۲۰

طہ

مکی ۱۳۵ آیات پارہ ۱۶
طه

سورہ طہ (طه) قرآن مجید کی ۲۰ ویں سورت ہے — یہ ایک مکی سورت ہے جو ۱۳۵ آیات پر مشتمل ہے۔ مکی سورتیں نبی محمد ﷺ کی مدینہ ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور عموماً ایمان، توحید اور آخرت پر زور دیتی ہیں۔

بسم اللہ
بِسْمِساتھ نامbis'miٱللَّهِاللہ کےl-lahiٱلرَّحْمَـٰنِجو بے حد مہربان ہےl-raḥmāniٱلرَّحِيمِبار بار رحم فرمانے والا ہےl-raḥīmi
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
۲۰:۱
طهط۔ ہtta-ha١
طٰہٰ
۲۰:۲
مَآنہیںأَنزَلْنَانازل کیا ہم نےanzalnāعَلَيْكَآپ پرʿalaykaٱلْقُرْءَانَقرآنl-qur'ānaلِتَشْقَىٰٓتاکہ آپ مشکل میں پڑجائیںlitashqā٢
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ
۲۰:۳
إِلَّامگرillāتَذْكِرَةًۭایک نصیحتtadhkiratanلِّمَناس کے لیےlimanيَخْشَىٰجو ڈرتا ہوyakhshā٣
یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔
۲۰:۴
تَنزِيلًۭانازل کردہ ہےtanzīlanمِّمَّنْاس کی طرف سے جس نےmimmanخَلَقَبنایاkhalaqaٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaوَٱلسَّمَـٰوَٰتِاور آسمانوں کوwal-samāwātiٱلْعُلَىبلند (بلند آسمانوں کوl-ʿulā٤
نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو
۲۰:۵
ٱلرَّحْمَـٰنُجو رحمن ہےal-raḥmānuعَلَىپرʿalāٱلْعَرْشِعرش (پر)l-ʿarshiٱسْتَوَىٰوہ مستوی ہےis'tawā٥
وہ رحمٰن(کائنات کے)تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔
۲۰:۶
لَهُۥاس کے لیے ہےlahuمَاجوفِىمیںٱلسَّمَـٰوَٰتِآسمانوں میں ہےl-samāwātiوَمَااور جوwamāفِىمیںٱلْأَرْضِزمین میں ہےl-arḍiوَمَااور جوwamāبَيْنَهُمَاان کے درمیان ہےbaynahumāوَمَااور جوwamāتَحْتَنیچے ہےtaḥtaٱلثَّرَىٰزمین کے۔ مٹی کےl-tharā٦
مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں
۲۰:۷
وَإِناور اگرwa-inتَجْهَرْتم پکار کر کہوtajharبِٱلْقَوْلِبات کوbil-qawliفَإِنَّهُۥتو بیشک وہfa-innahuيَعْلَمُجانتا ہےyaʿlamuٱلسِّرَّراز کوl-siraوَأَخْفَىاور زیادہ خفیہ بات کوwa-akhfā٧
تم چاہے اپنی بات پُکار کر کہو ، وہ تو چُپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی بات بھی جانتا ہے۔
۲۰:۸
ٱللَّهُاللہ تعالیٰal-lahuلَآنہیںإِلَـٰهَکوئی الہ برحقilāhaإِلَّامگرillāهُوَ ۖوہیhuwaلَهُاس کے لیے ہیںlahuٱلْأَسْمَآءُنامl-asmāuٱلْحُسْنَىٰاچھے اچھےl-ḥus'nā٨
وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدانہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔
۲۰:۹
وَهَلْاور کیاwahalأَتَىٰكَآئی تیرے پاسatākaحَدِيثُباتḥadīthuمُوسَىٰٓموسیٰ کیmūsā٩
اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟
۲۰:۱۰
إِذْجبidhرَءَااس نے دیکھاraāنَارًۭاآگ ہےnāranفَقَالَتو کہاfaqālaلِأَهْلِهِاپنے گھروالوں سےli-ahlihiٱمْكُثُوٓا۟ٹھہروum'kuthūإِنِّىٓبیشک میں نےinnīءَانَسْتُپائی ہے۔ دیکھی ہے۔ میں مانوس ہوا ہوںānastuنَارًۭاایک آگ سےnāranلَّعَلِّىٓشاید کہ میںlaʿallīءَاتِيكُملاؤں تمہارے پاسātīkumمِّنْهَااس میں سےmin'hāبِقَبَسٍکوئی شعلہ۔ انگارہbiqabasinأَوْیاawأَجِدُمیں پاؤںajiduعَلَىپرʿalāٱلنَّارِآگ پرl-nāriهُدًۭىکوئی رہنمائیhudan١٠
جب کہ اُس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ”ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آوٴں، یا اس آگ پر مجھے(راستے کے متعلق)کوئی رہنمائی مِل جائے۔“
۲۰:۱۱
فَلَمَّآپھر جبfalammāأَتَىٰهَاوہ آئے اس کے پاسatāhāنُودِىَپکارے گئےnūdiyaيَـٰمُوسَىٰٓاے موسیٰyāmūsā١١
وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!
۲۰:۱۲
إِنِّىٓبیشک میںinnīأَنَا۠میںanāرَبُّكَتیرا رب ہوںrabbukaفَٱخْلَعْپس اتار دوfa-ikh'laʿنَعْلَيْكَ ۖاپنے جوتوں کوnaʿlaykaإِنَّكَبیشک تمinnakaبِٱلْوَادِوادی میں ہوbil-wādiٱلْمُقَدَّسِمقدسl-muqadasiطُوًۭىطوی کی (مقدس وادی میں ہو)ṭuwan١٢
میں ہی تیرا ربّ ہوں، جُوتیاں اُتار دے۔ تُو وادی ِ مقدس طُویٰ میں ہے۔
۲۰:۱۳
وَأَنَااور میں نےwa-anāٱخْتَرْتُكَچن لیا تجھ کوikh'tartukaفَٱسْتَمِعْپس غور سے سنوfa-is'tamiʿلِمَاواسطے اس کے جوlimāيُوحَىٰٓوحی کیا جاتا ہےyūḥā١٣
اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے
۲۰:۱۴
إِنَّنِىٓبیشک میںinnanīأَنَامیں ہیanāٱللَّهُاللہ ہوںl-lahuلَآنہیںإِلَـٰهَکوئی الہ۔ حقilāhaإِلَّآمگرillāأَنَا۠میں ہیanāفَٱعْبُدْنِىپس عبادت کرو میریfa-uʿ'bud'nīوَأَقِمِاور قائم کروwa-aqimiٱلصَّلَوٰةَنمازl-ṣalataلِذِكْرِىٓمیری یاد کے لیےlidhik'rī١٤
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تُو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔
۲۰:۱۵
إِنَّبیشکinnaٱلسَّاعَةَقیامتl-sāʿataءَاتِيَةٌآنے والی ہےātiyatunأَكَادُقریب ہےakāduأُخْفِيهَاکہ میں چھپالوں اس کوukh'fīhāلِتُجْزَىٰتاکہ بدلہ دیاجائےlituj'zāكُلُّہرkulluنَفْسٍۭشخصnafsinبِمَااس کے مطابق جوbimāتَسْعَىٰاس نے کوشش کیtasʿā١٥
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاک ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔
۲۰:۱۶
فَلَاپس نہfalāيَصُدَّنَّكَروکے تجھےyaṣuddannakaعَنْهَااس کے بارے میںʿanhāمَنجوmanلَّانہیںيُؤْمِنُمانتا اس کو۔ جو نہیں ایمان رکھتاyu'minuبِهَااس پرbihāوَٱتَّبَعَاور پیروی کرتا ہےwa-ittabaʿaهَوَىٰهُاپنی خواہش نفس کیhawāhuفَتَرْدَىٰورنہ تو ہلاک ہوجائے گاfatardā١٦
پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا
۲۰:۱۷
وَمَااور کیا ہےwamāتِلْكَیہtil'kaبِيَمِينِكَتیرے دائیں ہاتھ میںbiyamīnikaيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsā١٧
اور اے موسیٰؑ ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“
۲۰:۱۸
قَالَکہاqālaهِىَیہhiyaعَصَاىَمیری لاٹھی ہےʿaṣāyaأَتَوَكَّؤُا۟میں سہارا لیتا ہوںatawakka-uعَلَيْهَااس پرʿalayhāوَأَهُشُّاور میں پتے جھاڑتا ہوںwa-ahushuبِهَااس کے ساتھbihāعَلَىٰپرʿalāغَنَمِىاپنی بکریوں پرghanamīوَلِىَاور میرے لیےwaliyaفِيهَااس میںfīhāمَـَٔارِبُفائدے ہیںmaāribuأُخْرَىٰکچھ دوسرےukh'rā١٨
موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ میری لاٹھی ہے، اِس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اِس سے اپنی بکریوں کے لیے پتّے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اِس سے لیتا ہوں۔“
۲۰:۱۹
قَالَفرمایاqālaأَلْقِهَاڈال دو اس کوalqihāيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsā١٩
فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"
۲۰:۲۰
فَأَلْقَىٰهَاتو اس نے ڈال دیا اس کوfa-alqāhāفَإِذَاتو اچانک ۔ دفعتاfa-idhāهِىَوہhiyaحَيَّةٌۭایک سانپ تھاḥayyatunتَسْعَىٰجو بل کھا رہا تھا۔ دوڑ رہا تھاtasʿā٢٠
اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا
۲۰:۲۱
قَالَفرمایاqālaخُذْهَااس کو پکڑ لوkhudh'hāوَلَااور نہwalāتَخَفْ ۖڈروtakhafسَنُعِيدُهَاعنقریب ہم لوٹا دیں گے اس کوsanuʿīduhāسِيرَتَهَااس کی حالت پرsīratahāٱلْأُولَىٰپہلیl-ūlā٢١
فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی
۲۰:۲۲
وَٱضْمُمْاور ملالوwa-uḍ'mumيَدَكَاپنے ہاتھ کوyadakaإِلَىٰطرفilāجَنَاحِكَاپنے پہلو کے ساتھ۔ اپنے بازو کے ساتھjanāḥikaتَخْرُجْنکلے گاtakhrujبَيْضَآءَسفید۔ روشنbayḍāaمِنْسےminغَيْرِبغیرghayriسُوٓءٍکسی تکلیف کےsūinءَايَةًنشانیāyatanأُخْرَىٰایک دوسریukh'rā٢٢
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ دُوسری نشانی ہے
۲۰:۲۳
لِنُرِيَكَتاکہ ہم دکھا دیںlinuriyakaمِنْسےminءَايَـٰتِنَااپنی نشانیوں میں سےāyātināٱلْكُبْرَىبڑی بڑیl-kub'rā٢٣
اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں
۲۰:۲۴
ٱذْهَبْجاؤidh'habإِلَىٰطرفilāفِرْعَوْنَفرعون کیfir'ʿawnaإِنَّهُۥبیشک اس نےinnahuطَغَىٰسرکشی کیṭaghā٢٤
اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"
۲۰:۲۵
قَالَکہاqālaرَبِّاے میرے ربrabbiٱشْرَحْکھول دےish'raḥلِىمیرے لیےصَدْرِىمیرا سینہṣadrī٢٥
موسیٰؑ نے عرض کیا”پروردگار، میرا سینہ کھول دے،
۲۰:۲۶
وَيَسِّرْاور آسان کردےwayassirلِىٓمیرے لیےأَمْرِىکام میراamrī٢٦
اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے
۲۰:۲۷
وَٱحْلُلْاور کھول دےwa-uḥ'lulعُقْدَةًۭگرہʿuq'datanمِّنکیminلِّسَانِىمیری زبان کیlisānī٢٧
اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے
۲۰:۲۸
يَفْقَهُوا۟کہ وہ سمجھ جائیںyafqahūقَوْلِىمیری بات کوqawlī٢٨
تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں،
۲۰:۲۹
وَٱجْعَلاور بناwa-ij'ʿalلِّىمیرے لیےوَزِيرًۭامددگارwazīranمِّنْسےminأَهْلِىمیرے گھروالوں میں سےahlī٢٩
اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے
۲۰:۳۰
هَـٰرُونَہارون کوhārūnaأَخِىجو میرا بھائی ہےakhī٣٠
ہارون ، جو میرا بھائی ہے۔
۲۰:۳۱
ٱشْدُدْمضبوط کردےush'dudبِهِۦٓاس کے ساتھbihiأَزْرِىقوت میریazrī٣١
اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر
۲۰:۳۲
وَأَشْرِكْهُاور شریک کردے اس کوwa-ashrik'huفِىٓمیںأَمْرِىمیرے کام (میں)amrī٣٢
اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے
۲۰:۳۳
كَىْتاکہkayنُسَبِّحَكَہم تسبیح کریں تیریnusabbiḥakaكَثِيرًۭابہت زیادہkathīran٣٣
تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں
۲۰:۳۴
وَنَذْكُرَكَاور ہم یاد کریں تجھ کوwanadhkurakaكَثِيرًابہت زیادہkathīran٣٤
اور خوب تیرا چرچا کریں
۲۰:۳۵
إِنَّكَبیشک توinnakaكُنتَہے توkuntaبِنَاہم کوbināبَصِيرًۭادیکھنے والاbaṣīran٣٥
تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے"
۲۰:۳۶
قَالَفرمایاqālaقَدْتحقیقqadأُوتِيتَتو دیا گیاūtītaسُؤْلَكَاپنا سوال۔ اپنی تمناsu'lakaيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsā٣٦
فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ
۲۰:۳۷
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadمَنَنَّاانعام کیا ہم نےmanannāعَلَيْكَتجھ پرʿalaykaمَرَّةًدوسری بارmarratanأُخْرَىٰٓدوسری بارukh'rā٣٧
ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔
۲۰:۳۸
إِذْجبidhأَوْحَيْنَآوحی کی تھی ہم نے۔ اشارہ کیا تھا ہم نےawḥaynāإِلَىٰٓطرفilāأُمِّكَتیری ماں کےummikaمَاجويُوحَىٰٓوحی کی جاتی ہےyūḥā٣٨
یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے
۲۰:۳۹
أَنِکہaniٱقْذِفِيهِڈال دے اس کوiq'dhifīhiفِىمیںٱلتَّابُوتِتابوت (میں)l-tābūtiفَٱقْذِفِيهِپھر ڈال دے اس کوfa-iq'dhifīhiفِىمیںٱلْيَمِّدریا (میں)l-yamiفَلْيُلْقِهِپھر ضرور ڈال دے گا اس کوfalyul'qihiٱلْيَمُّدریاl-yamuبِٱلسَّاحِلِساحل پرbil-sāḥiliيَأْخُذْهُلے لے گا اس کو۔ پکڑ لے گا اس کوyakhudh'huعَدُوٌّۭدشمنʿaduwwunلِّىمیراوَعَدُوٌّۭاور دشمنwaʿaduwwunلَّهُۥ ۚاس کاlahuوَأَلْقَيْتُاور میں نے ڈال دیwa-alqaytuعَلَيْكَتجھ پرʿalaykaمَحَبَّةًۭمحبتmaḥabbatanمِّنِّىاپنی طرف سےminnīوَلِتُصْنَعَاور تاکہ تو پرورش کیا جائےwalituṣ'naʿaعَلَىٰپرʿalāعَيْنِىٓمیری نگاہ پر۔ میری نگرانی میںʿaynī٣٩
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے
۲۰:۴۰
إِذْجبidhتَمْشِىٓچلی جارہی تھیtamshīأُخْتُكَتیری بہنukh'tukaفَتَقُولُپھر کہہ رہی تھیfataqūluهَلْکیاhalأَدُلُّكُمْمیں رہنمائی کروں تمہاریadullukumعَلَىٰاوپرʿalāمَناس کے جوmanيَكْفُلُهُۥ ۖکفالت کرے گا اس کیyakfuluhuفَرَجَعْنَـٰكَتو لوٹا دیا ہم نے تجھ کوfarajaʿnākaإِلَىٰٓطرفilāأُمِّكَتیری ماں کی (طرف)ummikaكَىْتاکہkayتَقَرَّٹھنڈی ہوtaqarraعَيْنُهَاآنکھ اس کیʿaynuhāوَلَااور نہwalāتَحْزَنَ ۚوہ غم کرےtaḥzanaوَقَتَلْتَاور تو نے قتل کیا تھاwaqataltaنَفْسًۭاایک جان کوnafsanفَنَجَّيْنَـٰكَتو نجات دی ہم نے تجھ کوfanajjaynākaمِنَسےminaٱلْغَمِّغم (سے)l-ghamiوَفَتَنَّـٰكَاور آزمایا تھا ہم نے تجھ کوwafatannākaفُتُونًۭا ۚآزماناfutūnanفَلَبِثْتَتو تو ٹھہرا رہاfalabith'taسِنِينَکئی سالsinīnaفِىٓمیںأَهْلِوالوںahliمَدْيَنَمدین (والوں میں)madyanaثُمَّپھرthummaجِئْتَآگیا توji'taعَلَىٰپرʿalāقَدَرٍۢاندازے (پر)qadarinيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsā٤٠
یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، "میں تمہیں اُس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟" اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ
۲۰:۴۱
وَٱصْطَنَعْتُكَاور میں نے تجھ کو بنایاwa-iṣ'ṭanaʿtukaلِنَفْسِىاپنی ذات کے لیےlinafsī٤١
میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے
۲۰:۴۲
ٱذْهَبْجاؤidh'habأَنتَتمantaوَأَخُوكَاور تمہارا بھائیwa-akhūkaبِـَٔايَـٰتِىمیری آیات کے ساتھ۔ میری نشانیوں کے ساتھbiāyātīوَلَااور نہwalāتَنِيَاسستی کرنا تم دونوںtaniyāفِىمیںذِكْرِىمیری یاد میں۔ میرے ذکر میںdhik'rī٤٢
جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ ا ور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا
۲۰:۴۳
ٱذْهَبَآدونوں جاؤidh'habāإِلَىٰطرفilāفِرْعَوْنَفرعون کیfir'ʿawnaإِنَّهُۥبیشک اس نےinnahuطَغَىٰسرکشی کیṭaghā٤٣
جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے
۲۰:۴۴
فَقُولَاپس کہو دونوںfaqūlāلَهُۥاس کوlahuقَوْلًۭاباتqawlanلَّيِّنًۭانرمlayyinanلَّعَلَّهُۥشاید کہ وہlaʿallahuيَتَذَكَّرُنصیحت پکڑےyatadhakkaruأَوْیاawيَخْشَىٰڈر جائےyakhshā٤٤
اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کے وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔“
۲۰:۴۵
قَالَادونوں کہنے لگےqālāرَبَّنَآاے ہمارے ربrabbanāإِنَّنَابیشک ہمinnanāنَخَافُڈرتے ہیںnakhāfuأَنکہanيَفْرُطَوہ زیادتی کرے گاyafruṭaعَلَيْنَآہم پرʿalaynāأَوْیاawأَنیہ کہanيَطْغَىٰوہ سرکشی کرے گاyaṭghā٤٥
دونوں نے عرض کیا”پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پِل پڑے گا۔“
۲۰:۴۶
قَالَفرمایاqālaلَانہتَخَافَآ ۖتم دونوں ڈروtakhāfāإِنَّنِىبیشک میںinnanīمَعَكُمَآتم دونوں کے ساتھ ہوںmaʿakumāأَسْمَعُمیں سنتا ہوںasmaʿuوَأَرَىٰاور میں دیکھتا ہوںwa-arā٤٦
فرمایا " ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سُن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں
۲۰:۴۷
فَأْتِيَاهُپس آؤ اس کے پاسfatiyāhuفَقُولَآپھر کہوfaqūlāإِنَّابیشک ہمinnāرَسُولَارسول ہیںrasūlāرَبِّكَتیرے رب کےrabbikaفَأَرْسِلْپس بھیجfa-arsilمَعَنَاہمارے ساتھmaʿanāبَنِىٓبنیbanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل کوis'rāīlaوَلَااور نہwalāتُعَذِّبْهُمْ ۖعذاب دے ان کوtuʿadhib'humقَدْتحقیقqadجِئْنَـٰكَلائے ہیں ہم تیرے پاسji'nākaبِـَٔايَةٍۢایک نشانیbiāyatinمِّنسےminرَّبِّكَ ۖتیرے رب کی طرف سےrabbikaوَٱلسَّلَـٰمُاور سلامwal-salāmuعَلَىٰپرʿalāمَنِجوmaniٱتَّبَعَپیروی کرےittabaʿaٱلْهُدَىٰٓہدایت کیl-hudā٤٧
جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے
۲۰:۴۸
إِنَّابیشک ہمinnāقَدْتحقیقqadأُوحِىَوحی کی گئیūḥiyaإِلَيْنَآہماری طرفilaynāأَنَّبیشکannaٱلْعَذَابَعذابl-ʿadhābaعَلَىٰاوپرʿalāمَناس کے جوmanكَذَّبَجھٹلائےkadhabaوَتَوَلَّىٰاور منہ موڑ جائےwatawallā٤٨
ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جُھٹلائے اور منہ موڑے۔“
۲۰:۴۹
قَالَاس نے کہاqālaفَمَنپھر کون ہےfamanرَّبُّكُمَاتم دونوں کا ربrabbukumāيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsā٤٩
فرعون نے کہا”اچھا، تو پھر تم دونوں کا ربّ کو ن ہے اے موسیٰ؟“
۲۰:۵۰
قَالَکہاqālaرَبُّنَاہمارا ربrabbunāٱلَّذِىٓوہ ذات ہےalladhīأَعْطَىٰجس نے عطا کیaʿṭāكُلَّہرkullaشَىْءٍچیز کوshayinخَلْقَهُۥاس کی شکل و صورتkhalqahuثُمَّپھرthummaهَدَىٰرہنمائی کیhadā٥٠
موسیٰؑ نے جواب دیا”ہمارا ربّ وہ ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا۔“
۲۰:۵۱
قَالَکہاqālaفَمَاپس کیاfamāبَالُحال ہےbāluٱلْقُرُونِقوموں کاl-qurūniٱلْأُولَىٰپہلیl-ūlā٥١
فرعون بولا”اور پہلے جو نسلیں گزر چکیں ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی؟“
۲۰:۵۲
قَالَکہاqālaعِلْمُهَاان کا علمʿil'muhāعِندَپاس ہےʿindaرَبِّىمیرے رب کےrabbīفِىمیںكِتَـٰبٍۢ ۖایک کتاب میں ہےkitābinلَّانہیںيَضِلُّغلطی کرتاyaḍilluرَبِّىمیرا ربrabbīوَلَااور نہwalāيَنسَىبھولتا ہےyansā٥٢
موسیٰؑ نے کہا”اُس کا علم میرے ربّ کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے۔ میرا ربّ نہ چُوکتا ہے نہ بھُولتا ہے۔“
۲۰:۵۳
ٱلَّذِىوہ ذاتalladhīجَعَلَجس نے بنایاjaʿalaلَكُمُتمہارے لیےlakumuٱلْأَرْضَزمین کوl-arḍaمَهْدًۭابچھوناmahdanوَسَلَكَاور بنائےwasalakaلَكُمْتمہارے لیےlakumفِيهَااس میںfīhāسُبُلًۭاراستےsubulanوَأَنزَلَاور نازل کیاwa-anzalaمِنَسےminaٱلسَّمَآءِآسمان سےl-samāiمَآءًۭپانیmāanفَأَخْرَجْنَاپھر نکالیں ہم نےfa-akhrajnāبِهِۦٓساتھ اس کےbihiأَزْوَٰجًۭاکئی اقسامazwājanمِّنسےminنَّبَاتٍۢپودوں میںnabātinشَتَّىٰمختلفshattā٥٣
1 وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستےبنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی
۲۰:۵۴
كُلُوا۟کھاؤkulūوَٱرْعَوْا۟اور چراؤwa-ir'ʿawأَنْعَـٰمَكُمْ ۗاپنے مویشیوں کوanʿāmakumإِنَّبیشکinnaفِىمیںذَٰلِكَاس (میں)dhālikaلَـَٔايَـٰتٍۢالبتہ نشانیاں ہیںlaāyātinلِّأُو۟لِىوالوں کے لیےli-ulīٱلنُّهَىٰعقل والوںl-nuhā٥٤
کھاوٴ اور اپنے جانوروں کو بھی چراوٴ۔ یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔
۲۰:۵۵
۞ مِنْهَااس میں سےmin'hāخَلَقْنَـٰكُمْہم نے تم کو پیدا کیاkhalaqnākumوَفِيهَااور اس میںwafīhāنُعِيدُكُمْہم تم کو لوٹائیں گےnuʿīdukumوَمِنْهَااور اسی میں سےwamin'hāنُخْرِجُكُمْہم نکالیں گے تم کوnukh'rijukumتَارَةًایک مرتبہtāratanأُخْرَىٰدوسریukh'rā٥٥
اِس زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ، اِسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔
۲۰:۵۶
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadأَرَيْنَـٰهُدکھائیں ہم نے اس کوaraynāhuءَايَـٰتِنَااپنی نشانیاںāyātināكُلَّهَاساری کی ساریkullahāفَكَذَّبَتو اس نے جھٹلا دیاfakadhabaوَأَبَىٰاور انکار کیاwa-abā٥٦
ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلا گیا اور نہ مانا
۲۰:۵۷
قَالَاس نے کہاqālaأَجِئْتَنَاکیا تو آیا ہے ہمارے پاسaji'tanāلِتُخْرِجَنَاتاکہ تو نہ نکالے ہم کوlitukh'rijanāمِنْسےminأَرْضِنَاہماری زمین سےarḍināبِسِحْرِكَاپنے جادو کے ساتھbisiḥ'rikaيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsā٥٧
کہنے لگا”اے موسیٰؑ ، کیا تُو ہمارے پاس اِس لیے آیا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟
۲۰:۵۸
فَلَنَأْتِيَنَّكَپس البتہ ہم بھی ضرور آئیں گے تیرے پاسfalanatiyannakaبِسِحْرٍۢجادو کے ساتھbisiḥ'rinمِّثْلِهِۦاسی جیسےmith'lihiفَٱجْعَلْتو بنا۔ مقرر کرfa-ij'ʿalبَيْنَنَاہمارے درمیانbaynanāوَبَيْنَكَاور اپنے درمیانwabaynakaمَوْعِدًۭاایک وعدے کا وقت۔ جگہmawʿidanلَّانہیںنُخْلِفُهُۥہم خلاف کریں گے اس سےnukh'lifuhuنَحْنُہمnaḥnuوَلَآاور نہwalāأَنتَتم (کرنا)antaمَكَانًۭاایک جگہmakānanسُوًۭىہموار۔ برابر۔ سیدھیsuwan٥٨
اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویساہی جادو لاتے ہیں طے کر لے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے نہ ہم اِس قرارداد سے پھریں گے نہ تو پھریو کھُلے میدان میں سامنے آ جا"
۲۰:۵۹
قَالَکہاqālaمَوْعِدُكُمْتمہارا مقرر وقتmawʿidukumيَوْمُدن ہےyawmuٱلزِّينَةِجشن کاl-zīnatiوَأَناور یہ کہwa-anيُحْشَرَاکٹھے کیے جائیں گےyuḥ'sharaٱلنَّاسُلوگl-nāsuضُحًۭىدن چڑھےḍuḥan٥٩
موسیٰؑ نے کہا”جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں۔“
۲۰:۶۰
فَتَوَلَّىٰتو پلٹاfatawallāفِرْعَوْنُفرعونfir'ʿawnuفَجَمَعَتو اس نے اکٹھی کیںfajamaʿaكَيْدَهُۥاپنی چالیں۔ ہتھکنڈےkaydahuثُمَّپھرthummaأَتَىٰآگیاatā٦٠
فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آگیا۔
۲۰:۶۱
قَالَکہاqālaلَهُمان کوlahumمُّوسَىٰموسیٰ نےmūsāوَيْلَكُمْافسوس تم پرwaylakumلَامتتَفْتَرُوا۟گھڑوtaftarūعَلَىپرʿalāٱللَّهِاللہ (پر)l-lahiكَذِبًۭاجھوٹkadhibanفَيُسْحِتَكُمتو فنا کردے گا تم کوfayus'ḥitakumبِعَذَابٍۢ ۖعذاب کے ساتھbiʿadhābinوَقَدْاور تحقیقwaqadخَابَنامراد ہواkhābaمَنِجس نےmaniٱفْتَرَىٰگھڑ لیاif'tarā٦١
موسیٰؑ نے (عین موقع پر گروہِ مقابل کو مخاطب کر کے)1 کہا”شامت کے مارو، نہ جھُوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیا ناس کر دے گا۔ جُھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا۔“
۲۰:۶۲
فَتَنَـٰزَعُوٓا۟تو وہ جھگڑنے لگےfatanāzaʿūأَمْرَهُماپنے معاملے میںamrahumبَيْنَهُمْآپس میںbaynahumوَأَسَرُّوا۟اور انہوں نے چپکے چپکے کیwa-asarrūٱلنَّجْوَىٰسرگوشیl-najwā٦٢
یہ سُن کر اُن کے درمیان اختلافِ رائے ہوگیا اور وہ چُپکے چُپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔
۲۰:۶۳
قَالُوٓا۟انہوں نے کہاqālūإِنْیقیناinهَـٰذَٰنِیہ دونوںhādhāniلَسَـٰحِرَٰنِالبتہ جادوگر ہیںlasāḥirāniيُرِيدَانِدونوں چاہتے ہیںyurīdāniأَنکہanيُخْرِجَاكُموہ نکلوا دیں تم کو۔ بےدخل کردیں تم کوyukh'rijākumمِّنْسےminأَرْضِكُمتمہاری زمین سےarḍikumبِسِحْرِهِمَااپنے جادو کے بل پرbisiḥ'rihimāوَيَذْهَبَااور دونوں لے جائیںwayadhhabāبِطَرِيقَتِكُمُتمہارے طریقے کوbiṭarīqatikumuٱلْمُثْلَىٰسب سے مثالیl-muth'lā٦٣
آخر کار کچھ لوگوں نے کہا کہ”1 یہ دونوں تو محض جادُو گر ہیں۔ اِن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی طریقِ زندگی کا خاتمہ کر دیں۔
۲۰:۶۴
فَأَجْمِعُوا۟تو اکٹھی کرلوfa-ajmiʿūكَيْدَكُمْاپنی تدبیریںkaydakumثُمَّپھرthummaٱئْتُوا۟آجاؤi'tūصَفًّۭا ۚصف بنا کرṣaffanوَقَدْاور تحقیقwaqadأَفْلَحَفلاح پا گیاaflaḥaٱلْيَوْمَآجl-yawmaمَنِجوmaniٱسْتَعْلَىٰغالب ہواis'taʿlā٦٤
اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کر لو اور ایکا کر کے میدان میں آوٴ۔ بس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا۔“
۲۰:۶۵
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūيَـٰمُوسَىٰٓاے موسیٰyāmūsāإِمَّآیاimmāأَنیہ کہanتُلْقِىَتم ڈالوtul'qiyaوَإِمَّآاور یاwa-immāأَنیہ کہanنَّكُونَہوں ہمnakūnaأَوَّلَپہلےawwalaمَنْجوmanأَلْقَىٰڈالےalqā٦٥
جادُو گر بولے”موسیٰؑ ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟“
۲۰:۶۶
قَالَکہاqālaبَلْبلکہbalأَلْقُوا۟ ۖتم ڈالوalqūفَإِذَاتو دفعتاfa-idhāحِبَالُهُمْان کی رسیاںḥibāluhumوَعِصِيُّهُمْاور ان کی لاٹھیاںwaʿiṣiyyuhumيُخَيَّلُخیال جاتا تھاyukhayyaluإِلَيْهِاس کی طرفilayhiمِنوجہ سےminسِحْرِهِمْان کے جادو کی (وجہ سے)siḥ'rihimأَنَّهَاکہ بیشک وہannahāتَسْعَىٰدوڑرہی ہیںtasʿā٦٦
موسیٰؑ نے کہا”نہیں، تم ہی پھینکو۔“یکایک اُن کی رسّیاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادُو کے زور سے موسیٰؑ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں،
۲۰:۶۷
فَأَوْجَسَتو چھپایاfa-awjasaفِىمیںنَفْسِهِۦاپنے دل (میں)nafsihiخِيفَةًۭکچھ خوف کوkhīfatanمُّوسَىٰموسیٰ نےmūsā٦٧
اور موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر گیا۔
۲۰:۶۸
قُلْنَاہم نے کہاqul'nāلَامتتَخَفْڈروtakhafإِنَّكَبیشک تمinnakaأَنتَتم ہیantaٱلْأَعْلَىٰاعلی ہوl-aʿlā٦٨
ہم نے کہا "مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا
۲۰:۶۹
وَأَلْقِاور تو ڈالwa-alqiمَاجوفِىمیںيَمِينِكَتمہارے دائیں ہاتھ میں ہےyamīnikaتَلْقَفْنکل جائے گاtalqafمَاجوصَنَعُوٓا۟ ۖانہوں نے بنایا ہےṣanaʿūإِنَّمَابیشک جوinnamāصَنَعُوا۟انہوں نے بنائی ہےṣanaʿūكَيْدُچال ہےkayduسَـٰحِرٍۢ ۖایک جادوگر کیsāḥirinوَلَااور نہیںwalāيُفْلِحُفلاح پاسکتا ہےyuf'liḥuٱلسَّاحِرُایک جادوگرl-sāḥiruحَيْثُجہاں سےḥaythuأَتَىٰآجائےatā٦٩
پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نِگلے جاتا ہے۔ یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادُو گر کا فریب ہے، اور جادُوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، خواہ کسی شان سے وہ آئے۔“
۲۰:۷۰
فَأُلْقِىَتو گرادیے گئےfa-ul'qiyaٱلسَّحَرَةُجادوگرl-saḥaratuسُجَّدًۭاسجدہ میںsujjadanقَالُوٓا۟کہنے لگےqālūءَامَنَّاہم ایمان لائےāmannāبِرَبِّرب پرbirabbiهَـٰرُونَہارون کےhārūnaوَمُوسَىٰاور موسیٰ کےwamūsā٧٠
آخر کو یہی ہوا کہ سارے جادُو گر سجدے میں گِرا دیے گئے اور پُکار اُٹھے”مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسیٰؑ کے ربّ کو۔“
۲۰:۷۱
قَالَکہا (فرعون نے)qālaءَامَنتُمْتم ایمان لے آئےāmantumلَهُۥاس پرlahuقَبْلَاس سے پہلےqablaأَنْکہanءَاذَنَمیں اجازت دوںādhanaلَكُمْ ۖتم کوlakumإِنَّهُۥبیشک وہinnahuلَكَبِيرُكُمُالبتہ بڑا ہے تمہاراlakabīrukumuٱلَّذِىجس نےalladhīعَلَّمَكُمُسکھایا تم کوʿallamakumuٱلسِّحْرَ ۖجادوl-siḥ'raفَلَأُقَطِّعَنَّتو البتہ میں ضرور کاٹ دوں گاfala-uqaṭṭiʿannaأَيْدِيَكُمْتمہارے ہاتھوں کوaydiyakumوَأَرْجُلَكُماور تمہارے پاؤںwa-arjulakumمِّنْسےminخِلَـٰفٍۢمخالف سمت (سے)khilāfinوَلَأُصَلِّبَنَّكُمْاور البتہ میں ضرور سولی چڑھاؤں گا تم کوwala-uṣallibannakumفِىمیںجُذُوعِتنوں میںjudhūʿiٱلنَّخْلِکھجور کےl-nakhliوَلَتَعْلَمُنَّاور البتہ تم ضرور جان لو گےwalataʿlamunnaأَيُّنَآکون ساہم میں سےayyunāأَشَدُّزیادہ سخت ہےashadduعَذَابًۭاعذاب دینے میںʿadhābanوَأَبْقَىٰاور زیادہ دیرپا ہےwa-abqā٧١
فرعون نے کہا”تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گُرو ہے جس نے تمہیں جادُوگری سکھائی تھی۔ اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں۔ پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے 4“ (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ)
۲۰:۷۲
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūلَنہرگز نہlanنُّؤْثِرَكَہم ترجیح دیں گے تجھnu'thirakaعَلَىٰاوپرʿalāمَااس کے جوجَآءَنَاآگیا ہمارے پاسjāanāمِنَسےminaٱلْبَيِّنَـٰتِکھلی نشانیوں میں سےl-bayinātiوَٱلَّذِىاور وہ ذاتwa-alladhīفَطَرَنَا ۖجس نے پیدا کیا ہم کوfaṭaranāفَٱقْضِتو تو فیصلہ کردےfa-iq'ḍiمَآجوأَنتَتوantaقَاضٍ ۖفیصلہ کرنے والا ہےqāḍinإِنَّمَابیشکinnamāتَقْضِىتو فیصلہ کرسکتا ہےtaqḍīهَـٰذِهِاسhādhihiٱلْحَيَوٰةَدنیا کیl-ḥayataٱلدُّنْيَآزندگی کاl-dun'yā٧٢
جادُوگروں نے جواب دیا”قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعدبھی (صداقت پر)تجھے ترجیح دیں۔ تُوجو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ تُو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے
۲۰:۷۳
إِنَّآبیشک ہمinnāءَامَنَّاایمان لائے ہمāmannāبِرَبِّنَااپنے رب پرbirabbināلِيَغْفِرَتاکہ وہ بخشش دےliyaghfiraلَنَاہم کو۔ ہمارے لیےlanāخَطَـٰيَـٰنَاہماری خطائیںkhaṭāyānāوَمَآاور جوwamāأَكْرَهْتَنَاتو نے مجبور کیا ہم کوakrahtanāعَلَيْهِاس پرʿalayhiمِنَسےminaٱلسِّحْرِ ۗجادو کی وجہ سےl-siḥ'riوَٱللَّهُاور اللہwal-lahuخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunوَأَبْقَىٰٓاور زیادہ باقی رہنے والا ہےwa-abqā٧٣
ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اس جادوگری سے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، درگزر فرمائے اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے"
۲۰:۷۴
إِنَّهُۥبیشک وہinnahuمَنجوmanيَأْتِآئے گاyatiرَبَّهُۥاپنے رب کے پاسrabbahuمُجْرِمًۭامجرم ہو کرmuj'rimanفَإِنَّتو بیشکfa-innaلَهُۥاس کے لیےlahuجَهَنَّمَجہنم ہےjahannamaلَانہيَمُوتُوہ مرے گاyamūtuفِيهَااس میںfīhāوَلَااور نہwalāيَحْيَىٰزندہ رہے گاyaḥyā٧٤
حقیقت یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہو گا اُس کے لیے جہنّم ہے جس میں وہ نہ جیے گا  نہ مرے گا۔
۲۰:۷۵
وَمَناور جوwamanيَأْتِهِۦآئے گا اس کے پاسyatihiمُؤْمِنًۭامومن ہو کر۔ ایمان لا کرmu'minanقَدْتحقیقqadعَمِلَاس نے عمل کیےʿamilaٱلصَّـٰلِحَـٰتِاچھےl-ṣāliḥātiفَأُو۟لَـٰٓئِكَتو یہی لوگfa-ulāikaلَهُمُان کے لیے ہیںlahumuٱلدَّرَجَـٰتُدرجاتl-darajātuٱلْعُلَىٰبلندl-ʿulā٧٥
اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہو گا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں
۲۰:۷۶
جَنَّـٰتُباغاتjannātuعَدْنٍۢہمیشہ کےʿadninتَجْرِىبہتی ہیںtajrīمِنسےminتَحْتِهَاان کے نیچےtaḥtihāٱلْأَنْهَـٰرُنہریںl-anhāruخَـٰلِدِينَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidīnaفِيهَا ۚاس میںfīhāوَذَٰلِكَاور یہwadhālikaجَزَآءُہے بدلہjazāuمَنجس نےmanتَزَكَّىٰپاکیزگی اختیار کیtazakkā٧٦
سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے
۲۰:۷۷
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadأَوْحَيْنَآوحی کی ہم نےawḥaynāإِلَىٰطرفilāمُوسَىٰٓموسیٰ کی (طرف)mūsāأَنْکہanأَسْرِلے چل راتوں راتasriبِعِبَادِىمیرے بندوں کوbiʿibādīفَٱضْرِبْپھر مار۔ بناfa-iḍ'ribلَهُمْان کے لیےlahumطَرِيقًۭاایک راستہṭarīqanفِىمیںٱلْبَحْرِسمندر میںl-baḥriيَبَسًۭاسوکھا۔ خشکyabasanلَّانہتَخَـٰفُتجھے خوف ہوگاtakhāfuدَرَكًۭاپالینے کاdarakanوَلَااور نہwalāتَخْشَىٰتو ڈرے گاtakhshā٧٧
ہم نے موسیٰؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور اُن کے لیے سمندر میں سے سُوکھی سڑک بنالے ، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے)ڈر لگے
۲۰:۷۸
فَأَتْبَعَهُمْتو پیچھے آیا ان کےfa-atbaʿahumفِرْعَوْنُفرعونfir'ʿawnuبِجُنُودِهِۦاپنے لشکروں کے ساتھbijunūdihiفَغَشِيَهُمتو ڈھانپ لیا ان کوfaghashiyahumمِّنَسےminaٱلْيَمِّسمندر میں (سے)l-yamiمَاجس چیز نےغَشِيَهُمْڈھانپ لیا ان کوghashiyahum٧٨
پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا، اور پھر سمندر اُن پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔
۲۰:۷۹
وَأَضَلَّاور بھٹکا دیاwa-aḍallaفِرْعَوْنُفرعون نےfir'ʿawnuقَوْمَهُۥاپنی قوم کوqawmahuوَمَااور نہwamāهَدَىٰراستہ دکھایا۔ نہ رہنمائی کیhadā٧٩
فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔
۲۰:۸۰
يَـٰبَنِىٓاے بنیyābanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیلis'rāīlaقَدْتحقیقqadأَنجَيْنَـٰكُمنجات دی ہم نے تم کوanjaynākumمِّنْسےminعَدُوِّكُمْتمہارے دشمن سےʿaduwwikumوَوَٰعَدْنَـٰكُمْاور وعدہ دیا ہم نے تم کو۔ وقت مقرر کیا ہم نے تمہارے لیےwawāʿadnākumجَانِبَجانبjānibaٱلطُّورِطور کیl-ṭūriٱلْأَيْمَنَدائیںl-aymanaوَنَزَّلْنَااور نازل کیا ہم نےwanazzalnāعَلَيْكُمُتم پرʿalaykumuٱلْمَنَّمنl-manaوَٱلسَّلْوَىٰاور سلویwal-salwā٨٠
1 اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من و سلویٰ اُتارا 4۔
۲۰:۸۱
كُلُوا۟کھاؤkulūمِنسےminطَيِّبَـٰتِپاکیزہ چیزوں میں سےṭayyibātiمَاجورَزَقْنَـٰكُمْرزق دیں ہم نے تم کوrazaqnākumوَلَااور نہwalāتَطْغَوْا۟سرکشی کروtaṭghawفِيهِاس میںfīhiفَيَحِلَّورنہ ٹوٹ پڑے گا۔ اتر آئے گاfayaḥillaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumغَضَبِى ۖمیرا غضبghaḍabīوَمَناور جو کہwamanيَحْلِلْنازل ہواyaḥlilعَلَيْهِاس پرʿalayhiغَضَبِىمیرا غضبghaḍabīفَقَدْتو تحقیقfaqadهَوَىٰوہ ہلاک ہوگیاhawā٨١
کھاؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا
۲۰:۸۲
وَإِنِّىاور بیشک میںwa-innīلَغَفَّارٌۭالبتہ بہت بخشنے والا ہوںlaghaffārunلِّمَنواسطے اس کےlimanتَابَجس نے توبہ کیtābaوَءَامَنَاور وہ ایمان لایاwaāmanaوَعَمِلَاور اس نے عمل کیےwaʿamilaصَـٰلِحًۭااچھےṣāliḥanثُمَّپھرthummaٱهْتَدَىٰراہ پائی۔ ہدایت پائیih'tadā٨٢
البتہ جو توبہ کر لےاور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔
۲۰:۸۳
۞ وَمَآاور کیا چیزwamāأَعْجَلَكَلائی تجھ کوaʿjalakaعَنسےʿanقَوْمِكَتیری قوم سےqawmikaيَـٰمُوسَىٰاے موسیٰyāmūsā٨٣
1 اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰؑ ؟
۲۰:۸۴
قَالَکہاqālaهُمْوہhumأُو۟لَآءِلوگulāiعَلَىٰٓپرʿalāأَثَرِىمیرے نقش قدم پر ہیںatharīوَعَجِلْتُاور میں نے جلدی کیwaʿajil'tuإِلَيْكَتیری طرفilaykaرَبِّاے میرے ربrabbiلِتَرْضَىٰتاکہ تو راضی ہوجائےlitarḍā٨٤
اُس نے عرض کیا " وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں میں جلدی کر کے تیرے حضور آ گیا ہوں اے میرے رب، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے"
۲۰:۸۵
قَالَکہاqālaفَإِنَّاپس بیشک ہم نےfa-innāقَدْتحقیقqadفَتَنَّاآزمایا ہم نےfatannāقَوْمَكَتیری قوم کوqawmakaمِنۢسےminبَعْدِكَتیرے بعدbaʿdikaوَأَضَلَّهُمُاور بھٹکا دیا ان کوwa-aḍallahumuٱلسَّامِرِىُّسامری نےl-sāmiriyu٨٥
فرمایا”اچھا، تو سُنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں دال دیا اور سامری نے اُنہیں گمراہ کر ڈالا۔“
۲۰:۸۶
فَرَجَعَتو پلٹےfarajaʿaمُوسَىٰٓموسیٰmūsāإِلَىٰطرفilāقَوْمِهِۦاپنی قوم کی طرفqawmihiغَضْبَـٰنَغصے میںghaḍbānaأَسِفًۭا ۚغم لیے ہوئےasifanقَالَکہاqālaيَـٰقَوْمِاے میری قومyāqawmiأَلَمْکیا نہیںalamيَعِدْكُمْوعدہ کیا تھا تم سےyaʿid'kumرَبُّكُمْتمہارے رب نےrabbukumوَعْدًاوعدہwaʿdanحَسَنًا ۚاچھاḥasananأَفَطَالَپھر لمبا ہوگیاafaṭālaعَلَيْكُمُتم پرʿalaykumuٱلْعَهْدُزمانہl-ʿahduأَمْیاamأَرَدتُّمْارادہ کیا تم نے۔ چاہا تم نےaradttumأَنکہanيَحِلَّاترےyaḥillaعَلَيْكُمْتم پرʿalaykumغَضَبٌۭکوئی غضبghaḍabunمِّنسےminرَّبِّكُمْتمہارے رب کی طرف سےrabbikumفَأَخْلَفْتُمتو خلاف کیا تم نےfa-akhlaftumمَّوْعِدِىمیرے وعدے کاmawʿidī٨٦
موسیٰؑ سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جا کر اُس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے ربّ نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ یا تم اپنے ربّ کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟“
۲۰:۸۷
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūمَآنہیںأَخْلَفْنَاخلاف کیا ہم نےakhlafnāمَوْعِدَكَتیرا وعدہmawʿidakaبِمَلْكِنَااپنے اختیار سےbimalkināوَلَـٰكِنَّابلکہ ہمwalākinnāحُمِّلْنَآاٹھوائے گئے ہمḥummil'nāأَوْزَارًۭابوجھawzāranمِّنسےminزِينَةِزیورات میں سےzīnatiٱلْقَوْمِقوم کےl-qawmiفَقَذَفْنَـٰهَاتو پھینک دیا ہم نے ان کوfaqadhafnāhāفَكَذَٰلِكَپھر اسی طرحfakadhālikaأَلْقَىڈال دیاalqāٱلسَّامِرِىُّسامری نےl-sāmiriyu٨٧
انہوں نے جواب دیا”ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا“ 1۔۔۔۔ پھر اِسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا
۲۰:۸۸
فَأَخْرَجَتو اس نے نکالاfa-akhrajaلَهُمْان کے لیےlahumعِجْلًۭاایک بچھڑاʿij'lanجَسَدًۭامجسمjasadanلَّهُۥاس کے لیےlahuخُوَارٌۭگائے کی آواز تھیkhuwārunفَقَالُوا۟تو انہوں نے کہاfaqālūهَـٰذَآیہhādhāإِلَـٰهُكُمْتمہارا الہ ہےilāhukumوَإِلَـٰهُاور الہwa-ilāhuمُوسَىٰاور موسیٰ کاmūsāفَنَسِىَتو وہ بھول گیاfanasiya٨٨
اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی لوگ پکار اٹھے "یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا"
۲۰:۸۹
أَفَلَاکیا پھر نہیںafalāيَرَوْنَوہ دیکھتےyarawnaأَلَّابیشک نہیںallāيَرْجِعُوہ لوٹاتاyarjiʿuإِلَيْهِمْان کی طرفilayhimقَوْلًۭابات کوqawlanوَلَااور نہیںwalāيَمْلِكُاختیار رکھتاyamlikuلَهُمْان کے لیےlahumضَرًّۭاکسی نقصان کاḍarranوَلَااور نہwalāنَفْعًۭاکسی نفع کاnafʿan٨٩
کیا وہ نہ دیکھتے تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے؟
۲۰:۹۰
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadقَالَکہا تھاqālaلَهُمْان کوlahumهَـٰرُونُہارون نےhārūnuمِنسےminقَبْلُاس سے پہلےqabluيَـٰقَوْمِاے میری قومyāqawmiإِنَّمَابیشکinnamāفُتِنتُمآزمائش میں ڈالے گئے تمfutintumبِهِۦ ۖاس کے ذریعےbihiوَإِنَّاور بیشکwa-innaرَبَّكُمُرب تمہاراrabbakumuٱلرَّحْمَـٰنُرحمن ہےl-raḥmānuفَٱتَّبِعُونِىپس پیروی کرو میریfa-ittabiʿūnīوَأَطِيعُوٓا۟اور اطاعت کروwa-aṭīʿūأَمْرِىمیرے حکم کیamrī٩٠
ہارونؑ (موسیٰؑ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ "لوگو، تم اِس کی وجہ سے فتنے میں پڑ گئے ہو، تمہارا رب تو رحمٰن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو"
۲۰:۹۱
قَالُوا۟انہوں نے کہاqālūلَنہرگز نہlanنَّبْرَحَہم ٹلیں گے۔ ہم ہمیشہ رہیں گےnabraḥaعَلَيْهِاس پرʿalayhiعَـٰكِفِينَجم کر رہنے والےʿākifīnaحَتَّىٰیہاں تک کہḥattāيَرْجِعَلوٹ آئےyarjiʿaإِلَيْنَاہماری طرفilaynāمُوسَىٰموسیٰmūsā٩١
مگر اُنہوں نے اُس سے کہہ دیا کہ”ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰؑ واپس نہ آجائے۔“
۲۰:۹۲
قَالَکہاqālaيَـٰهَـٰرُونُاے ہارونyāhārūnuمَاکس چیز نےمَنَعَكَروکا تجھ کوmanaʿakaإِذْجبidhرَأَيْتَهُمْتم نے دیکھا تھا ان کوra-aytahumضَلُّوٓا۟کہ وہ بھٹک گئے ہیںḍallū٩٢
موسیٰؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارونؑ کی طرف پلٹا اور) بولا "ہارونؑ، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں
۲۰:۹۳
أَلَّاکیوں نہallāتَتَّبِعَنِ ۖپیروی کی تم نے میریtattabiʿaniأَفَعَصَيْتَکیا پھر نافرمانی کی تم نےafaʿaṣaytaأَمْرِىمیرے حکم کیamrī٩٣
تو کس چیز نے  تمہارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟“
۲۰:۹۴
قَالَکہاqālaيَبْنَؤُمَّاے میری ماں کے بیٹےyabna-ummaلَانہتَأْخُذْتم پکڑوtakhudhبِلِحْيَتِىمیری داڑھی کوbiliḥ'yatīوَلَااور نہwalāبِرَأْسِىٓ ۖمیرے سر کوbirasīإِنِّىبیشک میںinnīخَشِيتُڈر گیا تھاkhashītuأَنکہanتَقُولَتم کہو گےtaqūlaفَرَّقْتَتو نے جدائی ڈال دی۔ تفرقہ ڈال دیاfarraqtaبَيْنَدرمیانbaynaبَنِىٓبنیbanīإِسْرَٰٓءِيلَاسرائیل کےis'rāīlaوَلَمْاور نہwalamتَرْقُبْتم نے انتظار کیاtarqubقَوْلِىمیری بات کاqawlī٩٤
ہارونؑ نے جواب دیا”اے میری ماں کے بیٹے، میری ڈاڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تُو آکر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھُوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔“
۲۰:۹۵
قَالَکہاqālaفَمَاتو کیا ہےfamāخَطْبُكَتیرا ماجراkhaṭbukaيَـٰسَـٰمِرِىُّاے سامریyāsāmiriyyu٩٥
موسیٰؑ نے کہا "اور سامری، تیرا کیا معاملہ ہے؟"
۲۰:۹۶
قَالَکہا اس نےqālaبَصُرْتُمیں نے دیکھاbaṣur'tuبِمَاساتھ اس کے جوbimāلَمْنہیںlamيَبْصُرُوا۟انہوں نے دیکھاyabṣurūبِهِۦجس کوbihiفَقَبَضْتُتو میں نے اٹھا لیfaqabaḍtuقَبْضَةًۭایک مٹھیqabḍatanمِّنْسےminأَثَرِنقش قدم سےathariٱلرَّسُولِرسول کےl-rasūliفَنَبَذْتُهَاتو نے ڈال دیا اس کو۔ پھینک دیا اس کوfanabadhtuhāوَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaسَوَّلَتْآسان کردیا تھا - اچھا کر کے دکھایا تھاsawwalatلِىمیرے لیےنَفْسِىمیرے نفس نےnafsī٩٦
اس نے جواب دیا”میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسُول کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی اُٹھا لی اور اُس کو ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سُجھایا۔“
۲۰:۹۷
قَالَکہاqālaفَٱذْهَبْپس جاؤfa-idh'habفَإِنَّتو بیشکfa-innaلَكَتیرے لیےlakaفِىمیںٱلْحَيَوٰةِزندگی میں ہےl-ḥayatiأَنکہanتَقُولَتو کہےtaqūlaلَانہمِسَاسَ ۖچھوناmisāsaوَإِنَّاور بیشکwa-innaلَكَتیرے لیےlakaمَوْعِدًۭاایک وعدے کا وقت مقرر ہےmawʿidanلَّنہرگز نہlanتُخْلَفَهُۥ ۖتو پیچھے چھوڑا جائے گا اس سےtukh'lafahuوَٱنظُرْاور دیکھwa-unẓurإِلَىٰٓطرفilāإِلَـٰهِكَاپنے الہ کےilāhikaٱلَّذِىوہ جوalladhīظَلْتَرہا توẓaltaعَلَيْهِاس پرʿalayhiعَاكِفًۭا ۖمعتکفʿākifanلَّنُحَرِّقَنَّهُۥالبتہ ہم ضرور جلا ڈالیں گے اس کوlanuḥarriqannahuثُمَّپھرthummaلَنَنسِفَنَّهُۥالبتہ ہم ضرور گرا دیں گے اس کو۔ پھینک دیں گے اس کوlanansifannahuفِىمیںٱلْيَمِّسمندر میںl-yamiنَسْفًاگرا دینا۔ پھینک دیناnasfan٩٧
موسیٰؑ نے کہا”اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پُکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھُونا۔ اور تیرے لیے باز پُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا۔ اور دیکھ اپنے اِس خدا کو جس پر تُو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے
۲۰:۹۸
إِنَّمَآبیشکinnamāإِلَـٰهُكُمُالہ تمہاراilāhukumuٱللَّهُاللہ ہےl-lahuٱلَّذِىوہ ذاتalladhīلَآنہیںإِلَـٰهَکوئی الہ برحقilāhaإِلَّامگرillāهُوَ ۚوہیhuwaوَسِعَوسیع ہے۔ چھایا ہوا ہےwasiʿaكُلَّہرkullaشَىْءٍچیز پرshayinعِلْمًۭاعلم کے اعتبار سےʿil'man٩٨
لوگو، تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، ہر چیز پر اُس کا علم حاوی ہے"
۲۰:۹۹
كَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaنَقُصُّہم بیان کرتے ہیںnaquṣṣuعَلَيْكَتجھ پرʿalaykaمِنْسےminأَنۢبَآءِخبروں میں سےanbāiمَاجوقَدْتحقیقqadسَبَقَ ۚگزر چکیںsabaqaوَقَدْاور تحقیقwaqadءَاتَيْنَـٰكَدیا ہم نے تجھ کوātaynākaمِنسےminلَّدُنَّااپنے پاس سےladunnāذِكْرًۭاایک ذکرdhik'ran٩٩
اے محمدؐ، اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سُناتے ہیں، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک”ذِکر“ (درسِ نصیحت)عطا کیا ہے۔
۲۰:۱۰۰
مَّنْجس نےmanأَعْرَضَمنہ موڑاaʿraḍaعَنْهُاس سےʿanhuفَإِنَّهُۥتو بیشک وہfa-innahuيَحْمِلُاٹھائے گاyaḥmiluيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiوِزْرًاایک بوجھwiz'ran١٠٠
جو کوئی اِس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے دن سخت بار گناہ اٹھائے گا
۲۰:۱۰۱
خَـٰلِدِينَہمیشہ رہنے والے ہیںkhālidīnaفِيهِ ۖاس میںfīhiوَسَآءَاور برا ہےwasāaلَهُمْان کے لیےlahumيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiحِمْلًۭابوجھ اٹھاناḥim'lan١٠١
اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے،اور قیامت کے دن اُن کےلیے (اِس جرم کی ذمّہ داری کا بوجھ)بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا،
۲۰:۱۰۲
يَوْمَجس دنyawmaيُنفَخُپھونک ماری جائے گیyunfakhuفِىمیںٱلصُّورِ ۚصور (میں )l-ṣūriوَنَحْشُرُاور ہم اکٹھا کریں گےwanaḥshuruٱلْمُجْرِمِينَمجرموں کوl-muj'rimīnaيَوْمَئِذٍۢاس دنyawma-idhinزُرْقًۭانیلی آنکھوں والےzur'qan١٠٢
اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اِس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے)پتھرائی ہوئی ہوں گی،
۲۰:۱۰۳
يَتَخَـٰفَتُونَسرگوشیاں کریں گےyatakhāfatūnaبَيْنَهُمْآپس میںbaynahumإِننہیںinلَّبِثْتُمْٹھہرے تمlabith'tumإِلَّامگرillāعَشْرًۭادس دنʿashran١٠٣
آپس میں چُپکےچُپکے کہیں گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے
۲۰:۱۰۴
نَّحْنُہمnaḥnuأَعْلَمُزیادہ جانتے ہیںaʿlamuبِمَااس کو جوbimāيَقُولُونَوہ کہیں گےyaqūlūnaإِذْجبidhيَقُولُکہے گاyaqūluأَمْثَلُهُمْسب سے مثالی ان میں سےamthaluhumطَرِيقَةًرائے کے اعتبار سےṭarīqatanإِننہیںinلَّبِثْتُمْٹھہرے تمlabith'tumإِلَّامگرillāيَوْمًۭاایک دنyawman١٠٤
1 ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ)اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی
۲۰:۱۰۵
وَيَسْـَٔلُونَكَاور وہ سوال کرتے ہیں آپ سےwayasalūnakaعَنِبارے میںʿaniٱلْجِبَالِپہاڑوں کے (بارے میں)l-jibāliفَقُلْتو کہہ دیجیےfaqulيَنسِفُهَااکھاڑ دے گا ان کو۔ گرا دے گا ان کوyansifuhāرَبِّىمیرا ربrabbīنَسْفًۭاگرا دیناnasfan١٠٥
1 یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا ربّ ان کو دُھول بنا کر اُڑا دے گا
۲۰:۱۰۶
فَيَذَرُهَاپھر چھوڑ دے گا اس کوfayadharuhāقَاعًۭاہموارqāʿanصَفْصَفًۭاچٹیلṣafṣafan١٠٦
اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا
۲۰:۱۰۷
لَّانہتَرَىٰتم دیکھو گےtarāفِيهَااس میںfīhāعِوَجًۭاکوئی ٹیڑھا پن۔ کجیʿiwajanوَلَآاور نہwalāأَمْتًۭااونچی جگہ۔ اونچا مقامamtan١٠٧
کہ اس میں تم کوئی بَل اور سَلوَٹ نہ دیکھو گے
۲۰:۱۰۸
يَوْمَئِذٍۢجس دنyawma-idhinيَتَّبِعُونَوہ پیروی کریں گےyattabiʿūnaٱلدَّاعِىَپکارنے والے کیl-dāʿiyaلَانہیںعِوَجَکوئی انحرافʿiwajaلَهُۥ ۖجس کے لیےlahuوَخَشَعَتِاور دب جائیں گیwakhashaʿatiٱلْأَصْوَاتُتمام آوازیںl-aṣwātuلِلرَّحْمَـٰنِرحمن کے لیےlilrraḥmāniفَلَاتو نہfalāتَسْمَعُتم سنو گےtasmaʿuإِلَّامگرillāهَمْسًۭادھیمی آوازhamsan١٠٨
اُس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سُنو گے
۲۰:۱۰۹
يَوْمَئِذٍۢاس دنyawma-idhinلَّانہتَنفَعُفائدہ دے گیtanfaʿuٱلشَّفَـٰعَةُسفارشl-shafāʿatuإِلَّامگرillāمَنْجس کوmanأَذِنَاجازت دےadhinaلَهُواسطے اس کےlahuٱلرَّحْمَـٰنُرحمنl-raḥmānuوَرَضِىَاور پسند کرےwaraḍiyaلَهُۥاس کے لیےlahuقَوْلًۭابات کوqawlan١٠٩
اُس روز شفاعت  کار گر نہ ہوگی اِلّا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اس کی بات سُننا پسند کرے
۲۰:۱۱۰
يَعْلَمُجانتا ہےyaʿlamuمَاجوبَيْنَسامنےbaynaأَيْدِيهِمْان کے سامنے ہے۔ ان کے آگے ہےaydīhimوَمَااور جوwamāخَلْفَهُمْان کے پیچھے ہےkhalfahumوَلَااور نہیںwalāيُحِيطُونَوہ احاطہ کرسکتےyuḥīṭūnaبِهِۦاس کاbihiعِلْمًۭاعلم کے اعتبار سےʿil'man١١٠
وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے
۲۰:۱۱۱
۞ وَعَنَتِاور جھک جائیں گےwaʿanatiٱلْوُجُوهُچہرےl-wujūhuلِلْحَىِّحی کے لیےlil'ḥayyiٱلْقَيُّومِ ۖقیوم کے لیے۔ آگےl-qayūmiوَقَدْاور تحقیقwaqadخَابَنامراد ہواkhābaمَنْجس نےmanحَمَلَاٹھایاḥamalaظُلْمًۭاظلمẓul'man١١١
لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جھک جائیں گے نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو
۲۰:۱۱۲
وَمَناور جوwamanيَعْمَلْعمل کرے گاyaʿmalمِنَسےminaٱلصَّـٰلِحَـٰتِنیکیوں میں (سے)l-ṣāliḥātiوَهُوَاور وہwahuwaمُؤْمِنٌۭمومن ہوmu'minunفَلَاتو نہfalāيَخَافُوہ ڈرے گاyakhāfuظُلْمًۭاظلم سےẓul'manوَلَااور نہwalāهَضْمًۭاکسی حق تلفی سےhaḍman١١٢
اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔
۲۰:۱۱۳
وَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaأَنزَلْنَـٰهُنازل کیا ہم نے اس کوanzalnāhuقُرْءَانًاقرآنqur'ānanعَرَبِيًّۭاعربی (بنا کر)ʿarabiyyanوَصَرَّفْنَااور پھیر پھیر کر لائے ہمwaṣarrafnāفِيهِاس میںfīhiمِنَسےminaٱلْوَعِيدِتنبیہات میں سے۔ ڈراؤں میں سےl-waʿīdiلَعَلَّهُمْتاکہ وہlaʿallahumيَتَّقُونَتقوی اختیار کریںyattaqūnaأَوْیاawيُحْدِثُپیدا کردےyuḥ'dithuلَهُمْان کے لیےlahumذِكْرًۭاذکر۔ غور و فکرdhik'ran١١٣
اور اے محمدؐ ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآنِ عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہو کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں۔
۲۰:۱۱۴
فَتَعَـٰلَىپس بلند ہےfataʿālāٱللَّهُاللہl-lahuٱلْمَلِكُبادشاہl-malikuٱلْحَقُّ ۗحقیقیl-ḥaquوَلَااور نہwalāتَعْجَلْتم جلدی کروtaʿjalبِٱلْقُرْءَانِساتھ قرآن کےbil-qur'āniمِنسےminقَبْلِاس سے پہلےqabliأَنکہanيُقْضَىٰٓپوری کی جائےyuq'ḍāإِلَيْكَتیری طرفilaykaوَحْيُهُۥ ۖاس کی وحیwaḥyuhuوَقُلاور کہہ دیجیےwaqulرَّبِّاے میرے ربrabbiزِدْنِىزیادہ دے مجھ کوzid'nīعِلْمًۭاعلمʿil'man١١٤
پس بالا و برتر ہے اللہ ، پادشاہِ حقیقی۔ اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے، اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے  مزید علم عطا کر۔
۲۰:۱۱۵
وَلَقَدْاور البتہ تحقیقwalaqadعَهِدْنَآعہد کیا ہم نےʿahid'nāإِلَىٰٓطرفilāءَادَمَآدم کےādamaمِنسےminقَبْلُاس سے پہلےqabluفَنَسِىَتو وہ بھول گیاfanasiyaوَلَمْاور نہیںwalamنَجِدْپایا ہم نےnajidلَهُۥاس کے لیےlahuعَزْمًۭاعزم۔ پختگیʿazman١١٥
1 ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، مگر وہ بھُول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا۔
۲۰:۱۱۶
وَإِذْاور جبwa-idhقُلْنَاکہا ہم نےqul'nāلِلْمَلَـٰٓئِكَةِفرشتوں سےlil'malāikatiٱسْجُدُوا۟سجدہ کروus'judūلِـَٔادَمَآدم کے لیےliādamaفَسَجَدُوٓا۟تو انہوں نے سجدہ کیاfasajadūإِلَّآمگرillāإِبْلِيسَابلیس نےib'līsaأَبَىٰاس نے انکار کیاabā١١٦
یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا
۲۰:۱۱۷
فَقُلْنَاتو کہا ہم نےfaqul'nāيَـٰٓـَٔادَمُاے آدمyāādamuإِنَّبیشکinnaهَـٰذَایہhādhāعَدُوٌّۭدشمن ہےʿaduwwunلَّكَتیرے لیےlakaوَلِزَوْجِكَاور تیری بیوی کے لیےwalizawjikaفَلَاپس نہfalāيُخْرِجَنَّكُمَاہرگز نکلوائے تم دونوں کوyukh'rijannakumāمِنَسےminaٱلْجَنَّةِجنت سےl-janatiفَتَشْقَىٰٓورنہ تم مصیبت میں پڑجاؤ گےfatashqā١١٧
اس پر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ ”دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاو
۲۰:۱۱۸
إِنَّبیشکinnaلَكَتمہارے لیےlakaأَلَّاکہ نہallāتَجُوعَتم بھوکے رہو گےtajūʿaفِيهَااس میںfīhāوَلَااور نہwalāتَعْرَىٰننگے ہوں گے۔ عریاں ہوگےtaʿrā١١٨
یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو
۲۰:۱۱۹
وَأَنَّكَاور بیشک تمwa-annakaلَانہتَظْمَؤُا۟پیاسے ہو گےtaẓma-uفِيهَااس میںfīhāوَلَااور نہwalāتَضْحَىٰدھوپ لگے گیtaḍḥā١١٩
نہ پیاس اور دُھوپ تمہیں ستاتی ہے۔“
۲۰:۱۲۰
فَوَسْوَسَپس وسوسہ ڈالاfawaswasaإِلَيْهِاس کی طرفilayhiٱلشَّيْطَـٰنُشیطان نےl-shayṭānuقَالَکہاqālaيَـٰٓـَٔادَمُاے آدمyāādamuهَلْکیاhalأَدُلُّكَمیں بتاؤں تجھ کوadullukaعَلَىٰکے بارےʿalāشَجَرَةِدرخت (کے بارے میں)shajaratiٱلْخُلْدِہمیشگی کےl-khul'diوَمُلْكٍۢاور بادشاہت کےwamul'kinلَّانہيَبْلَىٰپرانی ہوگیyablā١٢٠
لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا۔ کہنے لگا ”آدم ، بتاوٴں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟“
۲۰:۱۲۱
فَأَكَلَاتو دونوں کھا گئےfa-akalāمِنْهَااس میں سےmin'hāفَبَدَتْتو کھل گئےfabadatلَهُمَاان کے دونوں کے لیےlahumāسَوْءَٰتُهُمَاان کے سترsawātuhumāوَطَفِقَااور دونوں لگےwaṭafiqāيَخْصِفَانِچپکانےyakhṣifāniعَلَيْهِمَااپنے اوپرʿalayhimāمِنسےminوَرَقِپتوں میں سےwaraqiٱلْجَنَّةِ ۚجنت کےl-janatiوَعَصَىٰٓاور نافرمانی کیwaʿaṣāءَادَمُآدم نےādamuرَبَّهُۥاپنے رب کیrabbahuفَغَوَىٰتو بھٹک گئےfaghawā١٢١
آخر کار دونوں(میاں بیوی)اُس درخت کا پھل کھاگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی اُن کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے۔ آدمؑ نے اپنے ربّ کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا۔
۲۰:۱۲۲
ثُمَّپھرthummaٱجْتَبَـٰهُچن لیا اس کوij'tabāhuرَبُّهُۥاس کے رب نےrabbuhuفَتَابَپس مہربان ہواfatābaعَلَيْهِاس پرʿalayhiوَهَدَىٰاور ہدایت بخشیwahadā١٢٢
پھر اُس کے ربّ نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی۔
۲۰:۱۲۳
قَالَفرمایاqālaٱهْبِطَادونوں اتر جاؤih'biṭāمِنْهَااس سےmin'hāجَمِيعًۢا ۖسارے کے سارےjamīʿanبَعْضُكُمْتم میں سے بعضbaʿḍukumلِبَعْضٍبعض کے لیےlibaʿḍinعَدُوٌّۭ ۖدشمن ہوں گےʿaduwwunفَإِمَّاپھر اگرfa-immāيَأْتِيَنَّكُمآئے تمہارے پاسyatiyannakumمِّنِّىمیری طرف سےminnīهُدًۭىہدایتhudanفَمَنِتو جس نےfamaniٱتَّبَعَپیروی کیittabaʿaهُدَاىَمیری ہدایت کیhudāyaفَلَاتو نہfalāيَضِلُّوہ بھٹکے گاyaḍilluوَلَااور نہwalāيَشْقَىٰمصیبت میں پڑے گاyashqā١٢٣
اور فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا
۲۰:۱۲۴
وَمَنْاور جس نےwamanأَعْرَضَروگردانی کیaʿraḍaعَنسےʿanذِكْرِىمیرے ذکر (سے)dhik'rīفَإِنَّتو بیشکfa-innaلَهُۥاس کے لیےlahuمَعِيشَةًۭگزران ہےmaʿīshatanضَنكًۭاتنگḍankanوَنَحْشُرُهُۥاور ہم اکٹھا کریں گے اس کو۔ گھیر لائیں گے اس کوwanaḥshuruhuيَوْمَدنyawmaٱلْقِيَـٰمَةِقیامت کےl-qiyāmatiأَعْمَىٰاندھاaʿmā١٢٤
اور جو میرے”ذکر“(درسِ نصیحت)سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔“
۲۰:۱۲۵
قَالَوہ کہے گاqālaرَبِّاے میرے ربrabbiلِمَکیوںlimaحَشَرْتَنِىٓتو نے اٹھایا مجھ کوḥashartanīأَعْمَىٰاندھاaʿmāوَقَدْحالانکہ تحقیقwaqadكُنتُمیں تھاkuntuبَصِيرًۭادیکھنے والاbaṣīran١٢٥
وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"
۲۰:۱۲۶
قَالَوہ فرمائے گاqālaكَذَٰلِكَاسی طرحkadhālikaأَتَتْكَآئیں تھیں تیرے پاسatatkaءَايَـٰتُنَاہماری آیاتāyātunāفَنَسِيتَهَا ۖتو تم نے بھلا دیا ان کوfanasītahāوَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaٱلْيَوْمَآجl-yawmaتُنسَىٰتم بھلائے جاؤ گےtunsā١٢٦
اللہ تعالیٰ فرمائے گا”ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُو نے بُھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے۔“
۲۰:۱۲۷
وَكَذَٰلِكَاور اسی طرحwakadhālikaنَجْزِىہم جزا دیتے ہیںnajzīمَنْجوmanأَسْرَفَحد سے گزرےasrafaوَلَمْاور نہwalamيُؤْمِنۢمانےyu'minبِـَٔايَـٰتِآیات کوbiāyātiرَبِّهِۦ ۚاپنے رب کیrabbihiوَلَعَذَابُاور البتہ عذابwalaʿadhābuٱلْـَٔاخِرَةِآخرت کاl-ākhiratiأَشَدُّزیادہ شدید ہےashadduوَأَبْقَىٰٓاور زیادہ باقی رہنے والا ہےwa-abqā١٢٧
اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں)بدلہ دیتے ہیں ، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے
۲۰:۱۲۸
أَفَلَمْکیا پھر نہیںafalamيَهْدِرہنمائی کی۔ ہدایت ملیyahdiلَهُمْان کو (اس بات سے)lahumكَمْکتنی ہیkamأَهْلَكْنَاہلاک کیں ہم نےahlaknāقَبْلَهُمان سے پہلے ان کیqablahumمِّنَسےminaٱلْقُرُونِبستیوں میں (سے)l-qurūniيَمْشُونَوہ جو چلتے پھرتے ہیںyamshūnaفِىمیںمَسَـٰكِنِهِمْ ۗان کے رہنے کی جگہوں (میں)masākinihimإِنَّیقیناinnaفِىمیںذَٰلِكَاس میںdhālikaلَـَٔايَـٰتٍۢالبتہ نشانیاں ہیںlaāyātinلِّأُو۟لِىوالوں کے لیےli-ulīٱلنُّهَىٰعقل (والوں کے لیے)l-nuhā١٢٨
پھر کیا اِن لوگوں کو (تاریخ کے اِس سبق سے)کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (بربادشدہ)بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ درحقیقت اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کےلیےجو عقلِ سلیم رکھنے والے ہیں
۲۰:۱۲۹
وَلَوْلَااور اگر نہwalawlāكَلِمَةٌۭایک بات ہوتیkalimatunسَبَقَتْجو گزر چکیsabaqatمِنسےminرَّبِّكَتیرے رب کی طرف (سے)rabbikaلَكَانَالبتہ ہوتاlakānaلِزَامًۭاچمٹنے والا۔ لازم ہونے والاlizāmanوَأَجَلٌۭاور ایک وقتwa-ajalunمُّسَمًّۭىمقررmusamman١٢٩
اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا
۲۰:۱۳۰
فَٱصْبِرْپس صبر کروfa-iṣ'birعَلَىٰاس پرʿalāمَاجويَقُولُونَوہ کہتے ہیںyaqūlūnaوَسَبِّحْاور تسبیح کروwasabbiḥبِحَمْدِساتھ حمد کےbiḥamdiرَبِّكَاپنے رب کیrabbikaقَبْلَقبلqablaطُلُوعِطلوع ہونے سےṭulūʿiٱلشَّمْسِسورجl-shamsiوَقَبْلَاور قبلwaqablaغُرُوبِهَا ۖاس کے غروب ہونے سےghurūbihāوَمِنْاور سےwaminءَانَآئِگھڑیوں میںānāiٱلَّيْلِرات کیal-layliفَسَبِّحْپس تسبیح کروfasabbiḥوَأَطْرَافَاور کناروں پرwa-aṭrāfaٱلنَّهَارِدن کےl-nahāriلَعَلَّكَشاید کہ توlaʿallakaتَرْضَىٰتو راضی ہوجائےtarḍā١٣٠
پس اے محمدؐ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنےربّ کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سُورج نکلنے سے پہلے اور غرُوب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاوٴ۔
۲۰:۱۳۱
وَلَااور نہwalāتَمُدَّنَّآپ دراز کریں۔ دوڑائیںtamuddannaعَيْنَيْكَاپنی دونوں آنکھیںʿaynaykaإِلَىٰطرفilāمَاجومَتَّعْنَااس کے جو فائدہ دیا ہم نےmattaʿnāبِهِۦٓساتھ اس کےbihiأَزْوَٰجًۭامختلف قسم کے لوگوں کوazwājanمِّنْهُمْان میں سےmin'humزَهْرَةَرونق ہےzahrataٱلْحَيَوٰةِزندگی کیl-ḥayatiٱلدُّنْيَادنیا کیl-dun'yāلِنَفْتِنَهُمْتاکہ ہم آزمائیں ان کوlinaftinahumفِيهِ ۚاس میںfīhiوَرِزْقُاور رزقwariz'quرَبِّكَتیرے رب کاrabbikaخَيْرٌۭبہتر ہےkhayrunوَأَبْقَىٰاور زیادہ باقی رہنے والا ہےwa-abqā١٣١
اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔وہ تو ہم نے اُنہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے ربّ کا دیا ہوا رزقِ حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے
۲۰:۱۳۲
وَأْمُرْاور حکم دوwamurأَهْلَكَاپنے گھر والوں کوahlakaبِٱلصَّلَوٰةِنماز کاbil-ṣalatiوَٱصْطَبِرْاور جمے رہوwa-iṣ'ṭabirعَلَيْهَا ۖاس پرʿalayhāلَانہیںنَسْـَٔلُكَہم سوال کرتے تجھ سےnasalukaرِزْقًۭا ۖرزق کاriz'qanنَّحْنُہمnaḥnuنَرْزُقُكَ ۗہم رزق دیتے ہیں تجھ کوnarzuqukaوَٱلْعَـٰقِبَةُاور انجامwal-ʿāqibatuلِلتَّقْوَىٰتقوی ہی کے لیے ہےlilttaqwā١٣٢
اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اُس کے پابند رہو۔ ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں۔ اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے۔
۲۰:۱۳۳
وَقَالُوا۟اور وہ کہتے ہیںwaqālūلَوْلَاکیوں نہیںlawlāيَأْتِينَالاتا ہمارے پاسyatīnāبِـَٔايَةٍۢکوئی نشانیbiāyatinمِّنسےminرَّبِّهِۦٓ ۚاپنے رب کی طرف (سے)rabbihiأَوَلَمْکیا نہیںawalamتَأْتِهِمآئی ان کے پاسtatihimبَيِّنَةُنشانیbayyinatuمَاجوفِىمیںٱلصُّحُفِصحیفوں میں ہےl-ṣuḥufiٱلْأُولَىٰپہلےl-ūlā١٣٣
وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ)کیوں نہیں لاتا؟ اور کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیانِ واضح نہیں آگیا؟ 
۲۰:۱۳۴
وَلَوْاور اگرwalawأَنَّآبیشک ہمannāأَهْلَكْنَـٰهُمہلاک کردیں ہم ان کوahlaknāhumبِعَذَابٍۢساتھ عذاب کےbiʿadhābinمِّنسےminقَبْلِهِۦاس سے پہلےqablihiلَقَالُوا۟البتہ کہیں گےlaqālūرَبَّنَااے ہمارے ربrabbanāلَوْلَآکیوں نہlawlāأَرْسَلْتَتو نے بھیجاarsaltaإِلَيْنَاہماری طرفilaynāرَسُولًۭاایک رسولrasūlanفَنَتَّبِعَتو ہم پیروی کرتےfanattabiʿaءَايَـٰتِكَتیری آیات کیāyātikaمِنسےminقَبْلِاس سے پہلےqabliأَنکہanنَّذِلَّہم ذلیل ہوںnadhillaوَنَخْزَىٰاور ہم رسوا ہوںwanakhzā١٣٤
اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار، تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کر لیتے
۲۰:۱۳۵
قُلْکہہ دیجیےqulكُلٌّۭسب کے سبkullunمُّتَرَبِّصٌۭانتظار کرنے والے ہیںmutarabbiṣunفَتَرَبَّصُوا۟ ۖتو تم بھی انتظار کروfatarabbaṣūفَسَتَعْلَمُونَپس عنقریب تم جان لو گےfasataʿlamūnaمَنْکون ہیںmanأَصْحَـٰبُوالےaṣḥābuٱلصِّرَٰطِراستے والےl-ṣirāṭiٱلسَّوِىِّہموار۔ درستl-sawiyiوَمَنِاور کس نےwamaniٱهْتَدَىٰہدایت پائیih'tadā١٣٥
اے محمدؐ ، اِن سے کہو، ہر ایک انجامِ کار کے انتظار میں ہے، پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں