۴۱

فصلت

مکی ۵۴ آیات پارہ ۲۴
فصلت

سورہ فصلت (فصلت) قرآن مجید کی ۴۱ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۵۴ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔

بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۴۱:۱
حمٓحمhha-meem١
ح م
۴۱:۲
تَنزِيلٌۭنازل کردہ ہے۔ اتاری ہوئی ہےtanzīlunمِّنَسےminaٱلرَّحْمَـٰنِرحمنl-raḥmāniٱلرَّحِيمِرحیم کی طرف سےl-raḥīmi٢
یہ خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے
۴۱:۳
كِتَـٰبٌۭایک کتاب ہےkitābunفُصِّلَتْکھول کر بیان کی گئی ہیںfuṣṣilatءَايَـٰتُهُۥاس کی آیاتāyātuhuقُرْءَانًاقرآن ہےqur'ānanعَرَبِيًّۭاعربیʿarabiyyanلِّقَوْمٍۢایک قوم کے لیےliqawminيَعْلَمُونَجو علم رکھتی ہےyaʿlamūna٣
ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی زبان کا قرآن، اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
۴۱:۴
بَشِيرًۭاخوشخبری دینے والاbashīranوَنَذِيرًۭااور ڈرانے والا۔ خبردار کرنے والاwanadhīranفَأَعْرَضَتو روگردانی کیfa-aʿraḍaأَكْثَرُهُمْان میں سے اکثر نےaktharuhumفَهُمْپس وہfahumلَانہیںيَسْمَعُونَسنتے ہیںyasmaʿūna٤
بشارت دینے والا اور ڈرانے والا۔ مگر اِن لوگوں میں سے اکثر نے اس سے رُو گردانی کی اور وہ سُن کر نہیں دیتے
۴۱:۵
وَقَالُوا۟اور وہ کہتے ہیںwaqālūقُلُوبُنَادل ہمارےqulūbunāفِىٓمیںأَكِنَّةٍۢپردے میں ہیںakinnatinمِّمَّااس سےmimmāتَدْعُونَآجو تم پکارتے ہو ہم کوtadʿūnāإِلَيْهِطرف اس کےilayhiوَفِىٓاور میںwafīءَاذَانِنَاہمارے کانوںādhānināوَقْرٌۭگرانی ہےwaqrunوَمِنۢاور سےwaminبَيْنِنَااور ہمارے درمیانbaynināوَبَيْنِكَاور تمہارے درمیانwabaynikaحِجَابٌۭایک پردہ ہے۔ حجاب ہےḥijābunفَٱعْمَلْپس عمل کروfa-iʿ'malإِنَّنَابیشک ہمinnanāعَـٰمِلُونَعمل کرنے والے ہیںʿāmilūna٥
کہتے ہیں”جس چیز کی طرف تُو ہمیں بُلا رہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہو گیا ہے۔ تُو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جائیں گے۔“
۴۱:۶
قُلْکہہ دیجیےqulإِنَّمَآبیشک میںinnamāأَنَا۠میںanāبَشَرٌۭایک انسان ہوںbasharunمِّثْلُكُمْتمہاری مانندmith'lukumيُوحَىٰٓوحی کی جاتی ہےyūḥāإِلَىَّمیری طرفilayyaأَنَّمَآبیشکannamāإِلَـٰهُكُمْالہ تمہاراilāhukumإِلَـٰهٌۭالہilāhunوَٰحِدٌۭایک ہی ہےwāḥidunفَٱسْتَقِيمُوٓا۟تو سیدھے چلوfa-is'taqīmūإِلَيْهِاس کی طرفilayhiوَٱسْتَغْفِرُوهُ ۗاور بخشش مانگو اس سےwa-is'taghfirūhuوَوَيْلٌۭاور ہلاکت ہےwawaylunلِّلْمُشْرِكِينَمشرکوں کے لیےlil'mush'rikīna٦
اے نبی ؐ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے ، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رُخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے
۴۱:۷
ٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaلَاجو نہیںيُؤْتُونَادا کرتےyu'tūnaٱلزَّكَوٰةَزکوۃl-zakataوَهُماور وہwahumبِٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کے ساتھbil-ākhiratiهُمْوہhumكَـٰفِرُونَانکاری ہیںkāfirūna٧
جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے منکر ہیں
۴۱:۸
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَعَمِلُوا۟اور انہوں نے عمل کیےwaʿamilūٱلصَّـٰلِحَـٰتِاچھےl-ṣāliḥātiلَهُمْان کے لیےlahumأَجْرٌاجر ہےajrunغَيْرُنہghayruمَمْنُونٍۢختم ہونے والاmamnūnin٨
رہے وہ لوگ جنہوں نے مان لیا اور نیک اعمال کیے،  اُن کے لیے یقیناً ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ ٹوٹنے والا نہیں ہے۔
۴۱:۹
۞ قُلْکہہ دیجیےqulأَئِنَّكُمْکیا بیشک تمa-innakumلَتَكْفُرُونَالبتہ تم کفر کرتے ہوlatakfurūnaبِٱلَّذِىساتھ اس ہستی کےbi-alladhīخَلَقَجس نے پیدا کیاkhalaqaٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaفِىمیںيَوْمَيْنِدو دنوں میںyawmayniوَتَجْعَلُونَاور تم بناتے ہوwatajʿalūnaلَهُۥٓاس کے لیےlahuأَندَادًۭا ۚشریکandādanذَٰلِكَیہdhālikaرَبُّ(ہے) ربrabbuٱلْعَـٰلَمِينَتمام جہانوں کاl-ʿālamīna٩
اے نبیؐ! اِن سے کہو، کیا تم اُس خدا سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اُس کا ہمسر ٹھیراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنا دیا؟ وہی تو سارے جہان والوں کا رب ہے
۴۱:۱۰
وَجَعَلَاور اس نے بنائےwajaʿalaفِيهَااس میںfīhāرَوَٰسِىَپہاڑrawāsiyaمِنسےminفَوْقِهَااس کے اوپر (سے)fawqihāوَبَـٰرَكَاور برکت ڈالیwabārakaفِيهَااس میںfīhāوَقَدَّرَاور مقدر کی۔ اندازے سے رکھیںwaqaddaraفِيهَآاس میںfīhāأَقْوَٰتَهَااس کی پیداوار۔ اس کی خوراکaqwātahāفِىٓمیںأَرْبَعَةِچارarbaʿatiأَيَّامٍۢدنوں (میں)ayyāminسَوَآءًۭبرابر ہےsawāanلِّلسَّآئِلِينَسوال کرنے والوں کے لیے۔ ضرورت مندوں کے لیےlilssāilīna١٠
اُس نے (زمین کو وجود میں لانے کے بعد)اوپر سے اس پر پہاڑ جمادیے اور اس میں برکتیں رکھ  دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیّا کر دیا۔ یہ سب کام چار دن میں ہو گئے۔
۴۱:۱۱
ثُمَّپھرthummaٱسْتَوَىٰٓمتوجہ ہواis'tawāإِلَىطرفilāٱلسَّمَآءِآسمان کیl-samāiوَهِىَاور وہwahiyaدُخَانٌۭدھواں تھاdukhānunفَقَالَتو اس نے کہاfaqālaلَهَااس سےlahāوَلِلْأَرْضِاور زمین سےwalil'arḍiٱئْتِيَادونوں آجاؤi'tiyāطَوْعًاخوشی سےṭawʿanأَوْیاawكَرْهًۭاناخوشی سے۔ مجبوری سےkarhanقَالَتَآدونوں نے کہاqālatāأَتَيْنَاہم آگئےataynāطَآئِعِينَفرمانبرداروں کی طرحṭāiʿīna١١
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت دھواں تھا۔ اُس نے آسمان اور زمین سے کہا”وجود میں آجاوٴ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔“ دونوں نے کہا”ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح۔“
۴۱:۱۲
فَقَضَىٰهُنَّتو اس نے مقرر کیا ان کوfaqaḍāhunnaسَبْعَساتsabʿaسَمَـٰوَاتٍۢآسمانsamāwātinفِىمیںيَوْمَيْنِدو دنوں (میں)yawmayniوَأَوْحَىٰاور وحی کردیاwa-awḥāفِىمیںكُلِّہرkulliسَمَآءٍآسمان (میں)samāinأَمْرَهَا ۚکام اس کاamrahāوَزَيَّنَّااور خوبصورت بنایا ہم نےwazayyannāٱلسَّمَآءَآسمانl-samāaٱلدُّنْيَادنیا کوl-dun'yāبِمَصَـٰبِيحَساتھ چراغوں کےbimaṣābīḥaوَحِفْظًۭا ۚاور حفاظت کے لیےwaḥif'ẓanذَٰلِكَیہdhālikaتَقْدِيرُاندازہ ہےtaqdīruٱلْعَزِيزِغالبl-ʿazīziٱلْعَلِيمِعلم والے کاl-ʿalīmi١٢
تب اُس نے دو دن کے اندر  سات آسمان بنا دیے، اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کردیا۔ اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کر دیا۔  یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصُوبہ ہے
۴۱:۱۳
فَإِنْپھر اگرfa-inأَعْرَضُوا۟وہ منہ موڑتے ہیںaʿraḍūفَقُلْتو کہہ دیجیےfaqulأَنذَرْتُكُمْمیں ڈراتا ہوں تم کوandhartukumصَـٰعِقَةًۭعذاب سےṣāʿiqatanمِّثْلَمانندmith'laصَـٰعِقَةِعذاب کےṣāʿiqatiعَادٍۢقوم عاد کےʿādinوَثَمُودَاور ثمود کےwathamūda١٣
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اِن سے کہہ دو کہ میں تم کو اُسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا
۴۱:۱۴
إِذْجبidhجَآءَتْهُمُآئے ان کے پاسjāathumuٱلرُّسُلُکئی رسولl-rusuluمِنۢسےminبَيْنِfrom before thembayniأَيْدِيهِمْان کے آگے سےaydīhimوَمِنْاور سےwaminخَلْفِهِمْان کے پیچھے (سے)khalfihimأَلَّاکہ نہallāتَعْبُدُوٓا۟تم عبادت کروtaʿbudūإِلَّامگرillāٱللَّهَ ۖاللہ کیl-lahaقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūلَوْاگرlawشَآءَچاہتاshāaرَبُّنَارب ہماراrabbunāلَأَنزَلَالبتہ اتار دیتاla-anzalaمَلَـٰٓئِكَةًۭفرشتےmalāikatanفَإِنَّاتو بیشک ہمfa-innāبِمَآساتھ اس کے جوbimāأُرْسِلْتُمبھیجے گئے ہو تمur'sil'tumبِهِۦساتھ اس کےbihiكَـٰفِرُونَانکاری ہیںkāfirūna١٤
جب خدا کے رسُول اُن کے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا”ہمارا ربّ چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو۔“
۴۱:۱۵
فَأَمَّاتو رہےfa-ammāعَادٌۭعادʿādunفَٱسْتَكْبَرُوا۟پس انہوں نے تکبر کیاfa-is'takbarūفِىمیںٱلْأَرْضِزمین (میں)l-arḍiبِغَيْرِبغیرbighayriٱلْحَقِّحق کے۔ (نا)حقl-ḥaqiوَقَالُوا۟اور انہوں نے کہاwaqālūمَنْکونmanأَشَدُّزیادہ شدید ہوسکتا ہےashadduمِنَّاہم سےminnāقُوَّةً ۖقوت میںquwwatanأَوَلَمْکیا نہیںawalamيَرَوْا۟انہوں نے دیکھاyarawأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaٱلَّذِىوہ ذات ہےalladhīخَلَقَهُمْجس نے پیدا کیا ان کوkhalaqahumهُوَوہhuwaأَشَدُّزیادہ شدید ہےashadduمِنْهُمْان سےmin'humقُوَّةًۭ ۖقوت میںquwwatanوَكَانُوا۟اور تھے وہwakānūبِـَٔايَـٰتِنَاہماری آیات کاbiāyātināيَجْحَدُونَوہ انکار کرتےyajḥadūna١٥
عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے "کون ہے ہم سے زیادہ زور آور" اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے؟ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے
۴۱:۱۶
فَأَرْسَلْنَاتو بھیجا ہم نےfa-arsalnāعَلَيْهِمْان پرʿalayhimرِيحًۭاایک ہوا کوrīḥanصَرْصَرًۭاتند۔ تیزṣarṣaranفِىٓمیںأَيَّامٍۢدنوںayyāminنَّحِسَاتٍۢمنحوسnaḥisātinلِّنُذِيقَهُمْتاکہ ہم چکھائیں ان کوlinudhīqahumعَذَابَعذابʿadhābaٱلْخِزْىِرسوائی کاl-khiz'yiفِىمیںٱلْحَيَوٰةِزندگی (میں)l-ḥayatiٱلدُّنْيَا ۖدنیا کیl-dun'yāوَلَعَذَابُاور البتہ عذابwalaʿadhābuٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کاl-ākhiratiأَخْزَىٰ ۖزیادہ رسوا کن ہےakhzāوَهُمْاور وہwahumلَانہيُنصَرُونَمدد دیئے جائیں گےyunṣarūna١٦
آخر کار ہم نے چند منحوس دنوں میں  سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلّت و رسوائی کے عذاب  کا مزا چکھا دیں، اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رُسوا کُن ہے ، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو گا
۴۱:۱۷
وَأَمَّااور رہےwa-ammāثَمُودُثمودthamūduفَهَدَيْنَـٰهُمْتو ہم نے ہدایت دی ان کوfahadaynāhumفَٱسْتَحَبُّوا۟تو انہوں نے ترجیح دیfa-is'taḥabbūٱلْعَمَىٰاندھے پن کوl-ʿamāعَلَىپرʿalāٱلْهُدَىٰہدایت (پر)l-hudāفَأَخَذَتْهُمْتو پکڑ لیا ان کوfa-akhadhathumصَـٰعِقَةُچنگھاڑ نےṣāʿiqatuٱلْعَذَابِعذاب کیl-ʿadhābiٱلْهُونِرسوا کن۔ ذلت کےl-hūniبِمَابوجہ اس کے جوbimāكَانُوا۟تھے وہkānūيَكْسِبُونَوہ کمائی کرتےyaksibūna١٧
رہے ثمود، تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی مگر انہوں نے راستہ دیکھنے کے بجائے اندھا بنا رہنا پسند کیا آخر اُن کے کرتوتوں کی بدولت ذلت کا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا
۴۱:۱۸
وَنَجَّيْنَااور نجات دی ہم نےwanajjaynāٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَكَانُوا۟اور تھے وہwakānūيَتَّقُونَوہ تقوی اختیار کرتےyattaqūna١٨
اور ہم نے اُن لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بدعملی سے پرہیز کرتے تھے۔
۴۱:۱۹
وَيَوْمَاور جس دنwayawmaيُحْشَرُاکٹھے کیے جائیں گےyuḥ'sharuأَعْدَآءُدشمنaʿdāuٱللَّهِاللہ کےl-lahiإِلَىطرفilāٱلنَّارِآگ کیl-nāriفَهُمْتو وہfahumيُوزَعُونَجمع کیے جائیں گےyūzaʿūna١٩
اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا،
۴۱:۲۰
حَتَّىٰٓیہاں تک کہḥattāإِذَاجب وہidhāمَاجب وہجَآءُوهَااس کے پاس آجائیں گےjāūhāشَهِدَگواہی دیں گےshahidaعَلَيْهِمْان کے خلافʿalayhimسَمْعُهُمْان کے کانsamʿuhumوَأَبْصَـٰرُهُمْاور ان کی نگاہیںwa-abṣāruhumوَجُلُودُهُماور ان کی کھالیںwajulūduhumبِمَابوجہ اس کے جوbimāكَانُوا۟تھے وہkānūيَعْمَلُونَوہ عمل کرتےyaʿmalūna٢٠
پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔
۴۱:۲۱
وَقَالُوا۟اور وہ کہیں گےwaqālūلِجُلُودِهِمْاپنی کھالوں کوlijulūdihimلِمَکیوںlimaشَهِدتُّمْتم نے گواہی دیshahidttumعَلَيْنَا ۖہمارے خلافʿalaynāقَالُوٓا۟وہ کہیں گےqālūأَنطَقَنَابلوایا ہم کوanṭaqanāٱللَّهُاللہ نےl-lahuٱلَّذِىٓوہ ذاتalladhīأَنطَقَجس نے بلوایاanṭaqaكُلَّہرkullaشَىْءٍۢچیز کوshayinوَهُوَاور وہی ہےwahuwaخَلَقَكُمْاس نے پیدا کیا تم کوkhalaqakumأَوَّلَپہلیawwalaمَرَّةٍۢبارmarratinوَإِلَيْهِاور اسی کی طرفwa-ilayhiتُرْجَعُونَتم لوٹائے جاؤ گےtur'jaʿūna٢١
وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے”تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟“ وہ جواب دیں گی”ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے۔ اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو
۴۱:۲۲
وَمَااور نہwamāكُنتُمْتھے تمkuntumتَسْتَتِرُونَچھپ سکتےtastatirūnaأَن(اس بات سے) کہanيَشْهَدَگواہی دیتےyashhadaعَلَيْكُمْتم پر۔ تمہارے خلافʿalaykumسَمْعُكُمْکان تمہارےsamʿukumوَلَآاور نہwalāأَبْصَـٰرُكُمْتمہاری نگاہیںabṣārukumوَلَااور نہwalāجُلُودُكُمْتمہاری کھالیںjulūdukumوَلَـٰكِنلیکنwalākinظَنَنتُمْگمان کیا تم نےẓanantumأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaلَانہیںيَعْلَمُجانتاyaʿlamuكَثِيرًۭابہت کچھkathīranمِّمَّااس میں سے جوmimmāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūna٢٢
تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے
۴۱:۲۳
وَذَٰلِكُمْاور یہwadhālikumظَنُّكُمُگمان ہے تمہاراẓannukumuٱلَّذِىوہ جوalladhīظَنَنتُمگمان کیا تم نےẓanantumبِرَبِّكُمْاپنے رب کے ساتھbirabbikumأَرْدَىٰكُمْاس نے ہلاک کیا تم کوardākumفَأَصْبَحْتُمتو ہوگئے تمfa-aṣbaḥtumمِّنَسےminaٱلْخَـٰسِرِينَخسارہ پانے والوں میں (سے)l-khāsirīna٢٣
تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے ربّ کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈُوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔“
۴۱:۲۴
فَإِنپھر اگرfa-inيَصْبِرُوا۟وہ صبر کریںyaṣbirūفَٱلنَّارُتو آگfal-nāruمَثْوًۭىٹھکانہ ہےmathwanلَّهُمْ ۖان کے لیےlahumوَإِناور اگرwa-inيَسْتَعْتِبُوا۟وہ توبہ کریں گے۔ عذر پیش کریں گےyastaʿtibūفَمَاتو نہیںfamāهُموہhumمِّنَسےminaٱلْمُعْتَبِينَوہ عذر قبول کیے جانے والوں میں س(ے)l-muʿ'tabīna٢٤
اس حالت میں وہ صبر کریں (یا نہ کریں)آگ ہی ان کا ٹھکانا ہوگی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے کوئی موقع انہیں نہ دیا جائے گا۔
۴۱:۲۵
۞ وَقَيَّضْنَااور مقرر کیے ہم نےwaqayyaḍnāلَهُمْان کے لیےlahumقُرَنَآءَساتھیquranāaفَزَيَّنُوا۟تو انہوں نے خوش نما بنا دیئےfazayyanūلَهُمان کے لیےlahumمَّاجو کچھبَيْنَسامنےbaynaأَيْدِيهِمْان کے سامنے تھےaydīhimوَمَااور جو کچھwamāخَلْفَهُمْان کے پیچھے تھےkhalfahumوَحَقَّاور حق ہوگئیwaḥaqqaعَلَيْهِمُان پرʿalayhimuٱلْقَوْلُباتl-qawluفِىٓمیںأُمَمٍۢگروہوں (میں)umaminقَدْتحقیقqadخَلَتْگزر چکےkhalatمِنسےminقَبْلِهِمان سے پہلےqablihimمِّنَسےminaٱلْجِنِّجنوں میں (سے)l-jiniوَٱلْإِنسِ ۖاور انسانوں میں سےwal-insiإِنَّهُمْبیشک وہinnahumكَانُوا۟تھے وہkānūخَـٰسِرِينَخسارہ پانے والےkhāsirīna٢٥
ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلّط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما کر دکھاتے تھے، آخر کا ر اُن پر بھی وہی فیصلہٴ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جِنّوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناًوہ خسارے میں رہ جانے والے تھے
۴۱:۲۶
وَقَالَاور کہاwaqālaٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūلَانہتَسْمَعُوا۟تم سنوtasmaʿūلِهَـٰذَااسlihādhāٱلْقُرْءَانِقرآن کوl-qur'āniوَٱلْغَوْا۟اور بےہودہ گوئی کروwal-ghawفِيهِاس میںfīhiلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَغْلِبُونَتم غالب آجاؤtaghlibūna٢٦
یہ منکرینِ حق کہتے ہیں”اِس قرآن کو ہرگز نہ سُنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو، شاید کہ اس طرح تم غالب آجاوٴ۔“
۴۱:۲۷
فَلَنُذِيقَنَّپس البتہ ہم ضرور چکھائیں گےfalanudhīqannaٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūعَذَابًۭاعذابʿadhābanشَدِيدًۭاشدیدshadīdanوَلَنَجْزِيَنَّهُمْاور البتہ ہم ضرور جزا دیں گے ان کوwalanajziyannahumأَسْوَأَبد ترینaswa-aٱلَّذِىاس چیز کیalladhīكَانُوا۟جو تھےkānūيَعْمَلُونَوہ عمل کرتےyaʿmalūna٢٧
اِن کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھا کر رہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ اِنہیں دیں گے
۴۱:۲۸
ذَٰلِكَیہdhālikaجَزَآءُبدلہ ہےjazāuأَعْدَآءِدشمنوں کاaʿdāiٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلنَّارُ ۖآگl-nāruلَهُمْان کے لیےlahumفِيهَااس میںfīhāدَارُگھر ہےdāruٱلْخُلْدِ ۖہمیشگی کاl-khul'diجَزَآءًۢبدلہ ہےjazāanبِمَابوجہ اس کے جوbimāكَانُوا۟تھے وہkānūبِـَٔايَـٰتِنَاہماری آیات کے ساتھbiāyātināيَجْحَدُونَوہ انکار کرتےyajḥadūna٢٨
وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی اُسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اِن کا گھر ہو گا یہ ہے سزا اِس جرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے
۴۱:۲۹
وَقَالَاور کہیں گےwaqālaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūرَبَّنَآاے ہمارے ربrabbanāأَرِنَادکھا ہم کوarināٱلَّذَيْنِوہ لوگalladhayniأَضَلَّانَاجن دو نے بھٹکایا ہم کوaḍallānāمِنَسےminaٱلْجِنِّجنوں میں (سے)l-jiniوَٱلْإِنسِاور انسانوں میں (سے)wal-insiنَجْعَلْهُمَاہم کردیں ان دونوں کوnajʿalhumāتَحْتَنیچےtaḥtaأَقْدَامِنَااپنے قدموں کےaqdāmināلِيَكُونَاتاکہ وہ دونوں ہوجائیںliyakūnāمِنَسےminaٱلْأَسْفَلِينَسب سے نچلوں میں (سے)l-asfalīna٢٩
وہاں یہ کافر کہیں گے کہ ”اے ہمارے ربّ، ذرا ہمیں دکھا دے اُن جِنّوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، ہم انہیں پاوٴں تلے روند ڈالیں گے تاکہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں۔“
۴۱:۳۰
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaقَالُوا۟جنہوں نے کہاqālūرَبُّنَارب ہماراrabbunāٱللَّهُاللہ ہےl-lahuثُمَّپھرthummaٱسْتَقَـٰمُوا۟وہ جم گئے۔ انہوں نے استقامت اختیار کیis'taqāmūتَتَنَزَّلُاترتے ہیںtatanazzaluعَلَيْهِمُان پرʿalayhimuٱلْمَلَـٰٓئِكَةُفرشتےl-malāikatuأَلَّاکہ نہallāتَخَافُوا۟تم ڈروtakhāfūوَلَااور نہwalāتَحْزَنُوا۟تم غم کروtaḥzanūوَأَبْشِرُوا۟اور خوشخبری پاؤwa-abshirūبِٱلْجَنَّةِجنت کیbil-janatiٱلَّتِىوہ جوallatīكُنتُمْتھے تمkuntumتُوعَدُونَتم وعدہ دیئے جاتےtūʿadūna٣٠
1 جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ”نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاوٴ اُس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے
۴۱:۳۱
نَحْنُہمnaḥnuأَوْلِيَآؤُكُمْتمہارے دوست ہیںawliyāukumفِىمیںٱلْحَيَوٰةِزندگی میںl-ḥayatiٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yāوَفِىاور میںwafīٱلْـَٔاخِرَةِ ۖآخرت (میں)l-ākhiratiوَلَكُمْاور تمہارے لیےwalakumفِيهَااس میں وہ ہےfīhāمَاجوتَشْتَهِىٓچاہیں گےtashtahīأَنفُسُكُمْتمہارے نفسanfusukumوَلَكُمْاور تمہارے لیےwalakumفِيهَااس میں وہ ہےfīhāمَاجوتَدَّعُونَتم مانگو گےtaddaʿūna٣١
ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی
۴۱:۳۲
نُزُلًۭامہمانی ہےnuzulanمِّنْسےminغَفُورٍۢغفورghafūrinرَّحِيمٍۢرحیم (کی طرف سے)raḥīmin٣٢
یہ ہے سامان ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے"
۴۱:۳۳
وَمَنْاور کونwamanأَحْسَنُزیادہ اچھا ہےaḥsanuقَوْلًۭابات میںqawlanمِّمَّناس سے جوmimmanدَعَآبلائےdaʿāإِلَىطرفilāٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَعَمِلَاور عمل کرےwaʿamilaصَـٰلِحًۭااچھےṣāliḥanوَقَالَاور کہےwaqālaإِنَّنِىبیشک میںinnanīمِنَسےminaٱلْمُسْلِمِينَمسلمانوں میں سے ہوںl-mus'limīna٣٣
اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بُلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔
۴۱:۳۴
وَلَااور نہیںwalāتَسْتَوِىبرابر ہوسکتیtastawīٱلْحَسَنَةُبھلائی۔ نیکیl-ḥasanatuوَلَااور نہwalāٱلسَّيِّئَةُ ۚبرائیl-sayi-atuٱدْفَعْدور کروid'faʿبِٱلَّتِىساتھ اس طریقے کےbi-allatīهِىَوہhiyaأَحْسَنُزیادہ اچھا ہےaḥsanuفَإِذَاتو دفعتاfa-idhāٱلَّذِىوہ شخصalladhīبَيْنَكَتیرے درمیانbaynakaوَبَيْنَهُۥاور اس کے درمیانwabaynahuعَدَٰوَةٌۭعداوت ہےʿadāwatunكَأَنَّهُۥگویا کہ وہka-annahuوَلِىٌّدوست ہےwaliyyunحَمِيمٌۭجانثار۔ جگری۔ گہراḥamīmun٣٤
اور اے نبیؐ ،نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔
۴۱:۳۵
وَمَااور نہیںwamāيُلَقَّىٰهَآڈالا جاتا اس کو۔ حاصل کرپاتے اس کوyulaqqāhāإِلَّامگرillāٱلَّذِينَان لوگوں پر۔ وہ لوگalladhīnaصَبَرُوا۟جنہوں نے صبر کیاṣabarūوَمَااور نہیںwamāيُلَقَّىٰهَآڈالا جاتا اس کو۔ حاصل کر پاتے اس کوyulaqqāhāإِلَّامگرillāذُووالوں پرdhūحَظٍّقسمت (والوں پر)۔ قسمت (والے)ḥaẓẓinعَظِيمٍۢبڑیʿaẓīmin٣٥
یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔
۴۱:۳۶
وَإِمَّااور اگرwa-immāيَنزَغَنَّكَوسوسہ آئے تجھ کوyanzaghannakaمِنَسےminaٱلشَّيْطَـٰنِشیطان کی طرف سےl-shayṭāniنَزْغٌۭکوئی وسوسہnazghunفَٱسْتَعِذْپس پناہ مانگ لوfa-is'taʿidhبِٱللَّهِ ۖاللہ کیbil-lahiإِنَّهُۥبیشک وہinnahuهُوَوہhuwaٱلسَّمِيعُسننے والا ہےl-samīʿuٱلْعَلِيمُجاننے والا ہےl-ʿalīmu٣٦
اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسُوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔
۴۱:۳۷
وَمِنْاور سےwaminءَايَـٰتِهِاس کی نشانیوں میں (سے)āyātihiٱلَّيْلُراتal-layluوَٱلنَّهَارُاور دن ہےwal-nahāruوَٱلشَّمْسُاور سورجwal-shamsuوَٱلْقَمَرُ ۚاور چاند ہےwal-qamaruلَانہتَسْجُدُوا۟تم سجدہ کروtasjudūلِلشَّمْسِسورج کے لیےlilshamsiوَلَااور نہwalāلِلْقَمَرِچاند کے لیےlil'qamariوَٱسْجُدُوا۟اور سجدہ کروwa-us'judūلِلَّهِاللہ کے لیےlillahiٱلَّذِىوہ ذاتalladhīخَلَقَهُنَّجس نے پیدا کیا ان کوkhalaqahunnaإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumإِيَّاهُصرف اسی کیiyyāhuتَعْبُدُونَتم عبادت کرتےtaʿbudūna٣٧
1 اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سُورج اور چاند۔ سُورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو۔
۴۱:۳۸
فَإِنِپھر اگرfa-iniٱسْتَكْبَرُوا۟وہ تکبر کریںis'takbarūفَٱلَّذِينَتو وہ ہستیاںfa-alladhīnaعِندَجو پاس ہیںʿindaرَبِّكَتیرے رب کےrabbikaيُسَبِّحُونَتسبیح کرتے ہیںyusabbiḥūnaلَهُۥاس کے لیےlahuبِٱلَّيْلِراتbi-al-layliوَٱلنَّهَارِاور دنwal-nahāriوَهُمْاور وہwahumلَانہیںيَسْـَٔمُونَ ۩تھکتے۔ اکتائےyasamūna٣٨
لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اَڑے رہیں تو پروا نہیں، جو فرشتے تیرے ربّ کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے۔
۴۱:۳۹
وَمِنْاور سےwaminءَايَـٰتِهِۦٓاس کی نشانیوں میں (سے)āyātihiأَنَّكَبیشک تمannakaتَرَىتم دیکھتے ہوtarāٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaخَـٰشِعَةًۭدبی ہوئیkhāshiʿatanفَإِذَآپھر جبfa-idhāأَنزَلْنَااتارتے ہیں ہمanzalnāعَلَيْهَااس پرʿalayhāٱلْمَآءَپانیl-māaٱهْتَزَّتْوہ ہلتی ہےih'tazzatوَرَبَتْ ۚاور پھولتی ہےwarabatإِنَّبیشکinnaٱلَّذِىٓوہ ذاتalladhīأَحْيَاهَاجس نے زندہ کیا اس کوaḥyāhāلَمُحْىِالبتہ زندہ کرنے والا ہےlamuḥ'yīٱلْمَوْتَىٰٓ ۚمردوں کوl-mawtāإِنَّهُۥبیشک وہinnahuعَلَىٰپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز (پر)shayinقَدِيرٌقادر ہےqadīrun٣٩
اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو  زمین سُونی پڑی ہوئی  ہے، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا، یکایک وہ پَھبَک اُٹھتی ہے اور پھُول جاتی ہے۔ یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جِلا اُٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
۴۱:۴۰
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaيُلْحِدُونَجو کمی کرتے ہیں۔ الحاد کرتے ہیںyul'ḥidūnaفِىٓمیںءَايَـٰتِنَاہماری آیات (میں)āyātināلَانہیںيَخْفَوْنَچھپ سکتےyakhfawnaعَلَيْنَآ ۗہم پرʿalaynāأَفَمَنکیا پھر وہ جوafamanيُلْقَىٰڈالا جائے گاyul'qāفِىمیںٱلنَّارِآگ (میں)l-nāriخَيْرٌبہتر ہےkhayrunأَمیاamمَّنجوmanيَأْتِىٓآئے گاyatīءَامِنًۭاامن میںāminanيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِ ۚقیامت کےl-qiyāmatiٱعْمَلُوا۟عمل کروiʿ'malūمَاجوشِئْتُمْ ۖچاہتے ہو تمshi'tumإِنَّهُۥبیشک وہinnahuبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūnaبَصِيرٌدیکھنے والا ہےbaṣīrun٤٠
1 جو لوگ ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں وہ ہم سے کچھ چھُپے ہوئے نہیں ہیں۔ خود ہی سوچ لو کہ آیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہوگا ؟ کرتے رہو جو کچھ تم  چاہو، تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے
۴۱:۴۱
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūبِٱلذِّكْرِنصیحت کے ساتھbil-dhik'riلَمَّاجبlammāجَآءَهُمْ ۖوہ آئی ان کے پاسjāahumوَإِنَّهُۥاور بیشک وہwa-innahuلَكِتَـٰبٌالبتہ ایک کتاب ہےlakitābunعَزِيزٌۭزبردستʿazīzun٤١
یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلامِ نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے،1
۴۱:۴۲
لَّانہیںيَأْتِيهِآسکتا اس پر۔ اس کوyatīhiٱلْبَـٰطِلُباطلl-bāṭiluمِنۢسےminبَيْنِسامنےbayniيَدَيْهِاس کے سامنے سےyadayhiوَلَااور نہwalāمِنْسےminخَلْفِهِۦ ۖاس کے پیچھے سےkhalfihiتَنزِيلٌۭنازل کردہ ہےtanzīlunمِّنْسےminحَكِيمٍحکمت والےḥakīminحَمِيدٍۢتعریف والے کی طرف سےḥamīdin٤٢
باطل نہ سامنے سے اس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے،1 یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کر دہ چیز ہے
۴۱:۴۳
مَّانہیںيُقَالُکہا جارہاyuqāluلَكَآپ کوlakaإِلَّامگرillāمَاوہ جوقَدْتحقیقqadقِيلَکہا گیاqīlaلِلرُّسُلِرسولوں سےlilrrusuliمِنسےminقَبْلِكَ ۚآپ سے پہلےqablikaإِنَّبیشکinnaرَبَّكَرب تیراrabbakaلَذُوالبتہ والاladhūمَغْفِرَةٍۢبخشش (والا) ہےmaghfiratinوَذُواور والاwadhūعِقَابٍسزا (والا) ہےʿiqābinأَلِيمٍۢدردناکalīmin٤٣
اے نبیؐ ، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسُولوں سے نہ کہی جا چکی ہو۔ بے شک تمہارا ربّ بڑا درگزر کرنے والا ہے،1 اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے
۴۱:۴۴
وَلَوْاور اگرwalawجَعَلْنَـٰهُبناتے ہم اس کوjaʿalnāhuقُرْءَانًاقرآنqur'ānanأَعْجَمِيًّۭاعجمیaʿjamiyyanلَّقَالُوا۟البتہ وہ کہتےlaqālūلَوْلَاکیوں نہlawlāفُصِّلَتْکھول کر بیان کی گئیںfuṣṣilatءَايَـٰتُهُۥٓ ۖآیات اس کیāyātuhuءَا۬عْجَمِىٌّۭکیا عجمیāʿ'jamiyyunوَعَرَبِىٌّۭ ۗاور عربیwaʿarabiyyunقُلْکہہ دیجیےqulهُوَوہhuwaلِلَّذِينَان لوگوں کے لیےlilladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūهُدًۭىہدایتhudanوَشِفَآءٌۭ ۖاور شفا ہےwashifāonوَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaلَانہیںيُؤْمِنُونَجو ایمان لاتےyu'minūnaفِىٓمیںءَاذَانِهِمْان کے کانوں میںādhānihimوَقْرٌۭبوجھ ہےwaqrunوَهُوَاور وہwahuwaعَلَيْهِمْان پرʿalayhimعَمًى ۚاندھا پن ہےʿamanأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaيُنَادَوْنَوہ پکارے جاتے ہیںyunādawnaمِنسےminمَّكَانٍۭجگہ (سے)makāninبَعِيدٍۢدور کیbaʿīdin٤٤
اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے”کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطِب عربی۔“1 اِن سے کہو ، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتےاُن کے لیے یہ کانوں کی  ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ ان کا حال تو ایسا ہے جیسے ان کو دُور سے پکارا جا رہا ہو۔ 2
۴۱:۴۵
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadءَاتَيْنَادی ہم نےātaynāمُوسَىموسیٰ کوmūsāٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaفَٱخْتُلِفَپس اختلاف کیا گیاfa-ukh'tulifaفِيهِ ۗاس میںfīhiوَلَوْلَااور اگر نہwalawlāكَلِمَةٌۭایک بات ہوتیkalimatunسَبَقَتْجو پہلے ہوچکیsabaqatمِنسےminرَّبِّكَتیرے رب کی طرف (سے)rabbikaلَقُضِىَالبتہ فیصلہ کردیا جاتاlaquḍiyaبَيْنَهُمْ ۚان کے درمیانbaynahumوَإِنَّهُمْاور بیشک وہwa-innahumلَفِىالبتہ میں ہیںlafīشَكٍّۢشک (میں)shakkinمِّنْهُاس کی طرف سےmin'huمُرِيبٍۢبےچین کرنے والےmurībin٤٥
اس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ کو کتا ب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا۔1 اگر تیرے ربّ نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چُکا دیا جاتا۔2 اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔3
۴۱:۴۶
مَّنْجس نےmanعَمِلَعمل کیےʿamilaصَـٰلِحًۭااچھےṣāliḥanفَلِنَفْسِهِۦ ۖتو اپنی ہی ذات کے لیےfalinafsihiوَمَنْاور جس نےwamanأَسَآءَبرا کیاasāaفَعَلَيْهَا ۗتو اس پر ذمہ داری ہےfaʿalayhāوَمَااور نہیںwamāرَبُّكَرب تیراrabbukaبِظَلَّـٰمٍۢبہت ظلم کرنے والاbiẓallāminلِّلْعَبِيدِبندوں کے لیےlil'ʿabīdi٤٦
جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا، جو بدی کرے گا اُس کا وبال اُسی پر ہوگا، اور تیرا ربّ اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے۔1
۴۱:۴۷
۞ إِلَيْهِاس کی طرفilayhiيُرَدُّلوٹایا جاتا ہےyuradduعِلْمُعلمʿil'muٱلسَّاعَةِ ۚقیامت کاl-sāʿatiوَمَااور نہیںwamāتَخْرُجُنکلتاtakhrujuمِنمیں سےminثَمَرَٰتٍۢپھلوںthamarātinمِّنْمیں سےminأَكْمَامِهَااس کے غلافوںakmāmihāوَمَااور نہیںwamāتَحْمِلُاٹھاتیtaḥmiluمِنْکوئیminأُنثَىٰمادہunthāوَلَااور نہwalāتَضَعُجنتی ہےtaḍaʿuإِلَّامگرillāبِعِلْمِهِۦ ۚاس کے علم کے ساتھbiʿil'mihiوَيَوْمَاور جس دنwayawmaيُنَادِيهِمْوہ پکارے گا ان کو (پکار کر کہے گا)yunādīhimأَيْنَکہاں ہیںaynaشُرَكَآءِىمیرے شریکshurakāīقَالُوٓا۟وہ کہیں گےqālūءَاذَنَّـٰكَہم عرض کرچکے ہیں آپ کوādhannākaمَانہیںمِنَّاہم میں سےminnāمِنکوئیminشَهِيدٍۢگواہshahīdin٤٧
اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھَلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اُسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے۔ پھر جس روز وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، ”ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے۔“
۴۱:۴۸
وَضَلَّاور گم ہوجائیں گےwaḍallaعَنْهُمان سےʿanhumمَّاجوكَانُوا۟تھے وہkānūيَدْعُونَپکارتےyadʿūnaمِناس سےminقَبْلُ ۖپہلےqabluوَظَنُّوا۟اور وہ سمجھ لیں گےwaẓannūمَانہیںلَهُمان کے لیےlahumمِّنکوئیminمَّحِيصٍۢچھٹکارہ ۔ جائے پناہmaḥīṣin٤٨
اُس وقت وہ سارے معبُود ان سے گم ہو جائیں گے جنہیں یہ اِس سے پہلے پُکارتے تھے، اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے
۴۱:۴۹
لَّانہیںيَسْـَٔمُتھکتا۔ اکتاتاyasamuٱلْإِنسَـٰنُانسانl-insānuمِنسےminدُعَآءِدعاduʿāiٱلْخَيْرِبھلائی کیl-khayriوَإِناور اگرwa-inمَّسَّهُچھوجاتا اس کوmassahuٱلشَّرُّشرl-sharuفَيَـُٔوسٌۭتو مایوس ہوجاتاfayaūsunقَنُوطٌۭبہت ناامیدqanūṭun٤٩
انسان کبھی بھلائی کی دُعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت اس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے
۴۱:۵۰
وَلَئِنْاور البتہ اگرwala-inأَذَقْنَـٰهُچکھاتے ہیں ہم اس کوadhaqnāhuرَحْمَةًۭکوئی رحمتraḥmatanمِّنَّااپنی طرف سےminnāمِنۢafterminبَعْدِبعدbaʿdiضَرَّآءَتکلیف کےḍarrāaمَسَّتْهُجو پہنچی تھی اس کوmassathuلَيَقُولَنَّالبتہ ضرور کہنا ہےlayaqūlannaهَـٰذَایہhādhāلِىمیرے لیےوَمَآاور نہیںwamāأَظُنُّمیں گمان کرتاaẓunnuٱلسَّاعَةَقیامت کوl-sāʿataقَآئِمَةًۭقائم ہونے والیqāimatanوَلَئِناور البتہ اگرwala-inرُّجِعْتُمیں لوٹایا گیاrujiʿ'tuإِلَىٰطرفilāرَبِّىٓاپنے رب کےrabbīإِنَّیقیناinnaلِىمیرے لیےعِندَهُۥاس کے پاسʿindahuلَلْحُسْنَىٰ ۚالبتہ بہتری ہے۔ بھلائی ہےlalḥus'nāفَلَنُنَبِّئَنَّپس البتہ ہم ضرور آگاہ کریں گے۔ خبردیں گےfalanunabbi-annaٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūبِمَاساتھ اس کےbimāعَمِلُوا۟جو انہوں نے کام کیےʿamilūوَلَنُذِيقَنَّهُماور البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان کوwalanudhīqannahumمِّنْمیں سےminعَذَابٍعذابʿadhābinغَلِيظٍۢسختghalīẓin٥٠
مگر جونہی کہ سخت وقت  گزر جانے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں ، یہ کہتا ہے کہ”میں اِسی کا مستحق ہوں، اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، لیکن اگر واقعی میں اپنے ربّ کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا۔“ حالانکہ کُفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزا چکھائیں گے
۴۱:۵۱
وَإِذَآاور جبwa-idhāأَنْعَمْنَاانعام کرتے ہیں ہمanʿamnāعَلَىپرʿalāٱلْإِنسَـٰنِانسانl-insāniأَعْرَضَوہ اعراض برتتا ہے۔ بےرخی کرتا ہےaʿraḍaوَنَـَٔااور موڑ لیتا ہےwanaāبِجَانِبِهِۦاپنے پہلو کوbijānibihiوَإِذَااور جبwa-idhāمَسَّهُپہنچتی ہے اس کوmassahuٱلشَّرُّتکلیف۔ ناگوار چیزl-sharuفَذُوتو کرنے والا ہوتا ہےfadhūدُعَآءٍدعاduʿāinعَرِيضٍۢلمبی چوڑیʿarīḍin٥١
انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے۔ اور جب اسے کوئی آفت چھُو جاتی ہے تو لمبی چوڑی دُعائیں کرنے لگتا ہے۔
۴۱:۵۲
قُلْکہہ دیجئےqulأَرَءَيْتُمْکیا غور کیا تم نےara-aytumإِناگرinكَانَہوا ہےkānaمِنْسےminعِندِطرفʿindiٱللَّهِاللہ کیl-lahiثُمَّپھرthummaكَفَرْتُمکفر کیا تم نےkafartumبِهِۦاس کاbihiمَنْکونmanأَضَلُّزیادہ بھٹکا ہوا ہےaḍalluمِمَّنْاس سے بڑھ کر جوmimmanهُوَوہhuwaفِىمیں ہیںشِقَاقٍۭضدshiqāqinبَعِيدٍۢدور کیbaʿīdin٥٢
اے نبیؐ ، اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہُوا اور تم اِس کا انکار کرتے رہے تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اِس کی مخالفت میں دُور تک نکل گیا ہو؟
۴۱:۵۳
سَنُرِيهِمْعنقریب ہم دکھائیں گے ان کوsanurīhimءَايَـٰتِنَااپنی نشانیاںāyātināفِىمیںٱلْـَٔافَاقِمشرق ومغربl-āfāqiوَفِىٓاور ان کے میںwafīأَنفُسِهِمْنفسوںanfusihimحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَتَبَيَّنَواضح ہوجائے گاyatabayyanaلَهُمْان کے لیےlahumأَنَّهُکہ وہannahuٱلْحَقُّ ۗحق ہےl-ḥaquأَوَلَمْکیا نہیںawalamيَكْفِکافیyakfiبِرَبِّكَآپ کے رب کے لئیےbirabbikaأَنَّهُۥکہ وہannahuعَلَىٰپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢشےshayinشَهِيدٌشاہدshahīdun٥٣
عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھُل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا ربّ ہر چیز کا شاہد ہے؟
۴۱:۵۴
أَلَآخبردارalāإِنَّهُمْبیشک وہinnahumفِىمیں ہیںمِرْيَةٍۢشکmir'yatinمِّنسےminلِّقَآءِملاقاتliqāiرَبِّهِمْ ۗاپنے رب کیrabbihimأَلَآخبردارalāإِنَّهُۥبیشک وہinnahuبِكُلِّساتھ ہرbikulliشَىْءٍۢچیز کےshayinمُّحِيطٌۢاحاطہ کرنے والا ہےmuḥīṭun٥٤
آگاہ رہو، یہ لوگ اپنےربّ کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں۔ سُن رکھو، وہ ہر چیز پر محیط ہے۔2