۷۲
الجن
الجن
سورہ الجن (الجن) قرآن مجید کی ۷۲ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۲۸ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔
بک مارکس (0)
ابھی کوئی بک مارک نہیں۔ کسی بھی آیت کے ساتھ بک مارک آئیکن پر کلک کر کے محفوظ کریں۔
بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۷۲:۱
قُلْکہہ دیجیےqulأُوحِىَوحی کی گئیūḥiyaإِلَىَّمیری طرفilayyaأَنَّهُبیشکannahuٱسْتَمَعَغور سے سناis'tamaʿaنَفَرٌۭایک گروہ نےnafarunمِّنَمیں سےminaٱلْجِنِّجنوںl-jiniفَقَالُوٓا۟تو انہوں نے کہاfaqālūإِنَّابیشک ہمinnāسَمِعْنَاسنا ہم نےsamiʿ'nāقُرْءَانًاایک قرآنqur'ānanعَجَبًۭاعجیبʿajaban١
اے نبیؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا:”ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے
۷۲:۲
يَهْدِىٓرہنمائی کرتا ہےyahdīإِلَىطرفilāٱلرُّشْدِہدایت کیl-rush'diفَـَٔامَنَّاپس ایمان لائے ہمfaāmannāبِهِۦ ۖساتھ اس کےbihiوَلَناور ہرگز نہیںwalanنُّشْرِكَہم شریک کریں گےnush'rikaبِرَبِّنَآاپنے رب کے ساتھbirabbināأَحَدًۭاکسی ایک کوaḥadan٢
راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“
۷۲:۳
وَأَنَّهُۥاور بیشک وہwa-annahuتَعَـٰلَىٰبلند ہےtaʿālāجَدُّشانjadduرَبِّنَاہمارے رب کیrabbināمَانہیںmāٱتَّخَذَبنائی اس نےittakhadhaصَـٰحِبَةًۭکوئی بیویṣāḥibatanوَلَااور نہ کوئیwalāوَلَدًۭابیٹاwaladan٣
اور یہ کہ”ہمارے ربّ کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔“
۷۲:۴
وَأَنَّهُۥاور بیشک وہwa-annahuكَانَتھےkānaيَقُولُکہا کرتےyaqūluسَفِيهُنَاہمارے نادانsafīhunāعَلَىپرʿalāٱللَّهِاللہl-lahiشَطَطًۭازیادتی کی باتیںshaṭaṭan٤
اور یہ کہ”ہمارےنادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“
۷۲:۵
وَأَنَّااور بیشک ہم نےwa-annāظَنَنَّآگمان کیا ہم نےẓanannāأَنکہanلَّنہرگز نہیںlanتَقُولَکہیں گےtaqūlaٱلْإِنسُانسانl-insuوَٱلْجِنُّاور جنwal-jinuعَلَىپرʿalāٱللَّهِاللہl-lahiكَذِبًۭاجھوٹkadhiban٥
اور یہ کہ ”ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جِن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے۔“
۷۲:۶
وَأَنَّهُۥاور بیشک وہwa-annahuكَانَتھےkānaرِجَالٌۭکچھ لوگrijālunمِّنَمیں سےminaٱلْإِنسِانسانوںl-insiيَعُوذُونَجو پناہ مانگا کرتے تھےyaʿūdhūnaبِرِجَالٍۢکچھ لوگوں کیbirijālinمِّنَمیں سےminaٱلْجِنِّجنوںl-jiniفَزَادُوهُمْتو بڑھا دیا ان کوfazādūhumرَهَقًۭاتکبر میں۔ سرکشی میں۔ پھیلانے میںrahaqan٦
اور یہ کہ”انسانوں میں سے کچھ لوگ جِنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جِنّوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔“
۷۲:۷
وَأَنَّهُمْاور بیشک وہwa-annahumظَنُّوا۟سمجھتے تھےẓannūكَمَاجیسا کہkamāظَنَنتُمْتم نے سمجھاẓanantumأَنکہanلَّنہرگز نہیںlanيَبْعَثَبھیجے گاyabʿathaٱللَّهُاللہl-lahuأَحَدًۭاکسی ایک کوaḥadan٧
اور یہ کہ”انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمھارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسُول بنا کر نہ بھیجے گا۔“
۷۲:۸
وَأَنَّااور بیشک ہم نےwa-annāلَمَسْنَاچھوا ہم نے ۔ محسوس کیا ہم نےlamasnāٱلسَّمَآءَآسمان کوl-samāaفَوَجَدْنَـٰهَاتو پایا ہم نے اس کوfawajadnāhāمُلِئَتْبھرا ہوا ہےmuli-atحَرَسًۭاچوکیداروں سےḥarasanشَدِيدًۭاسختshadīdanوَشُهُبًۭااور شعلوں سےwashuhuban٨
اور یہ کہ "ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے"
۷۲:۹
وَأَنَّااور بیشک ہمwa-annāكُنَّاتھے ہمkunnāنَقْعُدُہم بیٹھتےnaqʿuduمِنْهَااس میں سےmin'hāمَقَـٰعِدَبیٹھنے کی جگہوں پرmaqāʿidaلِلسَّمْعِ ۖسننے کے لیlilssamʿiفَمَنےتو جو کوئیfamanيَسْتَمِعِسنتا ہےyastamiʿiٱلْـَٔانَابl-ānaيَجِدْپاتا ہےyajidلَهُۥاپنے لیےlahuشِهَابًۭاشہاب۔ شعلہshihābanرَّصَدًۭاگھات میںraṣadan٩
اور یہ کہ”پہلے ہم سُن گُن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چھُپے سُننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہابِ ثاقب لگا ہوا پاتا ہے۔“
۷۲:۱۰
وَأَنَّااور بیشک ہمwa-annāلَانہیںlāنَدْرِىٓہم جانتےnadrīأَشَرٌّکیا شرasharrunأُرِيدَارادہ کیا گیاurīdaبِمَنساتھ ان کےbimanفِىجو میں ہیںfīٱلْأَرْضِزمینl-arḍiأَمْیاamأَرَادَارادہ کیاarādaبِهِمْساتھ ان کےbihimرَبُّهُمْان کے رب نےrabbuhumرَشَدًۭابھلائی کاrashadan١٠
اور یہ کہ”ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی بُرا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا ربّ اُنہیں راہِ راست دکھانا چاہتا ہے۔“
۷۲:۱۱
وَأَنَّااور بیشک ہمwa-annāمِنَّاہم میں سےminnāٱلصَّـٰلِحُونَنیک لوگ ہیںl-ṣāliḥūnaوَمِنَّااور ہم میں سےwaminnāدُونَعلاوہ ہیںdūnaذَٰلِكَ ۖاس کےdhālikaكُنَّاہیں ہمkunnāطَرَآئِقَطریقوں میںṭarāiqaقِدَدًۭامختلفqidadan١١
اور یہ کہ”ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فرو تر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔“
۷۲:۱۲
وَأَنَّااور بیشک ہمwa-annāظَنَنَّآسمجھتے تھے ہمẓanannāأَنکہanلَّنہرگز نہیںlanنُّعْجِزَہم عاجز کرسکتےnuʿ'jizaٱللَّهَاللہ کوl-lahaفِىمیںfīٱلْأَرْضِزمینl-arḍiوَلَناور ہرگز نہیںwalanنُّعْجِزَهُۥہم عاجز کرسکتے اس کوnuʿ'jizahuهَرَبًۭابھاگ کرharaban١٢
اور یہ کہ”ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں۔“
۷۲:۱۳
وَأَنَّااور بیشک ہم نےwa-annāلَمَّاجبlammāسَمِعْنَاسنا ہم نےsamiʿ'nāٱلْهُدَىٰٓہدایت کوl-hudāءَامَنَّاایمان لے آئے ہمāmannāبِهِۦ ۖساتھ اس کےbihiفَمَنپس جو کوئیfamanيُؤْمِنۢایمان لائے گاyu'minبِرَبِّهِۦاپنے رب پرbirabbihiفَلَاتو نہfalāيَخَافُوہ ڈرے گاyakhāfuبَخْسًۭاکم کرنے میںbakhsanوَلَااور نہwalāرَهَقًۭازیادتی میںrahaqan١٣
اور یہ کہ”ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سُنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے ربّ پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا۔“
۷۲:۱۴
وَأَنَّااور بیشک ہمwa-annāمِنَّاہم میں سےminnāٱلْمُسْلِمُونَکچھ مسلمان ہیںl-mus'limūnaوَمِنَّااور ہم میں سے کچھwaminnāٱلْقَـٰسِطُونَ ۖنافرمان ہیںl-qāsiṭūnaفَمَنْتو جو کوئیfamanأَسْلَمَاسلام لائےaslamaفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگfa-ulāikaتَحَرَّوْا۟انہوں نے ارادہ کیاtaḥarrawرَشَدًۭابھلائی کاrashadan١٤
اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی
۷۲:۱۵
وَأَمَّااور رہےwa-ammāٱلْقَـٰسِطُونَظالم لوگl-qāsiṭūnaفَكَانُوا۟تو ہیں وہfakānūلِجَهَنَّمَجہنم کے لیےlijahannamaحَطَبًۭاایندھنḥaṭaban١٥
جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنّم کا ایندھن بننے والے ہیں۔“
۷۲:۱۶
وَأَلَّوِاور یہ کہ اگرwa-allawiٱسْتَقَـٰمُوا۟انہوں نے استقامت اختیار کیis'taqāmūعَلَىپرʿalāٱلطَّرِيقَةِایک راستےl-ṭarīqatiلَأَسْقَيْنَـٰهُمالبتہ پلائیں گے ہم ان کوla-asqaynāhumمَّآءًپانیmāanغَدَقًۭاوافرghadaqan١٦
1 اور (اے نبیؐ) کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے،
۷۲:۱۷
لِّنَفْتِنَهُمْتاکہ ہم آزمائش کریں ان کیlinaftinahumفِيهِ ۚاس میںfīhiوَمَناور جو کوئیwamanيُعْرِضْاعراض برتے گاyuʿ'riḍعَنسےʿanذِكْرِذکرdhik'riرَبِّهِۦاپنے رب کےrabbihiيَسْلُكْهُداخل کرے گا اس کوyasluk'huعَذَابًۭاعذاب میںʿadhābanصَعَدًۭاسختṣaʿadan١٧
تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں۔ اور جو اپنے ربّ کے ذکر سے منہ موڑے گا اس کا ربّ اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا
۷۲:۱۸
وَأَنَّاور بیشکwa-annaٱلْمَسَـٰجِدَمسجدیںl-masājidaلِلَّهِاللہ کے لیے ہیںlillahiفَلَاپس نہfalāتَدْعُوا۟تم پکاروtadʿūمَعَساتھmaʿaٱللَّهِاللہ کےl-lahiأَحَدًۭاکسی ایک کوaḥadan١٨
اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔
۷۲:۱۹
وَأَنَّهُۥاور بیشک وہwa-annahuلَمَّاجبlammāقَامَکھڑا ہواqāmaعَبْدُبندہʿabduٱللَّهِاللہ کاl-lahiيَدْعُوهُکہ پکارے اس کوyadʿūhuكَادُوا۟قریب تھے وہkādūيَكُونُونَوہ ہوجائیںyakūnūnaعَلَيْهِاس پرʿalayhiلِبَدًۭاگروہ گروہlibadan١٩
اور یہ کہ جب اللہ بندہ اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹُوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے
۷۲:۲۰
قُلْکہہ دیجیےqulإِنَّمَآبیشکinnamāأَدْعُوا۟میں پکارتا ہوںadʿūرَبِّىاپنے رب کوrabbīوَلَآاور نہیںwalāأُشْرِكُمیں شریک ٹھہراتاush'rikuبِهِۦٓساتھ اس کےbihiأَحَدًۭاکسی ایک کوaḥadan٢٠
اے نبیؐ ، کہو کہ”میں تو اپنے ربّ کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔“
۷۲:۲۱
قُلْکہہ دیجئےqulإِنِّىبیشک میںinnīلَآنہیںlāأَمْلِكُمالک ہوسکتاamlikuلَكُمْتمہارے لیےlakumضَرًّۭاکسی نقصان کاḍarranوَلَااور نہwalāرَشَدًۭابھلائی کاrashadan٢١
کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا"
۷۲:۲۲
قُلْکہہ دیجئےqulإِنِّىبیشک میںinnīلَنہرگز نہlanيُجِيرَنِىپناہ دے گا مجھ کوyujīranīمِنَسےminaٱللَّهِاللہl-lahiأَحَدٌۭکوئی ایکaḥadunوَلَنْاور ہرگز نہwalanأَجِدَمیں پاؤں گاajidaمِنfromminدُونِهِۦاس کے سوا کوئیdūnihiمُلْتَحَدًاجائے پناہmul'taḥadan٢٢
کہو، "مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں
۷۲:۲۳
إِلَّامگرillāبَلَـٰغًۭاپہنچا دیتا ہےbalāghanمِّنَطرف سےminaٱللَّهِاللہ کیl-lahiوَرِسَـٰلَـٰتِهِۦ ۚاور اس کے رسول کیwarisālātihiوَمَناور جو کوئیwamanيَعْصِنافرمانی کرے گاyaʿṣiٱللَّهَاللہ کیl-lahaوَرَسُولَهُۥاور اس کے رسول کیwarasūlahuفَإِنَّتو بیشکfa-innaلَهُۥاس کے لیےlahuنَارَآگ ہےnāraجَهَنَّمَجہنم کیjahannamaخَـٰلِدِينَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidīnaفِيهَآاس میںfīhāأَبَدًاہمیشہ ہمیشہabadan٢٣
میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔ اب جو بھی اللہ اور اس کے رسُول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنّم کی آگ ہے اور ویسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“
۷۲:۲۴
حَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجبidhāرَأَوْا۟وہ دیکھیں گے اسےra-awمَاجوmāيُوعَدُونَوہ وعدہ کیے جاتے ہیںyūʿadūnaفَسَيَعْلَمُونَتو عنقریب وہ جان لیں گےfasayaʿlamūnaمَنْکونmanأَضْعَفُزیادہ کمزور ہےaḍʿafuنَاصِرًۭامددگار کے اعتبار سےnāṣiranوَأَقَلُّاور کون زیادہ کم ہیںwa-aqalluعَدَدًۭاتعداد کے اعتبار سےʿadadan٢٤
(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔
۷۲:۲۵
قُلْکہہ دیجئےqulإِنْنہیںinأَدْرِىٓمیں جانتاadrīأَقَرِيبٌۭآیا قریب ہےaqarībunمَّاوہ جوmāتُوعَدُونَتم وعدہ کیے جاتے ہوtūʿadūnaأَمْیاamيَجْعَلُمقرر کردے گاyajʿaluلَهُۥاس کے لیےlahuرَبِّىٓمیرا رب،rabbīأَمَدًاکوئی مدتamadan٢٥
کہو”میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سےکیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا ربّ اس کے لیے کوئی لمبی مدّت مقرر فرماتا ہے۔
۷۲:۲۶
عَـٰلِمُجاننے والا ہےʿālimuٱلْغَيْبِغیب کاl-ghaybiفَلَاپس نہیںfalāيُظْهِرُوہ ظاہر کرتاyuẓ'hiruعَلَىٰپرʿalāغَيْبِهِۦٓاپنے غیبghaybihiأَحَدًاکسی ایک کوaḥadan٢٦
وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلّع نہیں کرتا،
۷۲:۲۷
إِلَّامگرillāمَنِجس کوmaniٱرْتَضَىٰوہ پسند کرےir'taḍāمِنمیں سےminرَّسُولٍۢرسولوںrasūlinفَإِنَّهُۥپس بیشکfa-innahuيَسْلُكُوہ چلاتا ہےyaslukuمِنۢfromminبَيْنِاس کےbayniيَدَيْهِآگےyadayhiوَمِنْاورwaminخَلْفِهِۦاس کے پیچھےkhalfihiرَصَدًۭامحافظraṣadan٢٧
سوائے اُس رسُول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔
۷۲:۲۸
لِّيَعْلَمَتاکہ وہ جان لےliyaʿlamaأَنکہanقَدْتحقیقqadأَبْلَغُوا۟انہوں نے پہنچا دئیےablaghūرِسَـٰلَـٰتِپیغاماتrisālātiرَبِّهِمْاپنے رب کےrabbihimوَأَحَاطَاور احاطہ کیا ہےwa-aḥāṭaبِمَاساتھ اس کےbimāلَدَيْهِمْجو ان کے پا س ہےladayhimوَأَحْصَىٰاور اس نے گن رکھا ہےwa-aḥṣāكُلَّہرkullaشَىْءٍچیز کوshayinعَدَدًۢاعدد کے اعتبار سےʿadadan٢٨
تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیے، اور اُن کے پُورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گِن رکھا ہے۔“
—
—
—
—
لوڈ ہو رہا ہے…