۶۸

القلم

مکی ۵۲ آیات پارہ ۲۹
القلم

سورہ القلم (القلم) قرآن مجید کی ۶۸ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۵۲ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔

بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۶۸:۱
نٓ ۚنnoonوَٱلْقَلَمِقسم ہے قلم کیwal-qalamiوَمَااور قسم ہے اس کی جو کچھwamāيَسْطُرُونَوہ لکھ رہے ہیںyasṭurūna١
ن۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں،
۶۸:۲
مَآنہیں ہیںأَنتَآپantaبِنِعْمَةِنعمت کے ساتھbiniʿ'matiرَبِّكَاپنے رب کیrabbikaبِمَجْنُونٍۢمجنونbimajnūnin٢
تم اپنے ربّ کے فضل سے مجنون نہیں ہو۔
۶۸:۳
وَإِنَّاور بیشکwa-innaلَكَآپ کے لیےlakaلَأَجْرًاالبتہ اجر ہےla-ajranغَيْرَنہghayraمَمْنُونٍۢختم ہونے والاmamnūnin٣
اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
۶۸:۴
وَإِنَّكَاور بیشک آپwa-innakaلَعَلَىٰالبتہlaʿalāخُلُقٍاخلاق کےkhuluqinعَظِيمٍۢبلند مرتبے پر ہیںʿaẓīmin٤
اور بےشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔
۶۸:۵
فَسَتُبْصِرُپس عنقریب تم بھی دیکھو گےfasatub'ṣiruوَيُبْصِرُونَاور وہ بھی دیکھیں گےwayub'ṣirūna٥
عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
۶۸:۶
بِأَييِّكُمُکون تم میں سےbi-ayyikumuٱلْمَفْتُونُفتنے میں پڑا ہو ا ہےl-maftūnu٦
کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے
۶۸:۷
إِنَّبیشکinnaرَبَّكَرب تیراrabbakaهُوَوہhuwaأَعْلَمُزیادہ جانتا ہےaʿlamuبِمَناس کو جوbimanضَلَّبھٹک گیاḍallaعَنسےʿanسَبِيلِهِۦاس کے راستےsabīlihiوَهُوَاور وہwahuwaأَعْلَمُزیادہ جانتا ہےaʿlamuبِٱلْمُهْتَدِينَہدایت پانے والوں کوbil-muh'tadīna٧
تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں
۶۸:۸
فَلَاپس نہfalāتُطِعِتم اطاعت کروtuṭiʿiٱلْمُكَذِّبِينَجھٹلانے والوں کیl-mukadhibīna٨
لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ
۶۸:۹
وَدُّوا۟وہ چاہتے ہیںwaddūلَوْکاش تمlawتُدْهِنُسستی کروtud'hinuفَيُدْهِنُونَتو وہ بھی سستی کریں۔ مداہنت کریںfayud'hinūna٩
یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو  تو یہ بھی مداہنت کریں۔
۶۸:۱۰
وَلَااور نہwalāتُطِعْتم اطاعت کروtuṭiʿكُلَّبہتkullaحَلَّافٍۢقسمیں کھانے والے کیḥallāfinمَّهِينٍذلیلmahīnin١٠
ہر گز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے،
۶۸:۱۱
هَمَّازٍۢعیب جوئی کرنے والاhammāzinمَّشَّآءٍۭچلنے والاmashāinبِنَمِيمٍۢساتھ چغل خوری کےbinamīmin١١
طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے
۶۸:۱۲
مَّنَّاعٍۢبہت روکنے والاmannāʿinلِّلْخَيْرِبھلائی کاlil'khayriمُعْتَدٍحد سے بڑھنے والاmuʿ'tadinأَثِيمٍگناہ گارathīmin١٢
بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے،
۶۸:۱۳
عُتُلٍّۭبدمزاجʿutullinبَعْدَبعدbaʿdaذَٰلِكَاس کےdhālikaزَنِيمٍبداصل بھی ہےzanīmin١٣
اور اِن سب عیوب کے ساتھ  بد اصل ہے،
۶۸:۱۴
أَنکہ ہےanكَانَوہkānaذَاوالاdhāمَالٍۢمالmālinوَبَنِينَاور بیٹوں والاwabanīna١٤
اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے۔
۶۸:۱۵
إِذَاجبidhāتُتْلَىٰپڑھی جاتی ہیںtut'lāعَلَيْهِاس پرʿalayhiءَايَـٰتُنَاہماری آیاتāyātunāقَالَکہتا ہےqālaأَسَـٰطِيرُکہانیاں ہیںasāṭīruٱلْأَوَّلِينَپہلوں کیl-awalīna١٥
جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں
۶۸:۱۶
سَنَسِمُهُۥعنقریب ہم داغ دیں گے اس کو۔ داغ لگائیں گے اس کوsanasimuhuعَلَىاوپرʿalāٱلْخُرْطُومِناک کےl-khur'ṭūmi١٦
عنقریب ہم اُس کی سُونڈ پر داغ لگائیں گے۔
۶۸:۱۷
إِنَّابیشک ہم نےinnāبَلَوْنَـٰهُمْآزمائش میں ڈالا ہم نے ان کوbalawnāhumكَمَاجیسا کہkamāبَلَوْنَآآزمایا ہم نےbalawnāأَصْحَـٰبَوالوں کوaṣḥābaٱلْجَنَّةِباغl-janatiإِذْجبidhأَقْسَمُوا۟انہوں نے قسم کھائیaqsamūلَيَصْرِمُنَّهَاالبتہ ضرور کاٹ لیں گے اس کوlayaṣrimunnahāمُصْبِحِينَصبح سویرےmuṣ'biḥīna١٧
ہم نے اِن (اہلِ مکّہ)کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش  میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کے صبح و سویرے  ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے
۶۸:۱۸
وَلَااور نہwalāيَسْتَثْنُونَوہ استثناء کررہے تھےyastathnūna١٨
اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔
۶۸:۱۹
فَطَافَتو پھر گیاfaṭāfaعَلَيْهَااس پرʿalayhāطَآئِفٌۭایک پھرنے والاṭāifunمِّنطرف سےminرَّبِّكَتیرے رب کیrabbikaوَهُمْاور وہwahumنَآئِمُونَسو رہے تھےnāimūna١٩
رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی
۶۸:۲۰
فَأَصْبَحَتْتو ہوگیا وہ باغfa-aṣbaḥatكَٱلصَّرِيمِجڑکٹا۔ مانند جڑ کئے کےkal-ṣarīmi٢٠
اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو
۶۸:۲۱
فَتَنَادَوْا۟تو ایک دوسرے کو پکارے لگےfatanādawمُصْبِحِينَصبح سویرےmuṣ'biḥīna٢١
صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا
۶۸:۲۲
أَنِکہaniٱغْدُوا۟چلوigh'dūعَلَىٰپرʿalāحَرْثِكُمْاپنے کھیتḥarthikumإِناگرinكُنتُمْہو تمkuntumصَـٰرِمِينَکاٹنے والےṣārimīna٢٢
کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے  اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔
۶۸:۲۳
فَٱنطَلَقُوا۟تو وہ چل دئیےfa-inṭalaqūوَهُمْاور وہwahumيَتَخَـٰفَتُونَچپکے چپکے باتیں کررہے تھےyatakhāfatūna٢٣
چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
۶۸:۲۴
أَنکہanلَّانہیںيَدْخُلَنَّهَاداخل ہوگا اس پرyadkhulannahāٱلْيَوْمَآجl-yawmaعَلَيْكُمتم پرʿalaykumمِّسْكِينٌۭکوئی مسکینmis'kīnun٢٤
کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے
۶۸:۲۵
وَغَدَوْا۟اور وہ صبح سویرے گئےwaghadawعَلَىٰاوپرʿalāحَرْدٍۢبخیلی کے۔ بخل کرتے ہوئےḥardinقَـٰدِرِينَجیسا کہ قدرت رکھنے والے ہوںqādirīna٢٥
وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر)قادر ہیں
۶۸:۲۶
فَلَمَّاتو جبfalammāرَأَوْهَاانہوں نے دیکھا اس کوra-awhāقَالُوٓا۟کہنے لگےqālūإِنَّابیشک ہمinnāلَضَآلُّونَالبتہ بھٹک گئے ہیںlaḍāllūna٢٦
مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں
۶۸:۲۷
بَلْ(نہیں) بلکہbalنَحْنُہمnaḥnuمَحْرُومُونَمحروم کردئیے گئے ہیںmaḥrūmūna٢٧
نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے۔“
۶۸:۲۸
قَالَبولاqālaأَوْسَطُهُمْان کا درمیانہ۔ ان کا بہتر شخصawsaṭuhumأَلَمْکیا نہیںalamأَقُلمیں نے کہا تھاaqulلَّكُمْتم سےlakumلَوْلَاکیوں نہیںlawlāتُسَبِّحُونَتم تسبیح کرتےtusabbiḥūna٢٨
اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح  کیوں نہیں کرتے؟“
۶۸:۲۹
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūسُبْحَـٰنَپاک ہےsub'ḥānaرَبِّنَآرب ہماراrabbināإِنَّابیشک ہمinnāكُنَّاتھے ہمkunnāظَـٰلِمِينَظالمẓālimīna٢٩
و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے
۶۸:۳۰
فَأَقْبَلَتو متوجہ ہواfa-aqbalaبَعْضُهُمْان کا بعضbaʿḍuhumعَلَىٰپرʿalāبَعْضٍۢبعضbaʿḍinيَتَلَـٰوَمُونَآپس میں ملامت کرتے ہوئےyatalāwamūna٣٠
پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔
۶۸:۳۱
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰوَيْلَنَآہائے افسوس ہم پرyāwaylanāإِنَّابیشک ہمinnāكُنَّاتھے ہمkunnāطَـٰغِينَسرکشṭāghīna٣١
آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے
۶۸:۳۲
عَسَىٰامید ہے کہʿasāرَبُّنَآہمارا ربrabbunāأَنکہanيُبْدِلَنَابدل کردے ہم کوyub'dilanāخَيْرًۭابہترkhayranمِّنْهَآاس سےmin'hāإِنَّآبیشک ہمinnāإِلَىٰطرفilāرَبِّنَااپنے رب کیrabbināرَٰغِبُونَرغبت کرنے والے ہیںrāghibūna٣٢
بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"
۶۸:۳۳
كَذَٰلِكَاسی طرح ہوتا ہے۔ ایسا ہوتا ہےkadhālikaٱلْعَذَابُ ۖعذابl-ʿadhābuوَلَعَذَابُاور البتہ عذابwalaʿadhābuٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کاl-ākhiratiأَكْبَرُ ۚزیادہ بڑا ہےakbaruلَوْکاشlawكَانُوا۟وہ ہوتےkānūيَعْلَمُونَوہ جانتےyaʿlamūna٣٣
ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے
۶۸:۳۴
إِنَّبیشکinnaلِلْمُتَّقِينَمتقی لوگوں کے لیےlil'muttaqīnaعِندَنزدیکʿindaرَبِّهِمْان کے رب کےrabbihimجَنَّـٰتِباغات ہیںjannātiٱلنَّعِيمِنعمتوں والےl-naʿīmi٣٤
1 یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے ربّ  کے ہاں نعمت بھری جنّتیں ہیں
۶۸:۳۵
أَفَنَجْعَلُکیا بھلا ہم کردیںafanajʿaluٱلْمُسْلِمِينَمسلمانوں کو۔ فرماں بردار کوl-mus'limīnaكَٱلْمُجْرِمِينَمجرموں کی طرحkal-muj'rimīna٣٥
کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟
۶۸:۳۶
مَاکیا ہےلَكُمْتم کوlakumكَيْفَکیسےkayfaتَحْكُمُونَتم فیصلے کرتے ہوtaḥkumūna٣٦
تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟
۶۸:۳۷
أَمْیاamلَكُمْتمہارے لیےlakumكِتَـٰبٌۭکوئی کتابkitābunفِيهِجس میںfīhiتَدْرُسُونَتم پڑھتے ہوtadrusūna٣٧
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو
۶۸:۳۸
إِنَّبیشکinnaلَكُمْتمہارے لیےlakumفِيهِاس میںfīhiلَمَاالبتہ وہ ہے جوlamāتَخَيَّرُونَتم پسند کرو۔ اختیار کروtakhayyarūna٣٨
کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟
۶۸:۳۹
أَمْیاamلَكُمْتمہارے لیےlakumأَيْمَـٰنٌکوئی عہد ہیں۔ قسمیں ہیںaymānunعَلَيْنَاہم پرʿalaynāبَـٰلِغَةٌباقی رہنے والیbālighatunإِلَىٰتکilāيَوْمِدنyawmiٱلْقِيَـٰمَةِ ۙقیامت کےl-qiyāmatiإِنَّبیشکinnaلَكُمْتمہارے لیےlakumلَمَاالبتہ وہ ہےlamāتَحْكُمُونَجو تم فیصلہ کرو گےtaḥkumūna٣٩
یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟
۶۸:۴۰
سَلْهُمْپوچھو ان سےsalhumأَيُّهُمکون سا ان میں سےayyuhumبِذَٰلِكَساتھ اس کےbidhālikaزَعِيمٌضامن ہےzaʿīmun٤٠
اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟
۶۸:۴۱
أَمْیاamلَهُمْان کے لیےlahumشُرَكَآءُکچھ شریک ہیںshurakāuفَلْيَأْتُوا۟پس چاہیے کہ لے آئیںfalyatūبِشُرَكَآئِهِمْاپنے شریکوں کوbishurakāihimإِناگرinكَانُوا۟ہیں وہkānūصَـٰدِقِينَسچےṣādiqīna٤١
یا پھر اِن کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں(جنہوں نے اِس کا ذمّہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں۔
۶۸:۴۲
يَوْمَجس دنyawmaيُكْشَفُکھول دیاجائے گاyuk'shafuعَنسےʿanسَاقٍۢپنڈلیsāqinوَيُدْعَوْنَاور وہ بلائے جائیں گےwayud'ʿawnaإِلَىطرفilāٱلسُّجُودِسجدوں کےl-sujūdiفَلَاتو نہfalāيَسْتَطِيعُونَوہ استطاعت رکھتے ہوں گےyastaṭīʿūna٤٢
جس روز سخت وقت آپڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا  تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے
۶۸:۴۳
خَـٰشِعَةًنیچی ہوں گیkhāshiʿatanأَبْصَـٰرُهُمْان کی نگاہیںabṣāruhumتَرْهَقُهُمْچھا رہی ہوگی ان پرtarhaquhumذِلَّةٌۭ ۖذلتdhillatunوَقَدْاور تحقیقwaqadكَانُوا۟تھے وہkānūيُدْعَوْنَبلائے جاتےyud'ʿawnaإِلَىطرفilāٱلسُّجُودِسجدوں کیl-sujūdiوَهُمْاور وہwahumسَـٰلِمُونَصحیح سلامت تھےsālimūna٤٣
اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذِلّت اِن پر چھا رہی ہوگی۔ یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا(اور یہ انکار کرتے تھے)۔
۶۸:۴۴
فَذَرْنِىپس چھوڑدو مجھ کوfadharnīوَمَناور جو کوئیwamanيُكَذِّبُجھٹلاتا ہےyukadhibuبِهَـٰذَااسbihādhāٱلْحَدِيثِ ۖبات کوl-ḥadīthiسَنَسْتَدْرِجُهُمعنقریب ہم آہستہ آہستہ کھینچیں گے ان کوsanastadrijuhumمِّنْسےminحَيْثُجہاںḥaythuلَانہيَعْلَمُونَوہ جانتے ہوں گےyaʿlamūna٤٤
پس اے نبیؐ ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔ ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہو گی۔
۶۸:۴۵
وَأُمْلِىاور میں ڈھیل دے رہا ہوںwa-um'līلَهُمْ ۚان کے لیےlahumإِنَّبیشکinnaكَيْدِىمیری چالkaydīمَتِينٌبہت پختہ ہےmatīnun٤٥
میں اِن کی رسّی دراز کر رہا ہوں ، میری چال بڑی زبردست ہے
۶۸:۴۶
أَمْیاamتَسْـَٔلُهُمْتم سوال کرتے ہو ان سےtasaluhumأَجْرًۭاکسی اجر کاajranفَهُمتو وہfahumمِّنسےminمَّغْرَمٍۢتاوانmaghraminمُّثْقَلُونَدبے جاتے ہوںmuth'qalūna٤٦
کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چَٹّی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں؟
۶۸:۴۷
أَمْیاamعِندَهُمُان کے پاسʿindahumuٱلْغَيْبُکوئی غیب ہےl-ghaybuفَهُمْتو وہfahumيَكْتُبُونَلکھ رہے ہیںyaktubūna٤٧
کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟
۶۸:۴۸
فَٱصْبِرْپس صبر کروfa-iṣ'birلِحُكْمِحکم کے لیےliḥuk'miرَبِّكَاپنے رب کےrabbikaوَلَااور نہwalāتَكُنتم ہوtakunكَصَاحِبِمانند والے کےkaṣāḥibiٱلْحُوتِمچھلیl-ḥūtiإِذْجبidhنَادَىٰاس نے پکاراnādāوَهُوَاور وہwahuwaمَكْظُومٌۭغم سے بھرا ہوا تھاmakẓūmun٤٨
پس اپنے ربّ کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونسؑ)کی طرح نہ ہو جاوٴ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہو۱ تھا۔
۶۸:۴۹
لَّوْلَآاگر نہ ہوتی یہ باتlawlāأَنکہanتَدَٰرَكَهُۥپالیا اس کوtadārakahuنِعْمَةٌۭایک نعمت نےniʿ'matunمِّنسےminرَّبِّهِۦاس کے رب کی طرفrabbihiلَنُبِذَالبتہ پھینک دیا جاتاlanubidhaبِٱلْعَرَآءِچٹیل میدان میںbil-ʿarāiوَهُوَاور وہwahuwaمَذْمُومٌۭمذموم ہوتاmadhmūmun٤٩
اگر اس کے ربّ کی مہربانی اُس کے شاملِ حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموُم ہو کر چَٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا۔
۶۸:۵۰
فَٱجْتَبَـٰهُتو چن لیا اس کوfa-ij'tabāhuرَبُّهُۥاس کے رب نےrabbuhuفَجَعَلَهُۥتو بنادیا اس کوfajaʿalahuمِنَمیں سےminaٱلصَّـٰلِحِينَصالح لوگوںl-ṣāliḥīna٥٠
آخرکار اُس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اِسے صالح بندوں میں شامل کر دیا
۶۸:۵۱
وَإِناور بیشکwa-inيَكَادُقریب ہے کہyakāduٱلَّذِينَوہ لوگalladhīnaكَفَرُوا۟جنہوں نے کفر کیاkafarūلَيُزْلِقُونَكَالبتہ پھیلا دیں گے آپ کوlayuz'liqūnakaبِأَبْصَـٰرِهِمْاپنی نگاہوں سےbi-abṣārihimلَمَّاجبlammāسَمِعُوا۟وہ سنتے ہیںsamiʿūٱلذِّكْرَذکر کوl-dhik'raوَيَقُولُونَاور وہ کہتے ہیںwayaqūlūnaإِنَّهُۥبیشک وہinnahuلَمَجْنُونٌۭالبتہ مجنون ہےlamajnūnun٥١
جب یہ کافر لوگ کلامِ نصیحت (قرآن)سُنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ  گویا تمہارے قدم اُکھاڑ دیں گے، اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے
۶۸:۵۲
وَمَااور نہیں ہےwamāهُوَوہhuwaإِلَّامگرillāذِكْرٌۭایک نصیحتdhik'runلِّلْعَـٰلَمِينَجہانوں کے لیےlil'ʿālamīna٥٢
حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے