۲

البقرہ

مدنی ۲۸۶ آیات پارہ ۱
البقرة

سورہ البقرہ (البقرة) قرآن مجید کی ۲ ویں سورت ہے — یہ ایک مدنی سورت ہے جو ۲۸۶ آیات پر مشتمل ہے۔ مدنی سورتیں ہجرت کے بعد نازل ہوئیں اور عموماً عبادات، احکام اور مسلم معاشرت سے متعلق ہیں۔

بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۲:۱
الٓمٓالف ۔ لام ۔ میمalif-lam-meem١
الف،لام،میم1
۲:۲
ذَٰلِكَوہ / یہdhālikaٱلْكِتَـٰبُکتاب ہےl-kitābuلَانہیںرَيْبَ ۛکوئی شکraybaفِيهِ ۛجس میںfīhiهُدًۭىہدایت ہےhudanلِّلْمُتَّقِينَواسطے ان کے جو متقی ہیںlil'muttaqīna٢
یہ اللہ کی کتاب ہے ،اس میں کوئی شک نہیں1 ہے۔ہدایت ہے اُن پرہیزگاروں کے2 لئے
۲:۳
ٱلَّذِينَیہ وہ لوگ ہیںalladhīnaيُؤْمِنُونَجو ایمان لاتے ہیںyu'minūnaبِٱلْغَيْبِغیب پرbil-ghaybiوَيُقِيمُونَاور وہ قائم کرتے ہیںwayuqīmūnaٱلصَّلَوٰةَنمازl-ṣalataوَمِمَّااس میں سے جوwamimmāرَزَقْنَـٰهُمْرزق دیا ہم نے ان کوrazaqnāhumيُنفِقُونَوہ خرچ کرتے ہیںyunfiqūna٣
جو غیب پر ایمان لاتے1 ہیں،نماز قائم کرتے ہیں2،جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں3
۲:۴
وَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaيُؤْمِنُونَجو ایمان لاتے ہیںyu'minūnaبِمَآساتھ اس کے جوbimāأُنزِلَنازل کیا گیاunzilaإِلَيْكَطرف آپ کےilaykaوَمَآاور جوwamāأُنزِلَنازل کیا گیاunzilaمِنسےminقَبْلِكَآپ سے پہلےqablikaوَبِٱلْـَٔاخِرَةِاور آخرت کے ساتھwabil-ākhiratiهُمْوہhumيُوقِنُونَوہ یقین رکھتے ہیںyūqinūna٤
جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتےہیں1، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں2
۲:۵
أُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaعَلَىٰاوپرʿalāهُدًۭىہدایت کے ہیںhudanمِّنسےminرَّبِّهِمْ ۖاپنے رب کی طرف سےrabbihimوَأُو۟لَـٰٓئِكَاور یہی لوگ ہیںwa-ulāikaهُمُوہhumuٱلْمُفْلِحُونَجو فلاح پانے والے ہیںl-muf'liḥūna٥
ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں
۲:۶
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūسَوَآءٌبرابر ہےsawāonعَلَيْهِمْاوپر ان کےʿalayhimءَأَنذَرْتَهُمْتم ڈراؤ ان کوa-andhartahumأَمْیاamلَمْنہlamتُنذِرْهُمْتم ڈراؤ انکوtundhir'humلَانہیںيُؤْمِنُونَوہ ایمان لائیں گےyu'minūna٦
جن لوگوں نے(ان باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا،1اُن کے لئے یکساں ہے،خواہ تم انہیں خبردار کرویا نہ کرو،بہر حال وہ ماننے والےنہیں
۲:۷
خَتَمَمہر لگادیںkhatamaٱللَّهُاللہ نےl-lahuعَلَىٰاوپرʿalāقُلُوبِهِمْان کے دلوں کےqulūbihimوَعَلَىٰاور اوپرwaʿalāسَمْعِهِمْ ۖان کے کانوں کےsamʿihimوَعَلَىٰٓاور اوپرwaʿalāأَبْصَـٰرِهِمْان کی آنکھوں کےabṣārihimغِشَـٰوَةٌۭ ۖپردہ ہےghishāwatunوَلَهُمْان کے لئےwalahumعَذَابٌعذاب ہےʿadhābunعَظِيمٌۭبڑاʿaẓīmun٧
اللہ نے اُن کے دلوں اور ان کے کانوں پر مُہرلگادی ہے1 اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیاہے۔وہ سخت سزا کے مستحق ہیں
۲:۸
وَمِنَاور بعضwaminaٱلنَّاسِلوگ ہیںl-nāsiمَنجوmanيَقُولُکہتے ہیںyaqūluءَامَنَّاایمان لائے ہمāmannāبِٱللَّهِاللہ پرbil-lahiوَبِٱلْيَوْمِاور یومwabil-yawmiٱلْـَٔاخِرِآخرت پرl-ākhiriوَمَااور نہیںwamāهُموہhumبِمُؤْمِنِينَایمان لانے والےbimu'minīna٨
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ در حقیقت وہ مومن نہیں ہیں
۲:۹
يُخَـٰدِعُونَوہ دھوکہ دیتے ہیںyukhādiʿūnaٱللَّهَاللہ کوl-lahaوَٱلَّذِينَاور ان لوگوں کوwa-alladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَمَااور نہیںwamāيَخْدَعُونَوہ دھوکہ دیتےyakhdaʿūnaإِلَّآمگرillāأَنفُسَهُمْاپنے نفسوں کوanfusahumوَمَااور نہیںwamāيَشْعُرُونَوہ شعور رکھتےyashʿurūna٩
وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں،مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعُورنہیں ہے1
۲:۱۰
فِىمیںقُلُوبِهِمان کے دلوںqulūbihimمَّرَضٌۭبیماری ہےmaraḍunفَزَادَهُمُپس زیادہ کیا ان کو / بڑھایا ان کوfazādahumuٱللَّهُاللہ نےl-lahuمَرَضًۭا ۖبیماری میںmaraḍanوَلَهُمْاور ان کے لئےwalahumعَذَابٌعذاب ہےʿadhābunأَلِيمٌۢدرد ناک / المناکalīmunبِمَابوجہ اس کے جوbimāكَانُوا۟تھے وہkānūيَكْذِبُونَجھوٹ بولتےyakdhibūna١٠
ان کے دلوں میں ایک بیماری ہےجسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا1دیا،اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں،اس کی پاداش میں ان کے لئے درد ناک سزا ہے
۲:۱۱
وَإِذَااور جبwa-idhāقِيلَکہا جاتا ہےqīlaلَهُمْان کوlahumلَانہتُفْسِدُوا۟تم فساد کروtuf'sidūفِىمیںٱلْأَرْضِزمینl-arḍiقَالُوٓا۟وہ کہتے ہیںqālūإِنَّمَابیشکinnamāنَحْنُہم توnaḥnuمُصْلِحُونَاصلاح کرنے والے ہیںmuṣ'liḥūna١١
جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
۲:۱۲
أَلَآخبردارalāإِنَّهُمْبیشک وہinnahumهُمُوہی ہیںhumuٱلْمُفْسِدُونَجو فساد کرنے والے ہیںl-muf'sidūnaوَلَـٰكِنلیکنwalākinلَّانہیںيَشْعُرُونَوہ شعور رکھتے ہیںyashʿurūna١٢
خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے
۲:۱۳
وَإِذَااور جبwa-idhāقِيلَکہا جاتا ہےqīlaلَهُمْواسطے ان کےlahumءَامِنُوا۟ایمان لے آؤāminūكَمَآجیسا کہkamāءَامَنَایمان لائےāmanaٱلنَّاسُلوگl-nāsuقَالُوٓا۟وہ کہتے ہیںqālūأَنُؤْمِنُکیاہم ایمان لائیںanu'minuكَمَآجیسا کہkamāءَامَنَایمان لائےāmanaٱلسُّفَهَآءُ ۗجو بیوقوف ہیںl-sufahāuأَلَآخبردارalāإِنَّهُمْبیشک وہinnahumهُمُوہی ہیںhumuٱلسُّفَهَآءُجو بیوقوف ہیںl-sufahāuوَلَـٰكِنلیکنwalākinلَّانہیںيَعْلَمُونَوہ علم رکھتےyaʿlamūna١٣
اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اُسی طرح تم بھی ایمان 1لاوٴ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان 2لائیں؟ خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں،مگر یہ جانتے نہیں ہیں
۲:۱۴
وَإِذَااور جبwa-idhāلَقُوا۟ملاقات کرتے ہیںlaqūٱلَّذِينَان لوگوں سےalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūقَالُوٓا۟وہ کہتے ہیںqālūءَامَنَّاایمان لائے ہمāmannāوَإِذَااورجبwa-idhāخَلَوْا۟وہ اکیلے ہوتے ہیںkhalawإِلَىٰطرفilāشَيَـٰطِينِهِمْاپنے شیطانوں کےshayāṭīnihimقَالُوٓا۟وہ کہتے ہیںqālūإِنَّابیشک ہمinnāمَعَكُمْتمہارے ساتھ ہیںmaʿakumإِنَّمَابیشکinnamāنَحْنُہم توnaḥnuمُسْتَهْزِءُونَمذاق کرنے والے ہیںmus'tahziūna١٤
جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور جب علیٰحدگی میں اپنے شیطانوں1 سے ملتے ہیں،تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمھارے ساتھ ہیں اور اُن لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں
۲:۱۵
ٱللَّهُاللہal-lahuيَسْتَهْزِئُمذاق کرے گا / مذاق کرتا ہےyastahzi-uبِهِمْساتھ ان کےbihimوَيَمُدُّهُمْاور وہ ڈھیل دے رہا ہے ان کوwayamudduhumفِىان کیطُغْيَـٰنِهِمْسرکشی میںṭugh'yānihimيَعْمَهُونَوہ بھٹک رہے ہیں/ اندھے بنے پھرتے ہیںyaʿmahūna١٥
اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں
۲:۱۶
أُو۟لَـٰٓئِكَیہی ہیںulāikaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaٱشْتَرَوُا۟جنہوں نے خرید لیish'tarawūٱلضَّلَـٰلَةَگمراہیl-ḍalālataبِٱلْهُدَىٰبدلے ہدایت کےbil-hudāفَمَاتو نہfamāرَبِحَتفائدہ مند ہوئی / فائدہ دیاrabiḥatتِّجَـٰرَتُهُمْتجارت ان کی نےtijāratuhumوَمَااور نہwamāكَانُوا۟تھے وہkānūمُهْتَدِينَہدایت پانے والےmuh'tadīna١٦
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں
۲:۱۷
مَثَلُهُمْمثال ان کیmathaluhumكَمَثَلِجیسے مثال کیkamathaliٱلَّذِىاس شخص کیalladhīٱسْتَوْقَدَجس نے جلائیis'tawqadaنَارًۭاآگnāranفَلَمَّآپھر جبfalammāأَضَآءَتْاس نے روشن کردیاaḍāatمَااس کاحَوْلَهُۥماحولḥawlahuذَهَبَلے گیاdhahabaٱللَّهُاللّٰهُl-lahuبِنُورِهِمْنور ان کاbinūrihimوَتَرَكَهُمْاورچھوڑ دیا ان کوwatarakahumفِىمیںظُلُمَـٰتٍۢاندھیروںẓulumātinلَّانہیںيُبْصِرُونَوہ دیکھ پاتےyub'ṣirūna١٧
ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نورِبصارت سلب کرلیااور انہیں اس حال میں چھوڑدیاکہ تاریکیوںمیں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔
۲:۱۸
صُمٌّۢبہرے ہیںṣummunبُكْمٌگونگے ہیںbuk'munعُمْىٌۭاندھے ہیںʿum'yunفَهُمْتو وہfahumلَانہیںيَرْجِعُونَوہ پلیٹیں گے / وہ لوٹیں گےyarjiʿūna١٨
یہ بہرے ہیں،گونگے ہیں،اندھے1 ہیں،یہ اب نہ پلٹیں گے
۲:۱۹
أَوْیاawكَصَيِّبٍۢجیسے مثال ہے زور دار پیش کیkaṣayyibinمِّنَسےminaٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiفِيهِاس میںfīhiظُلُمَـٰتٌۭاندھیرے ہیںẓulumātunوَرَعْدٌۭکڑکwaraʿdunوَبَرْقٌۭبجلی ہےwabarqunيَجْعَلُونَوہ ڈال لیتے ہیںyajʿalūnaأَصَـٰبِعَهُمْانگلیاں اپنیaṣābiʿahumفِىٓاپنےءَاذَانِهِمکانوں میںādhānihimمِّنَسےminaٱلصَّوَٰعِقِبجلی کی کڑکl-ṣawāʿiqiحَذَرَڈرتے ہوئے / ڈر کر / بچنے کے لئےḥadharaٱلْمَوْتِ ۚموت سےl-mawtiوَٱللَّهُاور اللہ تعالیٰwal-lahuمُحِيطٌۢاحاطہ کیے ہوئے ہےmuḥīṭunبِٱلْكَـٰفِرِينَکافروں کاbil-kāfirīna١٩
یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہےاور اس کے ساتھ اندھیر ی گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سُن کے اپنی جانوں کے خوف سے کانوںمیں اُنگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔1
۲:۲۰
يَكَادُقریب ہےyakāduٱلْبَرْقُبجلیl-barquيَخْطَفُاچک لے / چھین لےyakhṭafuأَبْصَـٰرَهُمْ ۖنگاہیں ان کیabṣārahumكُلَّمَآجب کبھیkullamāأَضَآءَاس نے روشنی کیaḍāaلَهُمان کے لئےlahumمَّشَوْا۟وہ چل پڑےmashawفِيهِاس میںfīhiوَإِذَآاور جبwa-idhāأَظْلَمَاس نے اندھیرا کیاaẓlamaعَلَيْهِمْاوپر ان کےʿalayhimقَامُوا۟ ۚوہ کھڑے ہوگئےqāmūوَلَوْاوراگرwalawشَآءَچاہےshāaٱللَّهُاللہl-lahuلَذَهَبَضرور لے جائےladhahabaبِسَمْعِهِمْسماعت ان کیbisamʿihimوَأَبْصَـٰرِهِمْ ۚاورنگاہیں ان کیwa-abṣārihimإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaعَلَىٰاوپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز کےshayinقَدِيرٌۭقدرت والاہےqadīrun٢٠
چمک سے ان کی حالت یہ ہو رہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی اِن کی بصارت اُچک لے جائے گی۔جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسُوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دُور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ 1چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل سَلب کر لیتا، 2یقینًا وہ ہر چیز پر قادر ہے
۲:۲۱
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلنَّاسُلوگوl-nāsuٱعْبُدُوا۟عبادت کروuʿ'budūرَبَّكُمُاپنے رب کیrabbakumuٱلَّذِىجس نےalladhīخَلَقَكُمْپیدا کیا تم کوkhalaqakumوَٱلَّذِينَاور ان لوگوں کو جوwa-alladhīnaمِنسےminقَبْلِكُمْتم سے پہلے تھےqablikumلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَتَّقُونَتم بچ سکوtattaqūna٢١
لوگو،1 بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ کی جو تمھارا اور تم سے پہلے لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالِق ہے، تمھارے بچنے کی توقع اِسی2 صورت سے ہو سکتی ہے
۲:۲۲
ٱلَّذِىوہ (رب)alladhīجَعَلَجس نے بنایاjaʿalaلَكُمُتمہارے لئےlakumuٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaفِرَٰشًۭافرشfirāshanوَٱلسَّمَآءَاور آسمان کوwal-samāaبِنَآءًۭچھتbināanوَأَنزَلَاور اتاراwa-anzalaمِنَسےminaٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiمَآءًۭپانیmāanفَأَخْرَجَپھر نکالاfa-akhrajaبِهِۦبسبب اس کے / ساتھ اس کے / اس کے ذریعےbihiمِنَسےminaٱلثَّمَرَٰتِپھلوںl-thamarātiرِزْقًۭارزق کو / بطور رزق کےriz'qanلَّكُمْ ۖتمہارے لئےlakumفَلَاپس نہfalāتَجْعَلُوا۟تم بناؤtajʿalūلِلَّهِاللہ کے لئےlillahiأَندَادًۭاکوئی بھی شریکandādanوَأَنتُمْحالانکہ تمwa-antumتَعْلَمُونَتم جانتے ہوtaʿlamūna٢٢
وہی تو ہے جِس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھیراؤ
۲:۲۳
وَإِناور اگرwa-inكُنتُمْہو تمkuntumفِىمیںرَيْبٍۢکسی شکraybinمِّمَّااس سے جوmimmāنَزَّلْنَااتارا ہم نےnazzalnāعَلَىٰاوپرʿalāعَبْدِنَااپنے بندے کےʿabdināفَأْتُوا۟پس لے آؤfatūبِسُورَةٍۢکوئی سورتbisūratinمِّناسminمِّثْلِهِۦجیسیmith'lihiوَٱدْعُوا۟اوربلا لوwa-id'ʿūشُهَدَآءَكُماپنے گواہوں کو / موجود لوگوں کو / حاضرین کوshuhadāakumمِّنسےminدُونِعلاوہ / سوائےdūniٱللَّهِاللہ کےl-lahiإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumصَـٰدِقِينَسچےṣādiqīna٢٣
اور1 اگر تمھیں اس امرمیں شک ہےکہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ،یہ ہماری ہے یا نہیں،تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاوٴ،اپنے سارے ہم نواوٴں کو بُلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو، مدد لےلو،اگر تم سچے ہو
۲:۲۴
فَإِنپھر اگرfa-inلَّمْنہlamتَفْعَلُوا۟تم کرسکوtafʿalūوَلَناور ہرگز نہیںwalanتَفْعَلُوا۟تم کرسکو گےtafʿalūفَٱتَّقُوا۟پس بچوfa-ittaqūٱلنَّارَاس آگ سےl-nāraٱلَّتِىجوallatīوَقُودُهَاایندھن ہیں اس کاwaqūduhāٱلنَّاسُلوگ/ انسانl-nāsuوَٱلْحِجَارَةُ ۖاور پتھرwal-ḥijāratuأُعِدَّتْتیار کی گئی ہےuʿiddatلِلْكَـٰفِرِينَکافروں کے لیےlil'kāfirīna٢٤
تو یہ کام کرکے دکھاوٴ۔لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ،اور یقینًا کبھی نہیں کر سکتے ،تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر2 ،جومہیّاکی گئی ہےمنکرینِ حق کے لیے
۲:۲۵
وَبَشِّرِاور خوش خبری دوwabashiriٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَعَمِلُوا۟اور جنہوں نے عمل کئےwaʿamilūٱلصَّـٰلِحَـٰتِوہ جو اچھے ہیں / نیک ہیںl-ṣāliḥātiأَنَّبیشکannaلَهُمْان کے لئےlahumجَنَّـٰتٍۢباغات ہیںjannātinتَجْرِىبہتی ہیںtajrīمِنسےminتَحْتِهَااس کے نیچےtaḥtihāٱلْأَنْهَـٰرُ ۖنہریںl-anhāruكُلَّمَاجب کبھیkullamāرُزِقُوا۟وہ رزق دیئے جائیں گےruziqūمِنْهَاان (باغات) سےmin'hāمِنکوئیminثَمَرَةٍۢپھلthamaratinرِّزْقًۭا ۙبطور رزق کےriz'qanقَالُوا۟وہ کہیں گےqālūهَـٰذَایہhādhāٱلَّذِىوہی ہے جوalladhīرُزِقْنَاہم رزق دیئے گئےruziq'nāمِنسےminقَبْلُ ۖپہلےqabluوَأُتُوا۟حالانکہ وہ دئیے جائیں گےwa-utūبِهِۦساتھ اس کےbihiمُتَشَـٰبِهًۭا ۖملتے جلتےmutashābihanوَلَهُمْاور ان کے لئےwalahumفِيهَآاس میںfīhāأَزْوَٰجٌۭبیویاں ہیںazwājunمُّطَهَّرَةٌۭ ۖپاکیزہmuṭahharatunوَهُمْاور وہwahumفِيهَااس میںfīhāخَـٰلِدُونَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidūna٢٥
اور اے پیغمبر،جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق)اپنے عمل درست کر لیں،انہیں خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں،جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ان باغوں کے پھل صورت میں دُنیا کے پھلوں سے مِلتے جُلتے ہونگے۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائےگا، تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دُنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے۔ان1 کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہونگی،اور2 وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے
۲:۲۶
۞ إِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaلَانہیںيَسْتَحْىِۦٓحیا فرمایاyastaḥyīأَنکہanيَضْرِبَوہ بیان کرےyaḍribaمَثَلًۭاکوئی مثالmathalanمَّاخواہ جوبَعُوضَةًۭکسی مچھر کی ہوbaʿūḍatanفَمَایا اس کی جوfamāفَوْقَهَا ۚاس کے اوپر ہےfawqahāفَأَمَّاتو رہےfa-ammāٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūفَيَعْلَمُونَپس وہ علم رکھتے ہیںfayaʿlamūnaأَنَّهُبیشک وہ (مثال)annahuٱلْحَقُّحق ہےl-ḥaquمِنطرف سےminرَّبِّهِمْ ۖان کے رب کیrabbihimوَأَمَّااور رہےwa-ammāٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūفَيَقُولُونَتو وہ کہتے ہیںfayaqūlūnaمَاذَآکیاmādhāأَرَادَارادہ کیا/ چاہاarādaٱللَّهُاللہ نےl-lahuبِهَـٰذَاساتھ اسbihādhāمَثَلًۭا ۘمثال کےmathalanيُضِلُّوہ گمراہ کرتا ہےyuḍilluبِهِۦساتھ اس کےbihiكَثِيرًۭاکثیر (تعداد) کوkathīranوَيَهْدِىاورہدایت دیتا ہےwayahdīبِهِۦاس کے ساتھbihiكَثِيرًۭا ۚبہت کوkathīranوَمَااورنہیںwamāيُضِلُّوہ گمراہ کرتا ہےyuḍilluبِهِۦٓساتھ اس (مثال کے)bihiإِلَّامگرillāٱلْفَـٰسِقِينَان کو جو فاسق ہیںl-fāsiqīna٢٦
ہاں ، اللہ اس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھّر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔1جو لوگ حق بات کو قبو ل کرنے والے ہیں،وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کرجان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے ربّ ہی کی طرف سے آیا ہے ،اور جو ماننے والے نہیں ہے ، وہ انہیں سُن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔2 اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کر تا ہے، جو فاسق ہیں3،
۲:۲۷
ٱلَّذِينَوہ لوگ ہیںalladhīnaيَنقُضُونَجو توڑتے ہیںyanquḍūnaعَهْدَعہدʿahdaٱللَّهِاللہ کاl-lahiمِنۢسےminبَعْدِبعدbaʿdiمِيثَـٰقِهِۦپکا کرنے کے اس کے / مضبوطی اس کی کےmīthāqihiوَيَقْطَعُونَاور وہ کاٹتے ہیںwayaqṭaʿūnaمَآاسے جوأَمَرَحکم دیاamaraٱللَّهُاللہ نےl-lahuبِهِۦٓاس کےbihiأَنیہ کہanيُوصَلَوہ جوڑا جائے / ملایا جائےyūṣalaوَيُفْسِدُونَاورفساد کرتے ہیںwayuf'sidūnaفِىمیںٱلْأَرْضِ ۚزمینl-arḍiأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaهُمُوہhumuٱلْخَـٰسِرُونَجو خسارہ پانے والے ہیں/ جو نقصان اٹھانے والے ہیںl-khāsirūna٢٧
اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں،1اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہےاُسے کاٹتے ہیں،2اور زمین میں فساد بر پا کرتے ہیں۔3حقیقت میں یہ لوگ نقصان اُٹھانے والے ہیں
۲:۲۸
كَيْفَکس طرحkayfaتَكْفُرُونَتم انکار کرتے ہوtakfurūnaبِٱللَّهِاللہ کاbil-lahiوَكُنتُمْحالانکہ تھے تمwakuntumأَمْوَٰتًۭامردہamwātanفَأَحْيَـٰكُمْ ۖپھر اس نے زندہ کیا تم کوfa-aḥyākumثُمَّپھرthummaيُمِيتُكُمْوہ موت طاری کر دے گا تم پرyumītukumثُمَّپھرthummaيُحْيِيكُمْوہ زندہ کرے گا تم کوyuḥ'yīkumثُمَّپھرthummaإِلَيْهِطرف اس کےilayhiتُرْجَعُونَتم لوٹائے جاؤ گےtur'jaʿūna٢٨
تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تم کو زندگی عطا کی، پھر وہی تمھاری جان سلب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے
۲:۲۹
هُوَوہی ہےhuwaٱلَّذِىجس نےalladhīخَلَقَپیدا کیاkhalaqaلَكُمواسطے تمہارےlakumمَّاجو کچھ ہےفِىمیںٱلْأَرْضِزمینl-arḍiجَمِيعًۭاسارے کا سارا / سب کچھjamīʿanثُمَّپھرthummaٱسْتَوَىٰٓوہ متوجہ ہوا / ارادہ کیاis'tawāإِلَىطرفilāٱلسَّمَآءِآسمان کےl-samāiفَسَوَّىٰهُنَّپس برابر کردیا ان کو / درست بنایا ان کو / ہموار کیا ان کوfasawwāhunnaسَبْعَساتsabʿaسَمَـٰوَٰتٍۢ ۚآسمانوں کوsamāwātinوَهُوَاور وہwahuwaبِكُلِّساتھ ہرbikulliشَىْءٍچیز کےshayinعَلِيمٌۭخوب علم والا ہےʿalīmun٢٩
وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں،پھر اُوپر کی طرف توجّہ فرمائی اور سات آسمان1 استوار کیے۔اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
۲:۳۰
وَإِذْاور جبwa-idhقَالَکہاqālaرَبُّكَتیرے رب نےrabbukaلِلْمَلَـٰٓئِكَةِفرشتوں سےlil'malāikatiإِنِّىبیشک میںinnīجَاعِلٌۭبنانے والا ہوںjāʿilunفِىمیںٱلْأَرْضِزمینl-arḍiخَلِيفَةًۭ ۖاپنا جانشین / ایک خلیفہkhalīfatanقَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūأَتَجْعَلُکیا تو بنائے گاatajʿaluفِيهَااس میںfīhāمَنجوmanيُفْسِدُفساد کرے گاyuf'siduفِيهَااس میںfīhāوَيَسْفِكُاور بہائے گاwayasfikuٱلدِّمَآءَخونl-dimāaوَنَحْنُحالانکہ ہمwanaḥnuنُسَبِّحُہم تسبیح کرتے ہیںnusabbiḥuبِحَمْدِكَساتھ تیری تعریف کےbiḥamdikaوَنُقَدِّسُاور ہم پاکی بیان کرتے ہیںwanuqaddisuلَكَ ۖواسطے تیرےlakaقَالَفرمایاqālaإِنِّىٓبیشک میںinnīأَعْلَمُمیں جانتا ہوںaʿlamuمَاجولَانہیںتَعْلَمُونَتم علم رکھتےtaʿlamūna٣٠
1پھر ذرا اس وقت کا تصوّر کرو جب تمہارے ربّ نے فرشتوں2 سے کہا تھاکہ”میں زمین میں ایک خلیفہ3 بنانے والا ہوں“ انہوں نے عرض کیا ”کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرےگا؟ 4آپ کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح اور آپ کےلیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں5“ فرمایا ”میں جانتا ہوں،جو کچھ تم نہیں جانتے6“
۲:۳۱
وَعَلَّمَاور سکھا دیئے اس نےwaʿallamaءَادَمَآدم کوādamaٱلْأَسْمَآءَنامl-asmāaكُلَّهَاسارے کے سارے / سب کے سبkullahāثُمَّپھرthummaعَرَضَهُمْپیش کیا ان کوʿaraḍahumعَلَىاوپرʿalāٱلْمَلَـٰٓئِكَةِفرشتوں کےl-malāikatiفَقَالَپھر فرمایاfaqālaأَنۢبِـُٔونِىبتاؤ مجھ کوanbiūnīبِأَسْمَآءِنامbi-asmāiهَـٰٓؤُلَآءِان کے / ان سب کےhāulāiإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumصَـٰدِقِينَسچےṣādiqīna٣١
اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے1 ، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا ”اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سےانتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاو
۲:۳۲
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūسُبْحَـٰنَكَپاک ہے توsub'ḥānakaلَانہیںعِلْمَکوئی علمʿil'maلَنَآہمارے لئےlanāإِلَّامگرillāمَاجوعَلَّمْتَنَآ ۖسکھایا تم نے ہم کوʿallamtanāإِنَّكَبیشک آپinnakaأَنتَآپ ہیantaٱلْعَلِيمُجو بہت علم والے / بہت جاننے والےl-ʿalīmuٱلْحَكِيمُجو بہت حکمت والے ہیںl-ḥakīmu٣٢
انہوں نے عرض کیا ”نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ،ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں ، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔1 حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں۔“
۲:۳۳
قَالَفرمایاqālaيَـٰٓـَٔادَمُاےyāādamuأَنۢبِئْهُمبتاؤ ان کوanbi'humبِأَسْمَآئِهِمْ ۖنام ان کےbi-asmāihimفَلَمَّآپھر جبfalammāأَنۢبَأَهُماس نے بتادئیے ان کوanba-ahumبِأَسْمَآئِهِمْنام ان کےbi-asmāihimقَالَفرمایاqālaأَلَمْکیا نہیںalamأَقُلمیں نے کہا تھاaqulلَّكُمْتمہارے لئےlakumإِنِّىٓبیشک میںinnīأَعْلَمُمیں جانتا ہوںaʿlamuغَيْبَغیب / بھیدghaybaٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کےl-samāwātiوَٱلْأَرْضِاور زمین کےwal-arḍiوَأَعْلَمُاور میں جانتا ہوںwa-aʿlamuمَاجو کچھتُبْدُونَتم ظاہر کرتے ہوtub'dūnaوَمَااور جو کچھwamāكُنتُمْہو تمkuntumتَكْتُمُونَتم چھپاتے ہوtaktumūna٣٣
پھر اللہ نے آدم سے کہا ”تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاوٴ۔“ جب اُس نے ان کو اُن سب کے نام بتادیے 1،تو اللہ نے فرمایا ”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں،جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھُپاتے ہو، اُسے بھی میں جانتا ہوں۔“
۲:۳۴
وَإِذْاور جبwa-idhقُلْنَاکہا ہم نےqul'nāلِلْمَلَـٰٓئِكَةِفرشتوں سےlil'malāikatiٱسْجُدُوا۟سجدہ کروus'judūلِـَٔادَمَآدم کے لئے / آدم کوliādamaفَسَجَدُوٓا۟تو انہوں نے سجدہ کیاfasajadūإِلَّآمگر / سوائےillāإِبْلِيسَابلیس کےib'līsaأَبَىٰاس نے انکار کیاabāوَٱسْتَكْبَرَاور بڑا بننا چاہاwa-is'takbaraوَكَانَاور ہوگیاwakānaمِنَمیں سےminaٱلْكَـٰفِرِينَکافروں کےl-kāfirīna٣٤
پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جُھک جاوٴ، تو سب1 جُھک گئے، مگر ابلیس2 نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔3
۲:۳۵
وَقُلْنَااور کہا ہم نےwaqul'nāيَـٰٓـَٔادَمُاے آدمyāādamuٱسْكُنْتم رہوus'kunأَنتَتمantaوَزَوْجُكَاوربیوی تمہاریwazawjukaٱلْجَنَّةَجنت میںl-janataوَكُلَااور تم دونوں کھاؤwakulāمِنْهَااس میں سےmin'hāرَغَدًاخوف جی بھر کے / بافراغتraghadanحَيْثُجہاں سےḥaythuشِئْتُمَاتم دونوں چاہوshi'tumāوَلَااور ناwalāتَقْرَبَاتم دونوں قریب جاناtaqrabāهَـٰذِهِاسhādhihiٱلشَّجَرَةَدرخت کےl-shajarataفَتَكُونَاورنہ تم دونو ہو جاو گےfatakūnāمِنَسےminaٱلظَّـٰلِمِينَظالموں میںl-ẓālimīna٣٥
پھر ہم نے آدم سے کہا کہ”تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاوٴ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا1 ،ورنہ ظالموں2 میں شمارہوگے۔“
۲:۳۶
فَأَزَلَّهُمَاپھر پھسلادیا ان دونوں کوfa-azallahumāٱلشَّيْطَـٰنُشیطان نےl-shayṭānuعَنْهَااس سےʿanhāفَأَخْرَجَهُمَاپھر نکلوادیا ان دونوں کوfa-akhrajahumāمِمَّااس میں سے جوmimmāكَانَاتھے وہ دونوںkānāفِيهِ ۖجس میںfīhiوَقُلْنَااور کہا ہم نےwaqul'nāٱهْبِطُوا۟اتر جاؤih'biṭūبَعْضُكُمْبعض تمہارےbaʿḍukumلِبَعْضٍواسطے بعض کےlibaʿḍinعَدُوٌّۭ ۖدشمن ہیںʿaduwwunوَلَكُمْاورتمہارے لئےwalakumفِىمیںٱلْأَرْضِزمینl-arḍiمُسْتَقَرٌّۭٹھکانہ ہے / قرار ہےmus'taqarrunوَمَتَـٰعٌاورفائدہ اٹھانا ہےwamatāʿunإِلَىٰتکilāحِينٍۢایک و قت کےḥīnin٣٦
آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی تر غیب دیکر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹایا اور انہیں اس حالت سے نکلواکر چھوڑا، جس میں وہ تھے۔ہم نے حکم دیا کہ ”اب تم سب یہاں سے اُتر جاوٴ،تم ایک دوسرے کے دُشمن1 ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔“
۲:۳۷
فَتَلَقَّىٰٓپس سیکھ لئے / پھر حاصل کرلئےfatalaqqāءَادَمُآدم نےādamuمِنسےminرَّبِّهِۦاپنے ربrabbihiكَلِمَـٰتٍۢکچھ کلمے / چند الفاظkalimātinفَتَابَپھر مہربان ہواfatābaعَلَيْهِ ۚاس پرʿalayhiإِنَّهُۥبیشک وہinnahuهُوَوہی ہےhuwaٱلتَّوَّابُجو توبہ قبول کرنے والا ہےl-tawābuٱلرَّحِيمُجو بار بار رحم کرنے والا ہےl-raḥīmu٣٧
اس وقت آدم نے اپنے ربّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی1 ،جس کو اس کے ربّ نے قبول کرلیا ،کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔2
۲:۳۸
قُلْنَاکہا ہم نےqul'nāٱهْبِطُوا۟اتر جاؤih'biṭūمِنْهَااس میں سےmin'hāجَمِيعًۭا ۖسب کے سب / سب ہیjamīʿanفَإِمَّاپھر اگرfa-immāيَأْتِيَنَّكُمآجائے تمہارے پاسyatiyannakumمِّنِّىمیری طرف سےminnīهُدًۭىکوئی ہدایتhudanفَمَنتو جس نےfamanتَبِعَپیروی کیtabiʿaهُدَاىَمیری ہدایت کیhudāyaفَلَاتو نہیں ہوگاfalāخَوْفٌکوئی خوف / ڈرkhawfunعَلَيْهِمْاوپر ان کےʿalayhimوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيَحْزَنُونَغمگین ہوں گےyaḥzanūna٣٨
ہم نے کہا کہ”تم سب یہاں سے اُتر جاوٴ۔1 پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیر وی کریں گے ،ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا
۲:۳۹
وَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūوَكَذَّبُوا۟اورانہوں نے جھٹلایاwakadhabūبِـَٔايَـٰتِنَآہماری آیات کو / ہمارے احکام کوbiāyātināأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaأَصْحَـٰبُساتھی ہیںaṣḥābuٱلنَّارِ ۖآگ کےl-nāriهُمْوہhumفِيهَااس میںfīhāخَـٰلِدُونَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidūna٣٩
اور جو اس کو قبو ل کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے1، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔“2
۲:۴۰
يَـٰبَنِىٓاے بیٹو !yābanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل کےis'rāīlaٱذْكُرُوا۟یاد کروudh'kurūنِعْمَتِىَنعمتیں میریniʿ'matiyaٱلَّتِىٓوہ جوallatīأَنْعَمْتُانعام کی تھیں میں نےanʿamtuعَلَيْكُمْاوپر تمہارےʿalaykumوَأَوْفُوا۟اور پورا کروwa-awfūبِعَهْدِىٓمیرے عہد کوbiʿahdīأُوفِمیں پورا کروں گاūfiبِعَهْدِكُمْتمہارے عہد کوbiʿahdikumوَإِيَّـٰىَاورصرف مجھ سے ہیwa-iyyāyaفَٱرْهَبُونِپس ڈرو مجھ سےfa-ir'habūni٤٠
اے بنی اسرائیل1! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا اُسے تم پورا کرو، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اُسے میں پورا کروں اور مجھ ہی سے ڈرو
۲:۴۱
وَءَامِنُوا۟اور ایمان لاؤwaāminūبِمَآساتھ اس کے جوbimāأَنزَلْتُنازل کی میں نے / اتاری میں نےanzaltuمُصَدِّقًۭاجو تصدیق کرنے والی ہےmuṣaddiqanلِّمَاواسطے اس کے جوlimāمَعَكُمْتمہارے پاس ہےmaʿakumوَلَااور نہwalāتَكُونُوٓا۟تم ہوجاؤtakūnūأَوَّلَپہلےawwalaكَافِرٍۭانکار کرنے والےkāfirinبِهِۦ ۖساتھ اس کےbihiوَلَااور نہwalāتَشْتَرُوا۟تم لوtashtarūبِـَٔايَـٰتِىبدلے میری آیات کےbiāyātīثَمَنًۭاقیمتthamananقَلِيلًۭاتھوڑیqalīlanوَإِيَّـٰىَاور صرف مجھ سے ہیwa-iyyāyaفَٱتَّقُونِپس ڈرو مجھ سےfa-ittaqūni٤١
اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاوٴ۔یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاوٴ۔تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو1 اور میرے غضب سے بچو
۲:۴۲
وَلَااور نہwalāتَلْبِسُوا۟تم ملاؤ / گڈ مڈ کروtalbisūٱلْحَقَّحق کوl-ḥaqaبِٱلْبَـٰطِلِساتھ باطل کےbil-bāṭiliوَتَكْتُمُوا۟اورنہ تم چھپاؤ / تم چھپاتے ہوwataktumūٱلْحَقَّحق کوl-ḥaqaوَأَنتُمْحالانکہ تمwa-antumتَعْلَمُونَتم جانتے ہوtaʿlamūna٤٢
باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناوٴاور نہ جانتے بوجھتےحق کو چھپانے کی کوشش کرو۔1
۲:۴۳
وَأَقِيمُوا۟اور قائم کروwa-aqīmūٱلصَّلَوٰةَنمازl-ṣalataوَءَاتُوا۟اوردو / ادا کروwaātūٱلزَّكَوٰةَزکوٰۃl-zakataوَٱرْكَعُوا۟اوررکوع کروwa-ir'kaʿūمَعَساتھmaʿaٱلرَّٰكِعِينَرکوع کرنے والوں کےl-rākiʿīna٤٣
نماز قائم کرو ، زکوٰة دو1، اور جو لوگ میرے آگے جُھک رہے ہیں اُن کے ساتھ تم بھی جُھک جاو
۲:۴۴
۞ أَتَأْمُرُونَکیاتم حکم دیتے ہوatamurūnaٱلنَّاسَلوگوں کوl-nāsaبِٱلْبِرِّنیکی کاbil-biriوَتَنسَوْنَاورتم بھول جاتے ہوwatansawnaأَنفُسَكُمْاپنے نفسوں کوanfusakumوَأَنتُمْحالانکہ تمwa-antumتَتْلُونَتلاوت کرتے ہوtatlūnaٱلْكِتَـٰبَ ۚکتاب کیl-kitābaأَفَلَاپھر نہیںafalāتَعْقِلُونَتم عقلوں سے کام لیتے ہوtaʿqilūna٤٤
تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟
۲:۴۵
وَٱسْتَعِينُوا۟اور مدد مانگوwa-is'taʿīnūبِٱلصَّبْرِساتھ صبر کےbil-ṣabriوَٱلصَّلَوٰةِ ۚاورنماز کےwal-ṣalatiوَإِنَّهَااوربیشک وہ (نماز)wa-innahāلَكَبِيرَةٌالبتہ بھاری ہے / مشکل ہے / بڑی ہےlakabīratunإِلَّاسوائے / مگرillāعَلَىاوپر انکےʿalāٱلْخَـٰشِعِينَجو خشوع کرنے والے ہیںl-khāshiʿīna٤٥
صبر اور نماز سے1 مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے' مگر ان فرماںبردار بندوں کے لیے مشکل نہیں
۲:۴۶
ٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaيَظُنُّونَجو یقین رکھتے ہیںyaẓunnūnaأَنَّهُمبیشک وہannahumمُّلَـٰقُوا۟ملاقات کرنے والے ہیںmulāqūرَبِّهِمْاپنے رب سےrabbihimوَأَنَّهُمْاور بیشک وہwa-annahumإِلَيْهِطرف اس کےilayhiرَٰجِعُونَلوٹنے والے ہیںrājiʿūna٤٦
جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے ربّ سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ جانا ہے۔1
۲:۴۷
يَـٰبَنِىٓاے بنیyābanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیلis'rāīlaٱذْكُرُوا۟یاد کروudh'kurūنِعْمَتِىَمیری نعمتیںniʿ'matiyaٱلَّتِىٓوہ جوallatīأَنْعَمْتُانعام کی تھیں میں نےanʿamtuعَلَيْكُمْاوپر تمہارےʿalaykumوَأَنِّىاور بیشک میں نےwa-annīفَضَّلْتُكُمْفضیلت دی تھی میں نے تم کوfaḍḍaltukumعَلَىاوپرʿalāٱلْعَـٰلَمِينَتمام دنیا والوں کےl-ʿālamīna٤٧
اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میری اُس نعمت کو ، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی1
۲:۴۸
وَٱتَّقُوا۟اورwa-ittaqūيَوْمًۭااس دن سےyawmanلَّانہتَجْزِىکام آئے گا / بدلہ بنے گاtajzīنَفْسٌکوئی نفسnafsunعَنطرف سےʿanنَّفْسٍۢکسی نفس کیnafsinشَيْـًۭٔاکچھ بھیshayanوَلَااور نہwalāيُقْبَلُقبول کی جائے گیyuq'baluمِنْهَااس سےmin'hāشَفَـٰعَةٌۭکوئی سفارشshafāʿatunوَلَااور نہwalāيُؤْخَذُلیا جائے گاyu'khadhuمِنْهَااس سےmin'hāعَدْلٌۭکوئی بدلہʿadlunوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيُنصَرُونَوہ مدد دئیے جائیں گےyunṣarūna٤٨
اور ڈرو اس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا ، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مِل سکے گی۔1
۲:۴۹
وَإِذْاور جبwa-idhنَجَّيْنَـٰكُمنجات دی ہم نے تم کوnajjaynākumمِّنْسےminءَالِآلāliفِرْعَوْنَفرعونfir'ʿawnaيَسُومُونَكُمْوہ تکلیف دیتے تھے تھم کوyasūmūnakumسُوٓءَبرےsūaٱلْعَذَابِعذاب کیl-ʿadhābiيُذَبِّحُونَخوب ذبح کرتے تھےyudhabbiḥūnaأَبْنَآءَكُمْبیٹوں کو تمہارےabnāakumوَيَسْتَحْيُونَاور زندہ چھوڑ دیتے تھےwayastaḥyūnaنِسَآءَكُمْ ۚتمہاری عورتوں کوnisāakumوَفِىاورمیںwafīذَٰلِكُماس کےdhālikumبَلَآءٌۭآزمائش تھیbalāonمِّنسےminرَّبِّكُمْتمہارے رب کی طرف سےrabbikumعَظِيمٌۭبڑیʿaẓīmun٤٩
1یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں2 کی غلامی سے نجات بخشی۔اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا،تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے ربّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی3
۲:۵۰
وَإِذْاور جبwa-idhفَرَقْنَاپھاڑا ہم نےfaraqnāبِكُمُتمہارے لیےbikumuٱلْبَحْرَسمندر کوl-baḥraفَأَنجَيْنَـٰكُمْپھر نجات دی ہم نے تم کوfa-anjaynākumوَأَغْرَقْنَآاور غرق کردیا ہم نےwa-aghraqnāءَالَآلālaفِرْعَوْنَفرعون کوfir'ʿawnaوَأَنتُمْاور تمwa-antumتَنظُرُونَتم دیکھ رہے تھےtanẓurūna٥٠
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنایا، پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروا دیا، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونوں کو غرقاب کیا
۲:۵۱
وَإِذْاور جبwa-idhوَٰعَدْنَاہم نے وعدہ لیاwāʿadnāمُوسَىٰٓموسیٰ سےmūsāأَرْبَعِينَچالیسarbaʿīnaلَيْلَةًۭراتوں کاlaylatanثُمَّپھرthummaٱتَّخَذْتُمُبنا لیا تم نےittakhadhtumuٱلْعِجْلَبچھڑے کوl-ʿij'laمِنۢسےminبَعْدِهِۦاس کے بعد / (موسی) پیچھےbaʿdihiوَأَنتُمْاور تمwa-antumظَـٰلِمُونَظالم تھےẓālimūna٥١
یاد کرو ، جب ہم نے موسیٰ ؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر بُلایا، 1تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبُود بنا بیٹھے۔2اُس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی
۲:۵۲
ثُمَّپھرthummaعَفَوْنَادرگزر کیا ہم نے / معاف کردیا ہم نےʿafawnāعَنكُمتم سےʿankumمِّنۢسےminبَعْدِبعدbaʿdiذَٰلِكَاس کے شرکdhālikaلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَشْكُرُونَتم شکر ادا کرتےtashkurūna٥٢
مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا کہ شاید اب تم شکر گزار بنو
۲:۵۳
وَإِذْاور جبwa-idhءَاتَيْنَادی ہم نےātaynāمُوسَىموسیٰ کوmūsāٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaوَٱلْفُرْقَانَاور فرقان (فہم کتاب)wal-fur'qānaلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَهْتَدُونَتم ہدایت پا جاؤtahtadūna٥٣
یاد کرو (ٹھیک اُس وقت جب تم یہ ظلم کررہے تھے) ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب اور فرقان1 عطا کی تاکہ تم اس کے ذریعے سے سیدھا راستہ پاسکو
۲:۵۴
وَإِذْاور جبwa-idhقَالَکہاqālaمُوسَىٰموسیٰ نےmūsāلِقَوْمِهِۦاپنی قوم سےliqawmihiيَـٰقَوْمِاے میری قومyāqawmiإِنَّكُمْبیشک تم نےinnakumظَلَمْتُمْظلم کیا تم نےẓalamtumأَنفُسَكُماپنے نفسوں پر / اپنی جانوں پرanfusakumبِٱتِّخَاذِكُمُبوجہ بنانے کے تمہارےbi-ittikhādhikumuٱلْعِجْلَبچھڑے کو (معبود)l-ʿij'laفَتُوبُوٓا۟پس توبہ کروfatūbūإِلَىٰطرفilāبَارِئِكُمْاپنے پیدا کرنے والے کےbāri-ikumفَٱقْتُلُوٓا۟تو قتل کروfa-uq'tulūأَنفُسَكُمْاپنے نفسوں کوanfusakumذَٰلِكُمْیہdhālikumخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunلَّكُمْتمہارے لئےlakumعِندَنزدیکʿindaبَارِئِكُمْتمہارے پیدا کرنے والے کےbāri-ikumفَتَابَپھر وہ مہربان ہواfatābaعَلَيْكُمْ ۚتم پرʿalaykumإِنَّهُۥبیشکinnahuهُوَوہی ہےhuwaٱلتَّوَّابُجو بہت توبہ قبول کرنے والا ہےl-tawābuٱلرَّحِيمُجو بار بار رحم کرنے والا ہےl-raḥīmu٥٤
یاد کرو جب موسیٰ ؑ (یہ نعمت لیے ہوئے پلٹا، تو اُس ) نے اپنی قوم سے کہا کہ ”لوگو، تم نے بچھڑے کو معبُود بناکر اپنے اُوپر سخت ظلم کیا ہے ،لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضو ر توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو1 ، اسی میں تمہارے خالِق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔“ اُس وقت تمہارے خالِق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے
۲:۵۵
وَإِذْاور جبwa-idhقُلْتُمْکہا تم نےqul'tumيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsāلَنہرگز نہیںlanنُّؤْمِنَہم ایمان لائیں گے / ہم اعتبار کریں گےnu'minaلَكَواسطے تیرےlakaحَتَّىٰیہاں تکḥattāنَرَىہم دیکھ لیںnarāٱللَّهَاللہ کوl-lahaجَهْرَةًۭسامنے / ظاہر / روبروjahratanفَأَخَذَتْكُمُپس پکڑ لیا تم کوfa-akhadhatkumuٱلصَّـٰعِقَةُکڑک نےl-ṣāʿiqatuوَأَنتُمْاس حال میں تمwa-antumتَنظُرُونَتم دیکھ رہے تھےtanẓurūna٥٥
یاد کرو جب تم نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو (تم سے کلام کرتے) نہ دیکھ لیں اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست صاعقے نے تم کو آ لیا
۲:۵۶
ثُمَّپھرthummaبَعَثْنَـٰكُماٹھایا ہم نے تم کوbaʿathnākumمِّنۢسےminبَعْدِبعدbaʿdiمَوْتِكُمْتمہاری موت کےmawtikumلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَشْكُرُونَتم شکر ادا کروtashkurūna٥٦
تم بے جان ہوکر گر چکے تھے ،مگر پھر ہم نے تم کو جِلا اُٹھایا ، شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جاوٴ1
۲:۵۷
وَظَلَّلْنَااور سایہ کیا ہم نےwaẓallalnāعَلَيْكُمُاوپر تمہارےʿalaykumuٱلْغَمَامَبادلوں کاl-ghamāmaوَأَنزَلْنَااور نازل کیا ہم نےwa-anzalnāعَلَيْكُمُاوپر تمہارےʿalaykumuٱلْمَنَّمنl-manaوَٱلسَّلْوَىٰ ۖاور سلویٰwal-salwāكُلُوا۟کھاؤkulūمِنمیں سےminطَيِّبَـٰتِپاکیزہ چیزوںṭayyibātiمَاجورَزَقْنَـٰكُمْ ۖرزق دیں ہم نے تم کوrazaqnākumوَمَااور نہیںwamāظَلَمُونَاانہوں نے ظلم کیا ہم پرẓalamūnāوَلَـٰكِناور لیکنwalākinكَانُوٓا۟وہ تھےkānūأَنفُسَهُمْاپنے نفسوں پرanfusahumيَظْلِمُونَوہ ظلم کرتےyaẓlimūna٥٧
ہم نے تم پر اکابر کا سایہ کیا1 ، من وسلویٰ کی غذا تمہارے لیے فراہم کی2 اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں، اُنھیں کھاوٴ، مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا ،وہ ہم پر ظلم نہ تھا، بلکہ انہوں نے آپ اپنے ہی اُوپر ظلم کیا
۲:۵۸
وَإِذْاور جبwa-idhقُلْنَاکہا ہم نےqul'nāٱدْخُلُوا۟داخل ہوجاؤud'khulūهَـٰذِهِاسhādhihiٱلْقَرْيَةَبستی میںl-qaryataفَكُلُوا۟پھر کھاؤfakulūمِنْهَااس میں سےmin'hāحَيْثُجہاں سےḥaythuشِئْتُمْچاہو تمshi'tumرَغَدًۭاخوب / بافراغتraghadanوَٱدْخُلُوا۟اور داخل ہوجاؤwa-ud'khulūٱلْبَابَدروازے سےl-bābaسُجَّدًۭاسجدہ کرتے ہوئےsujjadanوَقُولُوا۟اور کہتے جاؤwaqūlūحِطَّةٌۭبخش دے / معافی معافیḥiṭṭatunنَّغْفِرْہم بخش دیں گےnaghfirلَكُمْتمہارے لئےlakumخَطَـٰيَـٰكُمْ ۚتمہاری خطاؤں کوkhaṭāyākumوَسَنَزِيدُاور ضرور ہم زیادہ دیں گےwasanazīduٱلْمُحْسِنِينَاحسان کرنے والوں کوl-muḥ'sinīna٥٨
پھر یاد کرو جب ہم نے کہا تھا کہ ”یہ بستی 1جو تمہارے سامنے ہےاس میں داخل ہو جاوٴاس کی پیداوار جس طرح چاہومزے سے کھاوٴمگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوےٴداخل ہونااور کہتے جانا حِطَّةٌ ، حِطَّةٌ،2 ہم تمہاری خطاوٴں سے درگزر کریں گے اور نیکو کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے۔“
۲:۵۹
فَبَدَّلَتو بدل ڈالاfabaddalaٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaظَلَمُوا۟جنہوں نے ظلم کیاẓalamūقَوْلًابات کوqawlanغَيْرَسوائےghayraٱلَّذِىاس کے جوalladhīقِيلَکہی گئی تھیqīlaلَهُمْواسطے ان کےlahumفَأَنزَلْنَاتو نازل کیا ہم نےfa-anzalnāعَلَىاوپرʿalāٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaظَلَمُوا۟جنہوں نے ظلم کیا تھاẓalamūرِجْزًۭاعذابrij'zanمِّنَسےminaٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiبِمَابوجہ اس کے جوbimāكَانُوا۟تھے وہkānūيَفْسُقُونَوہ نافرمانی کرتےyafsuqūna٥٩
مگر جو بات کہی گئی تھی، ظالموں نے اُسے بدل کر کچھ اور کر دیا آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی، جو وہ کر رہے تھے
۲:۶۰
۞ وَإِذِاور جبwa-idhiٱسْتَسْقَىٰپانی مانگاis'tasqāمُوسَىٰموسیٰ نےmūsāلِقَوْمِهِۦاپنی قوم کے لئےliqawmihiفَقُلْنَاتو کہا ہم نےfaqul'nāٱضْرِبماروiḍ'ribبِّعَصَاكَساتھ اپنے عصا کےbiʿaṣākaٱلْحَجَرَ ۖاس پتھر کوl-ḥajaraفَٱنفَجَرَتْتو پھوٹ پڑے / بہہ نکلےfa-infajaratمِنْهُاس سےmin'huٱثْنَتَادوith'natāعَشْرَةَدس (بارہ)ʿashrataعَيْنًۭا ۖچشمےʿaynanقَدْتحقیقqadعَلِمَجان لیاʿalimaكُلُّتمامkulluأُنَاسٍۢلوگوں نے / گروہوں نےunāsinمَّشْرَبَهُمْ ۖاپنے پنگھٹ کو / اپنی پینے کی جگہ کوmashrabahumكُلُوا۟کھاؤkulūوَٱشْرَبُوا۟اور پیوwa-ish'rabūمِنسےminرِّزْقِرزق (رزق سے)riz'qiٱللَّهِاللّٰهِl-lahiوَلَااورنہیںwalāتَعْثَوْا۟تم فساد کرتے پھروtaʿthawفِىمیںٱلْأَرْضِزمینl-arḍiمُفْسِدِينَفسادی بن کرmuf'sidīna٦٠
یاد کرو ، جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہاکہ فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو۔چنانچہ اُس سے بارہ چشمے پھوٹ1 نکلےاور ہر قبیلے نے جان لیاکہ کون سی جگہ اُس کے پانی لینے کی ہے۔اُس وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہُوا رزق کھاوٴ پیو،اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
۲:۶۱
وَإِذْاور جبwa-idhقُلْتُمْکہاqul'tumيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsāلَنہرگز نہیںlanنَّصْبِرَہم صبر کریں گےnaṣbiraعَلَىٰاوپرʿalāطَعَامٍۢکھانے کےṭaʿāminوَٰحِدٍۢایکwāḥidinفَٱدْعُپس تم دعا کروfa-ud'ʿuلَنَاہمارے لئےlanāرَبَّكَاپنے رب سےrabbakaيُخْرِجْوہ نکالےyukh'rijلَنَاہمارے لئےlanāمِمَّااس میں سے جوmimmāتُنۢبِتُاگاتی ہےtunbituٱلْأَرْضُزمین (یعنی)l-arḍuمِنۢسےminبَقْلِهَاسبزی اس کی سےbaqlihāوَقِثَّآئِهَااور ککڑی اس کی سےwaqithāihāوَفُومِهَالہسن اس کے سےwafūmihāوَعَدَسِهَامسور اس کی سےwaʿadasihāوَبَصَلِهَا ۖپیاز اس کی سےwabaṣalihāقَالَکہاqālaأَتَسْتَبْدِلُونَتم بدلنا چاہتے ہوatastabdilūnaٱلَّذِىاسے جوalladhīهُوَوہhuwaأَدْنَىٰکم تر ہےadnāبِٱلَّذِىبدلے اس کے جوbi-alladhīهُوَوہhuwaخَيْرٌ ۚبہتر ہےkhayrunٱهْبِطُوا۟اتر جاؤ (بلند مقام سے)ih'biṭūمِصْرًۭاکسی شہر میںmiṣ'ranفَإِنَّتو بیشکfa-innaلَكُمتمہارے لئے ہےlakumمَّاجوسَأَلْتُمْ ۗسوال کیا تم نے / مانگا تم نےsa-altumوَضُرِبَتْاور ماری گئی / مسلط کی گئیwaḍuribatعَلَيْهِمُاوپر ان کےʿalayhimuٱلذِّلَّةُذلتl-dhilatuوَٱلْمَسْكَنَةُاور مسکنتwal-maskanatuوَبَآءُواور وہ لوٹےwabāūبِغَضَبٍۢساتھ غضب کےbighaḍabinمِّنَطرف سےminaٱللَّهِ ۗاللہl-lahiذَٰلِكَیہdhālikaبِأَنَّهُمْبوجہ اسکے کہ بیشک وہbi-annahumكَانُوا۟تھے وہkānūيَكْفُرُونَوہ کفر کرتےرہتے تھےyakfurūnaبِـَٔايَـٰتِساتھ آیات کےbiāyātiٱللَّهِاللہl-lahiوَيَقْتُلُونَاور قتل کر ڈالتے تھےwayaqtulūnaٱلنَّبِيِّـۧنَنبیوں کوl-nabiyīnaبِغَيْرِبغیرbighayriٱلْحَقِّ ۗحق کےl-ḥaqiذَٰلِكَیہdhālikaبِمَابوجہ اس کےbimāعَصَوا۟وہ نافرمانی کرتے تھےʿaṣawوَّكَانُوا۟اور تھے وہwakānūيَعْتَدُونَحد سےنکل جاتےyaʿtadūna٦١
یاد کرو ، جب تم نے کہا تھا کہ”اے موسیٰ ؑ، ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے۔ اپنے ربّ سے دُعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار ساگ،ترکاری،گیہوں،لہسن،پیاز،دال وغیرہ پیدا کریں۔“ تو موسیٰ ؑ نے کہا”کیا ایک بہتر چیز کے بجائےتم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے ہو؟اچھا1 ،کسی شہری آبادی میں جا رہو جو کچھ تم مانگتے ہووہاں مل جائے گا۔“ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلّت و خواری اور پستی و بدحالی اُن پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھِر گئے۔ یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیات 2سےکفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے۔ی3ہ نتیجہ تھا اُن کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدودِ شرع سےنکل نکل جاتے تھے
۲:۶۲
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaهَادُوا۟جو یہودی بن بیٹھےhādūوَٱلنَّصَـٰرَىٰاور جو نصرانی ہیں / عیسائی ہیںwal-naṣārāوَٱلصَّـٰبِـِٔينَاور وہ جو صابی ہیںwal-ṣābiīnaمَنْجو کوئیmanءَامَنَایمان لایاāmanaبِٱللَّهِساتھ اللہ کےbil-lahiوَٱلْيَوْمِاور یومwal-yawmiٱلْـَٔاخِرِآخرت کےl-ākhiriوَعَمِلَاور اس نےعمل کئیےwaʿamilaصَـٰلِحًۭانیکṣāliḥanفَلَهُمْتو ان کے لئےfalahumأَجْرُهُمْاجر ہے ان کاajruhumعِندَپاسʿindaرَبِّهِمْان کے رب کےrabbihimوَلَااور نہیںwalāخَوْفٌکوئی خوفkhawfunعَلَيْهِمْان پہʿalayhimوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيَحْزَنُونَوہ غمگین ہونگےyaḥzanūna٦٢
یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی،جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گااور نیک عمل کرے گا، اُس کا اجر اُس کے ربّ کے پاس ہے اور اُس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔1
۲:۶۳
وَإِذْاور جبwa-idhأَخَذْنَالیا ہم نےakhadhnāمِيثَـٰقَكُمْپختہ / پکا عہد تم سےmīthāqakumوَرَفَعْنَااوراٹھایا ہم نےwarafaʿnāفَوْقَكُمُاوپر تمہارےfawqakumuٱلطُّورَطور کوl-ṭūraخُذُوا۟پکڑوkhudhūمَآجوءَاتَيْنَـٰكُمدیا ہم نے تم کوātaynākumبِقُوَّةٍۢساتھ قوت کےbiquwwatinوَٱذْكُرُوا۟اور یاد کروwa-udh'kurūمَاجوفِيهِاس میں ہےfīhiلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَتَّقُونَتم متقی بن جاوtattaqūna٦٣
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے طور کو تم پر اُٹھاکرتم سے پُختہ عہد لیاتھا اور کہا1 تھاکہ ”جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اُسے مضبوطی کے ساتھ تھامنااور جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں اُنہیں یاد رکھنا۔ اسی ذریعے سےتوقع کی جاسکتی ہےکہ تم تقوٰی کی روش پر چل سکو گے“
۲:۶۴
ثُمَّپھرthummaتَوَلَّيْتُممنہ پھیرلیا تم نےtawallaytumمِّنۢسےminبَعْدِبعدbaʿdiذَٰلِكَ ۖاس کےdhālikaفَلَوْلَاتو اگر نہیںfalawlāفَضْلُفضل ہوتاfaḍluٱللَّهِاللہ کاl-lahiعَلَيْكُمْاوپر تمہارےʿalaykumوَرَحْمَتُهُۥاور رحمت اس کیwaraḥmatuhuلَكُنتُمالبتہ ہوتے تمlakuntumمِّنَمیں سےminaٱلْخَـٰسِرِينَخسارہ پانے والےl-khāsirīna٦٤
مگر اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھِر گئے اس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے
۲:۶۵
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadعَلِمْتُمُجان لیا تم نےʿalim'tumuٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaٱعْتَدَوْا۟جنہوں نے زیادتی کیiʿ'tadawمِنكُمْتم میں سےminkumفِىمیںٱلسَّبْتِہفتے کے دن میں / سبت (کے بارے)l-sabtiفَقُلْنَاتو کہا ہم نےfaqul'nāلَهُمْان کے لئےlahumكُونُوا۟ہوجاؤkūnūقِرَدَةًبندرqiradatanخَـٰسِـِٔينَذلیل / دھتکارے ہوئےkhāsiīna٦٥
پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصّہ تو معلوم ہی ہےجنہوں نےسَبت1 کا قانون توڑا تھا۔ہم نے اُنہیں کہ دیا کہ بندر بن جاوٴ اور اس حالت میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے۔
۲:۶۶
فَجَعَلْنَـٰهَاتو بنادیا ہم نے ان کوfajaʿalnāhāنَكَـٰلًۭاعبرتnakālanلِّمَاواسطے اس کے جوlimāبَيْنَدرمیانbaynaيَدَيْهَااس کے ساتھyadayhāوَمَااور واسطے ان کے جوwamāخَلْفَهَاان کے پیچھے ہوں گےkhalfahāوَمَوْعِظَةًۭاور نصیحتwamawʿiẓatanلِّلْمُتَّقِينَمتقیوں کے لئےlil'muttaqīna٦٦
اس طرح ہم نے اُن کے انجام کو اُس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لیے عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بنا کر چھوڑا
۲:۶۷
وَإِذْاور جبwa-idhقَالَکہاqālaمُوسَىٰموسیٰ نےmūsāلِقَوْمِهِۦٓاپنی قوم سےliqawmihiإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaيَأْمُرُكُمْحکم دیتا ہے تم کوyamurukumأَنیہ کہanتَذْبَحُوا۟تم ذبح کروtadhbaḥūبَقَرَةًۭ ۖایک گائےbaqaratanقَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūأَتَتَّخِذُنَاکیا تم کرتے ہو ہم سےatattakhidhunāهُزُوًۭا ۖمذاقhuzuwanقَالَاس نے کہا ( موسیٰ )qālaأَعُوذُمیں پناہ مانگتا ہوںaʿūdhuبِٱللَّهِاللہ کی (اس بات سے)bil-lahiأَنْکہanأَكُونَمیں ہوجاؤںakūnaمِنَسےminaٱلْجَـٰهِلِينَجاہلوں میں سےl-jāhilīna٦٧
پھر وہ واقعہ یاد کرو، جب موسیٰؑ نے اپنے قوم سے کہا کہ، اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟ موسیٰؑ نے کہا، میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں
۲:۶۸
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūٱدْعُدعا کروud'ʿuلَنَاہمارے لئےlanāرَبَّكَاپنے رب سےrabbakaيُبَيِّنوہ بیان کرے / وہ واضح کرےyubayyinلَّنَاہمارے لئےlanāمَاکیسی ہوهِىَ ۚوہhiyaقَالَکہاqālaإِنَّهُۥبیشک وہinnahuيَقُولُوہ فرماتا ہےyaqūluإِنَّهَابیشک وہinnahāبَقَرَةٌۭایسی گائے ہوbaqaratunلَّانہفَارِضٌۭبوڑھیfāriḍunوَلَااورنہwalāبِكْرٌجوانbik'runعَوَانٌۢدرمیان عمر ہوʿawānunبَيْنَدرمیانbaynaذَٰلِكَ ۖاس کےdhālikaفَٱفْعَلُوا۟تو کروfa-if'ʿalūمَاجوتُؤْمَرُونَجو تم حکم دئیے جاتے ہوtu'marūna٦٨
بولے اچھا، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں گائے کی کچھ تفصیل بتائے موسیٰؑ نے کہا، اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو
۲:۶۹
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūٱدْعُدعا کروud'ʿuلَنَاہمارے لئےlanāرَبَّكَاپنے رب سےrabbakaيُبَيِّنوہ بیان کرےyubayyinلَّنَاہمارے لئےlanāمَاکیسا ہولَوْنُهَا ۚرنگ اس کاlawnuhāقَالَکہا (موسیٰ )qālaإِنَّهُۥبیشک وہinnahuيَقُولُوہ فرماتا ہےyaqūluإِنَّهَابیشک وہinnahāبَقَرَةٌۭایک گائے ہوbaqaratunصَفْرَآءُزرد رنگ کیṣafrāuفَاقِعٌۭچمکیلا / عمدہ / خوب گہرا ہوfāqiʿunلَّوْنُهَارنگ اس کاlawnuhāتَسُرُّخوش کرتی ہو / بھلی لگے وہtasurruٱلنَّـٰظِرِينَدیکھنے والوں کوl-nāẓirīna٦٩
پھر کہنے لگے اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اُس کا رنگ کیسا ہو موسیٰؑ نے کہا وہ فرماتا ہے زرد رنگ کی گائے ہونی چاہیے، جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے
۲:۷۰
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūٱدْعُدعا کروud'ʿuلَنَاہمارے لئےlanāرَبَّكَاپنے رب سےrabbakaيُبَيِّنوہ بیان کرےyubayyinلَّنَاہمارے لئےlanāمَاکیسی ہوهِىَوہhiyaإِنَّبیشکinnaٱلْبَقَرَگائیںl-baqaraتَشَـٰبَهَمشتبہ ہوگئی ہیںtashābahaعَلَيْنَااوپر ہمارےʿalaynāوَإِنَّآاور بیشک ہمwa-innāإِناگرinشَآءَچاہاshāaٱللَّهُاللہ نےl-lahuلَمُهْتَدُونَالبتہ پالینے والے ہیںlamuh'tadūna٧٠
پھر بولے اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اس کی تعین میں اشتباہ ہو گیا ہے اللہ نے چاہا، تو ہم اس کا پتہ پالیں گے
۲:۷۱
قَالَکہاqālaإِنَّهُۥبیشک وہinnahuيَقُولُوہ فرماتا ہےyaqūluإِنَّهَابیشک وہinnahāبَقَرَةٌۭایسی گائے ہوbaqaratunلَّانہ ہوذَلُولٌۭمطیعdhalūlunتُثِيرُکہ ہل چلاتی ہو / پھاڑتی ہوtuthīruٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaوَلَااور نہwalāتَسْقِىپانی پلاتی ہو / سیراب کرتی ہوtasqīٱلْحَرْثَکھیتی کوl-ḥarthaمُسَلَّمَةٌۭمکمل ہو / صحیح سلامت ہوmusallamatunلَّانہیں / نہ ہوشِيَةَکوئی داغ / نشان / علامتshiyataفِيهَا ۚاس میںfīhāقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūٱلْـَٔـٰنَابl-ānaجِئْتَتو لایا ہےji'taبِٱلْحَقِّ ۚحق کو / صحیح بات کوbil-ḥaqiفَذَبَحُوهَاتو انہوں نے ذبح کیا اس کوfadhabaḥūhāوَمَااور نہwamāكَادُوا۟لگتے تھے کہkādūيَفْعَلُونَوہ کرتےyafʿalūna٧١
موسیٰ ؑ ؑ نے جواب دیا: اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہےجس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے، صحیح سالم اور بے داغ ہو۔اس پر وہ پکار اُٹھے کہ ہاں، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر اُنہوں نے اُسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔1
۲:۷۲
وَإِذْاور جبwa-idhقَتَلْتُمْقتل کیا تم نےqataltumنَفْسًۭاایک نفس / ایک جانnafsanفَٱدَّٰرَْٰٔتُمْپھر ایک دوسرے پر ڈالنے لگے تم/ باہم الزام دھرنے لگے تمfa-iddāratumفِيهَا ۖاس کے بارے میںfīhāوَٱللَّهُاوراللہ تعالیٰwal-lahuمُخْرِجٌۭنکالنے والا تھاmukh'rijunمَّاکوكُنتُمْتھے تمkuntumتَكْتُمُونَتم چھپاتےtaktumūna٧٢
اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے کھول کر رکھ دے گا
۲:۷۳
فَقُلْنَاپس کہا ہم نےfaqul'nāٱضْرِبُوهُمارو اس کوiḍ'ribūhuبِبَعْضِهَا ۚساتھ اس کے بعض حصے کےbibaʿḍihāكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaيُحْىِزندہ کرتا ہےyuḥ'yīٱللَّهُاللہl-lahuٱلْمَوْتَىٰمردوں کوl-mawtāوَيُرِيكُمْاور وہ دکھاتا ہے تم کوwayurīkumءَايَـٰتِهِۦاپنی نشانیاںāyātihiلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَعْقِلُونَتم عقل سے کام لوtaʿqilūna٧٣
اُس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتو ل کی لاش کو اس کے ایک حصّے سے ضرب لگاوٴ۔ دیکھو، اسطرح اللہ مُردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم سمجھو1۔
۲:۷۴
ثُمَّپھرthummaقَسَتْسخت ہوگئےqasatقُلُوبُكُمدل تمہارےqulūbukumمِّنۢبعدminبَعْدِafterbaʿdiذَٰلِكَاس کےdhālikaفَهِىَتو وہ (ہوگئے)fahiyaكَٱلْحِجَارَةِمانند پتھروں کے / پتھروں کی طرحkal-ḥijāratiأَوْیاawأَشَدُّزیادہ شدیدashadduقَسْوَةًۭ ۚسختی میںqaswatanوَإِنَّاور بیشکwa-innaمِنَسےminaٱلْحِجَارَةِپتھروں ( میں سے) بعضl-ḥijāratiلَمَایقیناً (وہ ہے) جوlamāيَتَفَجَّرُپھوٹ پڑتی ہیںyatafajjaruمِنْهُاس سےmin'huٱلْأَنْهَـٰرُ ۚنہریںl-anhāruوَإِنَّاور بیشکwa-innaمِنْهَاان میں سے بعضmin'hāلَمَایقیناً (وہ ہے) جوlamāيَشَّقَّقُشق ہوجاتا ہے / پھٹ جاتا ہےyashaqqaquفَيَخْرُجُپھر نکل آتا ہےfayakhrujuمِنْهُاس سےmin'huٱلْمَآءُ ۚپانیl-māuوَإِنَّاوربیشکwa-innaمِنْهَاان (میں سے) بعضmin'hāلَمَایقیناً (وہ ہے) جوlamāيَهْبِطُگرپڑتا ہےyahbiṭuمِنْسےminخَشْيَةِخوفkhashyatiٱللَّهِ ۗاللہ کےl-lahiوَمَااورنہیںwamāٱللَّهُاللہl-lahuبِغَـٰفِلٍغافلbighāfilinعَمَّااس سے جوʿammāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūna٧٤
مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہوگئے، پتھروں کی طرف سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے
۲:۷۵
۞ أَفَتَطْمَعُونَکیاپھر تم امید رکھتے ہوafataṭmaʿūnaأَنکہanيُؤْمِنُوا۟وہ ایمان لائیں گےyu'minūلَكُمْتمہارے لئےlakumوَقَدْحالانکہ تحقیقwaqadكَانَہےkānaفَرِيقٌۭایک گروہfarīqunمِّنْهُمْان میں سےmin'humيَسْمَعُونَوہ سنتا ہےyasmaʿūnaكَلَـٰمَوہ سنتا ہےkalāmaٱللَّهِاللہ کاl-lahiثُمَّپھرthummaيُحَرِّفُونَهُۥوہ تحریف کر ڈالتے ہیں اس کیyuḥarrifūnahuمِنۢfromminبَعْدِبعدbaʿdiمَااس کے جوعَقَلُوهُسمجھ لیا انہوں نے اس کوʿaqalūhuوَهُمْاور وہwahumيَعْلَمُونَوہ جانتے ہیںyaʿlamūna٧٥
اے مسلمانو!اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمھاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے1 ؟حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہےکہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خُوب سمجھ بُوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔2
۲:۷۶
وَإِذَااور جبwa-idhāلَقُوا۟وہ ملاقات کرتے ہیںlaqūٱلَّذِينَان لوگوں سےalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūقَالُوٓا۟وہ کہتے ہیںqālūءَامَنَّاہم ایمان لائےāmannāوَإِذَااورجبwa-idhāخَلَاعلیحدہ ہوتے ہیںkhalāبَعْضُهُمْبعض ان کےbaʿḍuhumإِلَىٰطرفilāبَعْضٍۢبعض کےbaʿḍinقَالُوٓا۟وہ کہتے ہیںqālūأَتُحَدِّثُونَهُمکیاتم باتیں بتاتے ہو ان کوatuḥaddithūnahumبِمَاساتھ اس کے جوbimāفَتَحَکھولا ہےfataḥaٱللَّهُاللہ نےl-lahuعَلَيْكُمْاوپر تمہارےʿalaykumلِيُحَآجُّوكُمتاکہ وہ جھگڑا کریں تم سےliyuḥājjūkumبِهِۦساتھ اس کےbihiعِندَپاسʿindaرَبِّكُمْ ۚتمہارے رب کےrabbikumأَفَلَاکیا پھر نہیںafalāتَعْقِلُونَتم سمجھتےtaʿqilūna٧٦
(محمد رسول اللہﷺ پر) ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں، اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تخلیے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بے وقوف ہوگئے ہو؟ اِن لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حُجتّ؟ میں پیش کریں1
۲:۷۷
أَوَلَاکیا نہیںawalāيَعْلَمُونَوہ جانتےyaʿlamūnaأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaيَعْلَمُوہ جانتا ہےyaʿlamuمَاجويُسِرُّونَوہ چھپاتے ہیںyusirrūnaوَمَااور جوwamāيُعْلِنُونَوہ ظاہر کرتے ہیںyuʿ'linūna٧٧
اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے
۲:۷۸
وَمِنْهُمْاور ان میں سے کچھwamin'humأُمِّيُّونَان پڑھ ہیںummiyyūnaلَانہیںيَعْلَمُونَوہ جانتےyaʿlamūnaٱلْكِتَـٰبَکتاب کوl-kitābaإِلَّآسوائےillāأَمَانِىَّخواہشات کےamāniyyaوَإِنْاورنہیں ہیںwa-inهُمْوہhumإِلَّامگرillāيَظُنُّونَوہ گمان رکھتےyaẓunnūna٧٨
ان میں ایک دوسرا گروہ امیّوں کا ہے، جو کتاب کا علم رکھتے نہیں ، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزووٴں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم وگمان پر چلے جا رہے ہیں۔1
۲:۷۹
فَوَيْلٌۭپس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئےfawaylunلِّلَّذِينَان لوگوں کے لئیےlilladhīnaيَكْتُبُونَجو لکھتے ہیںyaktubūnaٱلْكِتَـٰبَکتاب کوl-kitābaبِأَيْدِيهِمْساتھ اپنے ہاتھوں کےbi-aydīhimثُمَّپھرthummaيَقُولُونَوہ کہتے ہیںyaqūlūnaهَـٰذَایہhādhāمِنْسےminعِندِطرفʿindiٱللَّهِاللہ کےl-lahiلِيَشْتَرُوا۟تاکہ وہ لیںliyashtarūبِهِۦبدلے اس کےbihiثَمَنًۭاقیمتthamananقَلِيلًۭا ۖتھوڑیqalīlanفَوَيْلٌۭپس ہلاکت ہےfawaylunلَّهُمان کے لئےlahumمِّمَّااس سے جوmimmāكَتَبَتْلکھاkatabatأَيْدِيهِمْان کے ہاتھوں سےaydīhimوَوَيْلٌۭاورہلاکت ہےwawaylunلَّهُمان کے لئےlahumمِّمَّااس سے جوmimmāيَكْسِبُونَوہ کماتے ہیںyaksibūna٧٩
پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کیلے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں1۔ اُن کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت
۲:۸۰
وَقَالُوا۟اور وہ کہتے ہیںwaqālūلَنہرگز نہیںlanتَمَسَّنَاچھوئے گی ہم کوtamassanāٱلنَّارُآگl-nāruإِلَّآمگرillāأَيَّامًۭادنayyāmanمَّعْدُودَةًۭ ۚگنتی کے / گنے چنےmaʿdūdatanقُلْکہ دیجئےqulأَتَّخَذْتُمْکیا تم نے لے رکھا ہےattakhadhtumعِندَپاس سےʿindaٱللَّهِاللہ کےl-lahiعَهْدًۭاکوئی عہدʿahdanفَلَنتو ہرگز نہیںfalanيُخْلِفَخلاف کرے گاyukh'lifaٱللَّهُاللہl-lahuعَهْدَهُۥٓ ۖاپنے عہد کےʿahdahuأَمْیاamتَقُولُونَتم کہتے ہوtaqūlūnaعَلَىاوپرʿalāٱللَّهِاللہ کےl-lahiمَاجولَانہیںتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna٨٠
وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگزچُھونے والی نہیں اِلّا یہ کہ چند روز کی سزا مِل جائے تو مِل جائے1۔ اِن سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کر سکتا؟ یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمّے ڈال کر ایسی باتیں کہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اُس نے ان کا ذمہ لیا ہے؟ آخر تمہیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چُھوئے گی؟
۲:۸۱
بَلَىٰکیوں نہیںbalāمَنجس نےmanكَسَبَکمایاkasabaسَيِّئَةًۭبرائی کوsayyi-atanوَأَحَـٰطَتْاحاطہ کیا / گھیر لیاwa-aḥāṭatبِهِۦاس کوbihiخَطِيٓـَٔتُهُۥاس کی خطا نےkhaṭīatuhuفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگfa-ulāikaأَصْحَـٰبُساتھی ہیںaṣḥābuٱلنَّارِ ۖآگ کےl-nāriهُمْوہhumفِيهَااس میںfīhāخَـٰلِدُونَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidūna٨١
جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا رہے گا، وہ دوزخی ہے او ر دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا
۲:۸۲
وَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَعَمِلُوا۟اور انہوں نے عمل کئےwaʿamilūٱلصَّـٰلِحَـٰتِاچھے / نیکl-ṣāliḥātiأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگulāikaأَصْحَـٰبُساتھی ہیںaṣḥābuٱلْجَنَّةِ ۖجنت کےl-janatiهُمْوہhumفِيهَااس میںfīhāخَـٰلِدُونَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidūna٨٢
اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے
۲:۸۳
وَإِذْاور جبwa-idhأَخَذْنَالیا ہم نےakhadhnāمِيثَـٰقَپکا عہدmīthāqaبَنِىٓبنیbanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل سےis'rāīlaلَانہتَعْبُدُونَتم عبادت کرو گےtaʿbudūnaإِلَّامگرillāٱللَّهَاللہ کیl-lahaوَبِٱلْوَٰلِدَيْنِاور ساتھ والدین کےwabil-wālidayniإِحْسَانًۭااحسان (کروگے)iḥ'sānanوَذِىand (with)wadhīٱلْقُرْبَىٰاور رشتہ داروںl-qur'bāوَٱلْيَتَـٰمَىٰاور یتیموںwal-yatāmāوَٱلْمَسَـٰكِينِاور مسکینوں (کے ساتھ بھی)wal-masākīniوَقُولُوا۟اورکہو (گے)waqūlūلِلنَّاسِلوگوں سےlilnnāsiحُسْنًۭاخوبصورت (بات)ḥus'nanوَأَقِيمُوا۟اور قائم کرو (گے)wa-aqīmūٱلصَّلَوٰةَنماز کوl-ṣalataوَءَاتُوا۟اور ادا کرو (گے)waātūٱلزَّكَوٰةَزکوٰۃ کوl-zakataثُمَّپھرthummaتَوَلَّيْتُمْمنہ موڑ لیا تم نےtawallaytumإِلَّامگرillāقَلِيلًۭابہت کمqalīlanمِّنكُمْتم میں سےminkumوَأَنتُماور تم(ہو ہی)wa-antumمُّعْرِضُونَاعراض کرنے والےmuʿ'riḍūna٨٣
یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا، مگر تھوڑے آدمیوں کے سو ا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھر ے ہوئے ہو
۲:۸۴
وَإِذْاور جبwa-idhأَخَذْنَالیا ہم نےakhadhnāمِيثَـٰقَكُمْپختہ عہد تم سےmīthāqakumلَانہتَسْفِكُونَتم بہاؤ گےtasfikūnaدِمَآءَكُمْخون اپنےdimāakumوَلَااورنہwalāتُخْرِجُونَتم نکالو گےtukh'rijūnaأَنفُسَكُماپنی جانوں کو / اپنے لوگوں کوanfusakumمِّنسےminدِيَـٰرِكُمْاپنے گھروںdiyārikumثُمَّپھرthummaأَقْرَرْتُمْاقرار کیا تم نےaqrartumوَأَنتُمْاور تمwa-antumتَشْهَدُونَتم گواہ ہوtashhadūna٨٤
پھر ذرا یاد کرو، ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا تم نے اس کا اقرار کیا تھا، تم خود اس پر گواہ ہو
۲:۸۵
ثُمَّپھرthummaأَنتُمْتمantumهَـٰٓؤُلَآءِوہ لوگ ہوhāulāiتَقْتُلُونَتم قتل کر ڈالتے ہوtaqtulūnaأَنفُسَكُمْاپنے لوگوں کوanfusakumوَتُخْرِجُونَاور تم نکال دیتے ہوwatukh'rijūnaفَرِيقًۭاایک گروہ کوfarīqanمِّنكُمتم میں سےminkumمِّنسےminدِيَـٰرِهِمْان کے گھروںdiyārihimتَظَـٰهَرُونَتم غلبہ پاتے ہو/ تم چڑھائی کرتے ہوtaẓāharūnaعَلَيْهِماوپر ان کےʿalayhimبِٱلْإِثْمِساتھ گناہ کےbil-ith'miوَٱلْعُدْوَٰنِاور زیادتی کےwal-ʿud'wāniوَإِناور اگرwa-inيَأْتُوكُمْوہ آجائیں تمہارے پاسyatūkumأُسَـٰرَىٰقیدی (بن کر)usārāتُفَـٰدُوهُمْتم فدیہ لیتے ہو ان سےtufādūhumوَهُوَحالانکہ وہwahuwaمُحَرَّمٌحرام کیا گیا تھاmuḥarramunعَلَيْكُمْاوپر تمہارےʿalaykumإِخْرَاجُهُمْ ۚنکالنا ان کوikh'rājuhumأَفَتُؤْمِنُونَکیا پھر تم مانتے ہوafatu'minūnaبِبَعْضِساتھ بعضbibaʿḍiٱلْكِتَـٰبِکتاب کےl-kitābiوَتَكْفُرُونَاور تم انکار کرتے ہوwatakfurūnaبِبَعْضٍۢ ۚساتھ بعض کےbibaʿḍinفَمَاتو نہیںfamāجَزَآءُجزا ہوگی ( اس کی)jazāuمَنجو کوئیmanيَفْعَلُکرتا ہےyafʿaluذَٰلِكَیہdhālikaمِنكُمْتم میں سےminkumإِلَّاسوائےillāخِزْىٌۭرسوائیkhiz'yunفِىمیںٱلْحَيَوٰةِزندگیl-ḥayatiٱلدُّنْيَا ۖدنیا کیl-dun'yāوَيَوْمَاور دنwayawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiيُرَدُّونَوہ لوٹائے جائیں گےyuraddūnaإِلَىٰٓطرفilāأَشَدِّشدید ترینashaddiٱلْعَذَابِ ۗعذاب کےl-ʿadhābiوَمَااور نہیںwamāٱللَّهُاللہl-lahuبِغَـٰفِلٍغافلbighāfilinعَمَّاا سے جوʿammāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūna٨٥
مگر آج وہی تم ہو کہ اپنےبھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کر دیتے ہو، ظلم وزیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پِٹے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں ، تو ان کی رہائی کے لیے فدیہ کالیں دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا، تو کیا تم کتاب کےایک حصّے پر ایمان لاتے ہو اوردُوسرے حصّے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟1 پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہےکہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں ؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو
۲:۸۶
أُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaٱلَّذِينَوہ لوگ ہیںalladhīnaٱشْتَرَوُا۟جنہوں نے خرید لیish'tarawūٱلْحَيَوٰةَزندگیl-ḥayataٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yāبِٱلْـَٔاخِرَةِ ۖبدلے آخرت کےbil-ākhiratiفَلَاتو نہfalāيُخَفَّفُہلکا کیا جائے گاyukhaffafuعَنْهُمُان سےʿanhumuٱلْعَذَابُعذابl-ʿadhābuوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيُنصَرُونَمدد کئے جائیں گےyunṣarūna٨٦
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کی زندگی خرید لی ہے، لہٰذا نہ اِن کی سزا میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی
۲:۸۷
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadءَاتَيْنَادی ہم نےātaynāمُوسَىموسیٰ کوmūsāٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaوَقَفَّيْنَااور پے در پے بھیجے ہم نےwaqaffaynāمِنۢfromminبَعْدِهِۦاس کے پیچھے / بعدbaʿdihiبِٱلرُّسُلِ ۖرسولbil-rusuliوَءَاتَيْنَااور دیں ہم نےwaātaynāعِيسَىعیسیٰʿīsāٱبْنَابنib'naمَرْيَمَمریم کوmaryamaٱلْبَيِّنَـٰتِروشن نشانیاںl-bayinātiوَأَيَّدْنَـٰهُاور قوت دی ہم نے اس کو / تائید کی ہم نے اس کیwa-ayyadnāhuبِرُوحِساتھ روحbirūḥiٱلْقُدُسِ ۗپاک کےl-qudusiأَفَكُلَّمَاکیا بھلا جب کبھیafakullamāجَآءَكُمْلایا تمہارے پاسjāakumرَسُولٌۢکوئی رسولrasūlunبِمَاساتھ اس کے جوbimāلَانہیںتَهْوَىٰٓچاہتے تھے (اسے)tahwāأَنفُسُكُمُتمہارے دلanfusukumuٱسْتَكْبَرْتُمْتکبر کیا تم نےis'takbartumفَفَرِيقًۭاتو ایک گروہ کوfafarīqanكَذَّبْتُمْجھٹلایا تم نےkadhabtumوَفَرِيقًۭااور گروہ کوwafarīqanتَقْتُلُونَتم قتل کرتے رہےtaqtulūna٨٧
ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی، اس کے بعد پے در پے رسُول بھیجے، آخر کار عیسٰی ابنِ مر یم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور رُوحِ پاک سے اس کی مدد کی۔1 پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسُول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سر کشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا!
۲:۸۸
وَقَالُوا۟اور انہوں نے کہاwaqālūقُلُوبُنَاہمارے دلوں (پر)qulūbunāغُلْفٌۢ ۚغلاف ہیںghul'funبَل(نہیں) بلکہbalلَّعَنَهُمُلعنت کی ہے ان پرlaʿanahumuٱللَّهُاللہ نےl-lahuبِكُفْرِهِمْبوجہ ان کے کفر کےbikuf'rihimفَقَلِيلًۭاتو کتنا تھوڑا ہےfaqalīlanمَّاجويُؤْمِنُونَوہ ایمان لاتے ہیںyu'minūna٨٨
وُہ کہتے ہیں، تمارے دل محفوظ ہیں۔نہیں1 ، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
۲:۸۹
وَلَمَّااور جبwalammāجَآءَهُمْآگئی ان کے پاسjāahumكِتَـٰبٌۭکتابkitābunمِّنْسےminعِندِپاسʿindiٱللَّهِاللہ کےl-lahiمُصَدِّقٌۭجو تصدیق کرنے والی ہےmuṣaddiqunلِّمَاواسطے اس کے جوlimāمَعَهُمْپاس ہے ان کےmaʿahumوَكَانُوا۟حالانکہ تھے وہwakānūمِنسےminقَبْلُپہلے/ قبلqabluيَسْتَفْتِحُونَفتح کی دعائیں کرتے تھےyastaftiḥūnaعَلَىخلافʿalāٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūفَلَمَّاتو جبfalammāجَآءَهُمآگیا ان کے پاسjāahumمَّاجوعَرَفُوا۟انہوں نے پہچان لیاʿarafūكَفَرُوا۟انہوں نے کفر کیاkafarūبِهِۦ ۚساتھ اس کےbihiفَلَعْنَةُتو لعنت ہوfalaʿnatuٱللَّهِاللہ کیl-lahiعَلَىاوپرʿalāٱلْكَـٰفِرِينَکافروں کےl-kāfirīna٨٩
اور اب جوایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے، اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے، مگر جب وہ چیز آگئی جسے وہ پہچان بھی گئے، تو انھوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔1 خدا کی لعنت ان منکرین پر
۲:۹۰
بِئْسَمَاکتنا برا ہے جوbi'samāٱشْتَرَوْا۟بیچ ڈالا انہوں نےish'tarawبِهِۦٓبدلے اس کےbihiأَنفُسَهُمْاپنے نفسوں کوanfusahumأَنیہ کہanيَكْفُرُوا۟انہوں نے کفر کیاyakfurūبِمَآساتھ اس کے جوbimāأَنزَلَنازل کیاanzalaٱللَّهُاللہ نےl-lahuبَغْيًاضد ( کیوجہ سے)baghyanأَنیہ کہanيُنَزِّلَنازل کرتا ہےyunazzilaٱللَّهُاللہl-lahuمِنسےminفَضْلِهِۦاپنے فضلfaḍlihiعَلَىٰاوپرʿalāمَنجس کےmanيَشَآءُوہ چاہتا ہےسyashāuمِنْسےminعِبَادِهِۦ ۖاپنے بندوں میں سےʿibādihiفَبَآءُوتو وہ لوٹے / چلے آئےfabāūبِغَضَبٍساتھ غضب کےbighaḍabinعَلَىٰاوپرʿalāغَضَبٍۢ ۚغضب کےghaḍabinوَلِلْكَـٰفِرِينَاور کافروں کے لئےwalil'kāfirīnaعَذَابٌۭعذاب ہےʿadhābunمُّهِينٌۭسوا کن / ذلیل کرنے والاmuhīnun٩٠
کیسا بُرا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں1 کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے، اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل ( وحی ورسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا! لہٰذا اب یہ غضب با لا ئے غضب کے مستحق ہو گئے ہیں اور ایسے کافروں کیلئےسخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے
۲:۹۱
وَإِذَااور جبwa-idhāقِيلَکہا جاتا ہےqīlaلَهُمْان کوlahumءَامِنُوا۟ایمان لاؤāminūبِمَآساتھ اس کے جوbimāأَنزَلَنازل کیاanzalaٱللَّهُاللہ نےl-lahuقَالُوا۟وہ کہتے ہیںqālūنُؤْمِنُہم ایمان لائیں گےnu'minuبِمَآساتھ اس کے جوbimāأُنزِلَنازل کیا گیاunzilaعَلَيْنَاہم پرʿalaynāوَيَكْفُرُونَاور وہ کفر کرتے ہیںwayakfurūnaبِمَاساتھ اس کے جوbimāوَرَآءَهُۥاس کے علاوہ ہےwarāahuوَهُوَحالانکہ وہwahuwaٱلْحَقُّحق ہےl-ḥaquمُصَدِّقًۭاتصدیق کرنے والا ہےmuṣaddiqanلِّمَاواسطے اس کے جوlimāمَعَهُمْ ۗان کے پاس ہےmaʿahumقُلْکہہ دوqulفَلِمَتو کیوںfalimaتَقْتُلُونَتم قتل کرتے رہے ہوtaqtulūnaأَنۢبِيَآءَنبیوں کوanbiyāaٱللَّهِاللہ کےl-lahiمِناس سےminقَبْلُپہلےqabluإِناگرinكُنتُمہو تمkuntumمُّؤْمِنِينَایمان لانے والےmu'minīna٩١
جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں "ہم تو صرف اُس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو ہمارے ہاں (یعنی نسل اسرائیل) میں اتری ہے" اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ حق ہے اور اُس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی اچھا، ان سے کہو: اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی، تو اس سے پہلے اللہ کے اُن پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے) کیوں قتل کرتے رہے؟
۲:۹۲
۞ وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadجَآءَكُمآئے تمہارے پاسjāakumمُّوسَىٰموسیٰmūsāبِٱلْبَيِّنَـٰتِساتھ روشن نشانیوں کےbil-bayinātiثُمَّپھرthummaٱتَّخَذْتُمُبنا لیا تم نےittakhadhtumuٱلْعِجْلَبچھڑے کو ( معبود)l-ʿij'laمِنۢfromminبَعْدِهِۦپیچھے / بعد اس کے (موسیٰ )baʿdihiوَأَنتُمْاور تمwa-antumظَـٰلِمُونَظالم (مشرک)ẓālimūna٩٢
تمہارے پاس موسیٰؑ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے
۲:۹۳
وَإِذْاور جبwa-idhأَخَذْنَالیا ہم نےakhadhnāمِيثَـٰقَكُمْپکا وعدہ تم سےmīthāqakumوَرَفَعْنَااور بلند کیا تم نےwarafaʿnāفَوْقَكُمُاوپر تمہارےfawqakumuٱلطُّورَطور کوl-ṭūraخُذُوا۟پکڑو / لے لوkhudhūمَآجوءَاتَيْنَـٰكُمدیا ہم نے تم کوātaynākumبِقُوَّةٍۢساتھ قوت کےbiquwwatinوَٱسْمَعُوا۟ ۖاور سنوwa-is'maʿūقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūسَمِعْنَاسنا ہم نےsamiʿ'nāوَعَصَيْنَااور نافرمانی کی ہم نےwaʿaṣaynāوَأُشْرِبُوا۟اوروہ پلادیئے گئےwa-ush'ribūفِىمیںقُلُوبِهِمُاپنے دلوںqulūbihimuٱلْعِجْلَبچھڑے کو (کی محبت)l-ʿij'laبِكُفْرِهِمْ ۚاپنے کفر کی وجہ سےbikuf'rihimقُلْکہ دیجئےqulبِئْسَمَاکتنا برا ہے جوbi'samāيَأْمُرُكُمحکم دیتا ہے تم کوyamurukumبِهِۦٓساتھ اس (کفر) کےbihiإِيمَـٰنُكُمْایمان تمہاراīmānukumإِناگرinكُنتُمہو تمkuntumمُّؤْمِنِينَمومنmu'minīna٩٣
پھر ذرا اُس میثاق کو یاد کرو، جو طُور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا، مگر مانیں گے نہیں اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا کہو: اگر تم مومن ہو، تو عجیب ایمان ہے، جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے
۲:۹۴
قُلْکہہ دیجئےqulإِناگرinكَانَتْہےkānatلَكُمُتمہارے لئےlakumuٱلدَّارُدارl-dāruٱلْـَٔاخِرَةُآخرتl-ākhiratuعِندَپاسʿindaٱللَّهِاللہ کےl-lahiخَالِصَةًۭخالص ( خاص طور پر)khāliṣatanمِّنسےminدُونِسوائےdūniٱلنَّاسِلوگوں کےl-nāsiفَتَمَنَّوُا۟تو تمنا کروfatamannawūٱلْمَوْتَموت کیl-mawtaإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumصَـٰدِقِينَسچےṣādiqīna٩٤
اِن سے کہو اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصُوص ہے ،تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنّا کرو 1، اگر تم اس خیال میں سچےّ ہو
۲:۹۵
وَلَناور ہرگز نہیںwalanيَتَمَنَّوْهُوہ تمنا کریں گے اس کیyatamannawhuأَبَدًۢاکبھی بھیabadanبِمَابوجہ اس کے جوbimāقَدَّمَتْاگے بھیجاqaddamatأَيْدِيهِمْ ۗان کے ہاتھوں کےaydīhimوَٱللَّهُاوراللہwal-lahuعَلِيمٌۢخوب جاننے والا ہےʿalīmunبِٱلظَّـٰلِمِينَظالموں کوbil-ẓālimīna٩٥
یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے، اس لیے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کما کر انہوں نے وہاں بھیجا ہے، اس کا اقتضا یہی ہے (کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں) اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے
۲:۹۶
وَلَتَجِدَنَّهُمْاور البتہ تم ضرور پاؤ گے ان کوwalatajidannahumأَحْرَصَحریص ترینaḥraṣaٱلنَّاسِلوگوں میں سےl-nāsiعَلَىٰاوپرʿalāحَيَوٰةٍۢزندگی گے / زندہ رہنے کےḥayatinوَمِنَاورمیں سےwaminaٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaأَشْرَكُوا۟ ۚجنہوں نے شرک کیاashrakūيَوَدُّدل سے چاہتا ہےyawadduأَحَدُهُمْہر ایک ان کاaḥaduhumلَوْکاشlawيُعَمَّرُوہ عمر دے دیا جائےyuʿammaruأَلْفَہزارalfaسَنَةٍۢسالsanatinوَمَااورجوwamāهُوَوہhuwaبِمُزَحْزِحِهِۦبچانے والی اس کوbimuzaḥziḥihiمِنَپیچھےminaٱلْعَذَابِعذابl-ʿadhābiأَناگرچہanيُعَمَّرَ ۗوہ عمر دیا جائےyuʿammaraوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuبَصِيرٌۢدیکھنے والا ہےbaṣīrunبِمَااس کو جوbimāيَعْمَلُونَوہ عمل کرتے ہیںyaʿmalūna٩٦
تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص1 پاوٴ گے حتّٰی کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے ، حالانکہ لمبی عمر بہر حال اُسے عذاب سے تودُور نہیں پھینک سکتی۔ جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے
۲:۹۷
قُلْکہہ دیجئےqulمَنجوmanكَانَہےkānaعَدُوًّۭادشمنʿaduwwanلِّجِبْرِيلَجبرئیل کاlijib'rīlaفَإِنَّهُۥتو بیشک وہ ہےfa-innahuنَزَّلَهُۥاس نے نازل کیا اس کوnazzalahuعَلَىٰاوپرʿalāقَلْبِكَتیرے دل کےqalbikaبِإِذْنِساتھ اذنbi-idh'niٱللَّهِاللہ کےl-lahiمُصَدِّقًۭاوہ تصدیق کرنے والا ہےmuṣaddiqanلِّمَاواسطے اس کے جوlimāبَيْنَدرمیانbaynaيَدَيْهِاس کے ہاتھوں کےyadayhiوَهُدًۭىاور ہدایتwahudanوَبُشْرَىٰاور خوش خبریwabush'rāلِلْمُؤْمِنِينَمومنین کے لئیےlil'mu'minīna٩٧
ان سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو 1، اسے معلوم ہو نا چاہیے کہ جبریل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے2، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے3اور ایمان لانے والوں کے لیےہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے۔4
۲:۹۸
مَنجوmanكَانَہےkānaعَدُوًّۭادشمنʿaduwwanلِّلَّهِاللہ کاlillahiوَمَلَـٰٓئِكَتِهِۦاس کے فرشتوں کاwamalāikatihiوَرُسُلِهِۦاور اس کے رسولوں کاwarusulihiوَجِبْرِيلَاورجبرئیل کاwajib'rīlaوَمِيكَىٰلَاورمیکائیل کاwamīkālaفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaعَدُوٌّۭدشمن ہےʿaduwwunلِّلْكَـٰفِرِينَکافروں کاlil'kāfirīna٩٨
(اگر جبریل سے ان کی عداوت کا سبب یہی ہے، تو کہہ دو کہ) جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کے دشمن ہیں، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے
۲:۹۹
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadأَنزَلْنَآنازل کیں ہم نےanzalnāإِلَيْكَطرف آپ کےilaykaءَايَـٰتٍۭآیاتāyātinبَيِّنَـٰتٍۢ ۖروشنbayyinātinوَمَااورنہیںwamāيَكْفُرُکفر کرتےyakfuruبِهَآساتھ ان کےbihāإِلَّامگرillāٱلْفَـٰسِقُونَوہ جو فاسق ہیںl-fāsiqūna٩٩
ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کر نے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں، جو فاسق ہیں
۲:۱۰۰
أَوَكُلَّمَاکیاجب کبھیawakullamāعَـٰهَدُوا۟عہد کیا انہوں نےʿāhadūعَهْدًۭاکوئی عہدʿahdanنَّبَذَهُۥپیچھے پھینکnabadhahuفَرِيقٌۭایک گروہ نےfarīqunمِّنْهُم ۚان میں سےmin'humبَلْبلکہbalأَكْثَرُهُمْاکثر ان میں سےaktharuhumلَانہیںيُؤْمِنُونَوہ ایمان لاتےyu'minūna١٠٠
کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا، تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور ہی بالا ئے طاق رکھ دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں، جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے
۲:۱۰۱
وَلَمَّااور جبwalammāجَآءَهُمْآگیا ان کے پاسjāahumرَسُولٌۭایک رسولrasūlunمِّنْسےminعِندِپاس سےʿindiٱللَّهِاللہ کےl-lahiمُصَدِّقٌۭجو تصدیق کرنے والا ہےmuṣaddiqunلِّمَاواسطے اس چیز کے جوlimāمَعَهُمْان کے پاس سےmaʿahumنَبَذَپھینک دیاnabadhaفَرِيقٌۭایک گروہ نےfarīqunمِّنَسےminaٱلَّذِينَان لوگوں میںalladhīnaأُوتُوا۟جو دیئے گئےūtūٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaكِتَـٰبَکتابkitābaٱللَّهِاللہ کیl-lahiوَرَآءَپیچھےwarāaظُهُورِهِمْاپنے پیٹھوں کےẓuhūrihimكَأَنَّهُمْگویا کہ وہka-annahumلَانہیںيَعْلَمُونَوہ جانتےyaʿlamūna١٠١
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی، تو اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں
۲:۱۰۲
وَٱتَّبَعُوا۟اور پیچھے پڑگئے / پیروی کرنے لگےwa-ittabaʿūمَااس کی جوتَتْلُوا۟پڑھتے تھےtatlūٱلشَّيَـٰطِينُشیطانl-shayāṭīnuعَلَىٰاوپرʿalāمُلْكِبادشاہتmul'kiسُلَيْمَـٰنَ ۖسلیمان کیsulaymānaوَمَاحالانکہ نہیںwamāكَفَرَکفر کیا تھاkafaraسُلَيْمَـٰنُسلیمان نےsulaymānuوَلَـٰكِنَّبلکہ / لیکنwalākinnaٱلشَّيَـٰطِينَشیاطین نےl-shayāṭīnaكَفَرُوا۟کفر کیا تھاkafarūيُعَلِّمُونَوہ تعلیم دیتے تھےyuʿallimūnaٱلنَّاسَلوگوں کوl-nāsaٱلسِّحْرَجادو کیl-siḥ'raوَمَآاور اس کی جوwamāأُنزِلَنازل کیا گیا تھاunzilaعَلَىاوپرʿalāٱلْمَلَكَيْنِدو فرشتوں کےl-malakayniبِبَابِلَبابل میںbibābilaهَـٰرُوتَہاروتhārūtaوَمَـٰرُوتَ ۚاور ماروت ( پر)wamārūtaوَمَااورنہیںwamāيُعَلِّمَانِوہ دونوں سکھاتے تھےyuʿallimāniمِنْاورminأَحَدٍکسی ایک کوaḥadinحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَقُولَآوہ دونوں کہتےyaqūlāإِنَّمَابیشکinnamāنَحْنُہمnaḥnuفِتْنَةٌۭآزمائش ہیں/ فتنہ ہیںfit'natunفَلَاتو نہfalāتَكْفُرْ ۖتم کفر کروtakfurفَيَتَعَلَّمُونَتو وہ سیکھتے تھےfayataʿallamūnaمِنْهُمَاان دونوں سےmin'humāمَااس کو جويُفَرِّقُونَوہ تفریق ڈال دیںyufarriqūnaبِهِۦساتھ اس کےbihiبَيْنَدرمیانbaynaٱلْمَرْءِشوہر کےl-mariوَزَوْجِهِۦ ۚاور اس کی بیوی کےwazawjihiوَمَاحالانکہ نہیں تھےwamāهُموہhumبِضَآرِّينَنقصان دینے والے / ضرر پہنچانے والےbiḍārrīnaبِهِۦساتھ اس کےbihiمِنْسےminأَحَدٍکسی ایک کوaḥadinإِلَّامگرillāبِإِذْنِساتھ اذنbi-idh'niٱللَّهِ ۚاللہ کےl-lahiوَيَتَعَلَّمُونَاور وہ سیکھتے تھےwayataʿallamūnaمَاوہ جويَضُرُّهُمْنقصان دیتا تھا ان کوyaḍurruhumوَلَااور ناwalāيَنفَعُهُمْ ۚنفع دیتا ان کوyanfaʿuhumوَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadعَلِمُوا۟وہ جانتے تھےʿalimūلَمَنِالبتہ جو بھیlamaniٱشْتَرَىٰهُخریدے گا اس کوish'tarāhuمَانہیں ہےلَهُۥاس کے لئیےlahuفِىمیںٱلْـَٔاخِرَةِآخرتl-ākhiratiمِنْسےminخَلَـٰقٍۢ ۚکوئی حصہkhalāqinوَلَبِئْسَاور البتہ کتنا برا تھاwalabi'saمَاجوشَرَوْا۟انہوں بیچ ڈالاsharawبِهِۦٓسساتھ اس کےbihiأَنفُسَهُمْ ۚاپنی جانوں کوanfusahumلَوْکاشlawكَانُوا۟وہ ہوتےkānūيَعْلَمُونَوہ جانتےyaʿlamūna١٠٢
اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے ، جو شیاطین سلیمان ؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے1، حالانکہ سلیمان ؑ نے کبھی کفر نہیں کیا ، کفر کے مرتکب تو وہ شیا طین تھے جو لوگو ں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے۔ اور پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں ، ھاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی ، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے ، تو پہلے صاف طور پر متنبہّ کر دیا کرتے تھے کہ ”دیکھ ، ہم محض ایک آزمائش ہیں ، تُوکفر میں مبتلا نہ ہو2“ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جُدائی ڈال دیں3۔ ظاہر تھا کہ اذن ِ الٰہی کہ بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے ، مگر اس کے با وجو د وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں ، بلکہ نقصان دہ تھی اور انھیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا ، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کتنی بُری متاع تھی جس کے بدلہ انھوں نے اپنی جا نوں کو بیچ ڈالا، کاش انھیں معلوم ہو تا
۲:۱۰۳
وَلَوْاور اگرwalawأَنَّهُمْبیشک وہannahumءَامَنُوا۟وہ ایمان لاتےāmanūوَٱتَّقَوْا۟اورتقویٰ اختیار کرتےwa-ittaqawلَمَثُوبَةٌۭالبتہ بدلہ پاتے / ثواب پاتےlamathūbatunمِّنْسےminعِندِپاسʿindiٱللَّهِاللہ کےl-lahiخَيْرٌۭ ۖاچھا / بہترkhayrunلَّوْکاشlawكَانُوا۟وہ ہوتےkānūيَعْلَمُونَوہ جانتےyaʿlamūna١٠٣
اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے، تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا، وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا، کاش اُنہیں خبر ہوتی
۲:۱۰۴
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگو !alladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے ہوāmanūلَانہتَقُولُوا۟تم کہوtaqūlūرَٰعِنَاراعنا / ہماری رعایت کیجئےrāʿināوَقُولُوا۟بلکہ کہوwaqūlūٱنظُرْنَاہماری طرف نظر کیجئےunẓur'nāوَٱسْمَعُوا۟ ۗاور سنا کروwa-is'maʿūوَلِلْكَـٰفِرِينَاورکافروں کے لئےwalil'kāfirīnaعَذَابٌعذاب ہےʿadhābunأَلِيمٌۭدردناکalīmun١٠٤
اے لوگو جو ایمان لائے ہو1 ؛ رَاعِنَا نہ کہا کرو ، بلکہ اُنظُرنَا کہو اور توجّہ سے بات کو سنو2، یہ کافر تو عذابِ الیم کے مستحق ہیں
۲:۱۰۵
مَّانہیںيَوَدُّچاہتے دلی طور پرyawadduٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūمِنْسےminأَهْلِاہلahliٱلْكِتَـٰبِکتابl-kitābiوَلَااور ناwalāٱلْمُشْرِكِينَوہ جو مشرک ہیںl-mush'rikīnaأَنیہ کہanيُنَزَّلَنازل کی جائےyunazzalaعَلَيْكُماوپر تمہارےʿalaykumمِّنْanyminخَيْرٍۢکوئی بھلائیkhayrinمِّناللہminرَّبِّكُمْ ۗتمہارے رب کی طرف سےrabbikumوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيَخْتَصُّخاص کرلیتا ہےyakhtaṣṣuبِرَحْمَتِهِۦاپنی رحمت کے ساتھbiraḥmatihiمَنجس کوmanيَشَآءُ ۚوہ چاہتا ہےyashāuوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuذُو(is the) Possessordhūٱلْفَضْلِفضل والا ہےl-faḍliٱلْعَظِيمِبڑےl-ʿaẓīmi١٠٥
یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو، مگر اللہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے لیے چن لیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے
۲:۱۰۶
۞ مَانہیںنَنسَخْہم منسوخ کرتے ہیںnansakhمِنْسےminءَايَةٍکوئی آیتāyatinأَوْیاawنُنسِهَاہم بھلا دیتے ہیں اس کو / محو کردیتے ہیں اس کو / مؤخر کردیتے ہیں اس کوnunsihāنَأْتِہم لے آتے ہیںnatiبِخَيْرٍۢبہترbikhayrinمِّنْهَآاس سےmin'hāأَوْیاawمِثْلِهَآ ۗاس جیسیmith'lihāأَلَمْکیاalamتَعْلَمْنہیں تم جانتےtaʿlamأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaعَلَىٰاوپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز کےshayinقَدِيرٌقدرت رکھنے والا ہےqadīrun١٠٦
ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں ، اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی1۔ کیا تم جا نتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟
۲:۱۰۷
أَلَمْکیاalamتَعْلَمْنہیں تم جانتےtaʿlamأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaلَهُۥاس کے لئے ہےlahuمُلْكُبادشاہتmul'kuٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کیl-samāwātiوَٱلْأَرْضِ ۗاور زمین کیwal-arḍiوَمَااور نہیںwamāلَكُمتمہارے لئےlakumمِّنسےminدُونِسوائےdūniٱللَّهِاللہ کےl-lahiمِنکوئیminوَلِىٍّۢدوستwaliyyinوَلَااور ناwalāنَصِيرٍکوئی مددگارnaṣīrin١٠٧
کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمیں اور آسمان کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے؟
۲:۱۰۸
أَمْیاamتُرِيدُونَتم چاہتے ہوturīdūnaأَنکہanتَسْـَٔلُوا۟تم سوال کروtasalūرَسُولَكُمْاپنے رسول سےrasūlakumكَمَاجیسا کہkamāسُئِلَسوال کئے گئےsu-ilaمُوسَىٰموسیٰmūsāمِناس سےminقَبْلُ ۗقبلqabluوَمَناور جو کوئیwamanيَتَبَدَّلِبدل کرلے گاyatabaddaliٱلْكُفْرَکفر کوl-kuf'raبِٱلْإِيمَـٰنِبدلے ایمان کےbil-īmāniفَقَدْتو تحقیقfaqadضَلَّوہ بھٹک گیاḍallaسَوَآءَسیدھےsawāaٱلسَّبِيلِراستے سےl-sabīli١٠٨
پھر کیا تم اپنے رسو ل سے اس قسم کے سوالات اور مطالبے کرنا چاہتے ہو، جیسے اس سے پہلے موسیٰ ؑ سے کیے جا چکے ہیں؟1 حالانکہ جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا ، وہ راہ راست سے بھٹک گیا
۲:۱۰۹
وَدَّچاہتے ہیںwaddaكَثِيرٌۭبہت سےkathīrunمِّنْسےminأَهْلِاہلahliٱلْكِتَـٰبِکتاب میںl-kitābiلَوْکاشlawيَرُدُّونَكُموہ لوٹادیں تمہیں / وہ پھیرا دیں تمہیںyaruddūnakumمِّنۢسےminبَعْدِبعدbaʿdiإِيمَـٰنِكُمْایمان کے تمہارےīmānikumكُفَّارًاکافر بنا کرkuffāranحَسَدًۭاحسد (کی وجہ سے)ḥasadanمِّنْسےminعِندِپاسʿindiأَنفُسِهِمان کے نفسوں کےanfusihimمِّنۢسےminبَعْدِبعد اس کےbaʿdiمَاجوتَبَيَّنَواضح ہوگیاtabayyanaلَهُمُان کے لئیےlahumuٱلْحَقُّ ۖحقl-ḥaquفَٱعْفُوا۟پس معاف کردوfa-iʿ'fūوَٱصْفَحُوا۟اور در گزر کروwa-iṣ'faḥūحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَأْتِىَلے آئےyatiyaٱللَّهُاللہl-lahuبِأَمْرِهِۦٓ ۗفیصلہ اپناbi-amrihiإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaعَلَىٰاوپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز کےshayinقَدِيرٌۭقدرت رکھنے والا ہےqadīrun١٠٩
اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے۔ اس کے جواب میں تم عفو و درگزر سے کام لو 1یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے۔ مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
۲:۱۱۰
وَأَقِيمُوا۟اور قائم کروwa-aqīmūٱلصَّلَوٰةَنماز کوl-ṣalataوَءَاتُوا۟اورادا کروwaātūٱلزَّكَوٰةَ ۚزکوۃ کوl-zakataوَمَااور جوwamāتُقَدِّمُوا۟تم آگے بھیجو گےtuqaddimūلِأَنفُسِكُماپنے نفسوں کے لئےli-anfusikumمِّنْسےminخَيْرٍۢکسی بھلائی میںkhayrinتَجِدُوهُتم پاؤ گے اس کوtajidūhuعِندَپاسʿindaٱللَّهِ ۗاللہ کےl-lahiإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūnaبَصِيرٌۭدیکھنے والا ہےbaṣīrun١١٠
نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے
۲:۱۱۱
وَقَالُوا۟اور وہ کہتے ہیںwaqālūلَنہرگز نہیںlanيَدْخُلَداخل ہوگاyadkhulaٱلْجَنَّةَجنت میںl-janataإِلَّامگرillāمَنوہ جوmanكَانَہوگاkānaهُودًایہودیhūdanأَوْیاawنَصَـٰرَىٰ ۗعیسائیnaṣārāتِلْكَیہtil'kaأَمَانِيُّهُمْ ۗان کی خواہشات ہیں / ان کی آرزوئیں ہیںamāniyyuhumقُلْکہہ دیجئےqulهَاتُوا۟لے آؤhātūبُرْهَـٰنَكُمْدلیل اپنیbur'hānakumإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumصَـٰدِقِينَسچےṣādiqīna١١١
ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو یا ( عیسائیوں کے خیال کے مطابق ) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں1۔ ان سے کہو ، اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو
۲:۱۱۲
بَلَىٰبلکہ / کیوں نہیںbalāمَنْجس نےmanأَسْلَمَسپرد کردیاaslamaوَجْهَهُۥاپنا چہرہ / اپنی ذاتwajhahuلِلَّهِاللہ کے لئےlillahiوَهُوَاور وہwahuwaمُحْسِنٌۭمخلص ہو / محسن ہو / احسان کرنے والا ہو /نیکی کرنے والا ہوmuḥ'sinunفَلَهُۥٓتو اس کے لئےfalahuأَجْرُهُۥاجر ہے اس کاajruhuعِندَپاسʿindaرَبِّهِۦاس کے رب کےrabbihiوَلَااورنہ (ہوگا)walāخَوْفٌکوئی خوفkhawfunعَلَيْهِمْاوپر ان کےʿalayhimوَلَااورنہwalāهُمْوہhumيَحْزَنُونَوہ غمگین ہونگےyaḥzanūna١١٢
دراصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے، نہ کسی اور کی حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اُس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں
۲:۱۱۳
وَقَالَتِاور کہاwaqālatiٱلْيَهُودُیہود نےl-yahūduلَيْسَتِنہیں ہےlaysatiٱلنَّصَـٰرَىٰعیسائیl-naṣārāعَلَىٰاوپرʿalāشَىْءٍۢکسی چیز کےshayinوَقَالَتِاورکہاwaqālatiٱلنَّصَـٰرَىٰعیسائیوں نے / نصاریٰ نےl-naṣārāلَيْسَتِنہیں ہیںlaysatiٱلْيَهُودُیہودl-yahūduعَلَىٰاوپرʿalāشَىْءٍۢکسی چیز کےshayinوَهُمْحالانکہ وہwahumيَتْلُونَتلاوت کرتے ہیںyatlūnaٱلْكِتَـٰبَ ۗکتاب کیl-kitābaكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaقَالَکہاqālaٱلَّذِينَان لوگوں نے جوalladhīnaلَانہیںيَعْلَمُونَجانتے / علم رکھتےyaʿlamūnaمِثْلَمانندmith'laقَوْلِهِمْ ۚان کی بات کیqawlihimفَٱللَّهُتو اللہfal-lahuيَحْكُمُفیصلہ کرے گاyaḥkumuبَيْنَهُمْان کے درمیانbaynahumيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiفِيمَااس میں جوfīmāكَانُوا۟وہ تھےkānūفِيهِاس میںfīhiيَخْتَلِفُونَوہ اختلاف کرتےyakhtalifūna١١٣
یہودی کہتے ہیں : عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں۔ عیسا ئی کہتے ہیں : یہودیوں کے پاس کچھ نہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں۔ اور اسی قسم کے دعوے ان لوگو ں کے بھی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے1۔ یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کر دے گا
۲:۱۱۴
وَمَنْاور کونwamanأَظْلَمُبڑا ظالم ہےaẓlamuمِمَّناس سے جوmimmanمَّنَعَمنع کرے / روکےmanaʿaمَسَـٰجِدَمسجدوں سےmasājidaٱللَّهِاللہ کیl-lahiأَنیہ کہanيُذْكَرَذکر کیا جائےyudh'karaفِيهَاان میںfīhāٱسْمُهُۥنام اس کاus'muhuوَسَعَىٰوہ کوشش کرےwasaʿāفِىforخَرَابِهَآ ۚان کی ویرانی میںkharābihāأُو۟لَـٰٓئِكَیہ لوگulāikaمَانہیں (مناسب) ہےكَانَit iskānaلَهُمْان کے لئیےlahumأَنکہanيَدْخُلُوهَآوہ داخل ہوں اس میںyadkhulūhāإِلَّامگرillāخَآئِفِينَ ۚڈرتے ہوۓkhāifīnaلَهُمْان کے لئیےlahumفِىمیںٱلدُّنْيَادنیا میںl-dun'yāخِزْىٌۭرسوائی ہےkhiz'yunوَلَهُمْاو ر ان کے لئیےwalahumفِىمیںٱلْـَٔاخِرَةِآخرت میںl-ākhiratiعَذَابٌعذاب ہےʿadhābunعَظِيمٌۭبہت بڑاʿaẓīmun١١٤
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو ن ہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے در پے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں1۔ ان کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہےاور آخرت میں عذاب عظیم
۲:۱۱۵
وَلِلَّهِاور اللہ ہی کے لئے ہےwalillahiٱلْمَشْرِقُمشرقl-mashriquوَٱلْمَغْرِبُ ۚاورمغربwal-maghribuفَأَيْنَمَاتو جہاں کہیں / جدھر بھیfa-aynamāتُوَلُّوا۟تم منہ موڑو گےtuwallūفَثَمَّتو وہیں / اسی جگہfathammaوَجْهُذات ہے / چہرہ ہےwajhuٱللَّهِ ۚاللہ کاl-lahiإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaوَٰسِعٌوسعت والا ہےwāsiʿunعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun١١٥
مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رُخ کرو گے ، اسی طرف اللہ کا رُخ ہے1اللہ بڑی وسعت والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔2
۲:۱۱۶
وَقَالُوا۟اور انہوں نے کہاwaqālūٱتَّخَذَبنائی ہےittakhadhaٱللَّهُاللہ نےl-lahuوَلَدًۭا ۗاولادwaladanسُبْحَـٰنَهُۥ ۖپاک ہے وہsub'ḥānahuبَلبلکہbalلَّهُۥاس کے لئے ہےlahuمَاجو کچھفِىمیں ہےٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوںl-samāwātiوَٱلْأَرْضِ ۖاور زمین میں ہےwal-arḍiكُلٌّۭسارے کے سارےkullunلَّهُۥاس کے لئےlahuقَـٰنِتُونَتابع فرمان ہیںqānitūna١١٦
ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اللہ پاک ہے ان باتوں سے اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں، سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں
۲:۱۱۷
بَدِيعُنئے سرے سے پیدا کرنے والا ہےbadīʿuٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کاl-samāwātiوَٱلْأَرْضِ ۖاور زمین کاwal-arḍiوَإِذَااورجبwa-idhāقَضَىٰٓوہ فیصلہ کرتا ہےqaḍāأَمْرًۭاکسی کام کاamranفَإِنَّمَاتو بیشکfa-innamāيَقُولُوہ کہتا ہےyaqūluلَهُۥواسطے اس کےlahuكُنہوجاkunفَيَكُونُتو وہ ہو جاتا ہےfayakūnu١١٧
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے
۲:۱۱۸
وَقَالَاور کہاwaqālaٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaلَانہیںيَعْلَمُونَعلم رکھتےyaʿlamūnaلَوْلَاکیوں نہیںlawlāيُكَلِّمُنَاکلام کرتا ہےyukallimunāٱللَّهُاللہl-lahuأَوْیاawتَأْتِينَآآتی ہمارے پاسtatīnāءَايَةٌۭ ۗکوئی نشانیāyatunكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaقَالَکہا تھاqālaٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaمِنسےminقَبْلِهِمقبل ان کےqablihimمِّثْلَمانندmith'laقَوْلِهِمْ ۘان کی بات کےqawlihimتَشَـٰبَهَتْملتے جلتے ہیںtashābahatقُلُوبُهُمْ ۗدل ان کےqulūbuhumقَدْتحقیقqadبَيَّنَّابیان کردیں ہم نےbayyannāٱلْـَٔايَـٰتِآیاتl-āyātiلِقَوْمٍۢواسطے ایک قومliqawminيُوقِنُونَجو یقین رکھتی ہےyūqinūna١١٨
نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتایا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ ایسی ہی باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔ ان سب (اگلے پچھلے گمراہوں ) کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں۔2 یقین لانے والو ں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں۔3
۲:۱۱۹
إِنَّآبیشک ہم نےinnāأَرْسَلْنَـٰكَبھیجا ہم نے آپ کوarsalnākaبِٱلْحَقِّساتھ حق کےbil-ḥaqiبَشِيرًۭاخوش خبری دینے والاbashīranوَنَذِيرًۭا ۖاورڈرانے والاwanadhīranوَلَااور نہwalāتُسْـَٔلُتم سے سوال کیا جائے گاtus'aluعَنْبارے میںʿanأَصْحَـٰبِساتھیوں کےaṣḥābiٱلْجَحِيمِجہنم کےl-jaḥīmi١١٩
(اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہو گی کہ ) ہم نے تم کو علمِ حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔1 اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں ، ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو
۲:۱۲۰
وَلَناور ہرگز نہیںwalanتَرْضَىٰراضی ہوں گےtarḍāعَنكَآپ سےʿankaٱلْيَهُودُیہودl-yahūduوَلَااورنہwalāٱلنَّصَـٰرَىٰعیسائی/ نصائیl-naṣārāحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāتَتَّبِعَتم پیروی کرنے لگ جاؤtattabiʿaمِلَّتَهُمْ ۗان کے طریقے کیmillatahumقُلْکہہ دیجئےqulإِنَّبیشکinnaهُدَىہدایتhudāٱللَّهِاللہl-lahiهُوَوہ ہیhuwaٱلْهُدَىٰ ۗجو ہدایت ہےl-hudāوَلَئِنِاور البتہ اگرwala-iniٱتَّبَعْتَپیروی کی تم نے/ اتباع کیا تم نےittabaʿtaأَهْوَآءَهُمان کی خواہشات کیahwāahumبَعْدَبعدbaʿdaٱلَّذِىاس کے جوalladhīجَآءَكَآیا تیرے پاسjāakaمِنَسےminaٱلْعِلْمِ ۙعلمl-ʿil'miمَانہیں ہوگالَكَتیرے لئےlakaمِنَسےminaٱللَّهِاللہ (بچانے والا)l-lahiمِنکوئیminوَلِىٍّۢدوستwaliyyinوَلَااورنہwalāنَصِيرٍکوئی مددگارnaṣīrin١٢٠
یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہو نگے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ ورنہ اگر اس علم کے بعد جو تمہارے پس آچکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی ، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے
۲:۱۲۱
ٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaءَاتَيْنَـٰهُمُدی ہم نے ان کوātaynāhumuٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaيَتْلُونَهُۥوہ تلاوت کرتے ہیں اس / وہ پڑھتے ہیں اس کوyatlūnahuحَقَّ(جیسا کہ) حق ہےḥaqqaتِلَاوَتِهِۦٓاس کی تلاوت کاtilāwatihiأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaيُؤْمِنُونَجو ایمان رکھتے ہیںyu'minūnaبِهِۦ ۗساتھ اس کےbihiوَمَناور جو کوئیwamanيَكْفُرْکفر کرے گاyakfurبِهِۦاس کاbihiفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگfa-ulāikaهُمُوہhumuٱلْخَـٰسِرُونَجو خسارہ پانے والے / نقصان اٹھانے والے ہیںl-khāsirūna١٢١
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اُسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنےکا حق ہے۔ وہ اس پر سچّے دل سے ایمان لاتے ہیں۔1 اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہّ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اُٹھانے والے ہیں
۲:۱۲۲
يَـٰبَنِىٓاے بنیyābanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیلis'rāīlaٱذْكُرُوا۟یاد کروudh'kurūنِعْمَتِىَمیری نعمتیںniʿ'matiyaٱلَّتِىٓوہ جوallatīأَنْعَمْتُمیں نے انعام کی تھیںanʿamtuعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumوَأَنِّىاور بیشک میں نےwa-annīفَضَّلْتُكُمْمیں نے فضیلت دی تھی تم کوfaḍḍaltukumعَلَىتمامʿalāٱلْعَـٰلَمِينَدنیا والوں پرl-ʿālamīna١٢٢
1اے بنی اسرائیل !یاد کرو میری وہ نعمت، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی
۲:۱۲۳
وَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūيَوْمًۭااس دن سےyawmanلَّانہیںتَجْزِىکام آئے گاtajzīنَفْسٌکوئی نفسnafsunعَنکسیʿanنَّفْسٍۢنفس کےnafsinشَيْـًۭٔاکچھ بھیshayanوَلَااورنہwalāيُقْبَلُقبول کیا جائے گاyuq'baluمِنْهَااس سےmin'hāعَدْلٌۭکوئی بدلہʿadlunوَلَااورنہwalāتَنفَعُهَانفع دے گی اس کوtanfaʿuhāشَفَـٰعَةٌۭکوئی سفارشshafāʿatunوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيُنصَرُونَمدد کئیے جائیں گےyunṣarūna١٢٣
اور ڈرو اُس دن سے، جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش ہی آدمی کو فائدہ دے گی، اور نہ مجرموں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکے گی
۲:۱۲۴
۞ وَإِذِاور جبwa-idhiٱبْتَلَىٰٓآزمایاib'talāإِبْرَٰهِـۧمَابراہیم کوib'rāhīmaرَبُّهُۥاس کے رب نےrabbuhuبِكَلِمَـٰتٍۢساتھ چند باتوں کےbikalimātinفَأَتَمَّهُنَّ ۖتو اس نے پورا کردیا ان کوfa-atammahunnaقَالَفرمایاqālaإِنِّىبیشک میںinnīجَاعِلُكَبنانے والا ہوں تجھ کوjāʿilukaلِلنَّاسِلوگوں کے لئےlilnnāsiإِمَامًۭا ۖامامimāmanقَالَکہا (ابراہیم نے)qālaوَمِناور میں سےwaminذُرِّيَّتِى ۖمیری اولادdhurriyyatīقَالَفرمایاqālaلَانہیںيَنَالُپہنچے گاyanāluعَهْدِىمیرا عہدʿahdīٱلظَّـٰلِمِينَظالموں کوl-ẓālimīna١٢٤
یاد کرو کہ جب ابرہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا1 اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا : ”میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں“۔ ابرہیم ؑنے عرض کیا : ”اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے“؟ اس نے جواب دیا:”میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے“2
۲:۱۲۵
وَإِذْاور جبwa-idhجَعَلْنَابنایا ہم نےjaʿalnāٱلْبَيْتَاس گھر ( خانہ کعبہ کو)l-baytaمَثَابَةًۭلوٹنے کی جگہ/ مرجعmathābatanلِّلنَّاسِلوگوں کے لئےlilnnāsiوَأَمْنًۭااور امن کی جگہwa-amnanوَٱتَّخِذُوا۟اور بنالوwa-ittakhidhūمِنسے / کوminمَّقَامِمقامmaqāmiإِبْرَٰهِـۧمَابراہیم کوib'rāhīmaمُصَلًّۭى ۖنماز کی جگmuṣallanوَعَهِدْنَآاور حکم دیا ہم / تاکید کی ہم نے / عہد لیا ہم نےwaʿahid'nāإِلَىٰٓسےilāإِبْرَٰهِـۧمَابراھیمib'rāhīmaوَإِسْمَـٰعِيلَاور اسماعیل سےwa-is'māʿīlaأَنیہ کہanطَهِّرَاتم دونوں پاک و صاف کردوṭahhirāبَيْتِىَمیرے گھر کوbaytiyaلِلطَّآئِفِينَواسطے ان کے جو طواف کرنے والے ہیںlilṭṭāifīnaوَٱلْعَـٰكِفِينَاور جو اعتکاف کرنے والے ہیںwal-ʿākifīnaوَٱلرُّكَّعِاور رکوع کرنے والے ہیںwal-rukaʿiٱلسُّجُودِاور سجدہ کرنے والے ہیںl-sujūdi١٢٥
اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیاتھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہو تا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو، اور ابرہیم ؑاور اسماعیل ؑ کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اورسجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔1
۲:۱۲۶
وَإِذْاور جبwa-idhقَالَکہاqālaإِبْرَٰهِـۧمُابراہیم نےib'rāhīmuرَبِّاے میرے ربrabbiٱجْعَلْتو بتادےij'ʿalهَـٰذَااسhādhāبَلَدًااس شہر کوbaladanءَامِنًۭاامن والاāminanوَٱرْزُقْاوررزق دےwa-ur'zuqأَهْلَهُۥاس کے رہنے والوں کوahlahuمِنَمیں سےminaٱلثَّمَرَٰتِپھلوںl-thamarātiمَنْجوmanءَامَنَایما لائیں گےāmanaمِنْهُمان میں سےmin'humبِٱللَّهِساتھ اللہ کےbil-lahiوَٱلْيَوْمِاوردنwal-yawmiٱلْـَٔاخِرِ ۖآخرت کےl-ākhiriقَالَفرمایاqālaوَمَناور جس نےwamanكَفَرَکفر کیاkafaraفَأُمَتِّعُهُۥتو میں اس کو فائدہ اٹھانے دوں گاfa-umattiʿuhuقَلِيلًۭاتھوڑا ساqalīlanثُمَّپھرthummaأَضْطَرُّهُۥٓمیں مجبور کروں گا اس کو / گھسیٹوں گا اس کوaḍṭarruhuإِلَىٰطرفilāعَذَابِعذاب کےʿadhābiٱلنَّارِ ۖآگ کےl-nāriوَبِئْسَبہت ہی بری ہےwabi'saٱلْمَصِيرُلوٹنے کی جگہl-maṣīru١٢٦
اور یہ کہ ابراھیم ؑ نے دعا کی : ”اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندو ں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، انھیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے۔“ جو اب میں اس کے رب نے فرمایا ”اور جو نہ مانیں گا ، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا، 1مگر آخر کار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے۔“
۲:۱۲۷
وَإِذْاور جبwa-idhيَرْفَعُبلند کر رہے تھےyarfaʿuإِبْرَٰهِـۧمُابراہیمib'rāhīmuٱلْقَوَاعِدَبنیادیںl-qawāʿidaمِنَکیminaٱلْبَيْتِگھرl-baytiوَإِسْمَـٰعِيلُاوراسماعیل (وہ کہہ رہے تھے)wa-is'māʿīluرَبَّنَااے ہمارے ربrabbanāتَقَبَّلْتو قبول فرماtaqabbalمِنَّآ ۖہم سےminnāإِنَّكَبیشک توinnakaأَنتَتو ہی ہےantaٱلسَّمِيعُجو سننے والا ہےl-samīʿuٱلْعَلِيمُجو جاننے والا ہےl-ʿalīmu١٢٧
اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: "اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے
۲:۱۲۸
رَبَّنَااے ہمارے ربrabbanāوَٱجْعَلْنَااور بنا ہم کوwa-ij'ʿalnāمُسْلِمَيْنِفرماں بردارmus'limayniلَكَاپنے لئےlakaوَمِناورwaminذُرِّيَّتِنَآہماری اولاد میں سےdhurriyyatināأُمَّةًۭایک امت / ایک جماعتummatanمُّسْلِمَةًۭجو فرماں بردار ہو / تابع دار ہوmus'limatanلَّكَتیرے لئےlakaوَأَرِنَااوردکھا ہم کوwa-arināمَنَاسِكَنَاہماری عبادت کے طریقےmanāsikanāوَتُبْاورمہربان ہوwatubعَلَيْنَآ ۖہم پرʿalaynāإِنَّكَبیشک توinnakaأَنتَتو ہیantaٱلتَّوَّابُجو توبہ قبول کرنے والا ہےl-tawābuٱلرَّحِيمُبار بار رحم کرنے والا ہےl-raḥīmu١٢٨
اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
۲:۱۲۹
رَبَّنَااے ہمارے ربrabbanāوَٱبْعَثْاور بھیج / اٹھاwa-ib'ʿathفِيهِمْان میںfīhimرَسُولًۭاایک رسول کوrasūlanمِّنْهُمْانہی میں سےmin'humيَتْلُوا۟جو پڑھے / تلاوت کرتا ہوyatlūعَلَيْهِمْان پرʿalayhimءَايَـٰتِكَتیری آیاتāyātikaوَيُعَلِّمُهُمُاورتعلیم دے ان کو / سکھاتا ہو ان کوwayuʿallimuhumuٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaوَٱلْحِكْمَةَاور حکمتwal-ḥik'mataوَيُزَكِّيهِمْ ۚاورتزکیہ کرے ان کاwayuzakkīhimإِنَّكَبیشک توinnakaأَنتَتو ہیantaٱلْعَزِيزُجو زبردست ہےl-ʿazīzuٱلْحَكِيمُجو حکمت والا ہےl-ḥakīmu١٢٩
اور اے رب ، ان لوگوں میں خود انھیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انھیں تیری آیات سنائے ، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے1۔ تُو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔“2
۲:۱۳۰
وَمَناور کون ہے جوwamanيَرْغَبُمنہ موڑےyarghabuعَنسےʿanمِّلَّةِطریقےmillatiإِبْرَٰهِـۧمَابراہیم کےib'rāhīmaإِلَّامگرillāمَنجو جس سےmanسَفِهَناقص ثابت کیا / بیوقوف بنایاsafihaنَفْسَهُۥ ۚاپنے آپ کوnafsahuوَلَقَدِاورالبتہ تحقیقwalaqadiٱصْطَفَيْنَـٰهُچن لیا تھا ہم نے اس کوiṣ'ṭafaynāhuفِىمیںٱلدُّنْيَا ۖدنیاl-dun'yāوَإِنَّهُۥاور بیشک وہwa-innahuفِىمیںٱلْـَٔاخِرَةِآخرتl-ākhiratiلَمِنَضرور ان میں سے ہوگا جو نیک ہیںlaminaٱلصَّـٰلِحِينَضرور ان میں سے ہوگا جو نیک ہیںl-ṣāliḥīna١٣٠
اب کون ہے، جو ابراہیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو، اس کے سو ا کون یہ حرکت کرسکتا ہے؟ ابراہیمؑ تو وہ شخص ہے، جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہوگا
۲:۱۳۱
إِذْجبidhقَالَکہاqālaلَهُۥاس کوlahuرَبُّهُۥٓاس کے رب نےrabbuhuأَسْلِمْ ۖفرماں بردار ہوجا / جھک جاaslimقَالَاس نے کہاqālaأَسْلَمْتُمیں فرماں بردار ہوگیا / میں جھک گیاaslamtuلِرَبِّرب کے لئےlirabbiٱلْعَـٰلَمِينَالعالمینl-ʿālamīna١٣١
اس کا حال یہ تھاکہ جب اس کے رب نے اس سے کہا، ”مسلم ہوجا 1،“ تو اس نے فوراً کہا ”میں مالک کائنات کا ”مسلم“ہو گیا۔“
۲:۱۳۲
وَوَصَّىٰاور وصیت کیwawaṣṣāبِهَآساتھ اس کے / اسی کیbihāإِبْرَٰهِـۧمُابراہیم نےib'rāhīmuبَنِيهِاپنے بیٹوں کوbanīhiوَيَعْقُوبُاوریعقوب نےwayaʿqūbuيَـٰبَنِىَّاے میرے بیٹوyābaniyyaإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ نےl-lahaٱصْطَفَىٰچن لیاiṣ'ṭafāلَكُمُتمہارے لئےlakumuٱلدِّينَدین کوl-dīnaفَلَاتو نہfalāتَمُوتُنَّتم مرناtamūtunnaإِلَّامگرillāوَأَنتُماس میں حال میں کہ تمwa-antumمُّسْلِمُونَمسلم ہوmus'limūna١٣٢
اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوب ؑ 1اپنی اولاد کو کر گیا۔ اس نے کہا تھا کہ ”میرے بچو، اللہ نے تمھارے لیے یہی دین پسند کیا ہے۔2 لہٰذا مرتے دم تک تم مسلم ہی رہنا۔“
۲:۱۳۳
أَمْیاamكُنتُمْتھے تمkuntumشُهَدَآءَحاضر / موجودshuhadāaإِذْجبidhحَضَرَآرہی تھیḥaḍaraيَعْقُوبَیعقوب کوyaʿqūbaٱلْمَوْتُموتl-mawtuإِذْجبidhقَالَکہا اس نےqālaلِبَنِيهِاپنے بیٹوں سےlibanīhiمَاکس کیتَعْبُدُونَتم عبادت کرو گےtaʿbudūnaمِنۢfromminبَعْدِىمیرے بعدbaʿdīقَالُوا۟انہوں ے کہاqālūنَعْبُدُہم عبادت کریں گےnaʿbuduإِلَـٰهَكَتیرے الٰہ کیilāhakaوَإِلَـٰهَاور الٰہ (معبود کی)wa-ilāhaءَابَآئِكَتیرے آباؤ اجداد کےābāikaإِبْرَٰهِـۧمَ(یعنی) ابراہیم کےib'rāhīmaوَإِسْمَـٰعِيلَاور اسماعیل کےwa-is'māʿīlaوَإِسْحَـٰقَاوراسحاق کےwa-is'ḥāqaإِلَـٰهًۭاالہilāhanوَٰحِدًۭاایک کیwāḥidanوَنَحْنُاور ہمwanaḥnuلَهُۥاس کے لئیےlahuمُسْلِمُونَفرماں بردار ہیںmus'limūna١٣٣
پھر کیا تم اس وقت موجو د تھے جب یعقوب ؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟ اس نے مر تے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ”بچو!میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟“ ان سب نے جواب دیا ”ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے ، جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراھیم ؑ ، اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ نے خدا مانا ہےاور ہم اسی کے مسلم ہیں۔1“
۲:۱۳۴
تِلْكَیہtil'kaأُمَّةٌۭایک امت تھیummatunقَدْتحقیقqadخَلَتْ ۖگزر گئیkhalatلَهَااس کے لئے وہlahāمَاجوكَسَبَتْکمایا اس نےkasabatوَلَكُماور تمہارے لئےwalakumمَّاجوكَسَبْتُمْ ۖکمائی کی تم نےkasabtumوَلَااورنہwalāتُسْـَٔلُونَتم سوال کئے جاؤ گےtus'alūnaعَمَّااس کے بارے میں جوʿammāكَانُوا۟وہ تھےkānūيَعْمَلُونَوہ عمل کرتے تھےyaʿmalūna١٣٤
وہ کچھ لوگ تھے ، جو گزر گئے۔ جو کچھ انھوں نے کمایا۔ وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے ،وہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔1
۲:۱۳۵
وَقَالُوا۟اور انہوں نے کہاwaqālūكُونُوا۟ہوجاؤkūnūهُودًایہودیhūdanأَوْیاawنَصَـٰرَىٰعیسائیnaṣārāتَهْتَدُوا۟ ۗتم سب ہدایت پا جاؤ گےtahtadūقُلْکہہ دیجئےqulبَلْ(نہیں) بلکہbalمِلَّةَطریقہmillataإِبْرَٰهِـۧمَابراہیم کاib'rāhīmaحَنِيفًۭا ۖجو یکسو تھےḥanīfanوَمَااورنہیںwamāكَانَتھے وہkānaمِنَسےminaٱلْمُشْرِكِينَمشرکین میں سےl-mush'rikīna١٣٥
یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے۔ عیسا ئی کہتے ہیں : عیسائی ہو ، تو ہدایت ملے گی۔ ان سے کہو: ”نہیں ، بلکہ سب کو چھوڑکر ابراھیم ؑ کا طریقہ۔ اور ابراھیم ؑ مشرکوں میں سے نہ تھا۔1“
۲:۱۳۶
قُولُوٓا۟تم سب کہوqūlūءَامَنَّاایمان لائے ہمāmannāبِٱللَّهِساتھ اللہ کےbil-lahiوَمَآاور جوwamāأُنزِلَنازل کیا گیاunzilaإِلَيْنَاہماری طرفilaynāوَمَآاورجوwamāأُنزِلَنازل کیا گیاunzilaإِلَىٰٓطرفilāإِبْرَٰهِـۧمَابراہیم کےib'rāhīmaوَإِسْمَـٰعِيلَاوراسماعیل کےwa-is'māʿīlaوَإِسْحَـٰقَاوراسحاق کےwa-is'ḥāqaوَيَعْقُوبَاوریعقوب کےwayaʿqūbaوَٱلْأَسْبَاطِاور اولاد یعقوب کےwal-asbāṭiوَمَآاور جوwamāأُوتِىَدیئے گئےūtiyaمُوسَىٰموسیmūsāوَعِيسَىٰاور عیسیwaʿīsāوَمَآاور جوwamāأُوتِىَدئیے گئےūtiyaٱلنَّبِيُّونَانبیاءl-nabiyūnaمِنطرف سےminرَّبِّهِمْاپنے رب کیrabbihimلَانہیںنُفَرِّقُہم فرق کرتےnufarriquبَيْنَدرمیانbaynaأَحَدٍۢکسی ایک کےaḥadinمِّنْهُمْان میں سےmin'humوَنَحْنُاور ہمwanaḥnuلَهُۥواسطے اسی کےlahuمُسْلِمُونَفرماں بردار ہیںmus'limūna١٣٦
مسلمانو! کہو کہ ”ہم ایمان لائے او راس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراھیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور اولاد یعقوب ؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ ؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتےاور ہم اللہ کے مسلم ہیں 1۔“
۲:۱۳۷
فَإِنْپھر اگرfa-inءَامَنُوا۟وہ ایمان لائیںāmanūبِمِثْلِمانند اس کےbimith'liمَآجوءَامَنتُمایمان لائے تمāmantumبِهِۦساتھ اس کےbihiفَقَدِتو بلاشبہfaqadiٱهْتَدَوا۟ ۖوہ ہدایت پاگئےih'tadawوَّإِناور اگرwa-inتَوَلَّوْا۟وہ منہ پھیریںtawallawفَإِنَّمَاتو بیشکfa-innamāهُمْوہhumفِىمیں ہیںشِقَاقٍۢ ۖضد / مخالفتshiqāqinفَسَيَكْفِيكَهُمُتو عنقریب کافی ہوگا تجھ کو ان کی طرف سےfasayakfīkahumuٱللَّهُ ۚاللہl-lahuوَهُوَاور وہwahuwaٱلسَّمِيعُسننے والا ہےl-samīʿuٱلْعَلِيمُجاننے والا ہےl-ʿalīmu١٣٧
پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں، جس طرح تم لائے ہو، تو ہدایت پر ہیں، اور اگراس سے منہ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں لہٰذا اطمینان رکھو کہ اُن کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
۲:۱۳۸
صِبْغَةَرنگṣib'ghataٱللَّهِ ۖاللہl-lahiوَمَنْاور کونwamanأَحْسَنُزیادہ اچھا ہےaḥsanuمِنَسےminaٱللَّهِاللہl-lahiصِبْغَةًۭ ۖرنگ میںṣib'ghatanوَنَحْنُاور ہمwanaḥnuلَهُۥاس کے لئےlahuعَـٰبِدُونَعبادت کرنے والے ہیںʿābidūna١٣٨
کہو:”اللہ کا رنگ اختیار کرو۔1 اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔“
۲:۱۳۹
قُلْکہہ دوqulأَتُحَآجُّونَنَاکیا تم جھگڑا کرتے ہو ہم سےatuḥājjūnanāفِىبارے میںٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَهُوَحالانکہ وہwahuwaرَبُّنَاہمارا رب ہےrabbunāوَرَبُّكُمْاور تمہارا رب اورwarabbukumوَلَنَآہمارے لئےwalanāأَعْمَـٰلُنَاہمارے اعمالaʿmālunāوَلَكُمْاور تمہارے لئےwalakumأَعْمَـٰلُكُمْتمہارے اعمالaʿmālukumوَنَحْنُاور ہمwanaḥnuلَهُۥاس کے لئیےlahuمُخْلِصُونَمخلص ہیںmukh'liṣūna١٣٩
اے نبی! ان سے کہو: ”کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔1 ہمارے اعمال ہمارے لیے تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں۔2
۲:۱۴۰
أَمْیاamتَقُولُونَتم کہتے ہوtaqūlūnaإِنَّبیشکinnaإِبْرَٰهِـۧمَابراہیمib'rāhīmaوَإِسْمَـٰعِيلَاور اسماعیلwa-is'māʿīlaوَإِسْحَـٰقَاوراسحاقwa-is'ḥāqaوَيَعْقُوبَاوریعقوبwayaʿqūbaوَٱلْأَسْبَاطَاوراولاد یعقوبwal-asbāṭaكَانُوا۟وہ سب تھkānūهُودًایہودیhūdanأَوْیاawنَصَـٰرَىٰ ۗنَصَٰرَىٰnaṣārāقُلْکہہ دیجئےqulءَأَنتُمْکیا تمa-antumأَعْلَمُزیادہ جانتے ہوaʿlamuأَمِیاamiٱللَّهُ ۗاللہl-lahuوَمَنْاور کونwamanأَظْلَمُبڑا ظالم ہےaẓlamuمِمَّناس سے جوmimmanكَتَمَچھپائےkatamaشَهَـٰدَةًگواہی کوshahādatanعِندَهُۥجو اس کے پاس ہےʿindahuمِنَکی طرف سےminaٱللَّهِ ۗاللہl-lahiوَمَااور نہیںwamāٱللَّهُاللہl-lahuبِغَـٰفِلٍغافلbighāfilinعَمَّااس سے جوʿammāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūna١٤٠
یا پھر کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراھیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور اولاد یعقو ب ؑ سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو ”تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟1 اس شخص سے بڑا ظالم اور کو ن ہو گا، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے ؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے۔2
۲:۱۴۱
تِلْكَیہtil'kaأُمَّةٌۭامت تھیummatunقَدْتحقیقqadخَلَتْ ۖگزر چکیkhalatلَهَااس کے لئےlahāمَاجوكَسَبَتْکمایا اس نےkasabatوَلَكُماور تمہارے لئےwalakumمَّاجوكَسَبْتُمْ ۖکمایا تم نےkasabtumوَلَااور نہwalāتُسْـَٔلُونَتم سوال کئے جاؤ گےtus'alūnaعَمَّااس کے بارے میں جوʿammāكَانُوا۟تھے وہkānūيَعْمَلُونَوہ عمل کرتےyaʿmalūna١٤١
وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر چکے اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا"
۲:۱۴۲
۞ سَيَقُولُعنقریب کہیں گےsayaqūluٱلسُّفَهَآءُنادان/بے وقوفl-sufahāuمِنَسےminaٱلنَّاسِلوگوں میںl-nāsiمَاکس نےوَلَّىٰهُمْپھیر دیا ان کوwallāhumعَنسےʿanقِبْلَتِهِمُان کے قبلےqib'latihimuٱلَّتِىوہ جوallatīكَانُوا۟تھے وہkānūعَلَيْهَا ۚاس پرʿalayhāقُلکہہ دیجیےqulلِّلَّهِاللہ ہی کے لیے ہےlillahiٱلْمَشْرِقُمشرقl-mashriquوَٱلْمَغْرِبُ ۚاور مغربwal-maghribuيَهْدِىوہ ہدایت دیتا ہےyahdīمَنجسےmanيَشَآءُوہ چاہتا ہےyashāuإِلَىٰطرفilāصِرَٰطٍۢراستےṣirāṭinمُّسْتَقِيمٍۢسیدھے کےmus'taqīmin١٤٢
نادان لوگ ضرور کہیں گے :اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے تھے ، اس سے یکایک پھر گئے1 ؟ اے نبیؐ ، ان سے کہو : ”مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ،سیدھی راہ دکھاتا ہے۔2
۲:۱۴۳
وَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaجَعَلْنَـٰكُمْبنایا ہم نے تمہیںjaʿalnākumأُمَّةًۭایک امتummatanوَسَطًۭاوسط/درمیانیwasaṭanلِّتَكُونُوا۟تاکہ تم ہوجاؤlitakūnūشُهَدَآءَگواہshuhadāaعَلَىپرʿalāٱلنَّاسِلوگوںl-nāsiوَيَكُونَاور ہوجائےwayakūnaٱلرَّسُولُرسولl-rasūluعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumشَهِيدًۭا ۗگواہshahīdanوَمَااور نہیںwamāجَعَلْنَابنایا ہم نےjaʿalnāٱلْقِبْلَةَاس قبلہ کوl-qib'lataٱلَّتِىوہ جوallatīكُنتَتھے آپkuntaعَلَيْهَآجس پرʿalayhāإِلَّامگرillāلِنَعْلَمَتاکہ ہم جان لیںlinaʿlamaمَنکونmanيَتَّبِعُپیروی کرتا ہےyattabiʿuٱلرَّسُولَرسول کیl-rasūlaمِمَّناس سے جوmimmanيَنقَلِبُپلٹ جاتا ہےyanqalibuعَلَىٰپرʿalāعَقِبَيْهِ ۚاپنی دونوں ایڑیوںʿaqibayhiوَإِناور بلاشبہwa-inكَانَتْتھی (یہ بات)kānatلَكَبِيرَةًیقیناً بڑا بھاریlakabīratanإِلَّامگرillāعَلَىپرʿalāٱلَّذِينَان لوگوں(جنہیں)alladhīnaهَدَىہدایت دیhadāٱللَّهُ ۗاللہ نےl-lahuوَمَااور نہیںwamāكَانَہےkānaٱللَّهُاللہl-lahuلِيُضِيعَکہ ضائع کردےliyuḍīʿaإِيمَـٰنَكُمْ ۚایمان تمہاراīmānakumإِنَّبےشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaبِٱلنَّاسِلوگوں پرbil-nāsiلَرَءُوفٌۭیقیناً شفقت کرنے والاlaraūfunرَّحِيمٌۭنہایت رحم کرنے والاہےraḥīmun١٤٣
اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”اُمّتِ وَسَط“بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رُسول تم پر گواہ ہو۔1 پہلے جس طرف تم رُخ کرتے تھے ، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رُسول کی پیروی کرتا ہے اور کو ن اُلٹا پھر جاتا ہے۔2 یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت ، مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا ، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے ، اللہ تمہارے اس ایمان کو ہر گز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے
۲:۱۴۴
قَدْتحقیقqadنَرَىٰہم دیکھتے ہیںnarāتَقَلُّبَبار بار پھیرناtaqallubaوَجْهِكَآپ کے چہرہ کاwajhikaفِىمیںٱلسَّمَآءِ ۖآسمان کی طرفl-samāiفَلَنُوَلِّيَنَّكَپس البتہ ہم ضرور پھیر دیں گے آپ کوfalanuwalliyannakaقِبْلَةًۭاس قبلہ (کی طرف )qib'latanتَرْضَىٰهَا ۚآپ راضی ہوجائیں جس سےtarḍāhāفَوَلِّپس پھیر لیجیےfawalliوَجْهَكَاپنے چہرے کوwajhakaشَطْرَطرفshaṭraٱلْمَسْجِدِمسجدl-masjidiٱلْحَرَامِ ۚحرام کےl-ḥarāmiوَحَيْثُاور جہاں کہیںwaḥaythuمَاہوكُنتُمْہو تمkuntumفَوَلُّوا۟پس پھیر لوfawallūوُجُوهَكُمْاپنے چہروں کوwujūhakumشَطْرَهُۥ ۗطرف اس کےshaṭrahuوَإِنَّاور بےشکwa-innaٱلَّذِينَوہ جوalladhīnaأُوتُوا۟دیے گئےūtūٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaلَيَعْلَمُونَالبتہ وہ جانتے ہیںlayaʿlamūnaأَنَّهُبےشک وہannahuٱلْحَقُّحق ہےl-ḥaquمِنسےminرَّبِّهِمْ ۗان کے رب کی طرفrabbihimوَمَااور نہیںwamāٱللَّهُاللہl-lahuبِغَـٰفِلٍغافلbighāfilinعَمَّااس سے جوʿammāيَعْمَلُونَوہ عمل کرتے ہیںyaʿmalūna١٤٤
یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدِ حرام کی طرف رُخ پھیردو۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔1یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خُوب جانتے ہیں کہ(تحویلِ قبلہ کا )یہ حکم ان کے ربّ ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں،اللہ اس سے غافل نہیں ہے
۲:۱۴۵
وَلَئِنْاور البتہ اگرwala-inأَتَيْتَلائیں آپ (ان کے پاس)ataytaٱلَّذِينَوہ جوalladhīnaأُوتُوا۟دیئے گئےūtūٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaبِكُلِّہرbikulliءَايَةٍۢنشانیāyatinمَّانہیںتَبِعُوا۟وہ پیروی کریں گےtabiʿūقِبْلَتَكَ ۚآپ کے قبلے کیqib'latakaوَمَآاور نہیںwamāأَنتَآپantaبِتَابِعٍۢپیروی کرنے والےbitābiʿinقِبْلَتَهُمْ ۚان کے قبلے کیqib'latahumوَمَااور نہwamāبَعْضُهُمبعض ان کاbaʿḍuhumبِتَابِعٍۢپیروی کرنے والا ہےbitābiʿinقِبْلَةَقبلہ کیqib'lataبَعْضٍۢ ۚبعض کےbaʿḍinوَلَئِنِاور البتہ اگرwala-iniٱتَّبَعْتَپیروی کی آپ نےittabaʿtaأَهْوَآءَهُمان کی خواہشات کیahwāahumمِّنۢسےminبَعْدِبعد اس کےbaʿdiمَاجوجَآءَكَآ گیا آپ کے پاسjāakaمِنَسےminaٱلْعِلْمِ ۙعلم میںl-ʿil'miإِنَّكَبےشک آپinnakaإِذًۭاتبidhanلَّمِنَضرورlaminaٱلظَّـٰلِمِينَظالموں میں سے ہوں گےl-ẓālimīna١٤٥
تم ان اہلِ کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آوٴ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دُوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں، اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی ، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔1
۲:۱۴۶
ٱلَّذِينَوہ لوگ جوalladhīnaءَاتَيْنَـٰهُمُدی ہم نے انہیںātaynāhumuٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaيَعْرِفُونَهُۥوہ پہچانتے ہیں اسےyaʿrifūnahuكَمَاجیسا کہkamāيَعْرِفُونَوہ پہچانتے ہیںyaʿrifūnaأَبْنَآءَهُمْ ۖاپنے بیٹوں کوabnāahumوَإِنَّاور بےشکwa-innaفَرِيقًۭاایک گروہ (کے لوگ)farīqanمِّنْهُمْان میں سےmin'humلَيَكْتُمُونَالبتہ وہ چھپاتے ہیںlayaktumūnaٱلْحَقَّحق کوl-ḥaqaوَهُمْحالانکہ وہwahumيَعْلَمُونَوہ جانتے ہیںyaʿlamūna١٤٦
جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اس مقام کو(جسے قبلہ بنایا گیا ہے) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،1 مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے
۲:۱۴۷
ٱلْحَقُّحقal-ḥaquمِنسےminرَّبِّكَ ۖآپ کے رب کی طرفrabbikaفَلَاپس نہfalāتَكُونَنَّہرگز ہوں آپtakūnannaمِنَسےminaٱلْمُمْتَرِينَشک کرنے والوں میں سےl-mum'tarīna١٤٧
یہ قطعی ایک امر حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو
۲:۱۴۸
وَلِكُلٍّۢاور ہر ایک کےلیےwalikullinوِجْهَةٌایک سمت ہےwij'hatunهُوَوہhuwaمُوَلِّيهَا ۖمنہ پھیرنے والا ہے اس کی طرفmuwallīhāفَٱسْتَبِقُوا۟پس سبقت کروfa-is'tabiqūٱلْخَيْرَٰتِ ۚنیکیوں میںl-khayrātiأَيْنَجہاں کہیں بھیaynaمَابھیتَكُونُوا۟تم ہو گےtakūnūيَأْتِلے آئے گاyatiبِكُمُتمہیںbikumuٱللَّهُاللہl-lahuجَمِيعًا ۚسب کوjamīʿanإِنَّبےشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaعَلَىٰاوپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز کےshayinقَدِيرٌۭخوب قدرت رکھنے والا ہےqadīrun١٤٨
ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔1 جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں
۲:۱۴۹
وَمِنْاور سےwaminحَيْثُجہاں کہیںḥaythuخَرَجْتَتم نکلوkharajtaفَوَلِّتو پھیر لوfawalliوَجْهَكَاپنے چہرے کوwajhakaشَطْرَطرفshaṭraٱلْمَسْجِدِمسجدl-masjidiٱلْحَرَامِ ۖحرام کےl-ḥarāmiوَإِنَّهُۥاور بیشک وہwa-innahuلَلْحَقُّالبتہ حق ہےlalḥaqquمِنسےminرَّبِّكَ ۗتیرے رب کی طرفrabbikaوَمَااور نہیں ہےwamāٱللَّهُاللہl-lahuبِغَـٰفِلٍغافلbighāfilinعَمَّااس سے جوʿammāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūna١٤٩
تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو، وہیں اپنا رُخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل حق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے
۲:۱۵۰
وَمِنْاور سےwaminحَيْثُجہاں کہیںḥaythuخَرَجْتَتم نکلوkharajtaفَوَلِّتو پھیر لوfawalliوَجْهَكَاپنا چہرہwajhakaشَطْرَطرفshaṭraٱلْمَسْجِدِمسجدl-masjidiٱلْحَرَامِ ۚحرام کےl-ḥarāmiوَحَيْثُاور جہاں کہیں بھیwaḥaythuمَابھیكُنتُمْہو تمkuntumفَوَلُّوا۟تو پھیر لو۔ کرلوfawallūوُجُوهَكُمْاپنے چہروں کوwujūhakumشَطْرَهُۥاس کی طرفshaṭrahuلِئَلَّاتاکہ نہli-allāيَكُونَہوyakūnaلِلنَّاسِلوگوں کے لیےlilnnāsiعَلَيْكُمْتمہارے خلافʿalaykumحُجَّةٌکوئی حجتḥujjatunإِلَّاسوائےillāٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaظَلَمُوا۟جنہوں نے ظلم کیاẓalamūمِنْهُمْان میں سےmin'humفَلَاتو نہfalāتَخْشَوْهُمْتم ڈرو ان سےtakhshawhumوَٱخْشَوْنِىبلکہ ڈرو مجھ سےwa-ikh'shawnīوَلِأُتِمَّاور اس لیے کہ میں پورا کردوںwali-utimmaنِعْمَتِىاپنی نعمت کوniʿ'matīعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumوَلَعَلَّكُمْاور تاکہ تمwalaʿallakumتَهْتَدُونَتم ہدایت پاجاؤtahtadūna١٥٠
اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے۔1 ہاں جو ظالم ہیں ، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تو اُن سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں2 اور اس توقع پر 3کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاوٴ گے
۲:۱۵۱
كَمَآجیسا کہkamāأَرْسَلْنَابھیجا ہم نےarsalnāفِيكُمْتم میںfīkumرَسُولًۭاایک رسولrasūlanمِّنكُمْتم میں سےminkumيَتْلُوا۟وہ تلاوت کرتا ہےyatlūعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumءَايَـٰتِنَاہماری آیاتāyātināوَيُزَكِّيكُمْوہ پاک کرتا ہے تمہیںwayuzakkīkumوَيُعَلِّمُكُمُاور وہ سکھاتا ہے تم کوwayuʿallimukumuٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaوَٱلْحِكْمَةَاور حکمتwal-ḥik'mataوَيُعَلِّمُكُماور سکھاتا ہے تمہیںwayuʿallimukumمَّاجولَمْنہیںlamتَكُونُوا۟تھے تمtakūnūتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna١٥١
جس طرح (تمہیں اِس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ) میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے، جو تم نہ جانتے تھے
۲:۱۵۲
فَٱذْكُرُونِىٓپس یاد کرو مجھےfa-udh'kurūnīأَذْكُرْكُمْمیں یاد کروں گا تم کوadhkur'kumوَٱشْكُرُوا۟اور شکر کروwa-ush'kurūلِىمیرے لیےوَلَااور نہwalāتَكْفُرُونِتم ناشکری کرو میریtakfurūni١٥٢
لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو
۲:۱۵۳
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگو !alladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے ہوāmanūٱسْتَعِينُوا۟تم مدد مانگوis'taʿīnūبِٱلصَّبْرِصبر کے ذریعےbil-ṣabriوَٱلصَّلَوٰةِ ۚاور نماز کے ذریعےwal-ṣalatiإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaمَعَساتھ ہےmaʿaٱلصَّـٰبِرِينَصبر کرنے والوں کےl-ṣābirīna١٥٣
1اے لوگو جو ایمان لائے ہو صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔2
۲:۱۵۴
وَلَااور نہwalāتَقُولُوا۟تم کہا کروtaqūlūلِمَنواسطے اس کےlimanيُقْتَلُجو قتل کردیا جائےyuq'taluفِىمیںسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiأَمْوَٰتٌۢ ۚوہ مردہ ہیںamwātunبَلْ(نہیں) بلکہbalأَحْيَآءٌۭزندہ ہیںaḥyāonوَلَـٰكِنلیکن۔ مگرwalākinلَّانہیںتَشْعُرُونَتم شعور رکھتےtashʿurūna١٥٤
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، انہیں مُردہ نہ کہو ، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوت1ا
۲:۱۵۵
وَلَنَبْلُوَنَّكُماور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تم کوwalanabluwannakumبِشَىْءٍۢساتھ چند چیزوں کےbishayinمِّنَسےminaٱلْخَوْفِ(یعنی) خوف سےl-khawfiوَٱلْجُوعِاور بھوک سےwal-jūʿiوَنَقْصٍۢاور نقصان کرناwanaqṣinمِّنَسےminaٱلْأَمْوَٰلِمالوںl-amwāliوَٱلْأَنفُسِاور نفسوں سےwal-anfusiوَٱلثَّمَرَٰتِ ۗاور پھلوں سےwal-thamarātiوَبَشِّرِاور خوشخبری دے دوwabashiriٱلصَّـٰبِرِينَان کو جو صبر کرنے والے ہیںl-ṣābirīna١٥٥
اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے
۲:۱۵۶
ٱلَّذِينَیہ وہ لوگ ہیںalladhīnaإِذَآجبidhāأَصَـٰبَتْهُمپہنچتی ہے ان کوaṣābathumمُّصِيبَةٌۭکوئی پہنچنے والیmuṣībatunقَالُوٓا۟وہ کہتے ہیںqālūإِنَّابیشک ہمinnāلِلَّهِاللہ کے لیے ہیںlillahiوَإِنَّآاور بیشک ہمwa-innāإِلَيْهِاسی کی طرفilayhiرَٰجِعُونَلوٹ کر جانے والے ہیںrājiʿūna١٥٦
ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے ، تو کہیں کہ ”ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جا نا ہے1،“
۲:۱۵۷
أُو۟لَـٰٓئِكَیہی وہ لوگ ہیںulāikaعَلَيْهِمْجن پر ہیںʿalayhimصَلَوَٰتٌۭرحمتیں۔ ۔ نوازشیں۔ عنایتیںṣalawātunمِّنسےminرَّبِّهِمْان کے رب کی طرفrabbihimوَرَحْمَةٌۭ ۖاور رحمتwaraḥmatunوَأُو۟لَـٰٓئِكَاور یہی لوگ ہیںwa-ulāikaهُمُوہhumuٱلْمُهْتَدُونَجو ہدایت پانے والے ہیںl-muh'tadūna١٥٧
انہیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں
۲:۱۵۸
۞ إِنَّبیشکinnaٱلصَّفَاصفاl-ṣafāوَٱلْمَرْوَةَاور مروہwal-marwataمِنسےminشَعَآئِرِنشانیوں میں ہیںshaʿāiriٱللَّهِ ۖاللہ کیl-lahiفَمَنْپس جو کوئیfamanحَجَّحج کرےḥajjaٱلْبَيْتَبیت اللہ کاl-baytaأَوِیاawiٱعْتَمَرَعمرہ کرےiʿ'tamaraفَلَاتو نہیں کوئیfalāجُنَاحَگناہjunāḥaعَلَيْهِاس پرʿalayhiأَنکہanيَطَّوَّفَوہ طواف کرےyaṭṭawwafaبِهِمَا ۚان دونوں کاbihimāوَمَناور جو کوئیwamanتَطَوَّعَخوشی سے کرےtaṭawwaʿaخَيْرًۭاکوئی بھی نیکیkhayranفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaشَاكِرٌقدر دان ہےshākirunعَلِيمٌجاننے والا ہےʿalīmun١٥٨
یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے1، اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کر لے2اور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اوروہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔3
۲:۱۵۹
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَجو لوگalladhīnaيَكْتُمُونَچھپاتے ہیںyaktumūnaمَآاسے جوأَنزَلْنَانازل کیا ہم نےanzalnāمِنَسےminaٱلْبَيِّنَـٰتِروشن نشانیوں میںl-bayinātiوَٱلْهُدَىٰاور ہدایت میںwal-hudāمِنۢسےminبَعْدِبعد اس کےbaʿdiمَاجوبَيَّنَّـٰهُبیان کردیا ہم نے اس کوbayyannāhuلِلنَّاسِلوگوں کے لیےlilnnāsiفِىمیںٱلْكِتَـٰبِ ۙکتابl-kitābiأُو۟لَـٰٓئِكَیہی وہ لوگ ہیںulāikaيَلْعَنُهُمُلعنت کرتا ہے ان پرyalʿanuhumuٱللَّهُاللہ تعالیٰl-lahuوَيَلْعَنُهُمُاور لعنت کرتے ہیںwayalʿanuhumuٱللَّـٰعِنُونَلعنت کرنے والےl-lāʿinūna١٥٩
جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں در آں حال یہ کہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں ، یقین جانو کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہےاور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔1
۲:۱۶۰
إِلَّاسوائےillāٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaتَابُوا۟جنہوں نے توبہ کیtābūوَأَصْلَحُوا۟اور جنہوں نے اصلاح کیwa-aṣlaḥūوَبَيَّنُوا۟اور جنہوں نے بیان کردیاwabayyanūفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی وہ لوگ ہیںfa-ulāikaأَتُوبُمیں مہربان ہوتا ہوںatūbuعَلَيْهِمْ ۚان پرʿalayhimوَأَنَااور میںwa-anāٱلتَّوَّابُبار بار توبہ قبول کرنے والاl-tawābuٱلرَّحِيمُاور رحم کرنے والا ہوںl-raḥīmu١٦٠
البتہ جو اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے، اُسے بیان کرنے لگیں، اُن کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑا در گزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں
۲:۱۶۱
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūوَمَاتُوا۟اور وہ مرگئےwamātūوَهُمْاس حال میں کہ وہwahumكُفَّارٌکافر تھےkuffārunأُو۟لَـٰٓئِكَیہی وہ لوگ ہیںulāikaعَلَيْهِمْان پرʿalayhimلَعْنَةُلعنتlaʿnatuٱللَّهِاللہ تعالیٰ کیl-lahiوَٱلْمَلَـٰٓئِكَةِاور فرشتوں کیwal-malāikatiوَٱلنَّاسِاور لوگوں کیwal-nāsiأَجْمَعِينَسب کے سب کیajmaʿīna١٦١
جن لوگوں نے کفر کا رویہ1 اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے
۲:۱۶۲
خَـٰلِدِينَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidīnaفِيهَا ۖاس میںfīhāلَانہیںيُخَفَّفُہلکا کیا جائے گاyukhaffafuعَنْهُمُان سےʿanhumuٱلْعَذَابُعذابl-ʿadhābuوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيُنظَرُونَمہلت دیئے جائیں گےyunẓarūna١٦٢
اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ اُن کی سز امیں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی
۲:۱۶۳
وَإِلَـٰهُكُمْاور الہ تمہاراwa-ilāhukumإِلَـٰهٌۭصرف الہ ہےilāhunوَٰحِدٌۭ ۖایکwāḥidunلَّآنہیںإِلَـٰهَکوئی الہilāhaإِلَّامگرillāهُوَوہیhuwaٱلرَّحْمَـٰنُجو نہایت مہربانl-raḥmānuٱلرَّحِيمُجو بہت رحم کرنے والا ہےl-raḥīmu١٦٣
تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے
۲:۱۶۴
إِنَّبیشکinnaفِىمیںخَلْقِپیدائشkhalqiٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں کیl-samāwātiوَٱلْأَرْضِاور زمین کیwal-arḍiوَٱخْتِلَـٰفِاور ایک دوسرے کے بعد آنے جانے (میں)wa-ikh'tilāfiٱلَّيْلِرات کےal-layliوَٱلنَّهَارِاور دنwal-nahāriوَٱلْفُلْكِاور کشتیوں (میں)wal-ful'kiٱلَّتِىجوallatīتَجْرِىچلتی ہیںtajrīفِىمیںٱلْبَحْرِسمندرl-baḥriبِمَاساتھ اس کےbimāيَنفَعُوہ نفع دیتا ہےyanfaʿuٱلنَّاسَلوگوں کوl-nāsaوَمَآاور جوwamāأَنزَلَاتارا۔ نازل کیاanzalaٱللَّهُاللہ نےl-lahuمِنَسےminaٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiمِنسےminمَّآءٍۢکچھ پانی۔ پانی میںmāinفَأَحْيَاپھر اس نے زندہ کیاfa-aḥyāبِهِساتھ اس کےbihiٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaبَعْدَبعدbaʿdaمَوْتِهَااس کی موت کے۔ مردنی کےmawtihāوَبَثَّاور اس نے پھیلا دیےwabathaفِيهَااس میںfīhāمِنسےminكُلِّہر طرح کےkulliدَآبَّةٍۢجانور سے۔ رینگنے والےdābbatinوَتَصْرِيفِاور نیز گردش میںwataṣrīfiٱلرِّيَـٰحِہواؤں کیl-riyāḥiوَٱلسَّحَابِاور بادل میںwal-saḥābiٱلْمُسَخَّرِجو مسخر کیے گئے ہیںl-musakhariبَيْنَدرمیانbaynaٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiوَٱلْأَرْضِاور زمینwal-arḍiلَـَٔايَـٰتٍۢیقینا نشانیاں ہیںlaāyātinلِّقَوْمٍۢواسطے اس قوم کےliqawminيَعْقِلُونَجو عقل رکھتی ہوyaʿqilūna١٦٤
(اس حقیقت کوپہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو )جو لوگ عقل سے کا م لیتے ہیں ان کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات اور دن کےپیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں ، ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہےاور اپنے اسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں ، اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں ، بے شمار نشانیاں ہیں۔1
۲:۱۶۵
وَمِنَاور سےwaminaٱلنَّاسِلوگوں میں(کہ)l-nāsiمَنوہ ہیں جوmanيَتَّخِذُبنا لیتے ہیںyattakhidhuمِنسےminدُونِسواdūniٱللَّهِاللہ کےl-lahiأَندَادًۭاشریکandādanيُحِبُّونَهُمْوہ محبت کرتے ہیں ان سےyuḥibbūnahumكَحُبِّجیسے محبت کرنا ہوتی ہےkaḥubbiٱللَّهِ ۖاللہ سےl-lahiوَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaءَامَنُوٓا۟جو ایمان لائےāmanūأَشَدُّزیادہ شدید ہیں۔ سخت ہوتے ہیںashadduحُبًّۭااز روئے محبتḥubbanلِّلَّهِ ۗاللہ کے لیے۔ اللہ کے لیے محبت میںlillahiوَلَوْاور کاش۔ اگرwalawيَرَىدیکھ لیںyarāٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaظَلَمُوٓا۟جنہوں نے ظلم کیا۔ شرک کیاẓalamūإِذْجبidhيَرَوْنَوہ دیکھیں گےyarawnaٱلْعَذَابَعذاب کو (جان لیں گے)l-ʿadhābaأَنَّبیشکannaٱلْقُوَّةَتمام تر قوتl-quwataلِلَّهِاللہ ہی کے لیے ہےlillahiجَمِيعًۭاساری کی ساریjamīʿanوَأَنَّاور بیشکwa-annaٱللَّهَاللہl-lahaشَدِيدُسختshadīduٱلْعَذَابِعذاب (دینے والا ہے)l-ʿadhābi١٦٥
(مگر وحدتِ خدا وندی پر دلالت کرنے والے ان کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی ) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں 1اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے۔ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔2 کاش ، جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انھیں سوجھنے والاہےوہ آج ہی ان ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کےقبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے
۲:۱۶۶
إِذْجبidhتَبَرَّأَبیزار ہوں گے۔ برات کا اظہار کریں گےtabarra-aٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaٱتُّبِعُوا۟جو پیروی کیے گئےittubiʿūمِنَان لوگوں سےminaٱلَّذِينَجنہوں نےalladhīnaٱتَّبَعُوا۟پیروی کیittabaʿūوَرَأَوُا۟اور وہ دیکھ لیں گےwara-awūٱلْعَذَابَعذاب کوl-ʿadhābaوَتَقَطَّعَتْاور کٹ جائیں گےwataqaṭṭaʿatبِهِمُان سےbihimuٱلْأَسْبَابُتمام اسبابl-asbābu١٦٦
جب وہ سزا دے گا اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ وہی پیشوا اور رہنما، جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی، اپنے پیروؤں سے بے تعلقی ظاہر کریں گے، مگر سزا پا کر رہیں گے اور ان کے سارے اسباب و وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا
۲:۱۶۷
وَقَالَاور کہیں گےwaqālaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaٱتَّبَعُوا۟جنہوں نے پیروی کیittabaʿūلَوْکاشlawأَنَّبیشک ضرور ہوتاannaلَنَاہمارے لیے ہوتاlanāكَرَّةًۭایک مرتبہ لوٹنا۔ ایک بار پلٹناkarratanفَنَتَبَرَّأَتو ہم بےزار ہوجاتے۔ پھر ہم بیزاری کا اظہار کرتےfanatabarra-aمِنْهُمْان سےmin'humكَمَاجیسا کہkamāتَبَرَّءُوا۟وہ بیزار ہوئے ہیںtabarraūمِنَّا ۗہم سےminnāكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaيُرِيهِمُدکھائے گا ان کوyurīhimuٱللَّهُاللہl-lahuأَعْمَـٰلَهُمْان کے اعمالaʿmālahumحَسَرَٰتٍحسرتیں بنا کرḥasarātinعَلَيْهِمْ ۖان پرʿalayhimوَمَااور نہیں ہوں گےwamāهُموہhumبِخَـٰرِجِينَنکلنے والےbikhārijīnaمِنَسےminaٱلنَّارِآگl-nāri١٦٧
اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بے زاری ظاہر کر رہے ہیں ، ہم ان سے بے زار ہو کر دکھا دیتے۔1 یوں اللہ ان لوگو ں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں ،ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے
۲:۱۶۸
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلنَّاسُلوگوl-nāsuكُلُوا۟کھاؤkulūمِمَّااس میں سے جوmimmāفِىمیںٱلْأَرْضِزمین ہےl-arḍiحَلَـٰلًۭاحلال بنا کرḥalālanطَيِّبًۭاپاکیزہ۔ پاک بنا کرṭayyibanوَلَااور نہwalāتَتَّبِعُوا۟تم پیروی کروtattabiʿūخُطُوَٰتِقدموں کیkhuṭuwātiٱلشَّيْطَـٰنِ ۚشیطان کےl-shayṭāniإِنَّهُۥبیشک وہinnahuلَكُمْتمہاری لیےlakumعَدُوٌّۭدشمن ہےʿaduwwunمُّبِينٌکھلم کھلاmubīnun١٦٨
لوگو! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انھیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو۔1 وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
۲:۱۶۹
إِنَّمَابیشکinnamāيَأْمُرُكُموہ حکم دیتا ہے تم کوyamurukumبِٱلسُّوٓءِبرائی کاbil-sūiوَٱلْفَحْشَآءِاور بےحیائی کاwal-faḥshāiوَأَناور یہ کہwa-anتَقُولُوا۟تم کہوtaqūlūعَلَىاوپرʿalāٱللَّهِاللہ کےl-lahiمَاجولَانہیںتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna١٦٩
تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور سکھاتا ہےکہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں۔1
۲:۱۷۰
وَإِذَااور جبwa-idhāقِيلَکہا جاتا ہےqīlaلَهُمُان کے لیےlahumuٱتَّبِعُوا۟پیروی کروittabiʿūمَآاس کی جوأَنزَلَاتاراanzalaٱللَّهُاللہ نےl-lahuقَالُوا۟وہ کہتے ہیںqālūبَلْبلکہbalنَتَّبِعُہم پیروی کریں گےnattabiʿuمَآاس کی جوأَلْفَيْنَاجو پایا ہم نےalfaynāعَلَيْهِاس پرʿalayhiءَابَآءَنَآ ۗاپنے آباؤاجداد کوābāanāأَوَلَوْکیا بھلا اگرچہawalawكَانَہوںkānaءَابَآؤُهُمْان کے آباؤ اجدادābāuhumلَانہيَعْقِلُونَعقل رکھتےyaʿqilūnaشَيْـًۭٔاکسی چیز کیshayanوَلَااور نہwalāيَهْتَدُونَوہ ہدایت یافتہ ہوںyahtadūna١٧٠
ن سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیےہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گےجس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔1 اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟
۲:۱۷۱
وَمَثَلُاور مثالwamathaluٱلَّذِينَان لوگوں کیalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūكَمَثَلِمانند مثالkamathaliٱلَّذِىاس شخص کے ہےalladhīيَنْعِقُجو پکارتا ہےyanʿiquبِمَااس کو جوbimāلَانہیںيَسْمَعُسنتاyasmaʿuإِلَّامگرillāدُعَآءًۭپکارduʿāanوَنِدَآءًۭ ۚاور آوازwanidāanصُمٌّۢبہرے ہیںṣummunبُكْمٌگونگے ہیںbuk'munعُمْىٌۭاندھے ہیںʿum'yunفَهُمْتو وہfahumلَانہیںيَعْقِلُونَعقل رکھتے۔ سمجھتےyaʿqilūna١٧١
یہ لوگ جنھوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کردیا ہے ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سواکچھ نہیں سنتے۔1 یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔
۲:۱۷۲
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے ہوāmanūكُلُوا۟کھاؤ تمkulūمِنسےminطَيِّبَـٰتِپاکیزہ چیزوں میںṭayyibātiمَاجورَزَقْنَـٰكُمْرزق دیا ہم نے تم کوrazaqnākumوَٱشْكُرُوا۟اور شکر کروwa-ush'kurūلِلَّهِاللہ کے لیےlillahiإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumإِيَّاهُصرف اسی کیiyyāhuتَعْبُدُونَتم عبادت کرتےtaʿbudūna١٧٢
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔1
۲:۱۷۳
إِنَّمَابیشکinnamāحَرَّمَاس نے حرام کیاḥarramaعَلَيْكُمُتم پرʿalaykumuٱلْمَيْتَةَمردار کوl-maytataوَٱلدَّمَاور خون کوwal-damaوَلَحْمَاور گوشت کوwalaḥmaٱلْخِنزِيرِخنزیر کےl-khinzīriوَمَآاور اس کوwamāأُهِلَّجو پکارا گیاuhillaبِهِۦساتھ اس کےbihiلِغَيْرِواسطے غیرlighayriٱللَّهِ ۖاللہ کےl-lahiفَمَنِتو جو کوئیfamaniٱضْطُرَّمجبور کیا گیاuḍ'ṭurraغَيْرَنہghayraبَاغٍۢرغبت کرنے والا ہوbāghinوَلَااور نہwalāعَادٍۢحد سے بڑھنے والا ہو۔ باغی ہوʿādinفَلَآتو نہیںfalāإِثْمَکوئی گناہith'maعَلَيْهِ ۚاوپر اس کےʿalayhiإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaغَفُورٌۭبخشنے والا ہےghafūrunرَّحِيمٌمہربان ہےraḥīmun١٧٣
اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو۔1 ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔2
۲:۱۷۴
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaيَكْتُمُونَجو چھپاتے ہیںyaktumūnaمَآاس کو جوأَنزَلَنازل کیاanzalaٱللَّهُاللہ نےl-lahuمِنَسےminaٱلْكِتَـٰبِکتاب میںl-kitābiوَيَشْتَرُونَاور وہ لے لیتے ہیںwayashtarūnaبِهِۦاس کے بدلےbihiثَمَنًۭاقیمتthamananقَلِيلًا ۙتھوڑیqalīlanأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگ ہیں جوulāikaمَانہیںيَأْكُلُونَکھاتےyakulūnaفِىمیںبُطُونِهِمْاپنے پیٹوںbuṭūnihimإِلَّامگرillāٱلنَّارَآگl-nāraوَلَااور نہیںwalāيُكَلِّمُهُمُکلام کرے گا ان سےyukallimuhumuٱللَّهُاللہl-lahuيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiوَلَااور نہwalāيُزَكِّيهِمْان کو پاک کرے گاyuzakkīhimوَلَهُمْاور ان کے لیے ہےwalahumعَذَابٌعذابʿadhābunأَلِيمٌدردناکalīmun١٧٤
حق یہ ہے کہ جو لوگ ان احکام کو چھپاتےہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتےہیں ، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں1۔قیامت کے روز اللہ ہرگزان سے بات نہ کرے گا، نہ انھیں پاکیزہ ٹھیرائے گا، 2اور ان کے لیے دردناک سزا ہے
۲:۱۷۵
أُو۟لَـٰٓئِكَیہی وہulāikaٱلَّذِينَلوگalladhīnaٱشْتَرَوُا۟جنہوں نے خرید لیاish'tarawūٱلضَّلَـٰلَةَگمراہی کوl-ḍalālataبِٱلْهُدَىٰبدلے ہدایت کےbil-hudāوَٱلْعَذَابَاور عذاب کوwal-ʿadhābaبِٱلْمَغْفِرَةِ ۚبدلے مغفرت کےbil-maghfiratiفَمَآتو کتناfamāأَصْبَرَهُمْصبر ہے ان کا۔ تو کس چیز نے صابر بنادیا ہے ان کوaṣbarahumعَلَىاوپرʿalāٱلنَّارِآگ کےl-nāri١٧٥
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں
۲:۱۷۶
ذَٰلِكَیہdhālikaبِأَنَّبوجہ اس کے ۔ بیشکbi-annaٱللَّهَاللہ نےl-lahaنَزَّلَنازل کیاnazzalaٱلْكِتَـٰبَکتاب کوl-kitābaبِٱلْحَقِّ ۗساتھ حق کےbil-ḥaqiوَإِنَّاور بیشکwa-innaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaٱخْتَلَفُوا۟جنہوں نے اختلاف کیاikh'talafūفِىمیںٱلْكِتَـٰبِکتابl-kitābiلَفِىالبتہ میںlafīشِقَاقٍۭمخالفت میں ہیں۔ بدبختی میں ہیںshiqāqinبَعِيدٍۢدور کیbaʿīdin١٧٦
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے
۲:۱۷۷
۞ لَّيْسَنہیں ہےlaysaٱلْبِرَّنیکیl-biraأَنکہanتُوَلُّوا۟تم پھیر لوtuwallūوُجُوهَكُمْاپنے چہروں کوwujūhakumقِبَلَطرفqibalaٱلْمَشْرِقِمشرق کےl-mashriqiوَٱلْمَغْرِبِاور مغرب کےwal-maghribiوَلَـٰكِنَّاور لیکنwalākinnaٱلْبِرَّنیکی یہ ہےl-biraمَنْجوmanءَامَنَایمان لایاāmanaبِٱللَّهِساتھ اللہ کےbil-lahiوَٱلْيَوْمِاور یومwal-yawmiٱلْـَٔاخِرِآخرت کےl-ākhiriوَٱلْمَلَـٰٓئِكَةِاور فرشتوں کےwal-malāikatiوَٱلْكِتَـٰبِاور کتاب کےwal-kitābiوَٱلنَّبِيِّـۧنَاور نبیوں کےwal-nabiyīnaوَءَاتَىاور اس نے دیاwaātāٱلْمَالَمال کوl-mālaعَلَىٰاوپرʿalāحُبِّهِۦاس کی محبت۔ اس کی محبت کے باوجودḥubbihiذَوِى(to) thosedhawīٱلْقُرْبَىٰرشتہ داروں کوl-qur'bāوَٱلْيَتَـٰمَىٰاور یتیموں کوwal-yatāmāوَٱلْمَسَـٰكِينَاور مسکینوں کوwal-masākīnaوَٱبْنَاورwa-ib'naٱلسَّبِيلِمسافروں کوl-sabīliوَٱلسَّآئِلِينَاور سوال کرنے والوں کوwal-sāilīnaوَفِىاور میںwafīٱلرِّقَابِگردنیں (چھڑانے)l-riqābiوَأَقَامَاور قائم کرےwa-aqāmaٱلصَّلَوٰةَنماز کوl-ṣalataوَءَاتَىاور دےwaātāٱلزَّكَوٰةَزکوۃ کوl-zakataوَٱلْمُوفُونَاور جو پورا کرنے والے ہیںwal-mūfūnaبِعَهْدِهِمْاپنے عہد کوbiʿahdihimإِذَاجبidhāعَـٰهَدُوا۟ ۖوہ عہد کریںʿāhadūوَٱلصَّـٰبِرِينَاور جو صبر کرنے والے ہیںwal-ṣābirīnaفِىمیںٱلْبَأْسَآءِتنگ دستی میںl-basāiوَٱلضَّرَّآءِاور تکلیف میںwal-ḍarāiوَحِينَاور وقتwaḥīnaٱلْبَأْسِ ۗجنگ میںl-basiأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaٱلَّذِينَوہ لوگ ہیںalladhīnaصَدَقُوا۟ ۖجنہوں نے سچ کہاṣadaqūوَأُو۟لَـٰٓئِكَاور یہی لوگwa-ulāikaهُمُوہ ہیںhumuٱلْمُتَّقُونَجو متقی ہیںl-mutaqūna١٧٧
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف ،1 بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر ، مسکینوں اور مسا فروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگدستی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں
۲:۱۷۸
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے ہوāmanūكُتِبَلکھ دیا گیا ہےkutibaعَلَيْكُمُتم پرʿalaykumuٱلْقِصَاصُبدلہ لیناl-qiṣāṣuفِىمیںٱلْقَتْلَى ۖمقتولوں کے (بارے میں)l-qatlāٱلْحُرُّآزادl-ḥuruبِٱلْحُرِّبدلے آزاد کےbil-ḥuriوَٱلْعَبْدُاور غلامwal-ʿabduبِٱلْعَبْدِبدلے غلام کےbil-ʿabdiوَٱلْأُنثَىٰاور عورتwal-unthāبِٱلْأُنثَىٰ ۚبدلے عورت کےbil-unthāفَمَنْتو جو کوئیfamanعُفِىَمعاف کردیا گیاʿufiyaلَهُۥواسطے اس کےlahuمِنْسےminأَخِيهِاس کے بھائی (کی طرف)akhīhiشَىْءٌۭکوئی چیزshayonفَٱتِّبَاعٌۢتو پیروی کرنا ہےfa-ittibāʿunبِٱلْمَعْرُوفِساتھ بھلے طریقے کےbil-maʿrūfiوَأَدَآءٌاور ادا کرنا ہےwa-adāonإِلَيْهِطرف اس کےilayhiبِإِحْسَـٰنٍۢ ۗساتھ احسان کےbi-iḥ'sāninذَٰلِكَیہdhālikaتَخْفِيفٌۭرعایت ہے۔ کمی ہے۔ آسانی ہےtakhfīfunمِّنسےminرَّبِّكُمْتمہارے رب کی طرفrabbikumوَرَحْمَةٌۭ ۗاور رحمت ہےwaraḥmatunفَمَنِتو جو کوئیfamaniٱعْتَدَىٰزیادتی کرےiʿ'tadāبَعْدَبعدbaʿdaذَٰلِكَاس کےdhālikaفَلَهُۥتو اس کے لیےfalahuعَذَابٌعذاب ہےʿadhābunأَلِيمٌۭدردناکalīmun١٧٨
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارےلیے قتل کے مقدموں میں قصاص1 کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نےقتل کیا ہو تو آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے ، غلام قاتل ہو تو غلام ہی قتل کیا جائے،اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص2 لیا جائے۔ ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو،3 تو معروف طریقے4 کے مطابق خوں بہا کا تصفیہ ہو نا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے،5 اس کے لیےدرد ناک سزاہے
۲:۱۷۹
وَلَكُمْاور تمہارے لیےwalakumفِىمیںٱلْقِصَاصِبدلہ لینےl-qiṣāṣiحَيَوٰةٌۭزندگی ہےḥayatunيَـٰٓأُو۟لِىاے عقل والوyāulīٱلْأَلْبَـٰبِعقل والوl-albābiلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَتَّقُونَتم بچو۔ تم پر ہیزگار ہوجاؤtattaqūna١٧٩
قل و خردر کھنے والو!تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔1 امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے
۲:۱۸۰
كُتِبَلکھ دیا گیاkutibaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumإِذَاجبidhāحَضَرَحاضر ہوا۔ آنے لگےḥaḍaraأَحَدَكُمُتم میں سے کسی ایک کوaḥadakumuٱلْمَوْتُموتl-mawtuإِناگرinتَرَكَوہ چھوڑ جائےtarakaخَيْرًامال کوkhayranٱلْوَصِيَّةُوصیت کرنا ہےl-waṣiyatuلِلْوَٰلِدَيْنِوالدین کے لیےlil'wālidayniوَٱلْأَقْرَبِينَاور رشتہ داروں کے لیےwal-aqrabīnaبِٱلْمَعْرُوفِ ۖبھلے طریقے سےbil-maʿrūfiحَقًّایہ حق ہےḥaqqanعَلَىپرʿalāٱلْمُتَّقِينَمتقی لوگوں (پر)l-mutaqīna١٨٠
تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔1
۲:۱۸۱
فَمَنۢتو جو کوئیfamanبَدَّلَهُۥبدل دے اس کوbaddalahuبَعْدَ مَابعد اس کےbaʿdamāسَمِعَهُۥتو بیشکsamiʿahuفَإِنَّمَآگناہ اس کاfa-innamāإِثْمُهُۥاوپرith'muhuعَلَىان لوگوں کے ہےʿalāٱلَّذِينَجو بدل دیتے ہیں اس کوalladhīnaيُبَدِّلُونَهُۥٓ ۚبیشکyubaddilūnahuإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰal-lahaسَمِيعٌسننے والا ہےsami'unعَلِيمٌۭجاننے والا ہےalimun١٨١
پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اُسے بدل ڈالا، توا س کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
۲:۱۸۲
فَمَنْتو جو کوئیfamanخَافَخوف کرےkhāfaمِنسےminمُّوصٍۢوصیت کرنے والےmūṣinجَنَفًاطرف داری کاjanafanأَوْیاawإِثْمًۭاگناہ کاith'manفَأَصْلَحَتو اصلاح کرا دےfa-aṣlaḥaبَيْنَهُمْان کے درمیانbaynahumفَلَآتو نہیں ہےfalāإِثْمَکوئی گناہith'maعَلَيْهِ ۚاس پرʿalayhiإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaغَفُورٌۭبخشنے والاghafūrunرَّحِيمٌۭبڑا مہربان ہےraḥīmun١٨٢
البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
۲:۱۸۳
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے ہوāmanūكُتِبَلکھ دیے گئےkutibaعَلَيْكُمُتم پرʿalaykumuٱلصِّيَامُروزےl-ṣiyāmuكَمَاجیسا کہkamāكُتِبَلکھ دیے گئےkutibaعَلَىاوپرʿalāٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaمِنسےminقَبْلِكُمْجو تم سے پہلے تھےqablikumلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَتَّقُونَتقوی اختیار کرو۔ متقی بن جاؤtattaqūna١٨٣
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔1
۲:۱۸۴
أَيَّامًۭایہ دن ہیںayyāmanمَّعْدُودَٰتٍۢ ۚگنے چنےmaʿdūdātinفَمَنتو جو کوئیfamanكَانَہوkānaمِنكُمتم میں سےminkumمَّرِيضًامریض۔ بیمارmarīḍanأَوْیاawعَلَىٰہو اوپرʿalāسَفَرٍۢسفر کےsafarinفَعِدَّةٌۭتو گنتی پوری کرنا ہےfaʿiddatunمِّنْسےminأَيَّامٍدنوںayyāminأُخَرَ ۚدوسرےukharaوَعَلَىاور اوپرwaʿalāٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaيُطِيقُونَهُۥجو طاقت رکھتے ہوں اس کیyuṭīqūnahuفِدْيَةٌۭفدیہ ہےfid'yatunطَعَامُکھاناṭaʿāmuمِسْكِينٍۢ ۖایک مسکین کاmis'kīninفَمَنتو جو کوئیfamanتَطَوَّعَخوشی سے کرےtaṭawwaʿaخَيْرًۭاکوئی نیکیkhayranفَهُوَتو وہfahuwaخَيْرٌۭبہتر ہے۔ اچھا ہےkhayrunلَّهُۥ ۚاس کے لیےlahuوَأَناور یہ کہwa-anتَصُومُوا۟تم روزے رکھوtaṣūmūخَيْرٌۭبہتر ہے۔ اچھا ہےkhayrunلَّكُمْ ۖتمہارے لیےlakumإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna١٨٤
چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دُوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں(پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے1 ، تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو ، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزہ رکھو۔
۲:۱۸۵
شَهْرُمہینہshahruرَمَضَانَرمضان کاramaḍānaٱلَّذِىٓوہ ہے جوalladhīأُنزِلَنازل کیا گیاunzilaفِيهِاس میںfīhiٱلْقُرْءَانُقرآنl-qur'ānuهُدًۭىجو ہدایت ہےhudanلِّلنَّاسِلوگوں کے لیےlilnnāsiوَبَيِّنَـٰتٍۢاور روشن نشانیاں ہیں۔ دلائل ہیںwabayyinātinمِّنَسےminaٱلْهُدَىٰہدایت میںl-hudāوَٱلْفُرْقَانِ ۚاور فرقان سےwal-fur'qāniفَمَنتو جو کوئیfamanشَهِدَپائے۔ حاضر ہوshahidaمِنكُمُتم میں سےminkumuٱلشَّهْرَمہینے کوl-shahraفَلْيَصُمْهُ ۖپس چاہیے کہ وہ روزے رکھے اس کےfalyaṣum'huوَمَناور جوwamanكَانَہوkānaمَرِيضًامریض۔ بیمارmarīḍanأَوْیاawعَلَىٰاوپرʿalāسَفَرٍۢسفر کےsafarinفَعِدَّةٌۭتو گنتی (پوری کرنا ہے)faʿiddatunمِّنْسےminأَيَّامٍدنوںayyāminأُخَرَ ۗدوسرےukharaيُرِيدُچاہتا ہےyurīduٱللَّهُاللہl-lahuبِكُمُساتھ تمہارےbikumuٱلْيُسْرَآسانیl-yus'raوَلَااور نہیںwalāيُرِيدُچاہتاyurīduبِكُمُساتھ تمہارےbikumuٱلْعُسْرَتنگیl-ʿus'raوَلِتُكْمِلُوا۟اور تاکہ تم مکمل کرو۔ تم پوری کروwalituk'milūٱلْعِدَّةَگنتی کوl-ʿidataوَلِتُكَبِّرُوا۟اور تاکہ تم بڑائی بیان کروwalitukabbirūٱللَّهَاللہ کیl-lahaعَلَىٰاوپرʿalāمَا(اس کے) جوهَدَىٰكُمْاس نے ہدایت دی تم کوhadākumوَلَعَلَّكُمْاور تاکہ تمwalaʿallakumتَشْكُرُونَتم شکر ادا کروtashkurūna١٨٥
رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اُس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہویا سفر پر ہو ، تو وہ دُوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے۔1 اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔2
۲:۱۸۶
وَإِذَااور جبwa-idhāسَأَلَكَسوال کریں تجھ سےsa-alakaعِبَادِىمیرے بندےʿibādīعَنِّىمیرے بارے میںʿannīفَإِنِّىتو بیشک میںfa-innīقَرِيبٌ ۖقریب ہوںqarībunأُجِيبُمیں جواب دیتا ہوںujībuدَعْوَةَپکار کا۔ دعا کاdaʿwataٱلدَّاعِپکارنے والے کیl-dāʿiإِذَاجب بھیidhāدَعَانِ ۖوہ پکارے مجھے۔ وہ پکارتا ہے مجھ کوdaʿāniفَلْيَسْتَجِيبُوا۟پس چاہیے کہ وہ بات مانیںfalyastajībūلِىمیرے لیےوَلْيُؤْمِنُوا۟اور چاہیے کہ وہ ایمان لائیں۔ یقین رکھیںwalyu'minūبِىساتھ میرےلَعَلَّهُمْتاکہ وہlaʿallahumيَرْشُدُونَوہ راہ راست پائیںyarshudūna١٨٦
اور اے نبیؐ ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُ نھیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں 1یہ بات تم اُنھیں سُنادو شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔2
۲:۱۸۷
أُحِلَّحلال کیا گیاuḥillaلَكُمْتمہارے لیےlakumلَيْلَةَرات میںlaylataٱلصِّيَامِروزوں کوl-ṣiyāmiٱلرَّفَثُرغبت کرناl-rafathuإِلَىٰطرفilāنِسَآئِكُمْ ۚتمہاری بیویوں کےnisāikumهُنَّوہhunnaلِبَاسٌۭلباس ہیںlibāsunلَّكُمْتمہارے لیےlakumوَأَنتُمْاور تمwa-antumلِبَاسٌۭلباس ہوlibāsunلَّهُنَّ ۗان کے لیےlahunnaعَلِمَجان لیاʿalimaٱللَّهُاللہ نےl-lahuأَنَّكُمْبیشک تمannakumكُنتُمْتھے تمkuntumتَخْتَانُونَتم خیانت کرتے۔ تم خیانت کر رہےtakhtānūnaأَنفُسَكُمْاپنے نفسوں سےanfusakumفَتَابَتو وہ مہربان ہواfatābaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumوَعَفَااور اس نے درگزر کیاwaʿafāعَنكُمْ ۖتم سےʿankumفَٱلْـَٔـٰنَتو (پس) ابfal-ānaبَـٰشِرُوهُنَّمباشرت کرو ان سےbāshirūhunnaوَٱبْتَغُوا۟اور تلاش کروwa-ib'taghūمَاجوكَتَبَلکھاkatabaٱللَّهُاللہ نےl-lahuلَكُمْ ۚتمہارے لیےlakumوَكُلُوا۟اور کھاؤwakulūوَٱشْرَبُوا۟اور پیوwa-ish'rabūحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَتَبَيَّنَواضح ہوجائے۔ ظاہر ہوجائےyatabayyanaلَكُمُتمہارے لیےlakumuٱلْخَيْطُدھاگہl-khayṭuٱلْأَبْيَضُسفیدl-abyaḍuمِنَسےminaٱلْخَيْطِدھاگےl-khayṭiٱلْأَسْوَدِسیاہ (سے)l-aswadiمِنَسےminaٱلْفَجْرِ ۖفجر سے (فجر کے وقت)l-fajriثُمَّپھرthummaأَتِمُّوا۟تم پورا کروatimmūٱلصِّيَامَروزے کوl-ṣiyāmaإِلَىتکilāٱلَّيْلِ ۚراتal-layliوَلَااور نہwalāتُبَـٰشِرُوهُنَّتم مباشرت کرو ان سےtubāshirūhunnaوَأَنتُمْاس حال میں کہ تمwa-antumعَـٰكِفُونَاعتکاف کرنے والے ہوʿākifūnaفِىمیںٱلْمَسَـٰجِدِ ۗمسجدوں (میں)l-masājidiتِلْكَیہtil'kaحُدُودُحدود ہیںḥudūduٱللَّهِاللہ کیl-lahiفَلَاتو نہfalāتَقْرَبُوهَا ۗتم قریب جانا ان کےtaqrabūhāكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaيُبَيِّنُبیان کرتا ہےyubayyinuٱللَّهُاللہl-lahuءَايَـٰتِهِۦآیات اپنیāyātihiلِلنَّاسِلوگوں کے لیےlilnnāsiلَعَلَّهُمْتاکہ وہlaʿallahumيَتَّقُونَبچیںyattaqūna١٨٧
تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے۔1 اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چُپکے چُپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے ، مگر اُس نے تمہارا قصُور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لُطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کردیا ہے ، اُسے حاصل کرو۔2 نیز راتوں کو کھاوٴ پیو3 یہاں تک کہ تم کو سیاہیِ شب کی دھاری سے سپیدہ ٴ صبح کی دھاری نمایا ں نظر آجائے۔4 تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پُورا کرو۔5 اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو ، تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔6 یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔7 اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ غلط رویےّ سے بچیں گے
۲:۱۸۸
وَلَااور نہwalāتَأْكُلُوٓا۟تم کھاؤtakulūأَمْوَٰلَكُماپنے مالamwālakumبَيْنَكُمآپس میںbaynakumبِٱلْبَـٰطِلِساتھ باطل طریقے کےbil-bāṭiliوَتُدْلُوا۟اور تم پہنچاتے ہوwatud'lūبِهَآان کوbihāإِلَىطرفilāٱلْحُكَّامِحاکموں کےl-ḥukāmiلِتَأْكُلُوا۟تاکہ تم کھاؤlitakulūفَرِيقًۭاایک حصہfarīqanمِّنْسےminأَمْوَٰلِمالamwāliٱلنَّاسِلوگوں کےl-nāsiبِٱلْإِثْمِساتھ گناہ کےbil-ith'miوَأَنتُمْحالانکہ تمwa-antumتَعْلَمُونَتم جانتے ہوtaʿlamūna١٨٨
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دُوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاوٴ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دُوسروں کے مال کا کوئی حصہّ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔1
۲:۱۸۹
۞ يَسْـَٔلُونَكَوہ سوال کرتے ہیں آپ سےyasalūnakaعَنِبارے میںʿaniٱلْأَهِلَّةِ ۖ(نئے) چاند کے بارے میںl-ahilatiقُلْکہہ دیجیےqulهِىَوہhiyaمَوَٰقِيتُاوقات کا مقرر کرنا ہےmawāqītuلِلنَّاسِلوگوں کے لیےlilnnāsiوَٱلْحَجِّ ۗاور حج کے لیےwal-ḥajiوَلَيْسَاور نہیں ہےwalaysaٱلْبِرُّنیکی۔ نیک ہوناl-biruبِأَنیہ کہbi-anتَأْتُوا۟تم آؤtatūٱلْبُيُوتَگھروں کوl-buyūtaمِنسےminظُهُورِهَاان کی پچھلی طرف سےẓuhūrihāوَلَـٰكِنَّاور لیکنwalākinnaٱلْبِرَّنیکی۔ نیک ہوناl-biraمَنِجوmaniٱتَّقَىٰ ۗتقویٰ اختیار کرےittaqāوَأْتُوا۟اور آؤ تمwatūٱلْبُيُوتَگھروں کوl-buyūtaمِنْسےminأَبْوَٰبِهَا ۚان کے دروازوں سےabwābihāوَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūٱللَّهَاللہ سےl-lahaلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتُفْلِحُونَتم فلاح پا جاؤtuf'liḥūna١٨٩
لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو : یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں۔1 نیز ان سےکہو : یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوتے ہو۔نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازےہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمھیں فلاح نصیب ہو جائے۔2
۲:۱۹۰
وَقَـٰتِلُوا۟اور لڑوwaqātilūفِىمیںسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلَّذِينَان لوگوں سےalladhīnaيُقَـٰتِلُونَكُمْجو لڑتے ہیں تم سےyuqātilūnakumوَلَااور نہwalāتَعْتَدُوٓا۟ ۚتم زیادتی کروtaʿtadūإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaلَانہیںيُحِبُّپسند کرتاyuḥibbuٱلْمُعْتَدِينَزیادتی کرنے والوں کوl-muʿ'tadīna١٩٠
اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں1 ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
۲:۱۹۱
وَٱقْتُلُوهُمْاور قتل کرو ان کوwa-uq'tulūhumحَيْثُجہاں بھیḥaythuثَقِفْتُمُوهُمْتم پاؤ ان کوthaqif'tumūhumوَأَخْرِجُوهُماور نکالو ان کوwa-akhrijūhumمِّنْسےminحَيْثُجہاںḥaythuأَخْرَجُوكُمْ ۚانہوں نے نکالا تم کوakhrajūkumوَٱلْفِتْنَةُاور فتنہwal-fit'natuأَشَدُّزیادہ سخت ہےashadduمِنَسےminaٱلْقَتْلِ ۚقتلl-qatliوَلَااور نہwalāتُقَـٰتِلُوهُمْتم لڑو ان سےtuqātilūhumعِندَپاسʿindaٱلْمَسْجِدِمسجدl-masjidiٱلْحَرَامِحرام کےl-ḥarāmiحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيُقَـٰتِلُوكُمْوہ لڑیں تم سےyuqātilūkumفِيهِ ۖاس میںfīhiفَإِنپھر اگرfa-inقَـٰتَلُوكُمْوہ لڑیں تم سےqātalūkumفَٱقْتُلُوهُمْ ۗتو قتل کرو ان کوfa-uq'tulūhumكَذَٰلِكَیہیkadhālikaجَزَآءُبدلہ ہےjazāuٱلْكَـٰفِرِينَکافروں کاl-kāfirīna١٩١
ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انھیں نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ بُرا ہے، مگر فتنہ اس سے زیادہ بُرا ہے۔1 اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں ، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں، تو تم بھی بے تکلف انھیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے
۲:۱۹۲
فَإِنِپھر اگرfa-iniٱنتَهَوْا۟وہ باز آجائیں۔ وہ رک جائیںintahawفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہl-lahaغَفُورٌۭبخشنے والاghafūrunرَّحِيمٌۭمہربان ہےraḥīmun١٩٢
پھر اگر وہ باز آجائیں، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والاہے۔1
۲:۱۹۳
وَقَـٰتِلُوهُمْاور لڑو ان سےwaqātilūhumحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāلَانہتَكُونَرہے۔ ہوtakūnaفِتْنَةٌۭفتنہfit'natunوَيَكُونَاور ہوجائےwayakūnaٱلدِّينُدینl-dīnuلِلَّهِ ۖصرف اللہ کے لیےlillahiفَإِنِپھر اگرfa-iniٱنتَهَوْا۟وہ رک جائیں۔ باز آجائیںintahawفَلَاتو نہیں ہےfalāعُدْوَٰنَکوئی زیادتیʿud'wānaإِلَّامگرillāعَلَىاوپرʿalāٱلظَّـٰلِمِينَظالموں کےl-ẓālimīna١٩٣
تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔1 پھر اگر وہ باز آجائیں ، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں۔2
۲:۱۹۴
ٱلشَّهْرُماہal-shahruٱلْحَرَامُحرامl-ḥarāmuبِٱلشَّهْرِبدلے ماہbil-shahriٱلْحَرَامِحرام کےl-ḥarāmiوَٱلْحُرُمَـٰتُاور حرمتوں کاwal-ḥurumātuقِصَاصٌۭ ۚبدلہ ہےqiṣāṣunفَمَنِتو جو کوئیfamaniٱعْتَدَىٰزیادتی کرےiʿ'tadāعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumفَٱعْتَدُوا۟تو زیادتی کروfa-iʿ'tadūعَلَيْهِاس پرʿalayhiبِمِثْلِمانند اس کےbimith'liمَاجوٱعْتَدَىٰزیادتی کی اس نےiʿ'tadāعَلَيْكُمْ ۚتم پرʿalaykumوَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūٱللَّهَاللہ سےl-lahaوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaمَعَساتھ ہےmaʿaٱلْمُتَّقِينَتقویٰ کرنے والوں کےl-mutaqīna١٩٤
ماہِ حرام کا بدلہ ماہِ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا۔1 لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انھیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں
۲:۱۹۵
وَأَنفِقُوا۟اور خرچ کروwa-anfiqūفِىمیںسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَلَااور نہwalāتُلْقُوا۟تم ڈالو (خود کو)tul'qūبِأَيْدِيكُمْساتھ اپنے ہاتھوں کوbi-aydīkumإِلَىطرفilāٱلتَّهْلُكَةِ ۛہلاکت کے۔ میںl-tahlukatiوَأَحْسِنُوٓا۟ ۛاور احسان کروwa-aḥsinūإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaيُحِبُّمحبت رکھتا ہےyuḥibbuٱلْمُحْسِنِينَاحسان کرنے والوں سےl-muḥ'sinīna١٩٥
اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔1 احسان کا طریقہ اختیا ر کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔2
۲:۱۹۶
وَأَتِمُّوا۟اور پورا کروwa-atimmūٱلْحَجَّحج کوl-ḥajaوَٱلْعُمْرَةَاور عمرے کوwal-ʿum'rataلِلَّهِ ۚاللہ کے لیےlillahiفَإِنْپھر اگرfa-inأُحْصِرْتُمْتم گھیر لیے جاؤuḥ'ṣir'tumفَمَاتو جوfamāٱسْتَيْسَرَمیسر آجائےis'taysaraمِنَسےminaٱلْهَدْىِ ۖقربانیl-hadyiوَلَااور نہwalāتَحْلِقُوا۟تم منڈاؤtaḥliqūرُءُوسَكُمْاپنے سروں کوruūsakumحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَبْلُغَپہنچ جائےyablughaٱلْهَدْىُقربانیl-hadyuمَحِلَّهُۥ ۚاپنی حلال گاہ کوmaḥillahuفَمَنتو جو کوئیfamanكَانَہوkānaمِنكُمتم میں سےminkumمَّرِيضًامریضmarīḍanأَوْیاawبِهِۦٓساتھ اس کےbihiأَذًۭىتکلیف ہوadhanمِّنسےminرَّأْسِهِۦاس کے سر سےrasihiفَفِدْيَةٌۭتو فدیہ دینا ہےfafid'yatunمِّنسےminصِيَامٍروزے سےṣiyāminأَوْیاawصَدَقَةٍصدقہ سےṣadaqatinأَوْیاawنُسُكٍۢ ۚقربانی سےnusukinفَإِذَآتو جبfa-idhāأَمِنتُمْامن میں آجاؤ تمamintumفَمَنتو جو کوئیfamanتَمَتَّعَفائدہ اٹھائےtamattaʿaبِٱلْعُمْرَةِعمرے کاbil-ʿum'ratiإِلَىتکilāٱلْحَجِّحج تکl-ḥajiفَمَاتو جو بھیfamāٱسْتَيْسَرَمیسر آئےis'taysaraمِنَسےminaٱلْهَدْىِ ۚقربانی سےl-hadyiفَمَنتو جو کوئیfamanلَّمْنہlamيَجِدْپائےyajidفَصِيَامُتو روزے رکھنا ہےfaṣiyāmuثَلَـٰثَةِتینthalāthatiأَيَّامٍۢدن کےayyāminفِىمیںٱلْحَجِّحج میںl-ḥajiوَسَبْعَةٍاور سات (روزے)wasabʿatinإِذَاجبidhāرَجَعْتُمْ ۗلوٹو تمrajaʿtumتِلْكَیہtil'kaعَشَرَةٌۭدس ہیںʿasharatunكَامِلَةٌۭ ۗپورےkāmilatunذَٰلِكَیہdhālikaلِمَنواسطے اس کے جوlimanلَّمْنہlamيَكُنْہوںyakunأَهْلُهُۥاس کے گھر والےahluhuحَاضِرِىموجودḥāḍirīٱلْمَسْجِدِمسجدl-masjidiٱلْحَرَامِ ۚحرام کےl-ḥarāmiوَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūٱللَّهَاللہ سےl-lahaوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaشَدِيدُسختshadīduٱلْعِقَابِسزا والا ہےl-ʿiqābi١٩٦
اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کر و، تو اسے پورا کرو، اور اگر کہیں گر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو1 اور اپنےسر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔2مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اس بناء پر اپنا سر منڈوالے، تو اسے چاہیے کہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔3 پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جا ئے4(اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ )، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو ، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگو ں کے لیے ہے ، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔5 اور اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے
۲:۱۹۷
ٱلْحَجُّحج (کے)al-ḥajuأَشْهُرٌۭمہینے ہیںashhurunمَّعْلُومَـٰتٌۭ ۚمعلوم۔ جانے بوجھےmaʿlūmātunفَمَنتو جو کوئیfamanفَرَضَفرض کرےfaraḍaفِيهِنَّان میںfīhinnaٱلْحَجَّحج کوl-ḥajaفَلَاتو نہfalāرَفَثَعورتوں کی طرف رغبت کرے۔ کوئی شہواتی فعل کرےrafathaوَلَااور نہwalāفُسُوقَکوئی گناہ کے کامfusūqaوَلَااور نہwalāجِدَالَکوئی جھگڑا کرےjidālaفِىمیںٱلْحَجِّ ۗحج میں۔ حج کے دورانl-ḥajiوَمَااور جوwamāتَفْعَلُوا۟تم کرو گےtafʿalūمِنْسےminخَيْرٍۢبھلائی ۔ نیکی میں سےkhayrinيَعْلَمْهُجان لے گا اسےyaʿlamhuٱللَّهُ ۗاللہl-lahuوَتَزَوَّدُوا۟اور تم زاد راہ لے لیا کروwatazawwadūفَإِنَّتو بیشکfa-innaخَيْرَبہترینkhayraٱلزَّادِزاد راہl-zādiٱلتَّقْوَىٰ ۚتقوی ہےl-taqwāوَٱتَّقُونِاور ڈرو مجھ سےwa-ittaqūniيَـٰٓأُو۟لِىاےyāulīٱلْأَلْبَـٰبِعقل والوl-albābi١٩٧
حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل1 ، کوئی بدعملی،2کوئی لڑائی جھگڑے کی بات3 سرزد نہ ہو۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔4
۲:۱۹۸
لَيْسَنہیں ہےlaysaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumجُنَاحٌکوئی گناہjunāḥunأَنکہanتَبْتَغُوا۟تم تلاش کروtabtaghūفَضْلًۭافضل کوfaḍlanمِّنسےminرَّبِّكُمْ ۚاپنے رب کی طرفrabbikumفَإِذَآپھر جبfa-idhāأَفَضْتُمتم پلٹوafaḍtumمِّنْسےminعَرَفَـٰتٍۢعرفاتʿarafātinفَٱذْكُرُوا۟تو یاد کروfa-udh'kurūٱللَّهَاللہ کاl-lahaعِندَپاسʿindaٱلْمَشْعَرِمشعرl-mashʿariٱلْحَرَامِ ۖحرام کے (مزدلفہ)l-ḥarāmiوَٱذْكُرُوهُاور یاد کرو اس کوwa-udh'kurūhuكَمَاجیسا کہkamāهَدَىٰكُمْاس نے راہنمائی کی تمہاریhadākumوَإِناور بیشکwa-inكُنتُمتھے تمkuntumمِّنسےminقَبْلِهِۦاس سے قبلqablihiلَمِنَالبتہ ان میں سے جوlaminaٱلضَّآلِّينَراہ گم کردہ ہیںl-ḍālīna١٩٨
اور اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے ربّ کا فضل بھی تلاش کرتے جاوٴ۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔1 پھر جب عرفات سے چلو، تو مشعرِ حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو۔ جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے، ورنہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔2
۲:۱۹۹
ثُمَّپھرthummaأَفِيضُوا۟تم پلٹوafīḍūمِنْسےminحَيْثُجہاںḥaythuأَفَاضَپلٹتے ہیںafāḍaٱلنَّاسُلوگl-nāsuوَٱسْتَغْفِرُوا۟اور بخشش مانگوwa-is'taghfirūٱللَّهَ ۚاللہ سےl-lahaإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaغَفُورٌۭبخشنے والاghafūrunرَّحِيمٌۭمہربان ہےraḥīmun١٩٩
پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو،1 یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
۲:۲۰۰
فَإِذَاپھر جبfa-idhāقَضَيْتُمپورے کرچکو تمqaḍaytumمَّنَـٰسِكَكُمْاپنے مناسک۔ حج کے طریقےmanāsikakumفَٱذْكُرُوا۟تو یاد کروfa-udh'kurūٱللَّهَاللہ کوl-lahaكَذِكْرِكُمْجیسا کہ یاد کرنا ہے تمہاراkadhik'rikumءَابَآءَكُمْاپنے باپ دادا کوābāakumأَوْیاawأَشَدَّزیادہ شدیدashaddaذِكْرًۭا ۗذکرdhik'ranفَمِنَپس سےfaminaٱلنَّاسِلوگوں میں سےl-nāsiمَنکوئی وہ ہےmanيَقُولُجو کہتا ہےyaqūluرَبَّنَآاے ہمارے ربrabbanāءَاتِنَادے ہم کوātināفِىمیںٱلدُّنْيَادنیاl-dun'yāوَمَااور نہیں ہوتاwamāلَهُۥاس کے لیےlahuفِىمیںٱلْـَٔاخِرَةِآخرت میںl-ākhiratiمِنْسےminخَلَـٰقٍۢکوئی حصہkhalāqin٢٠٠
پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا واجداد کا ذکر کرتے تھے ، اُسی طرح اب اللہ کا ذکر و، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔1 (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے ) اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے کہ اے ہمارے ربّ ، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے۔ ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں
۲:۲۰۱
وَمِنْهُماور ان میں سےwamin'humمَّنکوئیmanيَقُولُکہتا ہےyaqūluرَبَّنَآاے ہمارے ربrabbanāءَاتِنَادے ہم کوātināفِىمیںٱلدُّنْيَادنیاl-dun'yāحَسَنَةًۭبھلائیḥasanatanوَفِىاور میںwafīٱلْـَٔاخِرَةِآخرتl-ākhiratiحَسَنَةًۭبھلائیḥasanatanوَقِنَااور تو بچا ہم کوwaqināعَذَابَعذاب سےʿadhābaٱلنَّارِآگ کےl-nāri٢٠١
اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا
۲:۲۰۲
أُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگ ہیںulāikaلَهُمْجن کے لیے ہےlahumنَصِيبٌۭایک حصہnaṣībunمِّمَّااس سے جوmimmāكَسَبُوا۟ ۚانہوں نے کمایاkasabūوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuسَرِيعُجلدی لینے والا ہےsarīʿuٱلْحِسَابِحساب کاl-ḥisābi٢٠٢
ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی
۲:۲۰۳
۞ وَٱذْكُرُوا۟اور یاد کروwa-udh'kurūٱللَّهَاللہ کوl-lahaفِىٓمیںأَيَّامٍۢدنوںayyāminمَّعْدُودَٰتٍۢ ۚگنے چنےmaʿdūdātinفَمَنتو جو کوئیfamanتَعَجَّلَجلدی کرےtaʿajjalaفِىمیںيَوْمَيْنِدو دنوںyawmayniفَلَآتو نہیں ہےfalāإِثْمَکوئی گناہith'maعَلَيْهِاس پرʿalayhiوَمَناور جوwamanتَأَخَّرَتاخیر کرے۔ دیرے کرےta-akharaفَلَآتو نہیں ہےfalāإِثْمَکوئی گناہith'maعَلَيْهِ ۚاس پرʿalayhiلِمَنِواسطے اس کے جوlimaniٱتَّقَىٰ ۗتقوی اختیار کرےittaqāوَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūٱللَّهَاللہ سےl-lahaوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّكُمْبیشک تمannakumإِلَيْهِاس کی طرفilayhiتُحْشَرُونَتم اکٹھے کیے جاؤ گےtuḥ'sharūna٢٠٣
یہ گنتی کے چندروز ہیں ، جو تمہیں اللہ کے یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر جو کوئی جلدی کرکےدو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کرپلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں۔1 بشرطیکہ یہ دن اس نے تقوٰی کے ساتھ بسر کیے ہوں۔۔۔۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے
۲:۲۰۴
وَمِنَاور سےwaminaٱلنَّاسِلوگوںl-nāsiمَنکوئی وہ ہےmanيُعْجِبُكَجو اچھی لگتی ہے تجھ کو۔ جو پسند آتی ہے تجھ کوyuʿ'jibukaقَوْلُهُۥبات اس کیqawluhuفِىمیںٱلْحَيَوٰةِزندگی میںl-ḥayatiٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yāوَيُشْهِدُاور وہ گواہ بناتا ہےwayush'hiduٱللَّهَاللہ کوl-lahaعَلَىٰاوپرʿalāمَااس کے جوفِىمیںقَلْبِهِۦاس کے دل میں ہےqalbihiوَهُوَحالانکہ وہwahuwaأَلَدُّسخت جھگڑالوaladduٱلْخِصَامِجھگڑنے والوں میں سے ہے۔ جھگڑے میںl-khiṣāmi٢٠٤
انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھیراتا ہے1، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن ِ حق ہوتا ہے۔2
۲:۲۰۵
وَإِذَااور جبwa-idhāتَوَلَّىٰوہ منہ موڑتا ہے۔ پلٹ کرجاتا ہےtawallāسَعَىٰکوشش کرتا ہے۔ دوڑ دھوپ کرتا ہےsaʿāفِىمیںٱلْأَرْضِزمینl-arḍiلِيُفْسِدَتاکہ وہ فساد کرےliyuf'sidaفِيهَااس میںfīhāوَيُهْلِكَاور تاکہ وہ ہلاک کرےwayuh'likaٱلْحَرْثَکھیتی کوl-ḥarthaوَٱلنَّسْلَ ۗاور نسل کوwal-naslaوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuلَانہیںيُحِبُّپسند کرتاyuḥibbuٱلْفَسَادَفساد کوl-fasāda٢٠٥
جب اسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے1، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہو تی ہےکہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل ِ انسانی کو تباہ کرے۔۔۔۔حالانکہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہاتھا) فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا
۲:۲۰۶
وَإِذَااور جبwa-idhāقِيلَکہا جاتا ہےqīlaلَهُواسطے اس کےlahuٱتَّقِڈروittaqiٱللَّهَاللہ سےl-lahaأَخَذَتْهُپکڑ لیتی ہے اس کوakhadhathuٱلْعِزَّةُعزت۔ وقارl-ʿizatuبِٱلْإِثْمِ ۚساتھ گناہ کےbil-ith'miفَحَسْبُهُۥتو کافی ہے اس کوfaḥasbuhuجَهَنَّمُ ۚجہنمjahannamuوَلَبِئْسَاور البتہ کتنا برا ہے۔ یقینا بہت ہی برا ہےwalabi'saٱلْمِهَادُٹھکانہl-mihādu٢٠٦
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
۲:۲۰۷
وَمِنَاور میں سےwaminaٱلنَّاسِلوگوںl-nāsiمَنکوئی وہ ہےmanيَشْرِىجو بیچتا ہےyashrīنَفْسَهُاپنے نفس کوnafsahuٱبْتِغَآءَتلاش کرنے کے لیے۔ چاہنے کے لیےib'tighāaمَرْضَاتِرضاmarḍātiٱللَّهِ ۗاللہ کیl-lahiوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuرَءُوفٌۢشفقت کرنے والا ہےraūfunبِٱلْعِبَادِبندوں پرbil-ʿibādi٢٠٧
دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے، جو رضا ئے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے
۲:۲۰۸
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے ہوāmanūٱدْخُلُوا۟داخل ہوجاؤud'khulūفِىمیںٱلسِّلْمِاسلام میں۔ اطاعت میںl-sil'miكَآفَّةًۭسارے کے سارے۔ پورے کے پورےkāffatanوَلَااور نہwalāتَتَّبِعُوا۟تم پیروی کروtattabiʿūخُطُوَٰتِقدموں کیkhuṭuwātiٱلشَّيْطَـٰنِ ۚشیطان کےl-shayṭāniإِنَّهُۥبیشک وہinnahuلَكُمْتمہارے لیےlakumعَدُوٌّۭدشمن ہےʿaduwwunمُّبِينٌۭکھلم کھلاmubīnun٢٠٨
اے ایمان لانے والوں! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ1 اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
۲:۲۰۹
فَإِنپھر اگرfa-inزَلَلْتُملڑکھڑا گئے تم۔ پھسل گئے تمzalaltumمِّنۢfromminبَعْدِاس کے بعدbaʿdiمَاجوجَآءَتْكُمُآگئیں تمہارے پاسjāatkumuٱلْبَيِّنَـٰتُروشن نشانیاںl-bayinātuفَٱعْلَمُوٓا۟تو جان لوfa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaعَزِيزٌزبردست ہےʿazīzunحَكِيمٌحکمت والا ہےḥakīmun٢٠٩
جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں، اگر ان کو پا لینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔1
۲:۲۱۰
هَلْکیا۔ پسhalيَنظُرُونَوہ انتظار کر رہے۔ وہ دیکھ رہےyanẓurūnaإِلَّآمگرillāأَن(اس بات کا) یہ کہanيَأْتِيَهُمُآجائے ان کے پاسyatiyahumuٱللَّهُاللہl-lahuفِىمیںظُلَلٍۢسائبانوںẓulalinمِّنَسےminaٱلْغَمَامِبادلوںl-ghamāmiوَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُاور فرشتےwal-malāikatuوَقُضِىَاور پورا کردیا جائےwaquḍiyaٱلْأَمْرُ ۚمعاملہ۔ فیصلہl-amruوَإِلَىاور طرفwa-ilāٱللَّهِاللہ کےl-lahiتُرْجَعُلوٹائے جاتے ہیںtur'jaʿuٱلْأُمُورُسب کامl-umūru٢١٠
(ان ساری نصیحتو ں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہو ں ، تو )کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالاجائے؟1۔۔۔۔آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں
۲:۲۱۱
سَلْپوچھ لیجیےsalبَنِىٓبنیbanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل سےis'rāīlaكَمْکتنیkamءَاتَيْنَـٰهُمدیں ہم نے ان کوātaynāhumمِّنْسےminءَايَةٍۭنشانیوںāyatinبَيِّنَةٍۢ ۗروشنbayyinatinوَمَناور جو کوئیwamanيُبَدِّلْبدل دے گاyubaddilنِعْمَةَنعمت کوniʿ'mataٱللَّهِاللہ کیl-lahiمِنۢسےminبَعْدِاس کے بعدbaʿdiمَاجوجَآءَتْهُآگئی اس کے پاسjāathuفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہl-lahaشَدِيدُسختshadīduٱلْعِقَابِسزا والا ہےl-ʿiqābi٢١١
بنی اسرئیل سے پوچھو: کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انھیں دکھائی ہیں(اور پھر یہ بھی ان ہی سے پوچھ لو کہ )اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے۔1
۲:۲۱۲
زُيِّنَخوشنما بنادی گئی۔ خوبصورت بنادی گئیzuyyinaلِلَّذِينَان لوگوں کے لیےlilladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūٱلْحَيَوٰةُزندگیl-ḥayatuٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yāوَيَسْخَرُونَاور وہ مذاق اڑاتے ہیں۔wayaskharūnaمِنَ[of]minaٱلَّذِينَان لوگوں کاalladhīnaءَامَنُوا۟ ۘجو ایمان لائےāmanūوَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaٱتَّقَوْا۟جنہوں نے تقوی اختیار کیاittaqawفَوْقَهُمْان کے اوپر ہوں گےfawqahumيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِ ۗقیامت کےl-qiyāmatiوَٱللَّهُاللہwal-lahuيَرْزُقُرزق دیتا ہےyarzuquمَنجسےmanيَشَآءُچاہتا ہےyashāuبِغَيْرِبغیرbighayriحِسَابٍۢحساب کےḥisābin٢١٢
جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے، اُن کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں، مگر قیامت کے روز پرہیز گار لوگ ہی اُن کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے رہا دنیا کا رزق، تو اللہ کو اختیار ہے، جسے چاہے بے حساب دے
۲:۲۱۳
كَانَتھےkānaٱلنَّاسُلوگl-nāsuأُمَّةًۭامتummatanوَٰحِدَةًۭایکwāḥidatanفَبَعَثَپھر بھیجاfabaʿathaٱللَّهُاللہ نےl-lahuٱلنَّبِيِّـۧنَنبیوں کوl-nabiyīnaمُبَشِّرِينَخوشخبری دینے والاmubashirīnaوَمُنذِرِينَاور ڈرانے والے (بنا کر)wamundhirīnaوَأَنزَلَاور نازل کیwa-anzalaمَعَهُمُان کے ساتھmaʿahumuٱلْكِتَـٰبَکتابl-kitābaبِٱلْحَقِّحق کے ساتھbil-ḥaqiلِيَحْكُمَتاکہ وہ فیصلہ کرےliyaḥkumaبَيْنَدرمیانbaynaٱلنَّاسِلوگوں کےl-nāsiفِيمَااس میں جوfīmāٱخْتَلَفُوا۟انہوں نے اختلاف کیاikh'talafūفِيهِ ۚاس میںfīhiوَمَااور نہیںwamāٱخْتَلَفَاختلاف کیاikh'talafaفِيهِاس میںfīhiإِلَّامگرillāٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaأُوتُوهُجو دیے گئے تھے اس کوūtūhuمِنۢfromminبَعْدِاس کے بعدbaʿdiمَاجوجَآءَتْهُمُآئیں ان کے پاسjāathumuٱلْبَيِّنَـٰتُروشن نشانیاںl-bayinātuبَغْيًۢاضد کی وجہ سےbaghyanبَيْنَهُمْ ۖاپنے درمیانbaynahumفَهَدَىتو ہدایت دیfahadāٱللَّهُاللہ نےl-lahuٱلَّذِينَان لوگوں کوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūلِمَاواسطے اس چیز کے جوlimāٱخْتَلَفُوا۟انہوں نے اختلاف کیاikh'talafūفِيهِاس میںfīhiمِنَسےminaٱلْحَقِّحقl-ḥaqiبِإِذْنِهِۦ ۗساتھ اپنے حکم کےbi-idh'nihiوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيَهْدِىہدایت دیتا ہےyahdīمَنجس کوmanيَشَآءُچاہتا ہےyashāuإِلَىٰطرفilāصِرَٰطٍۢراہṣirāṭinمُّسْتَقِيمٍسیدھی راہ کے ۔ سیدھے راستے کےmus'taqīmin٢١٣
ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے۔ (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے)تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج ر وی کے نتائج سےڈرانے والے تھے، اور ان کے ساتھ کتاب ِبر حق نازل کی تا کہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے، ان کا فیصلہ کرے۔۔۔۔(اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتداء میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں،) اختلاف ان لوگوں نے کیا ، جنہیں حق کا علم دیا چکاتھا۔ انھوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالےکہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے1۔۔۔۔ پس جو لوگ انبیاؑ پر ایمان لے آئے، انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھادیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، راہِ راست دکھا دیتا ہے
۲:۲۱۴
أَمْکیاamحَسِبْتُمْخیال کیا تم نے۔ سمجھ لیا ہے تم نےḥasib'tumأَنکہanتَدْخُلُوا۟تم داخل ہوجاؤ گےtadkhulūٱلْجَنَّةَجنت میںl-janataوَلَمَّاحالانکہ نہیںwalammāيَأْتِكُمآئی تمہارے پاسyatikumمَّثَلُمثالmathaluٱلَّذِينَان لوگوں کیalladhīnaخَلَوْا۟جو گزر چکےkhalawمِنسےminقَبْلِكُم ۖتم سے پہلےqablikumمَّسَّتْهُمُپہنچیں ان کوmassathumuٱلْبَأْسَآءُسختیاںl-basāuوَٱلضَّرَّآءُاور مصیبتیںwal-ḍarāuوَزُلْزِلُوا۟اور وہ ہلا مارے گئےwazul'zilūحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَقُولَپکار اٹھے۔ کہہ اٹھےyaqūlaٱلرَّسُولُرسولl-rasūluوَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūمَعَهُۥساتھ اس کےmaʿahuمَتَىٰکب آئے گیmatāنَصْرُمددnaṣruٱللَّهِ ۗاللہ کیl-lahiأَلَآخبردار ۔ سنوalāإِنَّبیشکinnaنَصْرَمددnaṣraٱللَّهِاللہ کیl-lahiقَرِيبٌۭقریب ہےqarībun٢١٤
پھر کیا1 تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوُ نہی جنت کا داخلہ تمہیں مِل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ ان پر سختیاں گزر یں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتٰی کہ وقت کا رسول اور اس کےساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔۔۔۔ اس وقت انھیں تسلّی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے
۲:۲۱۵
يَسْـَٔلُونَكَوہ سوال کرتے ہیں آپ سےyasalūnakaمَاذَاکیا کچھmādhāيُنفِقُونَ ۖوہ خرچ کریںyunfiqūnaقُلْکہہ دیجیےqulمَآجوأَنفَقْتُمخرچ کرو تمanfaqtumمِّنْسےminخَيْرٍۢمال میںkhayrinفَلِلْوَٰلِدَيْنِتو والدین کے لیے ہےfalil'wālidayniوَٱلْأَقْرَبِينَاور قریبی رشتہ داروں کے لیےwal-aqrabīnaوَٱلْيَتَـٰمَىٰاور یتیموں کے لیےwal-yatāmāوَٱلْمَسَـٰكِينِاور مسکینوں کے لیےwal-masākīniوَٱبْنِاور مسافروں کے لیےwa-ib'niٱلسَّبِيلِ ۗthe wayfarerl-sabīliوَمَااور جو بھیwamāتَفْعَلُوا۟تم کرو گےtafʿalūمِنْسےminخَيْرٍۢنیکی میں سےkhayrinفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہl-lahaبِهِۦاس کوbihiعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun٢١٥
لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا
۲:۲۱۶
كُتِبَفرض کیا گیاkutibaعَلَيْكُمُتم پرʿalaykumuٱلْقِتَالُجنگ کرنا۔ لڑائی کرناl-qitāluوَهُوَحالانکہ وہwahuwaكُرْهٌۭناپسندیدہ ہےkur'hunلَّكُمْ ۖتمہارے لیےlakumوَعَسَىٰٓاور امید ہے۔ ہوسکتا ہےwaʿasāأَنکہanتَكْرَهُوا۟تم ناپسند کروtakrahūشَيْـًۭٔاکسی چیز کوshayanوَهُوَاور وہwahuwaخَيْرٌۭبہتر ہوkhayrunلَّكُمْ ۖتمہارے لیےlakumوَعَسَىٰٓاور امید ہے۔ ہوسکتا ہےwaʿasāأَنکہanتُحِبُّوا۟تم پسند کروtuḥibbūشَيْـًۭٔاکسی چیز کوshayanوَهُوَاور وہwahuwaشَرٌّۭبری ہوsharrunلَّكُمْ ۗتمہارے لیےlakumوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيَعْلَمُجانتا ہےyaʿlamuوَأَنتُمْاور تمwa-antumلَانہیںتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna٢١٦
تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے
۲:۲۱۷
يَسْـَٔلُونَكَوہ سوال کرتے ہیں آپ سےyasalūnakaعَنِمیںʿaniٱلشَّهْرِمہینوں کے بارےl-shahriٱلْحَرَامِحرامl-ḥarāmiقِتَالٍۢجنگ کرناqitālinفِيهِ ۖاس میںfīhiقُلْکہہ دیںqulقِتَالٌۭجنگ کرناqitālunفِيهِاس میںfīhiكَبِيرٌۭ ۖبڑا ہے (گناہ)kabīrunوَصَدٌّاور روکناwaṣaddunعَنسےʿanسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَكُفْرٌۢاور کفر کرناwakuf'runبِهِۦاس کاbihiوَٱلْمَسْجِدِاور مسجدwal-masjidiٱلْحَرَامِحرام سےl-ḥarāmiوَإِخْرَاجُاور نکالناwa-ikh'rājuأَهْلِهِۦاس کے رہنے والوں کوahlihiمِنْهُاس سےmin'huأَكْبَرُسب سے بڑا ہے۔ بہت بڑا گناہ ہےakbaruعِندَنزدیکʿindaٱللَّهِ ۚاللہ کےl-lahiوَٱلْفِتْنَةُاور فتنہwal-fit'natuأَكْبَرُزیادہ بڑا ہےakbaruمِنَسےminaٱلْقَتْلِ ۗقتلl-qatliوَلَاAnd notwalāيَزَالُونَاور ہمیشہ رہیں گےyazālūnaيُقَـٰتِلُونَكُمْجنگ کرتے تم سےyuqātilūnakumحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَرُدُّوكُمْلوٹا دیں تم کوyaruddūkumعَنسےʿanدِينِكُمْتمہارے دین سےdīnikumإِنِاگرiniٱسْتَطَـٰعُوا۟ ۚوہ استطاعت رکھتے ہوںis'taṭāʿūوَمَناور جوwamanيَرْتَدِدْپھر گیا۔ پھر جائے گاyartadidمِنكُمْتم میں سےminkumعَنسےʿanدِينِهِۦاپنے دین سےdīnihiفَيَمُتْپھر وہ مرجائےfayamutوَهُوَاس حال میں کہ وہwahuwaكَافِرٌۭکافر ہےkāfirunفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگfa-ulāikaحَبِطَتْضائع ہوگئےḥabiṭatأَعْمَـٰلُهُمْاعمال ان کےaʿmāluhumفِىمیںٱلدُّنْيَادنیاl-dun'yāوَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖاور آخرت میںwal-ākhiratiوَأُو۟لَـٰٓئِكَاور یہی لوگwa-ulāikaأَصْحَـٰبُساتھی ہیںaṣḥābuٱلنَّارِ ۖآگ کےl-nāriهُمْوہhumفِيهَااس میںfīhāخَـٰلِدُونَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidūna٢١٧
لوگ پوچھتے ہیں ماہِ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اس میں لڑنا بہت برا ہے ، مگرراہِ خُدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجدِحرام کا راستہ خُدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کےنزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدیدتر ہے۔1 وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گےحتٰی کہ اگر ان کا بس چلے، تو تمہیں اس دین سے پھیر لے جائیں۔ (اور یہ خوب سمجھ لو کہ ) تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔2
۲:۲۱۸
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaهَاجَرُوا۟جنہوں نے ہجرت کیhājarūوَجَـٰهَدُوا۟اور جہاد کیاwajāhadūفِىمیںسَبِيلِراہsabīliٱللَّهِاللہ کیl-lahiأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaيَرْجُونَوہ امید رکھتے ہیںyarjūnaرَحْمَتَرحمتraḥmataٱللَّهِ ۚاللہ کیl-lahiوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuغَفُورٌۭبخشنے والاghafūrunرَّحِيمٌۭرحیم ہےraḥīmun٢١٨
بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے خدا کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے1، وہ رحمت ِ الٰہی کے جائز امید وار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انھیں نوازنے والا ہے
۲:۲۱۹
۞ يَسْـَٔلُونَكَوہ سوال کرتے ہیں آپ سےyasalūnakaعَنِمیںʿaniٱلْخَمْرِشراب کے بارےl-khamriوَٱلْمَيْسِرِ ۖاور جوئے کے بارے میںwal-maysiriقُلْکہہ دیجیےqulفِيهِمَآان دونوں میںfīhimāإِثْمٌۭگناہ ہےith'munكَبِيرٌۭبڑاkabīrunوَمَنَـٰفِعُاور کچھ فائدے بھی ہیںwamanāfiʿuلِلنَّاسِلوگوں کے لیےlilnnāsiوَإِثْمُهُمَآگناہ ان دونوں کاwa-ith'muhumāأَكْبَرُزیادہ بڑا ہےakbaruمِنسےminنَّفْعِهِمَا ۗان دونوں کے نفعnafʿihimāوَيَسْـَٔلُونَكَاور وہ سوال کرتے ہیں آپ سےwayasalūnakaمَاذَاکیا کچھmādhāيُنفِقُونَوہ خرچ کریںyunfiqūnaقُلِکہہ دیجیےquliٱلْعَفْوَ ۗضرورت سے زائدl-ʿafwaكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaيُبَيِّنُبیان کرتا ہےyubayyinuٱللَّهُاللہl-lahuلَكُمُتمہارے لیےlakumuٱلْـَٔايَـٰتِآیاتl-āyātiلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَتَفَكَّرُونَتم غور و فکر کروtatafakkarūna٢١٩
پوچھتے ہیں : شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے؟ : ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں ، مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔1پوچھتے ہیں : ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں ؟ کہو : جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیےصاف صاف احکام بیان کرتا ہے،شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو
۲:۲۲۰
فِىمیںٱلدُّنْيَادنیاl-dun'yāوَٱلْـَٔاخِرَةِ ۗاور آخرت میںwal-ākhiratiوَيَسْـَٔلُونَكَاور وہ سوال کرتے ہیں آپ سےwayasalūnakaعَنِaboutʿaniٱلْيَتَـٰمَىٰ ۖیتیموں کے بارے میںl-yatāmāقُلْکہہ دیجیےqulإِصْلَاحٌۭاصلاح کرنا۔ خیر خواہی کرناiṣ'lāḥunلَّهُمْان کے لیےlahumخَيْرٌۭ ۖاچھا ہےkhayrunوَإِناور اگرwa-inتُخَالِطُوهُمْتم ملا لو ان کوtukhāliṭūhumفَإِخْوَٰنُكُمْ ۚتو وہ تمہارے بھائی ہیںfa-ikh'wānukumوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيَعْلَمُجانتا ہےyaʿlamuٱلْمُفْسِدَفساد کرنے والے کوl-muf'sidaمِنَسےminaٱلْمُصْلِحِ ۚاصلاح کرنے والےl-muṣ'liḥiوَلَوْاور اگرwalawشَآءَچاہتاshāaٱللَّهُاللہl-lahuلَأَعْنَتَكُمْ ۚالبتہ مشکل میں ڈال دیتا تم کوla-aʿnatakumإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaعَزِيزٌزبردست ہےʿazīzunحَكِيمٌۭحکمت والا ہےḥakīmun٢٢٠
پوچھتے ہیں: یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کہو : جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو ، وہی اختیار کرنا بہتر ہے۔1 اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔اللہ چاہتا تو اس معاملہ میں تم پر سختی کرتا مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے
۲:۲۲۱
وَلَااور نہwalāتَنكِحُوا۟تم نکاح کروtankiḥūٱلْمُشْرِكَـٰتِمشرک عورتوں سےl-mush'rikātiحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيُؤْمِنَّ ۚوہ ایمان لے آئیںyu'minnaوَلَأَمَةٌۭاور البتہ لونڈیwala-amatunمُّؤْمِنَةٌمومنہ۔ ایمان والیmu'minatunخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunمِّنسےminمُّشْرِكَةٍۢمشرکہ عورتmush'rikatinوَلَوْاور اگرچہwalawأَعْجَبَتْكُمْ ۗوہ اچھی لگے تم کوaʿjabatkumوَلَااور نہwalāتُنكِحُوا۟تم نکاح کر کے دوtunkiḥūٱلْمُشْرِكِينَمشرک مردوں کوl-mush'rikīnaحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيُؤْمِنُوا۟ ۚوہ ایمان لے آئیںyu'minūوَلَعَبْدٌۭاور البتہ غلامwalaʿabdunمُّؤْمِنٌمومنmu'minunخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunمِّنسےminمُّشْرِكٍۢمشرک مردmush'rikinوَلَوْاور اگرچہwalawأَعْجَبَكُمْ ۗوہ پسند آئے تم کوaʿjabakumأُو۟لَـٰٓئِكَیہ لوگulāikaيَدْعُونَبلاتے ہیںyadʿūnaإِلَىطرفilāٱلنَّارِ ۖآگ کیl-nāriوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيَدْعُوٓا۟بلاتا ہےyadʿūإِلَىطرفilāٱلْجَنَّةِجنت کی طرفl-janatiوَٱلْمَغْفِرَةِاور بخشش کی طرفwal-maghfiratiبِإِذْنِهِۦ ۖساتھ اپنے اذن کےbi-idh'nihiوَيُبَيِّنُاور بیان کرتا ہےwayubayyinuءَايَـٰتِهِۦآیات اپنیāyātihiلِلنَّاسِلوگوں کے لیےlilnnāsiلَعَلَّهُمْتاکہ وہlaʿallahumيَتَذَكَّرُونَوہ نصیحت پکڑیںyatadhakkarūna٢٢١
تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا ، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ یہ لوگ تمہیں آگ کر طرف بلاتے ہیں1 اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے
۲:۲۲۲
وَيَسْـَٔلُونَكَاور وہ سوال کرتے ہیں آپ سےwayasalūnakaعَنِaboutʿaniٱلْمَحِيضِ ۖحیض کے بارے میںl-maḥīḍiقُلْکہہ دیجیےqulهُوَوہhuwaأَذًۭىنجاست ہے۔ تکلیف ہےadhanفَٱعْتَزِلُوا۟تو الگ رہوfa-iʿ'tazilūٱلنِّسَآءَعورتوں سےl-nisāaفِىمیںٱلْمَحِيضِ ۖحیضl-maḥīḍiوَلَااور نہwalāتَقْرَبُوهُنَّتم قریب جاؤ ان کےtaqrabūhunnaحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَطْهُرْنَ ۖوہ پاک ہوجائیںyaṭhur'naفَإِذَاپھر جبfa-idhāتَطَهَّرْنَوہ پاک ہو جائیںtaṭahharnaفَأْتُوهُنَّتو آؤ ان کے پاسfatūhunnaمِنْسےminحَيْثُجہاںḥaythuأَمَرَكُمُحکم دیا تم کوamarakumuٱللَّهُ ۚاللہ نےl-lahuإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaيُحِبُّپسند کرتا ہے۔ محبت رکھتا ہےyuḥibbuٱلتَّوَّٰبِينَتوبہ کرنے والوں سےl-tawābīnaوَيُحِبُّاور محبت رکھتا ہےwayuḥibbuٱلْمُتَطَهِّرِينَپاک رہنے والوں سےl-mutaṭahirīna٢٢٢
پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو: وہ ایک گندگی کی حالت ہے۔1 اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں2۔پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔3 اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں
۲:۲۲۳
نِسَآؤُكُمْعورتیں تمہاریnisāukumحَرْثٌۭکھیتی ہیںḥarthunلَّكُمْتمہارے لیےlakumفَأْتُوا۟تو آؤfatūحَرْثَكُمْاپنے کھیت میںḥarthakumأَنَّىٰجہاں سے۔ جس طرحannāشِئْتُمْ ۖچاہو تمshi'tumوَقَدِّمُوا۟اور آگے بھیجوwaqaddimūلِأَنفُسِكُمْ ۚواسطے اپنے نفسوں کےli-anfusikumوَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūٱللَّهَاللہ سےl-lahaوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّكُمبیشک تمannakumمُّلَـٰقُوهُ ۗملاقات کرنے والے ہو اس سےmulāqūhuوَبَشِّرِاور خوشخبری دے دوwabashiriٱلْمُؤْمِنِينَایمان لانے والوں کوl-mu'minīna٢٢٣
تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ1، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو2 اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبیؐ ! جو تمہاری ہدایت کو مان لیں انہیں فلاح وسعادت کا مژدہ سنادو
۲:۲۲۴
وَلَااور نہwalāتَجْعَلُوا۟تم بناؤtajʿalūٱللَّهَاللہ کوl-lahaعُرْضَةًۭنشانہ۔ ڈھال۔ ہدفʿur'ḍatanلِّأَيْمَـٰنِكُمْاپنی قسموں کے لیےli-aymānikumأَنکہanتَبَرُّوا۟تم نیکی کروtabarrūوَتَتَّقُوا۟اور تم تقوی اختیار کروwatattaqūوَتُصْلِحُوا۟اور تم صلح کراؤwatuṣ'liḥūبَيْنَدرمیانbaynaٱلنَّاسِ ۗلوگوں کےl-nāsiوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuسَمِيعٌسننے والا ہےsamīʿunعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun٢٢٤
اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو، جن سے مقصود نیکی اور تقوٰی اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔1 اللہ تمہاری باتین سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے
۲:۲۲۵
لَّانہیںيُؤَاخِذُكُمُمواخذہ کرے گا تمہاراyuākhidhukumuٱللَّهُاللہl-lahuبِٱللَّغْوِساتھ لغو کےbil-laghwiفِىٓمیںأَيْمَـٰنِكُمْتمہاری قسموںaymānikumوَلَـٰكِنلیکنwalākinيُؤَاخِذُكُممواخذہ کرے گا تمہاراyuākhidhukumبِمَابوجہ اس کے جوbimāكَسَبَتْکمائی کیkasabatقُلُوبُكُمْ ۗتمہارے دلوں نےqulūbukumوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuغَفُورٌمغفرت کرنے والاghafūrunحَلِيمٌۭحلم والا۔ بردبار ہےḥalīmun٢٢٥
جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا،1مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے
۲:۲۲۶
لِّلَّذِينَان لوگوں کے لیےlilladhīnaيُؤْلُونَجو قسم کھالیتے ہیںyu'lūnaمِنسےminنِّسَآئِهِمْاپنی بیویوںnisāihimتَرَبُّصُانتظار کرنا ہےtarabbuṣuأَرْبَعَةِچارarbaʿatiأَشْهُرٍۢ ۖمہینےashhurinفَإِنپھر اگرfa-inفَآءُووہ رجوع کریں۔ وہ لوٹیںfāūفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہl-lahaغَفُورٌۭبخشنے والاghafūrunرَّحِيمٌۭمہربان ہےraḥīmun٢٢٦
جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے1۔ اگر انھوں نے رجوع کرلیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔2
۲:۲۲۷
وَإِنْاور اگرwa-inعَزَمُوا۟وہ عزم کریں۔ انہوں نے ارادہ کیاʿazamūٱلطَّلَـٰقَطلاق کاl-ṭalāqaفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہl-lahaسَمِيعٌسننے والاsamīʿunعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun٢٢٧
اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی 1ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔2
۲:۲۲۸
وَٱلْمُطَلَّقَـٰتُاور عورتیں جو طلاق یافتہ ہیںwal-muṭalaqātuيَتَرَبَّصْنَانتظار کریں وہyatarabbaṣnaبِأَنفُسِهِنَّساتھ اپنے نفسوں کےbi-anfusihinnaثَلَـٰثَةَتینthalāthataقُرُوٓءٍۢ ۚحیض۔ طہرqurūinوَلَااور نہیںwalāيَحِلُّحلالyaḥilluلَهُنَّان کے لیےlahunnaأَنکہanيَكْتُمْنَوہ چھپائیںyaktum'naمَاجوخَلَقَپیدا کیاkhalaqaٱللَّهُاللہ نےl-lahuفِىٓمیںأَرْحَامِهِنَّان کے رحموںarḥāmihinnaإِناگرinكُنَّوہ ہیںkunnaيُؤْمِنَّایمان رکھتیںyu'minnaبِٱللَّهِاللہ پرbil-lahiوَٱلْيَوْمِاور یومwal-yawmiٱلْـَٔاخِرِ ۚآخرت پرl-ākhiriوَبُعُولَتُهُنَّاور ان کے شوہرwabuʿūlatuhunnaأَحَقُّزیادہ حق دار ہیںaḥaqquبِرَدِّهِنَّان کو لوٹانے کےbiraddihinnaفِىمیںذَٰلِكَاسdhālikaإِنْاگرinأَرَادُوٓا۟وہ ارادہ کریں۔ وہ چاہتے ہوںarādūإِصْلَـٰحًۭا ۚاصلاح کوiṣ'lāḥanوَلَهُنَّاور ان کے لیےwalahunnaمِثْلُمانندmith'luٱلَّذِىاس کے ہے۔ جوalladhīعَلَيْهِنَّاوپر ان کے ہےʿalayhinnaبِٱلْمَعْرُوفِ ۚساتھ معروف طریقے کےbil-maʿrūfiوَلِلرِّجَالِاور مردوں کے لیےwalilrrijāliعَلَيْهِنَّان پرʿalayhinnaدَرَجَةٌۭ ۗایک درجہ ہےdarajatunوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuعَزِيزٌزبردست ہےʿazīzunحَكِيمٌحکمت والا ہےḥakīmun٢٢٨
جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، وہ تین مرتبہ ایّام ِ ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ خَلق فرمایا ہو، اسے چھپائیں۔ انھیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتی ہیں۔ ان کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اس عدّت کے دوران میں انھیں پھر اپنی زوجیّت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں۔1عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مَردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا موجود ہے
۲:۲۲۹
ٱلطَّلَـٰقُطلاقal-ṭalāquمَرَّتَانِ ۖدو مرتبہ ہےmarratāniفَإِمْسَاكٌۢپھر روک لینا ہےfa-im'sākunبِمَعْرُوفٍساتھ بھلے طریقے کےbimaʿrūfinأَوْیاawتَسْرِيحٌۢرخصت کردینا ہےtasrīḥunبِإِحْسَـٰنٍۢ ۗساتھ احسان کےbi-iḥ'sāninوَلَااور نہیںwalāيَحِلُّحلال۔ جائزyaḥilluلَكُمْتمہارے لیےlakumأَنکہanتَأْخُذُوا۟تم لے لوtakhudhūمِمَّآاس میں سے جوmimmāءَاتَيْتُمُوهُنَّدے دیا ہے تم نے ان کوātaytumūhunnaشَيْـًٔاکچھ بھیshayanإِلَّآمگرillāأَنکہanيَخَافَآوہ دونوں ڈریںyakhāfāأَلَّاکہ نہallāيُقِيمَاوہ دونوں قائم رکھ سکیں گےyuqīmāحُدُودَحدود کوḥudūdaٱللَّهِ ۖاللہ کیl-lahiفَإِنْپھر اگرfa-inخِفْتُمْاندیشہ ہو تمہیںkhif'tumأَلَّاکہ نہallāيُقِيمَاوہ دونوں قائم رکھ سکیں گےyuqīmāحُدُودَحدود کوḥudūdaٱللَّهِاللہ کیl-lahiفَلَاتو نہیںfalāجُنَاحَکوئی گناہjunāḥaعَلَيْهِمَاان دونوں پرʿalayhimāفِيمَااس چیز میںfīmāٱفْتَدَتْجو وہ (عورت) فدیہ دے دےif'tadatبِهِۦ ۗساتھ اس کےbihiتِلْكَیہtil'kaحُدُودُحدود ہیںḥudūduٱللَّهِاللہ کیl-lahiفَلَاتو نہfalāتَعْتَدُوهَا ۚتم تجاوز کرنا ان سےtaʿtadūhāوَمَناور جوwamanيَتَعَدَّتجاوز کرے گاyataʿaddaحُدُودَحدودḥudūdaٱللَّهِاللہ کیl-lahiفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگ ہیںfa-ulāikaهُمُوہhumuٱلظَّـٰلِمُونَجو ظالم ہیںl-ẓālimūna٢٢٩
طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے۔1اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو ، اس میں سے کچھ واپس لے لو۔2البتہ یہ صورت مستشنٰی ہےکہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔3 یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں
۲:۲۳۰
فَإِنپھر اگرfa-inطَلَّقَهَاوہ (مرد) طلاق دے دے اس (عورت) کوṭallaqahāفَلَاتو نہیںfalāتَحِلُّوہ حلال ہوسکتیtaḥilluلَهُۥاس کے لیےlahuمِنۢfromminبَعْدُاس کے بعدbaʿduحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāتَنكِحَوہ (عورت) نکاح کرےtankiḥaزَوْجًاشوہر سےzawjanغَيْرَهُۥ ۗاس کے علاوہghayrahuفَإِنپھر اگرfa-inطَلَّقَهَاوہ طلاق دے اس کوṭallaqahāفَلَاتو نہیںfalāجُنَاحَکوئی گناہjunāḥaعَلَيْهِمَآان دونوں پرʿalayhimāأَنکہanيَتَرَاجَعَآوہ دونوں رجوع کریںyatarājaʿāإِنکہinظَنَّآوہ دونوں سمجھیںẓannāأَنکہanيُقِيمَاوہ دونوں قائم کرلیں گےyuqīmāحُدُودَحدود کوḥudūdaٱللَّهِ ۗاللہ کیl-lahiوَتِلْكَاور یہwatil'kaحُدُودُحدود ہیںḥudūduٱللَّهِاللہ کیl-lahiيُبَيِّنُهَاوہ بیان کرتا ہے ان کوyubayyinuhāلِقَوْمٍۢ(ان) لوگوں کے لیے جوliqawminيَعْلَمُونَعلم رکھتے ہیںyaʿlamūna٢٣٠
پھر اگر( دوبار طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار)طلاق دے دی، تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے۔1 تب اگر پہلا شوہر اوریہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدودِ الٰہی پر قائم رہیں گے،تو ان کے لیے ایک دوسرےکی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جنھیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کر رہا ہے، جو (اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام )جانتے ہیں
۲:۲۳۱
وَإِذَااور جبwa-idhāطَلَّقْتُمُتم طلاق دے دوṭallaqtumuٱلنِّسَآءَعورتوں کوl-nisāaفَبَلَغْنَپھر وہ پوری کرلیں۔ وہ پہنچیںfabalaghnaأَجَلَهُنَّاپنی مدت کوajalahunnaفَأَمْسِكُوهُنَّتو روک لو ان کوfa-amsikūhunnaبِمَعْرُوفٍساتھ بھلے طریقے کےbimaʿrūfinأَوْیاawسَرِّحُوهُنَّرخصت کردو ان کوsarriḥūhunnaبِمَعْرُوفٍۢ ۚساتھ بھلے طریقے کےbimaʿrūfinوَلَااور نہwalāتُمْسِكُوهُنَّتم روکے رکھو ان کوtum'sikūhunnaضِرَارًۭاتکلیف دینے کے لیےḍirāranلِّتَعْتَدُوا۟ ۚتاکہ تم زیادتی کروlitaʿtadūوَمَناور جو کوئیwamanيَفْعَلْکرے گاyafʿalذَٰلِكَیہ (زیادتی)dhālikaفَقَدْتو تحقیقfaqadظَلَمَاس نے ظلم کیاẓalamaنَفْسَهُۥ ۚاپنے نفس پرnafsahuوَلَااور نہwalāتَتَّخِذُوٓا۟تم بناؤtattakhidhūءَايَـٰتِآیات کوāyātiٱللَّهِاللہ کیl-lahiهُزُوًۭا ۚمذاقhuzuwanوَٱذْكُرُوا۟اور یاد کروwa-udh'kurūنِعْمَتَنعمتniʿ'mataٱللَّهِاللہ کیl-lahiعَلَيْكُمْجو تم پر ہےʿalaykumوَمَآاور جوwamāأَنزَلَاس نے نازل کیاanzalaعَلَيْكُمتم پرʿalaykumمِّنَسےminaٱلْكِتَـٰبِکتاب میںl-kitābiوَٱلْحِكْمَةِاور حکمت میں سےwal-ḥik'matiيَعِظُكُموہ نصیحت کرتا ہے تم کوyaʿiẓukumبِهِۦ ۚساتھ اس کےbihiوَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūٱللَّهَاللہ سےl-lahaوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaبِكُلِّساتھ ہرbikulliشَىْءٍچیز کےshayinعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun٢٣١
اور جب تم عورتوں کو طلاق دیدو اور ان کی عدّت پوری ہونے کو آجائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کردو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہو گی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔ 1اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمٰی سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہےکہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ 2اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے
۲:۲۳۲
وَإِذَااور جبwa-idhāطَلَّقْتُمُطلاق دے دو تمṭallaqtumuٱلنِّسَآءَعورتوں کوl-nisāaفَبَلَغْنَپھر وہ پہنچیںfabalaghnaأَجَلَهُنَّاپنی مدت کوajalahunnaفَلَاتو نہfalāتَعْضُلُوهُنَّتو منع کرو انہیں۔ تو نہ روکو انہیںtaʿḍulūhunnaأَنکہanيَنكِحْنَوہ نکاح کرلیںyankiḥ'naأَزْوَٰجَهُنَّاپنے شوہروں سےazwājahunnaإِذَاجبidhāتَرَٰضَوْا۟وہ باہم رضا مند ہوجائیںtarāḍawبَيْنَهُمآپس میںbaynahumبِٱلْمَعْرُوفِ ۗمناسب طریقے سےbil-maʿrūfiذَٰلِكَیہdhālikaيُوعَظُنصیحت کی جاتی ہےyūʿaẓuبِهِۦساتھ اس کےbihiمَن(اسے) جوmanكَانَہوkānaمِنكُمْتم میں سےminkumيُؤْمِنُایمان رکھتاyu'minuبِٱللَّهِاللہ پرbil-lahiوَٱلْيَوْمِاور یومwal-yawmiٱلْـَٔاخِرِ ۗآخرت پر۔ قیامت کے دن پرl-ākhiriذَٰلِكُمْیہ باتdhālikumأَزْكَىٰزیادہ پاکیزہ ہےazkāلَكُمْتمہارے لیےlakumوَأَطْهَرُ ۗاور زیادہ پاک ہےwa-aṭharuوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيَعْلَمُجانتا ہےyaʿlamuوَأَنتُمْاور تمwa-antumلَانہیںتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna٢٣٢
جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ عدّت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیرِ تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے با ہم مناکحت پر راضی ہوں۔ 1تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے
۲:۲۳۳
۞ وَٱلْوَٰلِدَٰتُاور مائیںwal-wālidātuيُرْضِعْنَدودھ پلائیںyur'ḍiʿ'naأَوْلَـٰدَهُنَّاپنی اولاد کوawlādahunnaحَوْلَيْنِدو سالḥawlayniكَامِلَيْنِ ۖمکمل۔ پورےkāmilayniلِمَنْواسطے اس کے جوlimanأَرَادَارادہ کرےarādaأَنکہanيُتِمَّوہ پورا کرےyutimmaٱلرَّضَاعَةَ ۚدودھ کی مدتl-raḍāʿataوَعَلَىاور پرwaʿalāٱلْمَوْلُودِجس کا بچہ ہےl-mawlūdiلَهُۥاس کےlahuرِزْقُهُنَّرزق ہے ان عورتوں کاriz'quhunnaوَكِسْوَتُهُنَّاور لباس ان کاwakis'watuhunnaبِٱلْمَعْرُوفِ ۚبھلے طریقے سےbil-maʿrūfiلَانہتُكَلَّفُتکلیف دیا جائےtukallafuنَفْسٌکوئی نفسnafsunإِلَّامگرillāوُسْعَهَا ۚاس کی وسعت کے مطابقwus'ʿahāلَانہتُضَآرَّنقصان پہنچایا جائےtuḍārraوَٰلِدَةٌۢوالدہ کو۔ ماں کوwālidatunبِوَلَدِهَااس کے بچے کی وجہ سےbiwaladihāوَلَااور نہwalāمَوْلُودٌۭوالد کوmawlūdunلَّهُۥاس کےlahuبِوَلَدِهِۦ ۚبچے کی وجہ سےbiwaladihiوَعَلَىاور اوپرwaʿalāٱلْوَارِثِوارث کے ہے (ذمہ داری)l-wārithiمِثْلُمانند۔ اسی قسم کیmith'luذَٰلِكَ ۗاسی کیdhālikaفَإِنْپھر اگرfa-inأَرَادَاوہ دونوں ارادہ کرلیںarādāفِصَالًادودھ چھڑانے کا باھم رضا مندی سےfiṣālanعَنthroughʿanتَرَاضٍۢباہم رضا مندی سےtarāḍinمِّنْهُمَااپنی۔ ان دونوں کیmin'humāوَتَشَاوُرٍۢاور باہم مشورے سےwatashāwurinفَلَاتو نہیںfalāجُنَاحَکوئی گناہjunāḥaعَلَيْهِمَا ۗان دونوں پرʿalayhimāوَإِنْاور اگرwa-inأَرَدتُّمْتم ارادہ کروaradttumأَنکہanتَسْتَرْضِعُوٓا۟تم دودھ پلواؤtastarḍiʿūأَوْلَـٰدَكُمْاپنی اولاد کوawlādakumفَلَاتو نہیںfalāجُنَاحَکوئی گناہjunāḥaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumإِذَاجبidhāسَلَّمْتُمسپرد کر دو تمsallamtumمَّآجوءَاتَيْتُمدینا۔ کیا تم نےātaytumبِٱلْمَعْرُوفِ ۗساتھ بھلے طریقے کےbil-maʿrūfiوَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūٱللَّهَاللہ سےl-lahaوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعْمَلُونَتم کرتے ہوtaʿmalūnaبَصِيرٌۭدیکھنے والا ہےbaṣīrun٢٣٣
جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدّت رضاعت تک دودھ پیے، تو مائیں اپنے بچّوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔1 اس صورت میں بچّے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہو گا۔ مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر با ر نہ ڈالنا چاہیے، نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچّہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچّہ اس کا ہے۔۔۔۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچّے کے باپ پر ہے، ویسا ہی اس کے وارث پربھی ہے2۔۔۔۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضا مندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کردو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے
۲:۲۳۴
وَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaيُتَوَفَّوْنَجو فوت کرلیے جاتے ہیں۔ وفات پاجائیںyutawaffawnaمِنكُمْتم میں سےminkumوَيَذَرُونَاور وہ چھوڑ جاتے ہیںwayadharūnaأَزْوَٰجًۭابیویاںazwājanيَتَرَبَّصْنَوہ انتظار کریں۔ وہ روکے رکھیںyatarabbaṣnaبِأَنفُسِهِنَّاپنے آپ کو۔ کا۔ ساتھ اپنے نفسوں کےbi-anfusihinnaأَرْبَعَةَچارarbaʿataأَشْهُرٍۢمہینےashhurinوَعَشْرًۭا ۖاور دس (دن)waʿashranفَإِذَاپھر جبfa-idhāبَلَغْنَوہ پہنچیںbalaghnaأَجَلَهُنَّاپنی عدت کوajalahunnaفَلَاتو نہیںfalāجُنَاحَکوئی گناہjunāḥaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumفِيمَااس میں جوfīmāفَعَلْنَوہ کریںfaʿalnaفِىٓمیںأَنفُسِهِنَّاپنے نفسوں کے بارےanfusihinnaبِٱلْمَعْرُوفِ ۗمعروف طریقے سےbil-maʿrūfiوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعْمَلُونَتم کرتے ہوtaʿmalūnaخَبِيرٌۭخبر رکھنے والا ہےkhabīrun٢٣٤
تم میں سے جو لوگ مر جائیں ، ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے ، دس دن روکے رکھیں۔ 1پھر جب ان کی عدّت پوری ہو جائے، تو انہیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں، کریں۔ تم پر اس کی کوئی ذمّے داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے
۲:۲۳۵
وَلَااور نہیںwalāجُنَاحَکوئی گناہjunāḥaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumفِيمَااس معاملے میں جوfīmāعَرَّضْتُماشارہ کیا تم نے۔ آگے تم پیش کرتے ہوʿarraḍtumبِهِۦساتھ اس کےbihiمِنْسےminخِطْبَةِمنگنی کوkhiṭ'batiٱلنِّسَآءِعورتوں سے ۔ عورتوں کی منگنی کے بارے میںl-nisāiأَوْیاawأَكْنَنتُمْچھپایا تم نے۔ چھپاتے ہو تمaknantumفِىٓمیںأَنفُسِكُمْ ۚاپنے نفسوں میںanfusikumعَلِمَجان لیا۔ معلوم ہےʿalimaٱللَّهُاللہ نے۔ اللہ کوl-lahuأَنَّكُمْبیشک تمannakumسَتَذْكُرُونَهُنَّضرور تم یاد کرو گے ان کوsatadhkurūnahunnaوَلَـٰكِناور لیکنwalākinلَّانہتُوَاعِدُوهُنَّتم باھم وعدہ کرو ان سےtuwāʿidūhunnaسِرًّاچھپ کر۔ پوشیدہ طور پرsirranإِلَّآمگرillāأَنیہ کہanتَقُولُوا۟تم کہوtaqūlūقَوْلًۭاباتqawlanمَّعْرُوفًۭا ۚبھلیmaʿrūfanوَلَااور نہwalāتَعْزِمُوا۟تم عزم کروtaʿzimūعُقْدَةَگرہ کاʿuq'dataٱلنِّكَاحِنکاح کیl-nikāḥiحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَبْلُغَپہنچ جائےyablughaٱلْكِتَـٰبُکتاب۔ لکھا ہواl-kitābuأَجَلَهُۥ ۚاپنی مدت کوajalahuوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaيَعْلَمُجانتا ہےyaʿlamuمَااس کو جوفِىٓمیںأَنفُسِكُمْتمہارے نفسوں میں ہےanfusikumفَٱحْذَرُوهُ ۚپس ڈرو اس سےfa-iḥ'dharūhuوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaغَفُورٌبخشنے والاghafūrunحَلِيمٌۭبردبار ہےḥalīmun٢٣٥
زمانہ عدت میں خواہ تم اُن بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کر دو، خواہ دل میں چھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں اللہ جانتا ہے کہ اُن کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی مگر دیکھو! خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا اگر کوئی بات کرنی ہے، تو معرف طریقے سے کرو اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اُس وقت تک نہ کرو، جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے
۲:۲۳۶
لَّانہیںجُنَاحَکوئی گناہjunāḥaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumإِناگرinطَلَّقْتُمُطلاق دی تم نےṭallaqtumuٱلنِّسَآءَعورتوں کوl-nisāaمَاجب تک کہلَمْنہlamتَمَسُّوهُنَّتم نے چھوا ان کوtamassūhunnaأَوْیاawتَفْرِضُوا۟تم نے مقرر کیاtafriḍūلَهُنَّان کے لیےlahunnaفَرِيضَةًۭ ۚکچھ مہر۔ فریضہfarīḍatanوَمَتِّعُوهُنَّاور مال و متاع دو ان کوwamattiʿūhunnaعَلَىاوپرʿalāٱلْمُوسِعِوسعت والے کےl-mūsiʿiقَدَرُهُۥاس کی وسعت کے مطابقqadaruhuوَعَلَىاور اوپرwaʿalāٱلْمُقْتِرِتنگدست کےl-muq'tiriقَدَرُهُۥاس کی وسعت کے مطابقqadaruhuمَتَـٰعًۢافائدہ پہنچانا ہےmatāʿanبِٱلْمَعْرُوفِ ۖمعروف طریقے سےbil-maʿrūfiحَقًّایہ حق ہےḥaqqanعَلَىاوپرʿalāٱلْمُحْسِنِينَاحسان کرنے والوں کےl-muḥ'sinīna٢٣٦
تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انھیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے۔1 خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر
۲:۲۳۷
وَإِناور اگرwa-inطَلَّقْتُمُوهُنَّتم طلاق دو ان کوṭallaqtumūhunnaمِنسےminقَبْلِاس سے پہلےqabliأَنکہanتَمَسُّوهُنَّتم نے ہاتھ لگایا ان کوtamassūhunnaوَقَدْاور تحقیقwaqadفَرَضْتُمْمقرر کردیا تھا تم نےfaraḍtumلَهُنَّان کے لیےlahunnaفَرِيضَةًۭمہر کوfarīḍatanفَنِصْفُتو آدھا ہےfaniṣ'fuمَاجوفَرَضْتُمْمقرر کیا تم نے (مہر)faraḍtumإِلَّآمگرillāأَنیہ کہanيَعْفُونَوہ (عورتیں) معاف کردیںyaʿfūnaأَوْیاawيَعْفُوَا۟معاف کردےyaʿfuwāٱلَّذِىوہ شخصalladhīبِيَدِهِۦاس کے ہاتھ میں ہےbiyadihiعُقْدَةُگرہʿuq'datuٱلنِّكَاحِ ۚنکاح کیl-nikāḥiوَأَناور یہ کہwa-anتَعْفُوٓا۟تم معاف کردوtaʿfūأَقْرَبُزیادہ قریب ہےaqrabuلِلتَّقْوَىٰ ۚتقوی کےlilttaqwāوَلَااور نہwalāتَنسَوُا۟تم بھولوtansawūٱلْفَضْلَاحسان کوl-faḍlaبَيْنَكُمْ ۚآپس میں۔ اپنے درمیانbaynakumإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūnaبَصِيرٌدیکھنے والا ہےbaṣīrun٢٣٧
اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو ، لیکن مہرمقرر کیا جاچکا ہو، جس کے اختیار میں عقدِ نکاح ہے، نرمی سے کام لے( اور پورا مہر دیدے)، اور تم (یعنی مرد)نرمی سے کام لو، تو یہ تقوٰی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیّاضی کو نہ بھولو۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہاہے۔1
۲:۲۳۸
حَـٰفِظُوا۟حفاظت کیا کروḥāfiẓūعَلَىاوپرʿalāٱلصَّلَوَٰتِنمازوں کیl-ṣalawātiوَٱلصَّلَوٰةِاور نماز کیwal-ṣalatiٱلْوُسْطَىٰدرمیانیl-wus'ṭāوَقُومُوا۟اور کھڑے ہوجاؤwaqūmūلِلَّهِاللہ کے لیےlillahiقَـٰنِتِينَفرمانبردار بن کرqānitīna٢٣٨
اپنی نمازوں کی نگہداشت1 رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسِن صلوٰة کی جامع ہو۔2 اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فرماں بردار غلام کھڑے ہوتےہیں
۲:۲۳۹
فَإِنْپھر اگرfa-inخِفْتُمْخوف ہو تم کوkhif'tumفَرِجَالًاتو پیدل چلتے ہوئےfarijālanأَوْیاawرُكْبَانًۭا ۖسوار ہوکرruk'bānanفَإِذَآپھر جبfa-idhāأَمِنتُمْامن میں آجاؤ تمamintumفَٱذْكُرُوا۟تو یاد کروfa-udh'kurūٱللَّهَاللہ کوl-lahaكَمَاجیسا کہkamāعَلَّمَكُماس نے سکھایا تم کوʿallamakumمَّاجولَمْنہیںlamتَكُونُوا۟تھے تمtakūnūتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna٢٣٩
بدامنی کی حالت ہو، تو خواہ پیدل ہو، خواہ سوار، جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھو اور جب امن میسر آجائے، تو اللہ کو اُس طریقے سے یاد کرو، جو اُس نے تمہیں سکھا دیا ہے، جس سے تم پہلے نا واقف تھے
۲:۲۴۰
وَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaيُتَوَفَّوْنَجو فوت ہوجاتے ہیں۔ کرلیے جاتے ہیںyutawaffawnaمِنكُمْتم میں سےminkumوَيَذَرُونَاور چھوڑ جاتے ہیںwayadharūnaأَزْوَٰجًۭابیویوں کوazwājanوَصِيَّةًۭوصیت کرنا ہےwaṣiyyatanلِّأَزْوَٰجِهِماپنی بیویوں کے لیےli-azwājihimمَّتَـٰعًافائدہ پہنچاناmatāʿanإِلَىتکilāٱلْحَوْلِایک سالl-ḥawliغَيْرَبغیرghayraإِخْرَاجٍۢ ۚنکالےikh'rājinفَإِنْپھر اگرfa-inخَرَجْنَوہ نکل جائیںkharajnaفَلَاتو نہیںfalāجُنَاحَکوئی گناہjunāḥaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumفِىمیںمَااس معاملے جوفَعَلْنَوہ کریںfaʿalnaفِىٓمیںأَنفُسِهِنَّاپنے نفسوں کے بارےanfusihinnaمِنسےminمَّعْرُوفٍۢ ۗمعروف طریقےmaʿrūfinوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuعَزِيزٌزبردست ہے۔ غالب ہےʿazīzunحَكِيمٌۭحکمت والا ہےḥakīmun٢٤٠
تم میں1 سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑرہےہوں، ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیّت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں۔پھر اگر وہ خود نکل جائیں، تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جو کچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمّہ داری تم پر نہیں ہے، اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے
۲:۲۴۱
وَلِلْمُطَلَّقَـٰتِاور طلاق یافتہ عورتوں کے لیےwalil'muṭallaqātiمَتَـٰعٌۢفائدہ پہنچانا ہےmatāʿunبِٱلْمَعْرُوفِ ۖبھلے طریقے سےbil-maʿrūfiحَقًّایہ حق ہےḥaqqanعَلَىپرʿalāٱلْمُتَّقِينَتقوی کرنے والوںl-mutaqīna٢٤١
اِسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے یہ حق ہے متقی لوگوں پر
۲:۲۴۲
كَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaيُبَيِّنُکھول کھول کر بیان کرتا ہےyubayyinuٱللَّهُاللہl-lahuلَكُمْتمہارے لیےlakumءَايَـٰتِهِۦاپنی آیات کو۔ اپنے احکام کوāyātihiلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَعْقِلُونَتم عقل سے کام لوtaʿqilūna٢٤٢
اِس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے
۲:۲۴۳
۞ أَلَمْکیا نہیںalamتَرَدیکھا تم نےtaraإِلَىطرفilāٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaخَرَجُوا۟جو نکل گئےkharajūمِنسےminدِيَـٰرِهِمْاپنے گھروںdiyārihimوَهُمْاور وہwahumأُلُوفٌہزاروں میں تھےulūfunحَذَرَڈر سےḥadharaٱلْمَوْتِموت کے ۔موت سے بچنے کے لیےl-mawtiفَقَالَتو کہاfaqālaلَهُمُان کو۔ واسطے ان کےlahumuٱللَّهُاللہ نےl-lahuمُوتُوا۟مرجاؤmūtūثُمَّپھرthummaأَحْيَـٰهُمْ ۚاس نے زندہ کیا ان کوaḥyāhumإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaلَذُوالبتہladhūفَضْلٍفضل والا ہےfaḍlinعَلَىپرʿalāٱلنَّاسِلوگوںl-nāsiوَلَـٰكِنَّاور لیکنwalākinnaأَكْثَرَاکثرaktharaٱلنَّاسِلوگl-nāsiلَانہیںيَشْكُرُونَشکر ادا کرتےyashkurūna٢٤٣
1تم نے ان لوگوں کے حال پر بھی کچھ غور کیا، جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑکر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ اللہ نے ان سے فرمایا: مر جاؤ۔ پھر اس نےا ن کو دوبارہ زندگی بخشی۔2 حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
۲:۲۴۴
وَقَـٰتِلُوا۟اور جنگ کروwaqātilūفِىمیںسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہl-lahaسَمِيعٌسننے والا ہےsamīʿunعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun٢٤٤
مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جان رکھو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے
۲:۲۴۵
مَّنکون ہےmanذَاجوdhāٱلَّذِىوہalladhīيُقْرِضُقرض دےyuq'riḍuٱللَّهَاللہ کوl-lahaقَرْضًاقرضqarḍanحَسَنًۭاحسنہḥasananفَيُضَـٰعِفَهُۥتو وہ بڑھا دے اس کوfayuḍāʿifahuلَهُۥٓاس کے لیےlahuأَضْعَافًۭاکئی گناaḍʿāfanكَثِيرَةًۭ ۚبہت زیادہkathīratanوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيَقْبِضُگھٹاتا ہے۔ تنگ کرتا ہےyaqbiḍuوَيَبْصُۜطُاور بڑھاتا ہے۔ کشادہ کرتا ہے۔wayabṣuṭuوَإِلَيْهِاور اسی کی طرفwa-ilayhiتُرْجَعُونَتم لوٹائے جاؤ گےtur'jaʿūna٢٤٥
تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض ِ حَسَن دے1 تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھا نا بھی، اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے
۲:۲۴۶
أَلَمْکیا نہیںalamتَرَتم نے دیکھاtaraإِلَىطرفilāٱلْمَلَإِسرداروں کےl-mala-iمِنۢسےminبَنِىٓبنیbanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل میںis'rāīlaمِنۢسےminبَعْدِبعدbaʿdiمُوسَىٰٓموسیٰ کےmūsāإِذْجبidhقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūلِنَبِىٍّۢواسطے ایک نبی کےlinabiyyinلَّهُمُاپنے ۔ ان کےlahumuٱبْعَثْمقرر کرib'ʿathلَنَاہمارے لیےlanāمَلِكًۭاایک بادشاہmalikanنُّقَـٰتِلْہم جنگ کریںnuqātilفِىمیںسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِ ۖاللہ کےl-lahiقَالَاس نے کہاqālaهَلْکیاhalعَسَيْتُمْامید ہے تم کو۔ ہوسکتا ہے کہ تمʿasaytumإِناگرinكُتِبَلکھا گیاkutibaعَلَيْكُمُتم پرʿalaykumuٱلْقِتَالُجنگ کرنا۔ لڑناl-qitāluأَلَّاکہ نہallāتُقَـٰتِلُوا۟ ۖتم لڑو گےtuqātilūقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūوَمَااور کیا ہےwamāلَنَآہمارے لیےlanāأَلَّاکہ نہallāنُقَـٰتِلَہم لڑائی کریں گے۔ ہم جنگ کریں گےnuqātilaفِىمیںسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَقَدْاور تحقیقwaqadأُخْرِجْنَاہم نکالے گئےukh'rij'nāمِنسےminدِيَـٰرِنَااپنے گھروں سےdiyārināوَأَبْنَآئِنَا ۖاور اپنے بیٹوں سےwa-abnāināفَلَمَّاپھر جبfalammāكُتِبَلکھ دیا گیاkutibaعَلَيْهِمُان پرʿalayhimuٱلْقِتَالُجنگ کرناl-qitāluتَوَلَّوْا۟تو وہ منہ موڑ گئےtawallawإِلَّامگرillāقَلِيلًۭاتھوڑے سےqalīlanمِّنْهُمْ ۗان میں سےmin'humوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuعَلِيمٌۢجاننے والا ہےʿalīmunبِٱلظَّـٰلِمِينَظالموں کوbil-ẓālimīna٢٤٦
پھر تم نے اس معاملے پر بھی غور کیا، جو موسیٰ ؑ کے بعد سردار ان بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔1 نبی نے پوچھا: کہیں ایسا تو نہ ہو گا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو۔ وہ کہنےلگے: بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم راہ ِ خدا میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیاگیا اور ہمارے بال بچے ہم سے جُدا کر دیے گئے ہیں مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا ، تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے، اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے
۲:۲۴۷
وَقَالَاور کہاwaqālaلَهُمْان کے لیےlahumنَبِيُّهُمْان کے نبی نےnabiyyuhumإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہl-lahaقَدْتحقیقqadبَعَثَمقرر کردیا ہے۔ بھیجا ہےbaʿathaلَكُمْتمہارے لیےlakumطَالُوتَطالوت کوṭālūtaمَلِكًۭا ۚایک بادشاہmalikanقَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūأَنَّىٰکہاں سے۔ کیسے۔ کیونکرannāيَكُونُہوسکتی ہےyakūnuلَهُاس کے لیےlahuٱلْمُلْكُبادشاہتl-mul'kuعَلَيْنَاہم پرʿalaynāوَنَحْنُاور حالانکہ ہمwanaḥnuأَحَقُّزیادہ حق دار ہیںaḥaqquبِٱلْمُلْكِبادشاہت کےbil-mul'kiمِنْهُاس سےmin'huوَلَمْاور نہیںwalamيُؤْتَوہ دیا گیاyu'taسَعَةًۭوسعتsaʿatanمِّنَسےminaٱلْمَالِ ۚمالl-māliقَالَاس نے کہاqālaإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ نےl-lahaٱصْطَفَىٰهُچن لیا ہے اس کوiṣ'ṭafāhuعَلَيْكُمْاوپر تمہارےʿalaykumوَزَادَهُۥاور بڑھا دیا ہے اس نے اس کیwazādahuبَسْطَةًۭفراخی کو۔ کشادگی کوbasṭatanفِىمیںٱلْعِلْمِعلم میںl-ʿil'miوَٱلْجِسْمِ ۖاور جسم میںwal-jis'miوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيُؤْتِىدیتا ہےyu'tīمُلْكَهُۥبادشاہت اپنیmul'kahuمَنجسےmanيَشَآءُ ۚچاہتا ہےyashāuوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuوَٰسِعٌوسعت والا ہےwāsiʿunعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun٢٤٧
ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت1 کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ یہ سن کر وہ بولے: ”ہم پر بادشاہ بننےکا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے“۔ نبی نے جواب دیا:”اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغ و جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے او ر سب کچھ اس کےعلم میں ہے۔“
۲:۲۴۸
وَقَالَاور کہاwaqālaلَهُمْان کے لیےlahumنَبِيُّهُمْان کے نبی نےnabiyyuhumإِنَّبیشکinnaءَايَةَنشانیāyataمُلْكِهِۦٓاس کی بادشاہت کیmul'kihiأَنیہ کہanيَأْتِيَكُمُآجائے گا تمہارے پاسyatiyakumuٱلتَّابُوتُتابوتl-tābūtuفِيهِاس میںfīhiسَكِينَةٌۭتسکین ہےsakīnatunمِّنسےminرَّبِّكُمْتمہارے رب کی طرفrabbikumوَبَقِيَّةٌۭاور باقی مانندہ ہےwabaqiyyatunمِّمَّااس میں سے جوmimmāتَرَكَچھوڑ گئےtarakaءَالُآلāluمُوسَىٰموسیٰmūsāوَءَالُاور آلwaāluهَـٰرُونَہارونhārūnaتَحْمِلُهُاٹھائے ہوئے ہوں اس کوtaḥmiluhuٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ ۚفرشتےl-malāikatuإِنَّبیشکinnaفِىمیںذَٰلِكَاسdhālikaلَـَٔايَةًۭالبتہ ایک نشانی ہےlaāyatanلَّكُمْتمہارے لیےlakumإِناگرinكُنتُمہو تمkuntumمُّؤْمِنِينَایمان لانے والےmu'minīna٢٤٨
اس کے ساتھ ان کے نبی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ”خدا کی طرف سے اس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا، جس میں آلِ موسیٰ ؑ اور آلِ ہارونؑ کے چھوڑے ہوئے تبّرکات ہیں، اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں۔1 اگر تم مومن ہو، تو یہ تمہارے لیے بہت بڑی نشانی ہے
۲:۲۴۹
فَلَمَّاپھر جب۔ پس جبfalammāفَصَلَجدا ہواfaṣalaطَالُوتُطالوتṭālūtuبِٱلْجُنُودِساتھ لشکروں کےbil-junūdiقَالَاس نے کہاqālaإِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaمُبْتَلِيكُمآزمانے والا ہے تم کوmub'talīkumبِنَهَرٍۢساتھ ایک نہر کےbinaharinفَمَنتو جو کوئیfamanشَرِبَپیے گاsharibaمِنْهُاس سےmin'huفَلَيْسَتو نہیں ہے وہfalaysaمِنِّىمجھ سےminnīوَمَناور جو کوئیwamanلَّمْنہlamيَطْعَمْهُپیے گا اس کو۔ چکھے گا اس کوyaṭʿamhuفَإِنَّهُۥتو بیشک وہfa-innahuمِنِّىٓمجھ سے ہےminnīإِلَّامگرillāمَنِجوmaniٱغْتَرَفَچلو بھر لےigh'tarafaغُرْفَةًۢایک چلو بھرناghur'fatanبِيَدِهِۦ ۚساتھ اپنے ہاتھ کےbiyadihiفَشَرِبُوا۟تو انہوں نے پیاfasharibūمِنْهُاس سےmin'huإِلَّامگر۔ سوائےillāقَلِيلًۭاتھوڑوں کےqalīlanمِّنْهُمْ ۚان میں سےmin'humفَلَمَّاپھر جبfalammāجَاوَزَهُۥاس نے پار کیا اس کوjāwazahuهُوَاس نےhuwaوَٱلَّذِينَاور ان لوگوں نےwa-alladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے تھےāmanūمَعَهُۥاس کے ساتھmaʿahuقَالُوا۟وہ کہنے لگےqālūلَانہیںطَاقَةَکوئی ہمت (لڑائی میں) ۔ طاقتṭāqataلَنَاہمارے لیےlanāٱلْيَوْمَآجl-yawmaبِجَالُوتَساتھ جالوت کےbijālūtaوَجُنُودِهِۦ ۚاور اس کے لشکروں کےwajunūdihiقَالَکہاqālaٱلَّذِينَان لوگوں نےalladhīnaيَظُنُّونَجو یقین رکھتے تھےyaẓunnūnaأَنَّهُمکہ بیشک وہannahumمُّلَـٰقُوا۟ملاقات کرنے والے ہیںmulāqūٱللَّهِاللہ سےl-lahiكَمکتنے ہیkamمِّنسےminفِئَةٍۢگروہوں میںfi-atinقَلِيلَةٍتھوڑےqalīlatinغَلَبَتْغالب آئےghalabatفِئَةًۭگروہوں پرfi-atanكَثِيرَةًۢزیادہkathīratanبِإِذْنِساتھ اذن کےbi-idh'niٱللَّهِ ۗاللہ کےl-lahiوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuمَعَساتھ ہےmaʿaٱلصَّـٰبِرِينَصبر کرنے والوں کےl-ṣābirīna٢٤٩
ھرجب طالوت لشکر لے کر چلا، تو اس نے کہا:”ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے۔ جو اس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہےجو اس سے پیاس نہ بجھائے ، ہاں ایک آدھ چُلّو کوئی پی لے“مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے۔ 1پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے، تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کےلشکر وں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔2 لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انھیں ایک دن اللہ سےملنا ہے، انھوں نے کہا: ”بار ہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے
۲:۲۵۰
وَلَمَّااور جبwalammāبَرَزُوا۟وہ نکلےbarazūلِجَالُوتَجالوت کے لیےlijālūtaوَجُنُودِهِۦاور اس کے لشکروں کے لیےwajunūdihiقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūرَبَّنَآاے ہمارے ربrabbanāأَفْرِغْڈال دےafrighعَلَيْنَاہم پرʿalaynāصَبْرًۭاصبرṣabranوَثَبِّتْاور جما دےwathabbitأَقْدَامَنَاہمارے قدموں کوaqdāmanāوَٱنصُرْنَااور مدد کر ہماریwa-unṣur'nāعَلَىاوپرʿalāٱلْقَوْمِقوم کےl-qawmiٱلْكَـٰفِرِينَکافروں کیl-kāfirīna٢٥٠
اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ پر نکلے، تو انہوں نے دعا کی: "اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر"
۲:۲۵۱
فَهَزَمُوهُمتو انہوں نے شکست دے دی ان کوfahazamūhumبِإِذْنِساتھ اذن کےbi-idh'niٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَقَتَلَاور قتل کردیاwaqatalaدَاوُۥدُداؤد نےdāwūduجَالُوتَجالوت کوjālūtaوَءَاتَىٰهُاور عطا کی اس کوwaātāhuٱللَّهُاللہ نےl-lahuٱلْمُلْكَبادشاہتl-mul'kaوَٱلْحِكْمَةَاور حکمتwal-ḥik'mataوَعَلَّمَهُۥاور سکھایا اس کوwaʿallamahuمِمَّااس میں سے جوmimmāيَشَآءُ ۗاس نے چاہاyashāuوَلَوْلَااور اگر نہ ہوتاwalawlāدَفْعُہٹاناdafʿuٱللَّهِاللہ کاl-lahiٱلنَّاسَلوگوں کوl-nāsaبَعْضَهُمان میں سے بعض کوbaʿḍahumبِبَعْضٍۢساتھ بعض کےbibaʿḍinلَّفَسَدَتِالبتہ بگڑ جاتیlafasadatiٱلْأَرْضُزمینl-arḍuوَلَـٰكِنَّاور لیکنwalākinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaذُووالا ہےdhūفَضْلٍفضل والا ہےfaḍlinعَلَىپرʿalāٱلْعَـٰلَمِينَجہان والوںl-ʿālamīna٢٥١
آ خر کا ر اللہ کےاذن سے انھوں نے کافروں کومار بھگایا اور داوٴد ؑ نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جِن جِن چیزوں کا چاہا، اس کو علم دیا۔۔۔۔ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑ جاتا،2 لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے(کہ وہ اس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)
۲:۲۵۲
تِلْكَیہtil'kaءَايَـٰتُآیات ہیںāyātuٱللَّهِاللہ کیl-lahiنَتْلُوهَاہم پڑھتے ہیں ان کوnatlūhāعَلَيْكَآپ پرʿalaykaبِٱلْحَقِّ ۚساتھ حق کےbil-ḥaqiوَإِنَّكَاور بیشک آپwa-innakaلَمِنَالبتہlaminaٱلْمُرْسَلِينَرسولوں میں سے ہیںl-mur'salīna٢٥٢
یہ اللہ کی آیات ہیں، جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سنا رہے ہیں اور تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو، جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں
۲:۲۵۳
۞ تِلْكَیہtil'kaٱلرُّسُلُرسولl-rusuluفَضَّلْنَافضیلت دی ہم نےfaḍḍalnāبَعْضَهُمْان کے بعض کوbaʿḍahumعَلَىٰاوپرʿalāبَعْضٍۢ ۘبعض کےbaʿḍinمِّنْهُمان میں سے بعض کچھmin'humمَّنوہ ہیں جن سےmanكَلَّمَکلام کیاkallamaٱللَّهُ ۖاللہ نےl-lahuوَرَفَعَاور بلند کیاwarafaʿaبَعْضَهُمْان میں سے بعض کوbaʿḍahumدَرَجَـٰتٍۢ ۚدرجات میںdarajātinوَءَاتَيْنَااوردیں ہم نےwaātaynāعِيسَىعیسیٰʿīsāٱبْنَابنib'naمَرْيَمَمریم کوmaryamaٱلْبَيِّنَـٰتِروشن نشانیاں۔ معجزاتl-bayinātiوَأَيَّدْنَـٰهُتائید کی ہم نے اس کیwa-ayyadnāhuبِرُوحِساتھ روحbirūḥiٱلْقُدُسِ ۗپاک کےl-qudusiوَلَوْاوراگرwalawشَآءَچاہتاshāaٱللَّهُاللہl-lahuمَانہٱقْتَتَلَباہم لڑے۔ نہ ایک دوسرے سے لڑتےiq'tatalaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaمِنۢسےminبَعْدِهِمجو ان کے بعد تھےbaʿdihimمِّنۢfromminبَعْدِاس کے بعد جوbaʿdiمَا[what]جَآءَتْهُمُآگئیں ان کے پاسjāathumuٱلْبَيِّنَـٰتُکھلی نشانیاںl-bayinātuوَلَـٰكِنِلیکنwalākiniٱخْتَلَفُوا۟انہوں نے اختلاف کیاikh'talafūفَمِنْهُمتو ان میں سے کچھfamin'humمَّنْوہmanءَامَنَجو ایمان لائےāmanaوَمِنْهُماور بعض ان میں سےwamin'humمَّن(are some) whomanكَفَرَ ۚکچھ وہ جس نے کفر کیاkafaraوَلَوْاور اگرwalawشَآءَچاہتاshāaٱللَّهُاللہl-lahuمَانہٱقْتَتَلُوا۟وہ باہم لڑےiq'tatalūوَلَـٰكِنَّلیکنwalākinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaيَفْعَلُکرتا ہےyafʿaluمَاجويُرِيدُوہ چاہتا ہےyurīdu٢٥٣
یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے)ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہمکلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے، اور آخر میں عیسٰی ؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روحِ پاک سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا ، تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے۔ مگر( اللہ کی مشیّت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبّراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نےکفر کی راہ اختیار کی۔ ہاں اللہ چاہتا، تو وہ ہر گز نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔1
۲:۲۵۴
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوٓا۟جو ایمان لائےāmanūأَنفِقُوا۟خرچ کروanfiqūمِمَّااس میں سے جوmimmāرَزَقْنَـٰكُمرزق دیا ہم نے تم کوrazaqnākumمِّنسےminقَبْلِاس سے پہلےqabliأَنکہanيَأْتِىَآجائےyatiyaيَوْمٌۭایک دنyawmunلَّانہیںبَيْعٌۭکوئی خریدوفروخت۔ تجارتbayʿunفِيهِاس میںfīhiوَلَااور نہwalāخُلَّةٌۭگہری دوستیkhullatunوَلَااورنہwalāشَفَـٰعَةٌۭ ۗکوئی سفارشshafāʿatunوَٱلْكَـٰفِرُونَاورکافرwal-kāfirūnaهُمُوہ ہیںhumuٱلظَّـٰلِمُونَجو ظالم ہیںl-ẓālimūna٢٥٤
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو 1قبل اس کے کہ وہ دن آئے، جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی۔ اور ظالم اصل میں وہی ہیں، جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں۔
۲:۲۵۵
ٱللَّهُاللہ تعالیٰ وہ ہےal-lahuلَآنہیںإِلَـٰهَکوئی الہilāhaإِلَّامگرillāهُوَوہیhuwaٱلْحَىُّجو ہمیشہ سے۔ زندہ ہےl-ḥayuٱلْقَيُّومُ ۚجو ہمیشہ سے قائم ہےl-qayūmuلَانہیںتَأْخُذُهُۥپکڑتی اس کوtakhudhuhuسِنَةٌۭاونگھsinatunوَلَااورنہwalāنَوْمٌۭ ۚنیندnawmunلَّهُۥاس کے لیے ہےlahuمَاجوفِىمیں ہےٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوںl-samāwātiوَمَااور جوwamāفِىمیں ہےٱلْأَرْضِ ۗزمینl-arḍiمَنکونmanذَا(ہے) ایکdhāٱلَّذِىوہ جوalladhīيَشْفَعُسفارش کرےyashfaʿuعِندَهُۥٓاس کے پاسʿindahuإِلَّامگرillāبِإِذْنِهِۦ ۚاُس کی اجازت سےbi-idh'nihiيَعْلَمُوہ جانتا ہےyaʿlamuمَاجوبَيْنَدرمیانbaynaأَيْدِيهِمْان سے پہلےaydīhimوَمَااورجوwamāخَلْفَهُمْ ۖان کے پیچھے ہےkhalfahumوَلَااور نہیںwalāيُحِيطُونَاحاطہ کرسکتے ہیںyuḥīṭūnaبِشَىْءٍۢکچھ بھیbishayinمِّنْمیں سےminعِلْمِهِۦٓاس کے علمʿil'mihiإِلَّامگرillāبِمَاساتھ اس کے جوbimāشَآءَ ۚوہ چاہےshāaوَسِعَوسیع ہےwasiʿaكُرْسِيُّهُاس کی کرسیkur'siyyuhuٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں پرl-samāwātiوَٱلْأَرْضَ ۖاور زمین پرwal-arḍaوَلَااور نہیںwalāيَـُٔودُهُۥتھکاتی اس کوyaūduhuحِفْظُهُمَا ۚان دونوں کی حفاظتḥif'ẓuhumāوَهُوَاور وہwahuwaٱلْعَلِىُّبلند ہےl-ʿaliyuٱلْعَظِيمُبہت بڑاl-ʿaẓīmu٢٥٥
اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی ، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔1نہ وہ سوتا ہے ، اور نہ اسے اونگھ لگتی ہے۔2 زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اسی کا ہے۔3، کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟4 جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے او ر جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی اِلّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔5 اس کی حکومت6 آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔7
۲:۲۵۶
لَآنہیںإِكْرَاهَکوئی جبرik'rāhaفِىمیںٱلدِّينِ ۖدینl-dīniقَدتحقیقqadتَّبَيَّنَواضح ہوگئی ہےtabayyanaٱلرُّشْدُہدایتl-rush'duمِنَسےminaٱلْغَىِّ ۚگمراہیl-ghayiفَمَنتو جو کوئیfamanيَكْفُرْکفر کرے گاyakfurبِٱلطَّـٰغُوتِطاغوت کاbil-ṭāghūtiوَيُؤْمِنۢاور ایمان لائے گاwayu'minبِٱللَّهِاللہ پرbil-lahiفَقَدِتو تحقیقfaqadiٱسْتَمْسَكَاس نے تھام لیاis'tamsakaبِٱلْعُرْوَةِساتھ کھڑاbil-ʿur'watiٱلْوُثْقَىٰمضبوط۔ مضبوط سہاراl-wuth'qāلَانہیں ہےٱنفِصَامَکوئی ٹوٹناinfiṣāmaلَهَا ۗاسس کے لئیےlahāوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuسَمِيعٌخوب سننے والا ہےsamīʿunعَلِيمٌجاننے والا ہےʿalīmun٢٥٦
دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے۔1 صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت2 کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ( جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
۲:۲۵۷
ٱللَّهُاللہ تعالیٰal-lahuوَلِىُّدوست ہےwaliyyuٱلَّذِينَان لوگوں کاalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūيُخْرِجُهُمنکالتا ہے ان کوyukh'rijuhumمِّنَسےminaٱلظُّلُمَـٰتِاندھیروںl-ẓulumātiإِلَىکی طرفilāٱلنُّورِ ۖروشنیl-nūriوَٱلَّذِينَاور وہ لوگwa-alladhīnaكَفَرُوٓا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūأَوْلِيَآؤُهُمُان کے دوستawliyāuhumuٱلطَّـٰغُوتُطاغوت میںl-ṭāghūtuيُخْرِجُونَهُماور نکال لے جاتے ہیں ان کو۔ وہ نکالتے ہیں ان کوyukh'rijūnahumمِّنَسےminaٱلنُّورِنورl-nūriإِلَىکی طرفilāٱلظُّلُمَـٰتِ ۗاندھیروںl-ẓulumātiأُو۟لَـٰٓئِكَیہی لوگulāikaأَصْحَـٰبُساتھیaṣḥābuٱلنَّارِ ۖآگ والے۔ آگ کےl-nāriهُمْوہhumفِيهَااس میںfīhāخَـٰلِدُونَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidūna٢٥٧
جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کا حامی و مدد گار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔1 اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کےحامی ومدد گار طاغوت2 ہیں اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے
۲:۲۵۸
أَلَمْکیا نہیںalamتَرَتم نے دیکھاtaraإِلَىطرفilāٱلَّذِىاس شخص کےalladhīحَآجَّجس سے حجت بازی کیḥājjaإِبْرَٰهِـۧمَابراہیم سےib'rāhīmaفِىبارے میںرَبِّهِۦٓاس کے رب کےrabbihiأَنْکہanءَاتَىٰهُعطا کیātāhuٱللَّهُاللہ تعالیٰ نےl-lahuٱلْمُلْكَاس کو بادشاہتl-mul'kaإِذْجبidhقَالَکہاqālaإِبْرَٰهِـۧمُابراھیم نےib'rāhīmuرَبِّىَمیرا ربrabbiyaٱلَّذِىوہ ہے جوalladhīيُحْىِۦزندہ کرتا ہےyuḥ'yīوَيُمِيتُاور موت دیتا ہےwayumītuقَالَکہاqālaأَنَا۠میںanāأُحْىِۦزندہ کرتا ہوںuḥ'yīوَأُمِيتُ ۖاورمیں موت دیتا ہوںwa-umītuقَالَکہاqālaإِبْرَٰهِـۧمُابراہیم نےib'rāhīmuفَإِنَّپس بیشکfa-innaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaيَأْتِىلاتا ہےyatīبِٱلشَّمْسِسورج کوbil-shamsiمِنَسےminaٱلْمَشْرِقِمشرقl-mashriqiفَأْتِپس تم لے آؤfatiبِهَااس کوbihāمِنَسےminaٱلْمَغْرِبِمغرب سے کفر کیاl-maghribiفَبُهِتَتو مبہوت ہوگیا۔ پس حیران ہوگیاfabuhitaٱلَّذِىوہ جس نےalladhīكَفَرَ ۗکفر کیاkafaraوَٱللَّهُاللہ تعالیٰ نےwal-lahuلَانہیںيَهْدِىہدایت دیتا ہےyahdīٱلْقَوْمَقوم کوl-qawmaٱلظَّـٰلِمِينَجو ظالم ہوl-ẓālimīna٢٥٨
1کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا ، جس نے ابراہیم ؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ 2جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیمؑ کا رب کون ہے، اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی۔3 جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ”میرا رب وہ ہے، جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے،”تو اس نے جواب دیا:”زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے۔” ابراہیم ؑ نےکہا :”اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو ذرا اسے مغرب سے نکال لا۔”یہ سن کر وہ منکر ِ حق ششدر رہ گیا،4 مگراللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا
۲:۲۵۹
أَوْیاawكَٱلَّذِىاس شخص کی طرح ہے جو۔ پابند اس شخص کے جوka-alladhīمَرَّگزراmarraعَلَىٰپرʿalāقَرْيَةٍۢایک بستی کےqaryatinوَهِىَاوروہwahiyaخَاوِيَةٌگری ہوئی تھیkhāwiyatunعَلَىٰپرʿalāعُرُوشِهَااپنی چھتوں کےʿurūshihāقَالَاس نے کہاqālaأَنَّىٰکس طرح۔ کیوں کرannāيُحْىِۦزندہ کرے گاyuḥ'yīهَـٰذِهِاس کوhādhihiٱللَّهُاللہl-lahuبَعْدَبعدbaʿdaمَوْتِهَا ۖاس کی موت کےmawtihāفَأَمَاتَهُتو مار دیا اس کوfa-amātahuٱللَّهُاللہ نےl-lahuمِا۟ئَةَسوmi-ataعَامٍۢسالʿāminثُمَّپھرthummaبَعَثَهُۥ ۖاٹھایا اس کو۔ زندہ کیا اس کوbaʿathahuقَالَفرمایاqālaكَمْکتنا عرصہkamلَبِثْتَ ۖتم ٹھہرے ہوlabith'taقَالَاس نے کہاqālaلَبِثْتُمیں ٹھہراlabith'tuيَوْمًاایک دنyawmanأَوْیاawبَعْضَکچھ حصہbaʿḍaيَوْمٍۢ ۖدن کاyawminقَالَفرمایاqālaبَلبلکہbalلَّبِثْتَتو ٹھہراlabith'taمِا۟ئَةَسوmi-ataعَامٍۢسالʿāminفَٱنظُرْپس دیکھfa-unẓurإِلَىٰطرفilāطَعَامِكَاپنے کھانے کےṭaʿāmikaوَشَرَابِكَاور اپنے پینے کےwasharābikaلَمْنہیںlamيَتَسَنَّهْ ۖخراب ہوا وہyatasannahوَٱنظُرْاور دیکھوwa-unẓurإِلَىٰطرفilāحِمَارِكَاپنے گدھے کےḥimārikaوَلِنَجْعَلَكَاور تاکہ ہم بنادیں تم کوwalinajʿalakaءَايَةًۭایک نشانیāyatanلِّلنَّاسِ ۖلوگوں کے لیےlilnnāsiوَٱنظُرْاور دیکھوwa-unẓurإِلَىطرفilāٱلْعِظَامِہڈیوں کےl-ʿiẓāmiكَيْفَکس طرحkayfaنُنشِزُهَاہم جوڑ دیتے ہیں ان کو۔ ہم حرکت دیتے ہیں ان کو۔ ہم الٹا دیتے ہیں ان کوnunshizuhāثُمَّپھرthummaنَكْسُوهَاہم پہناتے ہیںnaksūhāلَحْمًۭا ۚگوشتlaḥmanفَلَمَّاپھر جبfalammāتَبَيَّنَواضح ہوگیاtabayyanaلَهُۥواسطے اس کوlahuقَالَکہاqālaأَعْلَمُمیں جان گیاaʿlamuأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaعَلَىٰاوپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز کےshayinقَدِيرٌۭقادر ہےqadīrun٢٥٩
یا پھر مثال کے طور پر اس شخص کو د یکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتیوں پر اوندھی گری پڑی تھی۔1 اس نے کہا:”یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسےاللہ کس طرح دو بارہ زندگی بخشے گا؟”2اس پر اللہ نےاس کی رُوح قبض کر لی اور وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا:”بتاؤ ، کتنی مدّت پڑے رہے ہو؟”اس نے کہا:”ایک دن یا چند گھنٹے رہاہوں گا۔”فرمایا:”تم پر سو برس اسی حالت میں گزر چکے ہیں۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیّر نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو(کہ اسکا پنجر تک بوسیدہ ہورہا ہے )۔ اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کےلیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں3۔پھر دیکھو کے ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں۔”اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایا ں ہو گئی ، تو اس نے کہا”میں جانتا ہو ں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔”
۲:۲۶۰
وَإِذْاور جبwa-idhقَالَکہاqālaإِبْرَٰهِـۧمُابراہیم نےib'rāhīmuرَبِّاے میرے ربrabbiأَرِنِىتو دکھا مجھ کوarinīكَيْفَکس طرحkayfaتُحْىِتو زندہ کرے گا۔ تو زندہ کرتا ہےtuḥ'yīٱلْمَوْتَىٰ ۖمردوں کوl-mawtāقَالَفرمایاqālaأَوَلَمْکیا بھلا نہیںawalamتُؤْمِن ۖتم ایمان رکھتےtu'minقَالَکہاqālaبَلَىٰکیوں نہیںbalāوَلَـٰكِنلیکن۔ مگرwalākinلِّيَطْمَئِنَّاس لیے تاکہ مطمئن ہوجائےliyaṭma-innaقَلْبِى ۖمیرا دلqalbīقَالَفرمایاqālaفَخُذْپس لے لوfakhudhأَرْبَعَةًۭچارarbaʿatanمِّنَمیں سےminaٱلطَّيْرِپرندوںl-ṭayriفَصُرْهُنَّپھر مائل کرو ان کوfaṣur'hunnaإِلَيْكَاپنی طرفilaykaثُمَّپھرthummaٱجْعَلْرکھ دوij'ʿalعَلَىٰاوپرʿalāكُلِّہرkulliجَبَلٍۢپہاڑ کےjabalinمِّنْهُنَّان میں سےmin'hunnaجُزْءًۭاایک حصہjuz'anثُمَّپھرthummaٱدْعُهُنَّبلاؤ ان کوud'ʿuhunnaيَأْتِينَكَوہ آجائیں گے تیرے پاسyatīnakaسَعْيًۭا ۚدوڑتے ہوئےsaʿyanوَٱعْلَمْاورجان لوwa-iʿ'lamأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaعَزِيزٌغالب ہےʿazīzunحَكِيمٌۭحکمت والا ہےḥakīmun٢٦٠
اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ”میرے مالک ! مجھے دکھا دے تُو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ فرمایا: ”کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟”اس نے عرض کیا”ایمان تو رکھتاہوں ، مگر دل کا اطمینان درکار ہے۔”1 فرمایا:”اچھا ، تو چار پرندے لے اورا ن کو اپنے سے مانوس کر لے۔ پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے۔ پھر ان کو پکار ، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔ خوب جان لو کہ اللہ نہایت بااقتدار اور حکیم ہے۔”2
۲:۲۶۱
مَّثَلُمثالmathaluٱلَّذِينَان لوگوں کیalladhīnaيُنفِقُونَجو خرچ کرتے ہیںyunfiqūnaأَمْوَٰلَهُمْاپنے مالوں کوamwālahumفِىمیںسَبِيلِراستے میںsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiكَمَثَلِمانند مثالkamathaliحَبَّةٍایک دانے کے ہےḥabbatinأَنۢبَتَتْاس نے اگائیںanbatatسَبْعَساتsabʿaسَنَابِلَبالیاں ۔ خوشےسوsanābilaفِىمیںكُلِّہرkulliسُنۢبُلَةٍۢبالیsunbulatinمِّا۟ئَةُسوmi-atuحَبَّةٍۢ ۗدانےḥabbatinوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيُضَـٰعِفُبڑھاتا ہےyuḍāʿifuلِمَنواسطے جس کےlimanيَشَآءُ ۗوہ چاہتا ہےyashāuوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuوَٰسِعٌوسعت والا ہےwāsiʿunعَلِيمٌجاننے والا ہےʿalīmun٢٦١
1جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں 2، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانا بویا جائے اور اس کے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔3
۲:۲۶۲
ٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaيُنفِقُونَجو خرچ کرتے ہیںyunfiqūnaأَمْوَٰلَهُمْاپنے مالوں کوamwālahumفِىمیںسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiثُمَّپھرthummaلَانہیںيُتْبِعُونَوہ پیچھا کرتے احسان جتا کرyut'biʿūnaمَآاس کا جوأَنفَقُوا۟انہوں نے خرچ کیاanfaqūمَنًّۭااس کا جوmannanوَلَآاور نہwalāأَذًۭى ۙاذیت دے کر۔ تکلیف دے کرadhanلَّهُمْان کے لئیےlahumأَجْرُهُمْان کا اجر ہےajruhumعِندَپاسʿindaرَبِّهِمْان کے رب کےrabbihimوَلَااور نہwalāخَوْفٌکوئی خوف ہوگاkhawfunعَلَيْهِمْان پرʿalayhimوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيَحْزَنُونَغمگین ہوں گےyaḥzanūna٢٦٢
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے، نہ دکھ دیتے ہیں ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔1
۲:۲۶۳
۞ قَوْلٌۭباتqawlunمَّعْرُوفٌۭاچھی۔ بھلیmaʿrūfunوَمَغْفِرَةٌاور بخشش۔ درگزرwamaghfiratunخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunمِّنسےminصَدَقَةٍۢاس صدقہ سےṣadaqatinيَتْبَعُهَآپیچھے آئے اس کے۔ جس کے بعدyatbaʿuhāأَذًۭى ۗتکلیف۔ دکھadhanوَٱللَّهُاوراللہwal-lahuغَنِىٌّبےنیازghaniyyunحَلِيمٌۭبردبار ہےḥalīmun٢٦٣
ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھےدکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور برد باری اس کی صفت1 ہے
۲:۲۶۴
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے ہوāmanūلَانہتُبْطِلُوا۟تم ضائع کروtub'ṭilūصَدَقَـٰتِكُماپنے صدقات کوṣadaqātikumبِٱلْمَنِّاحسان جتا کرbil-maniوَٱلْأَذَىٰاور اذیت دے کرwal-adhāكَٱلَّذِىاس شخص کی طرحka-alladhīيُنفِقُجو خرچ کرتا ہےyunfiquمَالَهُۥاپنا مالmālahuرِئَآءَدکھاوے کو۔ ریاکاری کے لیےriāaٱلنَّاسِلوگوں کےl-nāsiوَلَااور نہwalāيُؤْمِنُوہ ایمان لاتاyu'minuبِٱللَّهِاللہ پرbil-lahiوَٱلْيَوْمِاور یومwal-yawmiٱلْـَٔاخِرِ ۖآخرت پرl-ākhiriفَمَثَلُهُۥتو اس کی مثالfamathaluhuكَمَثَلِمانند مثالkamathaliصَفْوَانٍچکنے پتھر کے ہےṣafwāninعَلَيْهِجس پرʿalayhiتُرَابٌۭمٹی ہوturābunفَأَصَابَهُۥتو پہنچے اس کوfa-aṣābahuوَابِلٌۭتیز بارشwābilunفَتَرَكَهُۥتو چھوڑ دے اس کوfatarakahuصَلْدًۭا ۖصاف۔ چٹیلṣaldanلَّانہیںيَقْدِرُونَوہ قدرت رکھتے ہوں گےyaqdirūnaعَلَىٰاوپرʿalāشَىْءٍۢکسی چیز کےshayinمِّمَّااس میں سے جوmimmāكَسَبُوا۟ ۗانہوں نے کمائی کیkasabūوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuلَانہیںيَهْدِىہدایت دیتاyahdīٱلْقَوْمَقوم کوl-qawmaٱلْكَـٰفِرِينَکافرl-kāfirīna٢٦٤
اے ایمان لانے والو!اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو ، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہےاور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت1 پر۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئ اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔2 ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھا نا اللہ کا دستور نہیں ہے3
۲:۲۶۵
وَمَثَلُاور مثالwamathaluٱلَّذِينَان لوگوں کیalladhīnaيُنفِقُونَجو خرچ کرتے ہیںyunfiqūnaأَمْوَٰلَهُمُاپنے مالوں کوamwālahumuٱبْتِغَآءَتلاش کرنے کے لیےib'tighāaمَرْضَاتِمرضی۔ رضامندیmarḍātiٱللَّهِاللہ کیl-lahiوَتَثْبِيتًۭااورپختگی۔ ثابت قدمیwatathbītanمِّنْکی طرفminأَنفُسِهِمْاپنے نفسوں کی۔ ان کے نفسوںanfusihimكَمَثَلِمانند مثالkamathaliجَنَّةٍۭایک باغ کے ہےjannatinبِرَبْوَةٍاونچی جگہ پرbirabwatinأَصَابَهَاپہنچے اس کوaṣābahāوَابِلٌۭتیز بارشwābilunفَـَٔاتَتْتو وہ دے دےfaātatأُكُلَهَاپھل اپناukulahāضِعْفَيْنِدوگناḍiʿ'fayniفَإِنپھر اگرfa-inلَّمْنہlamيُصِبْهَاپہنچے اس کوyuṣib'hāوَابِلٌۭتیز بارشwābilunفَطَلٌّۭ ۗتو شبنم ہی سہی۔ کافی ہےfaṭallunوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūnaبَصِيرٌدیکھنے والا ہےbaṣīrun٢٦٥
بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کےخرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہو جائے تو دوگنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوارہی اس کے لیے کافی ہو جائے۔1 تم جو کچھ کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے
۲:۲۶۶
أَيَوَدُّکیا چاہتا ہےayawadduأَحَدُكُمْتم میں سے کوئی ایکaḥadukumأَنکہanتَكُونَہوtakūnaلَهُۥاس کے لیےlahuجَنَّةٌۭایک باغjannatunمِّنکاminنَّخِيلٍۢکھجوروںnakhīlinوَأَعْنَابٍۢاورانگوروں کاwa-aʿnābinتَجْرِىبہتی ہوںtajrīمِناس کےminتَحْتِهَانیچےtaḥtihāٱلْأَنْهَـٰرُنہریںl-anhāruلَهُۥاس کے لیےlahuفِيهَااس میںfīhāمِنofminكُلِّہر طرحkulliٱلثَّمَرَٰتِپھل ہوںl-thamarātiوَأَصَابَهُاور پہنچے اس کوwa-aṣābahuٱلْكِبَرُبڑھاپاl-kibaruوَلَهُۥاور اس کے لیےwalahuذُرِّيَّةٌۭاولاد ہوdhurriyyatunضُعَفَآءُکمزورḍuʿafāuفَأَصَابَهَآپھر پہنچے اسکوfa-aṣābahāإِعْصَارٌۭایک بگولہiʿ'ṣārunفِيهِاس میںfīhiنَارٌۭآگ ہوnārunفَٱحْتَرَقَتْ ۗتو مل جائےfa-iḥ'taraqatكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaيُبَيِّنُبیان کرتا ہےyubayyinuٱللَّهُاللہl-lahuلَكُمُتمہارے لیےlakumuٱلْـَٔايَـٰتِنشانیاںl-āyātiلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَتَفَكَّرُونَتم غور و فکر کروtatafakkarūna٢٦٦
کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ہو، اور وہ عین اس وقت ایک تیز بھگولے کی زد میں آکر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟1 اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور وفکر کرو
۲:۲۶۷
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوٓا۟جو ایمان لائے ہوāmanūأَنفِقُوا۟خرچ کروanfiqūمِنمیں سےminطَيِّبَـٰتِپاکیزہ چیزوںṭayyibātiمَاجوكَسَبْتُمْتم کماؤ۔ کمایا تم نےkasabtumوَمِمَّآاور اس میں سے جوwamimmāأَخْرَجْنَانکالا ہم نےakhrajnāلَكُمتمہارے لیےlakumمِّنَسےminaٱلْأَرْضِ ۖزمینl-arḍiوَلَااور نہwalāتَيَمَّمُوا۟تم ارادہ کرو۔ تم چھوؤtayammamūٱلْخَبِيثَناپاک کا۔ کوl-khabīthaمِنْهُاس میں سےmin'huتُنفِقُونَتم خرچ کرتے ہو۔ تاکہ تم خرچ کروtunfiqūnaوَلَسْتُمحالانکہ نہیں ہو تمwalastumبِـَٔاخِذِيهِلینے والے اس کوbiākhidhīhiإِلَّآمگرillāأَنپرanتُغْمِضُوا۟تم چشم پوشی کروtugh'miḍūفِيهِ ۚاس کے بارے میںfīhiوَٱعْلَمُوٓا۟اور جان لوwa-iʿ'lamūأَنَّبیشکannaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaغَنِىٌّبےنیاز ہےghaniyyunحَمِيدٌاپنی ذات میں تعریف والا ہےḥamīdun٢٦٧
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کےلیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشسش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے ، تو تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کرو گےاِلّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ۔تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے1
۲:۲۶۸
ٱلشَّيْطَـٰنُشیطانal-shayṭānuيَعِدُكُمُتم سے وعدہ کرتا ہےyaʿidukumuٱلْفَقْرَتنگدستیl-faqraوَيَأْمُرُكُماور تمہیں حکم دیتا ہےwayamurukumبِٱلْفَحْشَآءِ ۖبے حیائی کاbil-faḥshāiوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuيَعِدُكُمتم سے وعدہ کرتا ہےyaʿidukumمَّغْفِرَةًۭبخششmaghfiratanمِّنْهُاس سے (اپنی)min'huوَفَضْلًۭا ۗاورفضلwafaḍlanوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuوَٰسِعٌوسعت والاwāsiʿunعَلِيمٌۭجاننے والاʿalīmun٢٦٨
شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے
۲:۲۶۹
يُؤْتِىدیتا ہے۔ وہ عطا کرتا ہےyu'tīٱلْحِكْمَةَحکمت کوl-ḥik'mataمَنجسے وہmanيَشَآءُ ۚچاہتا ہےyashāuوَمَناورجو کوئیwamanيُؤْتَدیا گیاyu'taٱلْحِكْمَةَحکمتl-ḥik'mataفَقَدْتو تحقیقfaqadأُوتِىَوہ دیا گیاūtiyaخَيْرًۭاخیر ۔ بھلائیkhayranكَثِيرًۭا ۗبہتkathīranوَمَااور نہیںwamāيَذَّكَّرُنصیحت پکڑتےyadhakkaruإِلَّآمگرillāأُو۟لُوا۟والےulūٱلْأَلْبَـٰبِعقلl-albābi٢٦٩
جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔1 اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں ،جو دانشمند ہیں
۲:۲۷۰
وَمَآاور جوwamāأَنفَقْتُمخرچ کرو تمanfaqtumمِّن(out) ofminنَّفَقَةٍکوئی بھی خرچ کرنے کی چیزnafaqatinأَوْیاawنَذَرْتُمنذر مانو تمnadhartumمِّنofminنَّذْرٍۢکوئی بھی نذرnadhrinفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaيَعْلَمُهُۥ ۗجانتا ہے اس کو۔ جان لے گا اس کوyaʿlamuhuوَمَااورنہیںwamāلِلظَّـٰلِمِينَظالموں کے لیےlilẓẓālimīnaمِنْanyminأَنصَارٍکوئی مددگارanṣārin٢٧٠
تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نظر بھی مانی ہو ، اللہ کو اُس کا علم ہے، اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔1
۲:۲۷۱
إِناگرinتُبْدُوا۟تم ظاہر کرو گےtub'dūٱلصَّدَقَـٰتِصدقاتl-ṣadaqātiفَنِعِمَّاتو کتنے اچھے ہیں۔ تو کتنا اچھا ہےfaniʿimmāهِىَ ۖوہ۔ یہ (ظاہر کرنا) ۚhiyaوَإِناور اگرwa-inتُخْفُوهَاتم چھپاؤ ان کوtukh'fūhāوَتُؤْتُوهَااورتم دو ان کوwatu'tūhāٱلْفُقَرَآءَفقراء کو۔ محتاجوں کوl-fuqarāaفَهُوَتو وہfahuwaخَيْرٌۭاچھا ہےkhayrunلَّكُمْ ۚتمہارے لئیےlakumوَيُكَفِّرُاور وہ دور کرے گاwayukaffiruعَنكُمتم سےʿankumمِّنسےminسَيِّـَٔاتِكُمْ ۗتمہاری برائیوں میں سےsayyiātikumوَٱللَّهُاوراللہwal-lahuبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūnaخَبِيرٌۭباخبر ہےkhabīrun٢٧١
اگر اپنے صدقات اعلانیہ دو، تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کودو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔1 تمہاری بہت سی بُرائیاں اِس طرزِ عمل سے محوہوجاتی ہیں۔2 اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہر حال اُس کی خبر ہے
۲:۲۷۲
۞ لَّيْسَنہیں ہےlaysaعَلَيْكَآپ کے ذمہʿalaykaهُدَىٰهُمْان کو ہدایتhudāhumوَلَـٰكِنَّلیکنwalākinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaيَهْدِىہدایت دیتا ہےyahdīمَنجس کوmanيَشَآءُ ۗچاہتا ہےyashāuوَمَااور جوwamāتُنفِقُوا۟تم خرچ کرو گےtunfiqūمِنْمیں سےminخَيْرٍۢمالkhayrinفَلِأَنفُسِكُمْ ۚتو تمہارے اپنے نفسوں کے لیے ہےfali-anfusikumوَمَااو ر جوwamāتُنفِقُونَتم خرچ کرو گےtunfiqūnaإِلَّامگرillāٱبْتِغَآءَتلاش کرنے کے لیےib'tighāaوَجْهِ(the) facewajhiٱللَّهِ ۚاللہ کی رضاl-lahiوَمَااور جوwamāتُنفِقُوا۟تم خرچ کرو گےtunfiqūمِنْمیں سےminخَيْرٍۢمالkhayrinيُوَفَّپورا کر کے دیا جائے گاyuwaffaإِلَيْكُمْطرف تمہارے۔ تمہیںilaykumوَأَنتُمْتمwa-antumلَانہتُظْلَمُونَظلم نہ کیے جاؤ گےtuẓ'lamūna٢٧٢
لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمّےداری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔ اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلاہے۔ آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات کروگے، اس کا پُورا پُورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔
۲:۲۷۳
لِلْفُقَرَآءِیہ صدقات فقراء کے لیے ہیں۔ تنگدست کے لیے ہیںlil'fuqarāiٱلَّذِينَ(یعنی) وہ لوگ جوalladhīnaأُحْصِرُوا۟گھیر لیے گئےuḥ'ṣirūفِىمیںسَبِيلِراستےsabīliٱللَّهِاللہ کےl-lahiلَانہیںيَسْتَطِيعُونَوہ استطاعت رکھتےyastaṭīʿūnaضَرْبًۭاچلنے پھرنے کی۔ دوڑ دھوپ کیḍarbanفِىمیںٱلْأَرْضِزمینl-arḍiيَحْسَبُهُمُسمجھتا ہے ان کوyaḥsabuhumuٱلْجَاهِلُجاہل۔ ناواقفl-jāhiluأَغْنِيَآءَدولت مندaghniyāaمِنَوجہ سےminaٱلتَّعَفُّفِان کی خودداری-l-taʿafufiتَعْرِفُهُمتم پہچان لو گے ان کوtaʿrifuhumبِسِيمَـٰهُمْان کی علامت سے۔ ان کی پیشانی سےbisīmāhumلَانہیںيَسْـَٔلُونَوہ مانگتےyasalūnaٱلنَّاسَلوگوں سےl-nāsaإِلْحَافًۭا ۗاصرار کرکے۔ لپٹ کرil'ḥāfanوَمَااور جوwamāتُنفِقُوا۟تم خرچ کرو گےtunfiqūمِنْمیں سےminخَيْرٍۢمالkhayrinفَإِنَّتو بیشکfa-innaٱللَّهَاللہl-lahaبِهِۦساتھ اس کےbihiعَلِيمٌجاننے والا ہےʿalīmun٢٧٣
خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھِر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دَوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔ان کی خودداری دیکھ کرنا واقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑکر کچھ مانگیں۔ اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کروگےوہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہےگا۔
۲:۲۷۴
ٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaيُنفِقُونَجو خرچ کرتے ہیںyunfiqūnaأَمْوَٰلَهُماپنے مالوں کوamwālahumبِٱلَّيْلِرات کوbi-al-layliوَٱلنَّهَارِاور دن کوwal-nahāriسِرًّۭاچھپا کرsirranوَعَلَانِيَةًۭاور اعلانیہ طور پرwaʿalāniyatanفَلَهُمْتو ان کے لیےfalahumأَجْرُهُمْان کا اجر ہےajruhumعِندَان کےʿindaرَبِّهِمْرب کے پاسrabbihimوَلَااور نہwalāخَوْفٌکوئی خوف ہوگاkhawfunعَلَيْهِمْان پرʿalayhimوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيَحْزَنُونَوہ غمگین ہونگےyaḥzanūna٢٧٤
جو لو گ اپنے مال شب و روز کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں
۲:۲۷۵
ٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaيَأْكُلُونَجو کھاتے ہیںyakulūnaٱلرِّبَوٰا۟سود کوl-ribaلَانہیںيَقُومُونَوہ کھڑے ہوں گےyaqūmūnaإِلَّامگرillāكَمَاجیا کہkamāيَقُومُکھڑا ہونا ہےyaqūmuٱلَّذِىوہ شخصalladhīيَتَخَبَّطُهُخبطی بنادیا ہو اس کوyatakhabbaṭuhuٱلشَّيْطَـٰنُشیطان نےl-shayṭānuمِنَwithminaٱلْمَسِّ ۚچھو کرl-masiذَٰلِكَیہdhālikaبِأَنَّهُمْوہ کہتے ہیںbi-annahumقَالُوٓا۟بیشکqālūإِنَّمَاتجارتinnamāٱلْبَيْعُمانند ہےl-bayʿuمِثْلُسود کےmith'luٱلرِّبَوٰا۟ ۗاورl-ribaوَأَحَلَّحالانکہ حلال کردیاwa-aḥallaٱللَّهُاللہ نےl-lahuٱلْبَيْعَتجارت کوl-bayʿaوَحَرَّمَاور حرام کردیاwaḥarramaٱلرِّبَوٰا۟ ۚسود کوl-ribaفَمَنتو جو کوئیfamanجَآءَهُۥآجائے اس کے پاسjāahuمَوْعِظَةٌۭایک نصیحتmawʿiẓatunمِّنا س کےminرَّبِّهِۦرب کی طرفrabbihiفَٱنتَهَىٰپھر وہ رک جائےfa-intahāفَلَهُۥتو اس کے لیے ہےfalahuمَاجوسَلَفَگزرچکاsalafaوَأَمْرُهُۥٓاوراس کا معاملہwa-amruhuإِلَىطرفilāٱللَّهِ ۖاللہ کے ہےl-lahiوَمَنْاور جو کوئیwamanعَادَلوٹےʿādaفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگfa-ulāikaأَصْحَـٰبُ(are the) companionsaṣḥābuٱلنَّارِ ۖآگ والے ہیںl-nāriهُمْوہhumفِيهَااس میںfīhāخَـٰلِدُونَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidūna٢٧٥
مگر جو لوگ سُود کھاتے ہیں1 ، اُن کا حال اُس شخص کاسا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چُھوکر باوٴلا کر دیا ہو۔ 2اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:”تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے3“، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔4 لہٰذا جس شخص کو اس کے ربّ کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خوری سے باز آجائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ 5اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا
۲:۲۷۶
يَمْحَقُمٹاتا ہےyamḥaquٱللَّهُاللہl-lahuٱلرِّبَوٰا۟سود کوl-ribaوَيُرْبِىاور بڑھتا ہے۔ نشو و نما دیتا ہےwayur'bīٱلصَّدَقَـٰتِ ۗصدقات کوl-ṣadaqātiوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuلَانہیںيُحِبُّپسند کرتاyuḥibbuكُلَّہرkullaكَفَّارٍناشکرےkaffārinأَثِيمٍگناہگار کوathīmin٢٧٦
اللہ سُود کا مَٹھ ماردیتا ہے اور صدقات کو نشونما دیتا ہے۔ 1اور اللہ کِسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا
۲:۲۷۷
إِنَّبیشکinnaٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائےāmanūوَعَمِلُوا۟اور انہوں نے عمل کیےwaʿamilūٱلصَّـٰلِحَـٰتِاچھے۔ نیکl-ṣāliḥātiوَأَقَامُوا۟اورانہوں نے قائم کیwa-aqāmūٱلصَّلَوٰةَنمازl-ṣalataوَءَاتَوُا۟اورانہوں نے دیwaātawūٱلزَّكَوٰةَزکوۃl-zakataلَهُمْان کے لیےlahumأَجْرُهُمْان کا اجر ہےajruhumعِندَپاسʿindaرَبِّهِمْان کے رب کےrabbihimوَلَااور نہwalāخَوْفٌکوئی خوف ہوگاkhawfunعَلَيْهِمْان پرʿalayhimوَلَااور نہwalāهُمْوہhumيَحْزَنُونَغمگین ہوں گےyaḥzanūna٢٧٧
ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں، اُن کا اجر بے شک ان کے ربّ کے پاس ہے اور ان کےلیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔
۲:۲۷۸
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوا۟جو ایمان لائے ہوāmanūٱتَّقُوا۟ڈرو۔ تقوی کروittaqūٱللَّهَاللہ سے۔ اللہ کاl-lahaوَذَرُوا۟اور چھوڑ دوwadharūمَاجوبَقِىَباقی ہوbaqiyaمِنَمیں سےminaٱلرِّبَوٰٓا۟سودl-ribaإِناگرinكُنتُمہو تمkuntumمُّؤْمِنِينَایمان والےmu'minīna٢٧٨
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو
۲:۲۷۹
فَإِنپھر اگرfa-inلَّمْنہlamتَفْعَلُوا۟تم کروtafʿalūفَأْذَنُوا۟تو خبردار ہوجاؤfadhanūبِحَرْبٍۢجنگ کے لیےbiḥarbinمِّنَسےminaٱللَّهِاللہl-lahiوَرَسُولِهِۦ ۖاور اس کے رسول سےwarasūlihiوَإِناوراگرwa-inتُبْتُمْتو بہ کرلو تمtub'tumفَلَكُمْتو تمہارے لیے ہےfalakumرُءُوسُاصلruūsuأَمْوَٰلِكُمْتمہارے مالوں کاamwālikumلَانہتَظْلِمُونَتم ظلم کرو گےtaẓlimūnaوَلَااورwalāتُظْلَمُونَتم پر ظلم کیا جائے گاtuẓ'lamūna٢٧٩
لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہو جاوٴ کہ اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ 1ہے۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سُود چھوڑ دو)تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم کیا جائے
۲:۲۸۰
وَإِناور اگرwa-inكَانَہے (وہ مقروض)kānaذُووالاdhūعُسْرَةٍۢتنگی۔ تنگدستʿus'ratinفَنَظِرَةٌتو مہلت دیتا ہےfanaẓiratunإِلَىٰتکilāمَيْسَرَةٍۢ ۚآسانیmaysaratinوَأَناور یہ کہ۔ اگرwa-anتَصَدَّقُوا۟تم صدقہ کروtaṣaddaqūخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunلَّكُمْ ۖتمہارے لیےlakumإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumتَعْلَمُونَتم جانتےtaʿlamūna٢٨٠
تمہارا قرض دار تنگ دست ہو تو ہاتھ کھُلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صد قہ کردو ، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو1
۲:۲۸۱
وَٱتَّقُوا۟اور ڈروwa-ittaqūيَوْمًۭااس دن سےyawmanتُرْجَعُونَتم لوٹائے جاؤ گےtur'jaʿūnaفِيهِاس میںfīhiإِلَىطرفilāٱللَّهِ ۖاللہ کیl-lahiثُمَّپھرthummaتُوَفَّىٰپورا پورا دیا جائے گاtuwaffāكُلُّہرkulluنَفْسٍۢشخص کوnafsinمَّاجوكَسَبَتْاس نے کمائی کیkasabatوَهُمْاور وہwahumلَانہيُظْلَمُونَظلم کیے جائیں گےyuẓ'lamūna٢٨١
اس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا
۲:۲۸۲
يَـٰٓأَيُّهَااےyāayyuhāٱلَّذِينَلوگوalladhīnaءَامَنُوٓا۟جو ایمان لائے ہوāmanūإِذَاجبidhāتَدَايَنتُمتم باہم لین دین کروtadāyantumبِدَيْنٍقرض کاbidayninإِلَىٰٓتکilāأَجَلٍۢوقت مقررہ۔ طے شدہ (مقررہ وقت تک)ajalinمُّسَمًّۭىfixedmusammanفَٱكْتُبُوهُ ۚتو لکھا کرو اس کو۔ تو لکھ لیا کرو اس کوfa-uk'tubūhuوَلْيَكْتُبچاہیے کہ لکھےwalyaktubبَّيْنَكُمْتمہارے درمیانbaynakumكَاتِبٌۢلکھنے والاkātibunبِٱلْعَدْلِ ۚساتھ عدل کےbil-ʿadliوَلَااور نہwalāيَأْبَانکار کرےyabaكَاتِبٌلکھنے والاkātibunأَنکہanيَكْتُبَوہ لکھےyaktubaكَمَاجیسا کہkamāعَلَّمَهُسکھا دیا اس کوʿallamahuٱللَّهُ ۚاللہ نےl-lahuفَلْيَكْتُبْپس چاہیے کہ وہ لکھےfalyaktubوَلْيُمْلِلِاور چاہیے کہ املاء کرےwalyum'liliٱلَّذِىوہ شخصalladhīعَلَيْهِجس پرʿalayhiٱلْحَقُّحق ہے (مقروض ہے)l-ḥaquوَلْيَتَّقِاورچاہیے کہwalyattaqiٱللَّهَاللہ سےl-lahaرَبَّهُۥجو رب ہے اس کاrabbahuوَلَااور نہwalāيَبْخَسْکمی کرےyabkhasمِنْهُاس سےmin'huشَيْـًۭٔا ۚکسی چیز کیshayanفَإِنپھر اگرfa-inكَانَہوkānaٱلَّذِىوہ شخص (یعنی مقروض)alladhīعَلَيْهِاوپر اس کےʿalayhiٱلْحَقُّحق ہےl-ḥaquسَفِيهًابےوقوف۔ کم عقلsafīhanأَوْیاawضَعِيفًاکمزورḍaʿīfanأَوْیاawلَانہیںيَسْتَطِيعُوہ استطاعت رکھتاyastaṭīʿuأَنکہanيُمِلَّاملاء کرےyumillaهُوَوہhuwaفَلْيُمْلِلْپس چاہیے کہ املاء کرےfalyum'lilوَلِيُّهُۥسرپرست اس کاwaliyyuhuبِٱلْعَدْلِ ۚعدل کے ساتھbil-ʿadliوَٱسْتَشْهِدُوا۟اور گواہ بنالیا کروwa-is'tashhidūشَهِيدَيْنِدو گواہshahīdayniمِنسےminرِّجَالِكُمْ ۖاپنے مردو (میں سے)rijālikumفَإِنپھر اگرfa-inلَّمْنہlamيَكُونَاوہ دو ہوںyakūnāرَجُلَيْنِدو مردrajulayniفَرَجُلٌۭتو ایک مردfarajulunوَٱمْرَأَتَانِاور دو عورتیںwa-im'ra-atāniمِمَّناس میں سے جوmimmanتَرْضَوْنَتم پسند کرتے ہوtarḍawnaمِنَسےminaٱلشُّهَدَآءِگواہوں میںl-shuhadāiأَناس لیے کہ۔ مبادا کہanتَضِلَّبھول جائے گیtaḍillaإِحْدَىٰهُمَاان دونوں میں سے ایکiḥ'dāhumāفَتُذَكِّرَتو یاد دہانی کرادےfatudhakkiraإِحْدَىٰهُمَاان دونوں میں سے ایکiḥ'dāhumāٱلْأُخْرَىٰ ۚدوسری کوl-ukh'rāوَلَااور نہwalāيَأْبَانکار کریںyabaٱلشُّهَدَآءُگواہl-shuhadāuإِذَاجب بھی۔ جہاں بھیidhāمَاthatدُعُوا۟ ۚوہ بلائے جائیںduʿūوَلَااور نہwalāتَسْـَٔمُوٓا۟تم سستی کروtasamūأَنکہanتَكْتُبُوهُتم لکھ لو اس کوtaktubūhuصَغِيرًاچھوٹا ہوṣaghīranأَوْیاawكَبِيرًابڑا ہوkabīranإِلَىٰٓطرفilāأَجَلِهِۦ ۚاس کے مقرر وقت کےajalihiذَٰلِكُمْیہ باتdhālikumأَقْسَطُزیادہ انصاف والی ہےaqsaṭuعِندَنزدیکʿindaٱللَّهِاللہ کےl-lahiوَأَقْوَمُاور زیادہ درست رکھنے والی ہےwa-aqwamuلِلشَّهَـٰدَةِگواہی کے لیےlilshahādatiوَأَدْنَىٰٓاور زیادہ قریب ہےwa-adnāأَلَّاکہ نہallāتَرْتَابُوٓا۟ ۖتم شک میں مبتلا ہو جاوtartābūإِلَّآمگرillāأَنکہanتَكُونَہوtakūnaتِجَـٰرَةًتجارت۔ سوداtijāratanحَاضِرَةًۭحاضرḥāḍiratanتُدِيرُونَهَاتم لین دین کرتے ہو اس کاtudīrūnahāبَيْنَكُمْآپس میںbaynakumفَلَيْسَتو نہیں ہےfalaysaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumجُنَاحٌکوئی گناہjunāḥunأَلَّاکہ نہallāتَكْتُبُوهَا ۗتم لکھو اس کوtaktubūhāوَأَشْهِدُوٓا۟اور گواہ بنا لوwa-ashhidūإِذَاجبidhāتَبَايَعْتُمْ ۚباہم خریدوفروخت کرو تمtabāyaʿtumوَلَااور نہwalāيُضَآرَّضرر پہنچایاجائےyuḍārraكَاتِبٌۭکاتب کوkātibunوَلَااور نہwalāشَهِيدٌۭ ۚگواہ کوshahīdunوَإِناور اگرwa-inتَفْعَلُوا۟تم کرو گےtafʿalūفَإِنَّهُۥتو بیشک وہfa-innahuفُسُوقٌۢگناہ ہوگاfusūqunبِكُمْ ۗتمہارے لئیےbikumوَٱتَّقُوا۟اور ڈرو تمwa-ittaqūٱللَّهَ ۖاللہ سےl-lahaوَيُعَلِّمُكُمُاور سکھاتا ہے تم کوwayuʿallimukumuٱللَّهُ ۗاللہl-lahuوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuبِكُلِّساتھ ہرbikulliشَىْءٍچیز کےshayinعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun٢٨٢
اے لوگو جو ایمان لائےہو، جب کسی مقرّر مدت کےلیے تم آپس میں لین دین1 کرو ، تو اُسے لکھ لیا کرو۔فریقین2 کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو، اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے۔وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائےجس پر حق آتا ہے(یعنی قرض لینے والا)، اور اُسے اللہ ،اپنے ربّ سے ڈرنا چاہیےکہ جو معاملہ طے ہوا ہو اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو ، یا املا نہ کراسکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے۔ پھر اپنے مردوں میں3 سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اُسے یاد دلائے۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔4 گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے ، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تسا ہل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی بر انصاف ہے، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے۔ اور تمہارے شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں5، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے6۔ ایسا کروگے ، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے۔ اللہ کے غضب سے بچو۔ وہ تم کو صحیح طریقِ عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے
۲:۲۸۳
۞ وَإِناور اگرwa-inكُنتُمْہو تمkuntumعَلَىٰپرʿalāسَفَرٍۢسفرsafarinوَلَمْاورنہwalamتَجِدُوا۟تم پاؤtajidūكَاتِبًۭالکھنے والاkātibanفَرِهَـٰنٌۭتو رھن رکھا ہےfarihānunمَّقْبُوضَةٌۭ ۖقبضہ کی ہوئی کاmaqbūḍatunفَإِنْپھر اگرfa-inأَمِنَاعتبار کرےaminaبَعْضُكُمتم میں سے بعضbaʿḍukumبَعْضًۭابعض کاbaʿḍanفَلْيُؤَدِّپس چاہیے کہ ادا کرےfalyu-addiٱلَّذِىوہ شخص جوalladhīٱؤْتُمِنَامین بنایا گیاu'tuminaأَمَـٰنَتَهُۥاس کی امانت کوamānatahuوَلْيَتَّقِاورچاہے کہ وہ ڈرےwalyattaqiٱللَّهَاللہ سےl-lahaرَبَّهُۥ ۗجو رب ہے اس کاrabbahuوَلَااور نہwalāتَكْتُمُوا۟تم چھپاؤtaktumūٱلشَّهَـٰدَةَ ۚگواہی کوl-shahādataوَمَناور جو کوئیwamanيَكْتُمْهَاچھپائے گا اس کوyaktum'hāفَإِنَّهُۥٓتو بیشک وہfa-innahuءَاثِمٌۭگناہ گار ہےāthimunقَلْبُهُۥ ۗدل اس کاqalbuhuوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuبِمَاساتھ اس کے جوbimāتَعْمَلُونَتم عمل کرتے ہوtaʿmalūnaعَلِيمٌۭجاننے والا ہےʿalīmun٢٨٣
اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور دستاویز لکھنے کےلیے کوئی کاتب نہ ملے ، رہن بالقبض پر معاملہ کرو۔1 اگر تم میں سے کوئی شخص دُوسرے پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے ، اسے چاہیے کہ امانت ادا کرے اور اللہ ، اپنے ربّ سے ڈرے۔ اور شہادت ہرگز نہ چھپاوٴ۔2 جو شہادت چھپاتاہے ، اس کا دل گناہ میں آلودہ ہے۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے
۲:۲۸۴
لِّلَّهِاللہ کے لیے ہےlillahiمَاجوفِىمیں ہےٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوںl-samāwātiوَمَااور جوwamāفِىمیں ہےٱلْأَرْضِ ۗزمینl-arḍiوَإِناور اگرwa-inتُبْدُوا۟تم ظاہر کروtub'dūمَاجوفِىٓمیں ہےأَنفُسِكُمْتمہارے نفسوںanfusikumأَوْیاawتُخْفُوهُتم چھپاؤ گے اس کوtukh'fūhuيُحَاسِبْكُمحساب لے گا تمہاراyuḥāsib'kumبِهِساتھ اس کےbihiٱللَّهُ ۖاللہl-lahuفَيَغْفِرُپھر وہ بخش دے گاfayaghfiruلِمَنجس کوlimanيَشَآءُوہ چاہے گاyashāuوَيُعَذِّبُاور وہ عذاب دے گاwayuʿadhibuمَنجس کو وہmanيَشَآءُ ۗچاہے گاyashāuوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuعَلَىٰاوپرʿalāكُلِّہرkulliشَىْءٍۢچیز کےshayinقَدِيرٌقدرت رکھنے والا ہےqadīrun٢٨٤
1آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، سب اللہ کاہے۔2 تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو یا چُھپاوٴ اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے لے گا۔ 3پھر اسے اختیار ہے جسے چاہے ، معاف کردے اور جسے چاہے، سزا دے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔4
۲:۲۸۵
ءَامَنَایمان لائےāmanaٱلرَّسُولُرسولl-rasūluبِمَآساتھ اس کے جوbimāأُنزِلَنازل کیا گیاunzilaإِلَيْهِطرف اس کےilayhiمِنطرف سےminرَّبِّهِۦاس کے رب کیrabbihiوَٱلْمُؤْمِنُونَ ۚاورسارے مومن اورwal-mu'minūnaكُلٌّسارے کے سارےkullunءَامَنَایمان لائےāmanaبِٱللَّهِاللہ پرbil-lahiوَمَلَـٰٓئِكَتِهِۦاور اس کے فرشتوں پرwamalāikatihiوَكُتُبِهِۦاوراس کی کتابوں پرwakutubihiوَرُسُلِهِۦاور اس کے رسولوں پرwarusulihiلَانہیںنُفَرِّقُہم فرق کرتےnufarriquبَيْنَدرمیانbaynaأَحَدٍۢکسی ایک کےaḥadinمِّنمیں سےminرُّسُلِهِۦ ۚاس کے رسولوںrusulihiوَقَالُوا۟اور انہوں نے کہاwaqālūسَمِعْنَاسنا ہم نےsamiʿ'nāوَأَطَعْنَا ۖاور اطاعت کی ہم نےwa-aṭaʿnāغُفْرَانَكَچاہتے ہیں ہم تیری بخششghuf'rānakaرَبَّنَااے ہمارے ربrabbanāوَإِلَيْكَاور طرف تیرے ہیwa-ilaykaٱلْمَصِيرُپلٹنا ہےl-maṣīru٢٨٥
رسُول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے ربّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسُول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک !ہم تجھ سے خطابخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔1“
۲:۲۸۶
لَانہیںيُكَلِّفُتکلیف دیتا ہےyukallifuٱللَّهُاللہl-lahuنَفْسًاکسی کوnafsanإِلَّامگرillāوُسْعَهَا ۚاس کی وسعت کے مطابقwus'ʿahāلَهَااس کے لیے ہےlahāمَاجوكَسَبَتْاس نے کمائی کیkasabatوَعَلَيْهَااور اس کے ذمہ ہےwaʿalayhāمَاجوٱكْتَسَبَتْ ۗاس نے کمایاik'tasabatرَبَّنَااے ہمارے ربrabbanāلَانہتُؤَاخِذْنَآمواخذہ کرنا ہمارا۔ نہ پکڑنا ہم کوtuākhidh'nāإِناگرinنَّسِينَآہم بھول جائیںnasīnāأَوْیاawأَخْطَأْنَا ۚخطا کریں ہمakhṭanāرَبَّنَااے ہمارے ربrabbanāوَلَااور نہwalāتَحْمِلْتو ڈال۔ بوجھل کرtaḥmilعَلَيْنَآہم پرʿalaynāإِصْرًۭاکوئی بوجھiṣ'ranكَمَاجیسا کہkamāحَمَلْتَهُۥڈالا تو نے اس کو۔ بوجھل کیاḥamaltahuعَلَىپرʿalāٱلَّذِينَان لوگوںalladhīnaمِنسےminقَبْلِنَا ۚجو ہم سے پہلے تھےqablināرَبَّنَااے ہمارے ربrabbanāوَلَااور نہwalāتُحَمِّلْنَاتو اٹھوا ہم سےtuḥammil'nāمَااس کو جولَانہیںطَاقَةَطاقتṭāqataلَنَاہمارے لیےlanāبِهِۦ ۖاس کیbihiوَٱعْفُاور درگزر فرماwa-uʿ'fuعَنَّاہم سےʿannāوَٱغْفِرْاوربخش دےwa-igh'firلَنَاہمارے لیےlanāوَٱرْحَمْنَآ ۚاور رحم فرما ہم پرwa-ir'ḥamnāأَنتَتوantaمَوْلَىٰنَاہمارا مولا ہےmawlānāفَٱنصُرْنَاپس مدد فرما ہماریfa-unṣur'nāعَلَىاوپرʿalāٱلْقَوْمِکافر قوم کےl-qawmiٱلْكَـٰفِرِينَاوپر کافر قوم کےl-kāfirīna٢٨٦
اللہ کسی متنفّس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔1 ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے۔2(ایمان لانے والو! تم یوں دُعا کرو ) اے ہمارے ربّ ! ہم سے بھول چُوک میں جو قصور ہو جائیں،ان پر گرفت نہ کرنا۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔3 پروردگار !جس بار کو اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ۔4 ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تُو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔5