ظالم ہوں گے
٧٩ (۷۹)
(۷۹)
یُوسُف ؑ نے کہا”پناہِ خدا، دُوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں، جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے1 اُس کو چھوڑ کر دُوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے۔“
۱۲:۸۰
فَلَمَّا پھر جب falammā
پھر جب
ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ وہ مایوس ہوگئے is'tayasū
وہ مایوس ہوگئے
مِنْهُ اس سے min'hu
اس سے
خَلَصُوا۟ اکیلے بیٹھے khalaṣū
اکیلے بیٹھے
نَجِيًّۭا ۖ سرگوشیاں کرنے کو/ مشورہ کرنے کو najiyyan
سرگوشیاں کرنے کو/ مشورہ کرنے کو
قَالَ کہا qāla
کہا
كَبِيرُهُمْ ان کے بڑے نے kabīruhum
ان کے بڑے نے
أَلَمْ کیانہیں alam
کیانہیں
تَعْلَمُوٓا۟ تم جانتے ہو taʿlamū
تم جانتے ہو
أَنَّ کہ anna
کہ
أَبَاكُمْ تمہارے والد نے abākum
تمہارے والد نے
قَدْ تحقیق qad
تحقیق
أَخَذَ لیا akhadha
لیا
عَلَيْكُم تم پر ʿalaykum
تم پر
مَّوْثِقًۭا پکا وعدہ mawthiqan
پکا وعدہ
مِّنَ نام سے mina
نام سے
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
وَمِن اور اس سے wamin
اور اس سے
قَبْلُ پہلے qablu
پہلے
مَا جو
جو
فَرَّطتُمْ کوتاہی کی تم نے farraṭtum
کوتاہی کی تم نے
فِى میں
میں
يُوسُفَ ۖ یوسف کے معاملے yūsufa
یوسف کے معاملے
فَلَنْ تو ہرگز نہ falan
تو ہرگز نہ
أَبْرَحَ میں ٹلوں گا abraḥa
میں ٹلوں گا
ٱلْأَرْضَ اس زمین سے l-arḍa
اس زمین سے
حَتَّىٰ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
يَأْذَنَ اجازت دے yadhana
اجازت دے
لِىٓ مجھ کو
مجھ کو
أَبِىٓ میرا باپ abī
میرا باپ
أَوْ یا aw
یا
يَحْكُمَ فیصلہ کردے yaḥkuma
فیصلہ کردے
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
لِى ۖ میرے لئے
میرے لئے
وَهُوَ اور وہ wahuwa
اور وہ
خَيْرُ بہترین khayru
بہترین
ٱلْحَـٰكِمِينَ فیصلہ کرنے والا ہے l-ḥākimīna
فیصلہ کرنے والا ہے
٨٠ (۸۰)
(۸۰)
جب وہ یوسفؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا "تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر کیا عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
۱۲:۸۱
ٱرْجِعُوٓا۟ لوٹ آؤ ir'jiʿū
لوٹ آؤ
إِلَىٰٓ طرف ilā
طرف
أَبِيكُمْ اپنے باپ کی abīkum
اپنے باپ کی
فَقُولُوا۟ پھر کہو faqūlū
پھر کہو
يَـٰٓأَبَانَآ اے ہمارے ابا جان yāabānā
اے ہمارے ابا جان
إِنَّ بیشک inna
بیشک
ٱبْنَكَ تیرے بیٹے نے ib'naka
تیرے بیٹے نے
سَرَقَ چوری کی ہے saraqa
چوری کی ہے
وَمَا اور ہم نے wamā
اور ہم نے
شَهِدْنَآ دیکھا نہیں shahid'nā
دیکھا نہیں
إِلَّا مگر illā
مگر
بِمَا جو ہم کو bimā
جو ہم کو
عَلِمْنَا معلوم ہوا ʿalim'nā
معلوم ہوا
وَمَا اور نہیں wamā
اور نہیں
كُنَّا ہیں ہم kunnā
ہیں ہم
لِلْغَيْبِ غیب کے لئے lil'ghaybi
غیب کے لئے
حَـٰفِظِينَ حفاظت کرنے والے ḥāfiẓīna
حفاظت کرنے والے
٨١ (۸۱)
(۸۱)
تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے
۱۲:۸۲
وَسْـَٔلِ اور پوچھ لو wasali
اور پوچھ لو
ٱلْقَرْيَةَ بستی والوں سے l-qaryata
بستی والوں سے
ٱلَّتِى وہ جو allatī
وہ جو
كُنَّا تھے ہم kunnā
تھے ہم
فِيهَا اس میں fīhā
اس میں
وَٱلْعِيرَ اور اہل قافلہ سے wal-ʿīra
اور اہل قافلہ سے
ٱلَّتِىٓ وہ جو allatī
وہ جو
أَقْبَلْنَا ہم آئے ہیں aqbalnā
ہم آئے ہیں
فِيهَا ۖ اس میں fīhā
اس میں
وَإِنَّا اور بیشک ہم wa-innā
اور بیشک ہم
لَصَـٰدِقُونَ البتہ سچے ہیں laṣādiqūna
البتہ سچے ہیں
٨٢ (۸۲)
(۸۲)
آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں"
۱۲:۸۳
قَالَ کہا qāla
کہا
بَلْ بلکہ bal
بلکہ
سَوَّلَتْ آسان کردیا sawwalat
آسان کردیا
لَكُمْ تمہارے لئے lakum
تمہارے لئے
أَنفُسُكُمْ تمہارے نفسوں نے anfusukum
تمہارے نفسوں نے
أَمْرًۭا ۖ ایک کام کو amran
ایک کام کو
فَصَبْرٌۭ تو صبر ہی faṣabrun
تو صبر ہی
جَمِيلٌ ۖ اچھا ہے jamīlun
اچھا ہے
عَسَى امید ہے کہ ʿasā
امید ہے کہ
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
أَن will bring them to me an
will bring them to me
يَأْتِيَنِى لے آئے گا میرے پاس yatiyanī
لے آئے گا میرے پاس
بِهِمْ ان کو bihim
ان کو
جَمِيعًا ۚ سب کے سب کو jamīʿan
سب کے سب کو
إِنَّهُۥ کیونکہ وہ innahu
کیونکہ وہ
هُوَ وہ huwa
وہ
ٱلْعَلِيمُ علم والا l-ʿalīmu
علم والا
ٱلْحَكِيمُ حکمت والا ہے l-ḥakīmu
حکمت والا ہے
٨٣ (۸۳)
(۸۳)
باپ نے یہ داستان سُن کر کہا”دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا۔1 اچھا، اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔ کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اُس کے سب کا م حکمت پر مبنی ہیں۔“
۱۲:۸۴
وَتَوَلَّىٰ اور اس نے منہ پھیرلیا watawallā
اور اس نے منہ پھیرلیا
عَنْهُمْ ان سے ʿanhum
ان سے
وَقَالَ اور بولا waqāla
اور بولا
يَـٰٓأَسَفَىٰ ہائے افسوس yāasafā
ہائے افسوس
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
يُوسُفَ یوسف yūsufa
یوسف
وَٱبْيَضَّتْ اور سفید ہوگئیں wa-ib'yaḍḍat
اور سفید ہوگئیں
عَيْنَاهُ اس کی دونوں آنکھیں ʿaynāhu
اس کی دونوں آنکھیں
مِنَ سے mina
سے
ٱلْحُزْنِ غم کی وجہ l-ḥuz'ni
غم کی وجہ
فَهُوَ تو وہ fahuwa
تو وہ
كَظِيمٌۭ سخت غمگین تھے kaẓīmun
سخت غمگین تھے
٨٤ (۸۴)
(۸۴)
پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ "ہا ئے یوسف!" وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جا رہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑ گئی تھیں
۱۲:۸۵
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ قسم اللہ کی tal-lahi
قسم اللہ کی
تَفْتَؤُا۟ تو ہمیشہ رہتا ہے tafta-u
تو ہمیشہ رہتا ہے
تَذْكُرُ ذکر کرتا/ یاد کرتا tadhkuru
ذکر کرتا/ یاد کرتا
يُوسُفَ یوسف کو yūsufa
یوسف کو
حَتَّىٰ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
تَكُونَ تو ہوجائے takūna
تو ہوجائے
حَرَضًا بیمار/ بیکار ḥaraḍan
بیمار/ بیکار
أَوْ یا aw
یا
تَكُونَ تو ہوجائے takūna
تو ہوجائے
مِنَ میں سے mina
میں سے
ٱلْهَـٰلِكِينَ ہلاک ہونے والوں l-hālikīna
ہلاک ہونے والوں
٨٥ (۸۵)
(۸۵)
بیٹوں نے کہا "خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے"
۱۲:۸۶
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
إِنَّمَآ بیشک innamā
بیشک
أَشْكُوا۟ میں شکایت کرتاہوں ashkū
میں شکایت کرتاہوں
بَثِّى اپنی پریشانی کی bathī
اپنی پریشانی کی
وَحُزْنِىٓ اور اپنے غم کی waḥuz'nī
اور اپنے غم کی
إِلَى طرف ilā
طرف
ٱللَّهِ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
وَأَعْلَمُ اور میں جانتا ہوں wa-aʿlamu
اور میں جانتا ہوں
مِنَ سے mina
سے
ٱللَّهِ اللہ کی طرف (سے) l-lahi
اللہ کی طرف (سے)
مَا جو
جو
لَا نہیں
نہیں
تَعْلَمُونَ تم جانتے taʿlamūna
تم جانتے
٨٦ (۸۶)
(۸۶)
اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو
۱۲:۸۷
يَـٰبَنِىَّ اے میرے بچو ! yābaniyya
اے میرے بچو !
ٱذْهَبُوا۟ جاؤ idh'habū
جاؤ
فَتَحَسَّسُوا۟ پس ٹوہ لگاؤ fataḥassasū
پس ٹوہ لگاؤ
مِن سے min
سے
يُوسُفَ یوسف کی yūsufa
یوسف کی
وَأَخِيهِ اور اس کے بھائی کی wa-akhīhi
اور اس کے بھائی کی
وَلَا اور مت walā
اور مت
تَا۟يْـَٔسُوا۟ مایوس ہو tāy'asū
مایوس ہو
مِن سے min
سے
رَّوْحِ رحمت rawḥi
رحمت
ٱللَّهِ ۖ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
إِنَّهُۥ کیونکہ innahu
کیونکہ
لَا نہیں
نہیں
يَا۟يْـَٔسُ مایوس ہوتے yāy'asu
مایوس ہوتے
مِن سے min
سے
رَّوْحِ رحمت rawḥi
رحمت
ٱللَّهِ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
إِلَّا سوائے illā
سوائے
ٱلْقَوْمُ قوم کے l-qawmu
قوم کے
ٱلْكَـٰفِرُونَ کافر l-kāfirūna
کافر
٨٧ (۸۷)
(۸۷)
میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں"
۱۲:۸۸
فَلَمَّا پھر جب falammā
پھر جب
دَخَلُوا۟ وہ داخل ہوئے dakhalū
وہ داخل ہوئے
عَلَيْهِ اس پر ʿalayhi
اس پر
قَالُوا۟ کہنے لگے qālū
کہنے لگے
يَـٰٓأَيُّهَا اے yāayyuhā
اے
ٱلْعَزِيزُ عزیز l-ʿazīzu
عزیز
مَسَّنَا پہنچی ہم کو massanā
پہنچی ہم کو
وَأَهْلَنَا اور ہمارے گھر والوں کو wa-ahlanā
اور ہمارے گھر والوں کو
ٱلضُّرُّ تکلیف l-ḍuru
تکلیف
وَجِئْنَا اور لائے ہیں ہم waji'nā
اور لائے ہیں ہم
بِبِضَـٰعَةٍۢ پونچی bibiḍāʿatin
پونچی
مُّزْجَىٰةٍۢ حقیر سی muz'jātin
حقیر سی
فَأَوْفِ پس پورا پورا دے دیجئے fa-awfi
پس پورا پورا دے دیجئے
لَنَا ہم کو lanā
ہم کو
ٱلْكَيْلَ پیمانہ l-kayla
پیمانہ
وَتَصَدَّقْ اور صدقہ کر wataṣaddaq
اور صدقہ کر
عَلَيْنَآ ۖ ہم پر ʿalaynā
ہم پر
إِنَّ بیشک inna
بیشک
ٱللَّهَ اللہ تعالیٰ l-laha
اللہ تعالیٰ
يَجْزِى جزا دیتا ہے yajzī
جزا دیتا ہے
ٱلْمُتَصَدِّقِينَ صدقہ کرنے والوں کو l-mutaṣadiqīna
صدقہ کرنے والوں کو
٨٨ (۸۸)
(۸۸)
جب یہ لوگ مصر جا کر یُوسُف ؑ کی پیشی میں داخل ہوئےتو انہوں نے عرض کیا”اے سردار با اقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مُبتلا ہیں، اور ہم کچھ حقیر سی پُونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھرپور غلّہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں1، اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔“
۱۲:۸۹
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
هَلْ کیا hal
کیا
عَلِمْتُم تم جانتے ہو ʿalim'tum
تم جانتے ہو
مَّا کیا
کیا
فَعَلْتُم کیا تھا تم نے faʿaltum
کیا تھا تم نے
بِيُوسُفَ یوسف کے ساتھ biyūsufa
یوسف کے ساتھ
وَأَخِيهِ اور اس کے بھائی کے wa-akhīhi
اور اس کے بھائی کے
إِذْ جب idh
جب
أَنتُمْ تھے تم antum
تھے تم
جَـٰهِلُونَ لاعلم jāhilūna
لاعلم
٨٩ (۸۹)
(۸۹)
(یہ سن کریوسفؑ سے نہ رہا گیا) اُس نے کہا "تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے"
۱۲:۹۰
قَالُوٓا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
أَءِنَّكَ کیا بیشک تو a-innaka
کیا بیشک تو
لَأَنتَ التبہ تو ہی la-anta
التبہ تو ہی
يُوسُفُ ۖ یوسف ہے yūsufu
یوسف ہے
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
أَنَا۠ میں anā
میں
يُوسُفُ یوسف ہوں yūsufu
یوسف ہوں
وَهَـٰذَآ اور یہ wahādhā
اور یہ
أَخِى ۖ میرا بھائی ہے akhī
میرا بھائی ہے
قَدْ تحقیق qad
تحقیق
مَنَّ احسان کیا manna
احسان کیا
ٱللَّهُ اللہ نے l-lahu
اللہ نے
عَلَيْنَآ ۖ ہم پر ʿalaynā
ہم پر
إِنَّهُۥ بیشک وہ innahu
بیشک وہ
مَن جو man
جو
يَتَّقِ تقویٰ اختیار کرے yattaqi
تقویٰ اختیار کرے
وَيَصْبِرْ اور صبر کرے wayaṣbir
اور صبر کرے
فَإِنَّ تو یقیناً fa-inna
تو یقیناً
ٱللَّهَ اللہ تعالیٰ l-laha
اللہ تعالیٰ
لَا نہیں
نہیں
يُضِيعُ ضائع کرتا yuḍīʿu
ضائع کرتا
أَجْرَ اجر ajra
اجر
ٱلْمُحْسِنِينَ محسنین کا l-muḥ'sinīna
محسنین کا
٩٠ (۹۰)
(۹۰)
وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا"
۱۲:۹۱
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ اللہ کی قسم tal-lahi
اللہ کی قسم
لَقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
ءَاثَرَكَ ترجیح دی تجھ کو ātharaka
ترجیح دی تجھ کو
ٱللَّهُ اللہ نے l-lahu
اللہ نے
عَلَيْنَا ہم پر ʿalaynā
ہم پر
وَإِن اور بیشک wa-in
اور بیشک
كُنَّا تھے ہم kunnā
تھے ہم
لَخَـٰطِـِٔينَ البتہ خطا کار lakhāṭiīna
البتہ خطا کار
٩١ (۹۱)
(۹۱)
انہوں نے کہا "بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے"
۱۲:۹۲
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
لَا نہیں
نہیں
تَثْرِيبَ کوئی الزام tathrība
کوئی الزام
عَلَيْكُمُ تم پر ʿalaykumu
تم پر
ٱلْيَوْمَ ۖ آج l-yawma
آج
يَغْفِرُ معاف کردے yaghfiru
معاف کردے
ٱللَّهُ اللہ l-lahu
اللہ
لَكُمْ ۖ تم کو lakum
تم کو
وَهُوَ اور وہ wahuwa
اور وہ
أَرْحَمُ سب سے بڑھ کر arḥamu
سب سے بڑھ کر
ٱلرَّٰحِمِينَ رحم فرمانے والا ہے l-rāḥimīna
رحم فرمانے والا ہے
٩٢ (۹۲)
(۹۲)
اس نے جواب دیا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے
۱۲:۹۳
ٱذْهَبُوا۟ لے جاؤ idh'habū
لے جاؤ
بِقَمِيصِى میری قمیص کو biqamīṣī
میری قمیص کو
هَـٰذَا اس کو hādhā
اس کو
فَأَلْقُوهُ پھر ڈال دو اس کو fa-alqūhu
پھر ڈال دو اس کو
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
وَجْهِ چہرے wajhi
چہرے
أَبِى میرے باپ کے abī
میرے باپ کے
يَأْتِ آجائے گا yati
آجائے گا
بَصِيرًۭا دیکھنے والا baṣīran
دیکھنے والا
وَأْتُونِى اور لے آؤ میرے پاس watūnī
اور لے آؤ میرے پاس
بِأَهْلِكُمْ اپنے گھر والوں کو bi-ahlikum
اپنے گھر والوں کو
أَجْمَعِينَ سب کے سب کو ajmaʿīna
سب کے سب کو
٩٣ (۹۳)
(۹۳)
جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ"
۱۲:۹۴
وَلَمَّا اور جب walammā
اور جب
فَصَلَتِ جدا ہوا faṣalati
جدا ہوا
ٱلْعِيرُ قافلہ l-ʿīru
قافلہ
قَالَ کہا qāla
کہا
أَبُوهُمْ ان کے باپ نے abūhum
ان کے باپ نے
إِنِّى بیشک میں innī
بیشک میں
لَأَجِدُ البتہ میں پاتا ہوں la-ajidu
البتہ میں پاتا ہوں
رِيحَ خوشبو rīḥa
خوشبو
يُوسُفَ ۖ یوسف کی yūsufa
یوسف کی
لَوْلَآ اگر نہیں lawlā
اگر نہیں
أَن یہ کہ an
یہ کہ
تُفَنِّدُونِ تم بہکا ہوا کہو مجھے tufannidūni
تم بہکا ہوا کہو مجھے
٩٤ (۹۴)
(۹۴)
جب یہ قافلہ (مصر سے)روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں)کہا”میں یُوسُف ؑ کی خوشبو محسُوس کر رہا ہوں،1 تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں۔“
۱۲:۹۵
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ قسم اللہ کی tal-lahi
قسم اللہ کی
إِنَّكَ بیشک تو innaka
بیشک تو
لَفِى البتہ میں ہو lafī
البتہ میں ہو
ضَلَـٰلِكَ اپنے خبط ḍalālika
اپنے خبط
ٱلْقَدِيمِ پرانے l-qadīmi
پرانے
٩٥ (۹۵)
(۹۵)
گھر کے لوگ بولے”خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پُرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں۔“1
۱۲:۹۶
فَلَمَّآ پھر جب falammā
پھر جب
أَن یہ کہ an
یہ کہ
جَآءَ آگیا jāa
آگیا
ٱلْبَشِيرُ خوش خبری دینے والا l-bashīru
خوش خبری دینے والا
أَلْقَىٰهُ اس نے ڈالا اس کو alqāhu
اس نے ڈالا اس کو
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
وَجْهِهِۦ اس کے چہرے wajhihi
اس کے چہرے
فَٱرْتَدَّ تو ہوگیا وہ fa-ir'tadda
تو ہوگیا وہ
بَصِيرًۭا ۖ دیکھنے والا baṣīran
دیکھنے والا
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
أَلَمْ کیا نہیں alam
کیا نہیں
أَقُل میں نے کہا تھا aqul
میں نے کہا تھا
لَّكُمْ تم سے lakum
تم سے
إِنِّىٓ بیشک میں innī
بیشک میں
أَعْلَمُ جانتا ہوں aʿlamu
جانتا ہوں
مِنَ طرف سے mina
طرف سے
ٱللَّهِ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
مَا جو
جو
لَا نہیں
نہیں
تَعْلَمُونَ تم جانتے taʿlamūna
تم جانتے
٩٦ (۹۶)
(۹۶)
پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"
۱۲:۹۷
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
يَـٰٓأَبَانَا اے ہمارے ابا جان yāabānā
اے ہمارے ابا جان
ٱسْتَغْفِرْ بخشش مانگئے is'taghfir
بخشش مانگئے
لَنَا ہمارے لئے lanā
ہمارے لئے
ذُنُوبَنَآ ہمارے گناہوں کی dhunūbanā
ہمارے گناہوں کی
إِنَّا بیشک ہم innā
بیشک ہم
كُنَّا تھے ہم kunnā
تھے ہم
خَـٰطِـِٔينَ خطا کار khāṭiīna
خطا کار
٩٧ (۹۷)
(۹۷)
سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے"
۱۲:۹۸
قَالَ کہا qāla
کہا
سَوْفَ عنقریب sawfa
عنقریب
أَسْتَغْفِرُ میں بخشش مانگوں گا astaghfiru
میں بخشش مانگوں گا
لَكُمْ تمہارے لیئے lakum
تمہارے لیئے
رَبِّىٓ ۖ اپنے رب سے rabbī
اپنے رب سے
إِنَّهُۥ بیشک وہ innahu
بیشک وہ
هُوَ وہ huwa
وہ
ٱلْغَفُورُ غفور، l-ghafūru
غفور،
ٱلرَّحِيمُ رحیم ہے l-raḥīmu
رحیم ہے
٩٨ (۹۸)
(۹۸)
اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"
۱۲:۹۹
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
دَخَلُوا۟ وہ داخل ہوئے dakhalū
وہ داخل ہوئے
عَلَىٰ اوپر ʿalā
اوپر
يُوسُفَ یوسف کے yūsufa
یوسف کے
ءَاوَىٰٓ اس نے پناہ دی/ بٹھالیا اپنے āwā
اس نے پناہ دی/ بٹھالیا اپنے
إِلَيْهِ اپنے پاس ilayhi
اپنے پاس
أَبَوَيْهِ اپنے والدین کو abawayhi
اپنے والدین کو
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
ٱدْخُلُوا۟ داخل ہوجاؤ ud'khulū
داخل ہوجاؤ
مِصْرَ شہر میں miṣ'ra
شہر میں
إِن اگر in
اگر
شَآءَ چاہا shāa
چاہا
ٱللَّهُ اللہ نے l-lahu
اللہ نے
ءَامِنِينَ امن والے ہوگے āminīna
امن والے ہوگے
٩٩ (۹۹)
(۹۹)
پھر جب یہ لوگ یُوسُف ؑ کے پاس پہنچے1 تو اُس نے اپنےوالدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا2 اور (اپنےسب کنبے والوں سے کہا)”چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے۔“
۱۲:۱۰۰
وَرَفَعَ اور اوپر بٹھایا warafaʿa
اور اوپر بٹھایا
أَبَوَيْهِ اپنے والدین کو abawayhi
اپنے والدین کو
عَلَى پر ʿalā
پر
ٱلْعَرْشِ تخت l-ʿarshi
تخت
وَخَرُّوا۟ اور وہ سب گرپڑے wakharrū
اور وہ سب گرپڑے
لَهُۥ اس کے لئے lahu
اس کے لئے
سُجَّدًۭا ۖ سجدہ کرتے ہوئے sujjadan
سجدہ کرتے ہوئے
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
يَـٰٓأَبَتِ اے میرے ابا جان yāabati
اے میرے ابا جان
هَـٰذَا یہ hādhā
یہ
تَأْوِيلُ تعبیر ہے tawīlu
تعبیر ہے
رُءْيَـٰىَ میرے خواب کی ru'yāya
میرے خواب کی
مِن سے min
سے
قَبْلُ جو پہلے (سے) تھا qablu
جو پہلے (سے) تھا
قَدْ تحقیق qad
تحقیق
جَعَلَهَا بنادیا اس کو jaʿalahā
بنادیا اس کو
رَبِّى میرے رب نے rabbī
میرے رب نے
حَقًّۭا ۖ سچا ḥaqqan
سچا
وَقَدْ اور تحقیق waqad
اور تحقیق
أَحْسَنَ اسنے احسان کیا aḥsana
اسنے احسان کیا
بِىٓ میرے ساتھ
میرے ساتھ
إِذْ جب idh
جب
أَخْرَجَنِى اس نے نکالا مجھ کو akhrajanī
اس نے نکالا مجھ کو
مِنَ سے mina
سے
ٱلسِّجْنِ قید خانے l-sij'ni
قید خانے
وَجَآءَ اور لے آیا wajāa
اور لے آیا
بِكُم تم کو bikum
تم کو
مِّنَ سے mina
سے
ٱلْبَدْوِ جنگل l-badwi
جنگل
مِنۢ سے min
سے
بَعْدِ اس کے بعد baʿdi
اس کے بعد
أَن کہ an
کہ
نَّزَغَ وسوسہ nazagha
وسوسہ
ٱلشَّيْطَـٰنُ شیطان نے l-shayṭānu
شیطان نے
بَيْنِى میرے درمیان baynī
میرے درمیان
وَبَيْنَ اور درمیان wabayna
اور درمیان
إِخْوَتِىٓ ۚ میرے بھائیوں کے ikh'watī
میرے بھائیوں کے
إِنَّ بیشک inna
بیشک
رَبِّى میرا رب rabbī
میرا رب
لَطِيفٌۭ باریک بین ہے laṭīfun
باریک بین ہے
لِّمَا واسطے اس کے limā
واسطے اس کے
يَشَآءُ ۚ جو وہ چاہتا ہے yashāu
جو وہ چاہتا ہے
إِنَّهُۥ بیشک وہ innahu
بیشک وہ
هُوَ وہ huwa
وہ
ٱلْعَلِيمُ علم والا ہے، l-ʿalīmu
علم والا ہے،
ٱلْحَكِيمُ حکمت والا ہے l-ḥakīmu
حکمت والا ہے
١٠٠ (۱۰۰)
(۱۰۰)
(شہر میں داخل ہونے کے بعد)اس نے اپنے والدین کو اُٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے۔1 یُوسُف ؑ نے کہا”ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے ربّ نے اسے حقیقت بنا دیا۔ اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا ربّ غیر محسُوس تدبیروں سے اپنی مشیّت پُوری کرتا ہے، بے شک وہ علیم اور حکیم ہے
۱۲:۱۰۱
۞ رَبِّ اے میرے رب rabbi
اے میرے رب
قَدْ تحقیق qad
تحقیق
ءَاتَيْتَنِى دیا تو نے مجھ کو ātaytanī
دیا تو نے مجھ کو
مِنَ میں سے mina
میں سے
ٱلْمُلْكِ بادشاہت l-mul'ki
بادشاہت
وَعَلَّمْتَنِى اور سکھایا تو نے مجھ کو waʿallamtanī
اور سکھایا تو نے مجھ کو
مِن سے min
سے
تَأْوِيلِ تعبیر میں (سے) tawīli
تعبیر میں (سے)
ٱلْأَحَادِيثِ ۚ خوابوں کی l-aḥādīthi
خوابوں کی
فَاطِرَ پیدا کرنے والے fāṭira
پیدا کرنے والے
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ آسمانوں l-samāwāti
آسمانوں
وَٱلْأَرْضِ اور زمین کے wal-arḍi
اور زمین کے
أَنتَ تو میرا anta
تو میرا
وَلِىِّۦ دوست ہے waliyyī
دوست ہے
فِى میں
میں
ٱلدُّنْيَا دنیا l-dun'yā
دنیا
وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ اور آخرت میں wal-ākhirati
اور آخرت میں
تَوَفَّنِى تو فوت کر مجھ کو tawaffanī
تو فوت کر مجھ کو
مُسْلِمًۭا اسلام کی حالت میں mus'liman
اسلام کی حالت میں
وَأَلْحِقْنِى اور ملا دے مجھ کو wa-alḥiq'nī
اور ملا دے مجھ کو
بِٱلصَّـٰلِحِينَ صالح لوگوں کے ساتھ bil-ṣāliḥīna
صالح لوگوں کے ساتھ
١٠١ (۱۰۱)
(۱۰۱)
اے میرے ربّ، تُو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تُو ہی دُنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔“1
۱۲:۱۰۲
ذَٰلِكَ یہ dhālika
یہ
مِنْ میں سے ہے min
میں سے ہے
أَنۢبَآءِ خبروں anbāi
خبروں
ٱلْغَيْبِ غیب کی l-ghaybi
غیب کی
نُوحِيهِ ہم وحی کرتے ہیں اس کو nūḥīhi
ہم وحی کرتے ہیں اس کو
إِلَيْكَ ۖ آپ کی طرف ilayka
آپ کی طرف
وَمَا اور نہ تھے wamā
اور نہ تھے
كُنتَ آپ kunta
آپ
لَدَيْهِمْ ان کے پاس ladayhim
ان کے پاس
إِذْ جب idh
جب
أَجْمَعُوٓا۟ اتفاق کیا انہوں نے ajmaʿū
اتفاق کیا انہوں نے
أَمْرَهُمْ اپنے معاملے پر amrahum
اپنے معاملے پر
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
يَمْكُرُونَ چالیں چل رہے تھے yamkurūna
چالیں چل رہے تھے
١٠٢ (۱۰۲)
(۱۰۲)
اے محمدؐ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھے جب یوسفؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی
۱۲:۱۰۳
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أَكْثَرُ اکثر aktharu
اکثر
ٱلنَّاسِ لوگ l-nāsi
لوگ
وَلَوْ خواہ تم walaw
خواہ تم
حَرَصْتَ حریص ہو ḥaraṣta
حریص ہو
بِمُؤْمِنِينَ ایمان لانے والے bimu'minīna
ایمان لانے والے
١٠٣ (۱۰۳)
(۱۰۳)
مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو ان میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں۔1
۱۲:۱۰۴
وَمَا اور نہیں wamā
اور نہیں
تَسْـَٔلُهُمْ تم سوال کرتے ان سے tasaluhum
تم سوال کرتے ان سے
عَلَيْهِ اس پر ʿalayhi
اس پر
مِنْ کسی min
کسی
أَجْرٍ ۚ اجر کا ajrin
اجر کا
إِنْ نہیں ہے in
نہیں ہے
هُوَ وہ huwa
وہ
إِلَّا مگر illā
مگر
ذِكْرٌۭ ایک ذکر dhik'run
ایک ذکر
لِّلْعَـٰلَمِينَ سارے جہان والوں کے لئے lil'ʿālamīna
سارے جہان والوں کے لئے
١٠٤ (۱۰۴)
(۱۰۴)
حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اُجرت بھی نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے۔
۱۲:۱۰۵
وَكَأَيِّن اور کتنی ہی waka-ayyin
اور کتنی ہی
مِّنْ میں سے min
میں سے
ءَايَةٍۢ نشانیوں āyatin
نشانیوں
فِى میں
میں
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ آسمانوں l-samāwāti
آسمانوں
وَٱلْأَرْضِ اور زمین (میں) wal-arḍi
اور زمین (میں)
يَمُرُّونَ وہ گزرتے رہتے ہیں yamurrūna
وہ گزرتے رہتے ہیں
عَلَيْهَا ان پر ʿalayhā
ان پر
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
عَنْهَا ان سے ʿanhā
ان سے
مُعْرِضُونَ منہ موڑنے والے ہیں muʿ'riḍūna
منہ موڑنے والے ہیں
١٠٥ (۱۰۵)
(۱۰۵)
زمین1 اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سےیہ لوگ گزرتے ہیں اور ذرا توجّہ نہیں کرتے۔
۱۲:۱۰۶
وَمَا اور نہیں wamā
اور نہیں
يُؤْمِنُ ایمان لاتے yu'minu
ایمان لاتے
أَكْثَرُهُم ان میں سے اکثر aktharuhum
ان میں سے اکثر
بِٱللَّهِ اللہ کے ساتھ bil-lahi
اللہ کے ساتھ
إِلَّا مگر illā
مگر
وَهُم اور وہ wahum
اور وہ
مُّشْرِكُونَ شرک کرنے والے ہوتے ہیں mush'rikūna
شرک کرنے والے ہوتے ہیں
١٠٦ (۱۰۶)
(۱۰۶)
ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔1
۱۲:۱۰۷
أَفَأَمِنُوٓا۟ کیا بھلا وہ بےخوف ہوگئے/ امن میں آگئے afa-aminū
کیا بھلا وہ بےخوف ہوگئے/ امن میں آگئے
أَن کہ an
کہ
تَأْتِيَهُمْ آئے ان کے پاس tatiyahum
آئے ان کے پاس
غَـٰشِيَةٌۭ ایک ڈھانپ لینے والی ghāshiyatun
ایک ڈھانپ لینے والی
مِّنْ سے min
سے
عَذَابِ عذاب میں (سے) ʿadhābi
عذاب میں (سے)
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
أَوْ یا aw
یا
تَأْتِيَهُمُ آئے ان کے پاس tatiyahumu
آئے ان کے پاس
ٱلسَّاعَةُ قیامت کی گھڑی l-sāʿatu
قیامت کی گھڑی
بَغْتَةًۭ اچانک baghtatan
اچانک
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
لَا نہ
نہ
يَشْعُرُونَ شعور رکھتے ہوں yashʿurūna
شعور رکھتے ہوں
١٠٧ (۱۰۷)
(۱۰۷)
کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟1
۱۲:۱۰۸
قُلْ کہہ دیجئے qul
کہہ دیجئے
هَـٰذِهِۦ یہ hādhihi
یہ
سَبِيلِىٓ میرا راستہ ہے sabīlī
میرا راستہ ہے
أَدْعُوٓا۟ میں بلاتا ہوں adʿū
میں بلاتا ہوں
إِلَى طرف ilā
طرف
ٱللَّهِ ۚ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
عَلَىٰ کے ساتھ ʿalā
کے ساتھ
بَصِيرَةٍ بصیرت baṣīratin
بصیرت
أَنَا۠ میں anā
میں
وَمَنِ اور جو کوئی wamani
اور جو کوئی
ٱتَّبَعَنِى ۖ پیروی کرے میری ittabaʿanī
پیروی کرے میری
وَسُبْحَـٰنَ اور پاک ہے wasub'ḥāna
اور پاک ہے
ٱللَّهِ اللہ l-lahi
اللہ
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أَنَا۠ میں anā
میں
مِنَ میں سے mina
میں سے
ٱلْمُشْرِكِينَ شرک کرنے والوں l-mush'rikīna
شرک کرنے والوں
١٠٨ (۱۰۸)
(۱۰۸)
تم ان سے صاف کہہ دو کہ ”میرا رستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بُلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے1 اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔“
۱۲:۱۰۹
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أَرْسَلْنَا بھیجا ہم نے arsalnā
بھیجا ہم نے
مِن آپ سے min
آپ سے
قَبْلِكَ پہلے qablika
پہلے
إِلَّا مگر illā
مگر
رِجَالًۭا مردوں کو rijālan
مردوں کو
نُّوحِىٓ ہم وحی کرتے تھے nūḥī
ہم وحی کرتے تھے
إِلَيْهِم ان کی طرف ilayhim
ان کی طرف
مِّنْ میں سے min
میں سے
أَهْلِ والوں ahli
والوں
ٱلْقُرَىٰٓ ۗ بستی l-qurā
بستی
أَفَلَمْ کیا پھر نہیں afalam
کیا پھر نہیں
يَسِيرُوا۟ وہ چلے پھرے yasīrū
وہ چلے پھرے
فِى میں
میں
ٱلْأَرْضِ زمین l-arḍi
زمین
فَيَنظُرُوا۟ تو وہ دیکھتے fayanẓurū
تو وہ دیکھتے
كَيْفَ کس طرح kayfa
کس طرح
كَانَ ہوا kāna
ہوا
عَـٰقِبَةُ انجام ʿāqibatu
انجام
ٱلَّذِينَ ان لوگوں کا alladhīna
ان لوگوں کا
مِن ان سے min
ان سے
قَبْلِهِمْ ۗ پہلے qablihim
پہلے
وَلَدَارُ اور البتہ گھر waladāru
اور البتہ گھر
ٱلْـَٔاخِرَةِ آخرت کا l-ākhirati
آخرت کا
خَيْرٌۭ بہتر ہے khayrun
بہتر ہے
لِّلَّذِينَ ان لوگوں کے لئے lilladhīna
ان لوگوں کے لئے
ٱتَّقَوْا۟ ۗ جو تقویٰ اختیار کریں ittaqaw
جو تقویٰ اختیار کریں
أَفَلَا کیا تم afalā
کیا تم
تَعْقِلُونَ عقل سے کام نہیں لیتے ہو taʿqilūna
عقل سے کام نہیں لیتے ہو
١٠٩ (۱۰۹)
(۱۰۹)
اے محمد ؐ ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اَور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر)تقوٰی کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟1
۱۲:۱۱۰
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
ٱسْتَيْـَٔسَ مایوس ہوگئے is'tayasa
مایوس ہوگئے
ٱلرُّسُلُ رسول l-rusulu
رسول
وَظَنُّوٓا۟ اور لوگوں نے سمجھا waẓannū
اور لوگوں نے سمجھا
أَنَّهُمْ کہ بیشک وہ annahum
کہ بیشک وہ
قَدْ تحقیق qad
تحقیق
كُذِبُوا۟ وہ جھوٹ بولے گئے kudhibū
وہ جھوٹ بولے گئے
جَآءَهُمْ آئی ان کے پاس jāahum
آئی ان کے پاس
نَصْرُنَا مدد ہماری naṣrunā
مدد ہماری
فَنُجِّىَ تو بچالیا گیا fanujjiya
تو بچالیا گیا
مَن جس کو man
جس کو
نَّشَآءُ ۖ ہم نے چاہا nashāu
ہم نے چاہا
وَلَا اور نہیں walā
اور نہیں
يُرَدُّ پھیرا جاتا yuraddu
پھیرا جاتا
بَأْسُنَا عذاب ہمارا basunā
عذاب ہمارا
عَنِ سے ʿani
سے
ٱلْقَوْمِ قوم l-qawmi
قوم
ٱلْمُجْرِمِينَ مجرم l-muj'rimīna
مجرم
١١٠ (۱۱۰)
(۱۱۰)
(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا
۱۲:۱۱۱
لَقَدْ البتہ تحقیق laqad
البتہ تحقیق
كَانَ ہے kāna
ہے
فِى میں
میں
قَصَصِهِمْ ان کے قصوں qaṣaṣihim
ان کے قصوں
عِبْرَةٌۭ عبرت ʿib'ratun
عبرت
لِّأُو۟لِى والوں کے لئے li-ulī
والوں کے لئے
ٱلْأَلْبَـٰبِ ۗ عقل l-albābi
عقل
مَا نہیں
نہیں
كَانَ ہے kāna
ہے
حَدِيثًۭا بات ḥadīthan
بات
يُفْتَرَىٰ جو گھڑ لی yuf'tarā
جو گھڑ لی
وَلَـٰكِن لیکن walākin
لیکن
تَصْدِيقَ تصدیق ہے taṣdīqa
تصدیق ہے
ٱلَّذِى اس چیز کی alladhī
اس چیز کی
بَيْنَ پہلے ہے bayna
پہلے ہے
يَدَيْهِ جو اس سے yadayhi
جو اس سے
وَتَفْصِيلَ اور تفصیل watafṣīla
اور تفصیل
كُلِّ ہر kulli
ہر
شَىْءٍۢ چیز کی shayin
چیز کی
وَهُدًۭى اور ہدایت wahudan
اور ہدایت
وَرَحْمَةًۭ اور رحمت ہے waraḥmatan
اور رحمت ہے
لِّقَوْمٍۢ اس قوم کے لئے liqawmin
اس قوم کے لئے
يُؤْمِنُونَ جو ایمان لاتی ہو yu'minūna
جو ایمان لاتی ہو
١١١ (۱۱۱)
(۱۱۱)
اگلے لوگوں کے ان قصّوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل1 اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔