۸۶

الطارق

مکی ۱۷ آیات پارہ ۳۰
الطارق

سورہ الطارق (الطارق) قرآن مجید کی ۸۶ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۱۷ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔

بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۸۶:۱
وَٱلسَّمَآءِقسم ہے آسمان کیwal-samāiوَٱلطَّارِقِاور رات کو آنے والے کیwal-ṭāriqi١
قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی
۸۶:۲
وَمَآاور کیا چیزwamāأَدْرَىٰكَبتائے تجھ کوadrākaمَاکیا ہےٱلطَّارِقُوہ رات کو آنے والاl-ṭāriqu٢
اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟
۸۶:۳
ٱلنَّجْمُتارہal-najmuٱلثَّاقِبُچکمتا ہواl-thāqibu٣
چمکتا ہوا تارا
۸۶:۴
إِننہیںinكُلُّکوئیkulluنَفْسٍۢشخصnafsinلَّمَّامگرlammāعَلَيْهَااس پرʿalayhāحَافِظٌۭحفاظت کرنے والا ہے/ نگرانی کرنے والا ہےḥāfiẓun٤
کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔
۸۶:۵
فَلْيَنظُرِپس چاہیے کہ دیکھےfalyanẓuriٱلْإِنسَـٰنُانسانl-insānuمِمَّکس چیز سےmimmaخُلِقَوہ پیدا کیا گیاkhuliqa٥
پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کِس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔
۸۶:۶
خُلِقَپیدا کیا گیاkhuliqaمِنسےminمَّآءٍۢپانی (سے)māinدَافِقٍۢجو ٹپکنے والا ہےdāfiqin٦
ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے
۸۶:۷
يَخْرُجُنکلتا ہےyakhrujuمِنۢسےminبَيْنِدرمیان سےbayniٱلصُّلْبِپیٹھ کی ہڈی کےl-ṣul'biوَٱلتَّرَآئِبِاور سینے کی ہڈیوں ( کے درمیان سے)wal-tarāibi٧
جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
۸۶:۸
إِنَّهُۥبیشک وہinnahuعَلَىٰاوپرʿalāرَجْعِهِۦاس کے واپس لانے کےrajʿihiلَقَادِرٌۭالبتہ قادر ہےlaqādirun٨
یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔
۸۶:۹
يَوْمَجس دنyawmaتُبْلَىجانچ پڑتال ہوگیtub'lāٱلسَّرَآئِرُپوشیدہ رازوں کیl-sarāiru٩
جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی1
۸۶:۱۰
فَمَاتو نہیں ہوگیfamāلَهُۥاس کے لئےlahuمِنکوئیminقُوَّةٍۢقوتquwwatinوَلَااور نہwalāنَاصِرٍۢکوئی مددگارnāṣirin١٠
اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا
۸۶:۱۱
وَٱلسَّمَآءِقسم ہے آسمان کیwal-samāiذَاتِوالے کیdhātiٱلرَّجْعِپلٹنے (والے کی)l-rajʿi١١
قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی
۸۶:۱۲
وَٱلْأَرْضِاور زمین کیwal-arḍiذَاتِوالی ہےdhātiٱلصَّدْعِجو پھٹنے (والی ہے)l-ṣadʿi١٢
اور (نباتات اگتے وقت) پھٹ جانے والی زمین کی
۸۶:۱۳
إِنَّهُۥبیشک وہinnahuلَقَوْلٌۭالبتہ ایک بات ہےlaqawlunفَصْلٌۭفیصلہ کنfaṣlun١٣
یہ ایک جچی تلی بات ہے
۸۶:۱۴
وَمَااور نہیںwamāهُوَوہhuwaبِٱلْهَزْلِکوئی ہنسی مذاقbil-hazli١٤
ہنسی مذاق نہیں ہے۔
۸۶:۱۵
إِنَّهُمْبیشک وہinnahumيَكِيدُونَچال چل رہے ہیںyakīdūnaكَيْدًۭاایک چالkaydan١٥
یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں
۸۶:۱۶
وَأَكِيدُاور میں تدبیر کر رہا ہوںwa-akīduكَيْدًۭاایک تدبیرkaydan١٦
اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔
۸۶:۱۷
فَمَهِّلِپس ڈھیل دے دوfamahhiliٱلْكَـٰفِرِينَکافروں کوl-kāfirīnaأَمْهِلْهُمْڈھیل دو ان کوamhil'humرُوَيْدًۢامہلت تھوڑی سیruwaydan١٧
پس چھوڑ دو اے نبیؐ ، اِن کافروں کو اِک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو۔