۴۶

الاحقاف

مکی ۳۵ آیات پارہ ۲۶
الأحقاف

سورہ الاحقاف (الأحقاف) قرآن مجید کی ۴۶ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۳۵ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔

بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۴۶:۱
حمٓها ميمhha-meem١
ح م
۴۶:۲
تَنزِيلُنازل کرنا ہےtanzīluٱلْكِتَـٰبِکتاب کاl-kitābiمِنَسےminaٱللَّهِاللہ کی طرف (سے )l-lahiٱلْعَزِيزِجو زبردست ہےl-ʿazīziٱلْحَكِيمِحکمت والا ہےl-ḥakīmi٢
اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔1
۴۶:۳
مَانہیںخَلَقْنَاپیدا کیا ہم نےkhalaqnāٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کوl-samāwātiوَٱلْأَرْضَاور زمین کوwal-arḍaوَمَااور جوwamāبَيْنَهُمَآان دونوں کے درمیان ہےbaynahumāإِلَّامگرillāبِٱلْحَقِّحق کے ساتھbil-ḥaqiوَأَجَلٍۢاور مدت تکwa-ajalinمُّسَمًّۭى ۚمقرر تک کے لیےmusammanوَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūعَمَّآاس چیز سےʿammāأُنذِرُوا۟جو وہ خبر دار کیے گئےundhirūمُعْرِضُونَاعراض برتنے والے ہیںmuʿ'riḍūna٣
ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔1 مگر یہ کافر لو گ اُس حقیقت سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبر دار کیا گیا ہے۔2
۴۶:۴
قُلْکہہ دیجیےqulأَرَءَيْتُمکیا دیکھا تم نے۔ غور کیا تم نےara-aytumمَّاجن کوتَدْعُونَتم پکارتے ہوtadʿūnaمِنکےminدُونِسواdūniٱللَّهِاللہ کےl-lahiأَرُونِىدکھاؤ مجھ کوarūnīمَاذَاکیا کچھmādhāخَلَقُوا۟انہوں نے پیدا کیا ہےkhalaqūمِنَسےminaٱلْأَرْضِزمینl-arḍiأَمْیاamلَهُمْان کے لیےlahumشِرْكٌۭکوئی حصہ ہےshir'kunفِىمیںٱلسَّمَـٰوَٰتِ ۖآسمانوں (میں )l-samāwātiٱئْتُونِىلاؤ میرے پاسi'tūnīبِكِتَـٰبٍۢکوئی کتابbikitābinمِّنسےminقَبْلِپہلےqabliهَـٰذَآاس (سے)hādhāأَوْیاawأَثَـٰرَةٍۢباقی ماندہathāratinمِّنْسےminعِلْمٍعلم میں (سے)ʿil'minإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumصَـٰدِقِينَسچےṣādiqīna٤
اے نبی ؐ ، اِن سے کہو”کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا  بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکار تے ہو؟ ذرا مجھے دکھاوٴ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصّہ ہے۔ اِس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیّہ (اِن عقائد کے ثبوت میں)تمہارے پاس ہو تو وہی لے آوٴ اگر تم سچے ہو۔“1
۴۶:۵
وَمَنْاور کونwamanأَضَلُّزیادہ بھٹکا ہوا ہوسکتا ہےaḍalluمِمَّناس سے جوmimmanيَدْعُوا۟پکارتا ہےyadʿūمِنسےminدُونِسواdūniٱللَّهِاللہ کےl-lahiمَنجوmanلَّانہیںيَسْتَجِيبُجواب دے سکتےyastajībuلَهُۥٓاس کے لیےlahuإِلَىٰتکilāيَوْمِدنyawmiٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiوَهُمْاور وہwahumعَنسےʿanدُعَآئِهِمْان کی پکار (سے)duʿāihimغَـٰفِلُونَغافل ہیںghāfilūna٥
آخر اُس  شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے1 بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پُکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں ،2
۴۶:۶
وَإِذَااور جبwa-idhāحُشِرَجمع کیے جائیں گےḥushiraٱلنَّاسُلوگl-nāsuكَانُوا۟وہ ہوں گےkānūلَهُمْان کے لیےlahumأَعْدَآءًۭدشمنaʿdāanوَكَانُوا۟اور وہ ہوں گےwakānūبِعِبَادَتِهِمْان کی عبادت کےbiʿibādatihimكَـٰفِرِينَمنکرkāfirīna٦
اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔1
۴۶:۷
وَإِذَااور جبwa-idhāتُتْلَىٰپڑھی جاتی ہیںtut'lāعَلَيْهِمْان پرʿalayhimءَايَـٰتُنَاہماری آیاتāyātunāبَيِّنَـٰتٍۢروشنbayyinātinقَالَکہاqālaٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūلِلْحَقِّحق کے لیےlil'ḥaqqiلَمَّاجبlammāجَآءَهُمْوہ آگیا ان کے پاسjāahumهَـٰذَایہ ہےhādhāسِحْرٌۭجادوsiḥ'runمُّبِينٌکھلاmubīnun٧
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ کہ تو کھُلا جادو ہے۔1
۴۶:۸
أَمْیاamيَقُولُونَوہ کہتے ہیںyaqūlūnaٱفْتَرَىٰهُ ۖکہ اس نے گھڑ لیا ہے اس کوif'tarāhuقُلْکہہ دیجیےqulإِنِاگرiniٱفْتَرَيْتُهُۥمیں نے گھڑ لیا ہے اس کوif'taraytuhuفَلَاتو نہیںfalāتَمْلِكُونَتم مالک ہوسکتےtamlikūnaلِىمیرے لیےمِنَسےminaٱللَّهِاللہ کے مقابلے میںl-lahiشَيْـًٔا ۖکسی چیز کےshayanهُوَوہhuwaأَعْلَمُخوب جانتا ہےaʿlamuبِمَاساتھ اس کے جوbimāتُفِيضُونَتم پڑحتے ہو۔ تم شروع کرتے ہو۔ تم گھستے ہو۔ تم پلٹتے ہوtufīḍūnaفِيهِ ۖاس میںfīhiكَفَىٰکافیkafāبِهِۦساتھ اس کےbihiشَهِيدًۢاگواہ ہوناshahīdanبَيْنِىمیرے درمیانbaynīوَبَيْنَكُمْ ۖاور تمہارے درمیانwabaynakumوَهُوَاور وہwahuwaٱلْغَفُورُغفورl-ghafūruٱلرَّحِيمُرحیم ہےl-raḥīmu٨
کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسُول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟1 اِن سے کہو ”اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہواللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے،2 اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔“3
۴۶:۹
قُلْکہہ دیجیےqulمَانہیںكُنتُہوں میںkuntuبِدْعًۭانیا۔ انوکھاbid'ʿanمِّنَسےminaٱلرُّسُلِرسولوں میں (سے)l-rusuliوَمَآاور نہیںwamāأَدْرِىمیں جانتاadrīمَاکیايُفْعَلُکیا جائے گاyuf'ʿaluبِىمیرے ساتھوَلَااور نہwalāبِكُمْ ۖتمہارے ساتھbikumإِنْنہیںinأَتَّبِعُمیں پیروی کرتاattabiʿuإِلَّامگرillāمَااس کی جويُوحَىٰٓوحی کی جاتی ہےyūḥāإِلَىَّمیری طرفilayyaوَمَآاور نہیںwamāأَنَا۠میںanāإِلَّامگرillāنَذِيرٌۭخبردار کرنے والاnadhīrunمُّبِينٌۭکھلم کھلاmubīnun٩
اِن سے کہو”،میں کوئی نرالا رسُول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ بھی  نہیں ہوں۔“1
۴۶:۱۰
قُلْکہہ دیجیےqulأَرَءَيْتُمْکیا سوچا تم نےara-aytumإِناگرinكَانَہے وہkānaمِنْسےminعِندِطرف (سے)ʿindiٱللَّهِاللہ کیl-lahiوَكَفَرْتُماور کفر کیا تم نےwakafartumبِهِۦساتھ اس کےbihiوَشَهِدَاور گواہی دے چکاwashahidaشَاهِدٌۭایک گواہshāhidunمِّنۢسےminبَنِىٓبنیbanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل میں سےis'rāīlaعَلَىٰاوپرʿalāمِثْلِهِۦاس کی مانند کےmith'lihiفَـَٔامَنَپس وہ ایمان لے آیاfaāmanaوَٱسْتَكْبَرْتُمْ ۖاور تم نے تکبر کیاwa-is'takbartumإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaلَانہیںيَهْدِىہدایت دیتاyahdīٱلْقَوْمَقوم کوl-qawmaٱلظَّـٰلِمِينَظالمl-ẓālimīna١٠
اے نبی ؐ ، ان سے کہو”کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا  اور تم نے اِس کا انکار کر دیا(تو تمہارا کیا انجام ہو گا)؟1 اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔2 ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔“
۴۶:۱۱
وَقَالَاور کہاwaqālaٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūلِلَّذِينَان لوگوں سےlilladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūلَوْاگرlawكَانَہوتا وہkānaخَيْرًۭااچھاkhayranمَّانہسَبَقُونَآوہ سبقت لے جاتے ہم پرsabaqūnāإِلَيْهِ ۚطرف اس کےilayhiوَإِذْاور جبکہwa-idhلَمْنہیںlamيَهْتَدُوا۟انہوں نے ہدایت پائیyahtadūبِهِۦساتھ اس کےbihiفَسَيَقُولُونَتو عنقریب وہ کہیں گےfasayaqūlūnaهَـٰذَآیہhādhāإِفْكٌۭجھوٹ ہےif'kunقَدِيمٌۭپراناqadīmun١١
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے۔1 چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ  ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھُوٹ ہے۔2
۴۶:۱۲
وَمِناور سےwaminقَبْلِهِۦاس سے پہلےqablihiكِتَـٰبُکتابkitābuمُوسَىٰٓموسیٰ کیmūsāإِمَامًۭارہنماimāmanوَرَحْمَةًۭ ۚاور رحمت کے طور پر (آچکی ہے)waraḥmatanوَهَـٰذَااور یہwahādhāكِتَـٰبٌۭکتابkitābunمُّصَدِّقٌۭتصدیق کرنے والی ہےmuṣaddiqunلِّسَانًازبان ہےlisānanعَرَبِيًّۭاعربیʿarabiyyanلِّيُنذِرَتاکہ متنبہ کرےliyundhiraٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaظَلَمُوا۟جنہوں نے ظلم کیاẓalamūوَبُشْرَىٰاور خوشخبری ہوwabush'rāلِلْمُحْسِنِينَنیکو کاروں کے لیےlil'muḥ'sinīna١٢
حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زباِنِ عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبّہ کر دے1 اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے
۴۶:۱۳
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaقَالُوا۟جنہوں نے کہاqālūرَبُّنَاہمارا ربrabbunāٱللَّهُاللہ ہےl-lahuثُمَّپھرthummaٱسْتَقَـٰمُوا۟انہوں نے استقامت اختیار کی۔ جم گئےis'taqāmūفَلَاتو نہیںfalāخَوْفٌکوئی خوفkhawfunعَلَيْهِمْان پرʿalayhimوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيَحْزَنُونَغمگین ہوتے ہیںyaḥzanūna١٣
یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا ربّ ہے ، پھر اُس پر جم گئے ، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔1
۴۶:۱۴
أُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaأَصْحَـٰبُساتھی ہیں۔ والے ہیںaṣḥābuٱلْجَنَّةِجنت کےl-janatiخَـٰلِدِينَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidīnaفِيهَااس میںfīhāجَزَآءًۢبدلہ ہےjazāanبِمَابوجہ اس کے جوbimāكَانُوا۟تھے وہkānūيَعْمَلُونَوہ عمل کرتےyaʿmalūna١٤
ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں
۴۶:۱۵
وَوَصَّيْنَااور وصیت کی۔ تاکید کی ہم نےwawaṣṣaynāٱلْإِنسَـٰنَانسان کوl-insānaبِوَٰلِدَيْهِاپنے والدین کے ساتھbiwālidayhiإِحْسَـٰنًا ۖاحسان کرنے کیiḥ'sānanحَمَلَتْهُاٹھایا اس کوḥamalathuأُمُّهُۥاس کی ماں نےummuhuكُرْهًۭاتکلیف میںkur'hanوَوَضَعَتْهُاور جنم دیا اس کوwawaḍaʿathuكُرْهًۭا ۖناگواری میںkur'hanوَحَمْلُهُۥاور حمل اس کا۔ اٹھانا اس کاwaḥamluhuوَفِصَـٰلُهُۥاور دودھ چھڑانا اس کاwafiṣāluhuثَلَـٰثُونَتیسthalāthūnaشَهْرًا ۚماہ تھاshahranحَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāبَلَغَوہ پہنچ چکاbalaghaأَشُدَّهُۥاپنی جوانی کوashuddahuوَبَلَغَاور پہنچاwabalaghaأَرْبَعِينَچالیسarbaʿīnaسَنَةًۭسال کوsanatanقَالَکہاqālaرَبِّاے میرے ربrabbiأَوْزِعْنِىٓمجھے توفیق دےawziʿ'nīأَنْکہanأَشْكُرَمیں شکر ادا کروںashkuraنِعْمَتَكَتیری نعمت کاniʿ'matakaٱلَّتِىٓوہallatīأَنْعَمْتَجو انعام کی تو نےanʿamtaعَلَىَّمجھ پرʿalayyaوَعَلَىٰاور پرwaʿalāوَٰلِدَىَّمیرے والدین پرwālidayyaوَأَنْاور یہ کہwa-anأَعْمَلَمیں عمل کروںaʿmalaصَـٰلِحًۭاصالحṣāliḥanتَرْضَىٰهُتو راضی ہوجائے اس پرtarḍāhuوَأَصْلِحْاور اصلاح کردے -درست کردےwa-aṣliḥلِىمیرے لیےفِىمیںذُرِّيَّتِىٓ ۖمیری اولاد میںdhurriyyatīإِنِّىبیشک میں نےinnīتُبْتُمیں نے توبہ کیtub'tuإِلَيْكَتیری طرفilaykaوَإِنِّىاور بیشک میںwa-innīمِنَسےminaٱلْمُسْلِمِينَمسلمانوں میں سے ہوںl-mus'limīna١٥
ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاوٴ کرے۔ اُس کی ماں نے مشقّت اُٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقُت اُٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل  اور دُودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔1 یہاں تک کہ جب وہ اپنی پُوری  طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو  اُس نے کہا”اے میرے ربّ ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تُو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تُو راضی ہو،2 اور میری اولاد کو بھی نیک بناکر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم)بندوں میں سے ہوں۔“
۴۶:۱۶
أُو۟لَـٰٓئِكَیہیulāikaٱلَّذِينَوہ لوگ ہیںalladhīnaنَتَقَبَّلُہم قبول کرلیتے ہیںnataqabbaluعَنْهُمْان سےʿanhumأَحْسَنَبہترینaḥsanaمَاجوعَمِلُوا۟انہوں نے عمل کیےʿamilūوَنَتَجَاوَزُاور ہم درگزر کردیتے ہیں۔ تجاوز کرجاتے ہیںwanatajāwazuعَنسےʿanسَيِّـَٔاتِهِمْان کی برائیوں (سے)sayyiātihimفِىٓمیںأَصْحَـٰبِوالوں (میں)aṣḥābiٱلْجَنَّةِ ۖجنتl-janatiوَعْدَوعدہwaʿdaٱلصِّدْقِسچاl-ṣid'qiٱلَّذِىوہ جوalladhīكَانُوا۟تھے وہkānūيُوعَدُونَوہ وعدہ دیئے جاتےyūʿadūna١٦
اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی بُرائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔1 یہ جنّتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے
۴۶:۱۷
وَٱلَّذِىاور وہ شخصwa-alladhīقَالَجس نے کہاqālaلِوَٰلِدَيْهِاپنے والدین سےliwālidayhiأُفٍّۢافuffinلَّكُمَآتم دونوں کے لیےlakumāأَتَعِدَانِنِىٓکیا تم مجھے خوف دلاتے ہوataʿidāninīأَنْکہanأُخْرَجَمیں نکالا جاؤں گاukh'rajaوَقَدْحالانکہ تحقیقwaqadخَلَتِگزر چکیںkhalatiٱلْقُرُونُنسلیںl-qurūnuمِنسےminقَبْلِىمجھ سے پہلےqablīوَهُمَااور وہ دونوںwahumāيَسْتَغِيثَانِفریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں (اپنے بیٹے کو)yastaghīthāniٱللَّهَاللہ سےl-lahaوَيْلَكَتیرا برا ہوwaylakaءَامِنْایمان لے آāminإِنَّبیشکinnaوَعْدَوعدہwaʿdaٱللَّهِاللہ کاl-lahiحَقٌّۭسچا ہےḥaqqunفَيَقُولُتو وہ کہتا ہےfayaqūluمَانہیںهَـٰذَآیہhādhāإِلَّآمگرillāأَسَـٰطِيرُکہانیاں ہیںasāṭīruٱلْأَوَّلِينَپہلوں کیl-awalīna١٧
اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"
۴۶:۱۸
أُو۟لَـٰٓئِكَیہیulāikaٱلَّذِينَوہ لوگ ہیںalladhīnaحَقَّحق ہوگئیḥaqqaعَلَيْهِمُان پرʿalayhimuٱلْقَوْلُباتl-qawluفِىٓمیںأُمَمٍۢگروہوںumaminقَدْتحقیقqadخَلَتْگزر چکےkhalatمِنسےminقَبْلِهِمان سے پہلےqablihimمِّنَسےminaٱلْجِنِّجنوںl-jiniوَٱلْإِنسِ ۖاور انسانوں میں (سے)wal-insiإِنَّهُمْبیشک وہinnahumكَانُوا۟تھے وہkānūخَـٰسِرِينَخسارہ پانے والےkhāsirīna١٨
یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے۔ اِن  سے پہلے جِنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اِسی قماش کے)ہو گزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں۔1
۴۶:۱۹
وَلِكُلٍّۢاور واسطے ہر ایک کےwalikullinدَرَجَـٰتٌۭدرجے ہیںdarajātunمِّمَّااس میں سے جوmimmāعَمِلُوا۟ ۖانہوں نے عمل کیےʿamilūوَلِيُوَفِّيَهُمْاور تاکہ پورا پورا بدلہ دے ان کوwaliyuwaffiyahumأَعْمَـٰلَهُمْان کے اعمال کاaʿmālahumوَهُمْاور وہwahumلَانہيُظْلَمُونَظلم کیے جائیں گےyuẓ'lamūna١٩
دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پُورا پُورا بدلہ ان کو دے۔  ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا۔
۴۶:۲۰
وَيَوْمَاور جس دنwayawmaيُعْرَضُپیش کیے جائیں گےyuʿ'raḍuٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūعَلَىپرʿalāٱلنَّارِآگ (پر)l-nāriأَذْهَبْتُمْ(کہا جائے گا) لے گئے تمadhhabtumطَيِّبَـٰتِكُمْاپنی نعمتیںṭayyibātikumفِىمیںحَيَاتِكُمُاپنی زندگی میںḥayātikumuٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yāوَٱسْتَمْتَعْتُماور فائدہ اٹھا لیا تم نےwa-is'tamtaʿtumبِهَاساتھ ان کےbihāفَٱلْيَوْمَتو آج کے دنfal-yawmaتُجْزَوْنَتم جزا دیئے جاؤ گےtuj'zawnaعَذَابَعذابʿadhābaٱلْهُونِرسوائی کاl-hūniبِمَابوجہ اس کے جوbimāكُنتُمْتھے تمkuntumتَسْتَكْبِرُونَتم تکبر کرتےtastakbirūnaفِىمیںٱلْأَرْضِزمین (میں)l-arḍiبِغَيْرِناbighayriٱلْحَقِّحقl-ḥaqiوَبِمَااور بوجہ اس کے جوwabimāكُنتُمْتھے تمkuntumتَفْسُقُونَتم نافرمانی کرتےtafsuqūna٢٠
پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا”تم اپنے حصّے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لُطف تم نے اُٹھا لیا، اب جو  تکبّر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُں کی پاداش میں آج تم کو ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔“1
۴۶:۲۱
۞ وَٱذْكُرْاور ذکر کیجیےwa-udh'kurأَخَابھائی کاakhāعَادٍعاد کےʿādinإِذْجبidhأَنذَرَاس نے خبردار کیاandharaقَوْمَهُۥاپنی قوم کوqawmahuبِٱلْأَحْقَافِاحقاف میںbil-aḥqāfiوَقَدْاور تحقیقwaqadخَلَتِگزر چکے تھےkhalatiٱلنُّذُرُخبردار کرنے والےl-nudhuruمِنۢسےminبَيْنِbefore himbayniيَدَيْهِاس سے پہلے۔ اس کے آگےyadayhiوَمِنْاور سےwaminخَلْفِهِۦٓاور اس کے پیچھےkhalfihiأَلَّاکہ نہallāتَعْبُدُوٓا۟تم عبادت کروtaʿbudūإِلَّامگرillāٱللَّهَاللہ کیl-lahaإِنِّىٓبیشک میںinnīأَخَافُمیں ڈرتا ہوںakhāfuعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumعَذَابَعذاب سےʿadhābaيَوْمٍدن کےyawminعَظِيمٍۢبڑےʿaẓīmin٢١
ذرا اِنھیں عاد کے بھائی (ہُود ؑ)کا قصّہ سُناوٴ جبکہ اُس نے اَحْقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔۔۔۔اور1 ایسے خبردار کرنے والا اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اس کے بعد بھی آتے رہے۔۔۔۔ کہ ”اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک  دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔“
۴۶:۲۲
قَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūأَجِئْتَنَاکیا تو آیا ہے ہمارے پاسaji'tanāلِتَأْفِكَنَاتاکہ تو برگشتہ کردے ہم کو۔ پھیر دے ہم کوlitafikanāعَنْسےʿanءَالِهَتِنَاہمارے الہوں سےālihatināفَأْتِنَاپس لے آ ہمارے پاسfatināبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعِدُنَآتو ڈراتا ہے ہم کوtaʿidunāإِناگرinكُنتَہے توkuntaمِنَسےminaٱلصَّـٰدِقِينَسچوں میں (سے)l-ṣādiqīna٢٢
انہوں نے کہا "کیا تو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے"
۴۶:۲۳
قَالَاس نے کہاqālaإِنَّمَابیشکinnamāٱلْعِلْمُعلمl-ʿil'muعِندَپاس ہےʿindaٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَأُبَلِّغُكُماور میں پہنچا رہا ہوں تم کوwa-uballighukumمَّآوہ جوأُرْسِلْتُمیں بھیجا گیاur'sil'tuبِهِۦساتھ اس کےbihiوَلَـٰكِنِّىٓلیکن میںwalākinnīأَرَىٰكُمْدیکھتا ہوں تم کوarākumقَوْمًۭاایک قومqawmanتَجْهَلُونَتم جہالت برت رہے ہوtajhalūna٢٣
اُس نے کہاکہ”اِس کا علم تو اللہ کو ہے،1 میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔“2
۴۶:۲۴
فَلَمَّاتو جبfalammāرَأَوْهُانہوں نے دیکھاra-awhuعَارِضًۭااس بادل کوʿāriḍanمُّسْتَقْبِلَآنے والاmus'taqbilaأَوْدِيَتِهِمْان کی وادیوں کوawdiyatihimقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūهَـٰذَایہhādhāعَارِضٌۭبادل ہےʿāriḍunمُّمْطِرُنَا ۚمینہ برسانے والا ہے ہم کوmum'ṭirunāبَلْنہیں بلکہbalهُوَوہhuwaمَاوہ ہے جس کیٱسْتَعْجَلْتُمتم جلدی مچا رہے ہوis'taʿjaltumبِهِۦ ۖساتھ اس کےbihiرِيحٌۭایک ہوا ہےrīḥunفِيهَااس میںfīhāعَذَابٌعذاب ہےʿadhābunأَلِيمٌۭدردناکalīmun٢٤
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگو”یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا۔“۔۔۔۔ ”نہیں،1 بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے
۴۶:۲۵
تُدَمِّرُہلاک کرتی ہےtudammiruكُلَّہرkullaشَىْءٍۭچیز کوshayinبِأَمْرِحکم سےbi-amriرَبِّهَااپنے رب کےrabbihāفَأَصْبَحُوا۟پھر وہ ہوگئےfa-aṣbaḥūلَانہيُرَىٰٓدکھائی دیتے تھےyurāإِلَّامگرillāمَسَـٰكِنُهُمْ ۚان کے گھرmasākinuhumكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaنَجْزِىہم بدلہ دیا کرتے ہیںnajzīٱلْقَوْمَقوم کوl-qawmaٱلْمُجْرِمِينَمجرمl-muj'rimīna٢٥
اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا۔“ آخر کار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔1
۴۶:۲۶
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadمَكَّنَّـٰهُمْبسایا ہم نے ان کوmakkannāhumفِيمَآاس میں جوfīmāإِننہیںinمَّكَّنَّـٰكُمْبسایا ہم نے تم کوmakkannākumفِيهِاس میںfīhiوَجَعَلْنَااور بنائے ہم نےwajaʿalnāلَهُمْان کے لیےlahumسَمْعًۭاکانsamʿanوَأَبْصَـٰرًۭااور آنکھیںwa-abṣāranوَأَفْـِٔدَةًۭاور دلwa-afidatanفَمَآتو نہfamāأَغْنَىٰکام آئےaghnāعَنْهُمْان کوʿanhumسَمْعُهُمْان کے کانsamʿuhumوَلَآاور نہwalāأَبْصَـٰرُهُمْان کی نگاہیں۔ آنکھیںabṣāruhumوَلَآاور نہwalāأَفْـِٔدَتُهُمان کے دلafidatuhumمِّنکچھminشَىْءٍبھیshayinإِذْجبidhكَانُوا۟تھے وہkānūيَجْحَدُونَوہ انکار کرتےyajḥadūnaبِـَٔايَـٰتِآیات کاbiāyātiٱللَّهِاللہ کیl-lahiوَحَاقَاور گھیر لیاwaḥāqaبِهِمان کوbihimمَّاجوكَانُوا۟تھے وہkānūبِهِۦساتھ اس کےbihiيَسْتَهْزِءُونَوہ مذاق اڑاتےyastahziūna٢٦
اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔1 اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے،2 اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے     تھے
۴۶:۲۷
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadأَهْلَكْنَاہلاک کردیا ہم نےahlaknāمَاجوحَوْلَكُمتمہارے آس پاس ہےḥawlakumمِّنَسےminaٱلْقُرَىٰبستیوں میں (سے)l-qurāوَصَرَّفْنَااور پھیر پھیر کر لائے ہیں ہمwaṣarrafnāٱلْـَٔايَـٰتِآیات کوl-āyātiلَعَلَّهُمْشاید کہlaʿallahumيَرْجِعُونَوہ لوٹ آئیںyarjiʿūna٢٧
تمہارے گرد و پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا، شاید کہ وہ باز آ جائیں
۴۶:۲۸
فَلَوْلَاتو کیوں نہfalawlāنَصَرَهُمُمدد کی ان کیnaṣarahumuٱلَّذِينَان ہستیوں نےalladhīnaٱتَّخَذُوا۟جن کو پکڑا انہوں نےittakhadhūمِنکےminدُونِسواdūniٱللَّهِاللہ کےl-lahiقُرْبَانًاتقرب کے لیےqur'bānanءَالِهَةًۢ ۖالہ۔ معبودālihatanبَلْبلکہbalضَلُّوا۟وہ کھو گئےḍallūعَنْهُمْ ۚان سےʿanhumوَذَٰلِكَاور یہwadhālikaإِفْكُهُمْان کا جھوٹ تھاif'kuhumوَمَااور جو کچھwamāكَانُوا۟تھے وہkānūيَفْتَرُونَوہ گھڑا کرتےyaftarūna٢٨
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرّب اِلی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبُود بنا لیا تھا؟1 بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُں کے جھُوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
۴۶:۲۹
وَإِذْاور جبwa-idhصَرَفْنَآپھیر لائے ہمṣarafnāإِلَيْكَآپ کی طرفilaykaنَفَرًۭاایک گروہnafaranمِّنَسےminaٱلْجِنِّجنوں میں سےl-jiniيَسْتَمِعُونَجو غور سے سن رہے تھےyastamiʿūnaٱلْقُرْءَانَقرآنl-qur'ānaفَلَمَّاپھر جبfalammāحَضَرُوهُوہ حاضر ہوئے آپ کے پاس۔ اس کے پاسḥaḍarūhuقَالُوٓا۟کہنے لگےqālūأَنصِتُوا۟ ۖچپ ہوجاؤanṣitūفَلَمَّاتو جبfalammāقُضِىَپورا کر دیا گیا۔پڑھ لیا گیاquḍiyaوَلَّوْا۟پھرگئےwallawإِلَىٰطرفilāقَوْمِهِماپنی قوم کیqawmihimمُّنذِرِينَخبردار کرنے والے بنmundhirīna٢٩
(اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے)جب ہم جِنّوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سُنیں۔1 جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے)تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاوٴ۔ پھر جب وہ پڑھا جا چکا  تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے
۴۶:۳۰
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰقَوْمَنَآاے ہماری قومyāqawmanāإِنَّابیشک ہم نےinnāسَمِعْنَاسنی ہم نےsamiʿ'nāكِتَـٰبًاایک کتابkitābanأُنزِلَاتاری گئیunzilaمِنۢکےminبَعْدِبعدbaʿdiمُوسَىٰموسیٰ کےmūsāمُصَدِّقًۭاتصدیق کرنے والیmuṣaddiqanلِّمَاواسطے اس کے جوlimāبَيْنَدرمیانbaynaيَدَيْهِاس کے دونوں ہاتھوں کے۔ جو اس سے پہلے ہےyadayhiيَهْدِىٓہدایت دیتی ہےyahdīإِلَىطرفilāٱلْحَقِّحق کیl-ḥaqiوَإِلَىٰاور طرفwa-ilāطَرِيقٍۢراستے کےṭarīqinمُّسْتَقِيمٍۢسیدھےmus'taqīmin٣٠
انہوں نے جا کر کہا”اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سُنی ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی  ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہِ راست کی طرف۔1
۴۶:۳۱
يَـٰقَوْمَنَآاے ہماری قومyāqawmanāأَجِيبُوا۟جواب دو ۔ دعوت قبول کروajībūدَاعِىَداعی کی۔ طرف بلانے والے کیdāʿiyaٱللَّهِاللہ کیl-lahiوَءَامِنُوا۟اور ایمان لے آؤwaāminūبِهِۦاس کے ساتھbihiيَغْفِرْبخش دے گاyaghfirلَكُمتمہارے لیےlakumمِّنسےminذُنُوبِكُمْتمہارے گناہوں میں سےdhunūbikumوَيُجِرْكُماور پناہ دے گا تم کو۔ بچالے گا تم کوwayujir'kumمِّنْسےminعَذَابٍعذاب (سے)ʿadhābinأَلِيمٍۢدردناکalīmin٣١
اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بُلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آوٴ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے گا۔“1
۴۶:۳۲
وَمَناور جوwamanلَّانہيُجِبْجواب دےyujibدَاعِىَداعی کوdāʿiyaٱللَّهِاللہ کےl-lahiفَلَيْسَتو نہیں ہےfalaysaبِمُعْجِزٍۢعاجز کرنے والاbimuʿ'jizinفِىمیںٱلْأَرْضِزمین (میں)l-arḍiوَلَيْسَاور نہیںwalaysaلَهُۥاس کے لیےlahuمِنbesides Himminدُونِهِۦٓاس کے سواdūnihiأَوْلِيَآءُ ۚکوئی حامی و مددگارawliyāuأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaفِىمیںضَلَـٰلٍۢگمراہی (میں) ہیںḍalālinمُّبِينٍکھلیmubīnin٣٢
اور1 جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زِچ کر دے، اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچالیں۔ ایسے لوگ کھُلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
۴۶:۳۳
أَوَلَمْکیا نہیںawalamيَرَوْا۟انہوں نے دیکھاyarawأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaٱلَّذِىوہ ذات ہےalladhīخَلَقَجس نے پیدا کیاkhalaqaٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کوl-samāwātiوَٱلْأَرْضَاور زمین کوwal-arḍaوَلَمْاور نہیںwalamيَعْىَتھکاyaʿyaبِخَلْقِهِنَّساتھ ان کی تخلیق کےbikhalqihinnaبِقَـٰدِرٍقادر ہےbiqādirinعَلَىٰٓاس بات پرʿalāأَنکہanيُحْـِۧىَوہ زندہ کرےyuḥ'yiyaٱلْمَوْتَىٰ ۚمردوں کوl-mawtāبَلَىٰٓکیوں نہیںbalāإِنَّهُۥبیشک وہinnahuعَلَىٰپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز (پر)shayinقَدِيرٌۭقدرت رکھنے والا ہےqadīrun٣٣
اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے
۴۶:۳۴
وَيَوْمَاور جس دنwayawmaيُعْرَضُپیش کیے جائیں گےyuʿ'raḍuٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūعَلَىپرʿalāٱلنَّارِآگ (پر)l-nāriأَلَيْسَ(اس وقت پوچھا جائے گا)کیا نہیں ہےalaysaهَـٰذَایہhādhāبِٱلْحَقِّ ۖحقbil-ḥaqiقَالُوا۟وہ کہیں گےqālūبَلَىٰکیوں نہیںbalāوَرَبِّنَا ۚقسم ہے ہمارے رب کیwarabbināقَالَفرمائے گاqālaفَذُوقُوا۟پس چکھوfadhūqūٱلْعَذَابَعذابl-ʿadhābaبِمَابوجہ اس کے جوbimāكُنتُمْتھے تمkuntumتَكْفُرُونَتم کفر کرتےtakfurūna٣٤
جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"
۴۶:۳۵
فَٱصْبِرْپس صبر کروfa-iṣ'birكَمَاجیسا کہkamāصَبَرَصبر کیاṣabaraأُو۟لُوا۟والوں نےulūٱلْعَزْمِہمت (والوں نے)l-ʿazmiمِنَسےminaٱلرُّسُلِرسولوں میں (سے)l-rusuliوَلَااور نہwalāتَسْتَعْجِلتم جلدی کروtastaʿjilلَّهُمْ ۚان کے لیےlahumكَأَنَّهُمْگویا کہ وہka-annahumيَوْمَجس دنyawmaيَرَوْنَوہ دیکھیں گےyarawnaمَااسے جويُوعَدُونَوہ وعدہ دیئے جاتے ہیںyūʿadūnaلَمْنہیںlamيَلْبَثُوٓا۟وہ ٹھہریں گےyalbathūإِلَّامگرillāسَاعَةًۭایک گھڑیsāʿatanمِّنسےminنَّهَارٍۭ ۚدن میں (سے)nahārinبَلَـٰغٌۭ ۚپیغام پہنچانا ہےbalāghunفَهَلْتو نہیںfahalيُهْلَكُہلاک کی جائے گیyuh'lakuإِلَّامگرillāٱلْقَوْمُقومl-qawmuٱلْفَـٰسِقُونَفاسقl-fāsiqūna٣٥
پس اے نبی ؐ ، صبر کرو جس طرح اُولو العزم رسُولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔1 جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلا یا جا رہا ہے تو اِنہیں یُوں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دِن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا دی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟