۷۹
النازعات
النازعات
سورہ النازعات (النازعات) قرآن مجید کی ۷۹ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۴۶ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔
بک مارکس (0)
ابھی کوئی بک مارک نہیں۔ کسی بھی آیت کے ساتھ بک مارک آئیکن پر کلک کر کے محفوظ کریں۔
بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۷۹:۱
وَٱلنَّـٰزِعَـٰتِقسم ہے ان فرشتوں کی جو کھینچنے والے ہیںwal-nāziʿātiغَرْقًۭاغرق ہوکر/ ڈوب کرgharqan١
قسم ہے اُن (فرشتوں کی) جو ڈوب کر کھینچتے ہیں
۷۹:۲
وَٱلنَّـٰشِطَـٰتِقسم ہے ان فرشتوں کی جو آسانی سے نکالنے والے ہیںwal-nāshiṭātiنَشْطًۭانکال لیناnashṭan٢
اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں
۷۹:۳
وَٱلسَّـٰبِحَـٰتِقسم ہے ان فرشتوں کی جو تیرنے والے ہیںwal-sābiḥātiسَبْحًۭاتیرناsabḥan٣
اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں
۷۹:۴
فَٱلسَّـٰبِقَـٰتِپھر آگے بڑھنے والوں کی/ سبقت کرنے والوں کیfal-sābiqātiسَبْقًۭاسبقت کرنا/ آگے بڑھناsabqan٤
پھر (حکم بجا لانے میں) سبقت کرتے ہیں
۷۹:۵
فَٱلْمُدَبِّرَٰتِپھر تدبیر کرنے والوں کیfal-mudabirātiأَمْرًۭاکام میں/ کام کیamran٥
پھر (احکامِ الٰہی کے مطابق)معاملات کا انتظام چلاتے ہیں۔
۷۹:۶
يَوْمَجس دنyawmaتَرْجُفُکانپے گیtarjufuٱلرَّاجِفَةُکانپنے والیl-rājifatu٦
جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا
۷۹:۷
تَتْبَعُهَاپیچھے آئے گی اس کےtatbaʿuhāٱلرَّادِفَةُپیچھے آنے والیl-rādifatu٧
اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا،
۷۹:۸
قُلُوبٌۭکچھ دلqulūbunيَوْمَئِذٍۢاس دنyawma-idhinوَاجِفَةٌدھڑکنے والے ہیں/ ہوں گےwājifatun٨
کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے،
۷۹:۹
أَبْصَـٰرُهَانگاہیں ان کیabṣāruhāخَـٰشِعَةٌۭدبی ہوئی ہوں گی/ سہمی ہوئی ہوں گیkhāshiʿatun٩
نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی
۷۹:۱۰
يَقُولُونَکہتے ہیںyaqūlūnaأَءِنَّاکیا بیشک ہمa-innāلَمَرْدُودُونَالبتہ پھیرے جانے والے ہیںlamardūdūnaفِىمیںfīٱلْحَافِرَةِپہلی حالت ( میں)l-ḥāfirati١٠
یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟
۷۹:۱۱
أَءِذَاکیا جبa-idhāكُنَّاہوں گے ہمkunnāعِظَـٰمًۭاہڈیاںʿiẓāmanنَّخِرَةًۭبوسیدہnakhiratan١١
کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟"
۷۹:۱۲
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūتِلْكَیہtil'kaإِذًۭاتبidhanكَرَّةٌواپسی ہےkarratunخَاسِرَةٌۭگھاٹے کی/ خسارے کیkhāsiratun١٢
کہنے لگے”یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!“
۷۹:۱۳
فَإِنَّمَاتو بیشکfa-innamāهِىَوہhiyaزَجْرَةٌۭایک ڈانٹ ہےzajratunوَٰحِدَةٌۭبس ایک ہیwāḥidatun١٣
حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی
۷۹:۱۴
فَإِذَاتو اچانکfa-idhāهُموہhumبِٱلسَّاهِرَةِمیدان میں ہوں گےbil-sāhirati١٤
اور یکایک یہ کُھلے میدان میں موجود ہوں گے۔
۷۹:۱۵
هَلْکیاhalأَتَىٰكَآئی ہے تیرے پاسatākaحَدِيثُباتḥadīthuمُوسَىٰٓموسیٰ کیmūsā١٥
1 کیا تمہیں مُوسیٰؑ کے قصّے کی خبر پہنچی ہے؟
۷۹:۱۶
إِذْجبidhنَادَىٰهُپکارا اس کوnādāhuرَبُّهُۥاس کے رب نےrabbuhuبِٱلْوَادِوادی میںbil-wādiٱلْمُقَدَّسِمقدسl-muqadasiطُوًىطویٰ کیṭuwan١٦
جب اس کے ربّ نے اُسے طُویٰ کی مقدّس وادی میں پُکارا تھا
۷۹:۱۷
ٱذْهَبْجاؤidh'habإِلَىٰطرفilāفِرْعَوْنَفرعون کےfir'ʿawnaإِنَّهُۥبیشک وہinnahuطَغَىٰسرکش ہوگیا ہےṭaghā١٧
کہ "فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے
۷۹:۱۸
فَقُلْپس کہوfaqulهَلکیاhalلَّكَتیرے لئے ہےlakaإِلَىٰٓطرف اس بات کےilāأَنکہanتَزَكَّىٰتو پاکیزگی اختیار کرےtazakkā١٨
اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے
۷۹:۱۹
وَأَهْدِيَكَاور میں رہنمائی کروں تیریwa-ahdiyakaإِلَىٰطرفilāرَبِّكَتیرے رب کیrabbikaفَتَخْشَىٰتاکہ تو ڈرےfatakhshā١٩
اور میں تیرے ربّ کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا)خوف تیرے اندر پیدا ہو؟“
۷۹:۲۰
فَأَرَىٰهُپس دکھائی اس کوfa-arāhuٱلْـَٔايَةَنشانیl-āyataٱلْكُبْرَىٰبہت بڑیl-kub'rā٢٠
پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر)اُس کی بڑی نشانی دکھائی،
۷۹:۲۱
فَكَذَّبَتو اس نے جھٹلادیاfakadhabaوَعَصَىٰاور نافرمانی کیwaʿaṣā٢١
مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا
۷۹:۲۲
ثُمَّپھرthummaأَدْبَرَاس نے پیٹھ پھیریadbaraيَسْعَىٰدوڑتے ہوئےyasʿā٢٢
پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا
۷۹:۲۳
فَحَشَرَپھر اس نے اکٹھا کیاfaḥasharaفَنَادَىٰپھر پکاراfanādā٢٣
اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا
۷۹:۲۴
فَقَالَپھر کہاfaqālaأَنَا۠میںanāرَبُّكُمُتمہارا رب ہوںrabbukumuٱلْأَعْلَىٰسب سے اعلیٰ/ سب سے بڑاl-aʿlā٢٤
میں تمہارا سب سے بڑا ربّ ہوں“
۷۹:۲۵
فَأَخَذَهُتو پکڑ لیا اس کوfa-akhadhahuٱللَّهُاللہ نےl-lahuنَكَالَعذاب میںnakālaٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کے (عذاب میں(/ سزا میںl-ākhiratiوَٱلْأُولَىٰٓاور دنیا کےwal-ūlā٢٥
آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا
۷۹:۲۶
إِنَّیقیناًinnaفِىمیںfīذَٰلِكَاس (میں)dhālikaلَعِبْرَةًۭالبتہ عبرت ہےlaʿib'ratanلِّمَنواسطے اس کے جوlimanيَخْشَىٰٓڈرتا ہوyakhshā٢٦
در حقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔
۷۹:۲۷
ءَأَنتُمْکیا تمa-antumأَشَدُّزیادہ سخت ہوashadduخَلْقًاتخلیق میںkhalqanأَمِیاamiٱلسَّمَآءُ ۚآسمانl-samāuبَنَىٰهَااس نے بنایا اس کوbanāhā٢٧
1 کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا
۷۹:۲۸
رَفَعَاٹھایاrafaʿaسَمْكَهَااس کی بلندی کوsamkahāفَسَوَّىٰهَاپھر درست کردیا اس کوfasawwāhā٢٨
اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا
۷۹:۲۹
وَأَغْطَشَاور ڈھانک دیاwa-aghṭashaلَيْلَهَااس کی رات کوlaylahāوَأَخْرَجَاور نکالاwa-akhrajaضُحَىٰهَااس کی دھوپ کو/ اس کے دن کو/ اگلا پہرḍuḥāhā٢٩
اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔
۷۹:۳۰
وَٱلْأَرْضَاور زمین کوwal-arḍaبَعْدَبعدbaʿdaذَٰلِكَاس کےdhālikaدَحَىٰهَآاس نے بچھا دیاdaḥāhā٣٠
اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا،
۷۹:۳۱
أَخْرَجَاس نے نکالاakhrajaمِنْهَااس سےmin'hāمَآءَهَااس کا پانیmāahāوَمَرْعَىٰهَااور اس کا چارہwamarʿāhā٣١
اُس کے اندر اُس کا پانی اور چارہ نکالا،1
۷۹:۳۲
وَٱلْجِبَالَاور پہاڑوں کوwal-jibālaأَرْسَىٰهَااس نے گاڑ دیا ان کوarsāhā٣٢
اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے
۷۹:۳۳
مَتَـٰعًۭافائدے کی چیزیں/ فائدے کا سامانmatāʿanلَّكُمْواسطے تمہارےlakumوَلِأَنْعَـٰمِكُمْاور تمہارے مویشیوں کے لئےwali-anʿāmikum٣٣
سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔
۷۹:۳۴
فَإِذَاپھر جبfa-idhāجَآءَتِآجائے گیjāatiٱلطَّآمَّةُآفتl-ṭāmatuٱلْكُبْرَىٰبڑیl-kub'rā٣٤
پھر جب وہ ہنگامہٴِ عظیم برپا ہوگا،1
۷۹:۳۵
يَوْمَاس دنyawmaيَتَذَكَّرُیاد کرے گاyatadhakkaruٱلْإِنسَـٰنُانسانl-insānuمَاجوmāسَعَىٰاس نے کوشش کیsaʿā٣٥
جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا،
۷۹:۳۶
وَبُرِّزَتِاور کھول دی جائے گی/ ظاہر کردی جائے گیwaburrizatiٱلْجَحِيمُجہنمl-jaḥīmuلِمَنواسطے اس کے جوlimanيَرَىٰدیکھتا ہوyarā٣٦
اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی
۷۹:۳۷
فَأَمَّاتو رہاfa-ammāمَنوہ جس نےmanطَغَىٰسرکشی کیṭaghā٣٧
تو جس نے سرکشی کی تھی
۷۹:۳۸
وَءَاثَرَاور ترجیح دیwaātharaٱلْحَيَوٰةَزندگی کوl-ḥayataٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yā٣٨
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی
۷۹:۳۹
فَإِنَّتو بیشکfa-innaٱلْجَحِيمَجہنم ہیl-jaḥīmaهِىَوہhiyaٱلْمَأْوَىٰٹھکانہ ہوگیl-mawā٣٩
دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی
۷۹:۴۰
وَأَمَّااور رہاwa-ammāمَنْوہ جوmanخَافَڈراkhāfaمَقَامَکھڑے ہونے سےmaqāmaرَبِّهِۦاپنے رب کے سامنےrabbihiوَنَهَىاور روکا اس نےwanahāٱلنَّفْسَنفس کوl-nafsaعَنِسےʿaniٱلْهَوَىٰخواہشات (سے)l-hawā٤٠
اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا
۷۹:۴۱
فَإِنَّتو یقیناًfa-innaٱلْجَنَّةَجنت ہیl-janataهِىَوہhiyaٱلْمَأْوَىٰٹھکانہ ہوگیl-mawā٤١
جنّت اس کا ٹھکانا ہوگی۔
۷۹:۴۲
يَسْـَٔلُونَكَوہ سوال کرتے ہیں آپ سےyasalūnakaعَنِبارے میںʿaniٱلسَّاعَةِقیامت کےl-sāʿatiأَيَّانَکب ہےayyānaمُرْسَىٰهَاٹھہرنا اس کاmur'sāhā٤٢
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ”آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟“
۷۹:۴۳
فِيمَکس (فکر) میں ہیںfīmaأَنتَتوantaمِنسےminذِكْرَىٰهَآاس کے ذکر سےdhik'rāhā٤٣
تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ
۷۹:۴۴
إِلَىٰطرفilāرَبِّكَتیرے رب کیrabbikaمُنتَهَىٰهَآاس کی انتہاء ہےmuntahāhā٤٤
اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے
۷۹:۴۵
إِنَّمَآبیشکinnamāأَنتَتوantaمُنذِرُخبردار کرنے والا ہےmundhiruمَناس کو جوmanيَخْشَىٰهَاڈرتا ہو اس سےyakhshāhā٤٥
تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے
۷۹:۴۶
كَأَنَّهُمْگویا کہ وہka-annahumيَوْمَجس دنyawmaيَرَوْنَهَاوہ دیکھ لیں گے اس کو ( تو کہیں گے گویا کہ)yarawnahāلَمْنہیںlamيَلْبَثُوٓا۟وہ ٹھہرےyalbathūإِلَّامگرillāعَشِيَّةًشام کا وقتʿashiyyatanأَوْیاawضُحَىٰهَااس کی صبحḍuḥāhā٤٦
جس روز یہ لوگ اُسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہو گا کہ (یہ دنیا میں یا حالتِ موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں۔2
—
—
—
—
لوڈ ہو رہا ہے…