۵۱

الذاریات

مکی ۶۰ آیات پارہ ۲۶
الذاريات

سورہ الذاریات (الذاريات) قرآن مجید کی ۵۱ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۶۰ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔

بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۵۱:۱
وَٱلذَّٰرِيَـٰتِقسم ہے ان ہواؤں کی جو گرد اڑانے والی ہیںwal-dhāriyātiذَرْوًۭاگرد اڑاناdharwan١
قسم ہے اُن ہواؤں کی جو گرد اڑانے والی ہیں
۵۱:۲
فَٱلْحَـٰمِلَـٰتِپھر اٹھانے والیاں ہیںfal-ḥāmilātiوِقْرًۭابوجھ کوwiq'ran٢
پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں۔
۵۱:۳
فَٱلْجَـٰرِيَـٰتِپھر چلنے والیاں ہیںfal-jāriyātiيُسْرًۭاآسانی کے ساتھyus'ran٣
پھر سبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی ہیں
۵۱:۴
فَٱلْمُقَسِّمَـٰتِپھر تقسیم کرنے والے۔ پھر تقسیم کرنے والیاں ہیںfal-muqasimātiأَمْرًاکام کوamran٤
پھر ایک بڑے کام (بارش) کی تقسیم کرنے والی ہیں،
۵۱:۵
إِنَّمَابیشک جوinnamāتُوعَدُونَتم وعدہ کیے جاتے ہوtūʿadūnaلَصَادِقٌۭالبتہ سچا ہےlaṣādiqun٥
حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے
۵۱:۶
وَإِنَّاور بیشکwa-innaٱلدِّينَجزائے اعمالl-dīnaلَوَٰقِعٌۭالبتہ واقع ہونے والی ہےlawāqiʿun٦
اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔1
۵۱:۷
وَٱلسَّمَآءِقسم ہے آسمان کیwal-samāiذَاتِوالےdhātiٱلْحُبُكِراستوں (والے)l-ḥubuki٧
قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی،
۵۱:۸
إِنَّكُمْبیشک تمinnakumلَفِىالبتہ میں ہوlafīقَوْلٍۢایک باتqawlinمُّخْتَلِفٍۢجو مختلف ہےmukh'talifin٨
(آخرت کے بارے میں) تمہاری بات ایک دوسرے سےمختلف ہے۔
۵۱:۹
يُؤْفَكُپھیرا جاتا ہےyu'fakuعَنْهُاس سےʿanhuمَنْجوmanأُفِكَپھرایا جائےufika٩
اس سے وہی بر گشتہ ہوتا ہے جو حق سے پِھرا ہوا ہے۔
۵۱:۱۰
قُتِلَمارے گئےqutilaٱلْخَرَّٰصُونَاندازے لگانے والےl-kharāṣūna١٠
مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے،
۵۱:۱۱
ٱلَّذِينَیہ لوگalladhīnaهُمْوہ ہیںhumفِىمیںغَمْرَةٍۢجو غفلت (میں)ghamratinسَاهُونَبھولے ہوئے ہیںsāhūna١١
جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں۔
۵۱:۱۲
يَسْـَٔلُونَوہ سوال کرتے ہیںyasalūnaأَيَّانَکب ہوگاayyānaيَوْمُدنyawmuٱلدِّينِجزا سزا کاl-dīni١٢
پوچھتے ہیں آخر وہ روز جزاء کب آئے گا؟
۵۱:۱۳
يَوْمَاس روزyawmaهُمْوہhumعَلَىپرʿalāٱلنَّارِآگl-nāriيُفْتَنُونَتپائے جائیں گےyuf'tanūna١٣
وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے  جائیں گے۔
۵۱:۱۴
ذُوقُوا۟چکھوdhūqūفِتْنَتَكُمْاپنی گمراہی کو۔ اپنے عذاب کوfit'natakumهَـٰذَایہhādhāٱلَّذِىوہ چیز ہےalladhīكُنتُمتھے تمkuntumبِهِۦساتھ اس کےbihiتَسْتَعْجِلُونَتم جلدی مچاتےtastaʿjilūna١٤
(اِن سے کہا جائےگا) اب چکھو مزا اپنے فتنے کا۔1 یہ وہی چیز ہےجس کے لیے تم جلدی مچارہے تھے۔
۵۱:۱۵
إِنَّبیشکinnaٱلْمُتَّقِينَمتقی لوگl-mutaqīnaفِىمیںجَنَّـٰتٍۢباغات (میں)jannātinوَعُيُونٍاور چشموں میں ہوں گےwaʿuyūnin١٥
البتہ متّقی لوگ اُس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے
۵۱:۱۶
ءَاخِذِينَلینے والے ہوں گےākhidhīnaمَآجوءَاتَىٰهُمْدے گا ان کوātāhumرَبُّهُمْ ۚان کا ربrabbuhumإِنَّهُمْبیشک وہinnahumكَانُوا۟تھے وہkānūقَبْلَقبلqablaذَٰلِكَاس سےdhālikaمُحْسِنِينَنیکو کارmuḥ'sinīna١٦
جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے۔ وہ اُس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے
۵۱:۱۷
كَانُوا۟تھے وہkānūقَلِيلًۭاکم ہیqalīlanمِّنَسےminaٱلَّيْلِرات میں (سے)al-layliمَاجويَهْجَعُونَوہ سوتے تھےyahjaʿūna١٧
راتوں کو کم ہی سوتے تھے۔
۵۱:۱۸
وَبِٱلْأَسْحَارِاور سحری کے وقتwabil-asḥāriهُمْوہhumيَسْتَغْفِرُونَاستغفار کرتے تھےyastaghfirūna١٨
پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے،1
۵۱:۱۹
وَفِىٓاور میںwafīأَمْوَٰلِهِمْان کے مالوں (میں)amwālihimحَقٌّۭحق تھاḥaqqunلِّلسَّآئِلِسوالی کے لیےlilssāiliوَٱلْمَحْرُومِاور محروم کے لیےwal-maḥrūmi١٩
اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے۔1
۵۱:۲۰
وَفِىاور میںwafīٱلْأَرْضِزمین (میں)l-arḍiءَايَـٰتٌۭکئی نشانیاں ہیںāyātunلِّلْمُوقِنِينَیقین کرنے والوں کے لیےlil'mūqinīna٢٠
زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے،
۵۱:۲۱
وَفِىٓاور میںwafīأَنفُسِكُمْ ۚتمہارے نفسوں (میں) بھیanfusikumأَفَلَاکیا بھلا نہیںafalāتُبْصِرُونَتم دیکھتےtub'ṣirūna٢١
اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں۔ کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟
۵۱:۲۲
وَفِىاور میںwafīٱلسَّمَآءِآسمانl-samāiرِزْقُكُمْرزق ہے تمہاراriz'qukumوَمَااور جوwamāتُوعَدُونَتم وعدہ کیے جاتے ہوtūʿadūna٢٢
آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کاتم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
۵۱:۲۳
فَوَرَبِّپس قسم ہے رب کیfawarabbiٱلسَّمَآءِآسمانوں کےl-samāiوَٱلْأَرْضِاور زمین کےwal-arḍiإِنَّهُۥبیشک وہinnahuلَحَقٌّۭالبتہ حق ہےlaḥaqqunمِّثْلَمانند اس کےmith'laمَآجوأَنَّكُمْبیشک تمannakumتَنطِقُونَتم بولتے ہوtanṭiqūna٢٣
پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی، یہ بات حق ہے، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو
۵۱:۲۴
هَلْکیاhalأَتَىٰكَآئی تیرے پاسatākaحَدِيثُباتḥadīthuضَيْفِمہمانوں کیḍayfiإِبْرَٰهِيمَابراہیم کےib'rāhīmaٱلْمُكْرَمِينَمعزز۔ عزت والےl-muk'ramīna٢٤
1 اے نبی ؐ ، ابراہیم ؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے؟2
۵۱:۲۵
إِذْجبidhدَخَلُوا۟وہ داخل ہوئےdakhalūعَلَيْهِاس پرʿalayhiفَقَالُوا۟تو انہوں نے کہاfaqālūسَلَـٰمًۭا ۖسلامsalāmanقَالَکہاqālaسَلَـٰمٌۭسلامsalāmunقَوْمٌۭایک قوم ہوqawmunمُّنكَرُونَنا آشنا۔ انجانےmunkarūna٢٥
جب وہ اُس کے ہاں آئے تو کہا آپ کو سلام ہے۔ اُس نے کہا ”آپ لوگوں کو بھی سلام ہے1۔۔۔۔ کچھ ناآشنا سے لوگ ہیں۔“
۵۱:۲۶
فَرَاغَپھر وہ گیاfarāghaإِلَىٰٓطرفilāأَهْلِهِۦاپنے گھر والوں کی (طرف)ahlihiفَجَآءَپھر لے آیاfajāaبِعِجْلٍۢایک بچھڑا (بھنا ہوا)biʿij'linسَمِينٍۢموٹا تازہsamīnin٢٦
پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا 1، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا 2لاکر
۵۱:۲۷
فَقَرَّبَهُۥٓپھر اس نے قریب کیا اس کوfaqarrabahuإِلَيْهِمْان کی طرفilayhimقَالَکہاqālaأَلَاکیا نہیںalāتَأْكُلُونَتم کھاتے ہو ؟۔ کیا تم کھاؤ گے نہیں ؟takulūna٢٧
مہمانوں کے آگے پیش کیا اُس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں؟
۵۱:۲۸
فَأَوْجَسَتو اس نے محسوس کیاfa-awjasaمِنْهُمْان سےmin'humخِيفَةًۭ ۖخوفkhīfatanقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūلَانہتَخَفْ ۖتم ڈروtakhafوَبَشَّرُوهُاور انہوں نے خوشخبری دی اس کوwabasharūhuبِغُلَـٰمٍلڑکے کیbighulāminعَلِيمٍۢجاننے والے۔ علم والےʿalīmin٢٨
پھر وہ اپنے دل میں ان سے ڈرا۔ انہوں نےکہا ڈریے نہیں، اور اُسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا۔
۵۱:۲۹
فَأَقْبَلَتِتو آگے بڑھیfa-aqbalatiٱمْرَأَتُهُۥاس کی بیویim'ra-atuhuفِىمیںصَرَّةٍۢحیرت (میں)ṣarratinفَصَكَّتْتو ہاتھ ماراfaṣakkatوَجْهَهَااپنے چہرے پرwajhahāوَقَالَتْاور کہنے لگیwaqālatعَجُوزٌبڑھیاʿajūzunعَقِيمٌۭبانجھʿaqīmun٢٩
یہ سُن کر اُس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پِیٹ لیا اور کہنے لگی ، ”بوڑھی، بانجھ!“
۵۱:۳۰
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūكَذَٰلِكِاسی طرح ہوگاkadhālikiقَالَکہا ہےqālaرَبُّكِ ۖتیرے رب نےrabbukiإِنَّهُۥبیشک وہinnahuهُوَوہhuwaٱلْحَكِيمُحکمت والا ہےl-ḥakīmuٱلْعَلِيمُعلم والا ہےl-ʿalīmu٣٠
انہوں نے کہا”یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رب نے، وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔“1
۵۱:۳۱
۞ قَالَکہاqālaفَمَاتو کیاfamāخَطْبُكُمْقصہ ہے تمہاراkhaṭbukumأَيُّهَااےayyuhāٱلْمُرْسَلُونَفرشتو۔ بھیجے ہوؤںl-mur'salūna٣١
ابراہیم ؑ نے کہا ، اے فرستادگانِ الہٰی ، کیا مہم آپ کو درپیش ہے؟1
۵۱:۳۲
قَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūإِنَّآبیشک ہمinnāأُرْسِلْنَآبھیجے گئے ہمur'sil'nāإِلَىٰطرفilāقَوْمٍۢمجرمqawminمُّجْرِمِينَقوم کےmuj'rimīna٣٢
انہوں نے کہا”ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
۵۱:۳۳
لِنُرْسِلَتاکہ ہم بھیجیںlinur'silaعَلَيْهِمْان پرʿalayhimحِجَارَةًۭپتھرḥijāratanمِّنسےminطِينٍۢمٹیṭīnin٣٣
تاکہ اُس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں
۵۱:۳۴
مُّسَوَّمَةًنشان لگے ہوئے ہیںmusawwamatanعِندَہاںʿindaرَبِّكَتیرے رب کےrabbikaلِلْمُسْرِفِينَحد سے بڑھنے والوں کے لیےlil'mus'rifīna٣٤
جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں“1
۵۱:۳۵
فَأَخْرَجْنَاتو نکال لیا ہم نےfa-akhrajnāمَنجو کوئیmanكَانَتھاkānaفِيهَااس میںfīhāمِنَمیں سےminaٱلْمُؤْمِنِينَمومنوںl-mu'minīna٣٥
1 پھر ہم نے ان سب لوگوں کو نکال لیا جو اس بستی میں مومن تھے
۵۱:۳۶
فَمَاتو نہfamāوَجَدْنَاپایا ہم نےwajadnāفِيهَااس میںfīhāغَيْرَسوائےghayraبَيْتٍۢایک گھر کےbaytinمِّنَمیں سےminaٱلْمُسْلِمِينَمسلمانوںl-mus'limīna٣٦
اور وہاں ہم نے ایک گھر کےسوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔
۵۱:۳۷
وَتَرَكْنَااور چھوڑ دی ہم نےwataraknāفِيهَآاس میںfīhāءَايَةًۭایک نشانیāyatanلِّلَّذِينَان لوگوں کے لیےlilladhīnaيَخَافُونَجو ڈرتے ہیںyakhāfūnaٱلْعَذَابَعذاب سےl-ʿadhābaٱلْأَلِيمَدردناکl-alīma٣٧
اس کے بعد ہم  نے وہاں بس ایک نشانی ان لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔1
۵۱:۳۸
وَفِىاور میںwafīمُوسَىٰٓموسیٰmūsāإِذْجبidhأَرْسَلْنَـٰهُبھیجا ہم نے اس کوarsalnāhuإِلَىٰطرفilāفِرْعَوْنَفرعون کیfir'ʿawnaبِسُلْطَـٰنٍۢایک دلیل کے ساتھbisul'ṭāninمُّبِينٍۢکھلیmubīnin٣٨
اور(تمہارے لیے نشانی ہے) موسیٰؑ کے قصے ہیں۔ جب ہم نے اسے صریح سَنَد کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا
۵۱:۳۹
فَتَوَلَّىٰتو وہ پھر گیاfatawallāبِرُكْنِهِۦاپنی قوت کے ساتھbiruk'nihiوَقَالَاور کہنے لگاwaqālaسَـٰحِرٌایک جادوگر ہےsāḥirunأَوْیاawمَجْنُونٌۭمجنون ہےmajnūnun٣٩
تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادوگر ہے یا مجنون ہے۔
۵۱:۴۰
فَأَخَذْنَـٰهُتو پکڑ لیا ہم نے اس کوfa-akhadhnāhuوَجُنُودَهُۥاور اس کے لشکروں کوwajunūdahuفَنَبَذْنَـٰهُمْتو پھینک دیا ہم نے ان کوfanabadhnāhumفِىمیںٱلْيَمِّسمندرl-yamiوَهُوَاور وہwahuwaمُلِيمٌۭملامت زدہ تھاmulīmun٤٠
آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں  کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا  اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا۔
۵۱:۴۱
وَفِىاور میںwafīعَادٍعادʿādinإِذْجبidhأَرْسَلْنَابھیجا ہم نےarsalnāعَلَيْهِمُان پرʿalayhimuٱلرِّيحَہوا کوl-rīḥaٱلْعَقِيمَبےنفع -بانجھl-ʿaqīma٤١
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) عاد میں، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی
۵۱:۴۲
مَانہتَذَرُچھوڑتی تھیtadharuمِنکسیminشَىْءٍچیز کوshayinأَتَتْآئیatatعَلَيْهِجس پرʿalayhiإِلَّامگرillāجَعَلَتْهُاس نے کردیا اس کوjaʿalathuكَٱلرَّمِيمِبوسیدہ ہڈیوں کی طرحkal-ramīmi٤٢
کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا۔1
۵۱:۴۳
وَفِىاور میںwafīثَمُودَثمودthamūdaإِذْجبidhقِيلَکہا گیاqīlaلَهُمْان سےlahumتَمَتَّعُوا۟فائدے اٹھا لوtamattaʿūحَتَّىٰتکḥattāحِينٍۢایک وقتḥīnin٤٣
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) ثمود میں ، جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو۔
۵۱:۴۴
فَعَتَوْا۟تو انہوں نے سرکشی کیfaʿatawعَنْسےʿanأَمْرِحکمamriرَبِّهِمْاپنے رب کےrabbihimفَأَخَذَتْهُمُتو پکڑ لیا ان کوfa-akhadhathumuٱلصَّـٰعِقَةُایک کڑک نےl-ṣāʿiqatuوَهُمْاور وہwahumيَنظُرُونَدیکھ رہے تھےyanẓurūna٤٤
مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کےحکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتےایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا۔
۵۱:۴۵
فَمَاتو نہfamāٱسْتَطَـٰعُوا۟ان کو استطاعت تھیis'taṭāʿūمِنکیminقِيَامٍۢکھڑے ہونےqiyāminوَمَااور نہwamāكَانُوا۟تھے وہkānūمُنتَصِرِينَبدلہ لینے والےmuntaṣirīna٤٥
پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے۔1
۵۱:۴۶
وَقَوْمَاور قومwaqawmaنُوحٍۢنوحnūḥinمِّناس سےminقَبْلُ ۖقبلqabluإِنَّهُمْبیشک وہinnahumكَانُوا۟تھےkānūقَوْمًۭالوگqawmanفَـٰسِقِينَفاسقfāsiqīna٤٦
اور ان سب سے پہلے ہم نے نوحؑ کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے
۵۱:۴۷
وَٱلسَّمَآءَاور آسمانwal-samāaبَنَيْنَـٰهَابنایا ہم نے اس کوbanaynāhāبِأَيْي۟دٍۢاپنی قوت۔ ہاتھ سےbi-aydinوَإِنَّااور بیشک ہمwa-innāلَمُوسِعُونَالبتہ وسعت دینے والے ہیںlamūsiʿūna٤٧
1 آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔
۵۱:۴۸
وَٱلْأَرْضَاور زمین کوwal-arḍaفَرَشْنَـٰهَابچھایا ہم نے اس کوfarashnāhāفَنِعْمَتو کتنے اچھےfaniʿ'maٱلْمَـٰهِدُونَبچھانے والے ہیں۔ ہموار کرنے والے ہیںl-māhidūna٤٨
زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں۔
۵۱:۴۹
وَمِناور میں سےwaminكُلِّہرkulliشَىْءٍچیزshayinخَلَقْنَابنائے ہم نےkhalaqnāزَوْجَيْنِجوڑےzawjayniلَعَلَّكُمْتاکہ تمlaʿallakumتَذَكَّرُونَتم نصیحت پکڑوtadhakkarūna٤٩
اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو۔
۵۱:۵۰
فَفِرُّوٓا۟پس دوڑوfafirrūإِلَىطرفilāٱللَّهِ ۖاللہ کیl-lahiإِنِّىبیشک میںinnīلَكُمتمہارے لیےlakumمِّنْهُاس کی طرف سےmin'huنَذِيرٌۭڈرانے والا ہوںnadhīrunمُّبِينٌۭکھلم کھلاmubīnun٥٠
تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں
۵۱:۵۱
وَلَااور نہwalāتَجْعَلُوا۟تم بناؤtajʿalūمَعَساتھmaʿaٱللَّهِاللہ کےl-lahiإِلَـٰهًاالہilāhanءَاخَرَ ۖکوئی دوسراākharaإِنِّىبیشک میںinnīلَكُمتمہارے لیےlakumمِّنْهُاس کی طرف سےmin'huنَذِيرٌۭڈرانے والا ہوںnadhīrunمُّبِينٌۭکھلم کھلاmubīnun٥١
اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔1
۵۱:۵۲
كَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaمَآنہیںأَتَىآیا پاسatāٱلَّذِينَان لوگوں کےalladhīnaمِنجوminقَبْلِهِمان سے پہلے تھےqablihimمِّنکوئیminرَّسُولٍرسولrasūlinإِلَّامگرillāقَالُوا۟انہوں نے کہاqālūسَاحِرٌجادوگرsāḥirunأَوْیاawمَجْنُونٌمجنونmajnūnun٥٢
یونہی ہو تا رہا ہے، ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون
۵۱:۵۳
أَتَوَاصَوْا۟کیا وہ ایک دوسرے کو نصیحت کر گئےatawāṣawبِهِۦ ۚاس کے ساتھbihiبَلْبلکہbalهُمْوہhumقَوْمٌۭلوگ ہیںqawmunطَاغُونَسرکشṭāghūna٥٣
کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ سب سر کش لوگ ہیں۔
۵۱:۵۴
فَتَوَلَّپس منہ موڑ لوfatawallaعَنْهُمْان سےʿanhumفَمَآپس نہیںfamāأَنتَآپantaبِمَلُومٍۢجن پر ملامت کی جائےbimalūmin٥٤
پس اے نبی ؐ ، ان سے رخ پھیر لو، تم پر کچھ ملامت نہیں
۵۱:۵۵
وَذَكِّرْاور نصیحت کیجیےwadhakkirفَإِنَّپس بیشکfa-innaٱلذِّكْرَىٰنصیحتl-dhik'rāتَنفَعُفائدہ دیتی ہےtanfaʿuٱلْمُؤْمِنِينَمومنوں کوl-mu'minīna٥٥
البتہ نصیحت کرے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے۔
۵۱:۵۶
وَمَااور نہیںwamāخَلَقْتُپیدا کیا میں نےkhalaqtuٱلْجِنَّجنوں کوl-jinaوَٱلْإِنسَاور انسانوں کوwal-insaإِلَّامگرillāلِيَعْبُدُونِاس لیے تاکہ وہ میری عبادت میںliyaʿbudūni٥٦
میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں
۵۱:۵۷
مَآنہیںأُرِيدُمیں چاہتاurīduمِنْهُمان سےmin'humمِّنکوئیminرِّزْقٍۢرزقriz'qinوَمَآاور نہیںwamāأُرِيدُمیں چاہتاurīduأَنکہ وہanيُطْعِمُونِکھلائیں مجھ کوyuṭ'ʿimūni٥٧
میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔
۵۱:۵۸
إِنَّبیشکinnaٱللَّهَاللہ تعالیٰl-lahaهُوَوہیhuwaٱلرَّزَّاقُرزاق ہےl-razāquذُووالا ہےdhūٱلْقُوَّةِقوتl-quwatiٱلْمَتِينُزبردست ہےl-matīnu٥٨
اللہ تو خود ہی رزّاق ہےبڑی قوت والا اور زبردست۔
۵۱:۵۹
فَإِنَّتو بیشکfa-innaلِلَّذِينَان لوگوں کے لیےlilladhīnaظَلَمُوا۟جنہوں نے ظلم کیاẓalamūذَنُوبًۭاحصہ ہے،dhanūbanمِّثْلَمانندmith'laذَنُوبِحصے کےdhanūbiأَصْحَـٰبِهِمْان کے ساتھیوں کےaṣḥābihimفَلَاپس نہfalāيَسْتَعْجِلُونِوہ جلدی کریں مجھ سےyastaʿjilūni٥٩
پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا اِنہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کا مل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں۔
۵۱:۶۰
فَوَيْلٌۭپس ہلاکت ہےfawaylunلِّلَّذِينَان لوگوں کے لیےlilladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūمِنسےminيَوْمِهِمُاس دنyawmihimuٱلَّذِىان کےalladhīيُوعَدُونَوہ جو وہ وعدہ کیے جاتے ہیںyūʿadūna٦٠
آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اُس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے