۴۶

الاحقاف

مکی ۳۵ آیات پارہ ۲۶
الأحقاف
بسم اللہ
بِسْمِ ساتھ نام bis'mi
ساتھ نام
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
ٱلرَّحْمَـٰنِ جو بے حد مہربان ہے l-raḥmāni
جو بے حد مہربان ہے
ٱلرَّحِيمِ بار بار رحم فرمانے والا ہے l-raḥīmi
بار بار رحم فرمانے والا ہے
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۴۶:۱
حمٓ ها ميم hha-meem
ها ميم
١ (۱)
(۱)
ح م
۴۶:۲
تَنزِيلُ نازل کرنا ہے tanzīlu
نازل کرنا ہے
ٱلْكِتَـٰبِ کتاب کا l-kitābi
کتاب کا
مِنَ سے mina
سے
ٱللَّهِ اللہ کی طرف (سے ) l-lahi
اللہ کی طرف (سے )
ٱلْعَزِيزِ جو زبردست ہے l-ʿazīzi
جو زبردست ہے
ٱلْحَكِيمِ حکمت والا ہے l-ḥakīmi
حکمت والا ہے
٢ (۲)
(۲)
اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔1
۴۶:۳
مَا نہیں
نہیں
خَلَقْنَا پیدا کیا ہم نے khalaqnā
پیدا کیا ہم نے
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ آسمانوں کو l-samāwāti
آسمانوں کو
وَٱلْأَرْضَ اور زمین کو wal-arḍa
اور زمین کو
وَمَا اور جو wamā
اور جو
بَيْنَهُمَآ ان دونوں کے درمیان ہے baynahumā
ان دونوں کے درمیان ہے
إِلَّا مگر illā
مگر
بِٱلْحَقِّ حق کے ساتھ bil-ḥaqi
حق کے ساتھ
وَأَجَلٍۢ اور مدت تک wa-ajalin
اور مدت تک
مُّسَمًّۭى ۚ مقرر تک کے لیے musamman
مقرر تک کے لیے
وَٱلَّذِينَ اور وہ لوگ wa-alladhīna
اور وہ لوگ
كَفَرُوا۟ جنہوں نے کفر کیا kafarū
جنہوں نے کفر کیا
عَمَّآ اس چیز سے ʿammā
اس چیز سے
أُنذِرُوا۟ جو وہ خبر دار کیے گئے undhirū
جو وہ خبر دار کیے گئے
مُعْرِضُونَ اعراض برتنے والے ہیں muʿ'riḍūna
اعراض برتنے والے ہیں
٣ (۳)
(۳)
ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔1 مگر یہ کافر لو گ اُس حقیقت سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبر دار کیا گیا ہے۔2
۴۶:۴
قُلْ کہہ دیجیے qul
کہہ دیجیے
أَرَءَيْتُم کیا دیکھا تم نے۔ غور کیا تم نے ara-aytum
کیا دیکھا تم نے۔ غور کیا تم نے
مَّا جن کو
جن کو
تَدْعُونَ تم پکارتے ہو tadʿūna
تم پکارتے ہو
مِن کے min
کے
دُونِ سوا dūni
سوا
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
أَرُونِى دکھاؤ مجھ کو arūnī
دکھاؤ مجھ کو
مَاذَا کیا کچھ mādhā
کیا کچھ
خَلَقُوا۟ انہوں نے پیدا کیا ہے khalaqū
انہوں نے پیدا کیا ہے
مِنَ سے mina
سے
ٱلْأَرْضِ زمین l-arḍi
زمین
أَمْ یا am
یا
لَهُمْ ان کے لیے lahum
ان کے لیے
شِرْكٌۭ کوئی حصہ ہے shir'kun
کوئی حصہ ہے
فِى میں
میں
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ ۖ آسمانوں (میں ) l-samāwāti
آسمانوں (میں )
ٱئْتُونِى لاؤ میرے پاس i'tūnī
لاؤ میرے پاس
بِكِتَـٰبٍۢ کوئی کتاب bikitābin
کوئی کتاب
مِّن سے min
سے
قَبْلِ پہلے qabli
پہلے
هَـٰذَآ اس (سے) hādhā
اس (سے)
أَوْ یا aw
یا
أَثَـٰرَةٍۢ باقی ماندہ athāratin
باقی ماندہ
مِّنْ سے min
سے
عِلْمٍ علم میں (سے) ʿil'min
علم میں (سے)
إِن اگر in
اگر
كُنتُمْ ہو تم kuntum
ہو تم
صَـٰدِقِينَ سچے ṣādiqīna
سچے
٤ (۴)
(۴)
اے نبی ؐ ، اِن سے کہو”کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا  بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکار تے ہو؟ ذرا مجھے دکھاوٴ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصّہ ہے۔ اِس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیّہ (اِن عقائد کے ثبوت میں)تمہارے پاس ہو تو وہی لے آوٴ اگر تم سچے ہو۔“1
۴۶:۵
وَمَنْ اور کون waman
اور کون
أَضَلُّ زیادہ بھٹکا ہوا ہوسکتا ہے aḍallu
زیادہ بھٹکا ہوا ہوسکتا ہے
مِمَّن اس سے جو mimman
اس سے جو
يَدْعُوا۟ پکارتا ہے yadʿū
پکارتا ہے
مِن سے min
سے
دُونِ سوا dūni
سوا
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
مَن جو man
جو
لَّا نہیں
نہیں
يَسْتَجِيبُ جواب دے سکتے yastajību
جواب دے سکتے
لَهُۥٓ اس کے لیے lahu
اس کے لیے
إِلَىٰ تک ilā
تک
يَوْمِ دن yawmi
دن
ٱلْقِيَـٰمَةِ قیامت کے l-qiyāmati
قیامت کے
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
عَن سے ʿan
سے
دُعَآئِهِمْ ان کی پکار (سے) duʿāihim
ان کی پکار (سے)
غَـٰفِلُونَ غافل ہیں ghāfilūna
غافل ہیں
٥ (۵)
(۵)
آخر اُس  شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے1 بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پُکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں ،2
۴۶:۶
وَإِذَا اور جب wa-idhā
اور جب
حُشِرَ جمع کیے جائیں گے ḥushira
جمع کیے جائیں گے
ٱلنَّاسُ لوگ l-nāsu
لوگ
كَانُوا۟ وہ ہوں گے kānū
وہ ہوں گے
لَهُمْ ان کے لیے lahum
ان کے لیے
أَعْدَآءًۭ دشمن aʿdāan
دشمن
وَكَانُوا۟ اور وہ ہوں گے wakānū
اور وہ ہوں گے
بِعِبَادَتِهِمْ ان کی عبادت کے biʿibādatihim
ان کی عبادت کے
كَـٰفِرِينَ منکر kāfirīna
منکر
٦ (۶)
(۶)
اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔1
۴۶:۷
وَإِذَا اور جب wa-idhā
اور جب
تُتْلَىٰ پڑھی جاتی ہیں tut'lā
پڑھی جاتی ہیں
عَلَيْهِمْ ان پر ʿalayhim
ان پر
ءَايَـٰتُنَا ہماری آیات āyātunā
ہماری آیات
بَيِّنَـٰتٍۢ روشن bayyinātin
روشن
قَالَ کہا qāla
کہا
ٱلَّذِينَ ان لوگوں نے alladhīna
ان لوگوں نے
كَفَرُوا۟ جنہوں نے کفر کیا kafarū
جنہوں نے کفر کیا
لِلْحَقِّ حق کے لیے lil'ḥaqqi
حق کے لیے
لَمَّا جب lammā
جب
جَآءَهُمْ وہ آگیا ان کے پاس jāahum
وہ آگیا ان کے پاس
هَـٰذَا یہ ہے hādhā
یہ ہے
سِحْرٌۭ جادو siḥ'run
جادو
مُّبِينٌ کھلا mubīnun
کھلا
٧ (۷)
(۷)
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ کہ تو کھُلا جادو ہے۔1
۴۶:۸
أَمْ یا am
یا
يَقُولُونَ وہ کہتے ہیں yaqūlūna
وہ کہتے ہیں
ٱفْتَرَىٰهُ ۖ کہ اس نے گھڑ لیا ہے اس کو if'tarāhu
کہ اس نے گھڑ لیا ہے اس کو
قُلْ کہہ دیجیے qul
کہہ دیجیے
إِنِ اگر ini
اگر
ٱفْتَرَيْتُهُۥ میں نے گھڑ لیا ہے اس کو if'taraytuhu
میں نے گھڑ لیا ہے اس کو
فَلَا تو نہیں falā
تو نہیں
تَمْلِكُونَ تم مالک ہوسکتے tamlikūna
تم مالک ہوسکتے
لِى میرے لیے
میرے لیے
مِنَ سے mina
سے
ٱللَّهِ اللہ کے مقابلے میں l-lahi
اللہ کے مقابلے میں
شَيْـًٔا ۖ کسی چیز کے shayan
کسی چیز کے
هُوَ وہ huwa
وہ
أَعْلَمُ خوب جانتا ہے aʿlamu
خوب جانتا ہے
بِمَا ساتھ اس کے جو bimā
ساتھ اس کے جو
تُفِيضُونَ تم پڑحتے ہو۔ تم شروع کرتے ہو۔ تم گھستے ہو۔ تم پلٹتے ہو tufīḍūna
تم پڑحتے ہو۔ تم شروع کرتے ہو۔ تم گھستے ہو۔ تم پلٹتے ہو
فِيهِ ۖ اس میں fīhi
اس میں
كَفَىٰ کافی kafā
کافی
بِهِۦ ساتھ اس کے bihi
ساتھ اس کے
شَهِيدًۢا گواہ ہونا shahīdan
گواہ ہونا
بَيْنِى میرے درمیان baynī
میرے درمیان
وَبَيْنَكُمْ ۖ اور تمہارے درمیان wabaynakum
اور تمہارے درمیان
وَهُوَ اور وہ wahuwa
اور وہ
ٱلْغَفُورُ غفور l-ghafūru
غفور
ٱلرَّحِيمُ رحیم ہے l-raḥīmu
رحیم ہے
٨ (۸)
(۸)
کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسُول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟1 اِن سے کہو ”اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہواللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے،2 اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔“3
۴۶:۹
قُلْ کہہ دیجیے qul
کہہ دیجیے
مَا نہیں
نہیں
كُنتُ ہوں میں kuntu
ہوں میں
بِدْعًۭا نیا۔ انوکھا bid'ʿan
نیا۔ انوکھا
مِّنَ سے mina
سے
ٱلرُّسُلِ رسولوں میں (سے) l-rusuli
رسولوں میں (سے)
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أَدْرِى میں جانتا adrī
میں جانتا
مَا کیا
کیا
يُفْعَلُ کیا جائے گا yuf'ʿalu
کیا جائے گا
بِى میرے ساتھ
میرے ساتھ
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
بِكُمْ ۖ تمہارے ساتھ bikum
تمہارے ساتھ
إِنْ نہیں in
نہیں
أَتَّبِعُ میں پیروی کرتا attabiʿu
میں پیروی کرتا
إِلَّا مگر illā
مگر
مَا اس کی جو
اس کی جو
يُوحَىٰٓ وحی کی جاتی ہے yūḥā
وحی کی جاتی ہے
إِلَىَّ میری طرف ilayya
میری طرف
وَمَآ اور نہیں wamā
اور نہیں
أَنَا۠ میں anā
میں
إِلَّا مگر illā
مگر
نَذِيرٌۭ خبردار کرنے والا nadhīrun
خبردار کرنے والا
مُّبِينٌۭ کھلم کھلا mubīnun
کھلم کھلا
٩ (۹)
(۹)
اِن سے کہو”،میں کوئی نرالا رسُول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ بھی  نہیں ہوں۔“1
۴۶:۱۰
قُلْ کہہ دیجیے qul
کہہ دیجیے
أَرَءَيْتُمْ کیا سوچا تم نے ara-aytum
کیا سوچا تم نے
إِن اگر in
اگر
كَانَ ہے وہ kāna
ہے وہ
مِنْ سے min
سے
عِندِ طرف (سے) ʿindi
طرف (سے)
ٱللَّهِ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
وَكَفَرْتُم اور کفر کیا تم نے wakafartum
اور کفر کیا تم نے
بِهِۦ ساتھ اس کے bihi
ساتھ اس کے
وَشَهِدَ اور گواہی دے چکا washahida
اور گواہی دے چکا
شَاهِدٌۭ ایک گواہ shāhidun
ایک گواہ
مِّنۢ سے min
سے
بَنِىٓ بنی banī
بنی
إِسْرَٰٓءِيلَ اسرائیل میں سے is'rāīla
اسرائیل میں سے
عَلَىٰ اوپر ʿalā
اوپر
مِثْلِهِۦ اس کی مانند کے mith'lihi
اس کی مانند کے
فَـَٔامَنَ پس وہ ایمان لے آیا faāmana
پس وہ ایمان لے آیا
وَٱسْتَكْبَرْتُمْ ۖ اور تم نے تکبر کیا wa-is'takbartum
اور تم نے تکبر کیا
إِنَّ بیشک inna
بیشک
ٱللَّهَ اللہ تعالیٰ l-laha
اللہ تعالیٰ
لَا نہیں
نہیں
يَهْدِى ہدایت دیتا yahdī
ہدایت دیتا
ٱلْقَوْمَ قوم کو l-qawma
قوم کو
ٱلظَّـٰلِمِينَ ظالم l-ẓālimīna
ظالم
١٠ (۱۰)
(۱۰)
اے نبی ؐ ، ان سے کہو”کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا  اور تم نے اِس کا انکار کر دیا(تو تمہارا کیا انجام ہو گا)؟1 اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔2 ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔“
۴۶:۱۱
وَقَالَ اور کہا waqāla
اور کہا
ٱلَّذِينَ ان لوگوں نے alladhīna
ان لوگوں نے
كَفَرُوا۟ جنہوں نے کفر کیا kafarū
جنہوں نے کفر کیا
لِلَّذِينَ ان لوگوں سے lilladhīna
ان لوگوں سے
ءَامَنُوا۟ جو ایمان لائے āmanū
جو ایمان لائے
لَوْ اگر law
اگر
كَانَ ہوتا وہ kāna
ہوتا وہ
خَيْرًۭا اچھا khayran
اچھا
مَّا نہ
نہ
سَبَقُونَآ وہ سبقت لے جاتے ہم پر sabaqūnā
وہ سبقت لے جاتے ہم پر
إِلَيْهِ ۚ طرف اس کے ilayhi
طرف اس کے
وَإِذْ اور جبکہ wa-idh
اور جبکہ
لَمْ نہیں lam
نہیں
يَهْتَدُوا۟ انہوں نے ہدایت پائی yahtadū
انہوں نے ہدایت پائی
بِهِۦ ساتھ اس کے bihi
ساتھ اس کے
فَسَيَقُولُونَ تو عنقریب وہ کہیں گے fasayaqūlūna
تو عنقریب وہ کہیں گے
هَـٰذَآ یہ hādhā
یہ
إِفْكٌۭ جھوٹ ہے if'kun
جھوٹ ہے
قَدِيمٌۭ پرانا qadīmun
پرانا
١١ (۱۱)
(۱۱)
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے۔1 چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ  ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھُوٹ ہے۔2
۴۶:۱۲
وَمِن اور سے wamin
اور سے
قَبْلِهِۦ اس سے پہلے qablihi
اس سے پہلے
كِتَـٰبُ کتاب kitābu
کتاب
مُوسَىٰٓ موسیٰ کی mūsā
موسیٰ کی
إِمَامًۭا رہنما imāman
رہنما
وَرَحْمَةًۭ ۚ اور رحمت کے طور پر (آچکی ہے) waraḥmatan
اور رحمت کے طور پر (آچکی ہے)
وَهَـٰذَا اور یہ wahādhā
اور یہ
كِتَـٰبٌۭ کتاب kitābun
کتاب
مُّصَدِّقٌۭ تصدیق کرنے والی ہے muṣaddiqun
تصدیق کرنے والی ہے
لِّسَانًا زبان ہے lisānan
زبان ہے
عَرَبِيًّۭا عربی ʿarabiyyan
عربی
لِّيُنذِرَ تاکہ متنبہ کرے liyundhira
تاکہ متنبہ کرے
ٱلَّذِينَ ان لوگوں کو alladhīna
ان لوگوں کو
ظَلَمُوا۟ جنہوں نے ظلم کیا ẓalamū
جنہوں نے ظلم کیا
وَبُشْرَىٰ اور خوشخبری ہو wabush'rā
اور خوشخبری ہو
لِلْمُحْسِنِينَ نیکو کاروں کے لیے lil'muḥ'sinīna
نیکو کاروں کے لیے
١٢ (۱۲)
(۱۲)
حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زباِنِ عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبّہ کر دے1 اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے
۴۶:۱۳
إِنَّ بیشک inna
بیشک
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
قَالُوا۟ جنہوں نے کہا qālū
جنہوں نے کہا
رَبُّنَا ہمارا رب rabbunā
ہمارا رب
ٱللَّهُ اللہ ہے l-lahu
اللہ ہے
ثُمَّ پھر thumma
پھر
ٱسْتَقَـٰمُوا۟ انہوں نے استقامت اختیار کی۔ جم گئے is'taqāmū
انہوں نے استقامت اختیار کی۔ جم گئے
فَلَا تو نہیں falā
تو نہیں
خَوْفٌ کوئی خوف khawfun
کوئی خوف
عَلَيْهِمْ ان پر ʿalayhim
ان پر
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
هُمْ وہ hum
وہ
يَحْزَنُونَ غمگین ہوتے ہیں yaḥzanūna
غمگین ہوتے ہیں
١٣ (۱۳)
(۱۳)
یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا ربّ ہے ، پھر اُس پر جم گئے ، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔1
۴۶:۱۴
أُو۟لَـٰٓئِكَ یہی لوگ ulāika
یہی لوگ
أَصْحَـٰبُ ساتھی ہیں۔ والے ہیں aṣḥābu
ساتھی ہیں۔ والے ہیں
ٱلْجَنَّةِ جنت کے l-janati
جنت کے
خَـٰلِدِينَ ہمیشہ رہنے والے ہیں khālidīna
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَا اس میں fīhā
اس میں
جَزَآءًۢ بدلہ ہے jazāan
بدلہ ہے
بِمَا بوجہ اس کے جو bimā
بوجہ اس کے جو
كَانُوا۟ تھے وہ kānū
تھے وہ
يَعْمَلُونَ وہ عمل کرتے yaʿmalūna
وہ عمل کرتے
١٤ (۱۴)
(۱۴)
ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں
۴۶:۱۵
وَوَصَّيْنَا اور وصیت کی۔ تاکید کی ہم نے wawaṣṣaynā
اور وصیت کی۔ تاکید کی ہم نے
ٱلْإِنسَـٰنَ انسان کو l-insāna
انسان کو
بِوَٰلِدَيْهِ اپنے والدین کے ساتھ biwālidayhi
اپنے والدین کے ساتھ
إِحْسَـٰنًا ۖ احسان کرنے کی iḥ'sānan
احسان کرنے کی
حَمَلَتْهُ اٹھایا اس کو ḥamalathu
اٹھایا اس کو
أُمُّهُۥ اس کی ماں نے ummuhu
اس کی ماں نے
كُرْهًۭا تکلیف میں kur'han
تکلیف میں
وَوَضَعَتْهُ اور جنم دیا اس کو wawaḍaʿathu
اور جنم دیا اس کو
كُرْهًۭا ۖ ناگواری میں kur'han
ناگواری میں
وَحَمْلُهُۥ اور حمل اس کا۔ اٹھانا اس کا waḥamluhu
اور حمل اس کا۔ اٹھانا اس کا
وَفِصَـٰلُهُۥ اور دودھ چھڑانا اس کا wafiṣāluhu
اور دودھ چھڑانا اس کا
ثَلَـٰثُونَ تیس thalāthūna
تیس
شَهْرًا ۚ ماہ تھا shahran
ماہ تھا
حَتَّىٰٓ یہاں تک کہ ḥattā
یہاں تک کہ
إِذَا جب idhā
جب
بَلَغَ وہ پہنچ چکا balagha
وہ پہنچ چکا
أَشُدَّهُۥ اپنی جوانی کو ashuddahu
اپنی جوانی کو
وَبَلَغَ اور پہنچا wabalagha
اور پہنچا
أَرْبَعِينَ چالیس arbaʿīna
چالیس
سَنَةًۭ سال کو sanatan
سال کو
قَالَ کہا qāla
کہا
رَبِّ اے میرے رب rabbi
اے میرے رب
أَوْزِعْنِىٓ مجھے توفیق دے awziʿ'nī
مجھے توفیق دے
أَنْ کہ an
کہ
أَشْكُرَ میں شکر ادا کروں ashkura
میں شکر ادا کروں
نِعْمَتَكَ تیری نعمت کا niʿ'mataka
تیری نعمت کا
ٱلَّتِىٓ وہ allatī
وہ
أَنْعَمْتَ جو انعام کی تو نے anʿamta
جو انعام کی تو نے
عَلَىَّ مجھ پر ʿalayya
مجھ پر
وَعَلَىٰ اور پر waʿalā
اور پر
وَٰلِدَىَّ میرے والدین پر wālidayya
میرے والدین پر
وَأَنْ اور یہ کہ wa-an
اور یہ کہ
أَعْمَلَ میں عمل کروں aʿmala
میں عمل کروں
صَـٰلِحًۭا صالح ṣāliḥan
صالح
تَرْضَىٰهُ تو راضی ہوجائے اس پر tarḍāhu
تو راضی ہوجائے اس پر
وَأَصْلِحْ اور اصلاح کردے -درست کردے wa-aṣliḥ
اور اصلاح کردے -درست کردے
لِى میرے لیے
میرے لیے
فِى میں
میں
ذُرِّيَّتِىٓ ۖ میری اولاد میں dhurriyyatī
میری اولاد میں
إِنِّى بیشک میں نے innī
بیشک میں نے
تُبْتُ میں نے توبہ کی tub'tu
میں نے توبہ کی
إِلَيْكَ تیری طرف ilayka
تیری طرف
وَإِنِّى اور بیشک میں wa-innī
اور بیشک میں
مِنَ سے mina
سے
ٱلْمُسْلِمِينَ مسلمانوں میں سے ہوں l-mus'limīna
مسلمانوں میں سے ہوں
١٥ (۱۵)
(۱۵)
ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاوٴ کرے۔ اُس کی ماں نے مشقّت اُٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقُت اُٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل  اور دُودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔1 یہاں تک کہ جب وہ اپنی پُوری  طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو  اُس نے کہا”اے میرے ربّ ، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تُو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تُو راضی ہو،2 اور میری اولاد کو بھی نیک بناکر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم)بندوں میں سے ہوں۔“
۴۶:۱۶
أُو۟لَـٰٓئِكَ یہی ulāika
یہی
ٱلَّذِينَ وہ لوگ ہیں alladhīna
وہ لوگ ہیں
نَتَقَبَّلُ ہم قبول کرلیتے ہیں nataqabbalu
ہم قبول کرلیتے ہیں
عَنْهُمْ ان سے ʿanhum
ان سے
أَحْسَنَ بہترین aḥsana
بہترین
مَا جو
جو
عَمِلُوا۟ انہوں نے عمل کیے ʿamilū
انہوں نے عمل کیے
وَنَتَجَاوَزُ اور ہم درگزر کردیتے ہیں۔ تجاوز کرجاتے ہیں wanatajāwazu
اور ہم درگزر کردیتے ہیں۔ تجاوز کرجاتے ہیں
عَن سے ʿan
سے
سَيِّـَٔاتِهِمْ ان کی برائیوں (سے) sayyiātihim
ان کی برائیوں (سے)
فِىٓ میں
میں
أَصْحَـٰبِ والوں (میں) aṣḥābi
والوں (میں)
ٱلْجَنَّةِ ۖ جنت l-janati
جنت
وَعْدَ وعدہ waʿda
وعدہ
ٱلصِّدْقِ سچا l-ṣid'qi
سچا
ٱلَّذِى وہ جو alladhī
وہ جو
كَانُوا۟ تھے وہ kānū
تھے وہ
يُوعَدُونَ وہ وعدہ دیئے جاتے yūʿadūna
وہ وعدہ دیئے جاتے
١٦ (۱۶)
(۱۶)
اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی بُرائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔1 یہ جنّتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے
۴۶:۱۷
وَٱلَّذِى اور وہ شخص wa-alladhī
اور وہ شخص
قَالَ جس نے کہا qāla
جس نے کہا
لِوَٰلِدَيْهِ اپنے والدین سے liwālidayhi
اپنے والدین سے
أُفٍّۢ اف uffin
اف
لَّكُمَآ تم دونوں کے لیے lakumā
تم دونوں کے لیے
أَتَعِدَانِنِىٓ کیا تم مجھے خوف دلاتے ہو ataʿidāninī
کیا تم مجھے خوف دلاتے ہو
أَنْ کہ an
کہ
أُخْرَجَ میں نکالا جاؤں گا ukh'raja
میں نکالا جاؤں گا
وَقَدْ حالانکہ تحقیق waqad
حالانکہ تحقیق
خَلَتِ گزر چکیں khalati
گزر چکیں
ٱلْقُرُونُ نسلیں l-qurūnu
نسلیں
مِن سے min
سے
قَبْلِى مجھ سے پہلے qablī
مجھ سے پہلے
وَهُمَا اور وہ دونوں wahumā
اور وہ دونوں
يَسْتَغِيثَانِ فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں (اپنے بیٹے کو) yastaghīthāni
فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں (اپنے بیٹے کو)
ٱللَّهَ اللہ سے l-laha
اللہ سے
وَيْلَكَ تیرا برا ہو waylaka
تیرا برا ہو
ءَامِنْ ایمان لے آ āmin
ایمان لے آ
إِنَّ بیشک inna
بیشک
وَعْدَ وعدہ waʿda
وعدہ
ٱللَّهِ اللہ کا l-lahi
اللہ کا
حَقٌّۭ سچا ہے ḥaqqun
سچا ہے
فَيَقُولُ تو وہ کہتا ہے fayaqūlu
تو وہ کہتا ہے
مَا نہیں
نہیں
هَـٰذَآ یہ hādhā
یہ
إِلَّآ مگر illā
مگر
أَسَـٰطِيرُ کہانیاں ہیں asāṭīru
کہانیاں ہیں
ٱلْأَوَّلِينَ پہلوں کی l-awalīna
پہلوں کی
١٧ (۱۷)
(۱۷)
اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"
۴۶:۱۸
أُو۟لَـٰٓئِكَ یہی ulāika
یہی
ٱلَّذِينَ وہ لوگ ہیں alladhīna
وہ لوگ ہیں
حَقَّ حق ہوگئی ḥaqqa
حق ہوگئی
عَلَيْهِمُ ان پر ʿalayhimu
ان پر
ٱلْقَوْلُ بات l-qawlu
بات
فِىٓ میں
میں
أُمَمٍۢ گروہوں umamin
گروہوں
قَدْ تحقیق qad
تحقیق
خَلَتْ گزر چکے khalat
گزر چکے
مِن سے min
سے
قَبْلِهِم ان سے پہلے qablihim
ان سے پہلے
مِّنَ سے mina
سے
ٱلْجِنِّ جنوں l-jini
جنوں
وَٱلْإِنسِ ۖ اور انسانوں میں (سے) wal-insi
اور انسانوں میں (سے)
إِنَّهُمْ بیشک وہ innahum
بیشک وہ
كَانُوا۟ تھے وہ kānū
تھے وہ
خَـٰسِرِينَ خسارہ پانے والے khāsirīna
خسارہ پانے والے
١٨ (۱۸)
(۱۸)
یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے۔ اِن  سے پہلے جِنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اِسی قماش کے)ہو گزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے۔ بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں۔1
۴۶:۱۹
وَلِكُلٍّۢ اور واسطے ہر ایک کے walikullin
اور واسطے ہر ایک کے
دَرَجَـٰتٌۭ درجے ہیں darajātun
درجے ہیں
مِّمَّا اس میں سے جو mimmā
اس میں سے جو
عَمِلُوا۟ ۖ انہوں نے عمل کیے ʿamilū
انہوں نے عمل کیے
وَلِيُوَفِّيَهُمْ اور تاکہ پورا پورا بدلہ دے ان کو waliyuwaffiyahum
اور تاکہ پورا پورا بدلہ دے ان کو
أَعْمَـٰلَهُمْ ان کے اعمال کا aʿmālahum
ان کے اعمال کا
وَهُمْ اور وہ wahum
اور وہ
لَا نہ
نہ
يُظْلَمُونَ ظلم کیے جائیں گے yuẓ'lamūna
ظلم کیے جائیں گے
١٩ (۱۹)
(۱۹)
دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پُورا پُورا بدلہ ان کو دے۔  ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا۔
۴۶:۲۰
وَيَوْمَ اور جس دن wayawma
اور جس دن
يُعْرَضُ پیش کیے جائیں گے yuʿ'raḍu
پیش کیے جائیں گے
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
كَفَرُوا۟ جنہوں نے کفر کیا kafarū
جنہوں نے کفر کیا
عَلَى پر ʿalā
پر
ٱلنَّارِ آگ (پر) l-nāri
آگ (پر)
أَذْهَبْتُمْ (کہا جائے گا) لے گئے تم adhhabtum
(کہا جائے گا) لے گئے تم
طَيِّبَـٰتِكُمْ اپنی نعمتیں ṭayyibātikum
اپنی نعمتیں
فِى میں
میں
حَيَاتِكُمُ اپنی زندگی میں ḥayātikumu
اپنی زندگی میں
ٱلدُّنْيَا دنیا کی l-dun'yā
دنیا کی
وَٱسْتَمْتَعْتُم اور فائدہ اٹھا لیا تم نے wa-is'tamtaʿtum
اور فائدہ اٹھا لیا تم نے
بِهَا ساتھ ان کے bihā
ساتھ ان کے
فَٱلْيَوْمَ تو آج کے دن fal-yawma
تو آج کے دن
تُجْزَوْنَ تم جزا دیئے جاؤ گے tuj'zawna
تم جزا دیئے جاؤ گے
عَذَابَ عذاب ʿadhāba
عذاب
ٱلْهُونِ رسوائی کا l-hūni
رسوائی کا
بِمَا بوجہ اس کے جو bimā
بوجہ اس کے جو
كُنتُمْ تھے تم kuntum
تھے تم
تَسْتَكْبِرُونَ تم تکبر کرتے tastakbirūna
تم تکبر کرتے
فِى میں
میں
ٱلْأَرْضِ زمین (میں) l-arḍi
زمین (میں)
بِغَيْرِ نا bighayri
نا
ٱلْحَقِّ حق l-ḥaqi
حق
وَبِمَا اور بوجہ اس کے جو wabimā
اور بوجہ اس کے جو
كُنتُمْ تھے تم kuntum
تھے تم
تَفْسُقُونَ تم نافرمانی کرتے tafsuqūna
تم نافرمانی کرتے
٢٠ (۲۰)
(۲۰)
پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا”تم اپنے حصّے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لُطف تم نے اُٹھا لیا، اب جو  تکبّر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُں کی پاداش میں آج تم کو ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔“1
۴۶:۲۱
۞ وَٱذْكُرْ اور ذکر کیجیے wa-udh'kur
اور ذکر کیجیے
أَخَا بھائی کا akhā
بھائی کا
عَادٍ عاد کے ʿādin
عاد کے
إِذْ جب idh
جب
أَنذَرَ اس نے خبردار کیا andhara
اس نے خبردار کیا
قَوْمَهُۥ اپنی قوم کو qawmahu
اپنی قوم کو
بِٱلْأَحْقَافِ احقاف میں bil-aḥqāfi
احقاف میں
وَقَدْ اور تحقیق waqad
اور تحقیق
خَلَتِ گزر چکے تھے khalati
گزر چکے تھے
ٱلنُّذُرُ خبردار کرنے والے l-nudhuru
خبردار کرنے والے
مِنۢ سے min
سے
بَيْنِ before him bayni
before him
يَدَيْهِ اس سے پہلے۔ اس کے آگے yadayhi
اس سے پہلے۔ اس کے آگے
وَمِنْ اور سے wamin
اور سے
خَلْفِهِۦٓ اور اس کے پیچھے khalfihi
اور اس کے پیچھے
أَلَّا کہ نہ allā
کہ نہ
تَعْبُدُوٓا۟ تم عبادت کرو taʿbudū
تم عبادت کرو
إِلَّا مگر illā
مگر
ٱللَّهَ اللہ کی l-laha
اللہ کی
إِنِّىٓ بیشک میں innī
بیشک میں
أَخَافُ میں ڈرتا ہوں akhāfu
میں ڈرتا ہوں
عَلَيْكُمْ تم پر ʿalaykum
تم پر
عَذَابَ عذاب سے ʿadhāba
عذاب سے
يَوْمٍ دن کے yawmin
دن کے
عَظِيمٍۢ بڑے ʿaẓīmin
بڑے
٢١ (۲۱)
(۲۱)
ذرا اِنھیں عاد کے بھائی (ہُود ؑ)کا قصّہ سُناوٴ جبکہ اُس نے اَحْقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔۔۔۔اور1 ایسے خبردار کرنے والا اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اس کے بعد بھی آتے رہے۔۔۔۔ کہ ”اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک  دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔“
۴۶:۲۲
قَالُوٓا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
أَجِئْتَنَا کیا تو آیا ہے ہمارے پاس aji'tanā
کیا تو آیا ہے ہمارے پاس
لِتَأْفِكَنَا تاکہ تو برگشتہ کردے ہم کو۔ پھیر دے ہم کو litafikanā
تاکہ تو برگشتہ کردے ہم کو۔ پھیر دے ہم کو
عَنْ سے ʿan
سے
ءَالِهَتِنَا ہمارے الہوں سے ālihatinā
ہمارے الہوں سے
فَأْتِنَا پس لے آ ہمارے پاس fatinā
پس لے آ ہمارے پاس
بِمَا ساتھ اس کے جو bimā
ساتھ اس کے جو
تَعِدُنَآ تو ڈراتا ہے ہم کو taʿidunā
تو ڈراتا ہے ہم کو
إِن اگر in
اگر
كُنتَ ہے تو kunta
ہے تو
مِنَ سے mina
سے
ٱلصَّـٰدِقِينَ سچوں میں (سے) l-ṣādiqīna
سچوں میں (سے)
٢٢ (۲۲)
(۲۲)
انہوں نے کہا "کیا تو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے"
۴۶:۲۳
قَالَ اس نے کہا qāla
اس نے کہا
إِنَّمَا بیشک innamā
بیشک
ٱلْعِلْمُ علم l-ʿil'mu
علم
عِندَ پاس ہے ʿinda
پاس ہے
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
وَأُبَلِّغُكُم اور میں پہنچا رہا ہوں تم کو wa-uballighukum
اور میں پہنچا رہا ہوں تم کو
مَّآ وہ جو
وہ جو
أُرْسِلْتُ میں بھیجا گیا ur'sil'tu
میں بھیجا گیا
بِهِۦ ساتھ اس کے bihi
ساتھ اس کے
وَلَـٰكِنِّىٓ لیکن میں walākinnī
لیکن میں
أَرَىٰكُمْ دیکھتا ہوں تم کو arākum
دیکھتا ہوں تم کو
قَوْمًۭا ایک قوم qawman
ایک قوم
تَجْهَلُونَ تم جہالت برت رہے ہو tajhalūna
تم جہالت برت رہے ہو
٢٣ (۲۳)
(۲۳)
اُس نے کہاکہ”اِس کا علم تو اللہ کو ہے،1 میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔“2
۴۶:۲۴
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
رَأَوْهُ انہوں نے دیکھا ra-awhu
انہوں نے دیکھا
عَارِضًۭا اس بادل کو ʿāriḍan
اس بادل کو
مُّسْتَقْبِلَ آنے والا mus'taqbila
آنے والا
أَوْدِيَتِهِمْ ان کی وادیوں کو awdiyatihim
ان کی وادیوں کو
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
هَـٰذَا یہ hādhā
یہ
عَارِضٌۭ بادل ہے ʿāriḍun
بادل ہے
مُّمْطِرُنَا ۚ مینہ برسانے والا ہے ہم کو mum'ṭirunā
مینہ برسانے والا ہے ہم کو
بَلْ نہیں بلکہ bal
نہیں بلکہ
هُوَ وہ huwa
وہ
مَا وہ ہے جس کی
وہ ہے جس کی
ٱسْتَعْجَلْتُم تم جلدی مچا رہے ہو is'taʿjaltum
تم جلدی مچا رہے ہو
بِهِۦ ۖ ساتھ اس کے bihi
ساتھ اس کے
رِيحٌۭ ایک ہوا ہے rīḥun
ایک ہوا ہے
فِيهَا اس میں fīhā
اس میں
عَذَابٌ عذاب ہے ʿadhābun
عذاب ہے
أَلِيمٌۭ دردناک alīmun
دردناک
٢٤ (۲۴)
(۲۴)
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگو”یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا۔“۔۔۔۔ ”نہیں،1 بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آرہا ہے
۴۶:۲۵
تُدَمِّرُ ہلاک کرتی ہے tudammiru
ہلاک کرتی ہے
كُلَّ ہر kulla
ہر
شَىْءٍۭ چیز کو shayin
چیز کو
بِأَمْرِ حکم سے bi-amri
حکم سے
رَبِّهَا اپنے رب کے rabbihā
اپنے رب کے
فَأَصْبَحُوا۟ پھر وہ ہوگئے fa-aṣbaḥū
پھر وہ ہوگئے
لَا نہ
نہ
يُرَىٰٓ دکھائی دیتے تھے yurā
دکھائی دیتے تھے
إِلَّا مگر illā
مگر
مَسَـٰكِنُهُمْ ۚ ان کے گھر masākinuhum
ان کے گھر
كَذَٰلِكَ اسی طرح kadhālika
اسی طرح
نَجْزِى ہم بدلہ دیا کرتے ہیں najzī
ہم بدلہ دیا کرتے ہیں
ٱلْقَوْمَ قوم کو l-qawma
قوم کو
ٱلْمُجْرِمِينَ مجرم l-muj'rimīna
مجرم
٢٥ (۲۵)
(۲۵)
اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا۔“ آخر کار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔1
۴۶:۲۶
وَلَقَدْ اور البتہ تحقیق walaqad
اور البتہ تحقیق
مَكَّنَّـٰهُمْ بسایا ہم نے ان کو makkannāhum
بسایا ہم نے ان کو
فِيمَآ اس میں جو fīmā
اس میں جو
إِن نہیں in
نہیں
مَّكَّنَّـٰكُمْ بسایا ہم نے تم کو makkannākum
بسایا ہم نے تم کو
فِيهِ اس میں fīhi
اس میں
وَجَعَلْنَا اور بنائے ہم نے wajaʿalnā
اور بنائے ہم نے
لَهُمْ ان کے لیے lahum
ان کے لیے
سَمْعًۭا کان samʿan
کان
وَأَبْصَـٰرًۭا اور آنکھیں wa-abṣāran
اور آنکھیں
وَأَفْـِٔدَةًۭ اور دل wa-afidatan
اور دل
فَمَآ تو نہ famā
تو نہ
أَغْنَىٰ کام آئے aghnā
کام آئے
عَنْهُمْ ان کو ʿanhum
ان کو
سَمْعُهُمْ ان کے کان samʿuhum
ان کے کان
وَلَآ اور نہ walā
اور نہ
أَبْصَـٰرُهُمْ ان کی نگاہیں۔ آنکھیں abṣāruhum
ان کی نگاہیں۔ آنکھیں
وَلَآ اور نہ walā
اور نہ
أَفْـِٔدَتُهُم ان کے دل afidatuhum
ان کے دل
مِّن کچھ min
کچھ
شَىْءٍ بھی shayin
بھی
إِذْ جب idh
جب
كَانُوا۟ تھے وہ kānū
تھے وہ
يَجْحَدُونَ وہ انکار کرتے yajḥadūna
وہ انکار کرتے
بِـَٔايَـٰتِ آیات کا biāyāti
آیات کا
ٱللَّهِ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
وَحَاقَ اور گھیر لیا waḥāqa
اور گھیر لیا
بِهِم ان کو bihim
ان کو
مَّا جو
جو
كَانُوا۟ تھے وہ kānū
تھے وہ
بِهِۦ ساتھ اس کے bihi
ساتھ اس کے
يَسْتَهْزِءُونَ وہ مذاق اڑاتے yastahziūna
وہ مذاق اڑاتے
٢٦ (۲۶)
(۲۶)
اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔1 اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے،2 اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے     تھے
۴۶:۲۷
وَلَقَدْ اور البتہ تحقیق walaqad
اور البتہ تحقیق
أَهْلَكْنَا ہلاک کردیا ہم نے ahlaknā
ہلاک کردیا ہم نے
مَا جو
جو
حَوْلَكُم تمہارے آس پاس ہے ḥawlakum
تمہارے آس پاس ہے
مِّنَ سے mina
سے
ٱلْقُرَىٰ بستیوں میں (سے) l-qurā
بستیوں میں (سے)
وَصَرَّفْنَا اور پھیر پھیر کر لائے ہیں ہم waṣarrafnā
اور پھیر پھیر کر لائے ہیں ہم
ٱلْـَٔايَـٰتِ آیات کو l-āyāti
آیات کو
لَعَلَّهُمْ شاید کہ laʿallahum
شاید کہ
يَرْجِعُونَ وہ لوٹ آئیں yarjiʿūna
وہ لوٹ آئیں
٢٧ (۲۷)
(۲۷)
تمہارے گرد و پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا، شاید کہ وہ باز آ جائیں
۴۶:۲۸
فَلَوْلَا تو کیوں نہ falawlā
تو کیوں نہ
نَصَرَهُمُ مدد کی ان کی naṣarahumu
مدد کی ان کی
ٱلَّذِينَ ان ہستیوں نے alladhīna
ان ہستیوں نے
ٱتَّخَذُوا۟ جن کو پکڑا انہوں نے ittakhadhū
جن کو پکڑا انہوں نے
مِن کے min
کے
دُونِ سوا dūni
سوا
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
قُرْبَانًا تقرب کے لیے qur'bānan
تقرب کے لیے
ءَالِهَةًۢ ۖ الہ۔ معبود ālihatan
الہ۔ معبود
بَلْ بلکہ bal
بلکہ
ضَلُّوا۟ وہ کھو گئے ḍallū
وہ کھو گئے
عَنْهُمْ ۚ ان سے ʿanhum
ان سے
وَذَٰلِكَ اور یہ wadhālika
اور یہ
إِفْكُهُمْ ان کا جھوٹ تھا if'kuhum
ان کا جھوٹ تھا
وَمَا اور جو کچھ wamā
اور جو کچھ
كَانُوا۟ تھے وہ kānū
تھے وہ
يَفْتَرُونَ وہ گھڑا کرتے yaftarūna
وہ گھڑا کرتے
٢٨ (۲۸)
(۲۸)
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرّب اِلی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبُود بنا لیا تھا؟1 بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُں کے جھُوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
۴۶:۲۹
وَإِذْ اور جب wa-idh
اور جب
صَرَفْنَآ پھیر لائے ہم ṣarafnā
پھیر لائے ہم
إِلَيْكَ آپ کی طرف ilayka
آپ کی طرف
نَفَرًۭا ایک گروہ nafaran
ایک گروہ
مِّنَ سے mina
سے
ٱلْجِنِّ جنوں میں سے l-jini
جنوں میں سے
يَسْتَمِعُونَ جو غور سے سن رہے تھے yastamiʿūna
جو غور سے سن رہے تھے
ٱلْقُرْءَانَ قرآن l-qur'āna
قرآن
فَلَمَّا پھر جب falammā
پھر جب
حَضَرُوهُ وہ حاضر ہوئے آپ کے پاس۔ اس کے پاس ḥaḍarūhu
وہ حاضر ہوئے آپ کے پاس۔ اس کے پاس
قَالُوٓا۟ کہنے لگے qālū
کہنے لگے
أَنصِتُوا۟ ۖ چپ ہوجاؤ anṣitū
چپ ہوجاؤ
فَلَمَّا تو جب falammā
تو جب
قُضِىَ پورا کر دیا گیا۔پڑھ لیا گیا quḍiya
پورا کر دیا گیا۔پڑھ لیا گیا
وَلَّوْا۟ پھرگئے wallaw
پھرگئے
إِلَىٰ طرف ilā
طرف
قَوْمِهِم اپنی قوم کی qawmihim
اپنی قوم کی
مُّنذِرِينَ خبردار کرنے والے بن mundhirīna
خبردار کرنے والے بن
٢٩ (۲۹)
(۲۹)
(اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے)جب ہم جِنّوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سُنیں۔1 جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے)تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاوٴ۔ پھر جب وہ پڑھا جا چکا  تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے
۴۶:۳۰
قَالُوا۟ انہوں نے کہا qālū
انہوں نے کہا
يَـٰقَوْمَنَآ اے ہماری قوم yāqawmanā
اے ہماری قوم
إِنَّا بیشک ہم نے innā
بیشک ہم نے
سَمِعْنَا سنی ہم نے samiʿ'nā
سنی ہم نے
كِتَـٰبًا ایک کتاب kitāban
ایک کتاب
أُنزِلَ اتاری گئی unzila
اتاری گئی
مِنۢ کے min
کے
بَعْدِ بعد baʿdi
بعد
مُوسَىٰ موسیٰ کے mūsā
موسیٰ کے
مُصَدِّقًۭا تصدیق کرنے والی muṣaddiqan
تصدیق کرنے والی
لِّمَا واسطے اس کے جو limā
واسطے اس کے جو
بَيْنَ درمیان bayna
درمیان
يَدَيْهِ اس کے دونوں ہاتھوں کے۔ جو اس سے پہلے ہے yadayhi
اس کے دونوں ہاتھوں کے۔ جو اس سے پہلے ہے
يَهْدِىٓ ہدایت دیتی ہے yahdī
ہدایت دیتی ہے
إِلَى طرف ilā
طرف
ٱلْحَقِّ حق کی l-ḥaqi
حق کی
وَإِلَىٰ اور طرف wa-ilā
اور طرف
طَرِيقٍۢ راستے کے ṭarīqin
راستے کے
مُّسْتَقِيمٍۢ سیدھے mus'taqīmin
سیدھے
٣٠ (۳۰)
(۳۰)
انہوں نے جا کر کہا”اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سُنی ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی  ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہِ راست کی طرف۔1
۴۶:۳۱
يَـٰقَوْمَنَآ اے ہماری قوم yāqawmanā
اے ہماری قوم
أَجِيبُوا۟ جواب دو ۔ دعوت قبول کرو ajībū
جواب دو ۔ دعوت قبول کرو
دَاعِىَ داعی کی۔ طرف بلانے والے کی dāʿiya
داعی کی۔ طرف بلانے والے کی
ٱللَّهِ اللہ کی l-lahi
اللہ کی
وَءَامِنُوا۟ اور ایمان لے آؤ waāminū
اور ایمان لے آؤ
بِهِۦ اس کے ساتھ bihi
اس کے ساتھ
يَغْفِرْ بخش دے گا yaghfir
بخش دے گا
لَكُم تمہارے لیے lakum
تمہارے لیے
مِّن سے min
سے
ذُنُوبِكُمْ تمہارے گناہوں میں سے dhunūbikum
تمہارے گناہوں میں سے
وَيُجِرْكُم اور پناہ دے گا تم کو۔ بچالے گا تم کو wayujir'kum
اور پناہ دے گا تم کو۔ بچالے گا تم کو
مِّنْ سے min
سے
عَذَابٍ عذاب (سے) ʿadhābin
عذاب (سے)
أَلِيمٍۢ دردناک alīmin
دردناک
٣١ (۳۱)
(۳۱)
اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بُلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آوٴ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے گا۔“1
۴۶:۳۲
وَمَن اور جو waman
اور جو
لَّا نہ
نہ
يُجِبْ جواب دے yujib
جواب دے
دَاعِىَ داعی کو dāʿiya
داعی کو
ٱللَّهِ اللہ کے l-lahi
اللہ کے
فَلَيْسَ تو نہیں ہے falaysa
تو نہیں ہے
بِمُعْجِزٍۢ عاجز کرنے والا bimuʿ'jizin
عاجز کرنے والا
فِى میں
میں
ٱلْأَرْضِ زمین (میں) l-arḍi
زمین (میں)
وَلَيْسَ اور نہیں walaysa
اور نہیں
لَهُۥ اس کے لیے lahu
اس کے لیے
مِن besides Him min
besides Him
دُونِهِۦٓ اس کے سوا dūnihi
اس کے سوا
أَوْلِيَآءُ ۚ کوئی حامی و مددگار awliyāu
کوئی حامی و مددگار
أُو۟لَـٰٓئِكَ یہی لوگ ulāika
یہی لوگ
فِى میں
میں
ضَلَـٰلٍۢ گمراہی (میں) ہیں ḍalālin
گمراہی (میں) ہیں
مُّبِينٍ کھلی mubīnin
کھلی
٣٢ (۳۲)
(۳۲)
اور1 جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زِچ کر دے، اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچالیں۔ ایسے لوگ کھُلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
۴۶:۳۳
أَوَلَمْ کیا نہیں awalam
کیا نہیں
يَرَوْا۟ انہوں نے دیکھا yaraw
انہوں نے دیکھا
أَنَّ بیشک anna
بیشک
ٱللَّهَ اللہ l-laha
اللہ
ٱلَّذِى وہ ذات ہے alladhī
وہ ذات ہے
خَلَقَ جس نے پیدا کیا khalaqa
جس نے پیدا کیا
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ آسمانوں کو l-samāwāti
آسمانوں کو
وَٱلْأَرْضَ اور زمین کو wal-arḍa
اور زمین کو
وَلَمْ اور نہیں walam
اور نہیں
يَعْىَ تھکا yaʿya
تھکا
بِخَلْقِهِنَّ ساتھ ان کی تخلیق کے bikhalqihinna
ساتھ ان کی تخلیق کے
بِقَـٰدِرٍ قادر ہے biqādirin
قادر ہے
عَلَىٰٓ اس بات پر ʿalā
اس بات پر
أَن کہ an
کہ
يُحْـِۧىَ وہ زندہ کرے yuḥ'yiya
وہ زندہ کرے
ٱلْمَوْتَىٰ ۚ مردوں کو l-mawtā
مردوں کو
بَلَىٰٓ کیوں نہیں balā
کیوں نہیں
إِنَّهُۥ بیشک وہ innahu
بیشک وہ
عَلَىٰ پر ʿalā
پر
كُلِّ ہر kulli
ہر
شَىْءٍۢ چیز (پر) shayin
چیز (پر)
قَدِيرٌۭ قدرت رکھنے والا ہے qadīrun
قدرت رکھنے والا ہے
٣٣ (۳۳)
(۳۳)
اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے
۴۶:۳۴
وَيَوْمَ اور جس دن wayawma
اور جس دن
يُعْرَضُ پیش کیے جائیں گے yuʿ'raḍu
پیش کیے جائیں گے
ٱلَّذِينَ وہ لوگ alladhīna
وہ لوگ
كَفَرُوا۟ جنہوں نے کفر کیا kafarū
جنہوں نے کفر کیا
عَلَى پر ʿalā
پر
ٱلنَّارِ آگ (پر) l-nāri
آگ (پر)
أَلَيْسَ (اس وقت پوچھا جائے گا)کیا نہیں ہے alaysa
(اس وقت پوچھا جائے گا)کیا نہیں ہے
هَـٰذَا یہ hādhā
یہ
بِٱلْحَقِّ ۖ حق bil-ḥaqi
حق
قَالُوا۟ وہ کہیں گے qālū
وہ کہیں گے
بَلَىٰ کیوں نہیں balā
کیوں نہیں
وَرَبِّنَا ۚ قسم ہے ہمارے رب کی warabbinā
قسم ہے ہمارے رب کی
قَالَ فرمائے گا qāla
فرمائے گا
فَذُوقُوا۟ پس چکھو fadhūqū
پس چکھو
ٱلْعَذَابَ عذاب l-ʿadhāba
عذاب
بِمَا بوجہ اس کے جو bimā
بوجہ اس کے جو
كُنتُمْ تھے تم kuntum
تھے تم
تَكْفُرُونَ تم کفر کرتے takfurūna
تم کفر کرتے
٣٤ (۳۴)
(۳۴)
جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"
۴۶:۳۵
فَٱصْبِرْ پس صبر کرو fa-iṣ'bir
پس صبر کرو
كَمَا جیسا کہ kamā
جیسا کہ
صَبَرَ صبر کیا ṣabara
صبر کیا
أُو۟لُوا۟ والوں نے ulū
والوں نے
ٱلْعَزْمِ ہمت (والوں نے) l-ʿazmi
ہمت (والوں نے)
مِنَ سے mina
سے
ٱلرُّسُلِ رسولوں میں (سے) l-rusuli
رسولوں میں (سے)
وَلَا اور نہ walā
اور نہ
تَسْتَعْجِل تم جلدی کرو tastaʿjil
تم جلدی کرو
لَّهُمْ ۚ ان کے لیے lahum
ان کے لیے
كَأَنَّهُمْ گویا کہ وہ ka-annahum
گویا کہ وہ
يَوْمَ جس دن yawma
جس دن
يَرَوْنَ وہ دیکھیں گے yarawna
وہ دیکھیں گے
مَا اسے جو
اسے جو
يُوعَدُونَ وہ وعدہ دیئے جاتے ہیں yūʿadūna
وہ وعدہ دیئے جاتے ہیں
لَمْ نہیں lam
نہیں
يَلْبَثُوٓا۟ وہ ٹھہریں گے yalbathū
وہ ٹھہریں گے
إِلَّا مگر illā
مگر
سَاعَةًۭ ایک گھڑی sāʿatan
ایک گھڑی
مِّن سے min
سے
نَّهَارٍۭ ۚ دن میں (سے) nahārin
دن میں (سے)
بَلَـٰغٌۭ ۚ پیغام پہنچانا ہے balāghun
پیغام پہنچانا ہے
فَهَلْ تو نہیں fahal
تو نہیں
يُهْلَكُ ہلاک کی جائے گی yuh'laku
ہلاک کی جائے گی
إِلَّا مگر illā
مگر
ٱلْقَوْمُ قوم l-qawmu
قوم
ٱلْفَـٰسِقُونَ فاسق l-fāsiqūna
فاسق
٣٥ (۳۵)
(۳۵)
پس اے نبی ؐ ، صبر کرو جس طرح اُولو العزم رسُولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔1 جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلا یا جا رہا ہے تو اِنہیں یُوں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دِن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا دی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟